06/08/2025
🇵🇰 پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا رئیل اسٹیٹ اسکینڈل:
بحریہ ٹاؤن اور ملک ریاض کا دھوکہ؟
ملک ریاض کی حالیہ پوسٹ ایک دل سوز داستان کے طور پر پیش کی جا رہی ہے، جس میں وہ بحرِیہ ٹاؤن کی بربادی کا ذمہ دار "سرکاری اداروں کے دباؤ" کو قرار دے رہے ہیں۔ مگر حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ یہ وہی ملک ریاض ہے جس نے دہائیوں تک پاکستان کی اشرافیہ، میڈیا، عدلیہ، اور بیوروکریسی کو مختلف طریقوں سے قابو میں رکھا۔ اس شخص نے عوامی زمینوں پر قابض ہو کر، سرکاری اداروں کو خاموش کرا کے، اور چمکتی دمکتی اسکیموں کے ذریعے لاکھوں لوگوں کو خواب بیچ کر جو سلطنت بنائی، آج وہی سلطنت زمین بوس ہو رہی ہے۔
■ دھوکہ دہی کا منظم نیٹ ورک:
بحریہ ٹاؤن نہ صرف ایک رہائشی اسکیم تھی، بلکہ ایک منظم کاروباری جال تھا، جہاں عوام سے اربوں روپے ایڈوانس لے کر پلاٹس اور ولاز کے خواب بیچے گئے۔ ان اسکیموں میں قانونی تقاضے پورے نہ ہونے کے باوجود، بڑے پیمانے پر مارکیٹنگ کی گئی۔ خریداروں میں صرف عام لوگ نہیں، بلکہ فوجی افسران، ججز، بیوروکریٹس، اور سیاستدان بھی شامل تھے۔ یوں یہ اسکیم طاقتور طبقے کی ملی بھگت سے پروان چڑھی۔
■ اب کیا ہوا؟ "خلائی مخلوق" کا الٹ پھیر!
اب جب حالات نے پلٹا کھایا ہے اور کسی اور کے اشاروں پر کھیلا جا رہا ہے، تو ملک ریاض اپنی مجبوریاں بیان کر رہا ہے۔ یہ وہی طاقتیں ہیں جو کبھی اس کے پیچھے کھڑی تھیں، آج وہی قوتیں اس کی جڑیں کاٹ رہی ہیں۔ اس وقت ملک ریاض "خلائی مخلوق" کے شکنجے میں ہے — وہی مخلوق جس کے بل پر اس نے انصاف، نظام، اور شفافیت کو روند ڈالا تھا۔
■ تنبیہ برائے عوام:
یہ وقت ہے کہ پاکستان کی عوام، خاص کر اشرافیہ، آنکھیں کھولے۔ بحرِیہ ٹاؤن جیسی اسکیمیں صرف Concrete Cities نہیں، بلکہ Concrete Scams بھی ہیں۔ عوام کے اعتماد کو بنیاد بنا کر جو امپائر کھڑی کی گئی تھی، وہ اندر سے کھوکھلی تھی۔
■ آخری نکتہ:
ملک ریاض کا یہ پیغام ایک نفسیاتی چال بھی ہو سکتا ہے، تاکہ عوام کی ہمدردی حاصل کی جائے، یا قانونی گرفت سے نکلنے کی کوئی راہ بنائی جائے۔ لیکن اب وقت آ چکا ہے کہ ادارے، عدالتیں، اور عوام اس اسکینڈل کا مکمل احتساب کریں، اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا رئیل اسٹیٹ دھوکہ دہی کیس اپنے انجام کو پہنچے۔
11/10/2023
میرا مشاہدہ ، (حسین اطھر)
بیس کی عمر
میں نے اس عمر میں آکر کم و بیش 15 کتابیں پڑھیں ، ناولز اکثر ، پھر کچھ افسانے اور ایک دو تاریخ کے ،
اس عمر میں رومانوی کتابیں پڑھنے سے ایک عجب ہی سحر تاری ہو جاتا ہے ، آپ خود کو اس کردار میں ڈھالنے کی کوشش کرتے ہو جو کے افسانے کا مرکزی محور ہوتا ہے ،
لیکن جب وہ سحر تمام ہوتا ہے تو پتہ چلتا ہے گویا یہ محض ایک پانی کے بلبلے کی مانند احساس تھا جو ہوا سے بنا اور ہوا کی وجہ سے ٹوٹ گیا ،
یہ بیس یعنی بیس اکیس بائیس کی عمر بھی ایسے ہی ہوتی ہے ہمارے آس پاس کی آزادی ، اور لوگ جو ہمارے چند گھنٹے کے ساتھی ہوتے ہیں ان کا سحر ہم پر تاری ہو جاتا ہے مگر یقین جانے حقیقت بلکل برعکس ہے ، اس عمر کو کتابوں کے کردار اور ڈرامائی زندگی سے جوڑنے کی کوشش کرکہ اکثر لڑکے لڑکیاں اپنے زندگی کا اہم باب کا ضیاع کردیتے ہیں ،
شاید میں بھی کر چکا لہذا اپنی نگاہیں اس راہ پر مرکوز کریں جو آپکے وجود کی کھوئی ہوئی میراث کو ڈھونڈ سکے ان کے ساتھ رہیں جو جو آپکو پرمید رکھیں ، نہ کی انکے ساتھ جو آپکو جذباتی کہانیوں ، رومانوی گفتگو ، اور خواب نگر میں پھنسائے رکھیں،
لہذا خوش رہنے اور کامیاب ہونے کے لیے اپنا چناؤ بھتر کریں ،
اور بیس کی عمر کو صحیح معنوں میں استعمال کریں ۔
17/09/2023
میرا مشاہدہ جنت ، (حسین اطھر)
بالکل ایسا نہیں کہ ہم مسلمان کے گھر میں پیدا ہوئے تو ہم سرٹیفائیڈ جنتی ہیں ، مسلمان گھر میں پیدا ہونا ایسا ہے کہ ہم ایک دریاء کے کنارے پیدا ہوئے ہیں اب اگر اس کا جام نوش نہ کریں گے اس سے فیض یاب نہ ہونگے تو گویا ہم پر بھی سخت حساب مرتکب ہوگا ،
گویا وہ مسلم کے گھر پیدا ہوا تا عمر شرکیا عمل کیے کفر کیا انکار کیا رب کے احکامات کا وہ کیسے بھلا جنت میں جائیگا یہ تو مجھے سمجھ میں نہیں آتا ،
آپ مجھے اس بات کا جواب دیں جو ریگستانوں میں ہیں یا تھے جن پر انبیاء کرام کی تعلیمات نہ پہنچی وہ کس بات پر جوابدہ ہیں انکا علم فھم شعور تو ریگستان یہ صحرا یا جنگل کی دھلیز سے آگے نہیں نکل پایہ تو یہ سوچنے والی بات ہے کہ ہمیں جو مسلمان کے گھر میں پیدا ہونے پر جنت کا ویزا دیا جاتا ہے وہ محض ایک خوشگوار احساس ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہم اسلام کے جام سے زیادہ شناسائی زیادہ لطف حاصل نہیں کر پاتے۔
15/09/2023
میرا مشاہدہ (حسین اطھر)
یاد رکھیں ہمارے اکثر و بیشتر مسائل ہمارے خود کے اعمال کا نتیجہ ہوتے ہیں ،
جیسے جوانی کی غفلت ہمیں رب سے دور کر دیتی ہے ہم یہ بھول چکے ہوتے ہیں ہم جو عمل کر رہے ہیں بظاہر تو وہ سب سے چھپا ہوا ہے مگر اللہ کی نظر میں بہت ناپسندیدہ ہے تو گویا وہ ہماری عادت بن جاتا ہے جس کا نتیجہ ہمیں فضولیات والے مسائل جنم لے اٹھتے ہیں اور لوگ آپ کو اسی طرح استعمال کیا کرتے ہیں جیسے بغیر کسی مالک کے کوئی جوہر پڑا ہوا ہو ، کیونکہ آپ نے اپنے مالک اپنے رب سے علیحدگی کری ہے لہذا اپنی جوانی میں اپنے وقت ، جذبات ، احساسات کو اللہ کے آگے جھکا لیں ، کسی خلق کی الفت یا روایتی تعلق کو نظر انداز کریں ورنہ آپ کو منہ کی کھانی پڑیگی ۔
29/08/2023
تیری صورت سے ہے عالم میں بہاروں کو ثبات
تیری آنکھوں کے سوا دنیا میں رکھا کیا ہے
فیض
27/08/2023
Indeed we have the bloody Vice Chancellors
22/08/2023
منھجو مشاھدو:(حسين اطھر)
مونکي خبر آھي ت زندگي الله تعالي جي امانت آھي انڪري ان کي بھتر کان بھتر گذارڻ يا گذارڻ جي ڪوشش ڪرڻ گھرجي ،
پاڪستان ۾ رھي ڪري جيڪڏھن مان اھو گمان ڪيان ٿو ت مونکي بھتر زندگي گذارڻ لاء ملي ويندي ت ٿي سگھي ٿو مان ڪجھ سيڪڙو صحيح ب ھجان ، پر منھنجي زندگي ۾ بھتري ن اچي ت انجو ذميدار مان پاڻ ئي آھيان جو مان ھجرت تي قوميت ، خاندانيت کي ترجيح ڏيندي جڏھن ت مونکي خبر آھي ت جيڪا زمين اسانجي لاء تنگ ٿي وڃي ، معيشت ۾ ، عدالت ۾ ، حق ۽ انصاف ۾ اتان کان ھجرت ڪرڻ سنت آھي ،
انڪري تياري ڪجي بھتر آئندي جي جيئن حالاتن کي منھن ڏيڻ جي لائق بڻجي سگھجي .
19/08/2023
بلا وجہ (اطھر)
کب شروع ہوئی یہ زندگی
کچھ خبر نہیں ،
یہ زندگی جو کہ جنگ ہے
اس کا عجب ہی رنگ ہے
جو دیکھتے تھے خواب ہم ،
وہ نیند ہی تک دنگ ہیں ،
وہ محنتیں وہ جستجو ،
اس نظام میں کہیں کھو گئیں ،
خواہشیں کب سوگئیں
کچھ خبر نہیں ،
چھوڑ دی وہ عیش و عشرت
بہت جس کی چاہ تھی
اب خالی بس گمان ہیں
کہ خاص تھا میں بھی کبھی
یہ زندگی جو چل رہی
سنا ہے یہ اک بار ہے
اس کا عجب ہی خمار ہے
کیا اس کا کوئی نام ہے
لگتی تو گمنام ہے
کبھی اس طرح کبھی اس طرح
کہ جیسے ڈھلتی شام ہے
جیسی بھی ہے
اب یہ ہی ہے
اس میں کہیں توامنگ ہے
تو یہ جنگ ہے کیا یہ جنگ ہے ؟
کچھ خبر نہیں ۔
17/08/2023
پنھنجن نياڻين کي پاڻ کان پري نه رکو ھي معاشرو ھاڻي رھزن بڻجي چڪو آھي.
28/06/2023
عید کی رات (ہنسلے)
کل بدھ کو حج کا خطبہ تھا
کل جمعرات کو عید کا خطبہ ہوگا
پھر جمعے کا خطبہ
ایسے ہی ہفتے کو نکاح کا کوئی خطبہ ہوجاتا تو سبحان اللہ یا حبیبی ہوجاتا ۔
😅