23/08/2020
Knowledge of islam
خوب صورت اسلامی پوسٹس کے لیے ہمارا پیج لائک کریں
23/08/2020
*عید کی نماز اور اسکا طریقہ*
"(نیت)":: دو رکعت نماز عیدالاضحیٰ واجب 6 تکبیر زائد کے ساتھ
اللہ اکبر........ ثناء مکمل پڑھ کر *3* تکبیر
1=اللہ اکبر..... ہاتھ چھوڑ دو
2=اللہ اکبر....... ہاتھ چھوڑ دو
3=اللہ اکبر...... ہاتھ باندھ لو
امام قرأت کرے گا
أعوذ با اللہ..... بسمہ اللہ... فاتحہ.... سورت رکوع سجدہ
پہلی رکعت مکمل
................
دوسری رکعت
بسمہ اللہ.... فاتحہ..... سورت
اسکے بعد *3* تکبیر
اللہ اکبر....... ہاتھ چھوڑ دیں
اللہ اکبر..... ہاتھ چھوڑ دیں
اللہ اکبر....... ہاتھ چھوڑ دیں
.................
اللہ اکبر کہہ کر رکوع کریں
پھر سجدہ سلام
ماشاء اللہ جی نماز عید ادا ہو گئی
روزانہ 5 منٹ مشق کریں.... دوسروں کو سکھائیں
نماز عید کا خطبہ پڑھنا سنت ہے.... اسکا سننا واجب ہے
......................
نماز عید پڑھانے کا طریقہ
دو رکعت کا طریقہ اوپر درج ہے
دو رکعت کے بعد خطبہ پڑھنا سنت ہے.......
پہلے خطبہ میں 9 دفعہ تکبیر پڑھنا اور دوسرے میں 7 دفعہ سنت ہے.....
یہ چیز بہت سارے عید پڑھانے والوں کو بھی پتہ نہیں
اس لئیے یاد کر لیں
اللہ اکبر، اللہ اکبر، اللہ اکبر، اللہ اکبر، اللہ اکبر، اللہ اکبر، اللہ اکبر، اللہ اکبر، اللہ اکبر،
اللہ اکبر، اللہ اکبر، اللہ اکبر، اللہ اکبر، اللہ اکبر، اللہ اکبر، اللہ اکبر
.............
عیدالفطر لیٹ ادا کرنا مستحب ہے
اور عید الاضحٰی جلدی پڑھنا مستحب ہے
.............
ن,ماز عید کا ٹائم
سورج نکلنے کے بعد
اشراق سے لیکر زوال سے پہلے پہلے تک پڑھ سکتے ہیں
آجکل زوال 12 بجے ہیں
واللہ اعلم و رسولہ اعلم با الصواب۔
ایک دن ایک بادشاہ نے درباری بڑھئی سے کہا کہ میں تجھے کل پھانسی دے دوں گا‘بڑھئی بیچارہ اس رات سو نہیں پا رہا تھا۔اس کی بیوی نے کہا‘ ہر رات کی طرح سوئیے کہ آپ کا پروردگار ایک ہے مگر مشکل سے نکلنے کے راستے بہت سے ہیں۔بیوی کی بات نے اس کے دل میں سکون و اطمینان پیدا کیا۔ آنکھیں بند ہونے لگیں اور وہ سو گیا۔صبح سویرے سپاہیوں کے پیروں کی آواز سنی تو اس کے چہرے کا رنگ اڑ گیا۔ مایوسی اور پشیمانی سے بیوی کو دیکھا‘ کانپتے ہاتھوں سے دروازہ کھول کر دونوں ہاتھوں کو آگے بڑھا دیا کہ سپاہی اسے ہتھکڑیاں پہنا دیں‘ دو سپاہیوں نے تعجب سے کہا:بادشاہ مر گیا ہے۔ ہم اس لئے آئے ہیں کہ بادشاہ کےلئے تابوت بنا دو‘بڑھئی کے بدن میں خوشی کی لہر دوڑ گئی‘ معذرت خواہی کے طور پر بیوی پر ایک نظر ڈالی‘ بیوی مسکرائی اور بولی:ہر رات کی طرح سکون سے سوو کہ پروردگار ایک ہے اور مشکلات سے نجات کے دروازے بہت سارے ہیں۔زیادہ فکر مندی انسان کو تھکا دیتی ہے جبکہ پروردگار عالم مالک اور سارے امور کی تدبیر کرنے والا ہے‘زیادہ فکرمندی سے بچیں‘ اپنے رب پر کامل بھروسہ رکھیں‘ جب اس پر بھروسہ رکھیں گے تو زندگی میں کبھی پرپشیمانی نہیں ہوگی‘ وہ ہر مشکل سے آپ کو ایسے نکال لے گا جیسے مکھن سے بال۔
سوال
ایک مسجد کے اندر پیش امام کے ساتھ نماز باجماعت ہو گئی ہےاور اس مسجد میں پیش امام بھی مقرر ہے تو اس صورت میں اسی فرض کی دوسری جماعت ہوسکتی ہے یا نہیں؟
جواب
محلہ کی مسجد جس میں باقاعدہ امام متعین ہوتاہے،ایسی مسجد میں مقررہ جماعت ہوجانے کے بعد دوبارہ جماعت کراناجائزنہیں۔ ہاں ایسی مساجد جو راستوں پر بنی ہوتی ہیں اور ان کے لیے امام مقرر نہیں ہوتا، جہاں مسافر آکر اپنی جماعت کراتے ہیں ، اس قسم کی مساجد میں دوسری جماعت جائز ہے۔مفتی اعظم ہند مفتی کفایت اللہ رحمہ اللہ اسی نوعیت کے سوال کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں:
''جس مسجد میں کہ پنج وقتہ جماعت اہتمام وانتظام سے ہوتی ہو ،اس میں امام ابوحنیفہ ؒ کے نزدیک جماعت ثانیہ مکروہ ہے؛ کیوں کہ جماعت دراصل پہلی جماعت ہے،اور مسجد میں ایک وقت کی فرض نما زکی ایک ہی جماعت مطلوب ہے،حضورِ انورﷺکے زمانہ مبارک اور خلفائے اربعہ وصحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے زمانوں میں مساجد میں صرف ایک ہی مرتبہ جماعت کا معمول تھا، پہلی جماعت کے بعد پھر جماعت کرنے کا طریقہ اوررواج نہیں تھا، دوسری جماعت کی اجازت دینے سے پہلی جماعت میں نمازیوں کی حاضری میں سستی پیدا ہوتی ہے اور جماعت اولیٰ کی تقلیل لازمی ہوتی ہے ؛ اس لیے جماعت ثانیہ کو حضرت امام صاحبؒ نے مکروہ فرمایا اور اجازت نہ دی۔اور جن ائمہ نے اجازت دی انہوں نے بھی اتفاقی طور پر جماعتِ اولیٰ سے رہ جانے والوں کو اس طور سے اجازت دی کہ وہ اذان واقامت کا اعادہ نہ کریں اور پہلی جماعت کی جگہ بھی چھوڑ دیں تو خیر پڑھ لیں ،لیکن روزانہ دوسری جماعت مقرر کرلینا اور اہتمام کےساتھ اس کو ادا کرنا اور اس کے لیے تداعی یعنی لوگوں کو بلانااور ترغیب دینا یہ تو کسی کے نزدیک بھی جائز نہیں ،نہ اس کے لیے کوئی فقہی عبارت دلیل بن سکتی ہے ،یہ تو قطعاً ممنوع اور مکروہ ہے''۔(کفایت المفتی ،جلد سوم ، ص:140،کتاب الصلوۃ ،دارالاشاعت)فقط واللہ اعلم
فتوی نمبر : 144001200539
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
" ایک عالم دین اور ایک لیڈی ڈاکٹر کا واقعہ "
ﺍﯾﮏ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﺍﯾﮏ ﻋﺎﻟﻢ ﺑﯿﻤﺎﺭ ﭘﮍ ﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﻐﺮﺽ ﻋﻼﺝ ﺍﻥ ﮐﻮ ﮨﺴﭙﺘﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻞ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ۔ ﮨﺴﭙﺘﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺩﯾﮑﮫ ﺑﮭﺎﻝ ﭘﺮ ﺟﺲ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﮈﺍﮐﭩﺮ ﮐﻮ ﻣﺎﻣﻮﺭ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﻭﮦ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻋﻠﻢ، ﺗﻘﻮﯼٰ ﺍﻭﺭ ﺣﺴﻦ ﺍﺧﻼﻕ ﮐﯽ ﺑﻨﺎ ﭘﺮ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺑﮩﺖ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺗﮑﺮﯾﻢ ﮐﺮﺗﯽ ﺗﮭﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺧﺪﻣﺖ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﻟﯿﮯ ﺑﺎﻋﺚ ﺷﺮﻑ ﻭﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﺳﻤﺠﮭﺘﯽ ﺗﮭﯿﮟ۔
ﺣﻀﺮﺕ ﮐﮯ ﻣﺸﺎﮨﺪﮦ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﺑﺎﺕ ﺁﺋﯽ ﮐﮧ ﺍﺱ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﮈﺍﮐﭩﺮ ﻧﮯ ﺍﮐﺜﺮ ﻭ ﺑﯿﺸﺘﺮ ﻣﻐﺮﺑﯽ ﻟﺒﺎﺱ ﺯﯾﺐ ﺗﻦ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﺗﮭﺎ ﺟﻮ ﺍﺳﻼﻣﯽ ﺗﻌﻠﯿﻤﺎﺕ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺳﺘﺮ ﭘﻮﺷﯽ ﮐﮯ ﺗﻘﺎﺿﻮﮞ ﭘﺮ ﭘﻮﺭﯼ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﺗﺮﺗﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺧﺼﻮﺻﺎً "ﺷﺎﺭﭦ ﺳﮑﺮﭦ" ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﭨﺎﻧﮕﯿﮟ ﺑﺮﮨﻨﮧ ﺭﮨﺘﯽ ﺗﮭﯿﮟ۔ ﺣﻀﺮﺕ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﮐﻮ ﺍﺱ ﻟﺒﺎﺱ ﺳﮯ ﻣﻨﻊ ﮐﺮﯾﮟ ﻟﯿﮑﻦ ﮐﺴﯽ ﻣﻨﺎﺳﺐ ﻭﻗﺖ ﺍﻭﺭ ﻣﻨﺎﺳﺐ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﻣﯿﮟ۔
ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﻭﮦ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﺑﺎﺯﺍﺭ ﺟﺎ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯿﮟ، ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺣﻀﺮﺕ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮐﮧ ﺁﭖ ﮐﻮﮐﺴﯽ ﭼﯿﺰ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﮨﻮ ﺗﻮ ﺑﺘﻼﺋﯿﮯ ﺗﺎﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻟﯿﺘﯽ ﺁﺅﮞ۔
ﺣﻀﺮﺕ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ : " ﺑﯿﭩﺎ! ﺑﮑﺮﯼ ﮐﯽﺍﯾﮏ ﺳﺎﻟﻢ ﺭﺍﻥ ﻟﯿﺘﯽ ﺁﻧﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﯾﮏ ﺷﺮﻁ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮐﺴﯽ ﺗﮭﯿﻠﯽ ﯾﺎ ﺷﺎﭘﻨﮓ ﺑﯿﮓ ﻣﯿﮟ ﮈﺍﻝ ﮐﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻠﮑﮧ ﺳﺮﻋﺎﻡ ﮨﺎﺗﮫ ﻣﯿﮟ ﺗﮭﺎﻡ ﮐﺮ "
ﮈﺍﮐﭩﺮ ﺻﺎﺣﺒﮧ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﯿﮟ : " ﺣﻀﺮﺕ! ﻣﯿﮟ ﺑﮑﺮﯼ ﮐﯽ ﺳﺎﻟﻢ ﺭﺍﻥ ﺗﻮ ﻟﮯ ﺁﺅﮞ ﮔﯽ ﻟﯿﮑﻦ ﺟﺲ ﻃﺮﺡ ﺁﭖ ﻓﺮﻣﺎ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﺗﻮ ﻣﯿﺮﮮ ﻟﯿﮯ ﻣﻤﮑﻦ ﻧﮩﯿﮟ۔ "
ﺣﻀﺮﺕ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﺑﯿﭩﺎ ﮐﯿﻮﮞ ﻣﻤﮑﻦ ﻧﮩﯿﮟ؟
ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﯿﮟ : " ﺑﻐﯿﺮ ﮐﺴﯽ ﺗﮭﯿﻠﯽ ﮐﮯ ﺧﺎﻟﯽ ﺭﺍﻥ ﮐﻮ ﺗﮭﺎﻣﮯ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﻟﻮﮒ ﻣﯿﺮﺍ ﻣﺬﺍﻕ ﺍﮌﺍﺋﯿﮟ ﮔﮯ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﻣﯿﺮﮮ ﻟﯿﮯ ﻧﺎﻗﺎﺑﻞ ﺑﺮﺩﺍﺷﺖ ﮨﮯ۔"
ﺣﻀﺮﺕ ﻧﮯ ﻣﻮﻗﻊ ﻏﻨﯿﻤﺖ ﺟﺎﻧﺎ ﺍﻭﺭ ﻓﺮﻣﺎﻧﮯ ﻟﮕﮯ: " ﺑﯿﭩﺎ ! ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﮐﯽ ﺭﺍﻥ ﺑﮑﺮﯼ ﮐﯽ ﺭﺍﻥ ﺳﮯ ﮐﮩﯿﮟ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﭼﮭﭙﺎﺋﮯ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻻﺋﻖ ﮨﮯ۔"
" ﺍﺗﻨﮯ ﺷﻔﯿﻖ ﺍﻭﺭ ﭘﺮ ﺍﺛﺮ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﻣﯿﮟ ﮐﯽ ﮔﺌﯽ ﻧﺼﯿﺤﺖ ﺳﻦ ﮐﺮ ﮈﺍﮐﭩﺮ ﺻﺎﺣﺒﮧ ﮐﯽ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﻧﻢ ﮨﻮ ﮔﺌﯿﮟ۔
" ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﻥ ﻋﺎﻟﻢ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﻮ ﮔﻮﺍﮦ ﺑﻨﺎ ﮐﺮ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﺳﮯ ﺗﻮﺑﮧ ﮐﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﺴﺘﻘﺒﻞ ﻣﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ ﺑﮭﯽ ﻏﯿﺮ ﺷﺮﻋﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﻐﺮﺑﯽ ﻟﺒﺎﺱ ﻧﮧ ﭘﮩﻨﻨﮯ ﮐﺎ ﻋﮩﺪ ﮐﯿﺎ۔"
ﺳﭻ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻧﺼﯿﺤﺖ ﺍﮔﺮ ﻣﻨﺎﺳﺐ ﻭﻗﺖ ﭘﺮ ﻣﻨﺎﺳﺐ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﻣﯿﮟ ﮐﯽ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﺿﺮﻭﺭ ﺍﺛﺮ ﺩﮐﮭﺎﺗﯽ ﮨﮯ. Copied
دو بزرگوں کے دو دو واقعات.
حضرت خواجہءخواجگان خواجہ خان محمد رح اجتماعات کی صدارت فرمایا کرتے آخر میں دعا فرما دیتے باقی سارا وقت گردن جھکا کر بیٹھے رہتےکوئ بلاتا تو اس کی طرف متوجہ ہوجاتے کسی مقرر کا بیان سنتے ہوئے کبھی کبھی اس کی طرف نظر اٹھا کر دیکھ لیتے یا مجمع کی طرف اچٹتی ہوئ نگاہ ڈال لیتے.
مولانا مفتی منیراحمد اخون مدظلہ جو عرصہ بیس سال سے نیویارک میں مقیم ہیں وہ شہید اسلام مولانا یوسف لدھیانوی رح کے داماد ہیں بنوری ٹاون کے فارغ التحصیل ہیں انہوں نے مجھے حضرت خان محمد رح کی خموش خطابت کا عجیب واقعہ سنایا کہ ایک مرتبہ دارالعلوم نیو ٹاون میں حضرت خواجہ صاحب کی تشریف آوری ہوئ ہم طالب علموں نے ان کا بہت نام سنا تھا عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر تھے ہم نے سوچا آج زبردست بیان ہو گا ہم بہت خوش تھے حضرت کی ولایت کی پوری دنیا میں دھوم تھی ہم نے سوچا کہ ایک تو ولی اللہ کا چہرہ دیکھیں گے دوسرا علمی بیان سن کر اپنے علم میں اصافہ کریں گے.
حضرت کو مسجد کے صحن میں کرسی پر بٹھا دیا اور ہم دورے کے طلباء کو انکے سامنے بیٹھنےکا حکم ہوا ہم ادب سے چپ چاپ بیٹھ گئے اور انتظار کرنے لگے کہ حضرت کا غنچہء لب اب کھلے گا, اب لب کُشا ہونگے, اب کچھ ارشاد فرمائیں گے اب کچھ گُہر ریزی دُرد باری ہو گی ہم طالب علم ایک دوسرے کا منہ دیکھتے اور پھر حضرت کی طرف نظر اٹھاتے کافی دیر بعد طالب علموں کی طرف آنکھ اٹھائ اور صرف ایک جملہ ارشاد فرمایا کہ جو ہماری خموشی سے مستفید نہیں ہوتا ہمارے تکلّم سے کیا فائدہ اٹھائے گا.
اور پھر گردن جھکا لی. اتنے میں مغرب کی اذان کا وقت ہو گیا ہم اٹھنے کو ہی تھے کہ سب طالب علموں پر ایک عجیب رقت طاری ہوئ سب رونے لگے سب کے دل ایسے ہلکے ہوئے کہ جیسے کوئ غم کوئ فکر تھی ہی نہیں اللہ اور رسول کی محبت سے دل لبریز ہو گئے اذان تک ہم سب ایک دوسرے سے گلے مل مل کے بس روتے رہے.
اللہ جانے اللہ والوں کی خموش نگاہی میں کیا تاثیر ہوتی ہے. لالہ نجیب احمد حضرت خواجہ کے صاحبزادے ہیں انہوں نے بابا جی کی خموش کرامت کا ایک اور عجیب واقعہ بھی سنایا فرماتے ہیں
2007کی بات ہے 11 بجے دوپہر کا وقت ہے میں باباجی رحمتہ اللہ علیہ کی خدمت میں بیٹھا تھا۔ کہ حکیم سلطان محمود جو حضرت کے خادم تھے آئے اور مجھے کہا لالہ جی ایک بڑی" مَیم" ٹائپ سی خاتون اور ایک بڑے صاحب " ٹائپ سے صاحب آئے ہیں بابا
سوال:– بہت زیادہ مہر مقرر کرنا کیسا ہے؟
جواب :- مہر بہت زیادہ مقرر کرنا شرعاً پسندیدہ نہیں ،خصوصاً جبکہ دینے کا ارادہ نہ ،اور دکھلاوا مقصود ہو تو ناجائز ہے۔البتہ بہت کم مہر مقرر کرنا بھی مطلوب نہیں ،بلکہ اگر کسی خاندان میں مہر مثل زیادہ ہوتو جب تک سارے خاندان کا عرف تبدیل نہ کیا جائے اس وقت تک تنہا ایک لڑکی یا س کے اولیا ء کو کم مہر پر مجبور کرنا بھی درست نہیں ۔(امداد المفتین:473)
مشكاة المصابيح – (2 / 958)
عن عمر بن الخطاب رضي الله عنه قال: ألا لا تغالوا صدقة النساء فإنها لو كانت مكرمة في الدنيا وتقوى عند الله لكان أولاكم بها نبي الله صلى الله عليه وسلم ما علمت رسول الله صلى الله عليه وسلم نكح شيئا من نسائه ولا أنكح شيئا من بناته على أكثر من اثنتي عشرة أوقية. رواه أحمد
ترجمہ:”حضرت عبداللہ بن عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: لوگو!سنو عورتوں کے مہر کو زیادہ نہ رکھو کیونکہ یہ اگر دنیا میں عزت کی بات ہوتی تو تم سب میں سے اس کے زیادہ مستحق اللہ کے نبی ﷺ ہوتے اور آپ ﷺ مہر زیادہ رکھتے۔ میں نہیں جانتا کہ اللہ کے نبی ﷺ نے اپنی ازواج میں سے کسی سے نکاح کیا ہوا یا اپنی بیٹی کا نکاح کیا ہو 12 اوقیہ چاندی سے زیادہ پر“
تاہم اگر مہر زیادہ مقرر کر دیاجو مرد کی حیثیت سے زیادہ ہے تو وہ اس مرد پر لازم ہو جائے گا اور نکاح ہوجائے گا۔
رد المحتار باب المہر ج 2ص454
قولہ یجب الاکثر ای بالغا ما بلغ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فقط والله تعالیٰ اعلم
صفہ اسلامک ریسرچ سینٹر
الجواب صحیح
مفتی انس عفی اللہ عنہ
صفہ اسلامک ریسرچ سینٹر
الجواب الصحیح
مفتی طلحہ ہاشم صاحب
رفیق دارالافتاء جامعہ دارالعلوم کراچی
مشترکہ قربانی میں کلیجی کی تقسیم کا طریقہ
سوال
مشترکہ قربانی کے جانور میں کلیجی کی تقسیم کا کیا طریقہ کار ہے؟
جواب
کلیجی کی تقسیم کی مختلف صورتیں ہوسکتی ہیں، تول سے تقسیم کردی جائے یا گو شت کے ساتھ کچھ کچھ ملادی جائے، بعض شرکاء کے حصہ میں کلیجی اور بعض کے حصہ میں سری، پائے، وغیرہ شامل کردیے جائیں یہ بھی درست ہے، نیز فقہاء نے لکھا ہے کہ اجتماعی قربانی کا گوشت اگر تقسیم کیا جائے توتقسیم میں برابری ضروری ہے، اندازے سے تقسیم کرناجائز نہیں، البتہ اندازے سے تقسیم کی صورت میں ہرشریک کے حصہ میں گوشت کے علاوہ کلیجی، پائے اور سری وغیرہ شامل کردیے جائیں تو اس صورت میں بغیر تولے بھی تقسیم کردینا جائز ہے۔
المحيط البرهاني في الفقه النعماني (6/ 100):
"وأرادوا أن يقسموا اللحم بينهم؛ إن اقتسموها وزناً يجوز؛ لأن القيمة فيها معنى السبع على هذا الوجه يجوز، وإن اقتسموها جزافاً إن جعلوا مع اللحم شيئاً من السقط نحو الرأس، والأكارع يجوز، وإن لم يجعلوا لايجوز؛ لأن البيع على هذا الوجه لايجوز".
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 317)
"ویقسم اللحم وزناً لا جزافاً".
"(قوله: لا جزافاً)؛ لأن القسمة فيها معنى المبادلة، ولو حلل بعضهم بعضاً. قال في البدائع: أما عدم جواز القسمة مجازفةً فلأن فيها معنى التمليك واللحم من أموال الربا، فلايجوز تمليكه مجازفةً.وأما عدم جواز التحليل؛ فلأن الربا لايحتمل الحل بالتحليل، ولأنه في معنى الهبة وهبة المشاع فيما يحتمل القسمة لاتصح اهـ وبه ظهر أن عدم الجواز بمعنى أنه لايصح ولايحل لفساد المبادلة خلافاً لما بحثه في الشرنبلالية".فقط واللہ اعلم
فتوی نمبر : 144012200265
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
سوال
کورونا وائرس کی وجہ سے قربانی کی رقم صدقہ کرسکتے ہیں؟
جواب
قربانی شریعت کا ایک مستقل حکم ہے، اورشعائر اسلام میں سے ہے اسے شریعت کے حکم کے مطابق بجالانا ضروری ہے، اسلام نام ہی فرمانبرداری کا ہے جس وقت اللہ تعالی کاجو حکم ہو اسے پوراکرناہی عبدیت ہے، اورقربانی کے ایام میں اللہ تعالی کے نزدیک جانور کا خون بہانے سے زیادہ کوئی عمل پسندیدہ نہیں ہے،خود رسول اللہﷺ نے قربانی کاحکم آنے کے بعد ہرسال قربانی فرمائی ہے؛ لہذا جس شخص پر قربانی واجب ہو اس کے حق میں قربانی کے ایام میں جانور کا خون بہانے ہی سے اللہ تعالی کا یہ حکم پورا ہوگا، اس کی جگہ رقم صدقہ کرنے سے قربانی کا وجوب ادا نہیں ہوگا، بلکہ ترکِ واجب کا گناہ ہوگا،لہذا کورونا وئرس کی وجہ سے اگر اپنے گھر پر قربانی کا اہتمام نہیں کرسکتے تو کسی جگہ اجتماعی قربانی میں شریک ہوجائیں،لیکن قربانی کی جگہ رقم صدقہ کردینے سے قربانی کا وجوب ساقط نہیں ہوگا، بلکہ یہ شعائر اسلام کومسخ کر نا ہے جو موجبِ گناہ ہے۔
بدائع الصنائع میں ہے :
( ومنها ) أن لا يقوم غيرها مقامها حتى لو تصدق بعين الشاة أو قيمتها في الوقت لا يجزيه عن الأضحية؛ لأن الوجوب تعلق بالإراقة والأصل أن الوجوب إذا تعلق بفعل معين أنه لايقوم غيره مقامه كما في الصلاة والصوم وغيرهما". (66/5 ط:سعید) فقط واللہ اعلم
فتوی نمبر : 144110201603
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Website
Address
Islamabad