Fazal Qadir Khan Islamic Institute Pakistan

Fazal Qadir Khan Islamic Institute Pakistan یا اللہ
انت مقصودی و رضاک مطلوبی
بالکل مفت آن لائن اسلامک ایجوکیشن کلاسز اور ڈیجیٹل لررننگ کلاسز
(1)

یمن کی خاک سے کبھی ابرہہ بھی اٹھا تھا۔دل میں تکبر، آنکھوں میں غرور، اور قدم مکہ کی طرف۔ اسے شاید خبر نہ تھی کہ جس گھر کو...
16/09/2026

یمن کی خاک سے کبھی ابرہہ بھی اٹھا تھا۔
دل میں تکبر، آنکھوں میں غرور،
اور قدم مکہ کی طرف۔ اسے شاید خبر نہ تھی
کہ جس گھر کو وہ اپنی طاقت سے مٹانے نکلا ہے،
اُس گھر کا نگہبان زمین کے بادشاہوں میں سے کوئی نہیں
اُس گھر کا مالک خود اللہ ہے۔
پھر تاریخ نے دیکھا۔
لشکر بہت بڑا تھا، مگر رب کی ایک تدبیر کے سامنے
سب کچھ مٹھی بھر خاک بن گیا۔
انسان اپنی تدبیریں بناتا رہا،
اور آسمان پر اللہ کا فیصلہ لکھا جا چکا تھا۔
آج بھی دل کانپ اٹھتا ہے جب حرمِ مکی کی طرف
اٹھنے والی کسی بدنگاہی کا تصور آتا ہے۔
مگر اسی خوف کے بیچ ایک عجیب سا سکون بھی اترتا ہے۔
کہ مکہ بےیار و مددگار نہیں۔
یہ وہ در ہے جہاں ٹوٹے ہوئے دل سجدے میں جا کر سنبھل جاتے ہیں،
یہ وہ گھر ہے جس کی طرف کروڑوں دل بےاختیار کھنچے چلے آتے ہیں،
یہ وہ حرم ہے جس کی حرمت پر اہلِ ایمان
اپنی جانیں قربان کرنے کو سعادت سمجھتے ہیں۔
سو اے دل! خوف میں نہ ڈوب۔
اپنی نظر لشکروں سے ہٹا کر ربِّ کعبہ کی قدرت کو دیکھ۔
جو ابرہہ کے لشکر کو عبرت بنا سکتا ہے،
وہ آج کے ہر فتنہ و شر کو بھی اپنے حکم سے روکنے پر قادر ہے۔
ہمارا ایمان ہے کہ حرم کا مالک بےخبر نہیں۔
اے اللہ!
کعبۃ اللہ کو اپنی امان میں رکھ،
حرمین شریفین پر اپنی رحمت کے سائے قائم رکھ،
ہر بدارادے کو ہدایت عطا فرما،
اور اگر کوئی شر لے کر تیرے مقدس گھر کی طرف بڑھے تو اپنی قدرت سے اُس شر کو وہیں روک کر نیست و نابود کر دے۔
یا ربِّ کعبہ!
ہمیں اپنے گھر کا ادب،
اپنے حبیب ﷺ کی محبت،
اور اپنے فیصلوں پر ایسا یقین عطا فرما
کہ دنیا کے ہر خوف کے سامنے ہمارے دل سے بس ایک صدا نکلے:
حَسْبُنَا اللّٰهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ۔
ابن فضل قادر
محمد عبدالقادر اویسی دیوبندی پشاوری

گمنامی دراصل اہلِ دل کی وہ چادر ہے جس میں اخلاص کی خوشبو بسی ہوتی ہے۔ صوفیانہ مزاج رکھنے والا شخص شہرت کے شور سے دور رہ ...
13/09/2026

گمنامی دراصل اہلِ دل کی وہ چادر ہے
جس میں اخلاص کی خوشبو بسی ہوتی ہے۔
صوفیانہ مزاج رکھنے والا شخص شہرت کے شور سے
دور رہ کر اپنے باطن کی دنیا آباد کرتا ہے۔
وہ جانتا ہے کہ اصل قدر لوگوں کی نگاہوں میں نہیں
بلکہ رب کی نگاہِ کرم میں ہے۔
اسی لیے وہ تعریف کے ہنگاموں سے بچ کر
خاموشی کی وادی میں اپنا سفر جاری رکھتا ہے۔

صوفی کے لیے گمنامی کوئی محرومی نہیں
بلکہ ایک نعمت ہے۔
جب انسان اپنے آپ کو دنیا کی نگاہوں سے
اوجھل رکھتا ہے
تو اس کا دل ریاکاری کی آلودگی سے محفوظ رہتا ہے۔
وہ اپنے اعمال کو لوگوں کی داد کے لیے نہیں
بلکہ اللہ کی رضا کے لیے انجام دیتا ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں بندہ نمود و نمائش سے آزاد
ہو کر سچی بندگی کا ذائقہ چکھتا ہے۔

اہلِ تصوف کا مزاج یہی ہوتا ہے
کہ وہ چراغ کی طرح جلتے ہیں
مگر اپنے نور کا چرچا نہیں کرتے۔
ان کی زندگی خاموش عبادت، نرم دل
اور سچی محبت کا آئینہ ہوتی ہے۔
وہ گمنامی میں رہ کر بھی دلوں کو روشن کر دیتے ہیں،
کیونکہ ان کی نسبت شہرت سے نہیں
بلکہ حقیقت سے ہوتی ہے۔

اصل صوفی وہی ہے
جو اپنے وجود کو مٹا کر رب کی یاد میں زندہ رہتا ہے
جسے نہ نام کی طلب ہوتی ہے
نہ مقام کی خواہش،
بلکہ اس کا سکون اسی میں ہوتا ہے
کہ اس کا رب اسے پہچانتا ہے،
چاہے دنیا اسے نہ پہچانے۔

خویدم العلماء و الصلحاء
ابن فضل قادر
محمد عبدالقادر اویسی دیوبندی پشاوری












درود شریف محض زبان پر جاری ہونے والے چند مقدس الفاظ نہیں، یہ دل کو نسبتِ مصطفیٰ ﷺ سے وابستہ کرنے والی وہ پاکیزہ ڈور ہے ج...
11/09/2026

درود شریف محض زبان پر جاری ہونے والے
چند مقدس الفاظ نہیں،
یہ دل کو نسبتِ مصطفیٰ ﷺ سے وابستہ کرنے والی
وہ پاکیزہ ڈور ہے
جس کے ذریعے عاشق اپنے محبوب ﷺ کا ذکر
اپنے وجود کا حصہ بنا لیتا ہے۔

جس دل میں درود کی کثرت ہو،
وہاں محبتِ رسول ﷺ آہستہ آہستہ
سانسوں کی خوشبو بن جاتی ہے۔
درود پڑھنے والا جب ہر بار
حضورِ اقدس ﷺ پر سلام بھیجتا ہے
تو گویا اپنے دل کو یہ یاد دلاتا ہے
کہ میری اصل عزت، میری پہچان
اور میری سعادت نسبتِ مصطفیٰ ﷺ ہی میں ہے۔

صوفیانہ راہ میں نسبت کوئی دعویٰ نہیں،
ایک امانت ہے
اور درود شریف اس امانت کو محبت،
ادب اور وفا کے ساتھ زندہ رکھنے کا وسیلہ ہے۔
اپنی ذات میں رکھا ہی کیا ہے…
جو کچھ ہے، وہ آقا ﷺ کی نسبت کا کرم ہے
اور دل کی سب سے بڑی دولت یہی ہے
کہ زبان پر درود ہو، دل میں محبت ہو،
اور زندگی میں اتباعِ مصطفیٰ ﷺ ہو۔

دعاگو و دعاجو
ابن فضل قادر
محمد عبدالقادر اویسی دیوبندی پشاوری

روزانہ بالعموم اور شب جمعہ و جمعہ کے دن
بالخصوص درود شریف کی کثرت کرنا
بہت بڑی سعادت ہے





ﷺ
ﷺ
ﷺ
ﷺ
ﷺ
ﷺ

ﷺ
ﷺ
ﷺ

7 ستمبر 1974ء — ایک تاریخ ساز دنیومِ دفاعِ ختمِ نبوت ﷺتخفظ ختمِ نبوت ﷺ محض ایک ذمہ داری نہیں، یہ محبت، ادب اور وفا کی وہ...
07/09/2026

7 ستمبر 1974ء — ایک تاریخ ساز دن
یومِ دفاعِ ختمِ نبوت ﷺ

تخفظ ختمِ نبوت ﷺ محض ایک ذمہ داری نہیں،
یہ محبت، ادب اور وفا کی وہ راہ ہے
جس پر اٹھنے والا ہر مخلص قدم
انسان کو زمین سے اٹھا کر
قربِ الٰہی کی منزلوں کی طرف لے جاتا ہے۔

جس دل میں تخفظ ختمِ نبوت ﷺ کی
محبت جاگ اٹھے،
وہ دل پھر خاموش نہیں رہتا
وہ اپنی بساط کے مطابق
اس امانت کی حفاظت میں لگ جاتا ہے۔
یہی سعادت ہے،
یہی نسبت ہے،
اور یہی وہ راستہ ہے
جس میں قدم زمین پر پڑتے ہیں
مگر منزلیں آسمانوں کی طرف کھلتی جاتی ہیں۔
دعاگو
غلام غلامان تحفظ ختم نبوت ﷺ
خویدم العلماء دیوبند
ابن فضل قادر
محمد عبدالقادر اویسی دیوبندی پشاوری








#محمدﷺ





#اسلام










یہ مٹی صرف مٹی نہیں، یہ اُن دعاؤں کی خوشبو ہے جو ماؤں نے اپنے بیٹوں کے لیے مانگیں، اُن سجدوں کی گواہ ہے جو وطن کی سلامتی...
06/09/2026

یہ مٹی صرف مٹی نہیں،
یہ اُن دعاؤں کی خوشبو ہے
جو ماؤں نے اپنے بیٹوں کے لیے مانگیں،
اُن سجدوں کی گواہ ہے
جو وطن کی سلامتی کے لیے کیے گئے،
اور اُن شہیدوں کے لہو کی امانت ہے
جنہوں نے اپنی جانیں دے کر
پاکستان کی سرحدوں کی حفاظت کی۔

وطن سے محبت صرف الفاظ کا نام نہیں
یہ ایک خاموش عہد ہے
کہ ہم اپنے پاکستان کی عزت، امن
اور سلامتی کو اپنی ذات سے مقدم رکھیں گے۔
جن سپوتوں نے اپنے لہو سے
اس وطن کی پیشانی روشن کی،
اُن کی قربانیاں ہمیں یاد دلاتی ہیں
کہ آزادی ایک نعمت بھی ہے اور ایک ذمہ داری بھی۔

اے اللہ! ہمارے پاکستان کو ہمیشہ
امن، اتحاد، استحکام اور خوشحالی عطا فرما۔
اس کے محافظوں کو اپنی حفظ و امان میں رکھ، اور ہمارے شہداء کے درجات بلند فرما۔ آمین

👍 ✍🏻ㅤ 📩 📤
ˡᶦᵏᵉ ᶜᵒᵐᵐᵉⁿᵗ ˢᵃᵛᵉ ˢʰᵃʳᵉ

Fazal Qadir Khan Islamic Institute , Islamabad , Pakistan*
International Higher Educational Institute of Free Online Islamic & Digital Learning

Contact us on *Whatsapp No.*
https://wa.me/923365555386

Join Our *WhatsApp Channel*
https://whatsapp.com/channel/0029Vb6LZiyKAwEnCinmlC01

Join us on *page*
https://m.facebook.com/fazalqadirkhanislamicinstitutepakistan/

Subscribe to our *YouTube Channel*
https://youtube.com/channel/UCRld72ksnu-4U7zgX-2c-BA?sub_confirmation=1

*Email* [email protected]












#6ستمبر







ختمِ نبوت ﷺ — محبت و وفا کی راہختمِ نبوت ﷺ کی خدمت محض ایک عقیدے کی حفاظت کا نام نہیں؛یہ تو دل کے اس عہدِ وفا کا نام ہے ...
05/09/2026

ختمِ نبوت ﷺ — محبت و وفا کی راہ

ختمِ نبوت ﷺ کی خدمت
محض ایک عقیدے کی حفاظت کا نام نہیں؛
یہ تو دل کے اس عہدِ وفا کا نام ہے
جو عاشقِ رسول ﷺ اپنے وجود کی
ہر سانس کے ساتھ آستانۂ مصطفیٰ ﷺ پر باندھتا ہے۔
یہ وہ راہ ہے جہاں زبان سے زیادہ دل بولتا ہے،
دعوے سے زیادہ ادب کام آتا ہے،
اور نسبت سے بڑھ کر وفا کی آزمائش ہوتی ہے۔

یہ سعادت ہر دل کو نصیب نہیں ہوتی۔
اللہ تعالیٰ جس سینے کو
محبتِ رسول ﷺ کی امانت کے لیے منتخب فرماتا ہے،
اسے اسی محبت کی پاسبانی کے لیے
بھی کھڑا کر دیتا ہے۔
پھر اس بندے کی زندگی کا ایک ایک لمحہ،
ایک ایک قدم اور ایک ایک کوشش
عشقِ مصطفیٰ ﷺ کی خوشبو سے معطر ہونے لگتی ہے۔

خدمتِ تخفظ ختمِ نبوت ﷺ کی راہ میں اٹھایا ہوا
قدم اگر اخلاص سے اٹھے
تو وہ زمین پر چلنے والا قدم نہیں رہتا،
بلکہ قربِ الٰہی کی طرف بڑھتا ہوا ایک زینہ بن جاتا ہے۔
یہاں اصل کمال یہ نہیں
کہ انسان کتنا کام کرتا ہے
اصل سعادت یہ ہے کہ وہ یہ کام کس دل،
کس ادب اور کس وفا کے ساتھ کرتا ہے۔

خوش نصیب ہیں وہ لوگ
جنہیں ناموسِ رسالت ﷺ کی پاسبانی کے لیے
اپنے وقت، اپنی صلاحیت اور اپنی زندگی کا
کچھ حصہ پیش کرنے کا موقع مل جائے
کیونکہ محبتِ رسول ﷺ کی دولت
صرف پانے والوں کو نہیں پہچانتی،
کبھی کبھی یہ دولت اپنے امین کو خود چن لیتی ہے۔

اے اللہ!
ہمیں ختمِ نبوت ﷺ کی خدمت میں اخلاص عطا فرما،
ادبِ مصطفیٰ ﷺ نصیب فرما،
اور ہماری اس حقیر سی کوشش کو اپنی رضا
اور قرب کا وسیلہ بنا دے۔ آمین۔
غلام غلامان تحفظ ختم نبوت ﷺ
خویدم العلماء دیوبند
ابن فضل قادر
محمد عبدالقادر اویسی دیوبندی پشاوری








#محمدﷺ





#اسلام










تخفظ ختمِ نبوت ﷺ کا عظیم کام صرف ایک عقیدے کا دفاع نہیں، بلکہ اپنے وجود کو آستانۂ مصطفیٰ ﷺ پر ادب و وفا کے ساتھ نچھاور ک...
04/09/2026

تخفظ ختمِ نبوت ﷺ کا عظیم کام صرف
ایک عقیدے کا دفاع نہیں،
بلکہ اپنے وجود کو آستانۂ مصطفیٰ ﷺ پر
ادب و وفا کے ساتھ نچھاور کرنے کا نام ہے۔
یہ وہ سعادت ہے
جو ہر کسی کے حصے میں نہیں آتی
اللہ تعالیٰ جس دل کو
محبتِ رسول ﷺ کی امانت عطا فرماتا ہے،
اسی کو اس خدمت کے لیے چن لیتا ہے۔
اس راہ میں اٹھنے والا ہر قدم
اگر اخلاص سے لبریز ہو
تو وہ محض ایک عمل نہیں رہتا
بلکہ قربِ الٰہی کا زینہ بن جاتا ہے۔

ختمِ نبوت کی پاسبانی
صرف زبان کے دلائل سے نہیں ہوتی،
بلکہ ایسے کردار سے ہوتی ہے
جس میں سنتِ مصطفیٰ ﷺ کی خوشبو،
اخلاقِ نبوی ﷺ کی مٹھاس
اور عشقِ رسول ﷺ کی حرارت نمایاں ہو۔
جب دل درودِ پاک سے آباد ہو،
نگاہ ادب سے جھکی ہو
اور نیت رضائے الٰہی کے لیے خالص ہو،
تب بندہ اس عظیم خدمت کا حق ادا کرنے
کی توفیق پاتا ہے۔

خوش نصیب ہیں وہ لوگ
جن کی زندگیاں ختمِ نبوت کے
چراغ کی حفاظت میں بسر ہو جائیں،
کیونکہ یہ وہ نسبت ہے
جو انسان کو دنیا میں عزت، دل میں نور
اور آخرت میں شفاعتِ مصطفیٰ ﷺ کی
امید سے مالا مال کر دیتی ہے۔
غلام غلامان تحفظ ختم نبوت ﷺ
ابن فضل قادر
محمد عبدالقادر اویسی دیوبندی پشاوری








#محمدﷺ





#اسلام










استادِ محترم حضرت مولانا محمد احسان الحق صاحب رحمہ اللہ کے جنازے میں شرکتآج قدم جنازے کی طرف اٹھ رہے تھے، مگر دل ماننے ک...
04/09/2026

استادِ محترم حضرت مولانا محمد احسان الحق صاحب رحمہ اللہ کے جنازے میں شرکت

آج قدم جنازے کی طرف اٹھ رہے تھے،
مگر دل ماننے کو تیار نہ تھا
کہ جس ہستی کی مجلس میں علم کی خوشبو،
ذکر کی حلاوت اور تربیت کی روشنی
محسوس ہوتی تھی،
آج وہی استادِ محترم خاموشی سے
مٹی کی آغوش کی طرف رخصت ہو رہے ہیں۔

حضرت استاد محترم مولانا محمد احسان الحق
صاحب رحمہ اللہ کی وفات محض
ایک عالمِ دین کی جدائی نہیں،
بلکہ ایک ایسی شمع کا بجھ جانا ہے
جس کی روشنی سے بہت سے دلوں نے
اپنی راہوں کو پہچانا۔
آج ان کے جنازے میں شریک ہوتے ہوئے
آنکھیں نم تھیں، دل بوجھل تھا
اور زبان پر بے اختیار یہی دعا تھی:

اے اللہ! ہمارے استادِ محترم کی
تمام علمی، دینی اور روحانی خدمات کو
اپنی بارگاہ میں شرفِ قبول عطا فرما،
ان کی لغزشوں سے درگزر فرما،
قبر کو نور سے بھر دے
اور انہیں اپنے مقرب بندوں کی معیت نصیب فرما۔

استاد دنیا سے رخصت ہو جاتا ہے،
مگر اس کا دیا ہوا علم، اس کی نصیحت،
اس کی تربیت اور اس کی دعاؤں کی خوشبو
شاگردوں کے دلوں میں مدتوں زندہ رہتی ہے۔
آج جنازہ اٹھا تو یوں محسوس ہوا
جیسے ایک عہد رخصت ہوگیا؛
مگر اہلِ علم کی موت اختتام نہیں ہوتی،
وہ اپنے جسم سے رخصت ہوتے ہیں
اور اپنے علم و کردار کے ذریعے دلوں میں زندہ رہتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ حضرت استاد محترم رحمہ اللہ کے
درجات بلند فرمائے،
ان کی قبر کو جنت کا باغ بنائے،
اور ہمیں ان کے علم و نسبت کی قدر کرتے ہوئے
ان کے لیے صدقۂ جاریہ بننے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین

آج دل غمگین ہے، آنکھ اشک بار ہے،
مگر امید اسی ذات سے ہے
جس کے حکم سے آئے تھے
اور جس کی طرف سب کو لوٹ کر جانا ہے۔
خاکپائے استاد محترم
ابن فضل قادر
محمد عبدالقادر اویسی دیوبندی پشاوری
حال وارد رائے ونڈ لاہور
3 ستمبر 2026 ء

دعوت الی اللہ کا ایک سورج غروب ہوگیاآج اہلِ دل کے افق پر ایک ایسی خاموشی اتر آئی ہے جسے الفاظ میں سمیٹنا آسان نہیں۔ ایک ...
02/09/2026

دعوت الی اللہ کا ایک سورج غروب ہوگیا
آج اہلِ دل کے افق پر ایک ایسی خاموشی اتر آئی ہے
جسے الفاظ میں سمیٹنا آسان نہیں۔
ایک مردِ حق، ایک داعیِ الی اللہ، ایک چراغِ ہدایت
حضرت اقدس ،استاد محترم ،
شیخ الحدیث، مدرسہ عربیہ، رائے ونڈ
خلیفہ مجاز، شیخ الحدیث مولانا محمد ذکریا صاحب
نور اللہ مرقدہ
حضرت علامہ مولانا محمد احسان الحق صاحب
اس دارِ فانی سے رخصت ہوگیا
جس کی زندگی لوگوں کو اللہ کی طرف بلانے،
دلوں کو ذکر سے آباد کرنے
اور بھٹکے ہوئے قدموں کو راہِ حق دکھانے میں گزری۔

بعض لوگ دنیا سے رخصت ہوتے ہیں
تو صرف ایک شخص جاتا ہے،
مگر بعض کی جدائی ایک عہد، ایک نسبت
اور ایک پورا روحانی موسم اپنے ساتھ لے جاتی ہے۔
آج ایسا ہی محسوس ہوتا ہے
کہ دعوت و اصلاح کے آسمان کا
ایک روشن ستارہ ڈوب گیا ہے۔

مگر اہلِ معرفت جانتے ہیں
کہ سورج غروب ہوتا ہے، اس کی روشنی نہیں۔
صالحین کے اجسام قبروں میں اتر جاتے ہیں،
مگر ان کی دعائیں، تعلیمات، اخلاص
اور چھوڑے ہوئے نقوش دلوں میں زندہ رہتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ استاد محترم کی کامل مغفرت فرمائے،
انکے درجات بلند فرمائے،
اور قبر کو نور سے منور فرمائے،
ان کی تمام دینی و روحانی خدمات کو صدقۂ جاریہ بنائے، اور متعلقین و محبین و شاگردان رشید
ہم سب کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔
اللہ تعالیٰ ان کے سفرِ آخرت کو آسان فرمائے
اور اپنی رحمتِ کاملہ کے سائے میں جگہ عطا فرمائے۔ آمین یارب العالمین
اَللّٰھُمَّ لَا تَحْرِمْنَا اَجْرَه ، وَلَا تَفْتِنَّا بَعْدَهٗ .
خاکپائے حضرت استاد محترم
ابن فضل قادر
محمد عبدالقادر اویسی دیوبندی پشاوری

پندرہ باتیں جو خاموشی کے سپرد کر دینی چاہئیں انسان جتنا اپنی ذات کو ہر ایک پر ظاہر کرتا ہے، اتنا ہی اپنی زندگی کی حفاظت ...
02/09/2026

پندرہ باتیں جو خاموشی کے سپرد کر دینی چاہئیں

انسان جتنا اپنی ذات کو ہر ایک پر ظاہر کرتا ہے، اتنا ہی اپنی زندگی کی حفاظت کم کرتا جاتا ہے۔
ہر بات کہہ دینا صداقت نہیں، اور ہر راز چھپا لینا مصلحت نہیں؛ دانائی یہ ہے کہ انسان پہچانے کہ کون سی بات کس وقت، کس شخص اور کس حد تک کہنی ہے۔
زندگی ایک کھلی کتاب ضرور ہو، مگر ہر شخص کو اس کے تمام ابواب پڑھنے کا حق نہیں۔ بعض صفحات صرف اپنے لیے ہوتے ہیں، بعض اللہ کے لیے، اور بعض وقت کے سپرد۔
۱۔ اپنا اگلا قدم
اپنی ہر چال کا اعلان ضروری نہیں۔
کبھی خاموشی سے سفر کیجیے اور منزل کو اپنی آمد کی خبر خود دینے دیجیے۔ منصوبے جب لفظوں سے نکلتے ہیں تو لوگوں کی نگاہوں میں آ جاتے ہیں، جبکہ خاموش محنت اکثر زیادہ محفوظ اور مؤثر رہتی ہے۔
۲۔ اپنی آمدنی اور مالی حالات
رزق اللہ کی عطا ہے، مگر اس کی تفصیل ہر شخص کے سامنے رکھنا ضروری نہیں۔
اپنے مالی معاملات میں سادگی اور پردہ داری اختیار کریں؛ نہ اپنی آسودگی کا چرچا کریں، نہ اپنی تنگی کا ماتم۔ مال کی حفاظت صرف تجوری سے نہیں، زبان سے بھی ہوتی ہے۔
۳۔ گھر کے اختلافات
گھر کی چار دیواری میں ہونے والی ہر بات باہر لے جانا دانائی نہیں۔
جو اختلاف گھر میں سلجھ سکتا ہو، اسے بازارِ گفتگو میں نہ لے جائیں۔ لوگ عموماً زخم کا علاج کم اور اس کی داستان سننے میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔
۴۔ اپنی کمزوریاں اور خوف
اپنے دل کے تمام دروازے ہر شخص کے لیے نہ کھولیں۔
دنیا میں ہر ہاتھ مرہم رکھنے والا نہیں ہوتا؛ بعض ہاتھ زخم کی جگہ پہچان کر اسے گہرا کرنا بھی جانتے ہیں۔
۵۔ ماضی کی لغزشیں
جس گناہ پر اللہ نے پردہ ڈال دیا ہو، اسے خود اپنی زبان سے بے پردہ نہ کریں۔
ماضی اگر توبہ میں بدل چکا ہے تو اسے بار بار دہرانے کی ضرورت نہیں۔ رات کتنی ہی تاریک ہو، صبح کے بعد اسے سینے سے لگا کر چلنا دانش مندی نہیں۔
۶۔ پوشیدہ نیکی
نیکی کی سب سے خوب صورت خوشبو وہ ہے جس کا چرچا نہ ہو۔
صدقہ، عبادت اور کسی کی خاموش مدد کو اپنی نیکی کی نمائش نہ بنائیں۔ جو عمل صرف اللہ کے لیے ہو، اسے لوگوں کی نگاہوں کا محتاج نہ کیجیے۔
۷۔ دوسروں کے راز
کسی نے اپنا راز آپ کے سپرد کیا ہے تو اسے امانت سمجھیے۔
کسی کے اعتماد کو مجلس کی رونق بنا دینا انسان کے کردار کو چھوٹا کر دیتا ہے۔ جو راز آپ کے پاس امانت بن کر آیا ہو، اسے آپ کے پاس ہی خاموش ہو جانا چاہیے۔
۸۔ اپنی ذہانت اور قابلیت
ہر مجلس میں خود کو سب سے زیادہ دانا ثابت کرنے کی کوشش نہ کریں۔
کبھی خاموش رہنا بھی ایک بصیرت ہے۔ انسان جب دوسروں کو متاثر کرنے کی کوشش چھوڑ دیتا ہے تو اسے دوسروں کو سمجھنے کا موقع ملتا ہے۔
۹۔ بڑے خواب اور مستقبل کے ارادے
ہر خواب کو لفظوں کا لباس پہنانا ضروری نہیں۔
کچھ ارادے خاموشی میں پروان چڑھتے ہیں اور وقت آنے پر حقیقت بن کر سامنے آتے ہیں۔ اپنے خوابوں کو اتنا نہ سنائیں کہ ان کی تکمیل سے پہلے ہی ان کی تسکین حاصل ہو جائے۔
۱۰۔ کسی سے نفرت یا بغض
ہر ناپسندیدگی کا اعلان ضروری نہیں۔
اگر کسی سے دل نہیں ملتا تو خاموشی سے فاصلہ اختیار کیجیے۔ نفرت کو زبان دینا اکثر تعلق سے زیادہ دشمنی کو مضبوط کرتا ہے۔ وقار کبھی کبھی جواب دینے میں نہیں، خاموشی سے گزر جانے میں ہوتا ہے۔
۱۱۔ ذاتی زندگی کی نزاکتیں
زندگی کے کچھ گوشے صرف آپ اور آپ کے قریبی لوگوں کے لیے ہوتے ہیں۔
ہر خوشی، ہر تعلق اور ہر نجی معاملے کو لوگوں کی گفتگو کا حصہ نہ بنائیں۔ جو چیز قیمتی ہو، اسے نمائش سے زیادہ حفاظت کی ضرورت ہوتی ہے۔
۱۲۔ پاس ورڈز اور مالی معلومات
اعتماد اپنی جگہ، احتیاط اپنی جگہ۔
اپنے اکاؤنٹس، پاس ورڈز، دستاویزات اور مالی معلومات کو محفوظ رکھنا بدگمانی نہیں بلکہ ذمہ داری ہے۔ ہر شخص کو اپنے دروازے کی چابی دینا محبت نہیں، کبھی کبھی سادہ لوحی بھی ہو سکتی ہے۔
۱۳۔ اپنے احسان
کسی کی مدد کی ہے تو اسے احسان کی فہرست نہ بنائیں۔
جو ہاتھ دینے کے بعد بار بار یاد دلاتا رہے، وہ عطا کی خوب صورتی کم کر دیتا ہے۔ نیکی کر کے بھول جانا، نیکی کی روح کے زیادہ قریب ہے۔
۱۴۔ نامکمل منصوبے
ہر کام کو تکمیل سے پہلے دنیا کے سامنے رکھنا ضروری نہیں۔
ادھورے منصوبے ابھی سفر میں ہوتے ہیں؛ انہیں غیر ضروری نگاہوں، رائے اور مداخلت سے بچانا بہتر ہے۔ کچھ کاموں کو اعلان نہیں، تکمیل کی ضرورت ہوتی ہے۔
۱۵۔ اپنی خوشی کا راز
ہر سکون کی وجہ ہر شخص کو بتانا ضروری نہیں۔
کچھ خوشیاں خاموش رہ کر زیادہ خوب صورت رہتی ہیں۔ اپنے اطمینان، تعلقات اور قلبی سکون کو ہر نگاہ کے سامنے رکھنا لازم نہیں۔
آخری بات
خاموشی کمزوری نہیں، ایک تہذیب ہے؛ پردہ داری خوف نہیں، بصیرت ہے۔
اپنی زندگی کے ہر دروازے پر ہر شخص کو دستک دینے کی اجازت نہ دیں۔
لوگوں کو اتنا ہی بتائیں جتنا ان کا حق ہے، اور اتنا ہی دکھائیں جتنا آپ مناسب سمجھیں۔
کیونکہ زندگی کی ہر بات کہہ دینے سے انسان بے تکلف تو ہو سکتا ہے، مگر لازماً محفوظ نہیں رہتا۔
راز جب تک سینے میں ہو، امانت رہتا ہے؛
زبان پر آ جائے تو اختیار کھو دیتا ہے۔
دانائی یہ نہیں کہ انسان سب سے کچھ چھپاتا پھرے؛
دانائی یہ ہے کہ وہ کب، کیا، کس سے اور کتنا کہنا ہے—یہ فن سیکھ لے۔
دعاگو و دعاجو
ابن فضل قادر









Address

Islamabad

Opening Hours

Monday 10:00 - 19:00
Tuesday 10:00 - 19:00
Wednesday 10:00 - 19:00
Thursday 10:00 - 19:00
Friday 14:00 - 19:00
Saturday 10:00 - 19:00

Telephone

+923365555386

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Fazal Qadir Khan Islamic Institute Pakistan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to Fazal Qadir Khan Islamic Institute Pakistan:

Shortcuts

Share

Category