Parenting and Mentoring - SES Leadership Foundation

Parenting and Mentoring - SES Leadership Foundation

Share

To Assist Parents, Teachers, Students and Community

05/12/2024

https://www.facebook.com/share/p/15t16euHno/

جدید دنیا کے چھوٹے بچّوں کے تعلیمی نظام میں اصلاح کے لیے یہ چیزیں اختیار کرنی چاہیئے:
۱۔ ایک استاد زیادہ سے زیادہ دس پندرہ بچّوں کو پڑھائے تاکہ سب کو توجہ مل سکے۔ سب کی شکلیں، چہرے اور نفسیات کو یاد رکھا جاسکے۔
۲۔ نصاب کم ہو مگر جتنا بھی ہو، ایسا ہو کہ اس کو پڑھایا بھی جاسکے اور اس سے فائدہ بھی ہو۔
۳۔ بچّے کو مدد حاصل کرنے سے رُوکا نہ جائے خواہ استاد سے ہو اس جیسے طالبِ علموں سے ہو۔
۴۔ مارکس کا کوئی تصور کم از کم بچّوں کے ابتدائی سالوں میں بالکل نہ ہو جب دماغ حساس ہوتے، ذرا سی پریشانی دماغ پر سوار ہوسکتی ہے۔
۵۔ امتحانات کی تیاری کوئی چیز نہیں، نہ امتحانات کا کوئی دن ہونا چاہیئے۔ ایک دن پہلے اتنا سارا اسٹریس لینے پر مجبور کرنا اور پھر اس اسٹریس کو کاغذ پر نکلوانا بہت ظلم ہے۔ جب ایک استاد پڑھائے، تب ہی تھوڑا بہت امتحان لے لے اور اپنی آسانی کے لیے لے تاکہ احاطہ کرسکے۔
۶۔ امتحانات کی تحریری شکل، سماعی شکل یا کوئی بھی شکل کم اہمیت کی حامل نہیں۔ مختلف طریقوں سے انسانی دماغ کو استعمال کیا جاسکتا ہے۔
۷۔ نہ زیادہ لکھوایا جائے، نہ زیادہ کتابیں خریدوائی جائیں۔ بھاری بستے چھوٹے چھوٹے بچّے اٹھا کر لے کر جاتے ہیں، خدا جانے یہ کیسی انسانیت ہے!
۸۔ پہلی دوسری جماعت اور اس طرح کی ابتدائی تعلیم میں ایک یا دو اساتذہ ایک جماعت کاے ہونے چاہیئے۔ اگر نصاب کم ہوگا اور آسان ہوگا، پڑھا ایک ہی شخص بہت سکتا ہے۔ یہ ذہنی طور پر ایک آسانی اور سہولت کا احساس پیدا کرتا ہے۔
۹۔ انسانی دماغ کے لیے آرام ضروری ہے۔ ایک گھنٹے مستقل پڑھانے کا تو سوال ہی نہیں ہونا چاہیئے۔ ایک بریک نہیں، کئی بریک ہونے چاہیئے۔
۱۰۔ یونیفارم (uniform) جیسی کسی بھی چیز کو ختم کردیا جائے۔ یہ غیر ضروری چیز ہے اور بہت سے ممالک میں ہے بھی نہیں۔
اگرچہ بڑوں کے لیے بھی نظامِ تعلیم قابلِ اصلاح ہے مگر بچّے زیادہ حسّاس ہوتے ہیں۔ وہ زیادہ توجہ کے مستحق ہیں۔ ان کی کسی فطری جبلت، خواہش اور نفسیاتی کیفیت کو نقصان پہنچانے کا ذمہ دار معاشرے کو تو کم از کم بالکل نہیں بننا چاہیئے۔ اس عمر میں پڑھ کر کچھ یاد کرنا نہیں ہوتا۔ کچھ یاد ہو، نہ ہو۔ سرسری سا بھی یاد ہو، فرق نہیں پڑتا۔ بس اپنی ذہنی صلاحیتوں کو استعمال کرنا بچّوں کو آنا چاہیئے۔ اس پر ان کو ناز ہونا چاہیئے، اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیئے کہ ان کے پاس یہ ذہنی صلاحیتیں ہیں جس کو مختلف طرح وہ استعمال کرسکتے ہیں۔ یہ بہت بڑے معرکے عبور کرنے کی عمر ہے بھی نہیں۔
R. S"TANHA"S"

18/03/2022

Hardships are your sacrifices and efforts to achieve real success.

11/03/2022

Protect your children from massive attack of social media with the weapon of healthy activities.

23/02/2022
بچے ورزش کریں اور ریاضی آسان بنائیں 21/01/2022

بچے ورزش کریں اور ریاضی آسان بنائیں

جنیوا:
اگر آپ چاہتے ہیں کہ بچے امتحانات میں اچھے نمبروں سے پاس ہوں تو ضروری ہے کہ انہیں باقاعدہ ورزش کا عادی بنایا جائے۔

تندرست جسم اور تندرست دماغ کے مصداق یہ بات درست ہے کہ ورزش دماغ کو قوی کرتی ہے، یادداشت بہتر بناتی ہے اور اس سے استدلالی قوت بھی بڑھتی ہے۔ بچوں میں اس کے فوائد ریاضی، زبان سیکھنے اور دیگر علوم یں بہتری کی صورت میں سامنے آتے ہیں۔

یونیورسٹی آف جنیوا کے سائنسدانوں نے اس ضمن میں 200 کے قریب بچوں کو دو گروہوں میں تقسیم کرکے ان کا سروے کیا ہے۔ ان کا مقصد تھا کہ جسمانی سرگرمی اور تعلیمی صلاحیت کے درمیان تعلق کو سمجھا جائے۔ سروے میں یہ بات سامنے آئی کہ ورزش، کھیل کود اور جسمانی ورزش بچے کی دماغی صلاحیت کو بہتر بناسکتی ہے۔

اس ضمن میں جنیوا صوبے میں 8 سے 12 سال تک کے 193 بچوں کو شٹل رننگ ٹیسٹ سے گزارا تھا۔ اس میں بچوں کو ایک لائن سے دوسرے لائن میں 20 میٹر دوڑنا تھا اور پلٹ کر قدرے تیزی سے اسی مقام پر لوٹنا تھا۔ اس ٹیسٹ کو ماہرین نے کارڈیو ویسکیولر جانچ کا طریقہ قرار دیا ہے۔

ماہرین نے تین طرح سے دماغی افعال کا جائزہ لیا۔ اس میں اول انہبیشن ہے جس میں غیر ضروری افعال اور خیالات سے پرہیز کرنا ہوتا ہے۔ دوسرا شعبہ دماغی لچک کا ہے جس میں ہم ایک وقت میں کئی کام (ملٹی ٹاسکنگ) کرکے دماغی لچک اور نئی باتیں سیکھنے کا مظاہرہ کیا جاتا ہے تیسری صلاحیت عملی حافظہ (ورکنگ میموری) ہے۔ اس میں ہم کوئی بات یادداشت میں محفوظ رکھ کر اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔

ورزش کرنے والے بچوں کو سیڑھیوں کے زینے چڑھنے اور انہیں حروف تہجی اور اعداد یعنی ون اے، ٹو بی کی تربیت دی گئی۔ یوں حروف اور اعداد کو ایک ترتیب میں یاد رکھنے اور دوہرانے کا کہا گیا۔

اس کے علاوہ جو بچوں جسمانی مشقت سے گزرے وہ اس ٹیسٹ میں بہتر رہے۔ دوم انہوں نے ورزش نہ کرنے والے بچوں کے مقابلے میں ریاضی اور فرانسیسی زبان سیکھنے میں بہتر کارکردگی دکھائی جس میں فرق واضح تھا۔

سائنسدانوں نے کہا ہے کہ بچوں کی دماغی ترقی کے لیے لازمی ہے کہ انہیں باقاعدہ ورزش اور مشقت کرائی جائے۔

بچے ورزش کریں اور ریاضی آسان بنائیں سوئٹزرلینڈ میں کی گئی تحقیق کے مطابق باقاعدہ ورزش سے اکتساب اور منطقی صلاحیت میں اضافہ ہوتا ہے

Want your school to be the top-listed School/college in Islamabad?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address


Islamabad