13/12/2025
میں مولویوں کی مخالفت کیوں کر رہا ہوں؟
میں مولویوں کی مخالفت اس لیے کر رہا ہوں کیونکہ گلگت بلتستان کو گزشتہ چار دہائیوں سے آگ میں دھکیلنے والے سب سے بڑے ہتھیار یہی عمامہ والے بنے ہیں۔
میں: مولوی صاحب! آپ لوگوں کو فرقہ واریت کیوں سکھا رہے ہو؟
مولوی: جو میں کہوں وہی کرو گے، جو میں کروں وہی کرو گے؟
میں: اچھا تو بتائیں میں کیا کروں؟
مولوی: شعیہ کو کافر کہو، ڈی سی، اے سی، ممبر کے خلاف زبان نہ کھولو، ریاست چاہے جتنا ظلم کرے، حدیث پڑھ کے کہو “حاکم جو کرے ٹھیک کرتا ہے”، اور گلگت بلتستان کو فرقوں میں تقسیم کرو۔
میں: مولوی صاحب! یہ سب کام غلط ہیں۔ اسلام کا لبادہ اوڑھ کر آپ لوگ عوام کو گمراہ کر رہے ہو۔ یہاں سب سے زیادہ بے روزگاری ہے، دیامر بھاشا ڈیم بن گیا، ایک ہسپتال، ایک کالج، ایک یونیورسٹی تک نہیں۔ ہر سال ہزاروں بچے مدرسوں سے نکلتے ہیں، نوکری نام کی کوئی چیز نہیں، زمینیں چھینی جا رہی ہیں، ٹریڈ روٹس پر فوجی چھاؤنیاں بن گئیں، ایک لفظ منہ سے نہیں نکلتا۔ صرف سنی شیعہ لڑانے کے علاوہ بتاؤ ایک کام کیا ہے جو تم نے عوام کے لیے کیا؟
مولوی: ہم نے تو “حقوق دو ڈیم بناؤ” تحریک چلائی تھی نا! واپڈا کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا تھا!
میں: واہ! وہی تحریک جس میں تم لوگوں نے واپڈا کی گاڑیوں پر اسلام آباد جا کر 80 لاکھ روپے کے کھانے کھائے، لسی پی، اور دیامر کے لوگوں کے ساتھ غداری کر کے معاہدہ کر لیا؟ آج وہی لوگ بے گھر ہو رہے ہیں، زمینیں زبردستی لکھوائی جا رہی ہیں، تحریک کا نام و نشان تک نہیں۔ جب گندم سبسڈی ختم ہوئی تو پوری گلگت بلتستان ایک ہو کر سڑکوں پر تھی، تم لوگ وہی تھے جو تحریک کے خلاف فتوے لے کر بیٹھ گئے تھے۔ جب علی پور حادثے میں 2012 میں شیعہ مسافر قتل ہوئے تو تمہارے بڑے بڑے مولوی خاموش تھے۔ جب 1988 میں گلگت شہر میں لشکر کشی ہوئی تو تمہارے ہی کچھ “عالم” پیچھے سے تیل ڈال رہے تھے۔ جب 2005 میں حافظ صاحب کو شہید کیا گیا تو تمہارے گروہ نے پورا شہر جلایا، پھر جب 2012 میں کوہستان میں شیعہ مسافروں کو بسوں سے اتار کر مارا گیا تو تمہارے کچھ مولوی “خاموشی اختیار کرو” کہہ رہے تھے۔
اور قاضیوں کی باتیں الگ ہیں:
2021 میں سکردو میں کوئ آغا نے طلاق کا کیس لیا، رشوت لے کر عورت کو بے گھر کر دیا۔
2023 میں گلگت کے قاضی نے جعلی دستاویزات پر زمین کا فیصلہ سنا دیا، بعد میں پتہ چلا کہ زمین ان کے رشتہ دار کی تھی۔
نگر میں آغا نے قتل کے ملزم کو اسلام کے نام پر چھوڑ دیا کیونکہ ملزم مدرسے کا بڑا ڈونر تھا۔
اور جب عوام نکلتے ہیں؟
جب نغمہ ستی پولیس چوکی 2021 میں جلائی گئی تو عوام زمینوں کے تحفظ کے لیے نکلے تھے، تم لوگ “یہ فتنہ ہے” کہہ کر بیٹھ گئے۔
جب 2023-24 میں ٹیکس کے خلاف پوری گلگت بلتستان بند رہی، عوامی ایکشن کمیٹی نے لاکھوں لوگ اکٹھے کیے، تمہارے بڑے بڑے جلسے والے مولوی غائب تھے۔
جب 2025 میں سکردو سے گلگت تک ہزاروں لوگ “ریاست سے ریاست مانگتے ہیں” کے نعرے لے کر نکلے تو تمہارے لیڈر کہہ رہے تھے “یہ شیعوں کا ایجنڈا ہے”۔
خلاصہ یہ ہے:
جب حقوق کی بات آئے تو منہ میں کیڑے پڑ جاتے ہیں، جب فرقہ واریت کرنی ہو تو سب سے آگے۔
جب عوام متحد ہو کر اپنا حق مانگے تو تم “فتنہ” کہہ کر بیٹھ جاتے ہو، اور جب ریاست تمہیں نوٹوں کی گڈی دے تو “حاکم کی اطاعت واجب ہے” والا لیکچر شروع۔
گلگت بلتستان کے عوام جاگ چکے ہیں۔
اب نہ تمہارے فتووں سے ڈرتے ہیں، نہ تمہاری منافقت سے۔
اب ہم اپنے حقوق خود لیں گے، تم جیسے دلالوں کے بغیر۔
اسلام شفیق
13/12/2025
Mubarak Ho GB Hero 🚩
Resistance
Resistance
Resistance
13/12/2025
گلگت بلتستان کے شیعہ اور سنی نوجوان ایسے ایک بےسمت بھنور میں پھنس چکے ہیں کہ اب فرقہ پرستی ان کے اعصاب کی غذا اور ذہنی اطمینان کا واحد سہارا بن گئی ہے۔
شام ڈھلے کسی مقدس ہستی کی تو-ہین کئے بغیر جنہیں نیند نہیں آتی۔ سوشل میڈیا پر فرقہ وارانہ آگ بھڑکائے بغیر جنہیں قرار نہیں ملتا۔
دراصل دونوں جانب یہ نوجوان شدید ذہنی و نفسیاتی تناؤ کے اسیر ہیں آغار راحت اور قاضی نے ان قدامت پسند مذہبی زومبیز کو مذہبیت مولویت اور فرقہ واریت کے علاوہ کچھ بتایا ہی نہیں ہے۔
اور افسوس یہ ہے کہ ریاست نے ابھی تک ایسا کوئی معالج پیدا ہی نہیں کیا جو اس اجتماعی جنون کا علاج کر سکے۔
ان زومبیز کے پوسٹوں اور تبصروں میں نہ دلیل ہے نہ علم اور فکر نہ سمجھ کی رمق باقی رہی نہ شعور کا کوئی دھاگہ جڑا ہوا ہے۔
گالی دینا مقدسات کو نشانہ بنانا اور ایک دوسرے کی پگڑیاں اچھالنا اب ان کا محبوب ترین مشغلہ بن چکا ہے۔ یہاں تک کہ اس بےسمتی کو وہ اپنی شناخت سمجھنے لگے ہیں۔
سچ یہ ہے کہ ان زومبیز کا دین اسلام کی اصل تشریحات سے جتنا فاصلہ آج ہے شاید پہلے کبھی نہ تھا۔
لہذا عاجزانہ مشورہ یہی ہے کہ شیعہ اور سنی دونوں جانب کے یہ قدامت پرست۔ رد عمل زدہ مذہبی زومبیز ایک ایک تسبیح سنبھالیں اور اسی پر آغا راحت اور قاضی نثار کا ورد جاری رکھیں۔
نوٹ: آنے والی پانچ سالہ حکومت کی پہلی ترجیح جی بی میں نفسیاتی و زہنی ہسپتال کی تعمیر ہونی چاہیئے۔تاکہ یہ زومبیز مزید زہنی و نفسیاتی طور پر مفلوج نا ہوں۔
فخر عالم
13/12/2025
District Diamer MBBS Provisional List 2025–26.
Congratulations to selected candidates, solidarity with those on waiting.
27/10/2025
اذیتوں کا یہ بابِ سیاہ بند کرے
روا جو ظلم ہے عالم پناہ بند کرے۔
26/10/2025
🌸 Congratulations 🌸
Heartiest congratulations to Dr. Fatima Mehdi on being elected as the President of the Women’s Wing, Inqalabi Students Organization Gilgit-Baltistan.
Your selection reflects the trust and confidence the organization has in your leadership, dedication, and vision for empowering female students. We are confident that under your guidance, the voice of women will be heard more strongly, and their representation in educational and social spheres will grow even brighter.
May Allah grant you wisdom, strength, and success in this noble responsibility. 🌹
25/10/2025
عوامی ایکشن کمیٹی کے مرکزی رہنما کامریڈ نصرت حسین کو بوگس اور بے بنیاد مقدمات کے ذریعے پابندِ سلاسل کرنا انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
کامریڈ نصرت حسین کا ’’جرم‘‘ صرف یہ ہے کہ وہ گلگت بلتستان کے عوام کے بنیادی انسانی اور آئینی حقوق کے لیے پُرامن اور اصولی جدوجہد کر رہے ہیں۔
ان پر جھوٹے مقدمات قائم کرنا حق و انصاف، جمہوری اقدار اور آزادیِ اظہار پر حملہ ہے۔
ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ کامریڈ نصرت حسین سمیت تمام سیاسی و انسانی حقوق کے کارکنوں کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔
25/10/2025
بلتستان میں مائننگ پہ قبضہ ، سوست میں 103 نوجوانوں کے بارڈر پاس کی منسوخی ،وائس چیئرمین قراقرم اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن بابر حسین کی گرفتاری
ظلم کے ضابطے ہم نہیں مانتے
19/10/2025
گلگت بلتستان کے وہ بہادر پولو کھلاڑی جو کھیل کے میدان میں امر ہوگئے
گلگت بلتستان کی سرزمین صدیوں سے بہادری، غیرت اور کھیلوں، بالخصوص پولو کے لیے مشہور رہی ہے۔ اس خطے کے کئی نامور پولو کھلاڑی اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر گھوڑوں کی برق رفتاری کے ساتھ میدان میں اترے، مگر قسمت نے ان کا ساتھ نہ دیا، اور وہ کھیل کے دوران ہمیشہ کے لیے امر ہوگئے۔ ذیل میں اُن چند نامور کھلاڑیوں کا ذکر کیا جا رہا ہے جنہوں نے کھیل کے میدان میں جان دے کر تاریخ میں اپنا نام امر کر دیا۔
1. بول جان – گلگت سکاوٹس کی چھاؤنی میں پولو کھیلتے ہوئے گھوڑے سے گر کر موقع پر ہی وفات پا گئے۔
2. ظعفر صاحب – سن 1962 میں شاہی پولو گراؤنڈ گلگت میں ایک میچ کے دوران گھوڑے سے گرنے کے باعث جاں بحق ہوئے۔
3. آنریری لیفٹیننٹ جان عالم – صوبیدار میجر احمد خان کے بڑے بھائی تھے۔ وہ 1960 کی دہائی میں شاہی پولو گراؤنڈ میں کھیل کے دوران گھوڑے سے گر کر دنیا سے رخصت ہوگئے۔
4. اصغر – مئی 1976 میں شاہی پولو گراؤنڈ میں گھوڑے سے گر کر جاں بحق ہوئے، ان کا شمار اپنے وقت کے بہترین پولو کھلاڑیوں میں ہوتا تھا۔
5. سخاوت چپوکے (پونیال) – شاہی پولو گراؤنڈ گلگت میں گھوڑے کے ساتھ گرنے کے باعث شدید زخمی ہوئے، بعد ازاں سی ایم ایچ اسلام آباد میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے وفات پا گئے۔
6. نصرت علی (شیر قلعہ) – شیر قلعہ کے معروف پولو کھلاڑی کے صاحبزادے کھیل کے دوران شیر قلعہ پولو گراؤنڈ میں گھوڑے کے ساتھ گر کر جاں بحق ہوئے۔
7. ریٹائرڈ صوبیدار بجگی (یاسین) – یاسین پولو گراؤنڈ میں کھیل کے دوران دل کا دورہ پڑنے سے وفات پا گئے۔
8. خان محمد (چلاس) – معروف پولو کھلاڑی اشرف گل کے والد تھے۔ چلاس پولو گراؤنڈ میں کھیل کے دوران پولو بال سر پر لگنے سے موقع پر جاں بحق ہوئے۔
9. ایس پی راجی رحمت – حاضر سروس پولیس افسر اور پولو کے شوقین کھلاڑی تھے۔ وہ شاہی پولو گراؤنڈ گلگت میں چترال کے خلاف میچ کے دوران دل کا دورہ پڑنے سے جاں بحق ہوگئے۔
⸻
یہ وہ نام ہیں جنہوں نے پولو کے جذبے، جرأت اور روایتی غیرت کی ایسی مثال قائم کی جو آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔
گلگت بلتستان کی فضاؤں میں آج بھی جب پولو کے ڈھول اور نقاروں کی گونج سنائی دیتی ہے، تو ان جانباز کھلاڑیوں کی یاد تازہ ہو جاتی ہے جنہوں نے اپنے گھوڑوں کے ساتھ دوڑتے ہوئے میدانِ پولو ہی کو اپنی آخری آرام گاہ بنا لیا۔