عرب حکایتوں میں لکھا گیا ہے کہ ایک بادشاہ محاذ جنگ پر جا رہا تھا، دور دراز کے کسی قصبے میں اس کا سامنا دس بارہ سالہ بچے سے ہوا۔ معصوم صورت بچے سے بادشاہ نے پوچھا : آپ کا نام کیا ہے ...؟
بچہ : فتاح (راستے کھولنے والا)
بادشاہ : کیا پڑھتے ہو .....؟
بچہ : قرآن کی آیت "إنا فتحنا لك فتحا مبينا" تک پڑھ چکا ہوں ...!
بادشاہ بہت خوش ہوا کہ بچے کا نام اور قرآن کی آیت دونوں تفائل خیر کے لئے زبردست اشارہ ہیں۔
بادشاہ اپنے لشکر کے ہمراہ محاذ پر پہنچا اللہ نے اسے فتح و کامرانی نصیب کی تو واپسی کے سفر میں اسی قصبے سے گزرتے وقت اس نے سوچا کہ خیر و برکت کا اشارہ ثابت ہونے والے اس بچے سے ملاقات کر لوں۔
قصبے میں داخل ہو کر وہ مسجد گیا دیکھا کہ مولوی صاحب بچوں کو قرآن پڑھا رہے ہیں۔ بادشاہ نے حلیہ بتا کر بچے کو بلانے کا کہا تو مولوی صاحب پکارے "خالد ادھر آؤ" بادشاہ چونک اٹھا کہ بچے کا نام تو اس نے فتاح بتایا تھا لیکن یہ سوچ کر خاموش رہا کہ ضرور مولوی صاحب غلط سمجھے ہیں اور کسی دوسرے بچے کو بلا بیٹھے ہیں لیکن جب بچہ سامنے آیا تو وہی تھا جس سے بادشاہ کی ملاقات راستے میں ہوئی تھی۔ بادشاہ نے سوچا کہ شاید وہ بچے کا نام ٹھیک سے یاد نہیں رکھ پایا اس لئے تسلی کی خاطر پوچھا کہ سبق میں آپ قرآن کی کونسی آیت تک پہنچ چکے۔؟
بچہ: عبس و تولي..
بادشاہ نے حیرت سے پوچھا کہ فلاں دن جب آپ راستے میں مجھے ملے تھے تو اپنا نام اور سبق غلط کیوں بتایا تھا۔؟
بچہ: چونکہ آپ محاذ جنگ پر جا رہے تھے تو میں نے سوچا کہ آپ کے سامنے فتح و نصرت کے کلمات ادا کروں تاکہ آپ کا حوصلہ بلند ہو۔
بادشاہ اس کی ذہانت اور معاملہ فہمی سے بہت متاثر ہوا اور وزیر سے کہا اس بچے کو ایک دینار دے دو۔
لیکن بچے نے ایک دینار لینے سے انکار کر دیا۔
وزیر نے پوچھا آپ بادشاہ کا تحفہ لینے سے انکار کر رہے ہیں۔؟
بچہ: نہیں دراصل میں اس بات سے ڈر رہا ہوں کہ جب پوچھا جائے گا کہ یہ دینار کہاں سے لایا ہے اور میں کہوں گا کہ بادشاہ نے دیا ہے تو کوئی یقین نہیں کرے گا کیونکہ سب جانتے ہیں کہ جو بادشاہ ہوتا ہے وہ ایک دینار نہیں دیا کرتا۔۔
بادشاہ نے بچے کی ذہانت سے متاثر ہو کر وزیر سے کہا اس بچے کو دیناروں کی پوری تھیلی دے دو۔۔
قصبے سے واپسی پر بادشاہ کے ہم نشینوں نے ہٹو بچو کی صدائیں بلند کیں تاکہ بادشاہ کی سواری آسانی سے گزر پائے۔ سب ایک طرف ہو گئے لیکن ایک ادھیڑ عمر شخص بیچ راستے میں جما کھڑا کہنے لگا میں کسی بادشاہ کو نہیں جانتا، چلو ہٹو اور مجھے اپنا کام کرنے دو، بڑے آئے بادشاہ کے چمچے۔۔
بادشاہ نے جب یہ سنا تو حکم دیا کہ اسے گرفتار کیا جائے تاکہ شہر جا کر وہ دیکھ سکے کہ بادشاہ کی عزت و توقیر کیا ہوتی ہے۔ اتنے میں ہجوم کو چیرتے وہی بچہ سامنے آیا اور سپاہیوں کے سامنے دیناروں سے بھری تھیلی پھینک کر کہا یہ سب لے لو مگر میرے والد کو چھوڑ دو۔ بادشاہ نے یہ منظر دیکھا تو کہا "نعم الولد و بئس الأب" (کیا ہی اچھا بچہ ہے اور اتنا ہی برا اس کا والد) بچے نے فورا کہا نہیں بلکہ یوں کہوں کہ "نعم الأب و بئس الجد" (کیا ہی اچھا والد ہے اور اتنا ہی برا اس بچے کا داد) کیونکہ اگر والد برا ہوتا تو میری اتنی اچھی تربیت نہ کرتا اور اگر دادا اچھا ہوتا تو اپنے بچے کی بہترین تربیت کرتا ....!
یہ سن کر بادشاہ نے بچے اور اس کے والد کا راستہ چھوڑنے کا حکم دیا اور حیرت و استعجاب کی حالت میں اپنی راہ چل پڑا ....!
دوستوں چلتے، چلتے ہمیشہ کی طرح وہ ہی ایک آخری بات عرض کرتا چلوں کے اگر کبھی کوئی ویڈیو، قول، واقعہ، کہانی یا تحریر وغیرہ اچھی لگے تو مطالعہ کے بعد مزید تھوڑی سے زحمت فرما کر اپنے دوستوں سے بھی شئیر کر لیا کیجئے، یقین کیجئے کہ اس میں آپ کا بمشکل ایک لمحہ صرف ہو گا لیکن ہو سکتا ہے کہ، اس ایک لمحہ کی اٹھائی ہوئی تکلیف سے آپ کی شیئر کردہ تحریر ہزاروں لوگوں کے لیے سبق آموز ثابت ہو ....!
Ayaz Sheikh
Be Good Do Good
تین مشکلات اور تین حل
1- اگر آپ شہوت میں مبتلا ہیں تو اپنی نماز میں تجدیدِ نظر كریں ، ضرور نماز میں سستی کرتے ہوں گے۔
قرآن کریم میں باری تعالیٰ کا ارشاد ہے:
*فَخَلَفَ مِنْ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ أَضَاعُوا الصَّلَاةَ وَاتَّبَعُوا الشَّهَوَات*
ِ(سورہ مریم آیت 59)
پھر ان کے بعد ايسے نااہل لوگ آئے، جنہوں نے نماز کو ضائع کیا اور خواہشات کی پیروی کی ۔
2- اگر آپ عدم توفیق اور بدبختی کا شکار ہیں تو اپنی والدہ محترمہ کے ساتھ آپ کا سلوک درست نہیں ہے ، لہذا اپنی والدہ کے ساتھ اپنا سلوک درست کریں ۔
قرآن کریم میں باری تعالیٰ کا ارشاد ہے :
*وَبَرًّا بِوَالِدَتِي وَلَمْ يَجْعَلْنِي جَبَّارًا شَقِيًّا*
(سورہ مریم آیت 32)
اور اپنی والدہ کے ساتھ حُسن سلوک کرنے والا بنایا ہے اور ظالم و بدبخت نہیں بنایا ۔
3- اگر آپ رزق کی تنگی اور زندگی کی مشکلات میں مبتلا ہیں تو قرآن کریم کے ساتھ اپنا تعلق اور رابطہ درست كریں ۔
قرآن کریم میں باری تعالیٰ کا ارشاد ہے :
*وَمَنْ أَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِی فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنْكًا*
(سورہ طہ آیت 124)
اور جو میرے ذکر (قرآن ) سے اعراض کرے گا، اس کے لیے اس کی زندگی تنگ ہوجائے گی.
"اللّٰه تعالی ہم سب کو ان قرآنی ھدایات پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین یارب العالمین۔!!!
منقول
مغربی پروپیگنڈے کی کامیابی کا راز :
ملک بنک کے متعلق جاری حالیہ بحث کے تناظر میں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مغربی پروپیگنڈے کی کامیابی کا راز یہ ہے کہ انہوں نے جن بنیادوں پر اپنا بیانیہ اٹھانا ہوتا ہے ان بنیادوں کی شجر کاری پہلے سے ہی اپنے پروپیگنڈا کے ذریعے ہر ذہن میں کر چکے ہوتے ہیں، حتی کہ وہ بنیادیں (Universal Truth) یا مسلمہ حقائق کے طور پر تسلیم کر لی جاتی ہیں، اس کے بعد جب وہ بیانیہ لاتے ہیں تو مسلمان مفکرین عام طور پر ان کی بنیادوں کو چیلنج نہیں کرتے بلکہ بنیادوں کو مسلمہ حقائق کے طور پر قبول کر کے بیانیے کے شرعی، اخلاقی وسماجی مسائل پر مشغولِ بحث و جواب ہو جاتے ہیں، یہی حربہ استشراقی فکر سالوں سے استعمال کرتی چلی آ رہی ہے۔
مثلا ملک بنک سے متعلق جاری حالیہ بحث میں اس بیانیہ کی بنیاد درجِ ذیل مقدمات پر رکھی گئی:
1- پاکتسان میں ہر سال اڑھائی تین لاکھ شیر خوار بچے دودھ نہ ملنے کی وجہ سے فوت ہو جاتے ہیں۔
2- ان کی ماؤوں میں ان کے لئے دودھ کی ضرورت پوری کرنے کی اہلیت نہیں ہوتی۔
3- اس لئے ملک بنک کا قیام اس وقت کی بہت بڑی انسانی "ضرورت" ہے۔
4- شریعت اسلامیہ میں "ضرورت" کی بنیاد پر بہت سے ممنوعات کو بھی جائز قرار دیا جا سکتا ہے۔
اس میں سوشل میڈیائی تحریروں میں ہر کس و ناکس نے اپنا حصہ ڈالا، اینکروں نے اچھل اچھل کر فتوے پر تنقید کی، مدافعین نے ان کو جواب دینے کی کوشش کی، لیکن کوئی تحریر میری نظر سے ایسی نہیں گزری جس میں ان مقدمات کو چیلنج کیا گیا ہو، بلکہ بالعموم اس بیانئے کی بنیادیں مسلمہ طور پر قبول کی گئیں، آئیے اب ان مقدمات پر باری باری غور کرتے ہیں :
پہلا مقدمہ : کہ ہر سال پاکستان میں اڑھائی تین لاکھ بچے شیر خوارگی میں فوت ہو جاتے ہیں، سوال یہ ہے کہ یہ اعدا وشمار کہاں سے حاصل کیے گئے ہیں؟ مثلا میں پاکستان کے ایک شہر کا باسی ہوں، ایک محلے میں رہتا ہوں، ایک خاندان سے وابستہ ہوں، میں اسی معاشرے کا ایک حصہ ہوں، میں اس مقدمے کو اپنے حالیہ تناظر میں دیکھتا ہوں، میرے گھر میں کسی بچے کی وفات اس بناء پر نہیں ہوئی، میرے بہن بھائیوں اور چچا زادوں، ماموں زادوں، خالہ زادوں اور خاندان کے قرب وجوار کے گھروں میں کسی بچے کی وفات اس بناء پر نہیں ہوئی، محلے میں بھی کوئی ایسی خبر نہیں ملی، شہر بھر کی خبریں مجھے حاصل نہیں ہوتیں لیکن شہر کے بڑے ہسپتالوں کا ڈیٹا حاصل کیا جا سکتا ہے کہ کتنے بچوں کی وفات اس بنیاد پر ہوئی، لیکن پھر بھی یہ تعداد میرے مطابق درست نظر نہیں آتی، ممکن ہے کوئی کہے کہ تھر اور صحرائی علاقوں میں جہاں ماؤوں کے لئے درست غذا کا انتظام نہیں ہوتا وہاں ان اموات کی کثرت ہوتی ہو! لیکن پھر میرا یہ سوال ہے کہ جو ادراے خود کہتے ہیں کہ بچے کم ہونے چاہئے، پیدائش کو کنٹرول کرنے کے جائز و ناجائز طریقے جھونپڑی جھونپڑی جا کر تلقین کرتے ہیں ان کے لئے سالانہ تین لاکھ بچوں کی وفات تو اتنا بڑا مسئلہ نہیں ہونا چاہئے!!! صحیح بات یہ ہے کہ یہ اعداد وشمار چیلنج ہونے چاہئیں اور غیر جانبدار سروے کے بغیر ان کو قبول نہیں کیا جانا چاہئے۔
دوسرے مقدمے: کی طرف آتے ہیں، کیوں یہ کوشش نہیں کی جا رہی کہ ان شیر خوار بچوں کی ماؤوں کے لئے دورانِ حمل اچھی غذا پہنچانے کا اہتمام کیا جائے، جس حاملہ کے پاس اچھی غذا کی گنجائش نہ ہو اس کے لئے ادارہ بنایا جائے، وہ اس ادارے میں جا کر درخواست دے اور اچھی غذا حاصل کرے، تا کہ وہ زچہ و بچہ دونوں کی صحت کی بھی ضامن ہو بلکہ ولادت ے دوران اور اس کے بعد ماں کی تکالیف کو بھی کم کر سکے اور اس کے دودھ میں اضافے کا باعث بھی بنے، ایسے ہی ولادت کے بعد ان ماؤوں کے علاج اور دواء کی کوشش کی جائے جو بچے کی ضرورت کے مطابق دودھ پیدا نہیں کر سکتیں، اس میں ماں اور بچے دونوں کا فائدہ ہے بنسبت ملک بنک کے جس میں صرف بچے کے فائدے کو ملحوظ رکھا جا رہا ہے۔
تیسرے مقدمے اور چوتھے مقدمے پر غور کریں، "ضرورت" اصولِ فقہ کی ایک خاص اصطلاح ہے، جس کے ثابت ہونے کی شرائط ہیں، سادہ لفظوں میں اس کو اضطراری حالت کہا جا سکتا ہے، یہ درست ہے کہ اضطراری حالت میں بہت سے حرام بھی جائز ہو جاتے ہیں لیکن اس ضرورت کے ثبوت کا پراسیس اتنا آسان نہیں جتنا پاکستان میں پہلے قانون کے طبقے نے سیاسی مسائل میں "نظریہ ضرورت" کے عنوان کے تحت بے جا فائدہ اٹھایا اور دیا، اور اب مغربی پروپیگنڈہ فائدہ اٹھا رہا ہے۔
راقم کی اس تحریر کی بنیادی فکر یہ ہے کہ بیانیے کے اساسی مقدمات کو چیلنج کیا جائے، پھر اگر یہ مقدمات واقعی ثابت ہوجائیں تو اس کے بعد اس کے قیام کے نتیجے میں متوقع شرعی، سماجی اور اخلاقی مسائل کے حل کے بارے میں سوچا جائے، لیکن اگر بنیادی مقدماتِ فکر ہی درست ثابت نہ ہوں تو جان لیجئے کہ "بہانے" اور "نشانے" میں فرق ہے۔
امریکہ سے آئے ہوئے ایک مفکر سے بات کرتے ہوئے سامنے آیا کہ "ملک بنک" ہدف نہیں ہے، اس کے بعد ''سپرم بنک" بنائے جائیں گے، اس کے بعد "ہیومن ایگ بنک" بنائے جائیں گے، اس کے بعد ٹیسٹ ٹیوب کے ذریعے "لیب فرٹیلیٹی" سے کام لیا جائے گا، "جینڈر سلیکشن" کے پراسیس کے ذریعے خواہش مند شخص کو لڑکا یا لڑکی جو چاہئے وہ حسبِ منشاء اس کا تعین کر سکے گا، "سیروگیسی" کے عنوان سے غریب خواتین کے رحم کرائے پر لئے جائیں گے، اور ایسے میں کوئی بھی کسی بھی نکاح جیسے شرعی واخلاقی قید کے بغیر بچے پیدا بھی کر سکے گا اور پہلے سے قائم کردہ "ملک بنک" کے ذریعے ان کے لئے شیرِ مادر کا بند وبست بھی ہو سکے گا، مستقبل میں ایسے بچوں کی زندگی اپنی لیب کی پیدائش کے اخراجات اٹھانے والے پیرنٹ کے "غلام" یا "باندی" سے زیادہ نہیں ہو گی، اور وہ پیرنٹ اس کے ساتھ کیا سلوک کرے گا اس کی کوئی ضمانت نہیں ہو گی، اس طرح ہزار دو ہزار ڈالر کی لاگت سے تیسری دنیا میں 'نئی غلامی" کی بنیاد رکھی جائے گی، باقی رہا "خاندانی نظام" تو مکمل ماڈرن ازم کی راہ میں وہی سب سے بڑی رکاوٹ ہے، اسی کو ختم کرنا بنیادی ہدف ہے۔
کوئی یہ نہ سمجھے کہ یہ سب خیالات کی حد تک ہے، مغرب میں یہ سب کچھ ہو رہا ہے، کچھ دن قبل ہی امریکہ میں ایک مسلمان لڑکی نے صرف ماں باپ سے لڑائی کی بناء پر اپنا "ایگ" کسی غیر مسلم خواہش مند کو چند ہزار ڈالر میں فروخت کیا ہے۔
اگر اس تناظر میں آپ دیکھیں گے تو سمجھ آئے گا کیوں سوشل میڈیا پر ہر اینکر کو یہ پریشانی کھائے جا رہی ہے کہ ایک فتوے کی بنیاد پر یہ کاروائی کیوں روک دی گئی؟ کیوں یونیسیف کو پاکستان میں شیر خوار بچوں کی وفات پر اتنی بے چینی ہو رہی ہے اور غزہ میں جہاں سب سے زیادہ بچے اور خواتین ہی روزانہ بموں کا سامنا کر رہے ہیں، ان کی ان اموات پر کسی کے پیٹ میں درد کیوں نہیں اٹھتا :
پیتے ہیں لہو، اور دیتے ہیں تعلیمِ مساوات
محمد احمد رضا
استنبول، ترکیا
26 جون 2024
ایک بادشاہ انصاف پسند اور عوام کے دکھ سکھ کو سمجھنے والا تھا مگر جسمانی طور پر ایک ٹانگ سے لنگڑا اور ایک آنکھ سے کانا تھا۔ ایک دن بادشاہ نے اپنی مملکت کے ماہر مصوروں کو اپنی تصویر بنوانے کیلئے بلوا لیا۔اور وہ بھی اس شرط پر، کہ تصویر میں اُسکے یہ عیوب نہ دکھائی دیں۔ سارے کے سارے مصوروں نے یہ تصویر بنانے سے انکار کر دیا۔ اور وہ بھلا بادشاہ کی دو آنکھوں والی تصویر بناتے بھی کیسے جب بادشاہ تھا ہی ایک آنکھ سے کانا، اور وہ کیسے اُسے دو ٹانگوں پر کھڑا ہوا دکھاتے جبکہ وہ ایک ٹانگ سے بھی لنگڑا تھا۔ لیکن اس اجتماعی انکار میں ایک مصور نے کہا: بادشاہ سلامت میں بناؤں گا آپکی تصویر۔ اور جب تصویر تیار ہوئی تو اپنی خوبصورتی میں ایک مثال اور شاہکار تھی۔ وہ کیسے؟؟ تصویر میں بادشاہ شکاری بن کر بندوق تھامے نشانہ باندھے ہے، جس کیلئے لا محالہ اُسکی ایک )کانی( آنکھ کو بند ،اور اُسکے )لنگڑی ٹانگ والے( ایک گھٹنے کو زمیں پر ٹیک لگائے دکھایا گیا تھا۔ اور اس طرح بڑی آسانی سے ہی بادشاہ کی بے عیب تصویر تیار ہو گئی تھی۔.
کیوں نا ہم بھی اِسی طرح دوسروں کی بے عیب تصویر بنا لیا کریں خواہ انکے عیب کتنے ہی واضح ہی نظر آ رہے ہوں اور کیوں نا جب لوگوں کی تصویر دوسروں کے سامنے پیش کیا کریں.... اُنکے عیبوں کی پردہ پوشی کر لیا کریں!!
آخر کوئی شخص بھی تو عیبوں سے خالی نہیں ہوتا ناں !! کیوں نہ ہم اپنی اور دوسروں کی مثبت اطراف کو اُجاگر کریں اور منفی اطراف کو چھوڑ دیں...... اپنی اور دوسروں کی خوشیوں کیلئے!!
ایک حدیث پاک کا مفہوم ہے کہ "جو شخص مسلمان کی پردہ پوشی کرے گا، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی پردہ پوشی کرے گا."
کوئی شوہر اپنی بیوی سے پاگل پن کی حد تک پیار کیسے کر سکتا ہے؟
ایک بوڑھی خاتون کا انٹرویو
جنہوں نے اپنے شوہر کے ساتھ پچاس سال کا عرصہ پرسکون طریقے سے ہنسی خوشی گزارا
🍀 خاتون سے پوچھا گیا کہ اس پچاس سالہ پرسکون زندگی کا راز کیا ہے؟
کیا وہ کھانا بنانے میں بہت ماہر تھیں؟
یا پھر ان کی خوبصورتی اس کا سبب ہے؟
یا ڈھیر سارے سارے بچوں کا ہونا اس کی وجہ ہے یا پھر کوئی اور بات ہے؟
🍀 بوڑھی خاتون نے جواب دیا : پرسکون شادی شدہ زندگی کا دار و مدار اللہ کی توفیق کے بعد عورت کے ہاتھ میں ہے، عورت چاہے تو اپنے گھر کو جنت بنا سکتی ہے اور وہ چاہے تو اس کے برعکس یعنی جہنم بھی بنا سکتی ہے.
اس سلسلے میں مال کا نام مت لیجیے،
بہت ساری مالدار عورتیں جن کی زندگی اجیرن بنی ہوئی ہے، شوہر ان سے بھاگا بھاگا رہتا ہے
خوشحال شادی شدہ زندگی کا سبب اولاد بھی نہیں ہے، بہت ساری عورتیں ہیں جن کے دسیوں بچے ہیں پھر بھی وہ شوہر کی محبت سے محروم ہیں بلکہ طلاق تک کی نوبت آجاتی ہے
بہت ساری خواتین کھانا پکانے میں ماہر ہوتی ہیں، دن دن بھر کھانا بناتی رہتی ہیں لیکن پھر بھی انہیں شوہر کی بدسلوکی کی شکایت رہتی ہے
🍀 انٹرویو لینے والی خاتون صحافی کو بہت حیرت ہوئی، اس نے پوچھا :
پھر آخر اس خوشحال زندگی کا راز کیا ہے ؟
🍀بوڑھی خاتون نے جواب دیا : جب میرا شوہر انتہائی غصے میں ہوتا ہے تو میں خاموشی کا سہارا لے لیتی ہوں لیکن اس خاموشی میں بھی احترام شامل ہوتا ہے، میں افسوس کے ساتھ سر جھکا لیتی ہوں.
ایسے موقع پر بعض خواتین خاموش تو ہوجاتی ہیں لیکن اس میں تمسخر کا عنصر شامل ہوتا ہے اس سے بچنا چاہیے، سمجھدار آدمی اسے فوراً بھانپ لیتا ہے
🍀 نامہ نگار خاتون نے پوچھا : ایسے موقعے پر آپ کمرے سے نکل کیوں نہیں جاتیں؟
🍀 بوڑھی خاتون نے جواب دیا : نہیں، ایسا کرنے سے شوہر کو یہ لگے گا کہ آپ اس سے بھاگ رہی ہیں،
اسے سننا بھی نہیں چاہتی ہیں.
ایسے موقعے پر خاموش رہنا چاہیے اور جب تک وہ پرسکون نہ ہوجائے اس کی کسی بات کی مخالفت نہیں کرنی چاہیے.
🍀 جب شوہر کسی حد تک پرسکون ہوجاتا ہے تو میں کہتی ہوں :
پوری ہو گئی آپ کی بات ؟
پھر میں کمرے سے چلی جاتی ہوں
کیونکہ شوہر بول بول کر تھک چکا ہوتا ہے اور چیخنے چلانے کے بعد اب اسے تھوڑے آرام کی ضرورت ہوتی ہے.
میں کمرے سے نکل جاتی ہوں اور اپنے معمول کے کاموں میں مصروف ہو جاتی ہوں.
🍀 خاتون صحافی نے پوچھا : اس کے بعد آپ کیا کرتی ہیں؟ کیا آپ بول چال بند کرنے کا اسلوب اپناتی ہیں؟ ایک آدھ ہفتہ بات چیت نہیں کرتی ہیں؟
🍀 بوڑھی خاتون نے جواب دیا : نہیں !
اس بری عادت سے ہمیشہ بچنا چاہیے،
یہ دودھاری ہتھیار ہے،
جب آپ ایک ہفتے تک شوہر سے بات چیت نہیں کریں گی ایسے وقت میں جب کہ اسے آپ کے ساتھ مصالحت کی ضرورت ہے تو وہ اس کیفیت کا عادی ہو جائے گا اور پھر یہ چیز بڑھتے بڑھتے خطرناک قسم کی نفرت کی شکل اختیار کر لے گی.
🍀 صحافی نے پوچھا : پھر آپ کیا کرتی ہیں؟
🍀 بوڑھی خاتون بولیں :
میں دو تین گھنٹے بعد شوہر کے پاس ایک گلاس جوس یا ایک کپ کافی لے کر جاتی ہوں اور محبت بھرے انداز میں کہتی ہوں: پی لیجیے.
حقیقت میں شوہر کو اسی کی ضرورت ہوتی ہے.
پھر میں اس سے نارمل انداز میں بات کرنے لگتی ہوں.
وہ پوچھتا ہے کیا میں اس سے ناراض ہوں؟
میں کہتی ہوں : نہیں.
اس کے بعد اس کا رویہ ٹھیک ہونا شروع ہو جاتا ہے اور خوبصورت قسم کی باتیں کرنے لگتا ہے۔ مگر میں نے کبھی اپنے شوہر کو جھکانے کی کوشش نہیں کی ۔ہمیشہ اسے سربلند ہی رکھا ۔
انٹرویو لینے والی خاتون نے پوچھا : اور آپ اس کی یہ باتیں مان لیتی ہیں؟
🍀 بوڑھی خاتون بولیں : بالکل، میں کوئی اناڑی تھوڑی ہوں، مجھے اپنے آپ پر پورا بھروسہ ہوتا ہے.
کیا آپ چاہتی ہیں کہ میرا شوہر جب غصے میں ہو تو میں اس کی ہر بات کا یقین کرلوں اور جب وہ پرسکون ہو تو تو اس کی کوئی بات نہ مانوں؟
خاتون صحافی نے پوچھا : اور آپ کی عزت نفس (self respect) ؟
🍀 بوڑھی خاتون بولیں :
پہلی بات تو یہ کہ میری عزت نفس اسی وقت ہے
جب میرا شوہر مجھ سے راضی ہو
اور ہماری شادی شدہ زندگی پرسکون ہو
دوسری بات یہ کہ شوہر بیوی کے درمیان عزت نفس نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی
جب مرد و عورت ایک دوسرے کے لباس ہیں تو پھر الگ سی عزت نفس کیسی ؟؟
منقول
"بشکریہ راو مظہر اسلام صاحب"
""""""""""""
🌹فرمانبردار اولاد🌹
꧁♡✰♡﷽♡✰♡꧂
رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا
🌹"بے شک دنیا ایسے ہی لوگوں کی وجہ سے قائم ہے"🌹
میری فرمائش پر ایک ریٹائرڈ پولیس افسر نے اولاد کی فرمانبرداری پر ایک واقعہ سنایا کہ
میں 1996میں لاہور میں ایس ایچ او تھا‘ میرے والد علیل تھے‘ میں نے انھیں سروسز اسپتال میں داخل کرا دیا‘ سردیوں کی ایک رات میں ڈیوٹی پر تھا اور والد اسپتال میں اکیلے تھے‘ اچانک ان کی طبیعت زیادہ خراب ہو گئی اور وہ الٹیاں کرنے لگے۔
میرے خاندان کا کوئی شخص ان کے پاس نہیں تھا‘ وہ دو مریضوں کا کمرہ تھا‘ ان کے ساتھ دوسرے بیڈ پر ایک مریض داخل تھا‘ اس مریض کا اٹینڈنٹ موجود تھا‘ وہ اٹھا‘ اس نے ڈسٹ بین اور تولیہ لیا اور میرے والد کی مدد کرنے لگا‘ وہ ساری رات ابا جی کی الٹیاں صاف کرتا رہا‘ اس نے انھیں قہوہ بھی بنا کر پلایا اور ان کا سر اور بازو بھی دبائے‘ صبح ڈاکٹر آیا تو اس نے اسے میرے والد کی کیفیت بتائی اور اپنے مریض کی مدد میں لگ گیا‘ میں نو بجے صبح وردی پہن کر تیار ہو کر والد سے ملنے اسپتال آ گیا۔
اباجی کی طبیعت اس وقت تک بحال ہو چکی تھی‘ مجھے انھوں نے اٹینڈنٹ کی طرف اشارہ کر کے بتایا‘ رات میری اس مولوی نے بڑی خدمت کی‘ میں نے اٹینڈنٹ کی طرف دیکھا‘ وہ ایک درمیانی عمر کا باریش دھان پان سا ملازم تھا‘ میں نے مسکرا کر اس کا شکریہ ادا کیا لیکن پھر سوچا‘ اس نے ساری رات میرے والد کی خدمت کی ہے‘ مجھے اسے ٹپ دینی چاہیے‘ میں نے جیب سے پانچ سو روپے نکالے اور اس کے پاس چلا گیا‘ وہ کرسی پر بیٹھا ہوا تھا۔
میں نے اپنا ایک ہاتھ اس کے کندھے پر رکھا اور دوسرے ہاتھ سے اسے پانچ سو روپے پکڑانے لگا‘ وہ کرسی پر کسمسایا لیکن میں نے رعونت بھری آواز میں کہا ’’لے مولوی‘ رکھ یہ رقم‘ تیرے کام آئے گی‘‘ وہ نرم آواز میں بولا ’’نہیں بھائی نہیں‘ مجھے کسی معاوضے کی ضرورت نہیں‘ میں نے آپ کے والد کی خدمت اللہ کی رضا کے لیے کی تھی‘‘
میں نے نوٹ زبردستی اس کی جیب میں ڈال دیے‘ اس نے واپس نکالے اور میرے ہاتھ میں پکڑانا شروع کر دیے جب کہ میں اسے کندھے سے دباتا جا رہا تھا اور اصرار کر رہا تھا‘ میں اسے بار بار ’’او مولوی چھڈ‘ ضد نہ کر‘ رکھ لے‘ تیرے کام آئیں گے‘‘ بھی کہہ رہا تھا مگر وہ بار بار کہہ رہا تھا‘ میرے پاس اللہ کا دیا بہت ہے‘ مجھے پیسے نہیں چاہییں‘ میں نے رات دیکھا‘ آپ کے والد اکیلے ہیں اور تکلیف میں ہیں‘ میں فارغ تھا لہٰذا میں اللہ کی رضا کے لیے ان کی خدمت کرتا رہا‘ آپ لوگ بس میرے لیے دعا کردیں وغیرہ وغیرہ لیکن میں باز نہ آیا‘ میں نے فیصلہ کر لیا میں ہر صورت اسے پیسے دے کر رہوں گا۔
پولیس افسر رکے‘ اپنی گیلی آنکھیں اور بھاری گلہ صاف کیا اور پھر بولے‘ انسان جب طاقت میں ہوتا ہے تو یہ معمولی معمولی باتوں پر ضد باندھ لیتا ہے‘ یہ ہر صورت اپنی بات منوانے کی کوشش کرتا ہے‘ میں نے بھی پیسے دینے کی ضد بنا لی تھی مگر مولوی مجھ سے زیادہ ضدی تھا‘ وہ نہیں مان رہا تھا‘ میں اس کی جیب میں پیسے ڈالتا تھا اور وہ نکال کر کبھی میری جیب میں ڈال دیتا تھا اور کبھی ہاتھ میں پکڑا دیتا تھا۔
میں نے اس دھینگا مشتی میں اس سے پوچھا ’’مولوی یار تم کرتے کیا ہو؟‘‘ اس نے جواب دیا ’’بس ایسے ہی لوگوں کی خدمت کرتا ہوں‘‘ وہ مجھے اپنا کام نہیں بتانا چاہتا تھا‘ میں نے اب اس کا ذریعہ روزگار جاننے کی ضد بھی بنا لی‘ میں اس سے بار بار اس کا کام پوچھنے لگا‘ اس نے تھوڑی دیر ٹالنے کے بعد بتایا ’’میں کچہری میں کام کرتا ہوں‘‘ مجھے محسوس ہوا یہ کسی عدالت کا اردلی یا کسی وکیل کا چپڑاسی ہو گا‘ میں نے ایک بار پھر پانچ سو روپے اس کی مٹھی میں دے کر اوپر سے اس کی مٹھی دبوچ لی اور پھررعونت سے پوچھا ’’مولوی تم کچہری میں کیا کرتے ہو؟‘‘
اس نے تھوڑی دیر میری طرف دیکھا اور پھر میرے والد کی طرف دیکھا‘ لمبی سانس لی اور پھر آہستہ آواز میں بولا ’’مجھے اللہ نے انصاف کی ذمے داری دی ہے‘ میں لاہور ہائی کورٹ میں جج ہوں‘‘ مجھے اس کی بات کا یقین نہ آیا‘ میں نے پوچھا ’’کیا کہا؟ تم جج ہو!‘‘ اس نے آہستہ آواز میں کہا ’’جی ہاں‘ میرا نام جسٹس منیر احمد مغل ہے اور میں لاہور ہائی کورٹ کا جج ہوں‘‘ یہ سن کر میرے ہاتھ سے پانچ سو روپے گر گئے اور میرا وہ ہاتھ جو میں نے پندرہ منٹ سے اس کے کندھے پر رکھا ہوا تھا وہ اس کے کندھے پر ہی منجمد ہو گیا۔میری آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا اور آواز حلق میں فریز ہو گئی‘ مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی میں اب کیا کروں؟ جسٹس صاحب نے بڑے پیار سے میرا ہاتھ اپنے کندھے سے اتارا‘ کھڑے ہوئے‘ جھک کر فرش سے پانچ سو روپے اٹھائے‘ میری جیب میں ڈالے اور پھر بڑے پیار سے اپنے مریض کی طرف اشارہ کر کے بتایا ’’یہ میرے والد ہیں‘ میں ساری رات ان کی خدمت کرتا ہوں‘ان کا پاخانہ تک صاف کرتا ہوں۔
میں نے رات دیکھا آپ کے والد اکیلے ہیں اور ان کی طبیعت زیادہ خراب ہے لہٰذا میں انھیں اپنا والد سمجھ کر ان کی خدمت کرتا رہا‘ اس میں شکریے کی کوئی ضرورت نہیں‘‘ یہ سن کر میں شرم سے زمین میں گڑھ گیا کیوں کہ میں صرف ایس ایچ او تھا اور میرے پاس والد کے لیے وقت نہیں تھا‘ میں نے انھیں اکیلا اسپتال میں چھوڑ دیا تھا جب کہ ہائی کورٹ کا جج پوری رات اپنے والد کے ساتھ ساتھ میرے والد کی خدمت بھی کرتا رہااور ان کی الٹیاں بھی صاف کرتا تھا‘ میرے لیے ڈوب مرنے کا مقام تھا‘ میں ان کے پائوں میں جھک گیا مگر اس عظیم شخص نے مجھے اٹھا کر سینے سے لگا لیا۔
وہ پولیس افسر اس کے بعد رونے لگے‘ میں نے ان سے پوچھا ’’کیا آپ کی اس کے بعد جسٹس صاحب سے دوبارہ کبھی ملاقات ہوئی؟‘‘ وہ روندھی ہوئی آواز میں بولے ’’بے شمار" میں نے زندگی میں ان سے اچھا‘ دین دار‘ ایمان دار اور نڈر انسان نہیں دیکھا‘ ان کا پورا نام "جسٹس ڈاکٹر منیر احمد خان مغل" تھا‘
انھوں نے دو پی ایچ ڈی کی تھیں‘ ایک پاکستان سے اور دوسری جامعۃ الاظہر مصر سے‘ دوسری پی ایچ ڈی کے لیے انھوں نے باقاعدہ عربی زبان سیکھی تھی۔
انھوں نے اس کے علاوہ ملکی اور بین الاقوامی قوانین پر 24 کتابیں لکھی تھیں‘ وہ ان تمام کاموں کے ساتھ ساتھ تیزی سے مقدمات نبٹانے میں مشہور تھے‘ چیف جسٹس جس مقدمے کا فوری فیصلہ چاہتے تھے وہ مقدمہ جسٹس منیر مغل کی عدالت میں لگ جاتا تھا‘ میں خاموشی سے سنتا رہا‘ پولیس افسر کا کہنا تھا‘ جسٹس صاحب غریب خاندان سے تعلق رکھتے تھے‘ ایل ایل بی کے بعد مجسٹریٹ بھرتی ہو گئے‘ محنت کی عادت تھی۔
مجسٹریٹی کے دور میں ان کے پاس کام کم ہوتا تھا لہٰذا انھوں نے عدالتی صفحات کی بیک سائیڈ پر کلمہ لکھنا شروع کر دیا‘ یہ سارا دن کلمہ طیبہ لکھتے رہتے تھے شاید اس پریکٹس کا صلہ تھا اللہ تعالیٰ نے ان کی انرجی اور ٹائم میں برکت ڈال دی‘ انھوں نے دوران ملازمت ایک پی ایچ ڈی کی‘ پھر عربی زبان سیکھی‘ جامعۃ الاظہر میں داخلہ لیا اور عدالتی ٹائم کے بعد عربی زبان میں تھیسس لکھ کر مصر سے بھی پی ایچ ڈی کی ڈگری لے لی‘ وہ ہر نیا قانون پڑھتے اور اس پر فوری طور پر کتاب لکھ دیتے تھے‘ وہ کتاب بھی خود ٹائپ کرتے تھے اور اس سارے کام کے دوران عدالتی کارروائی بھی متاثر نہیں ہوتی تھی‘ وہ دھڑا دھڑ مقدمات نبٹا دیتے تھے۔
انھوں نے پوری زندگی اپنے والد کی خدمت خود کی‘ ان کا بول وبراز تک خود صاف کرتے تھے‘ والد زیادہ بیمار ہوئے تو ان کے بیڈ پر پائوں کے قریب گھنٹی کا بٹن لگا دیا اور گھنٹی اپنے کمرے میں رکھ لی‘ والد ضرورت پڑنے پر پائوں سے بٹن دبا دیتے تھے اور وہ بھاگ کر ان کے پاس پہنچ جاتے تھے‘ اپنی بیگم کو بھی والد کا کوئی کام نہیں کرنے دیتے تھے۔
میں نے ان سے جسٹس صاحب کی زندگی کے مزید واقعات سنانے کی درخواست کی‘ پولیس افسر ہنس کر بولے‘ ایک بار ان کی عدالت میں جائیداد کے تنازع کا کیس آیا‘ ایک طرف سوٹیڈ بوٹیڈ امیر لوگ کھڑے تھے‘ ان کے ساتھ مہنگے وکیل تھے جب کہ دوسری طرف ایک مفلوک الحال بوڑھا کھڑا تھا‘ اس کا وکیل بھی مسکین اور سستا تھا‘ جسٹس صاحب چند سکینڈز میں معاملہ سمجھ گئے لہٰذا انھوں نے بوڑھے سے پوچھا ’’باباجی آپ کیا کرتے ہیں؟‘‘
بزرگ نے جواب دیا ’’میں پرائمری ٹیچر ہوں‘‘ یہ سن کر جسٹس صاحب اٹھ کر کھڑے ہو گئے اور کہا‘ ماشاء اللہ ہماری عدالت میں آج ایک استاد آئے ہیں لہٰذا یہ استاد کرسی پر بیٹھیں گے اور عدالت سارا دن ان کے احترام میں کھڑی ہو کر کام کرے گی اور اس کے بعد یہی ہوا‘ وہ بوڑھا استاد کرسی پر بیٹھا رہا جب کہ جسٹس صاحب اپنے عملے اور وکلاء کے ساتھ کھڑے ہو کر کام کرتے رہے‘ جسٹس صاحب نے سارے مقدمے نبٹانے کے بعد آخر میں بوڑھے استاد کا کیس سنا اور پانچ منٹ میں وہ بھی نبٹا دیا‘ میں نے ان سے پوچھا’’ کیا جسٹس صاحب حیات ہیں؟‘‘
ان کا جواب تھا ’’جی ہاں لیکن بیمار ہیں اور مفلوج ہیں‘‘ پولیس افسر نے اس کے بعد پرس سے پانچ سو روپے کے پانچ بوسیدہ نوٹ نکالے‘ میرے سامنے رکھے اور کہا ’’یہ وہ پانچ سو روپے ہیں‘ میں آج بھی انھیں تعویذ کی طرح جیب میں رکھتا ہوں‘‘ میں نے نوٹ اٹھائے‘ انھیں بوسا دیا اور اسے واپس پکڑا دیے‘ اس نے بھی وہ چومے اور دوبارہ پرس میں رکھ لیے‘ وہ واقعی تعویذ تھے‘ انھیں ایک اصلی انسان نے چھوا تھا۔
꧁♡✰♡﷽♡✰♡꧂
رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا
03/09/2023
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Telephone
Address
Ayaz2012@gmail. Com
Hyderabad