Urdu education

Urdu education

Share

اس گروپ کےممبر میرا یو ٹیوب چینل سبسکراٸیب کر دیں ۔اس م?

11/01/2022
09/01/2022

نظیر اکبرآبادی۔۔کی نظم نگاری

نظیر اکبرآبادی : حالاتِ زندگی

نظیرؔ اکبرآبادی کا پورا نام ولی محمد تھا۔ اکبرآباد کے ایک شریف گھرانے میں نظیر اکبرآبادی کی پیدائش ہوئی تھی۔ ان کے والد سیّد محمد فاروق عظیم آباد کے نواب کے مصاحبین میں شمار کئے جاتے تھے۔ باضابطہ کوئی تعلیم حاصل نہیں کی۔ اس زمانے کے رواج کے مطابق عربی اور فارسی کی تعلیم حاصل کی، کوئی ملازمت نہیں کی۔ باپ دادا کی دولت موجود تھی۔ البتہ محلہ کے بچوں کو پڑھا کر زندگی گذارتے تھے۔ کچھ روز کے لئے متھرا گئے تو وہاں کے مرہٹہ قلعہ دار نے انھیں اپنا استاد مقرر کیا۔ دوبارہ آگرہ آئے تو محمد علی خاں کے لڑکوں کو درس دینے لگے۔ اسی دوران کھتری سے ملاقات ہوئی۔ رائے کھتری سے ملاقات ہوئی۔ رائے کھتری نے اپنے بچوں کی تربیت میاں نظیر کے سپرد کر دی۔ آخری عمر میں نظیرؔ کا تعلق کاشی کے سربراہ راجہ بلوان سنگھ کی سرکار سے ہوگیا تھا۔ اپنے خاندان اور ماحول کی وجہ سے نظیر نے سپہ گری کے فن میں کمال حاصل کیا تھا۔ فارسی اور عربی جانتے تھے۔ ہندی، پنجابی اور سنسکرت پر عبور حاصل تھا۔ عوام میں اٹھنا بیٹھنا تھا۔ زبان کے عوامی لہجے سے اچھی طرح واقف تھے۔ وہ ایک قلندر مزاج آزاد منش انسان تھے۔ اس کا اندازہ ان کی شاعری سے بھی ہوتا ہے۔ نظیر کے والد سنی تھے لیکن وہ امامیہ مذہب کے قائل تھے۔ عبادتوں کی ادائیگی معمولی طور پر کرتے تھے۔ البتہ تعزیہ داری کے اہتمام پر خصوصی توجہ دیتے تھے۔ ادھیڑ عمر میں ظہورالنساء بیگم بنت عبدالرحمٰن چغتائی سے شادی کی۔ آخری عمر میں گوشہ نشینی اختیار کی۔ نظیر کو اولادیں بھی ہوئیں۔ ۱۸۲۷ء میں فالج کے مرض میں مبتلا ہوئے ۹۸ سال کی عمر میں ۲۵ صفر ۱۲۴۶ھ بمطابق ۱۶ اگست ۱۸۳۰ء کو انتقال کیا۔ نماز جنازہ دو مرتبہ سنی اور امامیہ طریقے سے پڑھائی گئی۔ البتہ تجہیز و تکفین امامیہ طریقہ پر ہوئی۔ ان ہی کے مکان میں موجود نیم کے درخت کے نیچے دفن کئے گئے۔ نظیرؔ کے مزاج کی شوخی، بانکپن، کھیل کود اور میلے ٹھیلوں کے شوق اور تجربے کے اظہار کے لئے نظم ہی ان کو راس آئی۔ ان کا مشاہدہ دنیاوی معاملات کے ساتھ ساتھ زندگی کے پیچ و خم کے متعلق بھی بہت گہرا تھا۔ نظم کی آزادی ان کی آزاد روش سے بڑی مطابقت رکھتی تھی۔ اس لئے وہ نظم نگاری کی طرف مائل ہوئے اور ہر چھوٹے بڑے موضوع پر نظمیں لکھیں۔

نظیر اکبرآبادی کی نظم نگاری
جس دور میں نظیرؔ اکبرآبادی حیات تھے وہ شاعری کا ایک ایسا دور تھا جس میں علم عروض، قافیہ اور ردیف کی پابندی لازمی تھی۔ سارے معاشرے میں شاعری کے لئے مدون کئے ہوئے اصولوں کی پابندی کی جاتی تھی۔ نظیرؔ اکبرآبادی بھی اسی پابند ماحول کے پروردہ تھے۔ اسی لئے ان کی شاعری فنی اصولوں کی پابند رہی۔ ان کی نظموں میں مثلث، مربع، مخمس اور مسدس کے سانچے استعمال ہوئے ہیں۔ جن میں وزن، بحر، قافیہ اور ردیف کی پابندی بھی دکھائی دیتی ہے۔
جدا کسی سے کسی کا غرض حبیب نہ ہو
یہ داغ وہ ہے کہ دشمن کو بھی نصیب نہ ہو
جدا جو ہم کو کرے اس صنم کے کوچہ سے
الٰہی! راہ میں ایسا کوئی رقیب نہ ہو
علاج کیا کریں حکماء تپ جدائی کا
سوائے وصل کے اس کا کوئی طبیب نہ ہو
نظیرؔ اپنا تو معشوق خوب صورت ہے
جو حسن اس میں ہے ایسا کوئی عجیب نہ ہو
دنیا کی نیکی بدی

ولی محمد نظیرؔ اکبرآبادی (۱۷۳۵ء - ۱۸۳۰ء) عوامی شاعر تھے۔ ان کی نظموں میں ہندوستانی مشترکہ تہذیب کی روح اپنی تمام رنگینیوں کے ساتھ جلوہ گر ہے۔ جس کا لب و لہجہ اور مزاج عوامی ہے۔ نظیرؔ کے یہاں مختلف موضوعات پر نظمیں ملتی ہیں۔ بعض میں ہندوئوں اور مسلمانوں کا ذکر ہے تو بعض میں ہندوستانی موسموں اور ان کی کیفیات کا اور بعض میںاخلاق و تصوف کا۔ وہ نظمیں جو ناصحانہ انداز میں ہیں اور جن میں دنیا اور دنیا کی بے ثباتی کا نقشہ کھینچا گیا ہے بڑی دلآویز اور اثرانگیز ہیں۔ نظیرؔ اپنے گرد و پیش کے واقعات اور مناظر کو نہایت سادگی اور خلوص کے ساتھ پیش کرتے ہیں۔ اس لئے ان کے یہاں شاعرانہ واقعیت اور بیان کی صداقت پائی جاتی ہے۔ ذیل کی نظم اس خوبی کی آئینہ دار ہے
اس نظم میں شاعر نے انسانی اعمال کے جزا و سزا کے تصور جو مثالوں کے ذریعے واضح کرتے ہوئےبتایا ہے کہ اس دنیا میں بھی انسان کو اس کے عمل کے مطابق جزا یا سزا ملتی ہے۔
ہے دنیا جس کا نانْو یاں یہ اور طرح کی بستی ہے
جو مہنگوں کو تو مہنگی ہے اورسستوں کو سستی ہے
یاں ہر دم جھگڑے اٹھتے ہیں، ہر آن عدالت بستی ہے
گر مست کرے تو مستی ہے اور پست کرے تو پستی ہے
کچھ دیر نہیں، اندھیر نہیں، انصاف اور عدل پرستی ہے
اس ہاتھ کرو، اس ہاتھ ملے، یاں سودا دست بدستی ہے

جو اور کسی کا مان رکھے تو اس کو بھی ارمان ملے
جو پان کھلاوے پان ملے، جو روٹی دے تو نان ملے
نقصان کرے نقصان ملے، احسان کرے احسان ملے
جو جیسا جس کے ساتھ کرے پھر ویسا اس کوآن ملے
کچھ دیر نہیں، اندھیر نہیں، انصاف اور عدل پرستی ہے
اس ہاتھ کرو، اس ہاتھ ملے، یاں سودا دست بدستی ہے

جو پار اتار دے اوروں کو اس کی بھی نائو اترتی ہے
جو غرق کرے، پھر اس کی بھی یاں، ڈبکوں ڈبکوں کرتی ہے
شمشیر ،تبر، بندوق سناں اور نشتر تیر نہرتی ہے
یاں جیسی جیسی کرتی ہے پھر ویسی ویسی بھرتی ہے
کچھ دیر نہیں، اندھیر نہیں، انصاف اور عدل پرستی ہے
اس ہاتھ کرو، اس ہاتھ ملے، یاں سودا دست بدستی ہے

نظیر اکبرآبادی کی انسان دوستی
نظیرؔ کی نظموں میں انسان دوستی کا جذبہ نمایاں ہے۔ وہ پورے احساس کے ساتھ انسان کی قدر اور اس زندگی کی حفاظت کے خیالات کو اپنی شاعری میں پیش کرتے ہیں۔ وہ صرف نادار و مفلس انسان سے ہی محبت نہیں کرتے بلکہ ان کی شاعری میں ہر انسان سے محبت کا جذبہ نمایاں ہوتا ہے۔ ان کی مشہور نظم ’’آدمی نامہ‘‘ اس بات کی دلیل ہےکہ ان کے یہاں انسانیت کا درد ہے۔ روٹی انسان کی زندگی کا اہم مسئلہ ہے۔ ہر ایک روٹی کے لئے در در کی خاک چھانتا ہے۔ بھوکا ہو تو چاند سورج بھی اسے روٹی ہی نظر آتے ہیں۔
پوچھا کسی نے یہ کسی کامل فقیر سے
یہ مہر و ماہ حق نے بنائے ہیں کس لئے

وہ سن کے بولا بابا خدا تجھ کو خیر دے
ہم تو نہ چاند سمجھے نہ سورج ہی جانتے
بابا ہمیں تو سب نظر آتی ہیں روٹیاں

اپنی مشہور نظم ’’مفلسی‘‘ اور ’’آٹے دال‘‘ میں انسان کی بے بسی کو ظاہر کیا ہے۔ نظم ’’مفلسی‘‘ میں لکھتے ہیں۔
مفلس کی کچھ نظر نہیں رہتی ہے آن پر
دیتا ہے اپنی جان وہ ایک ایک نان پر
ہر آن ٹوٹ پڑتا ہے روٹی کے خوان پر
جس طرح کتے پڑتے ہیں ایک استخوان پر
ویسا ہی مفلسوں کو لڑاتی ہے مفلسی

نظیرؔ نے مفلسی کے علاوہ آٹے دال، کوڑی نامہ، پیسہ جیسی نظمیں لکھ کر یہ ثابت کر دیا ہے کہ یہ سب زندگی کے حقائق ہیں اس کے بغیر دنیا میں انسان کی کوئی اہمیت نہیں ان کی نظم ’’آٹے دال‘‘ کا یہ بند ملاحظہ ہو
گر نہ آٹے دال کا ہوتا قدم یاں درمیاں
منشی و میر و وزیر و بخشی و نواب و خاں
جاگتے دربار میں کیوں آدھی آدھی رات یاں
کیا عجب نقشہ پڑا ہے آن کر کہئے میاں
سب کے دل کو فکر ہے دن رات آٹے دال کی

نظیرؔ اکبرآبادی ایک ایسے حقیقت پسند شاعر ہیں جن کی نظموں سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ انسانیت کی بقاء کے لئے انسان کو جینے کے یکساں وسائل ملنے چاہئیں۔ نظیرؔ نے بعض نظمیں بچوں کے لئے بھی لکھی ہیں۔ جیسے ریچھ کا بچہ، بلی کا بچہ وغیرہ۔ نظیرؔ کے بعض موضوعات تو اتنے دلچسپ اور انوکھے ہیں کہ ان پر آج تک کسی شاعر نے قلم نہیں اٹھایا۔ مثلاً کورا برتن، لکڑی، تل کے لڈو وغیرہ

نظیر اکبرآبادی کی شاعری میں مناظرِ قدرت کی عکاسی
بنیادی طور پر نظیرؔ ایک عوامی شاعر ہیں اس لئے ان کی شاعری میں جہاں قدرتی مناظر کا عکس دکھائی دیتا ہے وہیں عرس، میلوں اور تہواروں کے مناظر بھی پیش کئے گئے ہیں۔ ان کی مشہور نظم ’’برسات کی بہاریں‘‘ قدرتی مناظر کی بھرپور عکاسی کرتی ہے۔ اس کے علاوہ ان کی نظم ’گرمی‘ بھی اس بات کی دلیل ہے کہ نظیرؔاکبرآبادی نے قدرتی مناظر کو پورے سلیقے کے ساتھ اپنی شاعری میں شامل کیا۔ نظیرؔ کی نظموں میں مناظر قدرت کی عکاسی لفظوں کے ذریعے نمایاں ہے ان کی نظمیں ’بنجارہ نامہ‘ اور ’آدمی نامہ‘ بھی ایک طرح سے انسان کے مختلف روپ و رنگ کی عکاسی کرتی ہیں۔ ان نظموں میں بین السطور اخلاقی اقدار بھی سامنے آتے ہیں۔ ان کی ایک مشہور نظم ’کل جگ‘ کے اشعار ملاحظہ ہوں۔
نیکی کا بدلہ نیک ہے بد کر بدی کا ساتھ لے
کانٹا لگا کانٹا پھلیں، پھل پات بو پھل پات لے
کل جگ نہیں کرجگ ہے یہ یاں دن کو دے اور رات لے
کیا خوب سودا نقد ہے ، اس ہاتھ دے اس ہاتھ لے

قدرتی مناظر کے علاوہ نظیر اکبرآبادی ہر نظم کو کسی نہ کسی فطری منظر سے وابستہ کرتے ہیں۔ جس کی وجہ سے ان کی نظموں میں نیکی، سچائی اور حقیقت کی بھرپور نمائندگی ہوتی ہے اور اسی خصوصیت کی وجہ سے نظیرؔ اکبرآبادی کی نظموں کے مناظر اپنا اثر دکھاتے ہیں۔ ان کی نظم ’’بلدیو سنگھ کا میلا‘‘ اور ’’عید گاہ اکبرآباد‘‘ کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ نظیرؔ نے اپنے ماحول کے مناظر کو بھی نظموں میں شامل کر لیا ہے۔
’’ہولی‘‘ نظیرایک شاہکار نظم
نظیرؔ کی نظم ’’ہولی‘‘ کا تعلق ہندوستان کے ایک رنگ رنگیلے تہوار سے ہے۔ جس میں رنگ و پانی کے ساتھ دلوں کی کدورتیں دور ہو جاتی ہیں۔ یہ ۶بند کا مخمس ترکیب بند ہے۔ ہر بند ہولی کا ایک ایک منظر پیش کرتا ہے۔ جس میں زندگی ہی زندگی ہے۔ نظم میں ہر چار مصرعوں کے بعد ایک مصرعے کو ہراتے ہوئے ایک ایک منظر کی نشاندہی کی گئی ہے۔ اس نظم میں طبلے کی تال، ڈھولک اور مردنگ کی تھاپ، رباب اور سارنگی کی آوازوں، تنبوروں کی جھنک اور گھنگھروئوں کی چھنک سے ایک خوشگوار تاثر پیدا ہو جاتا ہے۔ اس نظم میں گلال، رنگ اور پچکاری کا ذکر کر کے اس تہوار میں کی جانے والی دھینگا مستی، کھینچا تانی اور کیچڑ پانی کے مناظر پیش کئے گئے ہیں۔ رنگ چھڑکنے، راگ راگنی کی محفلوں، شراب کے جام چھلکنے اور کھیل کود کی کیفیت کو مناسب حال الفاظ کے ذریعہ بیان کیا گیا ہے۔ نظیرؔ نے اس نظم میں فارسی و ہندی الفاظ کو بھرپور استعمال کیا ہے۔ اس سے نظیرؔ کے گہرے مشاہدے کا اندازہ ہوتا ہے۔ پانچ پانچ مصرعوں پر مشتمل ۶ بند کی اس نظم ہولی کی مختلف کیفیتوں کی نمائندگی کرتی ہے۔ پہلے بند میں نظیرؔاکبرآبادی نے اس حقیقت کی نمائندگی کی ہے کہ ہولی کے آنے کی وجہ سے عیش و عشرت کا موقعہ فراہم ہو گیا ہے اور ہر طرف خوشی کی دھوم مچی ہے۔ نظم کے دوسرے بند میں نظیرؔ اکبرآبادی نے اپنے دور میں استعمال ہونے والے باجوں اور سازوں کی تفصیل پیش کرتے ہوئے یہ بتایا ہے کہ طبلے کی تال کھٹک رہی ہے۔ ڈھولک اور مردنگ بج رہے ہیں۔ ربابوں، سارنگی اور چنگ کی آوازیں پھیلتی جا رہی ہیں۔ تنبورے کے تار جھنک رہے ہیں اور گھنگھروئوں کی آواز پر لوگ دھوم مچارہے ہیں۔ غرض ناچنے گانے کا یہ سلسلہ ہولی کی دولت ہے۔نظم کے تیسرے بند میں وہ لکھتے ہیں کہ تھالوں میں گلال پیش ہو رہے ہیں اور پچکاری سے رنگ چھڑکے جا رہے ہیں۔ عبیر چھڑکا جا رہا ہے۔ لوگوں کی خوشیوں کا ذکر کرتے ہوئے نظیرؔ نے یہ لکھا ہے کہ رنگ بھری پچکاری سے لوگوں کے منہ اور جسم گلنار ہو رہے ہیں۔ اور جسم رنگ میں تر بتر ہوتا جا رہا ہے۔ یہ تمام انداز ہولی کی وجہ سے دکھائی دے رہے ہیں۔ نظیرؔ اکبرآبادی نے نظم کے چوتھے بند میں رنگ کھیلتے ہوئے خوشی میں کی جانے والی دھینگا مشتی اور کیچڑ پانی میں تربتر ہونے کے منظر کی عکس بندی کرتے ہوئے یہ بتایا ہے کہ خوشحالی کا جوش ہولی کی وجہ سے چاروں طرف نمایاں ہے۔ نظم کے پانچویں بند میں ہنس ہنس کر دیا ہے اور بتایا کہ لوگ ہنستے کھیلتے کس طرح خوش ہیں۔ کبھی وہ سوانگ بھرتے ہیں اور کبھی موج مستی کی باتیں کرتے ہوئے ہولی کی وجہ سے خوش ہو رہے ہیں۔ کچھ گانے میں مصروف ہیں تو کچھ ناچنے اور سوانگ بھرنے میں مصروف نظر آتے ہیں۔ غرض خوشی کا یہ سامان ہولی کی وجہ سے میسر آیا ہے۔

نظیرؔ نے نظم ہولی کے ذریعے ایک ہندوستانی تہوار میں منائی جانے والی خوشیوں کو بڑے دلچسپ انداز میں نظم کر دیا ہے۔ اس نظم میں سادہ زبان اور عوامی الفاظ کے استعمال کی وجہ سے نظم کا لطف دوبالاہو گیا ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے ہم بھی ہولی کے تہوار میں شریک ہیں۔
آجھمکے عیش و طرب کیا کیا، جب حسن دکھایا ہولی نے
ہر آن خوشی کی دھوم ہوئی، یوں لطف جتایا ہولی نے
ہر خاطر کو خورسند کیا، ہر دل کو لبھایا ہولی نے
دفِ رنگین نقش سنہری کا، جس وقت بجایا ہولی نے
بازار، گلی اور کوچوں میں، غل شور مچایا ہولی کا

نظیر اکبرآبادی کی نظم ’’مفلسی‘‘ کا تجزیہ
نظیرؔ اکبرآبادی اردو نظم کے ایک ایسے شاعر ہیں جنہوں نے فطری موضوعات کے علاوہ سماجی، معاشی اور معاشرتی موضوعات پر بھی نظمیں لکھیں۔ ایسی ہی نظموں میں نظیرؔ کی نظم ’’مفلسی‘‘ کا شمار ہوتا ہے۔ یہ نظم نظیرؔ کے مزاج کے عین مطابق ہے۔ اس نظم کو انھوں نے پانچ مصرعوں کے بند یعنی مخمس میں تحریر کیا ہے۔ یہ ایک طویل نظم ہے، جس میں سماجیاتی مطالعہ کے ساتھ نظیرؔ نے ان حقائق کی طرف بھی اشارہ کیا ہے۔ جن کی وجہ سے مفلسی اور بدحالی کے پھیلنے کا امکان بڑھتا جا رہا ہے۔ ۱۹بند پر مشتمل نظم ’مفلسی‘ بنیادی طور پر وضاحتی انداز کی نظم ہے۔ اس نظم میں نظیرؔ نے اپنے مشاہدے کی گہرائی اور تشبیہ اور تلمیح کے استعمال اور محاورے کی گرمی سے ایسا ماحول تیار کر دیا ہے کہ یہ نظم مفلسی کے مختلف پہلوئوں پر روشنی ڈالتی ہے۔

نظم کے پہلے بند میں نظیرؔ اکبرآبادی نے بتایا ہے کہ جب آدمی پر مفلسی کا حملہ ہوتا ہے تووہ مختلف طریقوں سے انسان کو پریشان کرتی ہے۔ کبھی وہ رات بھر بھوکا سلاتی ہے اور کبھی پیاسا رہنے پر مجبور کردیتی ہے۔ جس پر بھی مفلسی آتی ہے اسے ہر قسم کے دکھ اٹھانے پڑتے ہیں۔ حکیم جو بیماریوں کا علاج کرتا ہے اور جس کی عزت بڑے بڑے نواب اور پٹھان بھی کرتے ہیں۔ لیکن وہ بھی غریب ہو جائے تو اس کو کوئی پوچھنے والا نہیں ہوتا۔ حد یہ ہے کہ لقمان سے بڑا طبیب اور عیسیٰ جیسا مسیحا بھی موجود ہو لیکن وہ غریب ہو تو اس کی تمام تر حکمت غریبی میں ڈوب جاتی ہے۔

نظیرؔ نے نظم کے تیسرے بند میں بتایا ہے کہ اہل علم و فضل بھی ہوں اور ان کو مفلسی گھیرے تو وہ غریبی کی وجہ سے کلمہ تک بھول جانے کے مرتکب ہوئے ہیں۔ بھوکے سے کوئی الف کے بارے میں پوچھے تو وہ اسے ب بتاتا ہے۔ غریب کے بچوں کو پڑھانے والا سدا مفلس ہی رہتا ہے اور اگر کوئی غریب کے گھر مفلسی آتی ہے تو وہ عمر بھر جا نہیں سکتی۔ اگر مفلس کسی مجلس کے درمیان اپنا حال بیان کرتا ہے تو لوگ یہی تصور کرتے ہیں کہ اس نے روزگار حاصل کرنے کے لئے یہ جال پھیلادیا ہے۔ غریب کے پاس لاکھوں علم و کمال ہوں لیکن وہ مفلس ہو تو ہزار سنبھال لینے کے باوجود اس سے لغزش ہو جاتی ہے۔ اس طرح مفلسی انسان کی تمام صلاحیتوںکو خاک میں ملا دیتی ہے۔

نظم مفلسی کے پانچویں بند میں نظیرؔ اکبرآبادی نے بتایا ہے کہ جب انسان مفلس بن جاتا ہے تو اسے اپنی عزت سے زیادہ روٹی یا نان پیاری ہوتی ہے۔ اور وہ ایک ایک روٹی پر جان دینے کے لئے مجبور ہو جاتا ہے۔ جس کی وجہ سے وہ جہاں بھی روٹی اورکھانے کا خوان دیکھتا ہے اس پر بھوکے کتے کی طرح ٹوٹ پڑتا ہے۔ اس طرح مفلسی نہ صرف روٹی کے لئے جھگڑا کراتی ہے بلکہ حددرجہ ذلیل بھی کرواتی ہے۔ مفلسی کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ حیا کی بنیاد پر جن کاموں سے انسان خود کو بچائے رکھتا ہے وہ سب کام کرنے پر وہ مجبور ہو جاتا ہے اور اس میں حلال و حرام کی بھی تمیز باقی نہیں رہتی۔ غرض جسے شرم و حیا کہتے مفلسی کی وجہ سے وہ انسان سے رخصت ہو جاتی ہے۔

نظم کے ذریعے نظیرؔ اکبرآبادی نے ساتویں بند میں بتایا ہے کہ اگرچہ انسان پر غم کے پہاڑ ٹوٹ پڑیں اور وہ شور و غل مچائے تو لوگ گوارا کر لیتے ہیں۔ لیکن مفلس کا یہ عالم ہوتا ہے کہ وہ غم کے بغیر ہی ہائے ہائے کرتا ہے اور اس کے واویلا مچانے کی وجہ یہ بھی ہوتی ہے کہ مفلسی کی وجہ سے اس میں اس قدر ذلت آجاتی ہے کہ اگر کوئی مرجائے تو لاش اٹھانے کے لئے اس کے پاس سرمایہ نہیں ہوتا۔ لاش کو بے کفن دفن کرنا پڑتا ہے۔ مفلسی کی وجہ سے نہ تو چولھے پر توا رکھا جا سکتا ہے اور نہ مٹکے میں پانی بھرا جا سکتا ہے۔ مفلسی کھانے پینے اوراس کے لئے رکابی حاصل کرنے کو بھی محتاج کر دیتی ہے۔ جس کی وجہ سے مفلس بے غیرت بن جاتا ہے اور غریب کی بیوی کی عزت بھی ہر ایک کے دل سے ختم ہوجاتی ہے۔ انسان کتنا ہی عظیم کیوں نہ ہو اگر مفلسی اسے گھیر لے تو اس کے طفیل انسان کی قابلیت گھٹ جاتی ہے اور اسے لوگ گدھے اور بیل کا درجہ دیتے ہیں۔ کیونکہ وہ افلاس کے مارے پھٹے کپڑوں اور بکھرے بالوں کے ساتھ جسم، منہ اور بدن کی پاکی پر توجہ نہیں دے سکتا۔ افلاس کی وجہ سے انسان کی شکل قیدیوں جیسی ہو جاتی ہے۔

مفلسی کا اثر کیا ہوتا ہے اس کا جائزہ لیتے ہوئے نظیرؔ اکبرآبادی یہ بتاتے ہیں کہ جب کسی پر مفلسی آتی ہے تو اس کی وجہ سے دوستوں میں عزت گھٹ جاتی ہے۔ اور چاہنے والوں کی محبت میں کمی آتی ہے۔ اپنے اور غیر میں فرق بڑھاتی ہے اور اسی کے ساتھ شرم و حیا کے علاوہ عزت اور حرمت میں بھی مفلسی کی وجہ سے کمی آتی ہے۔ بہرحال انسان پر مفلسی آجائے تو اس کی بدولت جسم کی صفائی نہ ہونے سے بال اور ناخن بڑھ جاتے ہیں اور انسان صفائی کی خصوصیات کھو دیتا ہے۔

ظیرؔ اکبرآبادی نے بتایا ہے کہ مفلسی کی وجہ سے شرافت کا خاتمہ ہوجاتا ہے انسانی عزت باقی نہیں رہتی۔ عزت کے خاتمے کے ساتھ تعظیم اور تواضع ختم ہوجاتی ہے۔ اور انسان اس قدر ذلیل ہوتا ہے کہ اسے محفلوں میں جوتوں کے قریب بیٹھنا پڑتا ہے۔ غرض مفلسی ایک ایسی حقیقت ہے جو عزت کو خاک میں ملانے، محبت کا خاتمہ کرے اور انسان کو چوری کی طرف راغب کرنے کا کام انجام دیتی ہے۔ اور اسی مفلسی کی وجہ سے انسان بھیک مانگنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔ نظم کے آخری بند میں نظیرؔ اکبرآبادی کہتے ہیں کہ دنیا میں خدا کسی بادشاہ یا فقیر کو کبھی مفلسی میں گرفتار نہ کرے کیونکہ مفلسی ہی شریف انسان کو حقیر بناتی ہے۔ اس کی خرابیاں کہاں تک بیان کی جائیں بس اتنا کہا جا سکتا ہے کہ خدا ہر انسان کو مفلسی سے محفوظ رکھے کیوں کہ مفلسی انسان کے دل کو جلاتی ہے۔ نظیرؔ اپنی اس نظم کو دعائیہ کلمات پر ختم کرتے ہیں۔

نظیرؔ اکبرآبادی کی نظم مفلسی میں بے شمار محاورے، تشبیہات اور استعارے استعمال ہوئے ہیں۔ ان کی نظم میں تلمیحات کی بھی کمی نہیں ہے۔ وہ حضرت لقمان اور حضرت عیسیٰ کا تلمیحی اشارہ اپنی نظم میں استعمال کرتے ہیں۔ نظیرؔ نے نئی لفظیات کو استعمال کرنے کے ساتھ ساتھ روزمرہ کے استعمال کی چیزوں کو بھی اس نظم میں جگہ دی ہے۔ چنانچہ بی بی کا نتھ، لڑکوں کے ہاتھ کے کپڑے، چھٹ کی کڑیاں، دروازے کی زنجیر، چولھا، توا، رکابی اور کھانے پینے کی تمام چیزیں اس نظم میں شامل ہیں۔ ان کی تشبیہات اور استعارے اس حقیقت کا اشارہ کرتے ہیں کہ نظیرؔ اکبرآبادی نے مفلسی کو ایک جرم کی حیثیت دی ہے چنانچہ وہ انسان کو مفلسی کے دلدل سے نکالنا چاہتے ہیں۔ کیونکہ مفلسی کی وجہ سے شرافت اور عزت کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔
جب آدمی کے حال پہ آتی ہےمفلسی
کس کس طرح سے اس کو ستاتی ہے مفلسی
پیاسا تمام روز بٹھاتی ہے مفلسی
بھوکا تمام رات سلاتی ہے مفلسی
یہ دکھ وہ جانے کہ جس پہ آتی ہے مفلسی

کہیے تو اب حکیم کی سب سے بڑی ہے شان
تعظیم جس کی کرتے ہیں نواب اور خان
مفلس ہوئے تو حضرت لقمان کیا ہیں یاں
عیسیٰ بھی ہو تو کوئی نہیں پوچھتا میاں
حکمت حکیم کی بھی ڈوباتی ہے مفلسی

جو اہل فضل عالم و فاضل کہاتے ہیں
مفلس ہوئے تو کلمہ تلک بھول جاتے ہیں
پوچھے کوئی الف تو اسے بے بتاتے ہیں
وہ جو غریب غربا کے لڑکے پڑھاتے ہیں
ان کی تو عمر بھر نہیں جاتی ہے مفلسی

09/01/2022

سانحہ مری کے حوالے سے بات کی جائے تو دعائے مغفرت ہی کرسکتے ہیں اور خاموش رہنا کچھ نہ کہنا ذیادتی ہے موسم کی خرابی کا پڑھے لکھے لوگوں کو پہلے ہی علم تھا پھر ننھے پھولوں کو لے کر اتنی اونچائی پر جانا نامناسب تھا۔۔
باقی انتظامیہ کے خلاف بھی ایکشن ہونا چاہیے جنہوں نے عوام کو روکا نہیں۔

08/01/2022

اسم علم کی اقسام

اسم علم کی پانچ قسمیں ہیں

(١) خطاب (٢) لقب ‌ (٣) عرف (٤) کنیت (٥) تخلص

(١) خطاب

وہ وصفی نام ہے جو کسی شخص کو حکومت کی طرف سے عزت افزائی کے لیے دیا جاتا ہے۔اور وہ پھر اسی نام سے مشہور ہو جاتا ہے۔
مثلاً:– سرسید احمد خان،
سر محمد اقبال،
شمس العلماء محمد حسین آزاد وغیرہ۔

ان مثالوں میں ‘سر’کاخطاب سرسید احمد خان اور علامہ اقبال کو، کو ‘شمس العلماء’ کا خطاب محمد حسین آزاد کو ملا ہے۔’گیان پیٹھ’ رحمان راہی، ‘بھارت رتن’ کا خطاب بسم اللہ خان اور سچن ٹنڈولکر کو ، وغیرہ۔

(٢) لقب

لقب و وصفی نام ہے جو کسی خاص صفت کی وجہ سے لوگوں میں مشہور ہو جائے۔یہ وصفی نام لوگوں کی طرف سے مل جاتے ہیں۔
مثلاً:– ‘خلیل اللہ،’ لقب ہے حضرت ابراہیم علیہ سلام کا، اور ‘قائد اعظم’ لقب ہے محمدعلی جناح کا،’مہاتما’ لقب ہے گاندھی جی وغیرہ ۔
حضرت موسی کلیم اللہ تھے،سید الشہداء جمعہ کے دن شہید ہوئے،خدا نے خلیل اللہ کو نمرود کی آگ سے بچایا۔
پہلی مثال میں حضرت موسی کو کلیم اللہ کہا گیا ہے۔،سید شہدا امام حسین کا نام ہے جو کربلا کے میدان میں شہید ہوئے،اسی طرح خلیل اللہ حضرت ابراہیم علیہ سلام کا نام ہے جو خدا کے پیارے تھے۔پس ایسے نام جو خاص وصف کے باعث مشہور ہو جائیں ان کو لقب کہتے ہیں۔

(٣) عرف

وہ مختصر سا نام ہے جو محبت یا حقارت کی وجہ سے اپنوں اور پرایوں میں مشہور ہو جائے۔

مثلاً:- حسن علی عرف چھوٹے میاں۔میر عسکری عرف میر کلو۔عبدالرشید عرف جھنڈا اعلی درجے کا ادیب ہے۔کرتار سنگھ عرف دیالہ پان فروش ہے۔
اوپر کی مثالوں میں حسن علی، میر عسکری، عبدالرشید، کرتار سنگھ، اصلی نام ہیں۔اور چھوٹے میاں ، میر کلو ، جھنڈا،ویالہ یوں ہی مشہور ہوگئے ہیں۔ایسے نام عرف کہلاتے ہیں۔اکثر اوقات اصلی نام ہی بگڑ کر عرف ہو جاتا ہے۔

(٤) کنیت

کنیت کسی شخص کا وہ نام ہے جو باپ، یا ماں، یا بیٹے کی نسبت سے رکھا جاتا ہے اور پھر اسی نام سے مشہور ہو جاتا ہے ۔
مثلاً:- ابو حنیفہ، ابن عمر،ام سلیم، ابن مریم،ابوبکر۔
حقیقت میں یہ اہل عرب کا دستور ہے کہ اصلی نام کے علاوہ ایک اور نام بھی رکھتے ہیں جس میں مسمی‌ کا باپ یا بیٹا یا ماں یا بیٹی ہونا پایا جائے۔مگر ہندوستان میں میاں بیوی کا نام نہیں لیتا۔بیوی میاں کا نام نہیں لیتی جب ان کے اولاد ہوتی ہے تو اس کے نام کی نسبت سے ایک دوسرے کو پکارتے ہیں۔جیسے قادر کی ماں، مجید کا باپ، بس یہی کنیت ہے۔

(٥) تخلص

یہ وہ مختصر نام ہے جو شعرا اپنے اشعار میں اپنے اصلی نام کے بدلے استعمال کرتے ہیں اور پھر اسی نام سے مشہور ہو جاتے ہیں۔
مثلاً:- سر محمد اقبال اردو کے عظیم شاعر ہیں،محمد حسین آزاد محمد ابراہیم ذوق کے شاگرد تھے،عبدالرحمن راہی یونیورسٹی کے پروفیسر ہیں،عبدالصمد صاہب ہمارے محبوب استاد ہیں،غلام نبی فراق ایس ۔یی کالج کے پروفیسر ہیں۔
اوپر کی مثالوں میں محمد اقبال ، محمد حسین، محمد ابراہیم، عبدالرحمن ، عبدالصمد، غلام نبی شاعروں کے نام ہیں ۔جنہوں نے اقبال، آزاد، ذوق، راہی، صاہب، اور فراق اپنے چھوٹے نام رکھے ہیں جن کو وہ اپنے شعروں میں لاتے ہیں۔انہی کو تخلص کہا جاتا ہے۔

08/01/2022

((** اسم معرفہ کی اقسام **))

اسم معرفہ کی چار قسمیں ہیں

(١) اسم علم ( ٢) اسم ضمیر ( ٣) اسم اشارہ (٤)اسم موصول

(١) اسم علم :

علم کے لغوی معنی علامت اور نشان کے ہیں لیکن گرائمر کی زبان میں اسم علم سے مراد وہ خاص نام ہیں جو مختلف اشخاص کی پہچان کے لیے بولے جاتے ہیں اور مختلف اشخاص کی پہچان کے لیے علامت کا کام دیتے ہیں۔ اسم علم اسم معرفہ کی ایک قسم ہے۔ اسم علم کی درج ذیل اقسام ہیں۔ خطاب، تخلص، لقب، عرف، کنیت

(٢) اسم ضمیر :

اسم ضمیر وہ کلمہ ہے جو کسی اسم کی جگہ استعمال کیا جائے۔
مثلاً:- ماسٹر رفیق حسین ہمیں اردو پڑھاتا ہے۔وہ بہت محنتی ہے۔ہم اس کو پسند کرتے ہیں ۔
ان جملوں میں۔وہ، ہم، اس، ہمیں، اسمایے ضمیر ہیں کیونکہ یہ اسموں کے بدلے استعمال ہوئے ہیں۔

(٣) اسم اشارہ :

اسم اشارہ وہ کلمہ ہے جس سے کسی شخص یا جگہ یا چیز کی طرف اشارہ کیا جائے۔
مثلاً:- وہ پہاڑ، یہ میز، وہ دریا، یہ لڑکا وغیرہ۔ان کلمات میں ‘وہ’ اور ‘یہ’ اسماء اشارہ ہیں ۔قریب کے اشارے کے لیے "یہ” اور بعید کے لیے "وہ” کے الفاظ ساتھ اشارہ کیا جاتا ہے ۔

مشار الیہ:

جس شخص یا جگہ یا چیز کی طرف اشارہ کیا جائے اس سے مشارالیہ کہا جاتا ہے۔اوپر کی مثالوں میں پہاڑ ،میز ،دریا ،لڑکا، مشارالیہ ہیں

٤ اسم موصول :

وہ اسم ہے جس کے ساتھ جب تک کوئی دوسرا جملہ نہ ملایا جائے تو پورا معنی نہیں دیتا ۔
مثلاً:- جو محنت کرتا ہے عزت پاتا ہے۔ آپ جو کچھ کرتےہیں ٹھیک ہے۔ جونہی ہم سکول پہنچے گھنٹی بج گئی۔
ان جملوں میں جو، جو کچھ، جو نہی اسماء موصول ہیں۔

صلہ:

جو جملہ اسم موصول کے بعد آتا ہے اسے صلہ کہتے ہیں ۔
مندرجہ بالا مثالوں میں عزت پاتا ہے، ٹھیک ہے، گھنٹی بج گئی، صلہ ھیں ۔

08/01/2022

جانگلوس ایک تنقیدی مطالعہ
-------------------------------------------
"جانگلوس" اردو کے ضخیم ترین ناولوں میں سے ہے کہ میرے پاس اس کا جو نسخہ ہے، وہ تین حصوں میں تقریبا دو ہزار صفحات پر مشتمل ہے۔ شوکت صدیقی اچھے لکھاری ہیں اور ان کے دونوں شاہکار ناولوں، خدا کی بستی اور جانگلوس، میں مجرمانہ معاشرے کی عکاسی کی گئی ہے۔ جانگلوس کی کہانی دراصل دو قیدیوں، لالی اور رحیم داد، کی کہانی ہے کہ جو جیل سے فرار ہوتے ہیں اور پولیس سے چھپنے کے لیے در بدر کی ٹھوکریں کھاتے ہوئے مختلف جرائم پیشہ افراد سے ان کو سابقہ پڑتا ہے۔

شوکت صدیقی ایک تخلیق کار لکھاری ہے کہ کہانی کو اس انداز میں مرتب کیا ہے کہ قاری اس میں کھو جاتا ہے۔ ان کی کہانی میں ہر درجے کے ذہن کے لیے طمانیت کا سامان موجود ہے، ان کے لیے بھی کہ جو کہانی کو ایک کہانی کے طور پڑھتے ہیں اور ان کے لیے بھی جو کہانی کو ایک فلسفہ سمجھ کر پڑھتے ہیں۔ پہلے حصے میں کہانی کا پلاٹ بہت جاندار ہے کہ قاری کا دل کہانی چھوڑنے کو آمادہ نہیں ہوتا لیکن جیسے ہی لالی کے کردار سے کہانی کا رخ رحیم داد کے کردار کی طرف مڑتا ہے اور ناول کے دوسرے حصے کا آغاز ہوتا ہے تو قاری کو احساس ہوتا ہے کہ اب ناول کی ضخامت بڑھانے کی خواہ مخواہ کی کوشش جاری ہے۔۔۔

جہاں تک ناول کی زبان کا تعلق ہے تو شوکت صدیقی صاحب نے ناول میں دیہاتی لب ولہجے کو اسی زبان میں نقل کیا ہے جیسا کہ "قتل" کو "کتل" اور "موقع" کو "موکع" لکھا ہے۔ یہ ایک طرف کہانی کا حسن بھی ہے اور دوسری طرف خامی بھی ہے۔ حسن اس اعتبار سے کہ ناول نگار نے حقیقت کا اس حد تک بیان کرنے کا اہتمام کیا ہے کہ الفاظ کے حقیقی رسم کو بھی پیچھے چھوڑ دیا اور خامی اس پہلو سے کہ زبانیں اسی طرح بگڑتی ہیں۔ اگر کوئی دو چار الفاظ کا معاملہ ہوتا تو ہم یہ بات بیان نہ کرتے لیکن ناول کے ہر صفحہ پر آپ کو دس بارہ الفاظ ایسے مل جائیں گے کہ جو اپنے اصل رسم میں نہیں لکھے گئے ہیں بلکہ دیہاتی لب ولہجے کے اعتبار سے انہیں نیا رسم دیا گیا ہے۔ اور تنقید کا مطلب بھی یہی ہوتا ہے کہ آپ کسی شاہ پارے کی خوبی اور خامی دونوں نقل کر دیں۔

جہاں تک ناول نگار کی سوچ کا تعلق ہے تو کسی ناول کے تنقیدی مطالعے میں اس کا جاننا بہت ضروری ہے اگرچہ اس میں مبالغے سے بچنا چاہیے۔ کچھ نقاد تو اس قدر مبالغہ کرتے ہیں کہ وہ ناول کے ہر دوسرے جملے میں مصنف کا ذہن پڑھنے کی کوشش کرتے ہیں حالانکہ ضروری نہیں ہے کہ ناول نگار کا ہر جملہ اس کے ذہن ہی کی عکاسی کرتا ہو، بعض اوقات وہ معاشرے کے مسائل بھی بیان کر رہا ہوتا ہے۔ اور یہ کہنا بھی درست نہیں ہے کہ ناول نگار اپنی تصنیف میں بس معاشرے کے حقائق ہی کو نقل کرتا ہے، اس کی اپنی سوچ اس میں نہیں ہوتی۔

ناول نگار نے ناول کے پہلے صفحہ پر کارل مارکس کا اقتباس نہ بھی دیا ہوتا تو بھی ناول سے یہ معلوم کرنا بہت آسان ہے کہ مصنف پر اشتراکیت کے فلسفے کا گہرا اثرموجود ہے اور ان کے ناول میں جو مقصدیت پائی جاتی ہے، وہ اشتراکی ہے نہ کہ مذہبی۔ اگرچہ ناول نگار کی سوچ کا مثبت پہلو یہ ہے کہ وہ اشتراکی فلسفہ سے متاثر ہونے کے باوجود معاشرے کو مذہب سے اس طرح بدظن کرنے کی کوشش نہیں کرتے جیسا کہ اشتراکیوں کی عادت ہے کہ اہل مذہب کی برائیاں بیان کر کر کے مذہب کو بدنام کیا جائے اور اسے ایک افیون ثابت کیا جائے۔

ناول میں کہیں کہیں مذہب کے نام پر معاشرے میں پائی جانے والی برائیوں کا ذکر موجود ہے لیکن میرے رائے میں وہ مناسب انداز میں موجود ہے کہ اس میں کوئی مبالغہ نہیں کیا گیا ہے۔ جانگلوس میں اہل مذہب ہر تنقید کا انداز یہ بتلاتا ہے کہ مصنف مذہب سے تعصب نہیں رکھتا ہے لیکن یہی مصنف جب خدا کی بستی میں اہل مذہب ہر نقد کرتا ہے تو اسلوب یہ بتلاتا ہے کہ وہ مذہب پر زیادہ تنقید اس لیے نہیں کرنا چاہتا کہ معاشرہ اس کے خلاف ہو جائے گا، اسے اس کی حکمت کہیں یا مصلحت، بہر حال مناسب طرز عمل ہے۔

عام لوگ تو ناول کو کہانی کی طرح پڑھتے ہیں کہ بس تفریح ہے، وقت گزارنے کا ایک بہانہ ہے لیکن ایک نقاد اس طرح سے کہانی کا مطالعہ نہیں کرتا بلکہ وہ تو یہ بھی دیکھتا ہے کہ اس ناول یا کہانی کے انسانی لاشعور پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔ ناول نگار نے ناول میں جس طرح سے جرم کو پیش کیا ہے، اس میں صاف طور مبالغہ موجود ہے۔ چلیں، مبالغے کے بغیر تو کہانی بنتی ہی نہیں ہے، یہ ہمیں بھی معلوم ہے لیکن اتنا مبالغہ کہ ہر شخص ہی مجرم نظر آئے تو یہ مناسب نہیں ہے۔ معاشرے میں شر کے علاوہ خیر بھی ہر دور میں موجود رہا ہے کہ جس طرح دکھ کے ساتھ سکھ انسانی زندگی کا لازمی حصہ ہے۔ البتہ اس اعتراض کے جواب میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ ناول معاشرے کے ایک خاص طبقے کے احوال بیان کرتا ہے نہ کہ بحثیت مجموعی پورے معاشرے کی تصویر کشی ہے۔

اب تک جو باتیں ہم نے کی ہیں تو ان میں خوبی اور خامی دونوں پہلو موجود ہیں لیکن ناول نگار کی دو باتیں ایسی ہیں کہ جن میں خامی ہی کا پہلو غالب ہے۔ ایک یہ کہ ناول نگار جب بھی کسی جرم کو بیان کرتا ہے تو اس کے بیان کا جو اسلوب ہے، وہ معتدل نہیں ہے۔ جرم تو اپنی تفصیل میں بیان ہو گیا لیکن اس جرم کی برائی اور شناعت اتنی تفصیل سے نہ نقل ہو سکی۔ اس کا قاری پر اثر یہ ہو گا کہ جب قاری نے یہ پڑھا کہ معاشرے میں تو ہر طرف جرم ہی جرم ہے کہ ہر دوسرا شخص جرم میں مبتلا ہے تو اب اگر وہ خود کسی جرم میں مبتلا ہے تو بڑی آسانی سے اپنے آپ کو یہ کہہ کر مطمئن کر لے گا کہ ہر یہاں ہر دوسرا شخص بھی تو مجرم ہی ہے ناں۔

اس کا حل یہی تھا کہ ناول نگار ہر جرم کے بیان کے ساتھ اس کی برائی اور برے اثرات کو اس قدر مبالغے سے بیان کرتے کہ قاری کو اس جرم سے طبعا نفرت پیدا ہو جاتی تا کہ اگر وہ کسی جرم میں مبتلا بھی ہے یا ہونے جا رہا ہے تو کم از کم اپنے لیے یہ کہہ کر اطمینان کا سامان نہ پیدا کر لے کہ ہر دوسرا شخص بھی تو مجرم ہی ہے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ ناول نگار جرم کے بیان میں جس قدر فصیح ہے، قاری کے دل میں جرم سے نفرت پیدا کرنے میں اس قدر کامیاب نہیں ہے۔ اور ہم یہ نہیں کہہ رہے کہ جرم سے نفرت پیدا کرنے کے لیے آپ ناول میں وعظ شروع کر دیں، آپ جب اسے جرم کہہ رہے ہیں تو وہ لازما عقل اور طبعیت کے بھی خلاف ہی ہو گا، تو اس سے عقل ومنطق، انسانی جذبات واحساست کے تعلق کی نسبت سے نفرت پیدا کریں۔

اس ناول کی دوسری خامی جو کہ نسبتا گہری ہے اورعام افراد کی سمجھ سسے بہت بالا ہے، کو ایک مثال سے سمجھیں۔ ناول نگار نے اپنے ناول میں ایلیٹ کلاس کے ایک لائف اسٹائل کو بیان کیا ہے کہ جسے وہ سسپس نائٹ کہتا ہے۔ سسپنس نائٹ یہ ہے کہ آٹھ بیورو کریٹس ہیں کہ جن میں ایک ڈپٹی کمشنر، ایک ایس ایس پی، ایک کامیاب بزنس مین، ایک سیکرٹری وغیرہ ہیں۔ وہ آٹھوں ہر مہینے ایک رات اپنی بیویوں سمیت ایک بنگلے میں جمع ہوتے ہیں اورایک کھیل کھیلتے ہیں کہ جس کا ایک ایمپائر ہوتا ہے۔ اتفاق سے لالی جو کہ جیل سے مفرور ہے، اس کا واسطہ ڈپٹی کمشنر سے پڑتا ہے کہ جس کی گاڑی کا ٹائر پنکچر ہو چکا ہے اور اسے دھکا لگانے کے لیے کسی فرد کی ضرورت ہے۔ لالی یہ ضرورت پوری کرتا ہے اور ڈپٹی کمشنر اسے اپنے گھر میں رکھ لیتا ہے۔

جب سسپنس نائٹ آتی ہے تو اتفاق سے ایمپائر بیمار ہو جاتا ہے لہذا لالی کو ایمپائر بنا لیا جاتا ہے۔ ایک رات ایک بیورو کریٹ کے بنگلے میں آٹھوں بیوروکریٹس اپنی بیویوں سمیت جمع ہوتے ہیں جو کہ فل تیار ہو کر آئی ہوتی ہیں۔ ایک طرف صوفے پر آٹھ بیویاں بیٹھتی ہیں، دوسری طرف آٹھ مرد۔ اوپر والی منزل میں دس کمرے ہیں۔ قرعہ اندازی ہوتی ہے اور پہلے ہر بیوی کے نام سے ایک کمرے کا نمبر نکلتا ہے تو اس بیوی کو وہاں اسی کمرے میں لالی چھوڑ آتا ہے اور باہر سے دروازہ لاک کر دیتا ہے۔ اس طرح آٹھ بیویوں کے آٹھ کمروں میں چلے جانے کے بعد مردوں کی قرعہ اندازی ہوتی ہے اور ہر مرد کے نام سے ایک کمرے کا نمبر نکلتا ہے اور اسے اسی کمرے میں لالی چھوڑ آتا ہے۔ اگر اتفاق سے کسی مرد کا نام ایسے کمرے کا نمبر نکلے کہ جس میں اسی کی بیوی موجود ہو تو اس کی قرعہ اندازی دوبارہ کی جاتی ہے۔ اس طرح یہ آٹھوں بیوروکریٹس ایک دوسرے کی بیویوں کے ساتھ قرعہ اندازی کر کے رات گزارتے ہیں۔

مجھے اس پر اس وقت کوِئی مذہبی نقد نہیں کرنی کہ اس کا مذہبی اسٹیسٹس سب کو معلوم ہے اور ویسے بھی ادیبوں کو وعظ سے نفرت ہوتی ہے کہ ان کے نزدیک واعظ کا ذہن سطحی ہوتا ہے۔ یہاں دراصل لالی کا ڈپٹی کمشنر اور اس کی بیگم سے ایک مکالمہ ہوتا ہے جبکہ وہ ان دونوں کے ان کے کمرے میں چھوڑنے جا رہا ہوتا ہے، وہ مکالمہ بہت اہم ہے۔ لالی، ڈپٹی کمشنر سے پوچھتا ہے کہ اس کا دل کیسے اس پر راضی ہو جاتا ہے کہ اس کی بیوی دوسرے کے ساتھ رات گزارے جبکہ یہ تو سیدھی سادھی بے غیرتی ہے۔ ڈپٹی کمشنر اپنے اس فعل کو لاجیسائز کرتا ہے یعنی اس کو لاجیکل بنا کر پیش کرتا ہے۔ مثلا ڈپٹی کمشنر کا کہنا یہ ہے کہ انسانی طبیعت کی یہ فطرت ہے کہ وہ ایک ہی چیز سے اکتا جاتی ہے لہذا ہم دراصل اپنی اکتاہٹ کا علاج کرتے ہیں اور یہ اکتاہٹ میاں اور بیوی دونوں کو ایک دوسرے سے ہو جاتی ہے۔ بہر حال دوسری شادی اور ہیرا منڈی کے چکر لگانے کے جو جھنجھٹ ہیں، وہ اس میں نہیں ہیں۔

چلیں، آپ کسی درجے میں کہہ سکتے ہیں کہ یہ تو ایک سطحی لاجک ہوئی لیکن اس لاجک پر ایک اور لاجک بیوی کی طرف سے یہ دی گئی کہ اس طرح کرنے سے بیویوں کو یہ فائدہ ہوا کہ اب وہ بننا سنورنا شروع ہو گئی ہیں یعنی پہلے وہ شوہروں سے اکتاہٹ کے نتیجے میں موٹی اور بھدی ہو گئی تھیں لیکن جب سے سسپنس نائٹ کا دور شروع ہوا ہے تو انہوں نے دوسرے مردوں کی خواہش میں تیار ہونا شروع کر دیا ہے اور اب جسمانی طور پر فٹ ہیں کہ جس کا فائدہ ظاہری بات ہے کہ ان کے شوہروں کو بھی ہوتا ہے۔

چلیں، یہ بھی ایک اور سطحی لاجک کہہ لیں، لیکن خطرناک ترین بات وہ تھی جو ڈپٹی کمشنر نے یہ کہہ کر لالی سے کہی کہ اس طرح کی نائٹ گزارنے سے میاں بیوی کی محبت بڑھ جاتی ہے۔ وہ اس طرح کہ جب اس کی بیوی دوسرے کے شوہر کے ساتھ رات گزارتی ہے اور اگر وہ شوہر اس سے زیادہ ہینڈ سم اور مضبوط ہو تو وہ اس کی طرف ایٹریکٹ ہوتی ہے اور شوہر اس ایٹریکشن سے خار کھاتا ہے لہذا بیوی کی طرف زیادہ توجہ کرتا ہے اور دوسرے مرد کو اپنا رقیب سمجھتا ہے، اس طرح وہ اپنی بیوی کا زیادہ خیال رکھنا شروع ہو جاتا ہے اور ان کی ازدواجی زندگی بہتر ہو جاتی ہے۔

جس طرح سے شوکت صدیقی صاحب نے اس سسپنس نائٹ کو فلوسوفائز کیا ہے، اس سے ایلیٹ کلاس میں اس کی طرف رغبت تو بڑھ سکتی ہے، اس سے نفرت پیدا نہیں ہو سکتی۔ اگرچہ لاجکس تو اس کے خلاف بھی بہت موجود ہیں۔ ہمیں اکتاہٹ کے مسئلہ ہونے سے انکار نہیں ہے لیکن ہم آپ کو یہ بتلانا چاہتے ہیں کہ میاں بیوی کی اکتاہٹ کا جو علاج سسپنس نائٹ میں تجویز کیا گیا ہے، اس سے اکتاہٹ دور نہیں ہوتی بلکہ بڑھ جاتی ہے۔ مغرب کو بیوی سے اکتاہٹ ہوئی تو عورت کی طرف متوجہ ہوا، اس سے اکتاہٹ ہونے لگی تو ہم جنس پرستی پر آ گئے کہ مرد، مرد سے اور عورت، عورت سے شہوت حاصل کرے۔ اس سے اکتائے تو جانوروں کی طرف متوجہ ہو گئے، وہاں سے بھی اکتا گئے تو اب انہیں سمجھ نہیں آ رہی کہ کیا کریں، سب کچھ تو کر لیا ہے۔۔۔

بات یہ ہے کہ سیکس دو قسم کا ہے، ایک وہ جو انسان کی بائیولاجیکل ضرورت ہے، اور اس کے لیے بیوی کافی ہے بشرطیکہ وہ شوہر سے اس مسئلے میں مکمل تعاون کرتی ہو جبکہ عورت کی طبعا زیادہ ضرورت رومانس ہے نہ کہ سیکس۔ اور دوسرا سیکس وہ ہے جو انسان کی ذہنی ضرورت ہے تو اس کے لیے کچھ بھی کافی نہیں ہے۔ کہنا یہ چاہتا ہوں کہ جب سیکس انسان کے دماغ میں گھس جائے تو وہ ہمیشہ سیکس کے مسئلے میں پریشان رہے گا۔ ہمارے معاشروں بلکہ فلسفیوں، ادیبوں اور آرٹسٹوں کا اصل مسئلہ یہی ہے کہ سیکس جو کہ بائیولاجیکل ضرورت تھی، اسے ذہنی ضرورت بنا دیا گیا ہے۔ مصنف نے لالی کی زبانی اسے بے غیرتی کہہ کر اس پر جو نقد کی ہے، اسے جذبات سے جوڑ کر ہلکا بنا دیا ہے اور خود اس عمل کو لاجک کی بنیاد فراہم کر کے اعلی سوچ بنا دیا ہے۔

س لیے جب سے وہ ذہنی ضرورت بنا ہے، ہر ناول نگار نے اسے معاشرے کا بنیادی ترین مسئلہ دکھایا ہے۔ بھائی، سامنے کی بات ہے کہ ایک بھوک وہ ہے جو تمہارے پیٹ کی ہے اور یہی اصل بھوک ہے اور ایک وہ ہے جو تمہارے ذہن میں ہے، تو جو تمہارے ذہن میں ہے، وہ دھوکا ہے۔ پس حل یہ نہیں ہے کہ ذہنی بھوک کو مٹانے چل پڑو بلکہ اس کا علاج یہ ہے کہ ذہن کی اصلاح کرو۔ بھئی، دو لفظوں میں خلاصہ یہ ہے کہ اکتاہٹ تمہارے دل میں نہیں، ذہن میں ہے اور ذہن کی اکتاہٹ، ایبنارمیلٹی ہے،

Want your school to be the top-listed School/college in Islamabad?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Address


Islamabad