13/10/2023
📚
Article 6 of 1973 Constitution of Pakistan| Urdu/Hindi explanation.
The video is consisting on Article 6 of 1973 Constitution. Its parts, crime and punishment. References are given in second last slide of Video. Thank you.
01/07/2023
وہ ایک عرب سپہ سالار سیف اللہ اور جنگ یرموک سن 636.
حصہ پہلا زندگی: حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ۔
"اے سرزمین شام تجھے سلام۔ اور رخصت ہونے والے
سے تجھے الوداع۔ پھر کبھی، رومی تمہارے پاس خوف کے سوا واپس نہیں آئے گے۔ آہ، کتنی اچھی زمین ہے میں دشمن کے لیے چھوڑ رہا ہوں۔
یہ الفاظ رومی سلطنت کے شہنشاہ ہیراکیولس کے تھے جب وہ اپنی آخری دن سرزمین شام کو چھوڑ کر شہر انتاکیا سے واپس قسطنطنیہ جا پہنچے۔
مسلمانوں کی فوج حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی قیادتِ میں جنگ یرموک 636 فتح کر چکی تھی جس میں رومی فوج کے تقریبا 70 ہزار سپاہی اور ان کا کمانڈر جس کا نام وہان/ماہان یا باہان تھا مارا جا چکا تھا۔
یہ جنگ مسلمانوں کی رومیوں کے خلاف سب سے بڑی کامیابی تھی۔مسلمان فوج کے نامور کمانڈرز جس میں حضرت خالد بن ولید، حضرت ابو عبیدہ بن الجراح، حضرت شرحبیل بن حسنہ، حضرت امر بن آس، حضرت یزید بن ابوسفیان، حضرت ضرار ابن الاضور، اور اکرمہ جیسے بہادر جنگجووں نے اپنے جوہر دکھائے۔ یہ جنگ دریائے یرموک کے کنارے لڑی گئی تھی۔ رومی جو اپنے وقت کے سپر پاور مانے جاتے تھے وہ یوں عرب کے کمانڈرز کے آگے پسپا ہوئے۔ اور ہاں ان ہی رومیوں کے کمانڈرز حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو للکار کہتے تھے "او عرب، ہم آپ کو ایک چھوٹی اور کمزور قوم مانتے ہیں آپ سے لڑائی نہیں کرنا چاہتے، آپ تو خود عرب کے صحرا میں بھوک اور پیاس کی زندگی گزار رہے ہیں۔ ہاں جو آپ کو چاہیے ہم آپ کو دے گے اور یہاں سے نکل جائو"
آپ نے رومیوں کو بڑا تاریخی جواب کچھ یوں دیا تھا۔"جان لو کہ تمہارا مقابلہ اس قوم سے ہے جس قوم کو موت اتنی ہی عزیز ہے جتنی تمہیں تمہاری زندگی۔"
یاد رہے کہ آپ ہر جنگ سے پہلے خط لکھا کرتے تھے، اسلام کی دعوت دیتے تھے مسلمان ہوا تو ٹھیک نہیں تو جزیا پر صلح کرتے تھے اگر نہیں تو کہتے تھے جنگ کے لیے تیار رہو۔
اس سپاہ سالار نے مسلمان فوج کی کمانڈ کرتے ہوئے اپنے وقت کی بڑی سلطنتوں، اور باغیوں کو شکست دی جو آج کے ایران، عراق، شام، لبنان، فلسطین، اردن، کویت، یمن،اور قطر میں واقع تھی۔
آپ رضی اللہ عنہ کی سب سے بڑی خواہش جنگ میں شہادت کی موت تھی جو کبھی پوری نہیں ہوئی تھی۔بلکہ سچ تو یہ ہے کہ آپ کو شہید کرنے والا کوئی پیدا ہی نہیں ہوا تھا۔ آپ نے مسلمان فوج کی قیادت سن 629 سے سن 638 یا 640 تک کی تھی۔
آپ سن 592 میں مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے تھے اور مسلمان ہونے کے بعد جب آپ کو فوج کا کمانڈر ان چیف مقرر کیا گیا تو جنگیں لڑتے لڑتے وہ ملک شام میں پہنچ چکے تھے
آپ نے سن 642، ہمس میں وفات پائی اور آپ کا مدفن ملک شام کے شہر ہمس میں ایک مسجد جس کا نام ہی حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ ہے کے مقام پر ہے۔ آپ وفات تک ہمس میں ہی رہے اور واپس مدینہ منورہ نہیں گئے تھے۔
نوٹ: یاد رہے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے وصال کے بعد حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے مسلمان فوج کی کمانڈ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے تبدیل کر کے حضرت ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ کو سونپی تھی۔ لیکن جنگ یرموک میں حضرت ابو عبیدہ بن الجراح نے کمانڈ واپس حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو سونپی تھی۔
تحریر: دانش اصغر
بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد۔