22/07/2020
دو بزرگوں کے دو دو واقعات.
حضرت خواجہءخواجگان خواجہ خان محمد رح اجتماعات کی صدارت فرمایا کرتے آخر میں دعا فرما دیتے باقی سارا وقت گردن جھکا کر بیٹھے رہتےکوئ بلاتا تو اس کی طرف متوجہ ہوجاتے کسی مقرر کا بیان سنتے ہوئے کبھی کبھی اس کی طرف نظر اٹھا کر دیکھ لیتے یا مجمع کی طرف اچٹتی ہوئ نگاہ ڈال لیتے.
مولانا مفتی منیراحمد اخون مدظلہ جو عرصہ بیس سال سے نیویارک میں مقیم ہیں وہ شہید اسلام مولانا یوسف لدھیانوی رح کے داماد ہیں بنوری ٹاون کے فارغ التحصیل ہیں انہوں نے مجھے حضرت خان محمد رح کی خموش خطابت کا عجیب واقعہ سنایا کہ ایک مرتبہ دارالعلوم نیو ٹاون میں حضرت خواجہ صاحب کی تشریف آوری ہوئ ہم طالب علموں نے ان کا بہت نام سنا تھا عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر تھے ہم نے سوچا آج زبردست بیان ہو گا ہم بہت خوش تھے حضرت کی ولایت کی پوری دنیا میں دھوم تھی ہم نے سوچا کہ ایک تو ولی اللہ کا چہرہ دیکھیں گے دوسرا علمی بیان سن کر اپنے علم میں اصافہ کریں گے.
حضرت کو مسجد کے صحن میں کرسی پر بٹھا دیا اور ہم دورے کے طلباء کو انکے سامنے بیٹھنےکا حکم ہوا ہم ادب سے چپ چاپ بیٹھ گئے اور انتظار کرنے لگے کہ حضرت کا غنچہء لب اب کھلے گا, اب لب کُشا ہونگے, اب کچھ ارشاد فرمائیں گے اب کچھ گُہر ریزی دُرد باری ہو گی ہم طالب علم ایک دوسرے کا منہ دیکھتے اور پھر حضرت کی طرف نظر اٹھاتے کافی دیر بعد طالب علموں کی طرف آنکھ اٹھائ اور صرف ایک جملہ ارشاد فرمایا کہ جو ہماری خموشی سے مستفید نہیں ہوتا ہمارے تکلّم سے کیا فائدہ اٹھائے گا.
اور پھر گردن جھکا لی. اتنے میں مغرب کی اذان کا وقت ہو گیا ہم اٹھنے کو ہی تھے کہ سب طالب علموں پر ایک عجیب رقت طاری ہوئ سب رونے لگے سب کے دل ایسے ہلکے ہوئے کہ جیسے کوئ غم کوئ فکر تھی ہی نہیں اللہ اور رسول کی محبت سے دل لبریز ہو گئے اذان تک ہم سب ایک دوسرے سے گلے مل مل کے بس روتے رہے.
اللہ جانے اللہ والوں کی خموش نگاہی میں کیا تاثیر ہوتی ہے. لالہ نجیب احمد حضرت خواجہ کے صاحبزادے ہیں انہوں نے بابا جی کی خموش کرامت کا ایک اور عجیب واقعہ بھی سنایا فرماتے ہیں
2007کی بات ہے 11 بجے دوپہر کا وقت ہے میں باباجی رحمتہ اللہ علیہ کی خدمت میں بیٹھا تھا۔ کہ حکیم سلطان محمود جو حضرت کے خادم تھے آئے اور مجھے کہا لالہ جی ایک بڑی" مَیم" ٹائپ سی خاتون اور ایک بڑے صاحب " ٹائپ سے صاحب آئے ہیں بابا