thebeautifulhyderabad

thebeautifulhyderabad For more & latest updates and information..! For Competitive Examination Preparations..!

For Tourist Services/ Tourist Attraction & Hospitality--hotels, restaurants, canteens cafés & cafeteria..!

22/08/2026

Live From Indus River Hyderabad.

HAPPY Independence 🇵🇰 🇵🇰 🇵🇰
14/08/2026

HAPPY Independence 🇵🇰 🇵🇰 🇵🇰

13/08/2026

اهم اطلاع — فيس بايوميٽرڪ حاضري
سومر، 17 آگسٽ 2026ع کان ضلع ڪراچي ايسٽ، حيدرآباد، گھوٽڪي، عمرڪوٽ ۽ جيڪب آباد جي تعليم کاتي جي ملازمن لاءِ فيس بايوميٽرڪ حاضري لازمي ڪئي پئي وڃي.
حاضري جا مقرر وقت:
ٽيچنگ اسٽاف: صبح 8:00 وڳي اِن ٽائيم، ۽ منجهند 2:30 وڳي آئوٽ ٽائيم.
نان ٽيچنگ اسٽاف: صبح 8:00 وڳي اِن ٽائيم، ۽ شام 4:00 وڳي آئوٽ ٽائيم.
ڏينهن وارو چوڪيدار: صبح 8:00 کان شام 4:00 وڳي تائين ڊيوٽي.
رات وارو چوڪيدار: شام 4:00 وڳي کان صبح 8:00 وڳي تائين ڊيوٽي.
سڀني لاڳاپيل ملازمن کي هدايت ڪئي وڃي ٿي ته مقرر وقت جي پابندي ڪندي پنهنجي فيس بايوميٽرڪ حاضري يقيني بڻائين.

The Government of Sindh is pleased to notify that Friday, 14th August 2026, shall be observed as a *Public Holiday on th...
10/08/2026

The Government of Sindh is pleased to notify that Friday, 14th August 2026, shall be observed as a *Public Holiday on the occasion of Independence Day of Pakistan.*

سٺي ساک رکندڙ آفيسر رياض جکراڻي سنڌ پبلڪ سروس ڪميشن جو سيڪريٽري مقرر
10/08/2026

سٺي ساک رکندڙ آفيسر رياض جکراڻي سنڌ پبلڪ سروس ڪميشن جو سيڪريٽري مقرر

27/07/2026
90 کی دہائی دنیا کو دو حصوں میں تقسیم کر کے اپنی الگ پہچان رکھنے والی دہائی تھی۔ پتہ نہیں کیوں، مگر یہ وقت واقعی انمول ت...
21/07/2026

90 کی دہائی دنیا کو دو حصوں میں تقسیم کر کے اپنی الگ پہچان رکھنے والی دہائی تھی۔ پتہ نہیں کیوں، مگر یہ وقت واقعی انمول تھا۔ اس کی ہر بات، ہر ایونٹ اور ہر شعبہ اپنی مثال آپ تھا۔ چاہے کھیل ہوں، عشق ہو، شاعری ہو یا فلمی دنیا، ہر چیز اپنے عروج پر تھی جس نے یہ دہائی نہیں دیکھی، اس نے شاید زندگی کا اصل مزہ ہی نہیں چکھا۔

دنیا کو دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے: ایک 90 کی دہائی سے پہلے کی دنیا، اور دوسری اس کے بعد کی دنیا۔

یہ دہائی حقیقی دنیا کی خوبصورتی کی آخری دہائی تھی، جب خون سے خط لکھنے، عید کارڈ بھیجنے، مل بیٹھ کر وی سی آر پر فلمیں دیکھنے اور بیٹھک میں پاکستان کے میچز دیکھنے کی روایت اپنے عروج پر تھی، مگر آہستہ آہستہ اختتام کی طرف بڑھ رہی تھی۔

پھر ٹیکنالوجی میں بہت تیزی سے جدت آ گئی، جس نے زندگی کی حقیقی خوشیوں کو مصنوعی جدت کی لپیٹ میں لے لیا اور زندگی کو ایک حد تک بے رنگ اور مصروف بنا دیا۔

واٹس ایپ اور میسنجر میں آنکھ کھولنے والے خط کے جواب کے انتظار کی شدت اور خط پڑھنے کی کیفیت کا اندازہ ہی نہیں لگا سکتے۔ اسی طرح نیٹ فلکس کی جنریشن سینما ہال کی ٹکٹ ملنے کی خوشی، اور جمعرات یا ہفتہ کو ٹی وی پر چلنے والی فلم سے جڑے جذبات اور احساسات سے قطعاً آشنا نہیں ہو سکتی۔

اس دور کی ہر فلم کسی لائبریری کا حصہ ہے اور روشن ستاروں کی طرح امر ہے، جب کہ بعد میں آنے والی فلمیں ریکارڈ بزنس کرنے کے باوجود کچھ عرصے بعد اپنے نام تک بھلا دیتی ہیں۔

اس دور میں فلمی دنیا کو جو ستارے ملے، نہ ایسے پہلے آئے تھے اور نہ ہی بعد میں آ سکے۔ آج وہی ستارے بھی وقت کے ساتھ ماند پڑتے جا رہے ہیں۔ جس دن یہ ستارے ہم میں نہ رہے، اسی دن نوے کی دہائی کا سورج بھی اپنی یادوں کے ساتھ مکمل طور پر غروب ہونے لگے گا۔

ممکن ہے کہ 90 کی دہائی آہستہ آہستہ اپنی ساری رعنائیاں خاموشی سے اپنے ساتھ لے جائے، اور ایک وقت ایسا آئے کہ کسی کو یاد بھی نہ رہے کہ دنیا میں ایک ایسی دہائی بھی گزری تھی جسے پوری نوعِ انسانی کی تاریخ میں ایک منفرد مقام حاصل تھا۔

ہم خوش قسمت ہیں کہ ہم وہ آخری نسل نسل تھے جس نے نوے کی دہائی میں جوان ہو کر ان یادوں کے گواہ بن کر جی رھے ہیں اور اگر ہم نے وہ زندگی نہ جی ہوتی تو بہت کچھ جینا مس کر دیا ہوتا ۔۔

کیا آپ کو بھی نوے کی دہائی کی کوئی خاص بات یاد ہے؟

ڪراچي صرف هڪ شهر ناهي، پاڪستان جي معيشت جي ڌڙڪن آهيجيڪڏهن ڪو نوجوان ڪاروبار سکڻ چاهي ته کيس ڪراچي جي هول سيل مارڪيٽن جو ...
04/07/2026

ڪراچي صرف هڪ شهر ناهي، پاڪستان جي معيشت جي ڌڙڪن آهي
جيڪڏهن ڪو نوجوان ڪاروبار سکڻ چاهي ته کيس ڪراچي جي هول سيل مارڪيٽن جو صرف هڪ چڪر لڳرائي ڇڏيو، هن کي خبر پئجي ويندي ته دولت ڪيئن ٺهندي آهي.
جوڙيا بازار، دالون، چانور، کنڊ، گيهه، مصالحا، خشڪ ميوا ۽ جنرل هول سيل واپار
بولٽن مارڪيٽ – پلاسٽڪ، ڪرڪري، ڪچن آئٽمز، امپورٽيڊ سامان ۽ هزارين قسمن جو گهريلو مال.
سبزي منڊي – سڄي سنڌ ۽ بلوچستان تائين ميون ۽ ڀاڄين جي سپلاءِ جو وڏو مرڪز.
فش هاربر – مڇي جي خريد و فروخت، ايڪسپورٽ ۽ اربين رپين جي سامونڊي واپار جو مرڪز.
ڪتل خانو ۽ گوشت جون هول سيل منڊيون – ڳئون، ٻڪري، اونٺ ۽ ڪڪڙ جي گوشت جي سپلاءِ.
ڊيري مارڪيٽون – کير، ڏهي، مکڻ ۽ ٻين کير وارين شين جو وڏو ڪاروبار.
دوائن جون مارڪيٽون – پاڪستان جي وڏي دوائن جي سپلاءِ جو اهم مرڪز.
شير شاهه آٽو مارڪيٽ – گاڏين جا اسپيئر پارٽس، انجڻ، ٽائر ۽ هر قسم جو آٽو سامان
لوهه ۽ اسٽيل مارڪيٽون – لوهه، اسٽيل، پائپ، گرڊر ۽ صنعتي سامان
سيمينٽ ۽ بلڊنگ مٽيريل مارڪيٽون
سيمينٽ، سريو، ٽائلس، سينيٽري ۽ تعميراتي سامان.
ڪپڙي جون هول سيل مارڪيٽون – سوٽ، فيبرڪ، گارمينٽس، ريڊي ميڊ ڪپڙا ۽ ٽيڪسٽائل.
اردو بازار – ڪتاب، اسٽيشنري، پرنٽنگ ۽ تعليمي سامان.
پيپر مارڪيٽ – پيپر، ڪارٽن، پيڪنگ مٽيريل ۽ پرنٽنگ انڊسٽري.
اليڪٽرانڪس مارڪيٽون – ٽي وي، فريج، اي سي، سولر ۽ برقي سامان.
موبائل مارڪيٽون – موبائيل فون، ايسيسريز ۽ موبائيل واپار
هارڊويئر ۽ اليڪٽريڪل مارڪيٽون – اوزار، تارون، سوئچ، موٽرون ۽ صنعتي سامان.
ڪاسميٽڪس، جوتن، رانديڪن، بيڪري، پيڪنگ، پلاسٽڪ ۽ ٻين سوين شين جون الڳ الڳ هول سيل مارڪيٽون به روزانو ڪروڙين رپين جو ڪاروبار ڪن ٿيون.
هاڻي اچو پاڻ کان هڪ سوال پڇون...
انهن مارڪيٽن ۾ اسان سنڌين جو حصو ڪيترو آهي؟
هي ڪنهن ٻئي تي تنقيد ڪرڻ جو موضوع ناهي، پر پنهنجي سوچ تبديل ڪرڻ جو موضوع آهي.
جيڪڏهن اسان جا نوجوان صرف نوڪري جي انتظار ۾ ويهندا رهندا، ته واپار جا دروازا ٻيا کوليندا
پر جيڪڏهن اسان هنر سکون، هول سيل واپار سمجهون، ڊسٽريبيوشن نيٽ ورڪ ٺاهيون، امپورٽ، ايڪسپورٽ ۽ جديد ڪاروبار ۾ قدم رکون، ته ايندڙ ڏهن سالن ۾ سنڌ جي معاشي تصوير بدلجي سگهي ٿي

شامِ غریباں کا ہولناک منظر اور دو بچےجب شامِ غریباں شامی فوج نے خیام کو آگ لگا دی تو کئی بچے اِدھر اُدھر ڈر کر دوڑنے لگے...
26/06/2026

شامِ غریباں کا ہولناک منظر اور دو بچے

جب شامِ غریباں شامی فوج نے خیام کو آگ لگا دی تو کئی بچے اِدھر اُدھر ڈر کر دوڑنے لگے۔ بعد میں جب سیدہ زینب سلام اللہ علیھا نے بچوں کی گنتی کی تو کچھ بچے کم تھے۔

بی بی نے اپنی بہن سیدہ امِ کلثوم سلام اللہ علیھا کو ساتھ لیا اور ان بچوں کی تلاش جاری کردی۔

دیکھتے دیکھتے کچھ جھاڑیوں کے پاس پہنچے تو وہ دونوں بچے ایک دوسرے کی بانہوں میں بانہیں ڈال کر سو رہے تھے۔

بی بی زینب سلام اللہ علیھا نے جب قریب جا کر ان بچوں کو دیکھا تو دونوں بچے زندہ نہیں تھے۔ خوف کے عالم میں ان معصوموں کی جان نکل چکی تھی۔

شامِ غریباں روزِ عاشور کے ہولناک مناظر میں ایک اضافہ تھا۔ شامِ غریباں مخدراتِ عصمت اور سید سجاد علیہ السلام کی جانثاری کا آغاز تھا۔

خدایا، شامِ غریباں کے بارے میں منفی پراپیگنڈہ کرنے والے لوگوں کو دنیا و آخرت میں رسوا کردے۔ آمین
thebeautifulhyderabad

25/06/2026

👈 ملعون عمر بن سعد کو امام حسینؑ کے خلاف جنگ کی قیادت کیوں سونپی گئی؟

یہ ایک اہم تاریخی سوال ہے کہ اموی حکومت، بالخصوص عبید اللہ بن زیاد نے امام حسینؑ کے خلاف جنگ کے لیے عمر بن سعد بن ابی وقاص کو ہی کیوں منتخب کیا؟ اس سوال کا جواب دو جہات سے سمجھا جا سکتا ہے:

پہلی جہت: عمر بن سعد کا مختصر تعارف

عمر بن سعد بن مالک (ابو وقاص) قریش کے قبیلہ بنو زہرہ سے تعلق رکھتا تھا۔ اس کی ولادت 23 ہجری میں ہوئی۔ بعض مورخین نے لکھا ہے کہ وہ عہدِ رسالتؐ میں پیدا ہوا تھا اور اس کے والد سعد بن ابی وقاص نے اسے ان لشکروں میں شامل کیا تھا جو جزیرہ فرات کے علاقوں کی فتوحات کے لیے بھیجے گئے تھے۔ بعد ازاں وہ کوفہ میں سکونت پذیر ہوا۔
(الاصابہ، ابن حجر، ج 5، ص 219؛ الطبری، ج 3، ص 156)

عمر بن سعد بنو امیہ کا وفادار کارندہ تھا۔ وہ ان افراد میں شامل تھا جنہوں نے یزید بن معاویہ کو خطوط لکھ کر حضرت مسلم بن عقیلؑ کی تحریک کے بارے میں آگاہ کیا اور کوفہ کے گورنر نعمان بن بشیر کی کمزوری کا ذکر کرتے ہوئے سخت اقدامات کا مطالبہ کیا۔
(انساب الاشراف، ج 2، ص 77)

جب عبید اللہ بن زیاد نے اسے شہرِ ری (موجودہ تہران کے جنوب میں واقع علاقہ) کی حکومت دینے کا وعدہ کیا تو اسے چار ہزار سپاہیوں کے لشکر کا سپہ سالار مقرر کیا گیا۔ اسی دوران امام حسینؑ عراق تشریف لے آئے۔ چنانچہ عبید اللہ بن زیاد نے عمر بن سعد کو حکم دیا کہ پہلے امام حسینؑ کا معاملہ نمٹائے۔

اس نے عمر بن سعد سے کہا:

"اگر حسینؑ میرے سامنے آ کر بیعت کر لیں تو بہتر، ورنہ ان سے جنگ کرو۔"

ابتداءً عمر بن سعد نے تردد ظاہر کیا، مگر عبید اللہ بن زیاد نے دھمکی دی کہ اگر حکم نہ مانا تو نہ صرف حکومتِ ری چھین لی جائے گی بلکہ اس کا گھر بھی مسمار کر دیا جائے گا۔ دنیاوی اقتدار اور منصب کی لالچ میں آ کر عمر بن سعد نے امام حسینؑ کے خلاف لشکر کشی قبول کر لی اور سانحۂ کربلا کا مرکزی کردار بن گیا۔

بعد میں جب مختار بن ابی عبید ثقفی نے کوفہ پر قبضہ کیا تو اس نے عمر بن سعد اور اس کے بیٹے حفص دونوں کو قتل کر دیا۔
(الطبقات الکبریٰ، ج 5، ص 168)

دوسری جہت: عمر بن سعد ہی کو کیوں منتخب کیا گیا؟

مورخین کے تجزیے کے مطابق اس انتخاب کے چند اہم اسباب تھے:

1۔ لشکر پہلے سے تیار تھا

عمر بن سعد چار ہزار سپاہیوں کے ساتھ ری کی جانب روانگی کے لیے مکمل طور پر تیار تھا۔ لہٰذا عبید اللہ بن زیاد کے لیے یہ آسان تھا کہ اسی تیار شدہ لشکر کا رخ کربلا کی طرف موڑ دے۔ اس طرح نئے لشکر کی تیاری یا نئے سپہ سالار کے انتخاب کی ضرورت پیش نہ آئی۔

2۔ اس کی سماجی اور سیاسی حیثیت

اگرچہ کوفہ میں اموی حکومت کا نمایاں سیاسی نمائندہ عمرو بن حریث مخزومی تھا، لیکن عمر بن سعد کو ایک خاص علامتی اور سماجی مقام حاصل تھا۔

- وہ سعد بن ابی وقاص کا بیٹا تھا، جسے عراق کی فتوحات اور شہرِ کوفہ کے قیام سے منسوب کیا جاتا ہے۔
- وہ قریش کے معزز خاندان سے تعلق رکھتا تھا۔
- اس کے نام اور نسب کو عوام میں ایک خاص وقار حاصل تھا۔

اسی لیے اموی حکومت چاہتی تھی کہ امام حسینؑ جیسے عظیم اور محبوب فرزندِ رسولؐ کے مقابلے میں ایک ایسا شخص سامنے لایا جائے جسے معاشرے میں بااثر اور معتبر سمجھا جاتا ہو، تاکہ حکومت اپنے اقدام کو سیاسی جواز فراہم کر سکے۔

3۔ اقتدار اور لالچ کا ہتھیار

عبید اللہ بن زیاد نے عمر بن سعد کو حکومتِ ری، منصب اور سیاسی وجاہت کے خواب دکھائے۔ یہی دنیاوی لالچ اس کے لیے فیصلہ کن ثابت ہوئی۔ اس نے آخرت کی کامیابی کے مقابلے میں دنیا کی چند روزہ حکومت کو ترجیح دی اور تاریخ کے بدترین جرائم میں شریک ہو گیا۔

نتیجہ

عمر بن سعد کا انتخاب محض اتفاقی نہیں تھا، بلکہ اس کے پیچھے سیاسی مصلحتیں، عسکری سہولت، قبائلی وجاہت اور دنیاوی لالچ جیسے عوامل کارفرما تھے۔ عبید اللہ بن زیاد نے ایک ایسے شخص کو چنا جس کے پاس تیار لشکر بھی تھا، سماجی اثر و رسوخ بھی، اور اقتدار کی خواہش بھی۔ مگر حکومتِ ری کی آرزو میں اس نے وہ راستہ اختیار کیا جس نے اسے تاریخ میں ہمیشہ کے لیے ظلم، بے وفائی اور شقاوت کی علامت بنا دیا۔ دنیا کی حکومت نہ مل سکی اور آخرت بھی برباد کر بیٹھا۔

Address

Hyderabad

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 17:00

Telephone

+923332746804

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when thebeautifulhyderabad posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to thebeautifulhyderabad:

Shortcuts

Share