26/08/2021
جب کسی جوڑے کی اولاد نہ ہو رہی ہو تو وہ فوری طور پر ڈاکٹرز سے رجوع کرتا ہے جو دونوں کے میڈیکل ٹیسٹ کرکے دیکھتے ہیں کہ یہ طبی لحاظ سے بچہ پیدا کرنے کی اہلیت رکھتے بھی ہیں کہ نہیں۔ بعض کیسز میں یہ سامنے آجاتا ہے کہ بچہ پیدا کرنے کی بنیادی اہلیت تو رکھتے ہیں مگر اس کی راہ میں کچھ عارضی رکاوٹیں حائل ہیں۔ چنانچہ وہ علاج کے ذریعے ان رکاوٹوں کو دور کردیتے ہیں اور یوں اس جوڑے کے ہاں بچے کی ولادت ہو جاتی ہے۔ بعض کیسز میں رپورٹس یہ بتا دیتی ہیں کہ بچہ پیدا کرنے کی صلاحیت بالکل ہی نہیں ہے اور ظاہر ہے کہ اس کا مطلب یہی ہے کہ اس صلاحیت کے نہ ہونے کے سبب اس جوڑے کی فی الحال اولاد نہیں ہوسکتی۔ اس طرح کے کیسز میں میڈیکل سائنس بالکل درست کہتی ہے لیکن جو اگلی گزارش کرنے جا رہا ہوں اس پر آپ دوستوں سے غور کی درخواست ہے۔
اللہ سبحانہ و تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتے ہیں کہ جسے ہم چاہتے ہیں صاحب اولاد بنا دیتے ہیں اور جسے چاہتے ہیں بانجھ پیدا کر دیتے ہیں۔ اب جوں ہی آپ پر میڈیکل سائنس انکشاف کرتی ہے کہ آپ تو بانجھ ہیں تو آپ کچھ دن کا سوگ منا کر بے اولادی قبول کرکے بیٹھ جاتے ہیں۔ آپ اس بات پر غور ہی نہیں کرتے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے قرآن مجید میں کچھ اور بھی بیان فرما رکھا ہے۔ مثلا پیدائش کے باب میں فطری قاعدہ یہی ہے کہ اولاد ماں اور باپ کے ملاپ سے وجود میں آتی ہے لیکن اسی پیدائش والے باب میں ہم قدرت کے چار مظاہر دیکھتے ہیں۔ پہلا یہ کہ حضرت آدم علیہ السلام کے وجود میں باپ کا کوئی کردار ہے اور نہ ہی ماں کا، وہ کسی کی اولاد نہیں ہیں۔ حضرت حوا کی تخلیق میں مرد یعنی حضرت آدم کا کردار تو ہے لیکن عورت کا کوئی کردار نہیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے بغیر باپ کے پیدا فرمایا یعنی ان کی تخلیق میں عورت کا کردار تو ہے لیکن باپ کا کوئی کردار نہیں۔ انسان کے وجود میں آنے کے یہ تینوں عظیم الشان نمونے خاص ہیں جو ان تین مواقع کے علاوہ کہیں نظر آئے ہیں اور نہ ہی نظر آ سکیں گے لیکن انسان کی پیدائش کے معاملے میں سورہ مریم کا آغاز ہی ایک چوتھی طرح کا معاملہ پیش کرتا ہے جو اس لحاظ سے تو خاص ہے کہ حضرت زکریا علیہ السلام بڑھاپے کی انتہاء میں اللہ سے اولاد مانگتے نظر آ رہے ہیں اور جواب میں بشارت بھی حضرت یحیٰ علیہ السلام کی پیدائش کی مل رہی ہے لیکن اس لحاظ سے عام ہے کہ آج بھی بہت سے افراد کو اللہ سبحانہ و تعالیٰ بڑھاپے میں اولاد سے نواز دیتے ہیں۔ حضرت زکریا علیہ السلام کے واقعے میں قابل غور بات یہ ہے کہ بڑھاپے میں اللہ سے اولاد مانگنے کا خیال انہیں حضرت مریم علیہ السلام کے پاس بے موسم پھل دیکھ کر آیا اور انہوں نے سوچا کہ جس طرح اللہ سبحانہ و تعالیٰ حضرت مریم کو بے موسم پھل دے رہے ہیں ویسے ہی مجھے بڑھاپے والے خشک سالی موسم میں اولاد بھی تو دے سکتے ہیں۔ بس پھر کیا تھا، انہوں نے اپنے رب کے آگے دعاء پیش کردی اور دعاء بھی یوں کہ کوئی اور سن نہ سکے۔
كهيعص (1) ذِكْرُ رَحْمَتِ رَبِّكَ عَبْدَهُ زَكَرِيَّا (2) إِذْ نَادَىٰ رَبَّهُ نِدَاءً خَفِيًّا (3) قَالَ رَبِّ إِنِّي وَهَنَ الْعَظْمُ مِنِّي وَاشْتَعَلَ الرَّأْسُ شَيْبًا وَلَمْ أَكُن بِدُعَائِكَ رَبِّ شَقِيًّا (4) وَإِنِّي خِفْتُ الْمَوَالِيَ مِن وَرَائِي وَكَانَتِ امْرَأَتِي عَاقِرًا فَهَبْ لِي مِن لَّدُنكَ وَلِيًّا (5) يَرِثُنِي وَيَرِثُ مِنْ آلِ يَعْقُوبَ ۖ وَاجْعَلْهُ رَبِّ رَضِيًّا (6) يَا زَكَرِيَّا إِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلَامٍ اسْمُهُ يَحْيَىٰ لَمْ نَجْعَل لَّهُ مِن قَبْلُ سَمِيًّا (7) قَالَ رَبِّ أَنَّىٰ يَكُونُ لِي غُلَامٌ وَكَانَتِ امْرَأَتِي عَاقِرًا وَقَدْ بَلَغْتُ مِنَ الْكِبَرِ عِتِيًّا (😎 قَالَ كَذَٰلِكَ قَالَ رَبُّكَ هُوَ عَلَيَّ هَيِّنٌ وَقَدْ خَلَقْتُكَ مِن قَبْلُ وَلَمْ تَكُ شَيْئًا (9)
اس پس منظر کے ساتھ گزارش یہ ہے کہ میڈیکل رپورٹس دیکھ کر ہمت مت ہارا کیجئے بلکہ حضرت زکریا علیہ السلام کی طرح سوچ کر اللہ سے مانگنے کا اہتمام فرمایا کیجئے۔ یہ تو ایمان کا کیس ہے اور سوال بس یہ ہے کہ آپ کا اللہ پر ایمان و یقین کتنا پختہ ہے۔ یہ جن حضرات کے ہاں پندرہ اور بیس سال بعد پہلی اولاد ہوتی ہے یہ پختہ ایمان والے کیسز ہی تو ہیں۔ صلوۃ الحاجت بہت کام کی چیز ہے لیکن اس میں تھوڑا سا اہتمام کر لیا جائے تو اس کی قوت بہت بڑھ جاتی ہے۔۔ اس کے بعد ہاتھ اٹھا کر اپنے رب سے اس طرح مانگئے جس طرح آپ بچپن میں ماں سے چمٹ کر کوئی چیز مانگا کرتے تھے اور تب تک نہیں چھوڑتے تھے جب تک لے نہ لیتے تھے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میں اپنے بندے کے ساتھ اس کے گمان کے مطابق پیش آتا ہوں تو دوستو اپنے رب سے اچھا گمان قائم رکھا کیجئے اور مایوس نہ ہوا کیجئے۔ اگر آپ کی رپورٹس نیگٹو آجاتی ہیں تو اس سے صرف یہ ثابت ہوتا ہے کہ میڈیکل سائنس اس کیس میں فی الحال آپ کی کوئی مدد نہیں کر سکتی، آپ کا کیس خالصتا اللہ کے دربار کا کیس ہے۔ آپ میڈیکل رپورٹس پر اللہ کے دربار کو بھی چھوڑ دیتے ہیں، کیوں ؟ سائنس اللہ کی قدرت کی نفی تو نہیں۔ ایک بار مانگ کر تو دیکھئے وہ دعاء جو عرش کو ہلا دے !
خوشخبری
السلام و علیکم ورحمتہ اللہ وبركاته!
اس پیج کا مقصد عوام الناس میں قرآن و سنت کی تعلیمات کو فروغ دینا ہے ۔
وہ تمام احباب جو اپنی کسی مصروفیت کی وجہ سے ابھی تک قرآن کریم کی تعلیم حاصل نہیں کر سکے۔
جنہیں قرآن پاک حفظ کرنے کے بعد بھول گیا ہے۔یا حفظ کرنا چاہتے ہیں ۔
صحیح تلفظ کے ساتھ پڑھنا چاہتے ہیں۔
یا اپنے بچوں کو قرآن پاک کی تعلیم دلوانا چاہتے ہیں۔
خواہ وہ دنیا کے کسی بھی ملک میں رہائش پذیر ہوں۔ اب گھر بیٹھے آن لائن قرآن پاک کی تعلیم فری حاصل کریں اور اپنی دنیاء و آخرت کو سنواریں...
نورانی قاعدہ، قرآت ،حفظ و ناظرہ بمعہ تجوید ،ترجمہ وتفسیر،نماز و مسنون دعائیں، ،احادیث ،ضروری مسائل، اسلامی آداب کی تعلیم دی جاتی ہے ۔
بچے بچیوں اور خواتین و حضرات سب کیلئے عمر کی کوئی قید نہیں ۔
اندرون و بیرون ملک گھر بیٹھے قرآنی تعلیمات حاصل کرنے کا نادر موقع ۔
پیج لائک اور شئر کریں جزاک اللہ ۔
For further information
Contact on WhatsApp
+923315778090
https://www.facebook.com/Free-online-Quran-academy-100134935568060/
پیج کا مقصد قرآن و سنت کی تعلیمات کو فروغ دینا ہے ۔اندر?