Baloch Students Council Dr AQKhan Campus Islamabad

Baloch Students Council Dr AQKhan Campus Islamabad

Share

This Council was founded in 2020. Main objectives
To,
1..Promote Education.
2..Support new Ones in A

Photos from Baloch Students Council Dr AQKhan Campus Islamabad's post 08/11/2025

Attained BSC Islamabad annual programme and made an exhibition of our science projects perfectly..

08/11/2025

Today our fellows presented well organised science exhibition projects in the annual ceremony of BSC Islamabad at Quaid e Azam University..Our fellows made different projects on various topics including acid rain,life on mars,solar system,carbon purification etc…The incoming people showed interest in these projects and also appreciated..

Photos from Baloch Students Council Islamabad's post 23/10/2025

BSC ISLAMABAD 🌹

11/07/2025

Saeed Ubaidullah, a student of BS Defense and Strategic Studies (DSS) 5th semester at Quaid-e-Azam University and a resident of Panjgur, Balochistan, was abducted by plainclothes security personnel from the Islamabad Toll Plaza. His disappearance is part of a disturbing pattern of enforced disappearances targeting Baloch students in Islamabad . We urge everyone students, activists, human rights organizations, and concerned citizens to raise their voice for his immediate and safe recovery.

Photos from Baloch Students Council Islamabad's post 11/07/2025
11/07/2025

X (formerly Twitter) Campaign

Baloch Students Council Islamabad is launching a campaign on X (formerly Twitter) to demand the safe release of Saeed Baloch, who was forcibly disappeared by intelligence agencies from Near, 26 No, Toll Plaza, Islamabad.

We urge students, teachers and people from all walks of life to raise their voices. Baloch students are facing state surveillance, profiling and harassment on university campuses.

Date: Today, 11 July 2025
Time: 7:00 PM – 12:00 AM


13/05/2025

مستاگی

گِندار پبلیکیشنز، بی ایس سی اسلام آباد ءِ نوکتریں کتاب "ملپد" کہ آئی ءِ تہ ءَ مزن نامیں سپارتکار،مُلکی، سیاسی ءُ جنگی سروکانی گُلگدار ماں بلوچی ءَ رجانک کنگ بوتگ اَنت پہ چاپ ءُ شِنگ ءَ جریدگ اِنت۔ زُوتاں وانوکانی دست ءِ بْراہ بیت۔

06/05/2025

Javid Mb's Presentation On Importance Of Social Media at 3rd Annual Literary And Educational Festival.

youtu.be/F6_5DnjNbc4?si…

Photos from Baloch Students Council Islamabad's post 17/03/2025

بلوچ طلبہ پر ریاستی جبر اور تعلیمی آزادیوں پر قدغن ناقابل قبول ہے۔ بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل اسلام آباد

بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل اسلام آباد کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ لسبیلہ یونیورسٹی اوتھل اور تربت یونیورسٹی میں بلوچ طلبہ کے خلاف جاری ریاستی جبر اور سیاسی سرگرمیوں پر پابندیوں کی شدید مذمت کرتی ہے۔ یہ انتہائی افسوسناک عمل ہے کہ تعلیمی ادارے جو علمی ترقی اور فکری آزادی کے مراکز ہونے چاہئیں۔لیکن آج ریاستی جبر کے گڑھ بن چکے ہیں۔ بلوچ طلبہ کو مسلسل ہراساں کیا جارہا ہے ان کی سیاسی سرگرمیوں پر پابندیاں عائد کی جارہی ہے اور انہیں جبری طور پر لاپتہ کیا جارہا ہے جس کی واضح مثال LUAWMS سے لاپتہ کیے گئے بیاندُر بلوچ اور دیگر بلوچ طلبہ ہے۔

ترجمان نے کہا کہ لسبیلہ یونیورسٹی اور تربت یونیورسٹی سمیت بلوچستان کے دیگر تعلیمی اداروں میں آمرانہ پالیسیوں میں شدت آچکی ہے۔ طلبہ کو ان کے تعلیمی ادارے میں ہی غیر محفوظ بنا دیا گیا ہے جہاں سیکیورٹی اہلکاروں کی موجودگی علمی ماحول کو ختم کر کے خوف و ہراس پیدا کررہی ہیں۔ ثقافتی اور سیاسی سرگرمیوں کو زبردستی روکا جارہا ہے۔ کتاب میلے اور بلوچ ثقافتی دن جیسے تعلیمی و ثقافتی مواقع کو نشانہ بنایا جارہا ہے اور طلبہ کو منظم کرنے کی ہر کوشش کو طاقت کے زور پر کچلا جارہا ہے۔ ہاسٹلز کو فوجی زون میں تبدیل کردیا گیا ہے جہاں طلبہ کی پروفائلنگ کی جارہی ہے اور ان کے کمروں کی غیر قانونی تلاشی لی جا رہی ہے۔

ترجمان نے مزید کہا کہ تربت یونیورسٹی میں بھی یہی صورتِ حال دیکھنے کو مل رہا ہے جہاں ریاستی ادارے تعلیمی ماحول کو بہتر بنانے کے بجائے طلبہ کی فکری اور سیاسی آزادیوں پر قدغن لگا رہے ہیں۔ ایک ایسا ماحول تشکیل دیا جارہا ہے جہاں علمی مباحثے کرنا اور سیاسی شعور کا اظہار کرنا ایک جرم بن چکا ہے۔ طلبہ کو خوفزدہ کرنے کیلئے انہیں جھوٹے مقدمات میں ملوث کیا جارہا ہے، یونیورسٹی سے بےدخل کرنے کی دھمکیاں دی جارہی ہے اور ان پر مسلسل دباؤ ڈالنے کی پالیسی اختیار کی گئی ہے۔جبکہ یونیورسٹی انتظامیہ کے جانب سے یونیورسٹی ہاسٹل کو بند کیا گیا ہے اور چند طالبعلموں کو یونیورسٹی سے بےدخل بھی کیا گیا ہے۔

ترجمان نے آخر میں کہا کہ یہ جبر ناقابل قبول ہے اور بلوچ طلبہ کے حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل اسلام آباد اس جبر کے خلاف ہر سطح پر آواز بلند کرے گی اور ان طلبہ کے ساتھ کھڑی ہے جو اپنی سیاسی و علمی آزادی کے حق میں مزاحمت کر رہے ہیں۔ لسبیلہ یونیورسٹی اور تربت یونیورسٹی میں جاری دھرنے میں شامل طلبہ کی جدوجہد کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں جو تمام تر ریاستی جبر کے باوجود اپنے حقوق کیلئے کھڑے ہیں۔ بلوچ طلبہ کی جبری گمشدگیوں، پروفائلنگ، تعلیمی سرگرمیوں پر پابندیوں اور ان کی فکری و سیاسی نشوونما کو روکنے کی کوششیں ناقابل قبول ہے۔

04/03/2025
Photos from Baloch Students Council Islamabad's post 04/03/2025

بلوچستان میں ریاستی جبر کا قہر برپا، جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل اور بلوچ نسل کشی کا پالیسی کا تسلسل جاری ہے۔

بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل اسلام آباد

بلوچستان میں ریاستی جبر ایک ایسے مرحلے پر پہنچ چکا ہے جہاں جبری گمشدگیاں، جعلی مقابلے، ٹارگٹ کلنگ اور اجتماعی سزائیں ایک منظم ریاستی حکمت عملی کے تحت مسلسل جاری ہے۔ بلوچ نسل کشی کے اس تسلسل میں ہزاروں نوجوانوں کو جبری طور پر لاپتہ کیا گیا اور سینکڑوں کی مسخ شدہ لاشیں ویرانوں میں پھینکی گئیں۔ گزشتہ دو مہینوں میں دو سو سے زائد افراد جبری گمشدگی اور درجنوں افراد ماورائے عدالت قتل کا شکار ہوئے۔ بلوچستان میں ہزاروں مسخ شدہ لاشیں، جعلی مقابلے اور ٹارگٹ کلنگ کا نہ رکنے والا تسلسل چل رہا ہے اور بلوچستان ریاستی جبر کی آگ میں جل رہا ہے۔

ریاست مسلسل بلوچ طلبہ کو نشانہ بنا رہی ہے گزشتہ روز قلات سے پنجاب یونیورسٹی لاہور کے طالبعلم اشفاق بلوچ ولد خدا بخش سمیت 35 افراد کو قلات کے مختلف جگہوں پر چھاپے مار کر جبری لاپتہ کردیا اور تین سال قبل اشفاق بلوچ کے بھائی شہزاد بلوچ کو جعلی مقابلے میں قتل کردیا۔ ریاست نہ صرف بلوچ نوجوانوں کو جسمانی طور پر ختم کرنا چاہتی ہے بلکہ بلوچ قوم کے باشعور اور تعلیم یافتہ طبقے کو بھی راستے سے ہٹانے کے درپے ہے جبکہ بلوچستان کے تعلیمی اداروں کو فوجی چھاؤنیوں میں تبدیل کر دیا گیا ہے اور پنجاب، اسلام آباد کے تعلیمی اداروں میں بلوچ طلبہ کو جس نفسیاتی جنگ کا سامنا ہے وہ بھی اسی ریاستی پالیسی کا تسلسل ہے۔ جبری گمشدگیاں، ہراساں، پروفلینگ اور تعلیمی اداروں میں ان کے لیے حالات کو ناقابل برداشت بنانا واضح کرتا ہے کہ ریاست کا تعلیمی نظام بھی بلوچ نسل کشی کی پالیسی کا ایک مضبوط ہتھیار ہے۔

بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکڑوں بلوچ نوجوانوں کو جبری طور پر لاپتہ اور درجنوں بلوچ نوجوانوں کو جبری طور پر اغوا کرکے بعدازاں جعلی مقابلے میں ماورائے عدالت قتل کر دیا گیا۔ مشکے آواران میں چار نوجوانوں کو جعلی مقابلے میں قتل کرکے ان کی لاشیں ویرانے میں پھینک دی گئیں، اس سے قبل پانچ دیگر جبری لاپتہ بلوچوں کو بھی ریاستی فورسز نے ماروائے عدالت قتل کیا اور گزشتہ ہفتے گومازی میں بھی دو بلوچ نوجوانوں کو ماورائے عدالت قتل کیا گیا۔ بلوچستان بھر میں ان مظالم کے خلاف احتجاج جاری ہے اور مختلف مقامات پر سڑکیں احتجاجاً بند کی گئی ہیں اور مظاہرین خصوصاً بلوچ خواتین، طلبہ پر ریاستی فورسز کے جانب سے تشدد کی گئی اور یہ عمل ثابت کرتا ہے کہ ریاست بلوچوں کی پرامن جدوجہد کو کچلنے کے لیے ہر غیر انسانی ہتھکنڈے کو جائز سمجھتی ہے۔

بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل اسلام آباد بلوچستان میں جاری ریاستی جبر کی شدید مذمت کرتی ہے اور ریاست بلوچ قوم کے خلاف جو منصوبے بنا رہی ہے وہ صرف غیر انسانی اور وحشیانہ ہے جو ہر محکوم قوم کو درپیش رہی ہے بلوچ قوم اس جبر و بربریت کے خلاف پرامن مزاحمت کریں اور مزاحمت ہی بلوچ کی بقا ہے۔ ہم بلوچ سیاسی کارکنان اور مظلوم خاندانوں کے ساتھ کھڑے ہیں اور واضع کرنا چاہتے ہیں کہ ظلم کے خلاف مزاحمت ہی واحد راستہ ہے بلوچستان میں جاری مظالم پر خاموشی کسی صورت قابل قبول نہیں ہے۔

ترجمان: بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل اسلام آباد

Want your school to be the top-listed School/college in Islamabad?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Address


Islamabad