Free online Quran academy

Free online Quran academy

Share

پیج کا مقصد قرآن و سنت کی تعلیمات کو فروغ دینا ہے ۔اندر?

خوشخبری
السلام و علیکم ورحمتہ اللہ وبركاته!
اس پیج کا مقصد عوام الناس میں قرآن و سنت کی تعلیمات کو فروغ دینا ہے ۔
وہ تمام احباب جو اپنی کسی مصروفیت کی وجہ سے ابھی تک قرآن کریم کی تعلیم حاصل نہیں کر سکے۔
جنہیں قرآن پاک حفظ کرنے کے بعد بھول گیا ہے۔یا حفظ کرنا چاہتے ہیں ۔
صحیح تلفظ کے ساتھ پڑھنا چاہتے ہیں۔
یا اپنے بچوں کو قرآن پاک کی تعلیم دلوانا چاہتے ہیں۔
خواہ وہ دنیا کے کسی بھی ملک میں رہائش پ

13/12/2021

*سبق آموز تحریریں*
🍀🍀🍀
*﷽

⭕ *مرد کی غیرت*

ایک عورت نے اپنے شوہر کے خلاف عدالت میں کیس دائر کیا کہ اس کے ذمہ میرے حق مہر کے500 دینار ہیں.

عدالت نے شوہر کو بلا کر پوچھا تو اس نے انکار کر دیا
عدالت نے گواہوں کو طلب کیا اور ان سے گواہی لیتے وقت عورت کا چہرہ پہچاننے کے لئے عورت کو نقاب اتارنے کا کہا
اس پر اس کا شوہر جلدی سے کھڑا ہو کر کہنے لگا کہ قاضی صاحب ۔میں تسلیم کرتا ہوں کہ مجھ پر میری بیوی کے 500 دینار لازم ہیں ۔ بس آپ اس کا نقاب نہ اتروائیے ۔

یہ سن کر بیوی کہنے لگی کہ قاضی صاحب آپ اور تمام حاضرین گواہ رہیں کہ میں نے اپنا حق مہر معاف بخش دیا ان کو ۔

قاضی بے چارہ حیران و پریشان کہ یہ ہو کیا رہا ہے ۔
خیر ان میاں بیوی کے جانے کے بعدقاضی نے محرر سے کہا کہ
اس کیس کا الگ فائل بناو اور نام لکھو
*"مرد کی غیرت "*

علامہ ابن قیم فرما تے ہیں کہ " انسان کے دل میں غیرت ہوتی ہے ۔اور اگر غیرت نہ ہو تو اس دل میں محبت ہو ہی نہیں سکتی ۔اور محبت سے خالی دل میں ایمان اور دین کیسے باقی رہ سکتے ہیں.

المیہ ہے کہ آج کے ترقی یافتہ دور میں حوا کی بیٹی اور عصمت مسلم کو بلا روک ٹوک نیم برہنہ کرنے پر امت فخر کر رہی ہے اور اسلام کا وقار چند ٹکوں کی بھینٹ چڑھ چکا ہے.

🌹❤️ *ختم نبوت زندہ باد 🌹❤️ختم رسالت زندہ باد*

*┅┄┈•※ ͜✤۝✤͜※┅┄┈•۔*
*┊ ┊ ┊ ┊ ۔*
*┊ ┊ ┊ ☽۔*
*┊ ┊ ☆۔*
*☆ ☆۔*

13/12/2021

*🌹رشتہ داروں سے حسنِ سلوک ازروئے قرآن:*

🌻 اللّٰه تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
"بیشک اللّٰه انصاف اور احسان کرنے اور رشتہ داروں کو خرچ سے مدد دینے کا حکم دیتا ہے۔"
*(سورہ النحل: 90)*

🌻 اللّٰه تعالیٰ حقیقی نیکی کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے۔
"اور اللّٰه کی محبت میں اپنا دل پسند مال رشتے داروں پر خرچ کرو۔"
*(سورہ البقرۃ: 177)*

🌻 "جب بات کرو تو عدل و انصاف کرو، اگرچہ وہ شخص قرابت دار ہی کیوں نہ ہو۔"
*(سورةالانعام: 152)*

🌻 "اور رشتہ ناطے والے ان میں سے بعض بعض سے زیادہ نزدیک ہیں اللّٰه کے حکم میں، بیشک اللّٰه تعالی ہر چیز کا جاننے والا ہے۔"
*( سورةالانفال: 75)*

🌻"اور جب ہم نے بنی اسرائیل سے یہ عہد لیا کہ تم اللّٰه کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو گے اور والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کرنا اور قرابت داریوں کو بحال رکھنا۔"
*( سورةالبقرہ: 83)*

🌻"لوگو! اپنے اس رب سے ڈرتے رہو، جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا پھر اسی سے اس کاجو ڑا بنایا، پھر ان دونوں سے (دنیامیں) بہت سے مرد اور عورتیں پھیلا دیں اور اللّٰه سے ڈروجس کا واسطہ دے کر تم ایک دوسرے سے اپنا حق مانگتے ہو اور رشتہ ناطے توڑنے سے بھی بچو، اللّٰه سے ڈرو بلاشبہ اللّٰه تم پر نظر رکھے ہوئے ہے۔"
*(سورة النساء:1)*

🌻 "لوگ آپ سے پوچھتے ہیں کہ کیا خرچ کریں ان سے کہیے کہ جو بھی مال تم خرچ کرو وہ والدین، رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں اور مسافروں کاحق ہے اور جو بھی بھلائی کا کام تم کرو گے یقینا اللَّه تعالیٰ اسے خوب جانتا ہے۔"
*(سورة البقرہ:215)*

🌻 ’’بات یہی ہے کہ (سب) اہلِ ایمان (آپس میں) بھائی ہیں۔ سو تم اپنے بھائیوں کے درمیان صلح کرایا کرو۔‘‘
*( سورۃ الحجرات: 10)*

خوشخبری
السلام و علیکم ورحمتہ اللہ وبركاته!
اس پیج کا مقصد عوام الناس میں قرآن و سنت کی تعلیمات کو فروغ دینا ہے ۔
وہ تمام احباب جو اپنی کسی مصروفیت کی وجہ سے ابھی تک قرآن کریم کی تعلیم حاصل نہیں کر سکے۔
جنہیں قرآن پاک حفظ کرنے کے بعد بھول گیا ہے۔یا حفظ کرنا چاہتے ہیں ۔
صحیح تلفظ کے ساتھ پڑھنا چاہتے ہیں۔
یا اپنے بچوں کو قرآن پاک کی تعلیم دلوانا چاہتے ہیں۔
خواہ وہ دنیا کے کسی بھی ملک میں رہائش پذیر ہوں۔ اب گھر بیٹھے آن لائن قرآن پاک کی تعلیم فری حاصل کریں اور اپنی دنیاء و آخرت کو سنواریں...
نورانی قاعدہ، قرآت ،حفظ و ناظرہ بمعہ تجوید ،ترجمہ وتفسیر،نماز و مسنون دعائیں، ،احادیث ،ضروری مسائل، اسلامی آداب کی تعلیم دی جاتی ہے ۔
بچے بچیوں اور خواتین و حضرات سب کیلئے عمر کی کوئی قید نہیں ۔
اندرون و بیرون ملک گھر بیٹھے قرآنی تعلیمات حاصل کرنے کا نادر موقع ۔
پیج لائک اور شئر کریں جزاک اللہ ۔
For further information
Contact on WhatsApp
+923315778090
https://www.facebook.com/Free-online-Quran-academy-100134935568060/

13/12/2021

*🌹رشتہ داروں سے حسنِ سلوک ازروئے قرآن:*

🌻 اللّٰه تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
"بیشک اللّٰه انصاف اور احسان کرنے اور رشتہ داروں کو خرچ سے مدد دینے کا حکم دیتا ہے۔"
*(سورہ النحل: 90)*

🌻 اللّٰه تعالیٰ حقیقی نیکی کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے۔
"اور اللّٰه کی محبت میں اپنا دل پسند مال رشتے داروں پر خرچ کرو۔"
*(سورہ البقرۃ: 177)*

🌻 "جب بات کرو تو عدل و انصاف کرو، اگرچہ وہ شخص قرابت دار ہی کیوں نہ ہو۔"
*(سورةالانعام: 152)*

🌻 "اور رشتہ ناطے والے ان میں سے بعض بعض سے زیادہ نزدیک ہیں اللّٰه کے حکم میں، بیشک اللّٰه تعالی ہر چیز کا جاننے والا ہے۔"
*( سورةالانفال: 75)*

🌻"اور جب ہم نے بنی اسرائیل سے یہ عہد لیا کہ تم اللّٰه کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو گے اور والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کرنا اور قرابت داریوں کو بحال رکھنا۔"
*( سورةالبقرہ: 83)*

🌻"لوگو! اپنے اس رب سے ڈرتے رہو، جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا پھر اسی سے اس کاجو ڑا بنایا، پھر ان دونوں سے (دنیامیں) بہت سے مرد اور عورتیں پھیلا دیں اور اللّٰه سے ڈروجس کا واسطہ دے کر تم ایک دوسرے سے اپنا حق مانگتے ہو اور رشتہ ناطے توڑنے سے بھی بچو، اللّٰه سے ڈرو بلاشبہ اللّٰه تم پر نظر رکھے ہوئے ہے۔"
*(سورة النساء:1)*

🌻 "لوگ آپ سے پوچھتے ہیں کہ کیا خرچ کریں ان سے کہیے کہ جو بھی مال تم خرچ کرو وہ والدین، رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں اور مسافروں کاحق ہے اور جو بھی بھلائی کا کام تم کرو گے یقینا اللَّه تعالیٰ اسے خوب جانتا ہے۔"
*(سورة البقرہ:215)*

🌻 ’’بات یہی ہے کہ (سب) اہلِ ایمان (آپس میں) بھائی ہیں۔ سو تم اپنے بھائیوں کے درمیان صلح کرایا کرو۔‘‘
*( سورۃ الحجرات: 10)*

Photos from Qazi Homeopathic Clinic & research centre's post 18/11/2021
09/11/2021

👈 *انگور کو ﺣﻀﺮﺕ ﻧﻮﺡ نے ﺍﯾﮏ ﺩﻓﻌﮧ ﺍﻭﺭ ﺷﯿﻄﺎﻥ ﻧﮯ ﺗﯿﻦ ﺩﻓﻌﮧ ﭘﺎﻧﯽ ديا* 👉

ﺟﺐ ﺣﻀﺮﺕ ﻧﻮﺡ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﻗﻮﻡ ﮐﻮ ﮐﺸﺘﯽ ﺳﮯ ﻧﯿﭽﮯ ﺍﺗﺎﺭ ﻟﯿﺎ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﮐﺎ ﺣﮑﻢ ﮬﻮﺍ ﮐﮧ ﺍﮮ ﻧﻮﺡ ﺟﺘﻨﮯ ﺗﺨﻢ ﺍﻭﺭ ﺟﮍﯾﮟ ﮬﯿﮟ ﯾﮧ ﺳﺐ ﺯﻣﯿﮟ ﭘﺮ ﺑﻮ ﺩﮮ ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﻧﻮﺡ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﻮ ﺗﻤﺎﻡ ﻗﺴﻢ ﮐﯽ ﺟﮍﯾﮟ ﺍﻭﺭ ﺗﺨﻢ ﻣﻞ ﮔﺌﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﻧﮕﻮﺭ ﮐﯽ ﺟﮍ ﻧﮧ ﻣﻠﯽ ﺗﺐ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﮐﯽ ﺑﺎﺭﮔﺎﮦ ﻣﯿﮟ ﻋﺮﺽ ﮐﯽ.. ﺗﻮ ﺁﻭﺍﺯ ﺁﺋﯽ ﮐﮧ ﺍﺳﮯ ﺍﺑﻠﯿﺲ ﻟﻌﯿﻦ ﻧﮯ ﭼﺮﺍ ﻟﯿﺎﮬﮯ... ﺟﺐ ﺣﻀﺮﺕ ﻧﻮﺡ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﻧﮯ ﺍﺱ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺗﻮ ﻧﮯ ﺍﻧﮕﻮﺭ ﮐﯽ ﺟﮍ ﭼﺮﺍﺋﯽ ﮬﮯ ﻻ ﮐﺮ ﺩﻭ ﺗﻮ ﺷﯿﻄﺎﻥ ﻧﮯ ﺍﻧﮑﺎﺭ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ..
ﺣﻀﺮﺕ ﻧﻮﺡ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﻧﮯﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﻧﮯ ﺧﺒﺮ ﺩﯼ ﮬﮯ ﮐﮧ ﺗﻮ ﻧﮯ ﺍﺱ ﺟﮍ ﮐﻮ ﭼﺮﺍﯾﺎ ﮬﮯ ﺗﺐ ﺷﯿﻄﺎﻥ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﻻﺅﮞ ﮔﺎ.. ﭘﮭﺮ ﮐﭽﮫ ﮨﯽ ﺩﯾﺮ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻻ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺣﻀﺮﺕ ﻧﻮﺡ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﭘﯿﺶ ﮐﺮ ﺩﯼ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺷﺮﻁ ﺑﮭﯽ ﺭﮐﮭﯽ ﮐﮧ ﺟﺐ ﺗﻢ ﺟﮍ ﺑﻮ ﺩﻭ ﮔﮯ ﺗﻢ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺟﮍ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭ ﭘﺎﻧﯽ ﺩﻭ ﮔﮯ ﺍﻭﺭ ﺗﯿﻦ ﺑﺎﺭ میں ﭘﺎﻧﯽ ﺩﯾﮟ ﮔﮯﺣﻀﺮﺕ ﻧﻮﺡ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﻧﮯ ﻗﺒﻮﻝ ﮐﺮ ﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺍﻧﮕﻮﺭ ﮐﻮ ﺯﻣﯿﻦ ﻣﯿﮟ ﺑﻮ ﺩﯾﺎ..
ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﻧﻮﺡ ﻋﻠﯿﮧ السلام نے ﺍﯾﮏ ﺩﻓﻌﮧ ﭘﺎﻧﯽ ﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺷﯿﻄﺎﻥ ﻧﮯ ﺗﯿﻦ ﺩﻓﻌﮧ.. ﺷﯿﻄﺎﻥ ﻧﮯ ﺗﯿﮟ ﺩﻓﻌﮧ ﯾﻌﻨﯽ ﻟﻮﻣﮍﯼ، ﺷﯿﺮ ﺍﻭﺭ ﺳﺆﺭ ﮐﻮ ﻣﺎﺭ ﮐﺮ ﺍﻥ ﺗﯿﻨﻮﮞ ﺟﺎﻧﻮﺭﻭﮞ ﮐﺎ ﺧﻮﻥ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺟﮍ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﺎ.. ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﺟﻮ ﺷﺮﯾﻨﯽ ﺍﻧﮕﻮﺭ ﻣﯿﮟ ﮬﮯ ﻭﮦ ﺣﻀﺮﺕ ﻧﻮﺡ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﮯ ﭘﺎﻧﯽ ﺩﯾﻨﮯ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﮬﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺟﻮ ﺷﺮﺍﺏ ﺑﻨﺘﯽ ﮬﮯ ﻭﮦ ﺍﺑﻠﯿﺲ ﮐﮯ ﭘﺎﻧﯽ ﺩﯾﻨﮯﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﮬﮯ ﺍﺱ ﻭﺍﺳﻄﮯ ﺷﺮﺍﺑﯿﻮﮞ ﮐﺎ ﻣﺰﺍﺝ ﭘﮩﻠﮯ ﻟﻮﻣﮍﯼ ﮐﮯ ﻣﺰﺍﺝ ﺟﯿﺴﺎ ﮬﻮﺗﺎ ﮬﮯ ﭘﮭﺮ ﺷﯿﺮ ﺍﻭﺭ ﺁﺧﺮ ﻣﯿﮟ ﺳﺆﺭ ﺟﯿﺴﺎ ﮬﻮﺗﺎ ﮬﮯ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﻧﺸﮯ ﮐﯽ ﺣﺎﻟﺖ ﻣﯿﮟ ﺷﺮﺍﺑﯽ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ, ﺳﻤﺠﮭﺘﺎ ﺍﻭﺭ ﺳﻨﺘﺎ ﺳﻨﺎﺗﺎ ﻧﮩﯿﮟ..

ﻗﺼﺺ الانبیاء

13/10/2021

*🌻کاش کہ میں قرآن کے علاوہ اور کسی چیز میں مشغول نہ ہوتا!*

*سفیان الثوری رحمہ اللہ* نے فرمایا:”کاش کہ میں خود کو صرف قرآن تک محدود رکھتا“

*ابن تیمیہ رحمہ اللہ* :” میں اس بات پرشرمندہ ہوں کہ میں نے قرآن کے معنی کے علاوہ اور چیزوں پر زیادہ وقت ضاٸع کردیا“

*سفیان ابن عینیہ رحمہ اللہ* :اللہ کی قسم یہ معاملہ اپنے اعلی مقام کو اس وقت پہنچے گا جب اللہ تعالی تمہیں ہر چیز سے بڑھ کر محبوب ہوجاے تو جس نے قرآن سے محبت کی اس نے اللہ سے محبت کی خوب سمجھ لو جو تم سے کہا جارہا ہے ۔

*ابن مسعودؓ*:”جب تم علم کا ارادہ کرو تو قرآن کو کریدو کیونکہ یقینا اس میں پہلوں اور پچھلوں کا علم ہے

*ابو ہریرہؓ* نے فرمایا:بے شک وہ گھر جس میں قرآن پڑھا جاتا ہے وہ اپنے رہنے والوں کے لیے کشادہ ہوجاتا ہے اس کی خیر بڑھ جاتی ہے اس میں فرشتے آتے ہیں اور شیاطین نکل جاتے ہیں اور بے شک وہ گھر جس میں اللہ کی کتاب میں سے کچھ نہیں پڑھا جاتا وہ اپنے رہنے والوں کے لیے تنگ ہوجاتا ہے اس کی خیر کم ہوجاتی ہے اور فرشتے اس سے نکل جاتےہیں اور شیطان آنے لگتے ہیں اس میں۔

*اعمش رحمہ اللہ* کہتے ہیں وہ چیز جس کے ساتھ اللہ نے مجھے بلند کیا وہ قرآن ہے

*حسن بصری رحمہ اللہ* کہتے ہیں اللہ کی قسم قرآن کے علاوہ کوٸی غنی نہیں اور اس کے بعد کوٸی محتاجی نہیں

کسی سلف نے کہا قرآن کا جتنا میرا حصہ زیادہ ہوا اتنی ہی میرے وقت میں برکت ہوٸی اور میں مسلسل اسے بڑھاتا رہا یہاں تک کہ میرا حزب دس پاروں تک چلا گیا

*ابراہیم بن عبد الواحد المقدسی رحمہ اللہ* کہتے ہیں جب انہوں نے علم کے لیے سفر کا ارادہ کیا تو ضیا المقدسی نے انھیں وصیت کی:”قرآن کو بہت زیادہ پڑھو اس کو چھوڑو نہیں کیونکہ جس قدر تم اسکو پڑھو گے اسی کے مطابق تمہارے لیے آسانی کی جاٸے گی۔
*الضیاء رحمہ اللہ* نے کہا: میں نے یہ دیکھا ہے اور اس کا بہت زیادہ تجربہ کیا ہے کیونکہ جب میں نے قرآن کو زیادہ پڑھنا شروع کیا تو میرے لیے حدیث کا سننا اور اسے کثرت سےلکھنا آسان کردیا گیا اور جب نہیں پڑھا تو آسانی بھی نہیں ہوٸی

*حسنؓ بن علیؓ* نے کہا: جو تم سے پہلے تھے وہ قرآن کو تمہارے رب کے پیغامات سمجھتے تھے تو وہ رات کو غورو فکر کرتے اور دن میں اس کا جاٸزہ لیتے

*عثمان بن عفانؓ* نے فرمایا: اگر تمہارے دل پاک ہوتے تو وہ قرآن کی قرأت سے کبھی سیر نہ ہوتے

*ابن مسعودؓ* نے کہا:قرآن کو شعر کی طرح گا کرنہ پڑھو اور نہ ہی اسے ردی کھجور کی طرح پھینکو اس کے عجاٸبات کے پاس ٹھر جاٶ اور اسکے ساتھ دلوں کو حرکت دو اور تم میں سے کسی کی فکر یہ نہ ہو کہ وہ سورت کو ختم کردے

*ابی بن کعبؓ* سے کسی نے کہا: مجھے وصیت کیجیے انہوں نے کہا اللہ کی کتاب کو اپنے سامنے رکھو اور اس کے حاکم ہونے پر راضی ہوجاٶ پس بے شک یہ قرآن ہی وہی چیز ہے جس نے تمہارے بیچ تمہارے رسول کو خلافت دی، یہ وہ سفارشی ہے جس کی بات مانی جائے، وہ گواہ ہے جس پر الزام نہ لگایا جائے،اس میں تمہارا ذکر ہے اور انکا ذکر جو تم سے پہلے تھے،فیصلہ کرنے والا جو تمہارے سامنے ہے اور خبر جو تمہارے بعد ہے

*کعب الاحبارؓ* نے کہا:تم پر قرآن واجب ہے کیونکہ اس میں عقل کی سمجھ بوجھ,حکمت کی روشنی اور علم کا سرچشمہ ہے رحمان کی طرف سے آنے والی نٸی کتاب ہے
کعب احبارؓ نے کہا:السابقون السابقون وہ اہل القرآن ہیں
*ذو النون مصری رحمہ اللہ* سے پوچھا گیا:اللہ کے ساتھ انس کیا ہے؟ کہا علم اور قرآن
*حسن بصری رحمہ اللہ* نے کہا:حلاوت کو تین چیزوں میں تلاش کرونماز میں ,قرآن اور ذکر میں پھر جب تم اس کو پالوگے پس چل پڑو اور خوش ہوجاٶ پھر اگر تم نہ پاٶ یہ مٹھاس تو جان لو کہ تمہارا دروازہ بند ہے
*قتادہ رحمہ اللہ* نے کہا:اپنے دلوں کو اس کے ساتھ آباد کرو اور اپنے گھروں کو بھی یعنی قرآن کے ساتھ
*ابن مسعودؓ* نے فرمایا یقینا یہ دل سمیٹنے والے ہیں تو تم انکو قرآن کے ساتھ مشغول کرو اور اس کے علاوہ کسی اور کے ساتھ نہیں
عبداللہ بن عمرؓ نے فرمایا: تم پر قرآن واجب ہے پس اسے سیکھو اور اپنے بیٹوں کو سکھاٶ پس بے شک تم سے اس بارے میں سوال ہوگا اور اسی کے ساتھ تمہیں بدلہ دیا جاٸے گا اور یہ ہی نصیحت کرنے کے لیے کافی ہے اس کو جو عقل رکھتا ہے
*ابن القیم رحمہ اللہ* نے فرمایا: جب تم اس بات کا اراداہ کرو کہ تم یہ جانو کہ تمہارے پاس اور دوسروں کے پاس اللہ کی محبت میں سے کیا ہے تو اپنے دل میں قرآن سے محبت کو دیکھ لو۔✨
بہترین اللّٰہ سبحانہ وتعالیٰ ہمیں بھی ان لوگوں کی طرح قرآن حکیم سے تعلق جوڑنے والا بنادیں آمین.

Free online Quran academy 14/09/2021

جب تک گھر میں یہ 3سالن پکتے رہیں گے بیماری اور بے برکتی کبھی نہیں جائیگی
آج ہم آپ کو تین ایسی چیزوں کے بارے میں بتانے جارہے ہیں جن کو کبھی بھی اپنے کھانوں میں استعمال مت کریں اسلام نے سختی سے اس کے بارے میں منع فرمایا ہے جب بھی مارکیٹ میں گوشت لینے کیلئے جائیں چاہے بکرے کا گوشت ،بڑا گوشت ہو تو سب سے پہلے اس گوشت والے کو یہ بتادیں کہ آپ لوگوں نے اس گوشت میں مثانے کا گوشت نہیں ڈالنا ، پتے ، کپورے کا گوشت نہیں ڈالنا ۔ مثانہ جو ہوتا ہے وہ تھیلی ہوتی جس میں جانور کا پیشاب جمع رہتا ہے
آج ہم آپ کو تین ایسے کھانوں کے بارے میں بتائیں گے جن کو گھروں میں کبھی بھی نہ پکایا کریں۔ ان کو پکانے سے گھر میں بے برکتی بیماریاں آجاتی ہیں جس سے اسلام نے منع فرمایا ہے ۔اس چیز سے ہمیں باز آجانا چاہیے اس سے پرہیز کرنا چاہیے وہ ہمارے لیے ح را م ہے ۔ ش راب اسلام میں ح را م ہےاور مثانے کا گوشت اسلام میں ح را م قرار دیا ہے اس کو کھانے سےمنع فرمایا گیا ہے ۔ پتہ کا گوشت اکثر دیکھا ہوگا وہ جگہ جو جگر کیساتھ ساتھ لٹکی ہوتی جس میں زہر ہوتا ہے وہ بھی اسلام میں ح را م ہے ۔تیسرے نمبر پر کپورے جس کو لوگ دھڑا دھڑ کھا رہے ہوتے ہیں کچھ بھی پتہ نہیں ہوتا کہ یہ کھانے سے ہمارا کیا نقصان ہورہا ہے کیا کھانا جائز ہے بھی یا نہیں کپورے کھانا اسلام میں جائز نہیں بلکہ ح را م ہے ۔
ہوٹلوں میں اسے بڑا لذیزہ کرکے بنایا جاتا ہے اور لوگوں کی خدمت میں پیش کیا جاتا ہے ۔ جو بندہ کما رہا ہے اس کو پیچ کر و ہ بھی ح را م کما رہا ہے جو اس کو کھا رہا ہے وہ بھی ح را م کھا رہا ہے ۔جب بھی دکان پر گوشت لینے کیلئے جائیں تو مثانہ پتہ اور کپورے ا س کا تھوڑا سا حصہ بھی آپ نے اپنے گوشت میں نہیں ڈلوانا یہ دکاندار انہوں نے کمائی کرنی ہوتی ہے اپنی چیزیں بیچنی ہوتی ہیں وہ اس بات کی پرواہ نہیں کرتے کہ گوشت میں کیا جارہا ہے کیا نہیں جارہا ۔ اس کو سختی سے منع فرما دیں کہ ان تین چیزوں میں سے کچھ بھی آپ نے گوشت میں شامل نہیں کرنا اگر آپ کو پتا بھی ہوگا اس کےباوجود گھر میں لاکر اس گوشت کو پکا لیں گے تو سمجھ لیں آپ بے برکتی اور بیماریوں کو اپنے گھر میں داخل کررہے ہیں۔
لیکن ایک مسلمان یہ جانتے ہوئے بھی اگر اس کا استعمال کرتا ہے اس کے گھر میں بے برکتی آنا شروع ہوجاتی ہے اس کا گھر بیماریوں میں مبتلا ہوجاتا ہے ۔ اگر وہ خن زیر کا گوشت یہ جانتے ہوئے بھی کہ ح رام ہے اسلام میں منع فرمایا ہے اس کا استعمال کرتا ہے تو وہ بیماریوں کو اور بے برکتی کو خود دعوت دے رہا ہوتا ہے ۔ اس میں کوئی دوسرے بندے کا کوئی قصور نہیں ۔ اسی طرح اگر آپ لوگ دیکھیں کہ جب آپ کے گھر میں بے برکتی پیدا ہوجائے بیماریاں آنا شروع ہوجائیں پھر آپ لوگ دیکھیں کہ آخر ہم سے ایسا کیا ہورہا ہے جس کیوجہ سے ہمارا گھر بے برکتی کی طرف چل پڑا ہے گھر میں بیماری آنا شروع ہوگئی ہے ۔

خوشخبری
السلام و علیکم ورحمتہ اللہ وبركاته!
اس پیج کا مقصد عوام الناس میں قرآن و سنت کی تعلیمات کو فروغ دینا ہے ۔
وہ تمام احباب جو اپنی کسی مصروفیت کی وجہ سے ابھی تک قرآن کریم کی تعلیم حاصل نہیں کر سکے۔
جنہیں قرآن پاک حفظ کرنے کے بعد بھول گیا ہے۔یا حفظ کرنا چاہتے ہیں ۔
صحیح تلفظ کے ساتھ پڑھنا چاہتے ہیں۔
یا اپنے بچوں کو قرآن پاک کی تعلیم دلوانا چاہتے ہیں۔
خواہ وہ دنیا کے کسی بھی ملک میں رہائش پذیر ہوں۔ اب گھر بیٹھے آن لائن قرآن پاک کی تعلیم فری حاصل کریں اور اپنی دنیاء و آخرت کو سنواریں...
نورانی قاعدہ، قرآت ،حفظ و ناظرہ بمعہ تجوید ،ترجمہ وتفسیر،نماز و مسنون دعائیں، ،احادیث ،ضروری مسائل، اسلامی آداب کی تعلیم دی جاتی ہے ۔
بچے بچیوں اور خواتین و حضرات سب کیلئے عمر کی کوئی قید نہیں ۔
اندرون و بیرون ملک گھر بیٹھے قرآنی تعلیمات حاصل کرنے کا نادر موقع ۔
پیج لائک اور شئر کریں جزاک اللہ ۔
For further information
Contact on WhatsApp
+923315778090
https://www.facebook.com/Free-online-Quran-academy-100134935568060/

Free online Quran academy پیج کا مقصد قرآن و سنت کی تعلیمات کو فروغ دینا ہے ۔اندر�

28/08/2021

بہت پیاری حدیث ھے،
براے مہربانی پورا پڑھیں

*نبی پاک صلی اللّه علیہ وسلم* نے فرمایا

جب تم کچھ بھول جاو تو مجھ پر درود بھیجو ،
انشا اللّه یاد آ جاے گا

یہ بہت قیمتی حدیث ھے
سب کو بتاؤ اپنے دل میں مت رکھو.

سوال: نماز میں دو سجدے کیوں ھوتے ھیں ؟

*جواب*: جب اللّه نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم علیہ السلام کو سجدہ کرو تو انہوں نے سجدہ کیا

لیکن ابلیس نے نہیں کیا
تو اسکو مردود قرار دے کر جنت سے نکال دیا.
ابلیس کی یہ حالت دیکھ کر فرشتوں نے سجدہ_شکر ادا کیا اور کہا
*اے اللّه تیرا شکر ھے تو نے ھمیں اپنا حکم بجا لانے اور اپنی عبادت کرنے کی توفیق عطا فرمائی*

وہ دو سجدے آج تک نماز میں ادا کئے جا رھے ھیں.

*1: سجدہ_حکم*
*2: سجدہ_شکر*

ایک صحابی نے *حضور_پاک صلی اللّه علیہ وصلم* سے پوچھا
ھمیں کیسے پتہ چلے گا
کہ ھماری نماز قبول ھو گئی ؟

*آپ صلی اللّه علیہ وصلم* نے فرمایا :-

*جب تمہارا دل اگلی نماز پڑھنے کا کرے تو سمجھنا کہ تمھاری نماز قبول ھو گئی*

*سبحان اللّه*

کچھ لوگ ایسے میسج کو فارورڈ نہیں کرتے
تو *اللّه تعالی* نے فرمایا ھے.

*اگر تم مجھ کو رد کرو گے تو میں تمہیں اپنی نظر میں رد کر دونگا*

جب شیطان مردود نے کہا
کہ
اے رب ،
تیری عزت کی قسم ،
میں تیرے بندوں کو ھمیشہ بہکاتا رھوں گا
جب تک انکی روحیں انکے جسموں میں رهینگی

*اللّه رب العزت* نے ارشاد فرمایا :-

*مجھے قسم ھے اپنی عزت و جلال کی اور اپنے اعلی مقام کی*
*جب تک وہ مجھ سے استغفار کرتے رهینگے، میں انکو بخشتا رھوں گا.*

*✨سبحان اللّه✨*

ھمارے *پیارے نبی صلی اللّه علیہ وصلم* کی کچھ پیاری عادات

*1:چلتے وقت نگاہ نیچی رکھتے*

*2: سلام ھمیشہ پہلے کرتے*

*3: مہمان نوازی خود کرتے*

*4: نفل نماز چھپ کر پڑھتے*

*5: فرض عبادت سب کے سامنے کرتے*

*6: بیمار کی مزاج پرسی کرتے*

*7: جب کھڑے ھوے غصہ آیا تو لیٹ جاتے*

*8: مسواک کرتے*

*9: عشاء سے پہلے کبھی نہ سوتے*

*10: کبھی کھل کر نہ ھنستے، صرف مسکراتے*

*اللّه پاک* یہ میسج اگے بھیجنے والے کی ھر جائز تمنا پوری کرے
*آمین*

جب *حضور صلی اللّه علیہ وصلم* کے وصال کا وقت قریب آیا تو *آپ صلی اللّه علیہ وصلم* نے *جبریل علیہ السلام* سے پوچھا کہ
*کیا میری امت کو بھی موت کی اتنی تکلیف برداشت کرنی پڑیگی*

تو فرشتے نے کہا
*جی*
تو *آپ صلی اللّه علیہ وصلم* کی آنکھ مبارک سے آنسو جاری ھو گیۓ

تو *اللّه تعالی* نے فرمایا :-

*اے محمد صلی اللّه علیہ وصلم آپکی امت اگر ھر نماز کے فورا بعد آیت الکرسی پڑھےگی تو موت کے وقت اسکا ایک پاؤں دنیا میں ھو گا اور ایک جنت میں*

*✨سبحان اللّه✨*

جو شخص سوتے وقت 21 بار *بسمہ اللّه* پڑھتا ھے.

*اللّه تعالی فرشتوں سے فرماتا ھے کہ اسکی ھر سانس کے بدلے نیکی لکھو*

*✨سبحان اللّه✨*

آپکے موبائل میں جتنے نمبر ھیں اور گروپس ھیں
ان سب کو فارورڈ کریں .
اگر آپکا دل کرے
تو مجھے بھی فارورڈ کر سکتے.

خوشخبری
السلام و علیکم ورحمتہ اللہ وبركاته!
اس پیج کا مقصد عوام الناس میں قرآن و سنت کی تعلیمات کو فروغ دینا ہے ۔
وہ تمام احباب جو اپنی کسی مصروفیت کی وجہ سے ابھی تک قرآن کریم کی تعلیم حاصل نہیں کر سکے۔
جنہیں قرآن پاک حفظ کرنے کے بعد بھول گیا ہے۔یا حفظ کرنا چاہتے ہیں ۔
صحیح تلفظ کے ساتھ پڑھنا چاہتے ہیں۔
یا اپنے بچوں کو قرآن پاک کی تعلیم دلوانا چاہتے ہیں۔
خواہ وہ دنیا کے کسی بھی ملک میں رہائش پذیر ہوں۔ اب گھر بیٹھے آن لائن قرآن پاک کی تعلیم فری حاصل کریں اور اپنی دنیاء و آخرت کو سنواریں...
نورانی قاعدہ، قرآت ،حفظ و ناظرہ بمعہ تجوید ،ترجمہ وتفسیر،نماز و مسنون دعائیں، ،احادیث ،ضروری مسائل، اسلامی آداب کی تعلیم دی جاتی ہے ۔
بچے بچیوں اور خواتین و حضرات سب کیلئے عمر کی کوئی قید نہیں ۔
اندرون و بیرون ملک گھر بیٹھے قرآنی تعلیمات حاصل کرنے کا نادر موقع ۔
پیج لائک اور شئر کریں جزاک اللہ ۔
For further information
Contact on WhatsApp
+923315778090
https://www.facebook.com/Free-online-Quran-academy-100134935568060/

28/08/2021

روضہ سرکار صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے بارے میں زندگی بھر آپ نے ایسی معلومات نہیں پڑھی ہونگی پڑھ کر شئیر کیجئیے۔۔۔
حرمین شریفین کی انتظامیہ کی جانب سےایک تقریب منعقد کی گئی جس میں مسجد نبوی کے بارے میں معلومات فراہم کی گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے قبر مبارک کے بارے میں مکمل وضاحت کی گئی “

تشریح وتوضیح:-
گزشتہ ساڑھے پانچ صدیوں میں کوئی شخص آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی قبر مبارک تک نہیں جا سکا ہے۔
وہ حجرہ شریف جس میں آپ اور آپ کے دو اصحاب کی قبریں ہیں، اس کے گرد ایک چار دیواری ہے، اس چار دیواری سے متصل ایک اور دیوار ہے جو پانچ دیواروں پر مشتمل ہے۔
یہ پانچ کونوں والی دیوار حضرت عمر بن عبد العزیز رحمۃ اللہ علیہ نے بنوائی تھی۔ اور اس کے پانچ کونے رکھنے کا مقصد اسے خانہ کعبہ کی مشابہت سے بچانا تھا۔
اس پنج دیواری کے گرد ایک اور پانچ دیواروں والی فصیل ہے۔ اس پانچ کونوں والی فصیل پر ایک بڑا سا پردہ یا غلاف ڈالا گیا ہے۔ یہ سب دیواریں بغیر دروازے کے ہیں،
لہذا کسی کے ان دیواروں کے اندر جانے کا کوئی امکان نہیں ہے۔
روضہ رسولؐ کی اندر سے زیارت کرنے والے بھی اس پانچ کونوں والی دیوار پر پڑے پردے تک ہی جا پاتے ہیں۔

روضہ رسولؐ پر سلام عرض کرنے والے عام زائرین جب سنہری جالیوں کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں تو جالیوں کے سوراخوں سے انہیں بس وہ پردہ ہی نظر آ سکتا ہے، جو حجرہ شریف کی پنج دیواری پر پڑا ہوا ہے۔
اس طرح سلام پیش کرنے والے زائرین اور آنحضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی قبر اطہر کے درمیان گو کہ چند گز کا فاصلہ ہوتا ہے لیکن درمیان میں کل چار دیواریں حائل ہوتی ہیں۔
ایک سنہری جالیوں والی دیوار، دوسری پانچ کونوں والی دیوار، تیسری ایک اور پنج دیواری، اور چوتھی وہ چار دیواری جو کہ اصل حجرے کی دیوار تھی۔
گزشتہ تیرہ سو سال سے اس پنج دیواری حجرے کے اندر کوئی نہیں جا سکا ہے سوائے دو مواقع کے۔
ایک بار 91 ہجری میں حضرت عمر بن عبد العزیز رحمتہ اللہ علیہ کے دور میں ان کا غلام
اور دوسری بار 881 ہجری میں معروف مورخ علامہ نور الدین ابو الحسن السمہودی کے بیان کے مطابق وہ خود۔

مسجد نبوی میں قبلہ کا رخ جنوب کی جانب ہے۔ نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا روضہ مبارک ایک بڑے ہال کمرے میں ہے۔
بڑے ہال کمرے کے اندر جانے کا دروازہ مشرقی جانب ہے یعنی جنت البقیع کی سمت۔
یہ دروازہ صرف خاص شخصیات کے لیے کھولا جاتا ہے۔ اس دروازے سے اندر داخل ہوں تو بائیں جانب حضرت فاطمۃ الزہرہ رضی اللہ تعالی عنہا کی محراب ہے۔ اس کے پیچھے ان کی چارپائی (سریر) ہے۔
العربیہ ویب سائٹ نے محقق محی الدین الہاشمی کے حوالے سے بتایا کہ ہال کمرے میں روضہ مبارک کی طرف جائیں تو سبز غلاف سے ڈھکی ہوئی ایک دیوار نظر آتی ہے۔
1406 ہجری میں شاہ فہد کے دور میں اس غلاف کو تبدیل کیا گیا۔
اس سے قبل ڈھانپا جانے والا پردہ 1370 ہجری میں شاہ عبد العزیز آل سعود کے زمانے میں تیار کیا گیا تھا۔
مذکورہ دیوار 881 ہجری میں اُس دیوار کے اطراف تعمیر کی گئی جو 91 ہجری میں حضرت عمر بن عبدالعزیز نے تعمیر کی تھی۔ اس بند دیوار میں کوئی دروازہ نہیں ہے۔ قبلے کی سمت اس کی لمبائی 8 میٹر، مشرق اور مغرب کی سمت 6.5 میٹر اور شمال کی جانب دونوں دیواروں کی لمبائی ملا کر 14 میٹر ہے۔
کہا جاتا ہے کہ 91 ہجری سے لے کر 881 ہجری تک تقریباً آٹھ صدیاں کوئی شخص آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی قبر مبارک کو نہیں دیکھ پایا۔
اس کے بعد 881 ہجری میں حجرہ مبارک کی دیواروں کے بوسیدہ ہو جانے کے باعث ان کی تعمیر نو کرنا پڑی۔ اس وقت نامور مورخ اور فقیہ علّامہ نور الدین ابو الحسن السمہودی مدینہ منورہ میں موجود تھے، جنہیں ان دیواروں کی تعمیر نو کے کام میں حصہ لینے کی سعادت حاصل ہوئی۔
وہ لکھتے ہیں 14 شعبان 881 ھ کو پانچ دیواری مکمل طور پر ڈھا دی گئی۔ دیکھا تو اندرونی چار دیواری میں بھی دراڑیں پڑی ہوئی تھیں، چنانچہ وہ بھی ڈھا دی گئی۔ ہماری آنکھوں کے سامنے اب مقدس حجرہ تھا۔ مجھے داخلے کی سعادت ملی۔ میں شمالی سمت سے داخل ہوا۔ خوشبو کی ایسی لپٹ آئی جو زندگی میں کبھی محسوس نہیں ہوئی تھی۔
میں نے رسول اللہ اور آپ کے دونوں خلفاء کی خدمت میں ادب سے سلام پیش کیا۔ مقدس حجرہ مربع شکل کا تھا۔ اس کی چار دیواری سیاہ رنگ کے پتھروں سے بنی تھی، جیسے خانہ کعبہ کی دیواروں میں استعمال ہوئے ہیں۔ چار دیواری میں کوئی دروازہ نہ تھا۔
میری پوری توجہ تین قبروں پر مرکوز تھی۔ تینوں سطح زمین کے تقریباً برابر تھیں۔ صرف ایک جگہ ذرا سا ابھار تھا۔ یہ شاید حضرت عمر کی قبر تھی۔ قبروں پر عام سی مٹی پڑی تھی۔ اس بات کو پانچ صدیاں بیت چکی ہیں، جن کے دوران کوئی انسان ان مہر بند اور مستحکم دیواروں کے اندر داخل نہیں ہوا۔
علامہ نور الدین ابو الحسن سمہودی نے اپنی کتاب (وفاءالوفاء) میں حجرہ نبوی کا ذکر کرتے ہوئے تحریر کیا ہے کہ ”اس کا فرش سرخ رنگ کی ریت پر مبنی ہے۔
حجرہ نبوی کا فرش مسجد نبوی کے فرش سے تقریبا 60 سینٹی میٹر نیچے ہے۔
اس دوران حجرے پر موجود چھت کو ختم کر کے اس کی جگہ ٹیک کی لکڑی کی چھت نصب کی گئی جو دیکھنے میں حجرے پر لگی مربع جالیوں کی طرح ہے۔ اس لکڑی کے اوپر ایک چھوٹا سا گنبد تعمیر کیا گیا جس کی اونچائی 8 میٹر ہے اور یہ گنبد خضراء کے عین نیچے واقع ہے“۔
یہ سب معلومات معروف کتاب ”وفاء الوفاء با اخبار دار المصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم“ کے مؤلف نور الدین ابو الحسن السمہودی نے اپنی مشہور تصنیف میں درج کی ہیں----واللہ اعلم بالصواب
صرف آپ ہی پڑھ کر آگے نہ بڑھ جائیں بلکہ یہ تحریر صدقہ جاریہ ہے ، شیئر کرکے باقی احباب تک پہنچائیے ، شکریہ, اس میں آپ کا بمشکل ایک لمحہ صرف ہو گا لیکن ہو سکتا ہے اس ایک لمحہ کی اٹھائی ہوئی تکلیف سے آپ کی شیئر کردہ تحریر ہزاروں لوگوں کے لیے سبق آموز ثابت ہو .. جزاک اللہ خیرا کثیرا

محمد رسول اللہ
صلی_اللہ_علیہ_والہ_وسلم ❤️

خوشخبری
السلام و علیکم ورحمتہ اللہ وبركاته!
اس پیج کا مقصد عوام الناس میں قرآن و سنت کی تعلیمات کو فروغ دینا ہے ۔
وہ تمام احباب جو اپنی کسی مصروفیت کی وجہ سے ابھی تک قرآن کریم کی تعلیم حاصل نہیں کر سکے۔
جنہیں قرآن پاک حفظ کرنے کے بعد بھول گیا ہے۔یا حفظ کرنا چاہتے ہیں ۔
صحیح تلفظ کے ساتھ پڑھنا چاہتے ہیں۔
یا اپنے بچوں کو قرآن پاک کی تعلیم دلوانا چاہتے ہیں۔
خواہ وہ دنیا کے کسی بھی ملک میں رہائش پذیر ہوں۔ اب گھر بیٹھے آن لائن قرآن پاک کی تعلیم فری حاصل کریں اور اپنی دنیاء و آخرت کو سنواریں...
نورانی قاعدہ، قرآت ،حفظ و ناظرہ بمعہ تجوید ،ترجمہ وتفسیر،نماز و مسنون دعائیں، ،احادیث ،ضروری مسائل، اسلامی آداب کی تعلیم دی جاتی ہے ۔
بچے بچیوں اور خواتین و حضرات سب کیلئے عمر کی کوئی قید نہیں ۔
اندرون و بیرون ملک گھر بیٹھے قرآنی تعلیمات حاصل کرنے کا نادر موقع ۔
پیج لائک اور شئر کریں جزاک اللہ ۔
For further information
Contact on WhatsApp
+923315778090
https://www.facebook.com/Free-online-Quran-academy-100134935568060/

27/08/2021

*کرایہ دار نے مالک مکان کی زندگی کیسے بدلی ضرور پڑھیں سبق آموز قصہ*
_وہ گرمیوں کی ایک تپتی دوپہر تھی۔ دفتر سے میں نے چھٹی لی ہوئی تھی کیونکہ گھر کے کچھ ضروری کام نمٹانے تھے میں بچوں کو کمپیوٹر پر گیم کھیلنا سکھا رہا تھا کہ باہر بیل بجی۔ کافی دیر کے بعد دوسری بیل ہوئی تو میں نے جا کر دورازہ کھولا۔ سامنے میری ہی عمر کے ایک صاحب کھڑے تھے۔_
*"...السلام علیکم ۔۔۔۔❗"*
_انہوں نے نہایت مہذب انداز میں سلام کیا۔ پہلے تو میرے ذہن میں خیال گزرا یہ کوئی چندہ وغیرہ لینے والے ہیں۔ ان کے چہرے پر داڑھی خوب سج رہی تھی، اور لباس سے وہ چندہ مانگنے والے ہر گز نہیں لگ رہے تھے۔_
"جی فرمایئے" ، میں نے پوچھا۔
"آپ طاہر صاحب ہیں❓"
’’جی‘‘ میں نے مختصر جواب دیا۔
_"وہ مجھے رفیق صاحب نے بھیجا ہے۔ غالباً آپ کو کرائے دار کی ضرورت ہے۔"_
ہاں ہاں۔۔۔❗
_"مجھے اچانک یاد آیا کہ میں نے دفتر کے ایک ساتھی طاہر کو بتایا تھا کہ میں نے اپنے گھر کا اوپر والا پورشن کرائے پر دینا ہے اگر کوئی نیک اور چھوٹی سی فیملی اس کی نظر میں ہو تو بتائے۔ کیونکہ دفتر کی تنخواہ سے خرچے پورے نہیں ہوتے۔ مجھے افسوس ہوا کہ میں نے اتنی دھوپ میں کافی دیر اسے باہر کھڑا رکھا۔"_
_اسے چھ ماہ کے لیے مکان کرائے پر چاہیے تھا۔ کیونکہ اپنا مکان وہ گرا کر دوبارہ تعمیر کروا رہے تھے۔ میں نے تین ہزار کرایہ بتایا۔ لیکن بات دو ہزار پر پکی ہوگئی۔_
_وہ چلا گیا تو مجھے افسوس ہونے لگا کہ کرایہ کچھ کم ہے۔ گو اوپر صرف ایک چھوٹا سا کمرہ، کچن اور باتھ روم تھا۔_
_مجھے اپنی بیوی کا دھڑکا لگا ہوا تھا کہ اسے معلوم ہوگا تو کتنا جھگڑا ہوگا۔ اور وہی ہوا بقول اس کے دو ہزار تو صرف بچوں کی فیس ہے۔ مجھے اس نے کافی برا بھلا کہا اور میں چپ چاپ سنتا رہا، اور اپنی قسمت کو کوستا رہا ۔_
_میں نے ایم ایس سی بہت اچھے نمبروں سے کیا تھا۔ اس لیے فوراً نوکری مل گئی، نوکری ملی تو شادی بھی فوراً ہوگئی۔_
_میری بیوی بھی بہت پڑھی لکھی تھی۔ وہ بھی ایک انگریزی اسکول میں پڑھاتی تھی، ہمارے تین بچے تھے۔_ _مگر گزارا مشکل سے ہوتا تھا۔_
_اگلے ہی دن وہ صاحب اور ان کے بیوی بچے ہمارے گھر شفٹ ہوگئے۔ ان کی بیوی نے مکمل شرعی پردہ کیا ہوا تھا دونوں بڑے بچے بہت ہی مہذب اور خوبصورت تھے۔ چھوٹا گود میں تھا۔_
_کچھ دنوں بعد ایک دن میں دفتر سے آیا تو میری بیوی نے بتایا کہ میں نے بچوں کو کرائے دار خاتون سے قرآن مجید پڑھنے کے لیے بھیج دیا ہے اچھا پڑھاتی ہیں، ان کے اپنے بچے اتنی خوبصورت تلاوت کرتے ہیں۔_
_مزید کچھ دن بعد جب میں نے ان کے ایک بیٹے سے تلاوت سنی تو پہلی مرتبہ میرے دل میں خواہش ابھری کہ کاش ہمارے بچے بھی اتنا اچھا قرآن مجید پڑھیں۔_
_ایک دن میں باہر جانے لگا تو اپنی بیوی سے پوچھ ہی لیا کہ وہ پارلر جائے گی تو لیتا چلوں۔ کیونکہ پہلے تو دو مہینے میں تین چار مرتبہ پارلر جاتی تھی اور اس مہینے میں ایک بار بھی نہیں گئی تھی۔_
_اس نے جواب دیا کہ پارلر فضول خرچی ہے۔ جتنی خوبصورتی چہرے پر پانچ بار وضو کرنے،نماز اور تلاوت سے آتی ہے کسی چیز سے نہیں آتی۔ اگر زیادہ ضرورت ہو تو گھریلو چیزوں ٹوٹکوں سے ہی چہرے پر نکھار رہتا ہے۔_
_ایک روز میں کیبل پر ڈرامہ دیکھ رہا تھا تو میرے چھوٹے بیٹے نے مجھے بغیر پوچھے ٹی وی بند کر دیا اور میرے پاس آکر بیٹھ گیا۔_
_"بابا یہ بیکار مشغلہ ہے۔ میں آپ کو اپنے نبی حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کا ایک واقعہ سناؤں۔"_
_مجھے غصہ تو بہت آیا لیکن اپنے بیٹے کی زبانی جب واقعہ سنا تو میرا دل بھر آیا۔_
_"یہ تمہیں کس نے بتایا"، میں نے پوچھا۔_
_"ہماری استانی محترمہ نے۔۔۔ وہ قرآن مجید پڑھانے کے بعد آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم اور صحابہ کرام کے متعلق بتاتی ہیں۔"_
_اپنے گھر کی اور بیوی بچوں کی تیزی سے بدلتی حالت دیکھ کر میں حیران ہو رہا تھا کہ ایک روز بیوی نے کہا کہ کیبل کٹوادیں۔ کوئی نہیں دیکھتا اور ویسے بھی فضول خرچی اور اوپر سے گناہ ہے۔_
_چند روز بعد بیوی نے شاپنگ پر جانے کو کہا تو میں بخوشی تیار ہو گیا، اس نے کافی دنوں بعد شاپنگ کا کہا تھا ورنہ پہلے تو آئے دن بازار جانا رہتا تھا_
_"کیا خریدنا ہے❓"، میں نے پوچھا۔_
*’’برقعہ۔۔۔۔۔⁦‼️⁩‘‘*
کیا⁦⁉️⁩
*میں ہنسا تو وہ بولی،*
_’’پہلے میں کتنے ہی غیر شرعی کام کرتی تھی، آپ نے کبھی مذاق نہیں اڑایا تھا، اب اچھا کام کرنا چاہتی ہوں تو آپ کو مذاق سوجھ رہا ہے۔‘‘_
_میں کچھ نہ بولا۔_
_پھر چند دن بعد اس نے مجھے کافی سارے پیسے دیئے اور کہا فریج کی باقی قیمت ادا کر دیں۔ تاکہ مزید قسطیں نہ دینی پڑیں۔_
_"اتنے روپوں کی بچت کیسے ہوگئی❓"_
_بس ہو گئی"، وہ مسکرائی
"جب انسان اللّٰہ عزوجل کے بتائے ہوئے احکام پر چلنے لگے تو برکت خود بخود ہو جاتی ہے۔یہ بھی وہ کرائے دار خاتون نے بتایا ہے‘
_سکون میرے اندر تک پھیل گیا۔میری بیوی اب نہ مجھ سے کبھی لڑی، نہ شکایت کی۔_ _بچوں کو وہ گھر میں پڑھا دیتی ہے۔ خود بچوں کے ساتھ قرآن مجید تجوید سے پڑھنا سیکھ رہی تھی، وہ خود نماز پڑھنے لگی تھی، اور بچوں کو سختی سے نماز پڑھنے بھیجتی۔_
_مجھے احساس ہونے لگا کہ نجات کا راستہ یہی تو ہے۔ پیسہ اور آرائش سکون نہیں دیتا۔ اطمینان تو بس اللّٰہ عزوجل کی یاد میں ہے۔_
_مجھے اس دن دو ہزار کرایہ تھوڑا لگ رہا تھا، آج سوچتا ہوں تو لگتا ہے کہ وہ تو اتنا زیادہ تھا کہ آج میرا گھر سکون سے بھر گیا .

خوشخبری
السلام و علیکم ورحمتہ اللہ وبركاته!
اس پیج کا مقصد عوام الناس میں قرآن و سنت کی تعلیمات کو فروغ دینا ہے ۔
وہ تمام احباب جو اپنی کسی مصروفیت کی وجہ سے ابھی تک قرآن کریم کی تعلیم حاصل نہیں کر سکے۔
جنہیں قرآن پاک حفظ کرنے کے بعد بھول گیا ہے۔یا حفظ کرنا چاہتے ہیں ۔
صحیح تلفظ کے ساتھ پڑھنا چاہتے ہیں۔
یا اپنے بچوں کو قرآن پاک کی تعلیم دلوانا چاہتے ہیں۔
خواہ وہ دنیا کے کسی بھی ملک میں رہائش پذیر ہوں۔ اب گھر بیٹھے آن لائن قرآن پاک کی تعلیم فری حاصل کریں اور اپنی دنیاء و آخرت کو سنواریں...
نورانی قاعدہ، قرآت ،حفظ و ناظرہ بمعہ تجوید ،ترجمہ وتفسیر،نماز و مسنون دعائیں، ،احادیث ،ضروری مسائل، اسلامی آداب کی تعلیم دی جاتی ہے ۔
بچے بچیوں اور خواتین و حضرات سب کیلئے عمر کی کوئی قید نہیں ۔
اندرون و بیرون ملک گھر بیٹھے قرآنی تعلیمات حاصل کرنے کا نادر موقع ۔
پیج لائک اور شئر کریں جزاک اللہ ۔
For further information
Contact on WhatsApp
+923315778090
https://www.facebook.com/Free-online-Quran-academy-100134935568060/

26/08/2021

جب کسی جوڑے کی اولاد نہ ہو رہی ہو تو وہ فوری طور پر ڈاکٹرز سے رجوع کرتا ہے جو دونوں کے میڈیکل ٹیسٹ کرکے دیکھتے ہیں کہ یہ طبی لحاظ سے بچہ پیدا کرنے کی اہلیت رکھتے بھی ہیں کہ نہیں۔ بعض کیسز میں یہ سامنے آجاتا ہے کہ بچہ پیدا کرنے کی بنیادی اہلیت تو رکھتے ہیں مگر اس کی راہ میں کچھ عارضی رکاوٹیں حائل ہیں۔ چنانچہ وہ علاج کے ذریعے ان رکاوٹوں کو دور کردیتے ہیں اور یوں اس جوڑے کے ہاں بچے کی ولادت ہو جاتی ہے۔ بعض کیسز میں رپورٹس یہ بتا دیتی ہیں کہ بچہ پیدا کرنے کی صلاحیت بالکل ہی نہیں ہے اور ظاہر ہے کہ اس کا مطلب یہی ہے کہ اس صلاحیت کے نہ ہونے کے سبب اس جوڑے کی فی الحال اولاد نہیں ہوسکتی۔ اس طرح کے کیسز میں میڈیکل سائنس بالکل درست کہتی ہے لیکن جو اگلی گزارش کرنے جا رہا ہوں اس پر آپ دوستوں سے غور کی درخواست ہے۔
اللہ سبحانہ و تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتے ہیں کہ جسے ہم چاہتے ہیں صاحب اولاد بنا دیتے ہیں اور جسے چاہتے ہیں بانجھ پیدا کر دیتے ہیں۔ اب جوں ہی آپ پر میڈیکل سائنس انکشاف کرتی ہے کہ آپ تو بانجھ ہیں تو آپ کچھ دن کا سوگ منا کر بے اولادی قبول کرکے بیٹھ جاتے ہیں۔ آپ اس بات پر غور ہی نہیں کرتے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے قرآن مجید میں کچھ اور بھی بیان فرما رکھا ہے۔ مثلا پیدائش کے باب میں فطری قاعدہ یہی ہے کہ اولاد ماں اور باپ کے ملاپ سے وجود میں آتی ہے لیکن اسی پیدائش والے باب میں ہم قدرت کے چار مظاہر دیکھتے ہیں۔ پہلا یہ کہ حضرت آدم علیہ السلام کے وجود میں باپ کا کوئی کردار ہے اور نہ ہی ماں کا، وہ کسی کی اولاد نہیں ہیں۔ حضرت حوا کی تخلیق میں مرد یعنی حضرت آدم کا کردار تو ہے لیکن عورت کا کوئی کردار نہیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے بغیر باپ کے پیدا فرمایا یعنی ان کی تخلیق میں عورت کا کردار تو ہے لیکن باپ کا کوئی کردار نہیں۔ انسان کے وجود میں آنے کے یہ تینوں عظیم الشان نمونے خاص ہیں جو ان تین مواقع کے علاوہ کہیں نظر آئے ہیں اور نہ ہی نظر آ سکیں گے لیکن انسان کی پیدائش کے معاملے میں سورہ مریم کا آغاز ہی ایک چوتھی طرح کا معاملہ پیش کرتا ہے جو اس لحاظ سے تو خاص ہے کہ حضرت زکریا علیہ السلام بڑھاپے کی انتہاء میں اللہ سے اولاد مانگتے نظر آ رہے ہیں اور جواب میں بشارت بھی حضرت یحیٰ علیہ السلام کی پیدائش کی مل رہی ہے لیکن اس لحاظ سے عام ہے کہ آج بھی بہت سے افراد کو اللہ سبحانہ و تعالیٰ بڑھاپے میں اولاد سے نواز دیتے ہیں۔ حضرت زکریا علیہ السلام کے واقعے میں قابل غور بات یہ ہے کہ بڑھاپے میں اللہ سے اولاد مانگنے کا خیال انہیں حضرت مریم علیہ السلام کے پاس بے موسم پھل دیکھ کر آیا اور انہوں نے سوچا کہ جس طرح اللہ سبحانہ و تعالیٰ حضرت مریم کو بے موسم پھل دے رہے ہیں ویسے ہی مجھے بڑھاپے والے خشک سالی موسم میں اولاد بھی تو دے سکتے ہیں۔ بس پھر کیا تھا، انہوں نے اپنے رب کے آگے دعاء پیش کردی اور دعاء بھی یوں کہ کوئی اور سن نہ سکے۔
كهيعص (1) ذِكْرُ رَحْمَتِ رَبِّكَ عَبْدَهُ زَكَرِيَّا (2) إِذْ نَادَىٰ رَبَّهُ نِدَاءً خَفِيًّا (3) قَالَ رَبِّ إِنِّي وَهَنَ الْعَظْمُ مِنِّي وَاشْتَعَلَ الرَّأْسُ شَيْبًا وَلَمْ أَكُن بِدُعَائِكَ رَبِّ شَقِيًّا (4) وَإِنِّي خِفْتُ الْمَوَالِيَ مِن وَرَائِي وَكَانَتِ امْرَأَتِي عَاقِرًا فَهَبْ لِي مِن لَّدُنكَ وَلِيًّا (5) يَرِثُنِي وَيَرِثُ مِنْ آلِ يَعْقُوبَ ۖ وَاجْعَلْهُ رَبِّ رَضِيًّا (6) يَا زَكَرِيَّا إِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلَامٍ اسْمُهُ يَحْيَىٰ لَمْ نَجْعَل لَّهُ مِن قَبْلُ سَمِيًّا (7) قَالَ رَبِّ أَنَّىٰ يَكُونُ لِي غُلَامٌ وَكَانَتِ امْرَأَتِي عَاقِرًا وَقَدْ بَلَغْتُ مِنَ الْكِبَرِ عِتِيًّا (😎 قَالَ كَذَٰلِكَ قَالَ رَبُّكَ هُوَ عَلَيَّ هَيِّنٌ وَقَدْ خَلَقْتُكَ مِن قَبْلُ وَلَمْ تَكُ شَيْئًا (9)
اس پس منظر کے ساتھ گزارش یہ ہے کہ میڈیکل رپورٹس دیکھ کر ہمت مت ہارا کیجئے بلکہ حضرت زکریا علیہ السلام کی طرح سوچ کر اللہ سے مانگنے کا اہتمام فرمایا کیجئے۔ یہ تو ایمان کا کیس ہے اور سوال بس یہ ہے کہ آپ کا اللہ پر ایمان و یقین کتنا پختہ ہے۔ یہ جن حضرات کے ہاں پندرہ اور بیس سال بعد پہلی اولاد ہوتی ہے یہ پختہ ایمان والے کیسز ہی تو ہیں۔ صلوۃ الحاجت بہت کام کی چیز ہے لیکن اس میں تھوڑا سا اہتمام کر لیا جائے تو اس کی قوت بہت بڑھ جاتی ہے۔۔ اس کے بعد ہاتھ اٹھا کر اپنے رب سے اس طرح مانگئے جس طرح آپ بچپن میں ماں سے چمٹ کر کوئی چیز مانگا کرتے تھے اور تب تک نہیں چھوڑتے تھے جب تک لے نہ لیتے تھے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میں اپنے بندے کے ساتھ اس کے گمان کے مطابق پیش آتا ہوں تو دوستو اپنے رب سے اچھا گمان قائم رکھا کیجئے اور مایوس نہ ہوا کیجئے۔ اگر آپ کی رپورٹس نیگٹو آجاتی ہیں تو اس سے صرف یہ ثابت ہوتا ہے کہ میڈیکل سائنس اس کیس میں فی الحال آپ کی کوئی مدد نہیں کر سکتی، آپ کا کیس خالصتا اللہ کے دربار کا کیس ہے۔ آپ میڈیکل رپورٹس پر اللہ کے دربار کو بھی چھوڑ دیتے ہیں، کیوں ؟ سائنس اللہ کی قدرت کی نفی تو نہیں۔ ایک بار مانگ کر تو دیکھئے وہ دعاء جو عرش کو ہلا دے !

خوشخبری
السلام و علیکم ورحمتہ اللہ وبركاته!
اس پیج کا مقصد عوام الناس میں قرآن و سنت کی تعلیمات کو فروغ دینا ہے ۔
وہ تمام احباب جو اپنی کسی مصروفیت کی وجہ سے ابھی تک قرآن کریم کی تعلیم حاصل نہیں کر سکے۔
جنہیں قرآن پاک حفظ کرنے کے بعد بھول گیا ہے۔یا حفظ کرنا چاہتے ہیں ۔
صحیح تلفظ کے ساتھ پڑھنا چاہتے ہیں۔
یا اپنے بچوں کو قرآن پاک کی تعلیم دلوانا چاہتے ہیں۔
خواہ وہ دنیا کے کسی بھی ملک میں رہائش پذیر ہوں۔ اب گھر بیٹھے آن لائن قرآن پاک کی تعلیم فری حاصل کریں اور اپنی دنیاء و آخرت کو سنواریں...
نورانی قاعدہ، قرآت ،حفظ و ناظرہ بمعہ تجوید ،ترجمہ وتفسیر،نماز و مسنون دعائیں، ،احادیث ،ضروری مسائل، اسلامی آداب کی تعلیم دی جاتی ہے ۔
بچے بچیوں اور خواتین و حضرات سب کیلئے عمر کی کوئی قید نہیں ۔
اندرون و بیرون ملک گھر بیٹھے قرآنی تعلیمات حاصل کرنے کا نادر موقع ۔
پیج لائک اور شئر کریں جزاک اللہ ۔
For further information
Contact on WhatsApp
+923315778090
https://www.facebook.com/Free-online-Quran-academy-100134935568060/

Free online Quran academy پیج کا مقصد قرآن و سنت کی تعلیمات کو فروغ دینا ہے ۔اندر?

Want your school to be the top-listed School/college in Islamabad?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address


Islamabad