21/10/2022
Engr Abdul Quddus Salafi حفظه الله
This is to share Masjid and it's team Social Activities in UC25 F-6/3 and UC1 Saidpur
21/10/2022
30/11/2021
📢 آغاز 4 دسمبر 2021 سے....
[لفظی ترجمہ، بامحاورہ ترجمہ اور اپلائیڈ گرامر کیساتھ مختصر تفسير ان شاء اللہ ]
دورانیہ :
ایک گھنٹہ بعد نماز مغرب
نوٹ : کاپی پین ہمراہ لائیے.
لبیک یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نعرہ اور کلمہ گو کے خون کی حرمت
Speaker: Abdul Aziz Nasir bin Abdul Quddus Salafi (حفظهما الله)
سمع و اطاعت کی احادیث اور موجودہ حکمران !
عام طور پر کہا جاتا ہے کہ سمع و اطاعت کی احادیث موجودہ حکمرانوں پر لاگو نہیں ہوتی۔ در حقیقت یہ ایک دعوی ہے جس پر کوئی دلیل نہیں ہے۔ اس ضمن میں تین طرح کا اشکال پیش کیا جاتا ہے:
1) یہ احادیث امامِ اعظم کیلیے ہیں یعنی جب پوری دنیا کا ایک ہی خلیفہ ہو۔
2) یہ احادیث ان حکمرانوں کیلیے ہیں جو عادل ہیں اور اللہ کی شریعت قائم کرنے والے ہیں۔
3) یہ احادیث غیر جمہوری معاشروں پر صادق آتی ہیں جہاں حاکم کی بیعت کی جاتی ہے۔
پہلے اشکال کا جواب :
دوسری صدی سے ہی امت میں امامِ اعظم کا وجود معدوم رہا ہے اور امت میں ایک سے زائد خلافتیں یا امارتیں بیک وقت رہی ہیں۔ اور تمام ائمہ و محدثین اپنے اپنے علاقے کے خلیفہ، سلطان یا حاکم کی سمع و اطاعت پر کاربند رہے ہیں۔
شيخ الإسلام محمد بن عبد الوهاب رحمه الله فرماتے ہیں:
« الأئمة مجمعون من كل مذهب على أن من تغلب على بلد أو بلدان، له حكم الإمام في جميع الأشياء، ولو لا هذا ما استقامت الدنيا ! لأن الناس من زمن طويل قبل الإمام أحمد رحمه الله إلى يومنا هذا ما اجتمعوا على إمام واحد، ولا يعرفون أحدا من العلماء ذكر أن شيئا من الأحكام لا يصح إلا بالإمام الأعظم ». [ الدرر السنية : ٢٣٩/٧ ]
تمام مذاہب کے ائمہ کا اجماع ہے کہ جو کوئی کسی علاقے یا بعض علاقوں پر غلبہ پالے وہ تمام امور میں شرعی امام کا درجہ رکھتا ہے، اس کے بغیر کارِ دنیا چل نہیں سکتا! کیونکہ امام احمد کے زمانے سے بھی پہلے سے لے کر آج تک لوگ ایک امام پر جمع نہیں ہوئے۔ اور کسی عالم نے بھی یہ نہیں کہا کہ احکامِ شرعیہ صرف امامِ اعظم کے ساتھ ہی لاگو ہوتے ہیں۔
یہ بات شیخ الاسلام ابنِ تیمیہ، امیر صنعانی، امام شوکانی اور شیخ عبد السلام بن برجس رحمهم الله نے بھی ذکر کی ہے۔
امام شوکانی رحمه الله بڑی تفصیل اور زوردار طریقے سے یہ بات کرنے کے بعد فرماتے ہیں :
« ومن أنكر هذا فهو مباهت لا يستحق أن يخاطب بالحجة لأنه لا يعقلها ! ». [ السيل الجرار : ٥١٢/٤ ]
جو اس بات کا انکاری ہے - کہ ہر علاقے کا حاکم شرعی ہے - وہ پرلے درجے کا احمق ہے اور اس قابل نہیں کہ اس کے ساتھ دلیل سے بات کی جائے کیونکہ وہ اسے سمجھتا ہی نہیں۔
دوسرے اشکال کا جواب :
یہ اشکال پیش کرنے والے دو طرح کے لوگ ہیں۔ ایک جو ان حکمرانوں کی معین تکفیر کے قائل ہیں۔ ایسے لوگ ہماری بحث سے خارج ہیں۔ یہ بحث کفرِ بواح کا مفہوم، ضوابطِ تکفیر اور موانعِ تکفیر سے متعلق ہے۔
دوسرے جو انہیں فاسق و فاجر خیال کرتے ہیں۔ تو ان کا مقدمہ بہت ہی کمزور ہے۔
سیدنا حذيفة بن يمان رضی الله عنه فرماتے ہیں کہ رسول الله صلى الله عليه وسلم نے فرمایا :
« يكون بعدي أئمة لا يهتدون بهداي، ولا يستنون بسنتي، وسيقوم فيهم رجال قلوبهم قلوب الشياطين في جثمان إنس. قال قلت : كيف أصنع يا رسول الله، إن أدركت ذلك ؟ قال : تسمع وتطيع للأمير ». [ صحيح مسلم : ١٨٤٧ ]
میرے بعد ایسے حکمران آئیں گے جو میرے طریقے پر نہیں چلیں گے اور نہ ہی میری سنت کی پیروی کریں گے، اور ان میں ایسے لوگ آئیں گے جو انسانوں کے روپ میں شیطانوں کے دل رکھتے ہوں گے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اگر میں ایسے حالات پالوں تو کیا کروں؟ فرمایا: اپنے حکمران کی بات سننا اور اطاعت کرنا۔
سليمان الربعی کہتے ہیں کہ جب ابنِ اشعث کا فتنہ بپا ہوا تو فتنے کے سرخیل امام حسن بصری رحمه الله کے پاس آئے اور کہنے لگے : "ابو سعید! آپ اس طاغوت سے لڑنے کے بارے میں کیا کہتے ہیں جس نے ناحق خون بہایا، ناحق مال لوٹا، نماز کو چھوڑا اور فلاں فلاں حرکت کی ؟" آپ نے ان کو صبر کی تلقین کی مگر وہ کہنے لگے تم عجمی ہو ہم تمہاری کیوں مانیں۔ چنانچہ خروج کیا اور سب کے سب قتل ہو گئے۔ [ الطبقات الكبرى لإبن سعد : ٩٩٦٦ ]
اسی طرح امام احمد کے پاس فقہاء بغداد اکٹھے ہو کر آئے کہ ہم حاکم کے خلاف نکلتے ہیں۔ تو آپ نے شدید ردِ عمل کا اظہار کیا اور صبر کا کہا۔ حالانکہ یہ وہی حکمران تھے جو خلقِ قرآن کے کفریہ عقیدے کے قائل تھے۔ اور امام احمد خود فرماتے ہیں کہ جو قرآن کے مخلوق ہونے کا عقیدہ رکھے وہ کافر ہے۔ [ السنة : ١٥ ]
امام ابنِ بطہ، حافظ ابن المنذر، امام قرطبی، حافظ نووی، حافظ ابنِ حجر، شیخ الاسلام ابن تیمیہ وغیرہ رحمهم الله نے فاسق حکمرانوں کی سمع و اطاعت کے وجوب پر اجماع نقل کیا ہے۔
تیسرے اشکال کا جواب :
یہ اعتراض کرنے والے بھی دو طرح کے لوگ ہیں۔ ایک جو جمہوریت کو عین اسلامی نظام سمجھتے ہیں مگر حاکم کو کوئی شرعی حق دینے کیلیے تیار نہیں۔ یہ اپنے فہم میں تضاد کا شکار ہیں۔
دوسرے وہ جو جمہوریت کو غیر اسلامی/ کفریہ نظام سمجھتے ہیں۔ یہ پھر دو طرح ہیں. ایک جو حاکم کو بھی کافر سمجھتے ہیں تو یہ بحث سے خارج ہیں۔ دوسرے جو حاکم کو مسلمان سمجھتے ہیں تو ان سے بہت سادہ اور دو ٹوک سوال ہے کہ وہ کون سی دلیل ہے جس کی بنیاد پر جمہوری حاکم سمع و اطاعت کی عمومی ادلہ سے خارج ہے؟
اس کے جواب میں کہا جا سکتا ہے کہ جب نظام ہی غیر اسلامی ہے تو حاکم شرعی کیسے؟ ہم پھر وہی کہیں گے کہ نظام غیر اسلامی ہے تو کیا حاکم کافر ہے یا مسلمان ؟ اگر کافر ہے تو ہماری آپ سے بحث نہیں اور اگر مسلمان ہے تو اس کے ان احادیث سے خارج ہونے کی دلیل پیش کی جائے!
اگر کہا جائے کہ قانون خود اس بات کی اجازت دیتا ہے تو ہم کہیں گے کہ اللہ کا قانون اجازت نہیں دیتا اور اللہ کی نافرمانی میں کسی کی اطاعت نہیں! اگر یہی قانون آپ کو شراب پینے کی اجازت دے تو آپ پئیں گے ؟ یاد رہے کہ سرِ دست ہم مسلح خروج، اِلغائے سمع و اطاعت اور زبان سے تحریض و انتشار کی بابت بات کر رہے ہیں۔ انکارِ منکر کا منہج اور ضوابطِ تنقید پر الگ سے بات کی جائے گی۔ وبالله التوفيق!
اگر کہا جائے کہ یہ غیر شرعی طریقے سے منتخب ہوتے ہیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ حاکم غیر شرعی طریقے سے منتخب ہو تب بھی اس کی سمع و اطاعت ہے۔ اور اس پر اہلِ سنت کا اجماع ہے۔
امام شافعی رحمه الله فرماتے ہیں :
«كل من غلب على الخلافة بالسيف، حتى يسمى خليفة، ويجمع الناس عليه، فهو خليفة». [ مناقب الشافعي للبيهقي : ٣١٨ ]
جو کوئی تلوار کے زور پر خلافت پر قبضہ کر کے خلیفہ کہلانے لگ جائے اور اس پر لوگ جمع ہو جائیں تو وہ شرعی خلیفہ ہے۔
اور تلوار کے زور پر آنا غیر شرعی طریقہ ہے۔ یہی بات امام احمد، امام ابو الحسن الاشعری، امام ابنِ قدامہ اور امام ابن القطان الفاسی رحمهم الله نے ذکر کی ہے۔
حافظ ابن حجر رحمه الله فرماتے ہیں :
« وقد أجمع الفقهاء على وجوب طاعة السلطان المتغلب ». [ فتح الباري : ٩/١٢ ]
فقہاء کا اجماع ہے کہ زبردستی سلطان بننے والے کی اطاعت واجب ہے۔
اصل بات یہ ہے کہ یہ تمام اور ان سے ملتے جلتے اعتراضات صرف اہلِ سنت کے منہجِ سلیم سے فرار کا بہانہ یا اس سے ناواقفیت کا شاخسانہ ہے۔ آپ خود دیکھیں گے کہ جو لوگ ان حکمرانوں کی عدمِ اطاعت پر جمہوریت کو دلیل بناتے ہیں ان کی اکثریت سعودی حکام پر بھی خوب برستی ہے۔
(فیضان فیصل)
🚫 مـحـبـت کـے سـمـبـل ❤️ (دل) کے استعـمـال کا حکم 🚫
❤️👉اس سمبل کا استعمال کرنا جائز نہیں ہے، خصوصا اللہ اور اس کے رسول سے محبت کا اظہار کرنے کے لیے:
📌امام ابن باز رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ:
♥️👉یہ سمبل حرام محبت کا نشان اور یونانی معبودوں کی علامت ہے
📚 اللجنة الدائمة للافتاء[٢٠٩٥٠]
📌اللجنة الدائمة للبحوث و الإفتاء سے ایسے لاکٹ کے استعمال کے بارے میں سوال کیا گیا جو دل (❤️) کی شکل میں بنے ہوئے ہوتے ہیں اور اس میں کچھ اس طرح کی عبارت لکھی ہوتی ہے:
(أنا ❤️الرسول)
یا (I❤️MOHAMMAD)
یعنی مجھے اللہ کے رسول ﷺ سے محبت ہے۔ اسی طرح ایسے قمیص کے بارے میں سوال کیا گیا جس میں اس طرح کے جملے لکھے ہوتے ہیں ۔
🔹اللجنة الدائمة نے جواب دیا کہ :
👈"مذکورہ عمل کو اپنا اور اس طریقہ سے لکھنا یہ سلف امت کا طریقہ نہیں ہے جو کہ خیرالقرون ہیں اور رسول اکرم ﷺ کی سب سے زیادہ تعظیم کرنے والے اور آپ ﷺ سے شدید محبت کرنے والے تھے.
اسی طرح اس سے ان اھل فسق کی مشابہت لازم آتی ہے جنہوں نے ان جیسے رموز اور سمبلز کو اپنے حرام عشق و محبت کے اظہار کا ذریعہ بنالیا۔
📚 اللجنة الدائمة للافتاء[٢٠٩٥٠]
📌 شیخ ابو فریحان جمال بن فریحانی الحارثی حفظہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ :
⁉️"آپ دل کے سمبل (❤️) کے بارے میں کیا کہتے ہیں جسے محبت (love) سے تعبیر کیا جاتا ہے؟؟ "
👈جواب:
محبت کی نشانی دل کے سمبال کے بارے میں میں یہی کہوں گا کہ (اس کا استعمال) اھل فسق اور بد اخلاق لوگوں کی تقلید ہے۔ بلکہ میں نے یہ پایا ہے کہ اس کی اصل کافر یورپی رسوم ورواج ہے۔
👈اسی لیے نبی کریم ﷺ سے محبت کا اظہار کرنے کے لیے ان سمبلز کا استعمال کرنا مناسب نہیں ہے، کیونکہ نبی کریم ﷺ کا مقام و مرتبہ ان سب چیز سے اعلی و ارفع ہے۔ اور اللجنة الدائمة نے بھی ان کے استعمال سے پرہیز کرنے کا فتوی جاری کیا ہے ۔
📚 مصدر: ejaaba.com
📌عالِمِ نفسیات، علامات و سمبالس کے ماہر، پروفیسر گالڈینو پران زارون (Galdino Pranzarone) ، امریکی ٹی وی چینل ڈسکوری(Discovery) پر اپنے ایک انٹرویو کے دوران کہتے ہیں کہ :
"دو شاخوں والا روایتی دل (❤️) ، جو آج کل مبارک بادی کے کارڈز میں عام ہے ، در اصل یہ عورت کے کولہوں (سرین) کی شکل کا اظہار ہے جیسے وہ پیچھے سے ظاہر ہوتے ہیں۔
📌 اسی انٹرویو میں انہوں نے یہ بھی کہا کہ:
👈"خوبصورتی کی یونانی دیوی (آفرودِیت Aphrodite) ان کے نزدیک بہت ہی حسین و جمیل تھی خصوصا اس دیوی کی سرین بہت ہی خوبصورت تھی، اور یونانیوں نے ایک مندر بھی تعمیر کیا تھا جس کا نام تھا: (افروڈائٹ کالیپیگوس Aphrodite Kallipygos) ، جس کا لفظی معنی یہ ہے: "شاندار سرین (کولہوں) والی خوبصورتی کی دیوی"
اور یہ تمام باتیں صرف پروفیسر کے خیالات نہیں ہیں بلکہ ان کے آثار قدیمہ سے یہ تمام چیزیں ثابت ہوتی ہے ۔
اور اس کے علاوہ اس سمبل یعنی دل کی اور بھی بہت ساری تشریحات و تعبیرات ہیں: جیسے:
(عورت کی شرم گاہ)،
(عورت کی چھاتی) ، اور
(سِلفِیم پلانٹ Silphium): یہ خواتین میں حمل کو روکنے کے لئے استعمال کیا جاتا تھا۔
اور رومیوں نے اس کو اپنی کرنسی پر اسی طرح پیش کیا ہے۔
📌لھذا آپ لوگون کو اندازہ ہوگیا ہوگا کہ اس سمبال (❤️) کا تعلق جنسیت (s*x) سے ہے، جس کے ذریعے وہ لوگون کے درمیان اپنے مختلف عقائد وافکار کا اظہار کرتے ہیں" انتھی...
📚منتدیات دفاتر التربوية بالمغرب(website)
لھذا ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ہر جگہ ان رموز کو استعمال کرنے سے پرہیز کرے عموما اور اللہ اور اس کے رسول کی محبت کے لیے خصوصا.....
https://youtu.be/ZLaMhbFibGk
سلسلہ سوال و جواب #3
*قرآن و حدیث کو سلف کے منہج کے مطابق سمجھنا ضروری ہے؟*
*فضیلۃ الشیخ انجینئرعبدالقدوس سلفی حفظہ اللہ*
مسلمان حکمرانوں کیخلاف ہمارا رویہ کیسا ہونا چاھئیے؟
فضیلۃ الشیخ انجینئر عبدالقدوس سلفی حفظہ اللہ
ضعیف حدیث سے مسئلہ ثابت نہیں ہوتا ۔ ۔ ۔
فضیلۃ الشیخ انجینئر عبدالقدوس سلفی حفظہ اللہ
🗓️ *ہفتہ وار عقیدہ الواسطیہ کورس
(برائے خواتین )
🎙️ *استاذہ ام عبدالرب صاحبہ حفظھا اللہ*
📌 *بروز :* پیر
📌 *آن لائن کورس(دورانیہ چھ ماہ)
📌گروپ ایڈمن(سمیعہ بلال)
📌رابطہ برائے کلاس(03211009287)
📌 *بمقام :* جامع مسجد اقصی (خواتین ہال)
▪️ *ایڈریس :* سیکٹر ایف سکس تھری اسلام آباد
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Website
Address
Street No. 13. Near CDA Inquiry, F-6/3
Islamabad