10/09/2026
*🌿 سورۃ الحاقہ — آیات 25، 26، 27*🌿
*وَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتَابَهُ بِشِمَالِهِ فَيَقُولُ يَا لَيْتَنِي لَمْ أُوتَ كِتَابِيَهْ ٢٥*
*اور جس شخص کو اس کا نامۂ اعمال اس کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا، وہ کہے گا: کاش! مجھے میرا نامۂ اعمال دیا ہی نہ جاتا*
*وَلَمْ أَدْرِ مَا حِسَابِيَهْ ٢٦*
*اور کاش! مجھے معلوم ہی نہ ہوتا کہ میرا حساب کیا ہے*
*يَا لَيْتَهَا كَانَتِ الْقَاضِيَةَ ٢٧*
*کاش! وہی موت فیصلہ کن ہوتی*
*تفسیر*
ان آیات میں قیامت کے دن بدبخت انسان کی حسرت، شرمندگی اور بے بسی کا نقشہ بیان کیا گیا ہے۔ جب اسے اس کا نامۂ اعمال بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا اور وہ اپنے گناہوں اور برے اعمال کو دیکھے گا تو حسرت سے کہے گا: کاش! مجھے میرا اعمال نامہ دیا ہی نہ جاتا اور کاش! مجھے اپنے حساب کا بھی علم نہ ہوتا۔
پھر جب وہ آخرت کے عذاب اور اپنی بدبختی کو دیکھے گا تو اس کی حسرت انتہا کو پہنچ جائے گی اور کہے گا: کاش! دنیا کی موت ہی میری آخری موت ہوتی، اس کے بعد مجھے دوبارہ زندہ نہ کیا جاتا۔
لیکن یہ صرف حسرت ہوگی؛ اس وقت نہ توبہ کا موقع ہوگا، نہ دنیا میں واپس جانے کی اجازت اور نہ موت کے ذریعے عذاب سے نجات ملے گی۔ اس لیے قرآن ہمیں متنبہ کرتا ہے کہ قیامت کے حساب سے پہلے دنیا ہی میں اپنے اعمال کا محاسبہ کرلیا جائے۔
*حاصل شدہ مسائل و اسباق*
1️⃣ نامۂ اعمال کا ملنا برحق ہے۔
قیامت کے دن ہر انسان کو اس کے اعمال کا ریکارڈ دیا جائے گا۔
2️⃣ انسان اپنے اعمال کا جواب دہ ہے۔دنیا میں کیا ہوا کوئی عمل آخرت میں ضائع نہیں ہوگا۔
3️⃣ قیامت کا پچھتاوا بے فائدہ ہوگا۔
توبہ، اصلاح اور نیک اعمال کا موقع صرف دنیا میں ہے۔
4️⃣ گناہوں کا انجام انتہائی خطرناک ہے۔انسان کو گناہ کرتے وقت آخرت کی جواب دہی کو ضرور یاد رکھنا چاہیے۔
5️⃣ آخرت میں موت نہیں آئے گی۔
مجرم عذاب سے تنگ آکر موت کی آرزو کریں گے، لیکن انہیں موت نہیں دی جائے گی۔
6️⃣ دنیا آخرت کی تیاری کی جگہ ہے۔عقلمند وہ ہے جو قیامت میں نامۂ اعمال ملنے سے پہلے اپنے اعمال درست کرلے۔
*عملی سبق*
قیامت کے دن حسرت کرنے سے بہتر ہے کہ آج اپنے اعمال کا محاسبہ کرلیا جائے؛ کیونکہ آج توبہ کا دروازہ کھلا ہے، جبکہ کل صرف نامۂ اعمال ہوگا اور فیصلہ ہوگا۔