13/10/2024
Online Quran Academy
Key Features
We have Alhamdulillah 100% verified and experienced online Quran Male and Female Tutors in reasonable fee. Islamic Education
All courses consists of Tajweed, Hifz, Recitation, Islamic supplications (Duain), Arabic Language
13/10/2024
*درس قرآن کریم*
سورۃ یونس 38
اَمۡ یَقُوۡلُوۡنَ افۡتَرٰىہُ ؕ قُلۡ فَاۡتُوۡا بِسُوۡرَۃٍ مِّثۡلِہٖ وَ ادۡعُوۡا مَنِ اسۡتَطَعۡتُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ.
ترجمہ :
کیا وہ کہتے ہیں کہ اسے رسول ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) نے خود گھڑ لیا ہے ، آپ فرما دیجئے: پھر تم اس کی مثل کوئی ( ایک ) سورت لے آؤ ( اور اپنی مدد کے لئے ) اللہ کے سوا جنہیں تم بلاسکتے ہو بلا لو اگر تم سچے ہو.
*🌹بھیک مانگنے کی ممانعت، نیز محنت مزدوری کرنے کا بیان🌹*
عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : *لَأَنْ يَأْخُذَ أَحَدُكُمْ أَحْبُلًا ، فَيَأْخُذَ حُزْمَةً مِنْ حَطَبٍ فَيَبِيعَ ، فَيَكُفَّ اللَّهُ بِهِ وَجْهَهُ خَيْرٌ مِنْ أَنْ يَسْأَلَ النَّاسَ أُعْطِيَ أَمْ مُنِعَ۔*
*اردو ترجمہ*
حضرت زبیر بن عوام نے رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اگر کوئی شخص رسی لے کر لکڑیوں کا گھٹا لائے، پھر اسے بیچے اور اس طرح اللہ تعالیٰ اس کی آبرو محفوظ رکھے تو یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلائے اور ( بھیک ) اسے دی جائے یا نہ دی جائے۔ اس کی بھی کوئی امید نہ ہو۔
*English translation*
Narrated Az-Zubair bin Al 'Awwam: The Prophet said, No doubt, one had better take a rope (and cut) and tie a bundle of wood and sell it whereby Allah will keep his face away (from Hell-fire) rather than ask others who may give him or not.
*صحیح البخاری حدیث نمبر 2373 كِتَابُ الشُّرْبِ والْمُسَاقَاةِ*
*السَّلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكاتُهُ*
•┈•❀❁❀•┈•
*23 ربیع الثانی 1443 ھِجْرِیْ*
*29 نومبر 2021 عِیسَوی*
*15 مگھر 2078 بِکرمی*
بروز *سوموار*
•┈•❀❁❀•┈•
*أَعوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجيم*
*بِسْمِ اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ*
•┈•❀❁❀•┈•
وَاِذَا مَاۤ اُنْزِلَتْ سُوْرَةٌ نَّظَرَ بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضٍۗ هَلْ يَرٰٮكُمْ مِّنْ اَحَدٍ ثُمَّ انْصَرَفُوْا ۗ صَرَفَ اللّٰهُ قُلُوْبَهُمْ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا يَفْقَهُوْنَ.⭕
•┈•❀❁❀•┈•
*ترجمہ:*
*میں پناہ میں آتا ہوں اللہﷻ کی شیطان مردود کے شر سے بچنے کیلئے۔*
*اللہﷻ کے نام سے شروع جو سب سے زیادہ مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے.*
•┈•❀❁❀•┈•
*لفظی ترجمہ:*
وَإِذَا(اور جب بھی) مَآ أُنزِلَتْ(اتاری جاتی ہے) سُورَةٌ(کوئی سورت) نَّظَرَ(دیکھتے ہیں) بَعْضُهُمْ(ان میں سے بعض) إِلَىٰ(کی طرف) بَعْضٍ(بعض) هَلْ(کیا) يَرَىٰكُم(دیکھتا ہے تم کو) مِّنْ(کوئی) أَحَدٍ(ایک) ثُمَّ(پھر) ٱنصَرَفُوا۟ۚ(وہ منہ پھیر جاتے ہیں) صَرَفَ(پھیر دیا) ٱللَّهُ(اللہ نے) قُلُوبَهُم(ان کے دلوں کو) بِأَنَّهُمْ(بوجہ اس کے کہ بیشک وہ) قَوْمٌ(ایک لوگ ہیں) لَّا(نہیں) يَفْقَهُونَ(جو سمجھتے).⭕
•┈•❀❁❀•┈•
*مفہوم:*
*اورجب بھی کوئی سورت نازل کی جاتی ہے تو وہ ایک دوسرے کی طرف دیکھتے ہیں، (اور اشاروں سے پوچھتے ہیں) کہ کیا تمہیں کوئی دیکھ تو نہیں رہا پھر وہ پلٹ جاتے ہیں۔ اللہ نے ان کے دلوں کو پلٹ دیا ہے کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جو سمجھ نہیں رکھتے.⭕*
•┈•❀❁❀•┈•
التوبہ: 127
•┈•❀❁❀•┈•
صبح بخیر
•┈•❀❁❀•┈•
اسلام علیکم صبح بخیر۔۔۔۔
*جو کوئی شخص کسی جھوٹی قسم کے ذریعے کسی مسلمان کے مال پر پر ناحق قبضہ کر لے تو اس کےلیے وعید۔*
*اردو ترجمہ*
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو شخص کوئی ایسی جھوٹی قسم کھائے جس کے ذریعہ وہ کسی مسلمان کے مال پر ناحق قبضہ کر لے تو وہ اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ تعالیٰ اس پر بہت زیادہ غضب ناک ہو گا۔ اور پھر اللہ تعالیٰ نے ( سورۃ آل عمران کی یہ ) آیت نازل فرمائی: إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلا ”جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کے ذریعہ دنیا کی تھوڑی دولت خریدتے ہیں“ آخر آیت تک۔ پھر اشعث رضی اللہ عنہ آئے اور پوچھا کہ ابوعبدالرحمٰن ( عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ) نے تم سے کیا حدیث بیان کی ہے؟ یہ آیت تو میرے بارے میں نازل ہوئی تھی۔ میرا ایک کنواں میرے چچا زاد بھائی کی زمین میں تھا۔ ( پھر جھگڑا ہوا تو ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ تو اپنے گواہ لا۔ میں نے عرض کیا کہ گواہ تو میرے پاس نہیں ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ پھر فریق مخالف سے قسم لے لے۔ اس پر میں نے کہا یا رسول اللہ! یہ تو قسم کھا بیٹھے گا۔ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ فرمایا اور اللہ تعالیٰ نے بھی اس بارے میں یہ آیت نازل فرما کر اس کی تصدیق کی۔
*صحیح البخاری حدیث نمبر 2356 كِتَابُ الشُّرْبِ والْمُسَاقَاةِ*
*درس حدیث شریف*
عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ رَضِيَ اللَّهُ تعالیٰ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : إِنَّ أَحَبَّ النَّاسِ إِلَی اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَأَقْرَبہُمْ مِنْہُ مَجْلِسًا إِمَامٌ عَادِلٌ، وَإِنَّ أَبْغَضَ النَّاسِ إِلَی اللّٰہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَأَشَدّہُ عَذَابًا إِمَامٌ جَائِرٌ۔
ترجمہ :
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عادل حکمران قیامت کے روز اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ محبوب ہوگا اور وہ سب سے بڑھ کر اللہ کے قریب جگہ پائے گا۔ اور قیامت کے دن اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ ناپسند اور سب سے زیادہ سخت عذاب کا مستحق وہ حکمران ہوگا جس نے دنیا میں عدل سے کام نہ لیا. (اور دوسروں پر ظلم ڈھاتا رہا۔)
مسند احمد حدیث نمبر 12040
*درس قرآن کریم*
سورۃ یونس 22
ھُوَ الَّذِیۡ یُسَیِّرُکُمۡ فِی الۡبَرِّ وَ الۡبَحۡرِ ؕ حَتّٰۤی اِذَا کُنۡتُمۡ فِی الۡفُلۡکِ ۚ وَ جَرَیۡنَ بِہِمۡ بِرِیۡحٍ طَیِّبَۃٍ وَّ فَرِحُوۡا بِہَا جَآءَتۡہَا رِیۡحٌ عَاصِفٌ وَّ جَآءَھُمُ الۡمَوۡجُ مِنۡ کُلِّ مَکَانٍ وَّ ظَنُّوۡۤا اَنَّہُمۡ اُحِیۡطَ بِہِمۡ ۙ دَعَوُا اللّٰہَ مُخۡلِصِیۡنَ لَہُ الدِّیۡنَ ۬ ۚ لَئِنۡ اَنۡجَیۡتَنَا مِنۡ ھٰذِہٖ لَنَکُوۡنَنَّ مِنَ الشّٰکِرِیۡنَ.
ترجمہ :
وہی ہے جو تمہیں خشک زمین اور سمندر میں چلنے پھرنے ( کی توفیق ) دیتا ہے ، یہاں تک کہ جب تم کشتیوں میں ( سوار ) ہوتے ہو اور وہ ( کشتیاں ) لوگوں کو لے کر موافق ہوا کے جھونکوں سے چلتی ہیں اور وہ اس سے خوش ہوتے ہیں تو ( ناگہاں ) ان ( کشتیوں ) کو تیز و تند ہوا کا جھونکا آلیتا ہے اور ہر طرف سے ان ( سواروں ) کو ( جوش مارتی ہوئی ) موجیں آگھیرتی ہیں اور وہ سمجھنے لگتے ہیں کہ ( اب ) وہ ان ( لہروں ) سے گھر گئے ( تو اس وقت ) وہ اللہ کو پکارتے ہیں ( اس حال میں ) کہ اپنے دین کو اسی کے لئے خالص کرنے والے ہیں ( اور کہتے ہیں: اے اللہ! ) اگر تو نے ہمیں اس ( بَلا ) سے نجات بخش دی تو ہم ضرور ( تیرے ) شکر گزار بندوں میں سے ہوجائیں گے.
*السَّلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكاتُهُ*
•┈•❀❁❀•┈•
*16 ربیع الثانی 1443 ھِجْرِیْ*
*22 نومبر 2021 عِیسَوی*
*08 مگھر 2078 بِکرمی*
بروز *سوموار*
•┈•❀❁❀•┈•
*أَعوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجيم*
*بِسْمِ اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ*
•┈•❀❁❀•┈•
مَا كَانَ لِاَهْلِ الْمَدِيْنَةِ وَمَنْ حَوْلَهُمْ مِّنَ الْاَعْرَابِ اَنْ يَّتَخَلَّفُوْا عَنْ رَّسُوْلِ اللّٰهِ وَ لَا يَرْغَبُوْا بِاَنْفُسِهِمْ عَنْ نَّـفْسِهٖ ۗ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ لَا يُصِيْبُهُمْ ظَمَاٌ وَّلَا نَصَبٌ وَّلَا مَخْمَصَةٌ فِىْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَلَا يَطَـُٔــوْنَ مَوْطِئًا يَّغِيْظُ الْكُفَّارَ وَلَا يَنَالُوْنَ مِنْ عَدُوٍّ نَّيْلاً اِلَّا كُتِبَ لَهُمْ بِهٖ عَمَلٌ صَالِحٌ ۗ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُضِيْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِيْنَۙ.⭕
•┈•❀❁❀•┈•
*ترجمہ:*
*میں پناہ میں آتا ہوں اللہﷻ کی شیطان مردود کے شر سے بچنے کیلئے۔*
*اللہﷻ کے نام سے شروع جو سب سے زیادہ مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے.*
•┈•❀❁❀•┈•
*لفظی ترجمہ:*
مَا(نہیں) كَانَ(ہے) لِأَهْلِ(والوں کے لیے) ٱلْمَدِينَة(مدینہ) وَمَنْ(اور جو) حَوْلَهُم(ان کے آس پاس تھے) مِّنَ(میں سے) ٱلْأَعْرَابِ(اعراب) أَن(کہ) يَتَخَلَّفُوا۟(وہ پیچھے رہ جائیں) عَن(سے) رَّسُولِ(رسول) ٱللَّهِ(اللہ کے) وَلَا(اور نہ) يَرْغَبُوا۟(وہ بےپرواہ ہوں۔ نہ منہ موڑیں) بِأَنفُسِهِمْ(اپنے نفسوں کی وجہ سے) عَن نَّفْسِهِۦۚ(آپ کی ذات سے (ہٹ کر)) ذَٰلِكَ(یہ) بِأَنَّهُمْ(بوجہ اس کے کہ بیشک انہیں) لَا(نہیں) يُصِيبُهُمْ(پہنچی ان کو) ظَمَأٌ(پیاس) وَلَا(اور نہ) نَصَبٌ(تھکاوٹ) وَلَا(اور نہ) مَخْمَصَةٌ(بھوک) فِى(میں) سَبِيلِ(راستے) ٱللَّهِ(اللہ کے) وَلَا(اور نہیں) يَطَـُٔونَ(انہوں نے لتاڑا) مَوْطِئًا(کسی لتاڑنے کی جگہ کو) يَغِيظُ(کہ غصہ دلائے) ٱلْكُفَّارَ(کفار کو) وَلَا(اور نہ) يَنَالُونَ(انہوں نے لیا) مِنْ(سے) عَدُوٍّ(کسی دشمن) نَّيْلًا(کچھ لینا) إِلَّا(مگر) كُتِبَ(لکھا گیا) لَهُم(ان کے لیے) بِهِۦ(ساتھ اس کے) عَمَلٌ(عمل) صَٰلِحٌۚ(نیک) إِنَّ(بیشک) ٱللَّهَ(اللہ تعالیٰ) لَا(نہیں) يُضِيعُ(ضائع کرتا) أَجْرَ(اجر) ٱلْمُحْسِنِينَ(محسنوں کا).⭕
•┈•❀❁❀•┈•
*مفہوم:*
*اہلِ مدینہ اور ان کے گرد و نواح کے (رہنے والے) دیہاتی لوگوں کے لئے مناسب نہ تھا کہ وہ رسول اللہ ﷺ سے (الگ ہو کر) پیچھے رہ جائیں اور نہ یہ کہ ان کی جانِ (مبارک) سے زیادہ اپنی جانوں سے رغبت رکھیں، یہ (حکم) اس لئے ہے کہ انہیں اللہ کی راہ میں جو پیاس (بھی) لگتی ہے اور جو مشقت (بھی) پہنچتی ہے اور جو بھوک (بھی) لگتی ہے اور جو کسی ایسی جگہ پر چلتے ہیں جہاں کا چلنا کافروں کو غضبناک کرتا ہے اور دشمن سے جو کچھ بھی پاتے ہیں (خواہ قتل اور زخم ہو یا مالِ غنیمت وغیرہ) مگر یہ کہ ہر ایک بات کے بدلہ میں ان کے لئے ایک نیک عمل لکھا جاتا ہے۔ بیشک اللہ نیکوکاروں کا اَجر ضائع نہیں فرماتا.⭕*
•┈•❀❁❀•┈•
التوبہ: 120
•┈•❀❁❀•┈•
صبح بخیر
•┈•❀❁❀•┈•
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Website
Address
01
Islamabad
44000