The Islamic hub

The Islamic hub you can find online Quran classes, videos, tips and prayers that can help you increase your religious knowledge and understand and practice the Quran better.

دنیا کی بھاگ دوڑ میں اکثر ہم دین کو بھول جاتے ہیں۔
اس لیے "THE ISLAMIC HUB" بنایا ہے
یہاں آپ کو ملے گا:
✓ قرآن و حدیث
✓ دعائیں
✓ اسلامی پوسٹس
✓ دینی یاددہانی
گزارش ہے پیج فالو کریں، دوستوں کو انوائٹ
کریںاور مل کر دین کی بات عام کریں۔ assalam o aliokum We've created a page for you and The purpose of this page is to provide you with online Quran education so that you can learn the recitation, translation, interpretation and memorization of the Quran from your home. You have experienced and professional teachers available on this page. The way to contact this page is that you can contact us through Facebook Messenger, WhatsApp, phone or email. Follow this page and share it with your friends so that they can also live in the light of the Quran
jazak Allah khayra. whatsaap+923049430623
Skype ID Fakhar3131

10/09/2026

*🌿 سورۃ الحاقہ — آیات 25، 26، 27*🌿

*وَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتَابَهُ بِشِمَالِهِ فَيَقُولُ يَا لَيْتَنِي لَمْ أُوتَ كِتَابِيَهْ ۝٢٥*

*اور جس شخص کو اس کا نامۂ اعمال اس کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا، وہ کہے گا: کاش! مجھے میرا نامۂ اعمال دیا ہی نہ جاتا*

*وَلَمْ أَدْرِ مَا حِسَابِيَهْ ۝٢٦*

*اور کاش! مجھے معلوم ہی نہ ہوتا کہ میرا حساب کیا ہے*

*يَا لَيْتَهَا كَانَتِ الْقَاضِيَةَ ۝٢٧*

*کاش! وہی موت فیصلہ کن ہوتی*

*تفسیر*

ان آیات میں قیامت کے دن بدبخت انسان کی حسرت، شرمندگی اور بے بسی کا نقشہ بیان کیا گیا ہے۔ جب اسے اس کا نامۂ اعمال بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا اور وہ اپنے گناہوں اور برے اعمال کو دیکھے گا تو حسرت سے کہے گا: کاش! مجھے میرا اعمال نامہ دیا ہی نہ جاتا اور کاش! مجھے اپنے حساب کا بھی علم نہ ہوتا۔
پھر جب وہ آخرت کے عذاب اور اپنی بدبختی کو دیکھے گا تو اس کی حسرت انتہا کو پہنچ جائے گی اور کہے گا: کاش! دنیا کی موت ہی میری آخری موت ہوتی، اس کے بعد مجھے دوبارہ زندہ نہ کیا جاتا۔
لیکن یہ صرف حسرت ہوگی؛ اس وقت نہ توبہ کا موقع ہوگا، نہ دنیا میں واپس جانے کی اجازت اور نہ موت کے ذریعے عذاب سے نجات ملے گی۔ اس لیے قرآن ہمیں متنبہ کرتا ہے کہ قیامت کے حساب سے پہلے دنیا ہی میں اپنے اعمال کا محاسبہ کرلیا جائے۔

*حاصل شدہ مسائل و اسباق*

1️⃣ نامۂ اعمال کا ملنا برحق ہے۔
قیامت کے دن ہر انسان کو اس کے اعمال کا ریکارڈ دیا جائے گا۔

2️⃣ انسان اپنے اعمال کا جواب دہ ہے۔دنیا میں کیا ہوا کوئی عمل آخرت میں ضائع نہیں ہوگا۔

3️⃣ قیامت کا پچھتاوا بے فائدہ ہوگا۔
توبہ، اصلاح اور نیک اعمال کا موقع صرف دنیا میں ہے۔

4️⃣ گناہوں کا انجام انتہائی خطرناک ہے۔انسان کو گناہ کرتے وقت آخرت کی جواب دہی کو ضرور یاد رکھنا چاہیے۔

5️⃣ آخرت میں موت نہیں آئے گی۔
مجرم عذاب سے تنگ آکر موت کی آرزو کریں گے، لیکن انہیں موت نہیں دی جائے گی۔

6️⃣ دنیا آخرت کی تیاری کی جگہ ہے۔عقلمند وہ ہے جو قیامت میں نامۂ اعمال ملنے سے پہلے اپنے اعمال درست کرلے۔

*عملی سبق*

قیامت کے دن حسرت کرنے سے بہتر ہے کہ آج اپنے اعمال کا محاسبہ کرلیا جائے؛ کیونکہ آج توبہ کا دروازہ کھلا ہے، جبکہ کل صرف نامۂ اعمال ہوگا اور فیصلہ ہوگا۔

08/09/2026

حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کوئی دعا کرے تو یوں نہ کہے : اے اللہ ! اگر تو چاہے تو مجھے بخش دے ، اگر تُو چاہے تو مجھ پر رحم فرما ، اگر تُو چاہے تو مجھے رزق عطا فرما ، بلکہ اسے چاہیے کہ وہ پورے عزم کے ساتھ دعا کرے ، کیونکہ وہ جیسے چاہے کرتا ہے ، اسے کوئی مجبور کرنے والا نہیں ۔‘‘ رواہ البخاری (۷۴۷۷) ۔

08/09/2026

*🌿 سورۃ الحاقہ — آیات 21 تا 23*🌿

*فَهُوَ فِي عِيشَةٍ رَّاضِيَةٍ ۝٢١*

*پس وہ ایک پسندیدہ زندگی میں ہوگا*

*فِي جَنَّةٍ عَالِيَةٍ ۝٢٢*

*ایک بلند جنت میں۔*

*قُطُوفُهَا دَانِيَةٌ ۝٢٣*

*جس کے پھل جھکے ھوں گے*

*تفسیر*

گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اس خوش نصیب شخص کا ذکر فرمایا جسے قیامت کے دن اس کا اعمال نامہ دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا۔ وہ خوشی سے کہے گا کہ میرا اعمال نامہ پڑھو، کیونکہ اسے دنیا میں یقین تھا کہ ایک دن مجھے اپنے اعمال کا حساب دینا ہے۔
اس کے بعد اللہ تعالیٰ اس کے انجام کو بیان فرماتے ہیں کہ وہ ایک پسندیدہ اور خوشگوار زندگی میں ہوگا۔ یعنی ایسی زندگی جس میں کسی قسم کا غم، تکلیف، پریشانی یا خوف نہیں ہوگا۔ یہ زندگی دنیا کی عارضی زندگی کی طرح نہیں بلکہ آخرت کی دائمی زندگی ہوگی۔
پھر فرمایا:
فِي جَنَّةٍ عَالِيَةٍ
یعنی وہ ایک بلند جنت میں ہوگا۔ مفسرین نے اس میں جنت کے بلند مقام، بلند درجات، عالی شان محلات اور عظیم نعمتوں کا مفہوم بیان کیا ہے۔
پھر جنت کی ایک خاص نعمت بیان فرمائی:
قُطُوفُهَا دَانِيَةٌ
یعنی جنت کے پھلوں کے گچھے بہت قریب ہوں گے۔ جنتی جس حالت میں بھی ہوں—کھڑے ہوں، بیٹھے ہوں یا آرام کر رہے ہوں—ان کے لیے پھل حاصل کرنا مشکل نہیں ہوگا۔ حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے بھی اس کا یہی مفہوم منقول ہے کہ جنتی اپنے بستر پر لیٹے ہوئے بھی پھل حاصل کر سکے گا۔
گویا اللہ تعالیٰ نے جنت کی نعمتوں میں خوشی، بلندی اور آسانی تینوں چیزیں جمع فرمادی ہیں:
خوشگوار زندگی، بلند جنت، اور ایسی نعمتیں جو بغیر مشقت کے میسر ہوں گی

*حاصل شدہ اسباق و مسائل*

🌴1۔ اصل کامیابی آخرت کی کامیابی ہے۔
دنیا کی زندگی کتنی ہی آرام دہ ہو، وہ ختم ہونے والی ہے؛ حقیقی اور دائمی کامیابی جنت کی زندگی ہے۔

🌴2۔ آخرت پر یقین انسان کو نیک اعمال پر آمادہ کرتا ہے۔
جس شخص کو یقین ہو کہ ایک دن اللہ تعالیٰ کے سامنے حساب دینا ہے، وہ اپنی زندگی کو اللہ کی اطاعت کے مطابق گزارنے کی کوشش کرتا ہے۔

🌴3۔ جنت کی زندگی مکمل راحت کی زندگی ہے۔
وہاں دنیا کی طرح بیماری، غم، پریشانی، خوف اور تھکن نہیں ہوگی۔

🌴4۔ جنت بلند اور عظیم مقام ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اسے «جَنَّةٍ عَالِيَةٍ» فرمایا، جس میں اس کے بلند مقام اور عظمت کی طرف اشارہ ہے۔

🌴5۔ جنت کی نعمتیں حاصل کرنا انتہائی آسان ہوگا۔
«قُطُوفُهَا دَانِيَةٌ» سے معلوم ہوتا ہے کہ جنت کے پھل قریب اور آسانی سے حاصل ہونے والے ھوں گے

🌴6۔ جنت کی نعمتیں انسان کی خواہش کے مطابق ہوں گی۔
وہاں نعمت حاصل کرنے کے لیے دنیا کی طرح محنت، مشقت اور انتظار نہیں کرنا پڑے گا۔

🌴7۔ ان آیات میں نیک لوگوں کے لیے بڑی خوشخبری ہے۔
قیامت کے دن دائیں ہاتھ میں اعمال نامہ ملنے کے بعد ان کا انجام ایسی زندگی ہے جس میں دائمی خوشی اور راحت ہوگی۔

07/09/2026

*🌿 رسول اللہ ﷺ کی جامع ترین دعا 🌿*

*اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْهُدَى، وَالتُّقَى، وَالْعَفَافَ، وَالْغِنَى*
ترجمہ:
اے اللہ! میں تجھ سے ہدایت، تقویٰ، پاک دامنی اور دل کی بے نیازی مانگتا ہوں۔
صحیح مسلم: 2721

یہ مختصر مگر انتہائی جامع دعا ہے، جس میں دین و دنیا کی بڑی بھلائیاں جمع کر دی گئی ہیں۔

06/09/2026

نور مانگنے کی سب سے خوبصورت دعا,
اپنے لیے اور اپنے پیاروں کے لیے ضرور پڑھیں -

🌙 دعائے نور 🌙

اللَّهُمَّ اجْعَلْ فِي قَلْبِي نُورًا
"اے اللہ! میرے دل میں نور پیدا فرما دے"

اس دعا میں ہم اللہ سے اپنے پورے وجود کے لیے نور مانگتے ہیں۔

دل، آنکھ، کان، زبان، جسم، جان... ہر چیز کے لیے نور۔

آج اس دعا کو 3 بار پڑھ کر اپنے لیے، اپنے گھر والوں کے لیے
اور امت مسلمہ کے لیے دعا کریں۔

اللہ ہم سب کے دلوں کو ایمان کے نور سے منور فرمائے۔ آمین 🤲

Share کریں تاکہ دوسرے بھی اس برکت سے مستفید ہوں۔


#دعا

05/09/2026

🌿*سورۃ الحاقہ — آیت 18*🌿

*يَوْمَئِذٍ تُعْرَضُونَ لَا تَخْفَىٰ مِنكُمْ خَافِيَةٌ ۝*

*اس دن تم سب اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش کیے جاؤ گے، اور تمہاری کوئی بھی چھپی ہوئی بات پوشیدہ نہ رہے گی*

*تشریح*

قیامت کے دن تمام انسان اللہ تعالیٰ کے سامنے حساب کے لیے پیش کیے جائیں گے۔ دنیا میں انسان اپنے بہت سے اعمال اور باتیں لوگوں سے چھپا سکتا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں۔
اس دن انسان کے ظاہر و باطن، چھپے اور کھلے، چھوٹے اور بڑے تمام اعمال سامنے آ جائیں گے۔ انسان نے دنیا میں جو کچھ کیا ہوگا، اسے اس کا حساب دینا ہوگا۔
دنیا میں انسان مکان، دیوار، دروازے، پردے، غار یا کسی دوسری چیز کے پیچھے چھپ سکتا ہے، لیکن قیامت کے میدان میں ایسی کوئی جگہ نہیں ہوگی جہاں انسان اپنے اعمال یا حقیقت کو چھپا سکے۔
اس آیت میں انسان کو یہ احساس دلایا گیا ہے کہ آج اگر لوگوں سے اپنے اعمال چھپ بھی جائیں تو اللہ تعالیٰ سے ہرگز نہیں چھپ سکتے۔ اس لیے انسان کو تنہائی میں بھی اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے زندگی گزارنی چاہیے۔

*ھدایات القرآن*

🌴قیامت کا دن یقینی ہے اور اس دن تمام انسان اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہوں گے۔

🌴اللہ تعالیٰ ہر ظاہر و پوشیدہ چیز کو جانتا ہے۔ انسان کی کوئی بات یا عمل اس کے علم سے باہر نہیں۔

🌴اعمال کا حساب ہوگا۔ انسان کو اپنے کیے ہوئے اعمال کا جواب دینا ہوگا۔

🌴گناہ چھپ کر کرنے سے گناہ ختم نہیں ہوتا۔ لوگوں سے چھپایا ہوا عمل بھی اللہ تعالیٰ کے ہاں محفوظ ہے۔

🌴تنہائی میں بھی تقویٰ اختیار کرنا چاہیے، کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر وقت ہمارے اعمال سے باخبر ہے۔

🌴اس آیت سے محاسبۂ نفس کا سبق ملتا ہے کہ انسان روزانہ اپنے اعمال کا جائزہ لے اور گناہوں سے توبہ کرے

31/08/2026

🌿*سورۃ الحاقہ: آیات 11، 12*🌿

*إِنَّا لَمَّا طَغَى الْمَاءُ حَمَلْنَاكُمْ فِي الْجَارِيَةِ*

*بے شک جب پانی حد سے بڑھ گیا تو ہم نے تمہیں کشتی میں سوار کر لیا*

*لِنَجْعَلَهَا لَكُمْ تَذْكِرَةً وَتَعِيَهَا أُذُنٌ وَاعِيَةٌ*

*تاکہ ہم اس واقعے کو تمہارے لیے نصیحت اور یاد دہانی بنا دیں، اور اسے یاد رکھنے والے کان محفوظ کرلیں*

*تفسیر*

ان آیات میں اللہ تعالیٰ قومِ نوحؑ کے واقعے کی طرف اشارہ فرماتے ہیں۔ جب قومِ نوحؑ نے سرکشی کی، اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی اور حضرت نوحؑ کی دعوت کو جھٹلایا تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے عظیم طوفان آیا اور پانی اپنی مقررہ حد سے تجاوز کر گیا۔
اللہ تعالیٰ نے حضرت نوحؑ اور ان کے اہلِ ایمان ساتھیوں کو کشتی میں سوار کرکے محفوظ فرمایا۔ اس کشتی کے ذریعے ان لوگوں کو عذاب سے نجات ملی جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے تھے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ہم نے اس واقعے کو تمہارے لیے تذکرہ اور نصیحت بنا دیا، تاکہ بعد کے لوگ اس سے عبرت حاصل کریں اور سمجھیں کہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی، سرکشی اور رسولوں کی تکذیب کا انجام انتہائی خطرناک ہے۔
*وَتَعِيَهَا أُذُنٌ وَاعِيَةٌ* کا مطلب یہ ہے کہ نصیحت وہی شخص حقیقی طور پر حاصل کرتا ہے جو بات کو توجہ سے سنے، اسے دل میں محفوظ کرے اور پھر اپنی زندگی میں اس سے سبق حاصل کرے۔

*حاصل شدہ مسائل، احکام اور اسباق*

🌴اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور سرکشی کا انجام تباہی ہے۔
اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کو مصیبت کے وقت نجات عطا فرماتا ہے۔

🌴قرآن میں سابقہ اقوام کے واقعات صرف تاریخ بیان کرنے کے لیے نہیں بلکہ عبرت اور نصیحت کے لیے ہیں۔

🌴نصیحت حاصل کرنے کے لیے توجہ سے سننا ضروری ہے۔ صرف کانوں سے سن لینا کافی نہیں، بلکہ بات کو سمجھنا اور محفوظ کرنا بھی ضروری ہے۔

🌴ایمان اور اطاعت نجات کا ذریعہ ہیں، جبکہ تکذیب اور سرکشی ہلاکت کا سبب بنتی ہے۔

🌴اللہ تعالیٰ کی قدرت بے مثال ہے۔ پانی جیسی مخلوق بھی اس کے حکم کے سامنے بالکل بے اختیار ہے۔

🌴علم سننے اور یاد رکھنے کی اہمیت معلوم ہوتی ہے؛ جو شخص غور سے سنتا اور بات کو محفوظ کرتا ہے وہ زیادہ فائدہ اٹھاتا ہے۔

🌴مومن کو دوسروں کے انجام سے عبرت حاصل کرنی چاہیے اور گناہوں، ظلم اور نافرمانی سے بچنا چاہیے۔

*مرکزی پیغام*

اللہ تعالیٰ کے عذاب اور سابقہ قوموں کے واقعات انسان کے لیے بیداری کا ذریعہ ہیں۔ عقلمند وہ ہے جو اللہ کی نشانیوں اور قرآن کی نصیحت کو توجہ سے سنے، دل میں محفوظ کرے اور اپنی زندگی کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے مطابق بنائے۔

30/08/2026

🌿*سورۃ الحاقہ — آیات 6 تا 8*🌿

*فَأَمَّا عَادٌ فَأُهْلِكُوا بِرِيحٍ صَرْصَرٍ عَاتِيَةٍ ۝٦*

*پھر قومِ عاد کو ایک نہایت تیز، سخت اور زور دار آندھی کے ذریعے ہلاک کر دیا گیا*

*سَخَّرَهَا عَلَيْهِمْ سَبْعَ لَيَالٍ وَثَمَانِيَةَ أَيَّامٍ حُسُومًا ۖ فَتَرَى الْقَوْمَ فِيهَا صَرْعَىٰ كَأَنَّهُمْ أَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِيَةٍ ۝٧*

*اللہ تعالیٰ نے اس ہوا کو مسلسل سات راتیں اور آٹھ دن ان پر مسلط رکھا۔ تم ان دنوں میں اس قوم کے لوگوں کو زمین پر اس طرح گرے ہوئے دیکھتے جیسے کھجور کے کھوکھلے تنے پڑے ہوں۔*

*فَهَلْ تَرَىٰ لَهُم مِّن بَاقِيَةٍ ۝٨*

*تو کیا اب تم ان میں سے کسی کو باقی دیکھتے ہو؟*

*تشریح و تفسیر*

قومِ عاد ایک طاقتور اور سرکش قوم تھی۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں بڑی قوت، جسمانی طاقت اور دنیاوی وسائل عطا کیے تھے، لیکن انہوں نے اللہ کی نافرمانی کی اور اپنے نبی حضرت ہود علیہ السلام کی تکذیب کی۔

اللہ تعالیٰ نے ان کی سرکشی کے نتیجے میں ان پر ایک انتہائی شدید اور تباہ کن ہوا بھیجی۔ یہ عام ہوا نہیں تھی بلکہ ایسی تیز اور سخت آندھی تھی جو مسلسل سات راتیں اور آٹھ دن ان پر مسلط رہی۔

اس عذاب نے قومِ عاد کے طاقتور لوگوں کو بھی بے بس کر دیا۔ وہ زمین پر اس طرح گر پڑے جیسے کھجور کے اندر سے خالی اور بے جان تنے زمین پر پڑے ہوں۔ ان کی طاقت، شان و شوکت اور مضبوط جسم انہیں اللہ کے عذاب سے نہ بچا سکے۔

آخرکار ان کا ایسا مکمل خاتمہ ہوا کہ ان میں سے کوئی باقی نہ رہا۔ یہ آیات انسان کو یاد دلاتی ہیں کہ دنیا کی طاقت، دولت اور قوت اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کے سامنے کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔

*آیات سے حاصل ہونے والے اہم مسائل و اسباق*

🌴اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور رسولوں کی تکذیب انسان کو ہلاکت کی طرف لے جاتی ہے۔

🌴دنیاوی طاقت اور قوت اللہ تعالیٰ کے عذاب سے انسان کو نہیں بچا سکتی۔

🌴اللہ تعالیٰ جس قوم پر عذاب نازل فرمائے، اس کے لیے کوئی طاقت مقابلہ نہیں کر سکتی۔

🌴اللہ تعالیٰ کی قدرت کے سامنے تیز ترین ہوا بھی اس کے حکم کی تابع ہے۔

🌴قومِ عاد کا واقعہ بعد میں آنے والی قوموں کے لیے عبرت اور نصیحت ہے۔

🌴انسان کو اپنی طاقت، مال اور حیثیت پر غرور نہیں کرنا چاہیے بلکہ اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی اختیار کرنی چاہیے۔

🌴رسولوں کی تعلیمات کو جھٹلانا انتہائی خطرناک جرم ہے۔

🌴ان آیات میں اس بات کی بھی تنبیہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی پکڑ آنے کے بعد انسان کے ظاہری اسباب اور طاقتیں بے فائدہ ہو جاتی ہیں۔

اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی نافرمانی، تکبر اور سرکشی سے بچائے اور قرآنِ کریم سے نصیحت حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

28/08/2026

اللہ ہر تنگی سے راستہ نکال دیتا ہے*

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"جو شخص استغفار کو اپنے اوپر لازم کر لے، اللہ اس کے لیے ہر تنگی سے نکلنے کا راستہ بنا دیتا ہے، ہر غم سے نجات دیتا ہے اور اسے وہاں سے رزق دیتا ہے جہاں سے اسے گمان بھی نہیں ہوتا"
*(سنن ابو داؤد: 1518)*

استغفار کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لیں۔
*اَسْتَغْفِرُ اللّٰهَ الَّذِيْ لَا اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّوْمُ وَاَتُوْبُ اِلَيْهِ*

اللہ ہم سب کے رزق میں برکت دے۔ آمین 🤲

#استغفار #رزق #دعا

28/08/2026

*درودِ پاک پڑھنے کے فضائل و فوائد*

🌹 درودِ پاک پڑھنے سے اللہ تعالیٰ کا حکم پورا ہوتا ہے۔
🌹 ایک مرتبہ درود پڑھنے پر 10 نیکیاں عطا ہوتی ہیں۔
🌹 10 گناہ معاف کیے جاتے ہیں۔
🌹 10 درجات بلند کیے جاتے ہیں۔
🌹 10 رحمتیں نازل ہوتی ہیں۔
🌹 غم و پریشانی دور ہونے کا سبب بنتا ہے۔
🌹 گناہوں کی بخشش کا ذریعہ بنتا ہے۔
🌹 دعا کی قبولیت کا سبب بنتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں کثرت سے درودِ پاک پڑھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

Address

Islamabad

Telephone

+923049430623

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when The Islamic hub posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to The Islamic hub:

Shortcuts

Share

Category