16/09/2026
یمن کی خاک سے کبھی ابرہہ بھی اٹھا تھا۔
دل میں تکبر، آنکھوں میں غرور،
اور قدم مکہ کی طرف۔ اسے شاید خبر نہ تھی
کہ جس گھر کو وہ اپنی طاقت سے مٹانے نکلا ہے،
اُس گھر کا نگہبان زمین کے بادشاہوں میں سے کوئی نہیں
اُس گھر کا مالک خود اللہ ہے۔
پھر تاریخ نے دیکھا۔
لشکر بہت بڑا تھا، مگر رب کی ایک تدبیر کے سامنے
سب کچھ مٹھی بھر خاک بن گیا۔
انسان اپنی تدبیریں بناتا رہا،
اور آسمان پر اللہ کا فیصلہ لکھا جا چکا تھا۔
آج بھی دل کانپ اٹھتا ہے جب حرمِ مکی کی طرف
اٹھنے والی کسی بدنگاہی کا تصور آتا ہے۔
مگر اسی خوف کے بیچ ایک عجیب سا سکون بھی اترتا ہے۔
کہ مکہ بےیار و مددگار نہیں۔
یہ وہ در ہے جہاں ٹوٹے ہوئے دل سجدے میں جا کر سنبھل جاتے ہیں،
یہ وہ گھر ہے جس کی طرف کروڑوں دل بےاختیار کھنچے چلے آتے ہیں،
یہ وہ حرم ہے جس کی حرمت پر اہلِ ایمان
اپنی جانیں قربان کرنے کو سعادت سمجھتے ہیں۔
سو اے دل! خوف میں نہ ڈوب۔
اپنی نظر لشکروں سے ہٹا کر ربِّ کعبہ کی قدرت کو دیکھ۔
جو ابرہہ کے لشکر کو عبرت بنا سکتا ہے،
وہ آج کے ہر فتنہ و شر کو بھی اپنے حکم سے روکنے پر قادر ہے۔
ہمارا ایمان ہے کہ حرم کا مالک بےخبر نہیں۔
اے اللہ!
کعبۃ اللہ کو اپنی امان میں رکھ،
حرمین شریفین پر اپنی رحمت کے سائے قائم رکھ،
ہر بدارادے کو ہدایت عطا فرما،
اور اگر کوئی شر لے کر تیرے مقدس گھر کی طرف بڑھے تو اپنی قدرت سے اُس شر کو وہیں روک کر نیست و نابود کر دے۔
یا ربِّ کعبہ!
ہمیں اپنے گھر کا ادب،
اپنے حبیب ﷺ کی محبت،
اور اپنے فیصلوں پر ایسا یقین عطا فرما
کہ دنیا کے ہر خوف کے سامنے ہمارے دل سے بس ایک صدا نکلے:
حَسْبُنَا اللّٰهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ۔
ابن فضل قادر
محمد عبدالقادر اویسی دیوبندی پشاوری