thebeautifulhyderabad

thebeautifulhyderabad

Share

For more & latest updates and information..! For Competitive Examination Preparations..!

For Tourist Services/ Tourist Attraction & Hospitality--hotels, restaurants, canteens cafés & cafeteria..!

29/04/2026

SPSC Interview Result Announced For The Post Of Manager Auqaf BPS 16,In Auqaf, Religious Affairs,Zakat & Usher Department Sindh..

Photos from thebeautifulhyderabad's post 28/04/2026

حیدرآباد میں موجود بزرگ سخی عبدلوہاب شاہ جیلانی ایک معروف صوفی بزرگ تھے جن کا مزار خاص طور پر پکا قلعہ (Pucca Qila) کے قریب واقع ہے۔ ان کے بارے میں مکمل تاریخی تفصیل بہت زیادہ مستند کتابی شکل میں کم ملتی ہے، لیکن جو معروف اور مستند معلومات دستیاب ہیں وہ یہ ہیں:
🕌 نسب اور تعلق
سخی عبدلوہاب شاہ جیلانی کا تعلق سلسلۂ قادریہ سے تھا۔
انہیں شیخ عبدالقادر جیلانی کی اولاد (descendant) بتایا جاتا ہے۔ �
Dawn
ان کے والد کا نام سید احمد شاہ بیان کیا جاتا ہے۔ �
Dawn
🌍 آمد اور قیام حیدرآباد
روایت کے مطابق وہ بغداد (عراق) سے ہجرت کر کے سندھ آئے۔ �
Dawn
انہوں نے حیدرآباد کے قریب ایک مقام کٹھڑی شریف میں قیام کیا، اور پھر اسی علاقے میں دین کی خدمت شروع کی۔ �
Dawn
📚 دینی خدمات
انہوں نے مدرسے قائم کیے جہاں علماء نے اسلام کی تعلیمات کو عام کیا۔ �
Dawn
ان کی تعلیمات کا بنیادی محور:
انسانیت کی خدمت
دین اسلام کی تبلیغ
روحانیت اور اخلاق
🤝 اتحادِ امت کا مرکز
ان کا مزار آج بھی ایک خاص مثال ہے کیونکہ:
یہاں سنی اور شیعہ دونوں عقیدت کے ساتھ آتے ہیں
یہ مزار فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی علامت سمجھا جاتا ہے �
Dawn
📍 مزار کی اہمیت
ان کا مزار حیدرآباد کے اہم روحانی مقامات میں شمار ہوتا ہے
قریب ہی قدم گاہ مولا علی بھی واقع ہے، اور دونوں مقامات پر بڑی تعداد میں زائرین آتے ہیں �
Pakistan Today
📅 عرس
ان کا سالانہ عرس ہر سال ربیع الثانی 22 سے 24 کے درمیان منایا جاتا ہے �
Dawn
⭐ لقب "سخی" کیوں؟
“سخی” کا لقب عام طور پر ان بزرگوں کو دیا جاتا ہے جو:
بہت زیادہ فیاض ہوں
لوگوں کی مدد کریں
لنگر اور خدمت خلق میں آگے ہوں

28/04/2026

والیِ خُراسان ، سُلطانِ عرب و عجم ، شہنشاہِ طُوس مولا امام علی رضا علیہ السلام کی آمد سب کو بہت بہت مُبارک ہو۔۔۔۔۔۔۔

💫 ゚viralシfypシ゚

27/04/2026

Sindh Public Service Commission...
Smart SPSC Library- Membership Announcement For Candidates...

23/04/2026

#حج پر جانے والے افراد متوجہ ہوں
اطلاع دی جاتی ہے کہ #مہندی لگانے کی وجہ سے #مدینہ ایئرپورٹ پر 4 افراد کو واپس بھیج دیا گیا۔
کیونکہ مہندی کی وجہ سے ان کے فنگر پرنٹ اسکین نہیں ہو سکے۔
لہٰذا تمام عازمینِ حج اس بات کا خاص خیال رکھیں کہ سفر سے پہلے ہاتھوں پر مہندی نہ لگائیں تاکہ #امیگریشن کے عمل میں کوئی رکاوٹ پیش نہ آئے۔
اور آپ کے مبارک سفر پر کسی قسم کی کوئی رکاوٹ نا آئے۔
اس پیغام کو شئیر ضرور کریں تاکہ سب کے لیے آسانی پیدا ہو سکے۔

22/04/2026

ڈاکٹر عبد الحمید چنڑ ممبر سندھ پبلک سروس کمیشن مقرر نوٹیفکیشن جاری

20/04/2026

حیدرآباد کے منفرد فور سیٹر رکشوں کی دلچسپ تاریخ، یہ رکشے پاکستان کے کسی اور شہر میں نہیں ملتے۔

thebeautifulhyderabad

سندھ کے دوسرے بڑے شہر حیدرآباد کے فور سیٹر رکشے انتہائی منفرد ہیں۔ مقامی لوگ نہ تو انہیں رکشہ کے نام سے پکارتے ہیں اور نہ ہی چنگچی کہتے ہیں، بس سادہ نام فور سیٹر ہے۔

مخصوص پیلے اور کالے رنگ والے ان فور سیٹروں کی ساخت منفرد ہے، یہ چھوٹی گاڑی کی طرح لگتے ہیں۔ اگلے حصے کے ایک کنارے پر ایک چھوٹا سا بورڈ لگا ہوا ہے، جس پر درج ہوتا ہے کہ ایک فور سیٹر کس علاقے سے کہاں تک چلتا ہے۔ جیسے آنکھوں کا ہسپتال سے بدین اسٹاپ، نواب شاہ اسٹاپ سے ہیرآباد مارکیٹ، نیا پل، بدین اسٹاپ۔

ان فور سیٹروں کی تاریخ انتہائی منفرد ہے۔ شہر کی پہچان بننے والی یہ سواری کسی منصوبے کے تحت وجود میں نہیں آئی بلکہ یہ دراصل ایک حادثاتی ایجاد ہے جس نے بعد میں شہر کی ثقافت کا حصہ بننے کی منزل طے کی۔

فور سیٹر کی کہانی کا آغاز 1965 میں اس وقت ہوا جب جاپان کے سفیر نے حیدرآباد کا دورہ کیا۔ اس دورے کے دوران انہوں نے شہر میں بڑھتے ہوئے کوڑے کے مسئلے کو دیکھا، جس کے بعد انہوں نے سینکڑوں گاڑیاں صفائی کے کام کے لیے پاکستان بھیجیں۔

یہ گاڑیاں میونسپلٹی کے حوالے کر دی گئیں اور کچھ عرصے تک انہیں کوڑا کرکٹ اٹھانے کے لیے استعمال کیا جاتا رہا۔ مگر پھر کچھ ایسا ہوا کہ یہ گاڑیاں وقت کے ساتھ ساتھ کچرا اٹھانا چھوڑ کر لوگوں کو ڈھونے لگیں۔

آج یہ فور سیٹر رکشے حیدرآباد کی گلی محلوں کی رونق ہیں اور شہر کی ثقافت اور تہواروں کا لازمی جزو بن چکے ہیں۔ ان کی چند خاص باتیں یہ ہیں:

منفرد نشست: ان کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ مسافروں کی نشستیں آمنے سامنے ہوتی ہیں، جو دوسرے شہروں کی رکشوں سے بالکل مختلف ہے۔

زیادہ گنجائش: یہ نام کے فور سیٹر ہیں، مگر ان میں کبھی پانچ، چھ، آٹھ اور کبھی کبھی دس لوگ بھی سوار ہوتے ہیں۔ آمنے سامنے بیٹھے ہوئے مسافروں کی ٹانگیں آپس میں ایک دوسرے کی ٹانگوں سے جڑی ہوتی ہیں۔

صرف حیدرآباد کی پہچان: یہ رکشے صرف حیدرآباد کی خاص پہچان ہیں۔

سستی سواری: یہ رکشے عام لوگوں کے لیے سستی اور آسان سواری کا ذریعہ ہیں، اور اسی وجہ سے عوام میں بے حد مقبول ہیں۔

حیدرآباد کا یہ فور سیٹر محض ایک گاڑی نہیں بلکہ اس شہر کی تہذیب، جدت اور عوام کی بے باک زندگی کی ایک زندہ علامت ہے۔

18/04/2026



Celebrated every year on April 18, World Heritage Day reminds us of the importance of preserving cultural and historical treasures that define our identity. In the heart of Hyderabad, this day holds special meaning, as the city stands as a living symbol of Sindh’s rich past and vibrant traditions. From the majestic Pakka Qila to the historic Shahi Bazaar, Hyderabad reflects a blend of architectural beauty, cultural diversity, and centuries-old heritage that continues to thrive today.
Hyderabad is not just a city; it is a story shaped by rulers, artisans, and communities who have contributed to its unique character. The legacy of the Mian Ghulam Shah Kalhoro, who founded the city, still echoes through its streets and landmarks. The intricate craftsmanship of traditional Sindhi handicrafts, the colorful culture, and the warmth of its people make Hyderabad a heritage hub that deserves recognition and preservation.
On this World Heritage Day, it is our collective responsibility to protect and promote these historical sites and traditions for future generations. Thebeautifulyderabad page proudly celebrates the spirit of this city by showcasing its timeless beauty and cultural richness. Let us honor our heritage, preserve our identity, and continue telling the story of Hyderabad to the world. Forget to mention that Hyderabad City was established by GHULAM SHAH KALHORO THE RULER OF SINDH in 1768.


thebeautifulhyderabad
fans

18/04/2026

فیڈرل پبلک سروس کمیشن کی دستاویز کے مطابق مجموعی طور پر وفاقی سروس میں گریڈ 17 میں 327 آسامیوں پر بھرتی کی جائے گی، جن میں 191 نئی اور 136 گزشتہ برسوں سے منتقل شدہ (Carried over)آسامیاں شامل ہیں۔

مجموعی اسامیوں میں اوپن میرٹ (بشمول جنرل میرٹ) کیلئے 169، خواتین کیلئے 35جبکہ اقلیتوں کیلئے 123 نشستیں مختص کی گئی ہیں۔

صوبہ پنجاب کو 50 فیصد کوٹے کے تحت 157، سندھ رورل کو 30، سندھ اربن کو 28، خیبرپختونخوا کو 43، بلوچستان کو 28، سابق فاٹا کو 16، آزاد کشمیر کو 7 اور گلگت بلتستان کو تین آسامیاں دی گئی ہیں۔

thebeautifulhyderabad

Photos from thebeautifulhyderabad's post 17/04/2026

سندھ کے شہر جیکب آباد کی کہانی
(بانی جیکب آباد) انگریز جنرل "جان جیکب" نے سندھ دھرتی پر اپنے لئے صرف دو گز قبر مانگی ۔۔۔۔۔ اگر چاہتا تو سندھ کے سارے خزانے اپنے ساتھ لے جاتا ۔۔۔۔۔ سندھ واسیوں اور وطن پرستوں کیلئے ایک تحریر ۔

ایک انگریز جنرل جس کا نام آج بھی لوگوں کی زبانوں پر ہے ۔۔۔۔۔۔ پرانا "خان گڑھ" اور موجودہ جیکب آباد پر تحریر لکھتے ہوئے مجھے یہ ڈر لگا ہوا ہے کہ کہیں مطالعہ پاکستان والے اس شہر کا نام تبدیل نہ کردیں۔

"جان جیکب" کی پیدائش برطانیہ کے جیکب خاندان میں ہوئی ۔ جان جیکب وولونگٹن ، سمرسیٹ کے مضافات کے ایک اسٹیٹ میں 11 جنوری 1812 میں پیدا ہوا۔

وہ اسٹیٹ جیکب خاندان کی ملکیت تھی ۔ جان جیکب بچپن سے ہی اپنے خاندان کی طرح غیر معمولی صلاحیتوں کا مالک تھا ۔ جیکب خاندان کی روایت کے مطابق جان جیکب کی اسکول کی تعلیم اپنے گھر میں ہی ہوئی ۔ اسکول کی تعلیم ختم کرنے کے بعد انہیں کیڈٹ کالج میں فوجی تعلیم کے لیے داخل کیا گیا ۔
جان جیکب نے قلیل عرصے میں ہی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا اور اپنی صلاحیتوں کی وجہ سے وہ صرف 16 سال کی عمر میں 1828 میں بمبئی آرمی میں بھرتی ہو گئے ۔ جان جیکب کی دلچسپی سائنس اور فلسفے سے تھی لہذا سائنس اور فلسفے کے کتب اس کے زیر مطالعہ رہے ۔
یوں 1828 میں جنوری کے مہینے میں جان جیکب پہلی دفعہ کبھی بھی انگلستان واپس نہ جانے کے لیے ہندوستان آگیا ۔۔۔۔۔۔۔
جان جیکب اچھے شکاری ہونے کے ساتھ ساتھ گھوڑے سواری کے شوقین بھی تھا ۔ ایک اعلیٰ نسل کا عربی گھوڑا ہمیشہ جیکب کا دوست اور مشکل وقت کا مددگار رہا ۔۔۔۔۔۔۔ جیکب کے گھوڑے کا نام "میسنجر" تھا ۔ جان جیکب نے ایک جدید طرز کی بندوق بھی ایجاد کی جو پرانی پاؤڈر بھرنے والی بندوقوں سے کہیں زیادہ بہتر تھی ۔۔۔۔۔

بمبئی میں ہی نوکری کے دوران جان جیکب کو اچانک والدہ کے انتقال کی خبر ملی اور وہ والدہ کی تدفین میں شرکت نہ کر سکا ۔۔۔۔۔۔ اس صدمے نے جیکب کو اندر سے توڑ پھوڑ دیا جان جیکب بہت دل برداشتہ ہوگئے اور انہوں نے کافی عرصے تک اکیلے رہنے کو ترجیح دی ۔ انہی دنوں جان جیکب نے یہ عزم کیا کہ وہ کبھی انگلینڈ واپس نہیں جائیں گے اور پھر واقعی وہ تمام عمر انگلینڈ نہیں گئے ۔
بمبئی رجمنٹ میں سات سال کام کرنے کے بعد جان جیکب کو گجرات کے تحصیلدار کے ماتحت مقرر کیا گیا ۔ جان جیکب شاعری سے بہت زیادہ شغف رکھتے تھے ۔۔۔۔ گو کہ نثر سے انہیں لگاؤ بالکل بھی نہیں تھا ۔۔۔۔۔۔ وہ اکثر انگریزی شاعر "لارڈ بائرن" کی شاعری سے لطف اندوز ہوتے تھے ان دنوں جان جیکب بمبئی آرٹلری میں سیکنڈ لیفٹیننٹ کے طور پر کام کر رہے تھے اور ہندوستان پر اس وقت "لارڈ آکلینڈ" گورنر جنرل کی حیثیت سے بر سر اقتدار تھے ۔

یہ 1838 کا زمانہ تھا جب ایک طرف ہندوستان پر انگریز سرکار کا راج تھا تو دوسری طرف روس ۔۔۔ وسطی ایشیا میں پنجے گاڑنے کے لیے کوشاں تھا ۔ ان دنوں انگلستانی فوج اس خطرے سے دو چار ہو گئی کہ کہیں روسی فوج افغانستان اور ایران کے راستے ہندوستان میں داخل ہوکر ایسٹ انڈیا کمپنی کا بنا بنایا کھیل نہ بگاڑ دے ۔
اس خطرے کے پیش نظر لارڈ آکلینڈ نے افغان حاکم دوست محمد خان (جو کہ افغانستان میں بار کزئی سلطنت کے بانی بھی تھے) کو بذریعہ ایلچی پیغام بھجوایا اور پیشکش کی کہ اگر آپ روس سے جنگ کرنا چاہتے ہیں تو ہم آپ کی ہر طریقے سے مدد کرنے کو تیار ہیں لیکن دوست محمد خان نے اس پیشکش کو نظر انداز کرکے روس سے مزید دوستانہ تعلقات بنانے کا آغاز کیا ۔
لارڈ آکلینڈ کو جب اس بات کی خبر ملی تو انہوں نے شدید غصے میں افغانستان پر حملے کا فیصلہ کیا اسی سال 1838 میں لارڈ آکلینڈ نے اپنے سب سے قابل اور بھروسہ مند سیکنڈ لیفٹیننٹ جان جیکب کو فوج لے کر افغانستان پر حملے کا حکم دیا ۔ جان جیکب سیدھے سندھ آئے اور سندھ میں موجود انڈس آرمی کے دستوں کو ساتھ لے کر خان گڑھ (موجودہ جیکب آباد) کے راستے افغانستان کی طرف سفر شروع کیا ۔

افغانستان میں داخل ہو کر کچھ ماہ کے اندر جان جیکب کی فوج نے قندھار ، غزنی اور کابل فتح کر لیے ۔۔۔۔ دوست محمد خان کو شاہی قیدی بنا کر کلکتہ بھیج دیا گیا اور شاہ شجاع کو دوست محمد خان کا جانشین مقرر کیا گیا ۔ شاہ شجاع کی معاونت کے لیے انگریز فوج کا کچھ حصہ کابل ، قندھار اور جلال آباد میں رکھا گیا اور باقی فاتح فوج جان جیکب کی کمانڈ میں واپس ہندوستان پہنچ گئی ۔۔۔۔۔۔۔ افغان جنگ کے بعد جان جیکب پر انگریز فوج کا اعتماد زیادہ بڑھ گیا اور اگلا محاذ جان جیکب کو "خان گڑھ" کا دیا گیا ۔ خان گڑھ ان دنوں خان آف قلات کے زیر اثر تھا ۔۔۔۔۔۔ خان گڑھ ۔۔۔ شکار پور اور آس پاس کے مقامات میں بڑھتی ہوئی بدامنی لوٹ مار اور قتل و غارت کے بڑھتے ہوئے واقعات نے انگریز سرکار کو یہ قدم اٹھانے پر مجبور کردیا ۔ حکم کی تعمیل کرتے ہوئے جان جیکب نے توپوں اور چالیس فوجی سپاہیوں کے ساتھ اپر سندھ کا رخ کیا ۔۔۔۔۔ ان کی منزل شکار پور تھی ۔۔۔۔۔۔۔ راستے میں جھلسا دینے والی گرمی اور شدید حبس کی وجہ سے ایک فوجی افسر اور 6 سپاہی دم توڑ گئے ۔۔۔۔۔ منزل تک پہنچتے پہنچتے کل 16 سپاہی مر چکے تھے ۔ ان حالات نے باقی ماندہ سپاہیوں کو بغاوت کرنے پر مجبور کر دیا اور ان سب نے واپس جانے کی ٹھان لی لیکن جان جیکب نے قائدانہ صلاحیتوں کا استعمال کرتے ہوۓ انہیں وہیں رہ کر اپنا فرض نبھانے اور حالات سے مقابلہ کرنے پر راضی کیا ۔ ۔۔۔۔۔۔
1840 عیسوی میں پھر جان جیکب کی خدمات حیدرآباد میں طلب کی گئیں ۔ ان دنوں سر چارلس نیپئر نے سندھ کے مختلف علاقوں کو فتح کیا اور اعزاز کے طور پر سر چارلس نیپیئر کو سندھ کا گورنر جنرل مقرر کیا گیا ۔ عہدہ سنبھالتے ہی سر چارلس نیپیئر نے سندھ کے امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال کا جائزہ لیا ۔۔۔۔۔۔ قتل و غارت اور لوٹ مار روز کا معمول بن چکے تھے انہوں نے حالات پر قابو پانے کے لیے پہلے جنرل "بلا مور" کو بھیجا لیکن وہ بری طرح ناکام ہوگئے ۔ 1847 عیسوی میں جان جیکب کو بدامنی ختم کرنے کا مشن سونپ کر سیاسی ایجنٹ بنا کر اپر سندھ بھیجا گیا ۔
حیدرآباد سے اپنے گھوڑے پر سوار لشکر اور توپوں کے ہمراہ جب جان جیکب سیہون شریف ، لاڑکانہ اور شکارپور سے ہوتے ہوئے موجودہ جیکب آباد پہنچے تو حالات پہلے سے مختلف پائے بہت زیادہ ویرانے ، بنجر زمین ، کہیں کہیں کوئی چرواہا اپنی بکریوں کا ریوڑ چرا رہا تھا ہر جگہ خوف و ہراس پھیلا ہوا تھا لوگ خوف کے مارے گھروں سے نہیں نکلتے تھے ۔
علاقے میں پانی کی شدید قلت تھی ہر طرف ریت تھی اور خان گڑھ (موجودہ جیکب آباد) میں ایک درجن کے قریب ہی جھگیاں نظر آرہی تھیں ۔۔۔۔۔۔ جان جیکب کے ساتھی "ہینری گرین" نے طنزیہ جان جیکب سے کہا کہ
"کیا آپ اس علاقے کو آباد کرکے یہاں کنٹونمنٹ بنائیں گے ؟" ۔۔۔ جان جیکب نے مسکرا کر جواب دیا کہ "اب یہ میرا گھر ہے میں اس کو گلزار بناؤں گا اور تاحیات یہیں رہوں گا".

خان گڑھ کی آبادی اس وقت چند گنے چنے لوگوں پر مشتمل تھی . کچھ روایات کے مطابق خان گڑھ انگریزوں سے پہلے خان آف قلات کا قلعہ تھا ۔۔۔۔۔ انہوں نے اسے اپنے فوجیوں کی رہائش کے لیے تعمیر کروایا تھا پھر یہاں شکارپور کے کچھ ہندوؤں نے دوکانیں کھولیں جہاں سے لوگ سامان خرید کر ڈیرہ بگٹی جاتے تھے ۔ "ایچ ٹی لیمبرک" نے اپنی کتاب "جان جیکب آف جیکب آباد" میں لکھا ہے کہ خان گڑھ پہلے میر علی مراد خان کی فوجی چوکی کا حصہ تھا جس پر بعد میں خان آف قلات نے قبضہ کیا.

خان گڑھ پہنچتے ہی جو سب سے پہلا کام جان جیکب نے کیا وہ بڑھتی ہوئی بدامنی کو روکنا تھا انہوں نے امن قائم کرنے کے لیے چار فوجی چوکیاں ۔۔۔۔ مبارک پور ، گڑھی حسن ، کشمور اور شاھ پور میں قائم کیں۔ پینے کے پانی کی فراہمی کے لیے ایک بڑا تالاب بنوایا ۔۔۔۔ نور واھ کی کھدائی کروائی تاکہ تالاب میں پانی پہنچ سکے کھدائی کا کام جکھرانی اور ڈومکی قبیلے کے پانچ سو لوگوں نے کیا ۔۔۔۔۔۔
بیگاری کینال کی وسعت کے لئے کام کیا تاکہ ملٹری کیمپ کو پانی کی فراہمی یقینی بنائی جاسکے۔ گڑھی حسن سے کشمور تک روڈ تعمیر کروایا گیا ۔ جیکب کی رہائش گاہ کی تصویر ہنگری کے آرٹسٹ نے خان گڑھ پہنچ کر بنائی۔ جب دریا کا پانی پہلی بار بذریعہ نور واہ شہر میں پہنچا تو لوگوں نے جان جیکب کو سلامی دی۔
فوجی چھاؤنی کو شہر میں پانی پہنچانے کیلئے راج واھ کی کھدائی کروائی اس کھدائی سے جو مٹی نکلی اس سے اینٹیں بنوا کر جدید منصوبہ بندی کے تحت فوجیوں کے لیے کوارٹر بنوائے گئے جنہیں "فیملی لینز" کا نام دیا گیا جو آج تک رہائشی علاقے ہیں اور فرسٹ فیملی سیکنڈ فیملی اور تھرڈ فیملی لین کے نام سے مشہور ہیں ۔

شکارپور اور موجودہ بلوچستان کے علاقے بھاگ ناڑی اور دوسرے آس پاس کے علاقوں کے لوگوں کو خان گڑھ میں آباد ہونے اور کاروبار کرنے پر رضامند کیا گیا۔ اسی طرح خان گڑھ کا چند جھگیوں پر مشتمل علاقے سے ایک ترقی یافتہ شہر اور کاروباری مرکز کا سفر شروع ہوگیا ۔

بنجر زمینوں کو آباد کروایا ، تحصیل دار مقرر کیے اور محصول کے قوانین قائم کیے۔ اناج کو مارکیٹ تک لانے کے لیے سڑکیں تعمیر کروائیں اور آمد ورفت کی سہولت دی۔ سڑکوں کے کنارے درخت لگوائے اور یوں ایک آرکیٹیکٹ ، انجینئر اور فوجی جنرل نے ایک گرم ترین علاقے کو ایک پر فضا مقام بنا دیا ۔
بالآخر جان جیکب کے ایک پورے شہر کو منصوبے کے تحت تعمیر کرنے کی خدمات کو سراہتے ہوئے وائسرائے ہند "لارڈ ڈلہوزی" نے 1851 میں خان گڑھ کا نام بدل کر جیکب آباد رکھا اور اسے اپر سندھ کا ہیڈ کوارٹر بنایا اور جان جیکب کو ترقی دی گئی ۔
1857 میں جان جیکب کو بریگیڈیئر جنرل کے عہدے پر ترقی دی گئی۔ جیکب آباد پہلے شکارپور میں شامل تھا لیکن جان جیکب نے اسے الگ ضلعے کا درجہ دے کر اس کی حدود طے کیں ۔ اس وقت جیک آباد ، تین تحصیل جیکب آباد ، ٹھل اور گڑھی خیرو پر مشتمل تھا ۔۔۔۔۔۔۔ اس وقت جیکب آباد میں بلوچ ، سرائیکی اور سندھی قبیلے آباد تھے ۔۔۔ جن میں رند ، کھوسہ ، ڈومکی ، جمالی ، لاشاری ، جکھرانی اور سہریانی شامل تھے ۔ سندھ کو فتح کرنے کے بعد انگریزوں نے سندھ کو تین اضلاع کراچی حیدرآباد اور شکارپور میں تقسیم کیا ۔ جان جیکب کو خان گڑھ بھیجنے کا ایک مقصد اس بغاوت کا سر کچلنا بھی تھا جو سندھ کو بمبئی میں شامل کرنے کے وقت تمام قبائلی سرداروں نے شروع کی تھی۔

جان جیکب کو انجینئر بننے کا بہت شوق تھا لیکن وہ امتحان پاس نہ کرسکے اور انجینئر نہ بننے کے باوجود بھی جان جیکب عملی طور پر ایک قابل ، ذھین اور تجربہ کار انجینئرز ثابت ہوئے۔ ان کا سب سے بڑا کارنامہ ان کی بنائی ہوئی گھڑی ہے جو آج بھی جیکب ہاؤس میں موجود ہے۔ یہ دنیا کی واحد منفرد کھڑی (Magnum Opus) ہے جو ایک ہی وقت میں دو ممالک پاکستان اور انگلینڈ کا وقت (گو کہ دونوں میں 4 گھنٹے کا فرق ہے) بتانے کے ساتھ ساتھ قمری تاریخ ، چاند کی شکل ، ہفتے کے دن اور صدیوں کا کیلنڈر بھی اس گھڑی میں لگا ہوا ہے۔

گھڑی میں جو پینڈولم لگا ہوا ہے وہ افغان جنگ میں افغانستان کی طرف سے فائر ہونے والا توپ کا گولا ہے ، جو جان جیکب کو تحفے میں ملا تھا ، اس کے علاوہ جان جیکب نے جو اپنی بندوق بنائی اُسے "جیکبز رائفل" کے نام سے جانا جاتا ہے۔ ایسی ایک اور گھڑی بھی جان جیکب نے بنائی جو کندھ کوٹ آفس میں رکھی گئی تھی جو بعد میں ضائع ہوگئی ..... لیکن جیکب آباد والی گھڑی آج بھی اپنی اصل شکل میں اور اصل حالت میں محفوظ ہے ۔

پیغام رسانی کیلئے جان جیکب نے جو کبوتر پال رکھے تھے ان کے لئے ایک پیجن ہاؤس Pigeon House بنوایا جو آج بھی اپنی اصل حالت میں موجود ہے ۔ جیکب کا گھوڑا اور دوست میسنجر 1857 میں مر گیا اور ریڈ کراس ہسپتال جیکب آباد میں دفن ہے ۔

اپنی وفات سے ایک ماہ قبل بھی جان جیکب پورے جیکب آباد کا دورہ کرتے اور انتظامات کا معائنہ کرتے رہے لیکن ذہنی اور جسمانی کمزوری محسوس ہونے لگی کھانا پینا اور سونا کم کر دیا پھر بھی وہ کام کرتے رہے ۔
28 نومبر 1858 کے دن جب وہ شہر کے دورے سے واپس جیکب ہاؤس آئے تو گھوڑے سے اترتے ہی اپنے خاص سپاہی کو کہا کہ پانچ منٹ کے بعد میں نہیں رہوں گا ، اسکے بعد وہ اندر اپنے کمرے میں گئے اور دوسرے دن بے ہوش ہوگئے اور آخرکار 5 دسمبر 1858 میں رات کے پچھلے پہر یعنی 6 دسمبر کی صبح وہ اس فانی دنیا سے رخصت ہوگئے ۔
اگلے دن ان کی وصیت کے مطابق انہیں جیکب آباد کے قبرستان میں دفن کیا گیا ان کے جنازے میں بلوچ سردار ۔۔۔۔ سپاہی اور سینکڑوں مقامی لوگ شریک ہوئے ۔ وہ 16 سال کی عمر میں انگلینڈ سے پاکستان آئے اور کبھی واپس نہ گئے۔

نوٹ ۔ اس تحریر کیلئے ڈاکٹر غلام نبی سدھایو کی کتاب "جیکب آباد اور جون جیکب"
"جیکب آباد کی ثقافتی خوشبو"
اس کے علاؤہ وکی پیڈیا اور پنج ند کوم کی مدد سے تحریر کیا گیا ہے ۔

thebeautifulhyderabad fans

Photos from thebeautifulhyderabad's post 16/04/2026

Advertisement No 3.
Sindh Public Service Commission has announced various posts in different Subjects and Departments
Closing date: 04-05-2026

Photos from thebeautifulhyderabad's post 10/04/2026

سکر IBA طرفان جونيئر سائنس ٽيچر JST گريڊ 14 جو ورتل اڄوڪو پيپر... بتاريخ 10.04.2026

Want your school to be the top-listed School/college in Hyderabad?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Telephone

Website

Address


Hyderabad

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 17:00