25/04/2024
تصویر کہانی
یہ جاپان کا بس سٹاپ ہے ، دو کرسیاں ہیں ، مقصد کیا ہے ؟ جو لوگ بس کے انتظار میں یہاں بیٹھیں تو فارغ نہ ہوں ، بس کے انتظار کے ساتھ تین کام کر سکیں ۔
پہلا : بس کا انتظار ۔
دوسرا : پیڈلز کے ذریعے جسمانی ورزش ۔
تیسرا : پیڈلز سے سٹریٹ لائٹس کے لئے بجلی کی پیداوار میں شرکت ۔
انتظار اپنے لئے ،
ورزش وجود کے لئے اور بجلی کی پیداوار میں شرکت ملک کے لئے ۔۔
حاضر دماغ رہنما یونہی قوم اور ملک کے لئے بہتری سوچتے ہیں ایسے ہی جاپان نے ترقی نہیں کی ، اس کامیابی کے پیچھے عالی دماغ ذہنوں کےاعلیٰ ترین آئیڈیاز کی کار فرمائی ہے جو قوم کو ترقی کی جانب لے جاتی ہے ۔
کاش کوئی سمجھے !!
#کرسی #آئیڈیا #رہنمائی #محنت
23/02/2024
ہم قومی کرکٹ ٹیم کا عالمی تنظیم کے ایف سی کے ساتھ الحاق کا مقاطعہ کرتے ہیں
منتظمین فوراً ان قاتلوں سے الحاق کرے ورنہ تمام غیرت مند مسلمان ان کے کھیل کو نہ دیکھیں
یہی ہماری ایمانی غیرت کا تقاضا ہے ۔
27/08/2023
بجلی 15 روپے فی یونٹ سستی ہو گئی
اگر ہم سب متحد ہو جائیں تو کوئی مائی کا لال نہیں ہے جو ہمارے ساتھ زیادتی کر سکے انشاءاللہ ہم سب متحد ہو کر اپنے ساتھ کی گئی ناانصافیوں کا بدلہ لیں گے اور اپنے حقوق حاصل کریں گے
سمیہ باسی
30/10/2022
بچوں کو ناظرہ قرآن والدین میں سے یا تو کوئی خود پڑھاتا ہے یا عموما کسی سے پڑھوایا جاتا ہے ۔
کسی سے پڑھوانے کے لئے گھر میں بلا کر انتظام کیا جاتا ہے ، یا پھر آئن لائن
قرآن کی تعلیم سکھانا ایک ایسا عظمت والا کام ہے کہ اس کا کوئی معاوضہ ہو ہی نہیں سکتا ، اس کا اجر تو ہر پڑھانے والے کو اللہ کریم ہی دیں گے لیکن جب ہم کسی کا قیمتی وقت لیتے ہیں تو اس وقت کا معاوضہ یا ہدیہ اس انسان کا حق ہے
معاوضہ یا ھدیہ قرآن کی تعلیم کا نہیں بلکہ اس وقت کا دیا جاتا یے
اس معاوضے کو یہ سوچ کر طے کیا جائے کہ اتنی قیمتی تعلیم سکھانے والے کے قیمتی وقت کا کچھ نہ کچھ حق ادا ہو جائے
سکول کی فیس اگر 12 سے 15 ہزار ہے تو قرآن پڑھانے والے کو صرف 500 یا ہزار ۔۔۔۔ کیوں
دل بڑا کیجئے ، سکول میں بچہ جا کر پڑھتا ہے ، ٹرانسپورٹ کا خرچ اور وقت کا خرچ بھی ساتھ
قرآن بچے گھر میں بیٹھے بٹھائے پڑھ رہے ہیں ، اور اگر کوئی آن لائن بھی پڑھ رہا ہے تو عموما ایسے پڑھانے والے لوگ وائی فائی افورڈ نہیں کرتے اور موبائل پیکج وغیرہ کے ذریعے کام چلاتے ہیں
سکول کی فیس جتنا بے شک نہ دیں لیکن اس کا تیسرا حصہ تو کم از کم دیا جا سکتا ہے ۔۔
28/10/2022
ایران کا ایک بادشاہ سردیوں کی شام جب اپنے محل میں داخل ہو رہا تھا تو ایک بوڑھے دربان کو دیکھا جو محل کے صدر دروازے پر پُرانی اور باریک وردی میں پہرہ دے رہا تھا۔
بادشاہ نے اُس کے قریب اپنی سواری کو رکوایا اور اُس ضعیف دربان سے پوچھنے لگا:
"سردی نہیں لگ رہی۔۔۔؟؟؟؟"
دربان نے جواب دیا: "بہت لگتی ہے حضور۔۔۔!!!
مگر کیا کروں، گرم وردی ہے نہیں میرے پاس، اِس لئے برداشت کرنا پڑتا ہے۔"
"میں ابھی محل کے اندر جا کر اپنا ہی کوئی گرم جوڑا بھیجتا ہوں تمہیں۔"
دربان نے خوش ہو کر بادشاہ کو فرشی سلام کہے اور بہت تشکّر کا اظہار کیا،
لیکن بادشاہ جیسے ہی گرم محل میں داخل ہوا، دربان کے ساتھ کیا ہوا وعدہ بھول گیا۔
صبح دروازے پر اُس بوڑے دربان کی اکڑی ہوئی لاش ملی اور قریب ہی مٹّی پر اُس کی یخ بستہ انگلیوں سے لکھی گئی یہ تحریر بھی:
"بادشاہ سلامت۔۔۔!!!
میں کئی سالوں سے سردیوں میں اِسی نازک وردی میں دربانی کر رہا تھا
مگر کل رات آپ کے گرم لباس کے وعدے نے میری جان نکال دی۔"
*سہارے انسان کو کھوکھلا کر دیتے ہیں اسی طرح امیدیں کمزور کر دیتی ہیں اپنی طاقت کے بل بوتے پرجینا شروع کیجئے، خدارا سہاروں کی بساکھیاں پھینک کر اپنی طاقت آزمائیں اور اللہ پر یقین رکھ کر کوشش کرتے رہیں وہ کبھی نا امیں اور ناکام نہیں چھوڑے گا ۔۔۔