26/11/2025
*تعزیت*
شعبۂ پاکستانی زبانیں، علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سرائیکی زبان و ادب کے ممتاز محقق، استاد، شاعر اور ثقافتی ورثے کے امین ڈاکٹر نصراللہ خان ناصر کے انتقال پر گہرے رنج و افسوس کا اظہار کرتا ہے۔ ان کی وفات پاکستانی زبانیں بالخصوص سرائیکی زبان و ادب اور ملک کی علمی دنیا کا ایک بڑا نقصان ہے۔
ڈاکٹر ناصر نے تدریس، تحقیق، تنقید اور زبان و ثقافت کے فروغ میں نمایاں خدمات سر انجام دیں۔ اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور اور ریڈیو پاکستان بہاولپور سے وابستگی کے دوران انہوں نے علمی معیار، تحقیق اور طلبہ کی فکری تربیت میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کی زیرِ نگرانی تربیت پانے والے بے شمار طلبہ آج مختلف اداروں میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔
ڈاکٹر صاحب کا شعبہ پاکستانی زبانوں کے ساتھ تعلق نہایت مخلصانہ اور مستقل رہا۔ انہوں نے ہمیشہ تعلیمی و تحقیقی سرگرمیوں میں شعبہ کے طلبا و طالبات کی راہ نمائی کی اور شعبے کی علمی معاونت میں پیش پیش رہے جسے شعبہ قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔
ان کی علمی و ادبی خدمات کے اعتراف میں انہیں خواجہ فرید ایوارڈ اور حکومت پاکستان کی جانب سے صدارتی ایوارڈ برائے حسنِ کارکردگی سے نوازا گیا۔ ان کی اہم تصانیف اجرک، یہ کیسا دُکھ ہے، صحرا کے گیت: وادیٔ سندھ کی باقیات، چولستانی قبائل کے قدیم گیت، سرائیکی شاعری کا ارتقاء، تشخص، نویں سوبھ، معنویت اور ثقافتی مباحث ہمیشہ اہلِ علم کے لیے قیمتی سرمایہ رہیں گی۔
شعبہ پاکستانی زبانیں ،علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی مرحوم کی خدمات کو احترام سے یاد رکھتی ہے اور انہیں اپنے معتبر محققین میں شمار کرتی ہے۔اللہ تعالیٰ مرحوم کو جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور لواحقین کو صبرِ جمیل عطا کرے۔
إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّ إِلَيْهِ رَاجِعُونَ
25/11/2025
علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کی فیکلٹی آف سوشل سائنسز اینڈ ہیومینیٹیز کے زیرِ اہتمام تیسری عالمی کانفرنس “سماجی علوم میں فروغِ تحقیق” 17 اور 18 نومبر 2025ء کو یونیورسٹی کے مین کیمپس میں کامیابی سے منعقد ہوئی۔اس دو روزہ کانفرنس میں پاکستان سمیت بیرونِ ملک کی متعدد جامعات اور تحقیقی اداروں سے تعلق رکھنے والے نامور محققین، اسکالرز اور ماہرینِ سماجیات نے شرکت کی اور سوشل سائنسز کے کلاسیکی و عصری مباحث پر اپنے تازہ ترین تحقیقی مقالات پیش کیے۔
کانفرنس میں پاکستانی زبانوں پر مبنی تین خصوصی سیشنز تھے جن میں مجموعی طور پر 23 تحقیقی مقالات پیش کیے گئے۔
17 نومبر کو منعقدہ ایک سیشن کی صدارت پشتو زبان و ادب کے ممتاز محقق، مدون ،استاد اور چیئرمین شعبۂ پاکستانی زبانیں پروفیسر ڈاکٹر عبداللہ جان عابد نے کی۔ صدارتی خطاب میں انہوں نے پیش کردہ مقالات کو موضوعاتی تنوع، تحقیقی معیار اور علمی افادیت کے اعتبار سے نہایت اہم قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تحقیقی کاوشیں نہ صرف علمی فضا میں تازگی کا باعث بنیں بلکہ پاکستانی زبانوں کے مطالعات میں نئے رجحانات کو بھی متعارف کروا رہی ہیں۔ انہوں نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ پاکستانی زبانوں کے اسکالرز کی علمی سنجیدگی اور تحقیقی اہلیت ہمارے لسانی سرمائے کے روشن مستقبل کی ضمانت ہے۔
اس نشست کی نظامت ڈاکٹر زیب النساء نےانجام دی۔ سیشن میں بلوچی، سندھی، براہوئی، پنجابی اور سرائیکی زبان و ادب کے مختلف موضوعات پر درج ذیل تحقیقی مقالات پیش کیے گئے ۔
ڈاکٹر حاکم علی برڑو — “سچل سرمست کی شاعری میں صوفیانہ روایت”
ڈاکٹر ضیاء الرحمن بلوچ — Balochi Language in Digital Age: Challenges, Opportunities and Technological Integration
ڈاکٹر زیب النساء — پاکستان میں پنجابی زبان کو درپیش خطرات
ذی وقار نجیب — “سرائیکی شاعری کے جدید رجحانات”
وحید رزاق — براہوئی زبان و ادب میں ترجمہ نگاری (1950ء تا 2025ء): ایک تحقیقی جائزہ
عارفہ ممتاز خان — “سرائیکی شاعری میں تانیثیت”
شگفتہ ناز — “سرائیکی نثر میں سیرت نگاری اور عصری تقاضے”
عبدالرازق — “بلوچی لوک کہانیوں کی شعریات: ایک معنیاتی مطالعہ”
یہ سیشن تحقیقی و لسانی مباحث کے اعتبار سے نہایت بارآور ثابت ہوا اور پاکستانی زبانوں کے مطالعات میں ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت اختیار کر گیا۔
29/05/2024
https://www.facebook.com/DailyInsiders/posts/1003396221149379
The Department of Pakistani Languages at Allama Iqbal Open University, Islamabad, hosted a special event under the leadership of Professor Dr. Abdullah Jan Abid, Head of the Department, to honor the distinguished Pashto poet and writer, Mushtaq Rehman Shaffaq (M. R. Shaffaq), a senior member of the Pashto Adabi (Literary) Society, Islamabad.
The event was presided over by Mahmood Ahmad, Chairman of the Pashto Literary Society Islamabad, with Sarwar Khattak as the chief guest.
Other notable attendees included the Pashto Adabi Society’s General Secretary Sardar Yousafzai, Abdul Hameed Zahid, Dr. Hakim Ali, Dr. Tabbasum, Dr. Munaza Jabeen, Farzana Zahoor, Muskan Khattak, Zia Baloch, and other M.Phil scholars.
Speakers at the event praised Mushtaq Rehman Shaffaq’s invaluable contributions to Pashto literature.
Professor Dr. Abdullah Jan Abid emphasized that the university has initiated a series of events aimed at celebrating prominent poets from various Pakistani languages. These events will spotlight the poets' lives and literary contributions, acknowledging and appreciating their work.
Dr. Abid emphasized Shafaq's invaluable services to Pashto literature, shedding light on his life and literary works, and commended his efforts and dedication to the promotion of the Pashto language.
16/05/2024
گزشتہ روز علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد میں بورڈ آف ایڈوانس اسٹڈیز اینڈ ریسرچ کا اجلاس ہوا ، جس میں شعبہ پاکستانی زبانیں کے سات پی ایچ ڈی اسکالرز نے اپنے موضوعات کا کامیاب دفاع کیا ۔ بورڈ نے ان اسکالرز کے خاکہ جات کا باریک بینی سے جائزہ لیا اور بعض ترامیم کی ہدایت کے ساتھ ان کی منظوری دیدی ۔ اسکالرز کے نام اور موضوعات یہ ہیں۔
. . نام اسکالر موضوع تحقیق
1: محمد اسرار: په روښاني شاعرۍ کښې د فنا او بقا تصور
تحقيقي و تنقيدي مطالعه
(روشنیہ شاعری میں تصورِ فنا و بقا :تحقیقی و تنقیدی مطالعہ)
2: تنویر احمد: بلوچی لبزانکی راجدپتر: پولکاری و چار ءُ تپاسی وانشت
(لبزانکی راجدپتر نویسی ءِ راہبندانی رد ءَ)
بلوچی ادبی تواریخ: تحقیقی وتجزیاتی مطالعہ
(ادبی تاریخ نویسی کے اصولوں کی روشنی میں)
3: طارق رحیم: مبارک قاضی ءِ شاعری ءِ پگری ءُ ازمی جہتانی پولکاری وانشت
(مبارک قاضی کی شاعری کی فکری اور فنی جہات: تحقیقی مطالعہ)
4: ہارون رشید : د پاکستان د پښتنو عسکرو نثري خدمات,تحقيقي و تنقيدي مطالعه
پاکستان کے پشتون عساکر کی نثری خدمات: تحقیقی و تنقیدی مطالعہ
5: مختار نبی : د عبداللہ استاد د شاعرۍ فکري او فني مطالعه
(عبداللہ استاد کی شاعری کا فکر ی و فنی مطالعہ)
6: سدھیر خان: د خوشحال خان خټک د شعري ژبې تجزياتي مطالعه
[خوشحال خان خٹک کی شعری زبان کا تجزیاتی مطالعہ]
7: نور الحسن : بلوچی لبز بلدنویسی: چارءُ تپاسی و دیم پہ دیمی وانشت
(بلوچی لغت نویسی: تجزیاتی اور تقابلی مطالعہ)
شعبہ پی ایچ ڈی موضوعات کی منظوری پر اپنے اسکالرز کو مبارک باد دیتا ہے اورمستقبل میں ان کی کامیابی کے لیے دعاگو ہے۔
19/02/2024
Dear Applicants,
The admission test for M.Phil and Ph D in Pakistani Languages will be held on Thursday, 22-02-24, at 8:30 am in the Academic Complex of AIOU, Islamabad. Please bring your original documents and experience certificates with you.
Note: Candidates who qualify the test will be interviewed the next day, i.e., 23-02-24, in person and via Zoom at the Department of Pakistani Languages, Block No. 5, AIOU. Candidates from Sindh, Gilgit Baltistan, and Balochistan can appear at AIOU regional offices in Karachi,Gilgit and Quetta .
For further queries, contact Dr. Zia ur Rehman Baloch at 03224441415 or 03344778338.
19/01/2024
Admissions open at Aiou in semester spring 2024
14/09/2023
محترم نجیب اللہ مندو خیل کو ڈاکٹر پرویز مہجور
کی تدوینی خدمات کے تنقیدی مطالعے پر ایم فل کی ڈگری ایوارڈ کی گئی.
ڈاکٹر پرویز مهجور پشتو ادب کی تحقیق و تدوین کا ایک معتبر حوالہ ہے۔ ان کی تدوینی خدمات اس حوالے سے بھی اہم ہیں کہ انھوں نے پشتو ادب کے اولین دواوین کی تدوین کی ، جن میں اہم ترین ارزانی خویشکی، مرزا خان انصاری، علی محمد مخلص اور واصل روشانی کے دواوین شامل ہیں، ان دواوین کی تدوین کا تنقیدی مطالعہ نجیب اللہ مندوخیل کی تحقیق کا موضوع ہے۔ یہ تحقیقی کام پروفیسر ڈاکٹر عبداللہ جان عابد کی زير نگرانی مکمل ہوا ، جس کا زبانی امتحان (Viva Voce) گزشتہ روز ڈین فیکلٹی آف سوشل سائنسز پروفیسر ڈاکٹر عبدالعزیز ساحر کی سربراہی میں منعقد ہوا۔
اس تحقیق کے بنیادی مقاصد میں تدوینِ متن کے اصول و ضوابط کی روشنی میں:
١: کلیات ارزانی خویشکی کا تدوینی اور تنقیدی مطالعہ کرنا۔
٢:۔ دیوان علی محمد مخلص کی تدوین کا تنقیدی مطالعہ کرنا۔
٣: دیوان مرزا خان انصاری کی تدوین نو کا تنقیدی مطالعہ کرنا۔
٤: دیوان واصل روشانی کی تدوین نو کا تنقیدی مطالعہ کرنا۔
ڈاکٹر پرویز مہجور کثیرالجہت شخصیت کے مالک تهے ، وه محقق ، شاعر اور نقاد تھے ، لیکن ان کا ایک بڑا حوالہ بحیثیت مدون کا ہے۔
اس تحقیقی کام سے جو نتائج سامنے آئے ہیں ان کے مطابق:
ڈاکٹر پرویز مہجور نے جو بھی تدوینی خدمات انجام دی ہیں ان میں تدوینی اصول کا بہ اہتمام خیال رکھا ہے اور تدوین شدہ متون کو تخلیق کار کی منشا کے مطابق پیش کرنے کی حتی الوسع کوشش کی ہے، تاہم بعض انتقادی متون میں مختلف نسخوں کے Variations ان سے چھوٹ گئے ہیں۔
ان متون کی تصحیح میں بہترین قیاسی تصحیح کی صلاحیت بروئے کار لائی ہے۔
ان دواوین سے انہوں نے قرانی آیات، احادیث مبارکہ اور اقوال کی تخریج بھی دقت نظری سے کی ہے۔
تدوینِ متن کے لازم اجزا جیسے: حواشی، متبادل قرات، تعلیقات اور فرہنگ وغیرہ کا خاص خیال رکھا ہے۔
اسکالر محترم نجیب اللہ مندوخیل کا تعلق ژوب بلوچستان سے ہے۔ وہ وفاقی حکومت کے مختلف انتظامی محکموں کے منتظم کے طور پر خدمات سرانجام دیتے رہے ہیں اور لمحہ موجود میں وہ وزیراعظم ’’شکایت سیل‘‘ Compliant Cell)) کے سربراہ کے طور پر تعینات ہیں۔ شعبہ ان کے اس کامیابی پر انھیں مبارک باد دیتا ہے اور مستقبل میں ان کی کامیابیوں کے لیے دعاگو ہے۔
13/09/2023
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’عبدالغنی خان کی تصنیفات میں تصور پشتون ‘‘ محترم جاوید ثاقب کے ایم فل مقالے کا عنوان ہے جو علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد کے شعبہ پاکستانی زبانیں سے پروفیسر ڈاکٹر عبداللہ جان عابد کی نگرانی میں پایہ تکمیل کو پہنچا ہے۔ گزشتہ روز ڈاکٹر عبدالعزیز ساحر ، ڈین سوشل سائنسز کی سربراہی میں اسکالر کا زبانی امتحان( viva voce) منعقد ہوا، جس میں وہ کامگار ہوئے ۔ اس مقالہ میں عبدالغنی کی شعری اور نثری تصانیف کی خوب چھان بین کی گئی ہے اور عبدالغنی خان کے تصورِ پشتون' کو استخراج کرکے اُجاگر کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
خان عبد الغنی خان کے’دی پٹھان‘سے پہلے پشتونوں کی تاریخ کے نام پربعض مؤرخین اور لکھاریوں نے غیر سائنسی سٹیریوٹائپنگ کی ہے۔ انھوں نے اپنے نثری آثار ’دی پٹھان: اے سکیچ‘ (انگریزی) اور ’خان صاحب‘ (اردو) کے بشمول اپنی شاعری د پنچرے چغار فانوس اور پلوشے میں اس سٹیریوٹائپنگ کی رد تشکیل کی ہے اور پشتونوں کے اصل تصور کی احیاء میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔ یہ تحقیق ہمیں تصور پشتون میں مصنوعی طور پر پیوند کئے گئے غیر تعمیری رویوں کو سمجھنے اور ان کو اپنی اصل تعمیری حالت میں بحال کرنے میں مدد گار ہے۔
اس تحقیق کے بنیادی مقاصد یہ تھے:
• قوم اور تصور قومیت پر بحث کرنا۔
• عبدالغنی خان کی شاعری میں پشتون قومی تصور اور رویوں کا جائزہ لینا۔
• عبدالغنی خان کی تصنیف ’دی پٹھان‘ میں تصورِ پشتون کا تجزیہ کرنا۔
• عبدالغنی کی نثری تصنیفات میں پشتونوں کے قومی اور شخصی تشخص پر نظرونقد کاجائزہ لینا۔
• پشتونوں کے قومی تشخص پر عبدالغنی خان کے افکار کے اثرات کا مطالعہ کرنا۔
مقالے کے مندرجات کے مطابق پشتون فطری طور پر ایک امن پسند قوم ہے، لیکن جب بھی ،اس کی عزت، مال و دولت یا وطن خطرے میں پڑا ہوا ہے، تو وہ ان تمام چیزوں کے دفاع کی خاطر میدانِ عمل میں اترا ہے ۔ میدانِ عمل میں وہ سخت گیر واقع ہوا ہے۔
اس مقالے کے نتائج میں سے چند یہ ہیں:
• اس مقالے میں پشتونوں کے حوالے سے اس تاثر کی بھی نفی کی گئی ہے کہ پشتون صرف قتل و غارت گری اور تشدد کا خوگر ہےاور محبت، موسیقی اور رومانس جیسے تصورات و احساسات سے عاری ہے . نتائج میں یہ نوٹ کیا گیا ہے کہ پشتون محبت بھی کرتا ہے، موسیقی نہ صرف سنتا ہے بلکہ گاتا بھی ہے اور بڑا رومان پرور بھی ہے۔
• ’’بدل‘‘ (انتقام یا بدلہ) پشتون روایات اور ثقافت کا ایک اہم جزو ہے۔ اکثر خارجی لکھاریوں نے اس کا بھی بہت غلط تصور پیش کیا ہے۔لیکن اس تحقیقی مقالے میں عبدالغنی کے پشتون تصور کے تناظر میں اس روایت کے دو پہلو بیان کی گئے ہیں اور دونوں بہت اہمیت کے حامل ہیں۔ ایک مثبت پہلو ہے اور دوسرا منفی پہلو۔ مثبت پہلو یہ ہے کہ جب آپ کسی شخص کے ساتھ نیکی یا بھلائی کرتے ہیں تو وہ آپ کا یہ احسان ضرور چکائے گا۔ اس طرح معاشرے میں بھائی چارے اور باہمی تعاون کی فضاء قائم ہوتی ہے۔ البتہ منفی پہلو اس کا یہ ہے کہ پشتون کے ساتھ جب کوئی بُرا کرتا ہے تو وہ اس سے ضرور بدلہ لیتا ہے۔ لیکن اگر ذرا سا غور کیا جائے تو یہ بھی ایک مثبت پہلو ہے، کیونکہ ایک پشتون اس ڈر سے دوسرے پر ظلم نہیں کرتا کہ جب بھی اس سوسائٹی کے مخالف فرد کو موقع ملا یہ اپنا بدلہ ضرور لے گا۔
• پشتونوں کی بعض سخت روایات ، جنہیں اکثر خارجی لکھاریوں نے تنقید کا نشانہ بنایا ہواہے، اس مقالے کے نتیجے میں واضح ہوچکا ہے کہ انہی روایات اور رسوم و رواج کی بدولت اُس نے اپنے معاشرے میں امن و امان کو یقینی بنایا ہےاور امن و امان ہی کی خاطر اس نے ان روایات کو پروان چڑھایا ہے۔
ایم فل سکالر جاوید خان،جو ادبی حلقوں میں جاوید ثاقب کے نام سے جانا جاتا ہے۔ کئی کتابوں کے مصنف اور مترجم ہیں۔ 'روزنامہ شہباز' کے پشتو ایڈیشن کے مدیر کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دے چکے ہیں , لمحہ موجود میں وہ مفکورہ ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ سنٹر پشاور سے شائع ہونے والے بچوں کے پشتو میگزین " رڼابڼ" (روشنی کا جھرمٹ) کے مدیر اعلٰی کی حیثیت سے پشتو زبان و ادب کی ترقی و ترویج کیلئے خدمات سرانجام دے رہا ہے۔
شعبہ انھیں اس کامیابی پر مبارکباد دیتا ہے ۔
08/09/2023
ایم فل براھوئی کے دو اسکالرز کا زبانی امتحان
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گزشتہ روز فیکلٹی اف سوشل سائنسز کے سیمینار روم میں پروفیسر ڈاکٹر عبدالعزیز ساحر( ڈین ) کی زیر صدارت ایم فل براھوئی کے دو سکالرز کا زبانی امتحان( viva voce) منعقد ہوا ،جس میں صدر شعبہ پاکستانی زبانیں پروفیسر ڈاکٹر عبداللہ جان عابد ، شعبے کے اساتذہ ڈاکٹر حاکم علی برڑو ,ڈاکٹرضیاء الرحمن بلوچ اور ڈاکٹر زیب النساء نے شرکت کی
بیرونی ممتحن ڈاکٹر واحد بخش بزدار (قائد اعظم یونیورسٹی اسلام اباد ) تھے جنھوں نے طلبہ سے موضوع سے متعلق سوالات پوچھے ۔ طلبہ نے استفسارات کے مدلل جواب دیے جس پر کمیٹی نے انھیں ایم فل کی ڈگری دینے کی سفارش کی۔ اسکالرز کے نام اور موضوعات حسب ذیل ہیں :
1۔ محترم حفیظ اللہ
موضوع : براھوئی رسالہ" ایلم " کا توضیحی اشاریہ
2: محترم عبدالسلام
موضوع : براھوئی رسالہ "توئی مہر" اور" استار " کا توضیحی اشاریہ
ڈاکٹر ضیاء الرحمان بلوچ کی زیر نگرانی تکمیل ہونے والے یہ دونوں تحقیقی کام انتہائی اہمیت کےحامل ہیں، کیونکہ براہوئی میں اشاریہ سازی کی روایت اتنی توانا نہیں ۔ یہ تحقیقی کام اس حوالے سے بھی اہم ہے ، کہ یہ محققین اور قارئین کو نہ صرف آسانیاں فراہم کریں گی ، بلکہ اس سے مستقبل میں تحقیقی جرائد کی اشاریہ سازی کے نئے در بھی وا ہوں گے ۔
براہوئی رسالہ ایلم 1960ء میں نامور صحافی شاعر اور ادیب نور محمد پروانہ نے شروع کیا تھا ۔یہ براہوئی کا پہلا اور جامع رسالہ تھا کہ جس میں براہوئی کے نامور ادیب، شاعر، دانشوراور لکھاریوں کی تحریریں شامل ہیں۔ اس کی سرپرستی قبائلی نواب دودا خان زرکزئی اور نواب غوث بخش رئیسانی نے کی ۔یہ رسالہ ایک عہد کا ترجمان ہے، ایک تاریخ ہے اور کئی حوالوں سے بنیادی ماخذ ہے، اس تحقیق میں اس کا 40 سالہ ریکارڈ یکجا کر کے اس کی اشاریہ سازی کی گئی ہے ۔
دوسرا مقالہ براہوئی کے دو اہم رسائل توئی مہر اور استار کی اشاریہ سازی ہے ۔استار 2001 سے جبکہ مہر 2005 سے مسلسل شائع ہو رہا ہے ، ان دونوں رسالوں میں براہوئی زبان و ادب کے مختلف موضوعات ، اصناف اور تحریکات رجحانات کے حوالے سے اہم مضامین اور تحریریں شامل ہیں ۔طالب علم نے ان دونوں رسالوں کا گزشتہ 20 سالوں کا علمی و ادبی سرمایہ یکجا کر کے اشاریہ سازی کی ہے ، جس سے محققین اوراور طلبہ استفادہ کر سکیں گے
یاد رہے کہ شعبہ پاکستانی زبانیں اس سے پہلے بھی براہوئی زبان و ادب کی ترویج میں رسائل و جرائد کے کردار پر تحقیقی کام کرا چکا ہے۔
شعبہ پاکستانی زبانیں اپنے اسکالرز کو ایم فل کی ڈگری کی کامیاب تکمیل پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے مستقبل میں ان کی کامیابیوں کے لیے دعا گو ہے ۔
. . . . . . . . . . . . . . . . ( ڈاکٹر زیب النساء )
07/09/2023
ایم فل پشتو کے اسکالراکبر غلام کا زبانی امتحان
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گزشتہ روز ایم فل پشتو کے اسکالر محترم اکبر غلام نے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں اپنے ایم فل مقالے بہ عنوان: " میرحسن اخون بابا کی شاعری کا فنی اور فکری مطالعہ " کا کامیاب دفاع کیا۔ اخون بابا عوامی شاعر تھے اور انہوں نے عوامی شاعری کی تمام اصناف پر طبع ازمائی کی تھی , لیکن پشتو چار بیتہ ان کا خاص میدان رہا ہے ۔ وہ پشتو چار بیتہ کے تمام اقسام پرحاوی رہے ۔ اخون بابا کا دور پشتو چار بیتہ کے عروج کا دور تھااور چار بیتہ کے بڑے استاد شعرا اس زمانے میں حیات تھے _ وہ نور محمد استاد ، عبداللہ استاد ،عبدالواحد ٹھیکدار، علی حیدر جوشی اور اس عہد کے دیگرعوامی شعرا کے معاصر تھے ۔ بابا کے حیات و فن پر تاحال کوئی سندی تحقیق منظر عام پر نہیں آئی لہذا اخون بابا پر یہ اولین سندی تحقیق ہے جو ڈاکٹر عبداللہ جان عا بد کی زیر نگرانی مکمل کی گئی . زبانی امتحان کے دوران اسکالر نے بیرونی ممتحن ڈاکٹر حنیف خلیل ( قائداعظم یونیورسٹی، اسلام آباد) کے استفسارات کے مدلل جواب دیے۔ زبانی امتحان کی کمیٹی کا اجلاس فیکلٹی آف سوشل سائنسز کے سیمینار روم میں پروفیسر ڈاکٹر عبدالعزیز ساحر (ڈین) کی صدارت میں منعقد ہوا .
شعبہ پاکستانی زبانیں اپنے اسکالرکو اپنےایم فل کی ڈگری کی کامیاب تکمیل پر مبارک باد دیتا ہے اور مستقبل میں ان کی کامیابیوں کے لیے دعا گو ہے، ۔