Jamia Mehria Maqsoodia, Hyd

Jamia Mehria Maqsoodia, Hyd

Share

An Islamic educational center for Hifz ul Quran, Tajweed and Drs e nizami in Hyderabad working under the guidence of Allama Qari Tahir mehmood awan shb.

11/05/2026

بزم ِعلم و فن جامعہ مہریہ مقصودیہ کے زیر اہتمام عظیم الشان
۔۔۔۔مکالمہ۔۔۔۔۔۔۔
بعنوان ۔۔۔۔
"سوشل میڈیا علم کے فروغ کا ذریعہ یا زوال کا سبب"

07/05/2026

قلم کا تحفہ ....
علم و شعور کی روشنی۔۔۔۔۔۔
جامعہ مہریہ مقصودیہ کے ناظمِ اعلیٰ، حضرت علامہ طاہر محمود اعوان صاحب کا حالیہ دورۂ انگلینڈ محض ایک سفر نہ تھا بلکہ علم، محبت اور تربیت کا ایک خوبصورت پیغام بھی تھا۔ جب وہ واپس تشریف لائے تو اپنے ساتھ طلباء کے لیے ایک نہایت بامعنی تحفہ لے کر آئے
۔۔۔۔۔۔ قلم۔۔۔۔۔۔۔
بظاہر قلم ایک چھوٹی سی چیز ہے مگر حقیقت میں یہ انسان کی تقدیر بدلنے والا ہتھیار ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے قلم کی قسم ارشاد فرمائی ہے۔۔۔۔
"ن وَالْقَلَمِ وَمَا يَسْطُرُونَ"
یہ قلم ہی ہے جو علم کو محفوظ رکھتا ہے انسانی خیالات کو دوام بخشتا ہے اور انسان کو جہالت کے اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جاتا ہے۔
علامہ طاہر محمود اعوان صاحب کا طلباء کے لیے قلم لانا دراصل یہی پیغام دینا ہے۔۔کہ طلباء عزیز
"تمہارا اصل زیور علم ہے اور تمہارا اصل ہتھیار قلم ہے۔"
جب انہوں نے یہ قلم بچوں میں تقسیم کیے تو یہ صرف ایک تحفہ نہیں ہے بلکہ ایک وعدہ بھی ہے کہ یہ بچے علم کے راستے پر چلیں گے۔۔۔ اپنی صلاحیتوں کو نکھاریں گے اور معاشرے میں مثبت کردار ادا کریں گے۔
اور ان کا یہ قلم دینا اس بات کی بھی نشاندہی کرتا ہے کہ ایک سچا استاد اور قائد صرف زبانی نصیحت نہیں کرتا بلکہ عملی طور پر ایسی چیزیں دیتا ہے جو شاگرد کی زندگی بدل دیں۔ قلم دے کر انہوں نے طلباء کے دلوں میں علم کی محبت، لکھنے کا شوق اور سیکھنے کا جذبہ پیدا کیا۔۔۔۔
آخر میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ علامہ طاہر محمود اعوان صاحب کا قلم دینا یہی پیغام دے رہا ہے کہ
"قلم تھامنے والے ہاتھ کبھی خالی نہیں رہتے،
یہی ہاتھ کل تاریخ رقم کریں گے۔۔۔

03/05/2026

بزمِ ادب و فن ۔۔۔
جامعہ مہریہ مقصودیہ
کا ایک روشن اقدام۔۔۔۔۔۔
جامعہ مہریہ مقصودیہ ہمیشہ سے علمی، فکری اور اخلاقی تربیت کا ایک مضبوط مرکز رہا ہے۔ یہاں صرف کتابی علم ہی نہیں دیا جاتا بلکہ طلبہ کی شخصیت سازی، اعتماد سازی اور عملی زندگی کی تیاری پر بھی بھرپور توجہ دی جاتی ہے۔ اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی “بزمِ ادب و فن” ہے، جس کا قیام ہر تعلیمی سال کے آغاز میں کیا جاتا ہے۔
اس بزم کا بنیادی مقصد طلبہ کی تحریری اور تقریری صلاحیتوں کو نکھارنا ہے۔ اکثر طلبہ کے اندر بہت صلاحیت ہوتی ہے، مگر اسٹیج پر آکر گھبراہٹ اور خوف ان کی راہ میں رکاوٹ بن جاتا ہے۔جامعہ مہریہ مقصودیہ کی یہ "بزمِ ادب و فن" طلبہ کو ایسا ایک پلیٹ فارم فراہم کرتی ہے جہاں طلبہ نہ صرف اپنے خیالات کا اظہار سیکھتے ہیں بلکہ اعتماد کے ساتھ لوگوں کے سامنے کھڑے ہونے کی ہمت بھی پیدا کرتے ہیں۔
اس بزم کے ذریعے طلبہ کو مضمون نویسی، تقریر، مکالمہ اور اظہارِ خیال کے مختلف انداز سکھائے جاتے ہیں۔ اساتذہ کی نگرانی میں طلبہ اپنی غلطیوں کو پہچانتے ہیں اور انہیں درست کرتے ہوئے بہتر انداز اپناتے ہیں۔ یوں رفتہ رفتہ ان کے اندر ایک سنجیدہ، باوقار اور مؤثر شخصیت ابھر کر سامنے آتی ہے۔
الحمدللہ! اس سال بھی بزم کا قیام عمل میں لایا گیا، جو جامعہ کی تعلیمی روایت کا تسلسل ہے۔ اس موقع پر ناظمِ اعلیٰ جامعہ مہریہ مقصودیہ، طاہر محمود اعوان صاحب نے خصوصی تربیت فرمائی۔ آپ کی رہنمائی نے طلبہ کے اندر ایک نئی روح پھونک دی۔ آپ نے نہایت سادہ مگر مؤثر انداز میں بتایا کہ ایک اچھا مقرر اور لکھاری کیسے بنتا ہے، اور کن اصولوں کو اپنانے سے انسان اپنی بات دلوں تک پہنچا سکتا ہے۔
حضرت کی گفتگو نے طلبہ کے اندر اعتماد، شوق اور محنت کا جذبہ بیدار کیا۔ طلبہ نے نہ صرف اس تربیت سے فائدہ اٹھانے بلکہ عملی طور پر اسٹیج پر آکر اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنے کے عزم کا بھی ارادہ کیا ۔۔۔۔ # @ #

26/03/2026

اپنے بچوں کو وہ دولت دیں جو کبھی ختم نہ ہو “علمِ دین “✨

آج کے پُرفتن دور میں اپنے بچوں کی صحیح رہنمائی اور مضبوط تربیت نہایت ضروری ہے۔
جامعہ مہریہ مقصودیہ میں قرآن و سنت کی تعلیم کے ساتھ بہترین اخلاق، ادب اور اسلامی اقدار سکھائی جاتی ہیں۔

👨‍🏫 ماہر اساتذہ کی نگرانی
🏫 محفوظ اور پُرسکون ماحول
🌙 دینی و اخلاقی تربیت کا بہترین انتظام

📖 داخلے جاری ہیں — محدود نشستیں!
اپنے بچوں کے دنیا و آخرت کے کامیاب مستقبل کے لیے آج ہی قدم اٹھائیں

📞 رابطہ:9377923 -0300| 03109377923
📍 کوہسار لطیف آباد، حیدرآباد

Photos from Jamia Mehria Maqsoodia, Hyd's post 11/02/2026

جامعہ مہریہ کا اسپورٹس ڈے اور سالانہ الوداعی تقریب۔۔۔۔۔۔۔
آج جامعہ مہریہ مقصودیہ میں ایک یادگار اور خوشگوار دن منایا گیا۔ صبح کا آغاز اسپورٹس ڈے کی پُرجوش سرگرمیوں سے ہوا۔ میدان میں طلبہ کا جوش و خروش دیدنی تھا۔ کہیں کرکٹ کا مقابلہ جاری تھا۔۔۔یہ دن صرف کھیل کا دن نہیں تھا بلکہ اس پیغام کا اظہار تھا کہ جامعہ مہریہ میں تعلیم کے ساتھ ساتھ جسمانی تربیت اور صحت مند سرگرمیوں کو بھی اہمیت دی جاتی ہے۔ کیونکہ مضبوط جسم ہی مضبوط ذہن کا ساتھ دیتا ہے، اور ایک متوازن طالب علم ہی قوم کا بہتر معمار بن سکتا ہے۔
طلبہ نے نہایت نظم و ضبط کے ساتھ کھیلوں میں حصہ لیا۔ ہارنے والے بھی مسکرا رہے تھے اور جیتنے والے بھی عاجزی کے ساتھ ایک دوسرے کو مبارکباد دے رہے تھے۔ یہ منظر اس بات کی دلیل تھا کہ یہاں کھیل بھی اخلاق اور تربیت کے دائرے میں رہ کر کھیلا جاتا ہے۔
رات کی الوداعی تقریب
رات کے وقت جامعہ کے سال کی الوداعی تقریب منعقد ہوئی جو محبت اخوت اور یادوں سے بھرپور تھی۔ اس تقریب میں ناظمِ اعلیٰ محترم علامہ طاہر محمود اعوان صاحب نے خصوصی شرکت فرمائی۔ آپ کی موجودگی نے محفل کو وقار اور سنجیدگی عطا کی۔
اسی طرح دیگر معزز اساتذہ کرام محترم علامہ اویس ناغڑ صاحب، محترم علامہ نور افسر صاحب، محترم علامہ حبیب احمد اعوان صاحب اور احقر نے بھی شرکت کی۔ تقریب کے دوران طلبہ کی جانب سے تاثرات پیش کیے گئے۔۔ کچھ نے اپنے اساتذہ کا شکریہ ادا کیا۔۔کچھ کی آنکھوں میں جدائی کی نمی بھی تھی۔ مگر یہ جدائی وقتی تھی، کیونکہ جامعہ کا رشتہ دلوں سے ہوتا ہے، عمارتوں سے نہیں۔
آج کا دن جامعہ مہریہ مقصودیہ کے لیے صرف ایک تقریب نہیں تھا بلکہ تربیت، محبت اور یادوں کا سنگم تھا۔ دن نے جسمانی توانائی دی اور رات نے روحانی وابستگی کو تازہ کیا۔
اللہ تعالیٰ اس ادارے کو دن دگنی رات چوگنی ترقی عطا فرمائے، اساتذہ کرام کو اخلاص اور صحت عطا فرمائے اور طلبہ کو علم و عمل کا سچا وارث بنائے۔ آمین۔
(
اس حسین محفل کی عکس بندی کے مناظر)

10/02/2026

اے طلباءِ کرام!
سچ بتاؤ…
کیا آپ لوگ نے گھرجا کر کتاب کھولی؟
یا علم کو صرف درسگاہ تک محدود سمجھ لیا؟
یاد رکھو، جو طالب علم گھر میں مطالعہ نہیں کرتا، وہ علم سے نہیں، مجبوری سے پڑھتا ہے۔(آج کے لیکچر سے ایک اقتباس)

Photos from Jamia Mehria Maqsoodia, Hyd's post 10/02/2026

جامعہ کے ناظمِ اعلیٰ محترم علامہ "طاہر محمود اعوان صاحب"کی طرف سے طلبہ کے لیے فکری سوالات اور ان کے ذریعے تربیت۔۔۔۔۔۔

کسی بھی تعلیمی ادارے کی اصل روح صرف نصاب کی تکمیل نہیں ہوتی۔بلکہ طلبہ کی فکری اخلاقی اور عملی تربیت ہوتی ہے۔ جامعہ کے ناظمِ اعلیٰ کی طرف سے طلبہ سے مختلف نوعیت کے سوالات پوچھے گئے جو کہ دراصل اسی تربیتی عمل کا ایک اہم حصہ ہیں۔ یہ سوالات محض امتحانی یا معلوماتی نہیں ۔ بلکہ انسان کو اپنے باطن معاشرے اور ذمہ داریوں پر غور کرنے کی دعوت دینا ہے۔۔۔۔
پہلا سوال ۔۔۔۔
“الناس علیٰ دینِ ملوکِہم”
یعنی لوگ اپنے حکمرانوں کے دین اور طرزِ فکر پر ہوتے ہیں
یہ ایک سادہ جملہ نہیں بلکہ ایک گہرا فکری سوال ہے۔ اس کے ذریعے طلبہ کو یہ سوچنے پر مجبور کیا جاتا ہے کہ معاشرے کی اخلاقی حالت کیوں بگڑتی یا سنبھلتی ہے؟ کیا فرد مکمل طور پر معذور ہوتا ہے یا اس پر بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے؟
ناظمِ اعلیٰ دامت برکاتہم العالیہ نے جب ایسے سوالات طلبہ کے سامنے رکھے تو اس کا مقصد صرف بحث کروانا نہیں تھا بلکہ طلبہ کے اندر تنقیدی شعور، ذمہ داری کا احساس اور اصلاحِ نفس کا جذبہ پیدا کرنا ہے اور طالب علم کو یہ سمجھانا ہے کہ اگر حکمرانوں کا اثر عوام پر پڑتا ہے تو ایک عالم، ایک طالب علم اور ایک داعی کا اثر بھی معاشرے پر پڑتا ہے۔
یہ سوالات در اصل طلبہ کو یہ پیغام دیے رہے تھے کہ اصلاح کا آغاز ہمیشہ اوپر سے نہیں،بلکہ خود سے ہوتا ہے
علم کے ساتھ عمل اور کردار لازم ہے
اگر معاشرہ بگڑا ہوا ہے تو اس کی ذمہ داری صرف دوسروں پر ڈالنا درست نہیں یوں ناظمِ اعلیٰ دامت برکاتہم العالیہ کے یہ فکری سوالات دراصل ایک خاموش تربیتی نصاب ہیں جو طلبہ کو کتابوں سے آگے لے جا کر زندگی کی حقیقتوں سے جوڑ رہے ہیں یہی سوالات آگے چل کر ایک طالب علم کو محض عالم نہیں بلکہ باشعور، باکردار اور باعمل رہنما بناتے ہیں۔۔۔۔۔

Photos from Jamia Mehria Maqsoodia, Hyd's post 09/02/2026

سالانہ امتحان ۔۔۔
جامعہ مہریہ مقصودیہ۔۔۔۔۔
جامعہ کے ناظم اعلیٰ کی یہ سوچ کہ آج کے دور میں امتحان صرف نمبر لینے کا نام نہیں رہا۔
اکثر جگہوں پر یہ فقرہ فخر سے بولا جاتا ہے۔۔۔
“روایت چلی آرہی ہے سو ہم نے بھی لے لیا امتحان۔۔۔”مگر سوال یہ ہے کہ
کیا امتحان کا مقصد صرف کاغذ پُر کرنا ہے؟
یا ذہن کو پرکھنا صلاحیت کو نکھارنا اور طالب علم کی علمی صلاحیت کو جانچنا بھی؟
جامعہ مہریہ مقصودیہ میں اس سال امتحان ایک رسم نہیں بلکہ علمی قابلیت کو جانچنے کیلئے لئے جارہے ہیں اور وہ بھی "اورل"
یہاں اورل امتحان اس لیے لیا جا رہا ہے کہ طالبِ علم کی سمجھ بولے۔۔
اس کا علم خود اس کی زبان سے ظاہر ہو اور یہ واضح ہو جائے کہ اس نے صرف پڑھا ہی نہیں بلکہ سمجھا بھی ہے۔یہاں نقل کا سہارا نہیں بلکہ اعتماد کی بنیاد ہے۔
یہاں لکھوا کر پاس ہونے کا ہنر نہیں۔بلکہ بول کر ثابت کرنے کی جرات سکھائی جا رہی ہے ۔۔
اورل امتحان اس لیے نہیں کہ مشکل بڑھائی جائے۔۔بلکہ اس لیے کہ کل جب یہی طالب علم منبر پر ہومحراب میں کھڑا ہو
یا معاشرے کی رہنمائی کرے
تو اس کے الفاظ ادھار کے نہ ہوں۔
جامعہ مہریہ مقصودیہ وہ ادارہ ہے
جہاں امتحان لیا جاتا ہے۔۔
اور طالب علم تیار کیا جاتا ہے۔
یہی فرق ہے
رسمی کامیابی اور حقیقی قابلیت میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔

10/11/2025

الحمد للہ ❤

Want your school to be the top-listed School/college in Hyderabad?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address


Daman E Kohsar, Latifabad
Hyderabad