24/02/2026
پلک اسکول حیدرآباد میں بزم شیدائے اردو کے زیر اہتمام کتاب "نو دو گیارہ" (مصنف: غلام محمد اصغر) کی رونمائی کے حوالے سے ادبی ذوق و شوق سے معمور ایک محفل کا انعقاد کیا گیا، جس میں اہل علم، ادبا، اساتذہ، طلبہ اور دیگر اردو ادب سے وابستہ شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔تقریب کا آغاز شام 7:00 بجے کیا گیا، جس کی میزبانی محمد آذان (جنرل سیکریٹری بزم شیدائے اردو) اور آنسہ غفور الہٰی ملک (شعبہ اردو پلک اسکول حیدرآباد سے منسلک) نے کی۔
محفل کا باقاعدہ آغاز تلاوتِ قرآن پاک سے ہوا جس کی سعادت بارہویں جماعت کے طالب علم صہیب احمد کو حاصل ہوئی۔ بعد ازاں بارہویں جماعت کے طالب علم جواد احمد نے نعت رسول مقبول ﷺ پیش کی جس نے سامعین کے دلوں کو منور کر دیا۔
تقریب کا استقبالیہ خطبہ محمد رافع (ڈپٹی جنرل سیکریٹری بزم شیدائے اردو) نے پڑھا۔
تقریب کے دوران تمام مہمانوں کو سندھ کی ثقافت اجرک کا تحفہ پیش کیا گیا۔
اس کے بعد تمام مقررین نے کتاب "نو دو گیارہ" کے حوالے سے اپنی رائے کا اظہار کیا۔ مقررین نے کتاب کے مندرجات، اسلوب تحریر اور ادبی و فکری پہلوؤں پر تفصیلی گفتگو کی اور مصنف غلام محمد اصغر کی کاوشوں کو سراہا۔
سب سے پہلے پروفیسر سعید شام صاحب (اردو کے سابقہ استاد پلک اسکول حیدرآباد) نے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ: کتاب "نو دو گیارہ" میں مصنف نے کردار سازی میں عمومی تکنیکوں کا سہارا لیا ہے اور بعض کردار ایسے تراشے ہیں کہ داد دیے بغیر کوئی چارہ نہیں رہتا!
اس تقریب میں اردو ادب کی نامور شخصیت پروفیسر شفیق الرحمن نے کتاب "نو دو گیارہ" کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ: کتاب "نو دو گیارہ" میں جی ایم اصغر کے افسانوں میں مٹی کی سوندھی سوندھی خوشبو آتی ہے اور مہک بھی وہ جیسے دریائے سندھ کے پانی سے گندھی مٹی سے آتی ہے۔
Regards press secretary [حاصل حیات]
26/01/2026
25/12/2025
17/12/2025
11/12/2025