09/10/2018
Govt: Girls High School
Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Govt: Girls High School, School, Govt Girls School , unit no. 6 , Latifabad, Hyderabad.
09/10/2018
05/10/2018
5th October teacher's day.
29/09/2018
Top three positions in H.S.C-II EXAMINATION
Hyderabad Board.
18/09/2018
S.Sc.I,II... supplementary examination time table.
*یااللہ! نیا سال امت مسلمہ کے لیے خیروبرکت بھلائیوں والا کر دے اللہ امت مسلمہ کے خارجی داخلی دشمنوں پر امت کو غلبہ عطا فرما ۔آمین*
⚜🌹⚜🌹⚜🌹⚜
۱ محرم ۱۴۴۰ ہجری
السلام وعليكم ورحمة الله و بركاته
نیا سال مبارک
دعا :-
اے رب کریم"
تیرے خزانے دولت و حکمت سے بھر پور ھیں تو مالک کائنات" ھے تو ھر چیز پر قدرت رکھتا ھے ھم سب كو صحت و سلامتی دنیا و آخرت کی خیر و عافیت نصیب فرما.
اَمِين يَا رَبَّ الْعَالَمِيْن
06/09/2018
Excellent step.....
Copy
سرکاری استاد آخر چاہتا کیا ہے???
یہ تقریبا دو ہزار چودہ کی بات جب جاپان نے پاکستان کو دعوت دی کہ وہ اپنے تعلیمی ماہرین کو یہاں جاپان بھیجے تاکہ وہ یہاں آ کر ھمارے نظام تعلیم کو دیکھیں مختلف دوست ممالک اس طرح کے وفود آپس میں بھیجتے بلاتے رہتے ہیں ھم بھی وہاں پہنچے تو ھم نے وہاں ہر جگہ استاد کی عزت دیکھی جاپانیوں کو جہاں پتہ چل جاۓ کہ یہاں استاد موجود ہے وہاں پر ہی سب جاپانی انتہائی عزت و احترام سے سر جھکا کر کھڑے ہو جاتے ہیں اتنی عزت استاد کو دی جاپانیوں نے دوسری جنگ عطیم میں جب امریکہ نے ہیرو شیما اور ناگا ساگی پر ایٹم بم پھینک کر ان دونوں شہروں کو ملیامیٹ کر دیا تھا تو جاپان نے ہتھیار ﮈال دیے تھے اور اسکے اتحادی ہٹلر نے خودکشی کر لی تھی اس وقت جاپان میں جنگ بندی کے بعد ہنگامی اجلاس ہوا اور سارے ملک سے انتہائی ﺫہین لوگوں کو بلایا گیا اور ان سے پوچھا گیا کہ ان شہروں کو آباد کرنا ہے کیا کیا جاۓ کسی نے کہا پوری دنیا سے انجینئر بلاۓ جائیں کسی نے کہا امریکہ سے بھاری مشینری منگوائی جاۓ جب سب دانشور اپنی اپنی راۓ دے چکے تو ایک دانش ور جو کافی دیر سے خاموش بیٹھا یہ سب سن رہا تھا بولا کہ کچھ بھی کرنے کی ضرورت نہیں ہے اپنا سارا بجٹ تعلیم پر لگا دو پوری قوم سخت مخنت کرے استاد کو فکر معاش سے آزاد کر دیا جاۓ تو مشینری اور انجینئر سب ھمارے ملک میں پیدا ہوں گے اور ھم پھر سے ایک عظیم قوم بن جائیں گے سب کو تجویز پسند آئی اور اس کے بعد اس پر عمل درآمد شروع ہو گیا چند ہی سالوں میں جاپان نے پوری دنیا میں تہلکہ مچا دیا تمام اسلامی ملک کا بجٹ ایک طرف اور اکیلا جاپان ایک طرف پھر بھی جاپان کا بجٹ ان سب سے زیادہ ہے دنیا کے ایک سو چھ ممالک کا جی ﮈی پی جاپان سے کم ہے جاپان میں شرح خواندگی سو فی صد ہے آج بھی جاپان میں دو سو لوگوں کی لائن لگی ہو اور کوئی آ کر صرف اتنا کہہ دے میں استاد ہوں سب ایک سائیڈ پر سر جھکا کر کھڑے ہو جاتے ہیں پولیس اسٹیشن میں پولیس والے استاد کے سامنے بیٹھتے نہیں عدالت میں جج بھی اٹھ کر کھڑا ہو جاتا ہے اسی لیے جابان دو بم کھانے کے بعد بھی آج سر اٹھا کے پوری طاقت سے کھڑا ہے..جاپان نے ثابت کیا ہے کہ تعلیم سے سب کچھ بدلا جا سکتا ہے اور انہوں نے یہ سب کر کے دکھایا بھی....
اب ھم آتے ہیں اپنے ملک پاکستان کی طرف یہاں پر بھی بہت اجلاس ہوتے ہیں منرل واٹر کی بوتلیں پی جاتی ہیں اے سی کے ٹھنڈے کمرے میں بیٹھ کے گپ شپ لگائی جاتی ہے اور بس ٹوٹے پھوٹے سکولز جہاں فرنیچر نام کی چیز نہیں ٹیچرز کو پچاس قسم کی فکروں کے ساتھ بٹھا دیا گیا ہے جہاں وہ بچے کو اس کی بدتمیزی پر سزا تک نہیں دے سکتا ﺫرا سی شکایت پر پوری کی پوری انکوائری بیٹھ جاتی ہے میڈیا بھوکے بھیڑیے کی طرح آن وارد ہوتا ہے جیسے کہ وہ موقع کی تلاش میں تھا مرچ مصالحہ لگا کر استاد کی چھترول کی جاتی ہے اتنا ظلم یہ استاد نہیں جلاد ہیں یہ ہی پکڑو مارو مجھ سے ایک سکول ھیڈ نے جن کے اوپر الزام تھا کہ انھوں نے سٹیل سکیل سے بچے کو مارا جسکی وجہ سے اس کے بازو زخم آگیا تھا کہ سر اس بچے نے خود کو زخمی کیا ہے اور میڈیا کو بلا لیا ہے اور میڈیا نے وہ ہی کیا جو اس کا فرض بنتا ہے یعنی مرچ مصالحہ لگا کے عوام کو بھڑکا دیا اس وجہ سے اب سرکاری ٹیچرز جو پہلے بچوں پر بے انتہا مخنت کررہے تھے ہاٹھ اٹھا لیا ہے لیکن اس نامساعد حالات میں بھی بہت سے ٹیچرز انتہائی مخنت اور جانفشانی سے مخنت کر رہے ہیں مجھے اس بات کو کہتے ہوۓ بالکل بھی شرمندگی نہیں ہو رہی کہ ھم نے اپنے ٹیچرز کو ان کا حق بالکل بھی نہیں دیا میں پورے یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ میری ان تجاویز پر گورنمنٹ عمل کر کے دیکھے آنے والے بیس سالوں میں یہی ٹیچرز اس ملک پاکستان کو دنیا کی سب سے زیادہ ﺫہین قوم دیں گے ان شاء اللہ..
1... ٹیچرز کی تنخواہ کم از کم ایک تولہ سونے کی قیمت کے برابر سے شروع کی جاۓ..
2..ٹیچرز کو مکمل طور پر فری ھینڈ دیا جاۓ.
3..تمام فوجی اور فضول افسروں کو فارغ کر کے گھر بھیج دیا جاۓ اور ان کی تنخواہ تمام ٹیچرز میں ہر ماہ برابر تقسیم کی جاۓ .
4..تمام ٹیچرز کی ترقی سالانہ رپورٹ سے مشروط کی جاۓ.
5..جو ٹیچرز سو فی صد رزلٹ دیں انکی تنخواہ تیس فی صد اور پچاس سے نوے فی صد رزلٹ دینے والے ٹیچرز کی بیس فی صد سالانہ انکریمنٹ کی جاۓ.
6.. مسلسل پانچ سال تک سو فی صد رزلٹ دینے والے ٹیچرز کی تنخواہ ﮈبل کی جاۓ اور ان کو قومی ہیرو کا اعزاز دیا جاۓ اور ان کو ریلوے ہوائی جہاز کے کرایوں میں چھوٹ دی جاۓ ان کے بچوں ماں باپ کو مکمل علاج معالجہ کی سہولت دی جاۓ
7..ریٹائرمنٹ کی عمر ساٹھ سال کردی جاۓ.اور اس کے بعد ان کو محکمہ تعلیم میں اعلی عہدے دے کر ان کے تجربے سے فائدہ اٹھایا جاۓ
8..ٹیچرز کے سکیل کو وفاقی گورنمنٹ ملازمین کے سکیل کے برابر کیا جاۓ اور تمام سہولیات بھی وہ ہی دی جائیں
9..ٹیچرز کو ٹریننگ کے لیے مختلف ملکوں کے دورے کراۓ جائیں.
10..ٹیچرز کو پورے ملک میں وی وی آئی پی کا درجہ دیا جاۓ.
جو ملک یا عوام اپنے ٹیچرز کو عزت نہیں دیتے تو پھر دنیا بھی انکی عزت نہیں کرتی ھمارے سرکاری استاد بھی ھم سے صرف عزت مانگتے ہیں اور کچھ بھی نہیں آپ ان کو عزت دیں بدلے میں وہ آپ کو ایک بہترین قوم دیں گے ان شاء اللہ تعالی..
** مرغی کے ڈربوں میں بچے بند کرنے کو سکول نہیں کہتے **
..
صبح کے چھ بجے سے لے کر دوپہر تک مرغیوں کی طرح دڑبے میں بند، بچے جو صبح سے لے کر شام تک خمیازہ بھگتتے ہیں، اس معاشرے میں پیدا ہونے کا۔
..
بستہ اس قدر بھاری جیسا کے اس میں اینٹیں بھری ہوئی ہوں۔ علم کے نام پر روایتی ہوم ورک اور ٹیچر کی طرف سے یہ شکوہ کہ والدین کچھ نہیں کرتے، والدین کہتے ہیں سکول کچھ نہیں کرتا، صرف ایک سکول انتظامیہ ہے جو اس غلط فہمی کا شکار ہے کہ وہ بہت کچھ کرتی ہے۔ روز ایک ہی قسم کا کام بورڈ پر لکھنا، بلامقصد پرنٹ آوٹ اور ایسے پراجیکٹ دینا جن کو بچے نہیں کر سکتے، ٹیچر سے اس قدر کام لینا کہ وہ پڑھانے کی بجائے صرف مزدوری کرے، بچہ سکول جا کر ایک دڑبے میں بند ہوکر گھر واپس آجائے۔ اگر دڑبا نہیں چاہیے، تو پھر ہر مہینہ نوٹوں کی ایک بوری والا وصول کرنے والا سکول ڈھونڈ لیں۔ وہاں جا کر بھی بچہ فائیو سٹار دڑبے میں بند ہوگا۔
..
ہر بات کی ذمہ داری سکول اور سکول کے لیے ہر بات کی ذمہ داری والدین، بچہ کون ہے کہاں گیا، کیا فرق پڑتا ہے۔ گندی غلیظ کینٹین، لرننگ پرابلم کا شکار بچے، ڈنڈے کے زور سے لائن بنانے والا سسٹم، اے سی والے کمرے میں بیٹھی میڈم، تھانیدار نما کوآرڈینیٹر، شرارت کو جرم، ریسرچ کو وقت کا زیاں سمجھنا، یہ ہے ہم سب کا سکول۔ پیرنٹ ٹیچر میٹنگ میں یہ کہنا کہ بچہ بہت شرارتی ہے، آپ ٹائم دیں، زیادہ محنت کی ضرورت ہے، یہ جملے رٹ چکے ہیں۔ میرا تعلق تدریس سے ہے اور بہت پرانا ہے۔ میری ہمدردی صرف بچوں کے ساتھ ہے کیونکہ باقی سب جھوٹ ہے۔
اگر آپ کو یہ لگتا ہے کہ بچے سے مزدوری کروا کے آپ نے کوئی عظیم کام کیا ہے تو پھر اس خیال کو ترک کر دیں۔ کیونکہ دماغ کے استعمال سے زندگی گزرتی ہے، رٹے سے نہیں۔ پیسہ خرچ کرکے اگر بچے کو خوش کرنا چاہتے ہیں تو اس سے آپ صرف لالچ سکھاتے ہیں۔ اگر صرف بچے کا دوست بننے کی کوشش کریں گے تو بد تمیزی کے لیے بھی تیار رہیں۔ اگر سکول سے بھلائی کی امید ہے تو پھر آپ کافی بے وقوف ہیں کیونکہ سکول ایک دکان ہے ڈگری کا سودا خریدیں اور چلتے بنیں۔ ٹیچر کے اندر اتنی ہمت سکول چھوڑتا ہی نہیں کہ وہ کولہو کا بیل بننے کے علاوہ کچھ سوچے یا کرے۔ اگر آپ کو بے لوث ٹیچر مل جائے تو اس کو ہیرا سمجھیں جو کوئلے کی کان میں سے مل گیا۔
..
ہوم ورک ضرور کروائیں مگر صرف ہومورک مت کروائیں۔ بچے کو دینے والی سب سے قیمتی چیز آپ کا وقت ہے۔ بچے لیکچر سے کبھی نہیں سیکھتے بلکہ وہ مشاہدہ کرتے ہیں۔ اگر آپ آج ان کی ٹیچر کی عزت نہیں کریں گے تو وہ آپ سے چار ہاتھ آگے ہوں گے۔ اگر میاں بیوی کی بحث بچوں کے سامنے ہوگی تو اس اختلاف کا سب سے زیادہ فائدہ بچے اٹھاتے ہیں۔ بچوں کا سب سے بڑا رول ماڈل والدین خود ہیں، کیونکہ وہ ہر اس بات کو جائز سمجھتے ہیں جو والدین کا عمل ہو۔ بچوں سے باتیں کرنا سیکھیے، ان سے اگر آپ بات نہیں کریں گے تو وہ کسی اور کی باتوں میں آجائیں گے۔ ہوم ورک کے علاوہ بھی بہت کچھ ضروری ہے۔ سکول میں فرسٹ آنے کے علاوہ بھی بہت کچھ ضروری ہے۔
..
بچوں سے بات کریں روزمرہ کی زندگی پر، ان کا خود پر اعتماد ضروری ہے، کیوں ان کو ڈرنا نہیں چاہیے۔ بچوں کو رشتوں سے مت ڈرائیں۔ رشتے کی عزت کرنا سکھائیں، لیکن اس عزت کے لیے ان کی عزت داؤ پر نہ لگے۔ اپنے بچے کو بتائیں کے معاشرے میں موجود کمزور افرد کی عزت کیوں ضروری ہے۔ خواجہ سرا کو دیکھ کر ہنسنا اور تالیاں بجانا ان کی شدید دل آزاری کا سبب کیوں ہے۔ سوال کرنے کی ہمت دیں، ان کے سوال کا جواب نہ آتا ہو تو کھلے دل سے بتا دیں کہ آپ تحقیق کریں گے۔ کھیلنے کے لیے حوصلہ افذائی کیجئے، کھیل ان کو وہ سکھاتا ہے جو کلاس کا دڑبا نہیں سکھاتا۔ ٹیوشن سے زیادہ ضروری ہے سیکھنا۔ آپ کا ساتھ بیٹھ کر پڑھانا سب سے ضروری ہے۔ گھر کے ملازمین کو بچوں کی تربیت کی ذمہ داری مت دیں۔ ان کے دوستوں کے ساتھ ملیں، ماں باپ کے بعد بچوں کے دوست ان پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ بچے کا بھلا سوچیں اس کو صرف خوش کرنے کی کوشش میں اس کا بھلا نہیں ہے۔
انکار کرنا اور اس پر قائم رہنا اگر اس کا بھلا آپ کی نا میں ہے تو اس نا سے مت ڈریں۔
اپنے بچے کی بات پر اور اس کی شکایت پر یقین کریں، دنیا کے ہر انسان سے زیادہ قیمتی یہ بچہ ہے جو کہ آپ کی ذمہ داری ہے۔ ہوم ورک کے پیمانے پر اپنے بچے کو مت تولیں۔ اس کے ذہن میں ایک دنیا آباد ہے وہاں جا کر دیکھیں۔ دوستوں سے لڑائی پر پرابلم سولونگ سکھائیں، بچوں کو سوشل ورک کا بتائیں، ایسے اداروں میں ایک آدھ دفعہ ضرور لے کر جائیں۔ ہر انسان مختلف ہے اور ہم سب کی عزت کرتے ہیں سکھائیں۔ سکول سے آپ کا بچہ کتاببوں کو لادھ کر آتا ہے۔ ان کتابوں کا مقصد شعور دینا تھا، گریڈ دینا نہیں۔ آپ شعور دینے پر غور کریں، ذہن کو گریڈ دیں۔ روز کی روٹین تو جانور بھی گزار لیتے ہیں۔ جس ملک میں تعلیم کاروبار ہو اور استاد دیہاڑی دار مزدور وہاں اپنے بچے کے شعور، آگہی اور وقت کو اپنا جہاد سمجھیں۔ کیونکہ آپ اپنی مدد خود ہی کریں گے۔ صرف ہوم ورک، رٹے، ٹیوشن اور کلاس کے دڑبے کے حوالے اس معصوم کو مت کریں۔
..
سکول کی دکان میں ریٹ لگتا ہے اور آپ کا بچہ ریٹنگ کے لیے پیدا نہیں ہوا۔ وہ ادارہ جو بچے کے تحفظ، حقوق اور تخلیقی صلاحیت کو بھی روٹین کے عمل سے آگے نہ دیکھ سکے اور نہ سمجھنا چاہے۔ وہاں سے امید وابستہ مت کریں۔ کیونکہ ہمارے ملک کی سیاست کی طرح وہاں بھی قبضہ ہے زور آوروں کا۔
--
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Website
Address
Govt Girls School , Unit No. 6 , Latifabad
Hyderabad
71000