سائنسدانوں نے تاریخ میں پہلی بار مادے کی نایاب پانچویں قسم کو 6 منٹ کیلئے تخلیق کر لیا۔
سائنسدانوں نے خلا میں ایک حیرت انگیز کامیابی حاصل کی ہے۔ انہوں نے پانچویں قسم کے مادے کو صرف چھ منٹ کے لیے تخلیق کر لیا، اور یہ سب کچھ خلا میں ایک بہت ہی سرد جگہ پر ہوا جہاں کشش ثقل بھی انتہائی کمزور تھی، یہ ایسی جگہ تھی جو زمین پر کبھی نہیں مل سکتی تھی۔
یہ پانچواں مادہ کیا ہے؟
یہ مادہ Bose-Einstein Condensate (BEC) کہلاتا ہے۔ اردو میں اسے "بوس-این اسٹائن متراکم مادہ" کہا جا سکتا ہے۔ "بوس اور این اسٹائن" سائنسدانوں کے نام ہیں۔
ساتیندرا ناتھ بوس اور آلبرٹ آئنسٹائن کی تحقیق کی بدولت BEC کی خصوصیات کو سمجھنے میں مدد ملی۔ یہ دونوں سائنسدانوں کی مشترکہ تحقیق کی بدولت ممکن ہوا کہ ہم اس مادے کو آج سمجھ سکیں اور اس پر تجربات کر سکیں۔
جب ایٹموں کو انتہائی سردی میں ٹھنڈا کیا جاتا ہے، تقریباً صفر درجے کے قریب، تو وہ ایک عجیب و غریب حالت میں تبدیل ہو جاتے ہیں جسے BEC کہتے ہیں۔ اس حالت میں، ایٹم ایک "سپر ایٹم" کی طرح برتاؤ کرتے ہیں۔ یہ اتنی باریک بینی سے اپنے ماحول کی تبدیلیوں کا پتہ لگاتے ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ ہو جاتے ہیں۔ یہ ایسی حالت ہے جس میں ایٹم ایک دوسرے کے ساتھ مل کر ایک واحد "سپر ایٹم" کی طرح عمل کرتے ہیں۔
ڈینس بیکر اور ان کی ٹیم نے لیبنز یونیورسٹی ہنور سے، ایک چھوٹے سے ایٹم چپ پر BEC تیار کیا۔ اس چپ کی جسامت ایک اسٹامپ کی طرح تھی۔ پہلے، BEC کا تجربہ زمین پر ہوتا تھا، لیکن وہاں یہ صرف چند سیکنڈ کے لیے برقرار رہ سکتا تھا۔ خلا کی کم کشش ثقل نے سائنسدانوں کو BEC کو چھ منٹ تک دیکھنے کا موقع دیا۔
خلا میں، درجہ حرارت تقریباً منفی 273.15 ڈگری سیلسیس (0 کلوین) کے قریب ہوتا ہے، جو کہ سب سے کم ممکنہ درجہ حرارت ہے۔ اس سطح پر، ایٹموں کی حرکت تقریباً رک جاتی ہے، اور وہ BEC کی حالت اختیار کر لیتے ہیں۔
سائنسدانوں نے ان چھ منٹوں کے دوران 110 مختلف تجربات کیے۔ وہ تجربات مندرجہ ذیل ہیں:
بی ای سی کو تقسیم کرنا اور دوبارہ جوڑنا: لیزر کی مدد سے، (BEC) کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا اور پھر دوبارہ جوڑا گیا۔ اس عمل نے سائنسدانوں کو یہ سمجھنے میں مدد دی کہ ایٹم کیسے آپس میں بات چیت کرتے ہیں اور کیا کچھ مخصوص مداخلتیں ہیں جو ان کی حرکت پر اثر انداز ہوتی ہیں۔
کوانٹم مداخلت: یہ دیکھنے کی کوشش کی گئی کہ ایٹموں کے آپس میں ملنے اور دوبارہ جڑنے کے دوران کیا کوئی کوانٹم سطح کی مداخلتیں ہو رہی ہیں، جو ممکنہ طور پر کشش ثقل کی لہروں کی وجہ سے ہو سکتی ہیں۔
یہ کامیابی خلا میں BEC کے مطالعے کے لیے ایک نیا دور شروع کرتی ہے۔ NASA بھی ISS پر BEC پر تحقیق کر رہا ہے، جس میں Cloud Atom Lab شامل ہے۔ ان تجربات کا مقصد BEC کو خلا میں زیادہ دیر تک برقرار رکھنا ہے تاکہ اس کی خصوصیات اور ممکنہ استعمالات کو بہتر سمجھا جا سکے۔
بی ای سی (BEC) کا مطالعہ مستقبل میں کشش ثقل کی لہروں کی دریافت، جدید ٹیکنالوجیز، اور دیگر سائنسی تحقیقات میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ یہ کامیابی سائنس کی دنیا میں ایک نیا سنگ میل ہے اور یہ ہمیں بتاتی ہے کہ خلا میں تحقیق کتنی دلچسپ اور متاثر کن ہو سکتی ہے۔
ترجمہ و تلخیص: حمزہ زاہد۔
نوٹ: اس طرح کی مزید معلوماتی پوسٹس کیلئے مجھے فالو کریں۔ براہِ مہربانی اگر اس پوسٹ کو کاپی پیسٹ کریں تو اصل لکھاری کا نام ساتھ ضرور لکھیں۔
Chemistry tution/ home tution for class,ix,xi,xii.
chemistry knowladge
17/12/2022
Nice conversation
10/06/2021
. پانی کا باقی ماۂعات سے مختلف رویہ
آپ نے مشاہدہ کیا ہوگا کہ آپ پانی کا برتن بھر کر فریزر میں رکھتے ہیں، تو اس کی سطح بالکل ہموار ہوتی ہے. لیکن جب وہ جم کر برف کی شکل اختیار کرتا ہے تو اس کی سطح ہموار نہیں ہوتی بلکہ سطح پر کسی طرف ایک چھوٹی سی برف کی چوٹی ابھری ہوئی ہوتی. اس برف کی چوٹی کی بھلا کیا وجہ ہوسکتی ہے؟
دنیا بھر میں جتنی بھی اشیاء ہیں ان سب میں ایک خصوصیت مشترک ہے کہ وہ ٹھنڈا ہونے پر سکڑتی ہیں اور گرم ہونے پر پھیلتی ہیں. اسی طرح تمام ٹھوس اشیاء کو جب گرم کرکے پگھلایا جاتا ہے تو ان کے مائع کا حجم ان کے ٹھوس کے حجم سے ہمیشہ زیادہ ہوتا ہے. مگر دنیا میں واحد ایک پانی ہے جس میں اس رویہ سے کچھ اختلاف پایا جاتا ہے.
پانی کو جب ٹھنڈا کیا جاتا ہے تو وہ سکڑتا جاتا ہے.. حتی کہ چار ڈگری سینٹی گریڈ تک اس کا رویہ تمام دیگر مادے کی اشیاء کی طرح بالکل عام سا ہوتا ہے. یعنی سو ڈگری کے ابلتے ہوئے پانی سے چار ڈگری سینٹی گریڈ کے ٹھنڈے پانی تک پانی سکڑتا ہی ہے. لیکن چار ڈگری سینٹی گریڈ کےبعد صفر ڈگری پر برف بننے تک یہ پھر سےپھیلنا شروع کردیتا ہے.
پانی کی اس مختلف خاصیت کو ( anomalous behaviour of water) انامولیس بی ہیوئیر آو واٹر کہتے ہیں. پانی کے اس غیر معمولی رویہ کی وجہ سائنس ابھی تک سو فیصد نہیں جان سکی. بہر حال اس کے متعلق جو عمومی مفروضہ موجود ہے اس کے مطابق چونکہ پانی جب جم کر برف کی شکل اختیار کرتا ہے تو اس کے مالیکیول ایک خاص قسم کی ہشت پہلو شکل اختیار کرلیتے ہیں جس کی وجہ سے برف کا حجم اسی وزن کے پانی کے حجم سے زیادہ ہوتا ہے. لہذا پانی چار ڈگری سینٹی گریڈ سے صفر ڈگری سینٹی گریڈ کی برف بننے تک مسلسل پھیلتا ہے.
اس پھیلاؤ کی وجہ سے پانی سے بننے والی برف کا حجم پانی کے حجم سے زیادہ ہوتا ہے. اس خصوصیت کی وجہ سے ہمیشہ مشروبات کی بوتلیں لبالب نہیں بھری جاتیں. ورنہ ان کے پھٹنے کا خدشہ ہوتا ہے. اسی خصوصیت کی وجہ سے سردیوں میں کوئٹہ اور سکردو وغیرہ میں پانی کے پائپ پھٹ جاتے ہیں. اسی وجہ سے ٹھنڈے علاقے کی گاڑیوں کے ریڈی ایٹر میں پانی میں اینٹی فریز ڈالنا لازمی ہوتا ہے ورنہ ریڈی ایٹر کی نالیاں پھٹ جانے کاخطرہ موجود ہوتا ہے.
لیکن دوسری طرف پانی کے اس غیر معمولی رویے کی وجہ سے دنیا بھر میں ٹھنڈے علاقوں کی جھیلیں اور سمندر سارے کے سارے نہیں جمتے. بلکہ صرف ان کی اوپری سطح ہی برف میں تبدیل ہوتی ہے جبکہ برف کی تہہ کے نیچے ساری جھیل یا سمندر مائع حالت میں موجود رہتا ہے. ایسا کیسے ہوتا ہے؟
ہوتا کچھ یوں ہے. جب سردی پڑنا شروع ہوتی تو جھیل یا سمندر کا اوپری پانی ٹھنڈا ہونا شروع ہوجاتا ہے. جیسے ہی اس کا درجہ حرارت کم ہوتا ہے یہ بھاری ہوجاتا ہے اور نیچے کی طرف بیٹھ جاتا ہے جبکہ نیچے زیادہ درجہ حرارت کا گرم پانی اوپر آجاتا ہے. پھر سے یہی عمل دہرایا جاتا ہے. بار بار یہ عمل ہوتا ہے حتی کہ پوری جھیل یا سمند کا پانی چار ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے.
اب جب اوپری حصے کا درجہ حرارت مزید کم ہوتا ہے تو وہ بھاری ہونے کی بجائے ہلکا ہوجاتا ہے. لہذا اب یہ نیچے کی طرف نہیں جاسکتا. یہاں تک کہ یہ ٹھنڈا ہوتا ہوتا جم کر برف کی شکل اختیار کر لیتا ہے. گویا جب کسی بھی جھیل یا سمندر کے اوپر برف کی دبیز تہہ جمی ہوتی ہے اس وقت اس کے تہہ کے نیچے سارا پانی چار ڈگری سینٹی گریڈ پر موجود ہوتا ہے. چونکہ برف حرارت کی بہت کم یا بری موصل ہے اس لیے نیچے والے چار ڈگری سینٹی گریڈ کے پانی کی حرارت محفوظ کرنے میں یہ برف شیلڈ یا لحاف کا کردار ادا کرتی ہے.
یوں ساری سردیاں چاہے فضا کا درجہ حرارت منفی بیس درجہ بھی ہوجائے نیچے پانی چار ڈگری سینٹی گریڈ پر ہی برقرار رہتا ہے. اس عمل کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ سردیوں میں ساری آبی حیات بشمول مچھلیاں جھینگے اور سمندری پودے سب کے سب فنا ہونے سے بچ جاتے ہیں. سوچیں اگر سردیوں میں سارے سمندر اور ساری جھیلیں مکمل طور پر جم جاتیں تو لاکھوں ٹن کی کروڑوں مچھلیاں اور دوسری آبی حیات بھی ساتھ ہی جم کر زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتی. تو خالقِ کائنات کی ایک حکمت " انامولیس بی ہیوئیر آو واٹر" نے ساری حیات آب کو زندگی تفویض کردی..
نیکولا ٹیسلا
نیکولا ٹیسلا ایک مشہور برقی انجینئرز اور ان سائنس دانوں میں سے ایک تھا جس نے بہت سی چیزیں ایجاد کیں جیسے وائرلیس برقی ٹرانسمیشن سسٹم (تجرباتی) اور اے سی ٹرانسمیشن سسٹم۔ سب سے اہم ایجاد جو کی جاتی ہے وہ ہے اے سی کرنٹ سے بجلی کی ترسیل ، جس نے بجلی کو بہت بڑی فاصلوں تک منتقل کرنے کا مسئلہ حل کیا۔
تاریخ انسانی میں ایسے افراد کی تعداد بہت کم ہے جنہوں حقیقی معنوں میں خالص علم کی خاطر بے لوث ہو کر عظیم کام کیے اور نہ ستائش کی توقع رکھی اور نہ ہی صلے کی پرواہ.ان میں ایک نام نیکولا ٹیسلا کا ہے.
نیکولا ٹیسلا 10 جولائ 1856 میں جمہوریہ کروشیا میں پیدا ہوئے۔ وہ بچپن سے ہی بجلی میں دلچسپی لیتا تھا۔ اس کی والدہ بجلی میں اس کی دلچسپی کی سب سے بڑی وجہ تھیں کیونکہ اس نے اپنے فارغ وقت کے دوران کچھ برقی آلات تیار کرنے کا کام کیا۔ ان کے والد نے انہیں کاہن بنانے کی کوشش کی ، لیکن ان کی دلچسپی صرف سائنس سیکھنے میں تھی۔کہا جاتا ہے کہ اس کا ذہن ایک فوٹو کاپی کی طرح کام کرتا تھا یعنی جیسے جیسے وہ کتاب کے صفحے پلٹتا جاتا,اس کے ذہن میں وہ وہ چیز نقش ہوتی جاتی.وہ کسی بھی چیز کا جب ارادہ کرتا تو پہلے ہی اس چیز کا نقشہ خودبخود اس کے ذہن میں بن جاتا.
جب ٹیسلا نے ابتدائی تعلیم مکمل کی ، اس نے الیکٹرانک انجینئرنگ کے مطالعہ کے لئے آسٹریا کے پولی ٹیکنک کالج میں درخواست دی۔ اس نے 1880ء میں یونیورسٹی آف پراگ میں انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کرنے کے لئے یونیورسٹی میں داخلہ بھی لیا۔ بدقسمتی سے ، وہ یونیورسٹی میں اپنی گریجوایشن کی ڈگری مکمل نہ کرسکا کیونکہ اس کے والد کا انتقال ہوگیا۔
یونیورسٹی سے رخصت ہونے کے بعد ، ٹیسلا کو ٹیلی گراف کمپنی میں نوکری مل گئی اور وہ الیکٹریشن کی حیثیت سے مقرر ہوا۔ اپنی محنت کی وجہ سے ، اس کو فوری ترقی ملی اور اسی کمپنی میں برقی انجینئر بن گیا۔ ٹیسلا نے ٹیلیگراف کمپنی میں کئی سال کام کیا.
امریکہ کی طرف سفر
1884 میں ، جب ٹیسلا پہلی بار امریکہ پہنچے تو ان کے پاس سابقہ ملازمت میں ان کے مینیجر چارلس بیچلر کی سفارش کے خط, کچھ جوڑے کپڑوں کے اور اور چار سینٹ جیب میں تھے.۔ تھامس ایڈیسن کو اپنے خط کی سفارش میں ، چارلس بیچلر نے لکھا ، "میں دو عظیم آدمی جانتا ہوں اور آپ ان میں سے ایک ہیں جبکہ دوسرا یہ نوجوان ہے۔" ایڈیسن نے ٹیسلا کو اپنی کمپنی ایڈیسن مشین ورکس کے لئے کام کرنے کے لئے خدمات حاصل کیں۔ ایڈیسن کے لئے ٹیسلا کے کام کا آغاز سادہ برقی انجینئرنگ سے ہوا اور کمپنی کے مشکل ترین مشکلات حل کرنے میں تیزی سے ترقی کرتی رہی۔ ٹیسلا کو ایڈیسن کمپنی کے براہ راست موجودہ جنریٹرز کی مکمل شکل دینے کا کام پیش کیا گیا۔
1919 میں ٹیسلا نے لکھا کہ ایڈیسن نے موٹر اور جنریٹر کی بہتریوں کو مکمل کرنے پر اسے 50،000 یورو (ایک ملین ڈالر) کی پیش کش کی۔ ٹیسلا نے کہا کہ انہوں نے ان کو دوبارہ ڈیزائن کرنے کے لئے قریب ایک سال کام کیا اور ایڈیسن کمپنی کو اس عمل میں بہت سارے منافع بخش نئے پیٹنٹ دیئے۔ جب ٹیسلا نے 50،000 کے بارے میں دریافت کیا تو ، ایڈیسن نے مبینہ طور پر اس کو جواب دیا ، "ٹیسلا ، آپ ہمارے امریکی طنز کو نہیں سمجھتے ،" اور اپنے وعدے سے مکر گئے.اس سے نیکولا ٹیسلا بہت دلبرداشتہ ہوا اور تنخواہ میں ایک وعدہ کے مطابق اضافہ نہ کرنے کی وجہ سے وہ مایوس ہو کر تھامس ایڈیسن کی کمپنی کو چھوڑ دیا.چونکہ اس وقت اس کے پاس پیسے کمانے کا کوئ اور وسیلہ نہیں تھا اس لیے ایک سال یعنی 1886 سے لے کر 1887ء تک بطور مزدور کام کرنا پڑا.مگر جیسے کہتے ہیں کہ"ہمت مرداں مدد خدا",اس نے ہمت نہیں ہاری اور اپنے اے سی کرنٹ پر کام جاری رکھا.اس دوران اس نے ایک اے سی موٹر کی ایجاد بھی کی اور اس کو جارچ کی واشنگٹن ہاؤس کپمنی کو اسکی پینٹنٹ فروخت کردی.چونکہ چارج تھامس ایڈیسن کا حریف تھا اور اے سی کرنٹ کے ترسیلی نظام کو دنیا بھر میں پھیلانا چاہتا تھا اور چونکہ نیکولا ٹیسلا بھی اے سی کرنٹ ٹرانزیشن سسٹم میں دلچسپی رکھتے تھے, سو اس لیے اس نے نیکولا ٹیسلا کی دلچسپی اور قابلیت کو بھانپ کر اپنے پاس ملازمت کے لیے رکھ لیا.اور یہاں سے اے سی کرنٹ اور ڈی سی کرنٹ کے درمیان مقابلہ کی اصل گیم شروع ہوتی ہے.تھامس ایڈیسن ڈی سی کرنٹ کو دنیا بھر میں ں پھیلانا چاہتا تھا اور اس کی خاطر وہ کچھ بھی حرکت کرسکتا تھا اور یقیناًاس نے ایسا کیا بھی تھا.کہا جاتا ہے کہ اس نے اپنے ڈی سی کرنٹ(جو بیٹری سے پیدا ہوتا ہے) کو بچانے کے لیے اے سی کرنٹ کی نیگیٹو پبلیسٹی بھی کی.اے سی کرنٹ کے خطرہ کو لوگوں کے سامنے ظاہر کرنے کے لیے اس نے ایک جیتے جاگتے انسان لوگوں کی آنکھوں کے سامنے اے سی کرنٹ کے جھٹکے لگوا کر لوگوں میں خوف و ہراس پھیلانے کی پوری کوشش کی.لیکن اس کے باوجود اے سی کرنٹ کی ہی جیت ہوئ.
نیکولا ٹیسلا نے بہت سی چیزیں ایجاد کی ہیں اور ان کے نام پر رجسٹرڈ پیٹنٹ کی تعداد 300 سے زیادہ ہے۔
اے سی کرنٹ ٹرانزیشن سسٹم کی موجودہ ایجاد سے پہلے ، بجلی کی ترسیل کا معیار ایڈیسن ڈی سی نظام پر مبنی تھا۔ ڈی سی سسٹم کا استعمال کرکے بجلی کی ترسیل میں بہت ساری پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا ، جیسے لائنوں میں ہونے والا نقصان ، وولٹیج کی سطح کو تبدیل کرنے میں دشواری (جیسے 110v سے 220v)۔کیونکہ ڈی سی کرنٹ کا ذریعہ بیٹری ہے اور اگر لمبے فاصلہ تک اس کرنٹ کو پہچانے کے لیے ہر ایک بلاک میں ایک پاور پلانٹ کی ضرورت ہوتی ہے.ٹیسلا نے ڈی سی ٹرانسمیشن سسٹم کے مسئلے کو سمجھا اور اے سی (ردوبدل موجودہ) ٹرانسمیشن سسٹم کی ترقی کے ساتھ سامنے آیا۔
الٹرنیٹنگ کرنٹ (اے سی) کے براہ راست کرنٹ (ڈی سی) سے کہیں زیادہ فوائد ہیں کیونکہ یہ بجلی کے ٹرانسفارمرز کے ذریعے وولٹیج کی سطح کو بڑھانے یا کم کرنے میں آسانی سے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ AC نظام کو استعمال کرنے سے ، لائن کے نقصانات جو بڑی فاصلوں سے بجلی لے جاتے ہیں وولٹیج کی سطح کو سیکڑوں کلو واولٹ تک بڑھا کر کم کیا جاسکتا ہے۔ آج ، پوری دنیا میں AC ٹرانسمیشن سسٹم لوگوں کو بجلی فراہم کرنے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔
آج لوگ شاید یہ سمجھتے ہیں کہ ریڈیو کی ایجاد ماکونی نے کی ہے مگر حقیقت اس کے برعکس ہے.1943ء میں امریکی سپریم کورٹ نے مارکونی کی ریڈیو پینٹنٹ کی تردید کر کے اس کو نیکولا ٹیسلا سے موسوم کیا ہے.حالانکہ کہ ریڈیو کی ایجاد پر مارکونی کو 1909ء میں نوبل انعام بھی ملا تھا.اسکی وجہ یہ تھی کہ نیکولا ٹیسلا سے پہلے ہی مارکونی نے اپنے نام سے پینٹنٹ پبلش کردی اور اسکی زیادہ پراوہ نیکولا نے بھی نہیں کی کیونکہ وہ اس کے ذہن میں اس دوران ایک عجیب خیال سما گیا کہ جس طرح بغیر تار کے سگنل ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیے جاسکتیے ہیں تو کیا یہ ممکن نہیں کہ بجلی کو بھی ایک جگہ سے دوسری جگہ بغیر تاروں کے منتقل کیا جاسکے.اگرچہ وہ اپنے اس منصوبہ میں کامیاب نہ ہوسکا اور اس کو اس میں بہت سا مالی نقصان بھی آیا.1915ء میں تھامس ایڈیسن اور نیکولا ٹیسلا دونوں کو ایک ساتھ نوبل انعام کے لیے نامزد کیا گیا مگر چونکہ وہ ایک دوسرے کے حریف تھے اس لیے دونوں نے انکار کردیا.اس کے علاوہ نیکولا نے ٹیسلا کوائل کی ایجاد بھی کی جو ریڈیو ٹرانمشن میں استعمال ہوتی ہے.اسکی مدد سے کئ گنا وولٹیج بڑھایا جاسکتا ہے.
کیا آپ جانتے ہیں کہ نیکولا ٹیسلا کو شاعری کا بھی شوق تھا.مزید یہ کہ وہ ہندی فلاسفے سے بھی بڑا متاثر تھا.اس نے کبھی شادی نہیں کی اور ہمیشہ غربت کی زندگی گزاری بالخصوص آخری ایام میں وہ کمسپرسی کی زندگی گزارتے ہوئے مرگیا.اس کے دل میں خدمت انسانیت کا جذبہ تو معمور تھا مگر اس کی زندگی میں جب وہ اتنی بڑی ایجادات کررہا تھا, کسی نے قدر نہیں کی.اور آخر کار یہ بے بس انسان 7 جنوری 1943ء کو اس دنیا کو چھوڑ کر ہہمیشہ کے لیے چلا گیا اور ہمیں یہ سبق بھی دے گیا کہ یہ دنیا بہت بے قدری ہے.
حقائق
ٹیسلا نیند کے پولی فاسک سائیکل بہت استعمال کرتا تھا ، جس میں وہ ایک گھنٹے یا اس سے کم نیند کے وقت میں 4 سے 5 بار سوتا تھا۔ ٹیسلا کی ایک شاندار یادداشت تھی جس کی وجہ سے وہ طویل عرصے تک کتابیں حفظ کرنے کی اجازت دیتا تھا۔
تحریر:گمنام مسافر
22/07/2020
02/06/2020
★Thulium Facts★
Name:
Symbol Tm
Atomic Number 69
Atomic Weight 168.934
Group --
Period 6
Block f
: [Xe] 4f13 6s2
Full: 1s2 2s2 2p6 3s2 3p6 3d10 4s2 4p6 4d10 5s2 5p6 4f13 6s2
In: 1879
Discovered By: Per Theodore Cleve
Discovered At: Sweden
:
Named after "Thule", an ancient name for Scandinavia.
:
Density 9.32 g/cm3
Atomic Volume 18.1 cm3/mole
Atomic Radius 1.77 angstroms
Covalent Radius --
Crust Abundance 0.000045%
Crystal Structure Hexagonal
Color Silver
fb.com/chemi69lover
States
Melting Point 1545.0 °C
Boiling Point 1950.0 °C
Neel Point 56.K
Heat of Fusion 16.8 kJ/mol
Heat of Vaporization 191.0 kJ/mol
Energy:
Electronegativity 1.3 (Pauling Scale)
Electron Affinity 50 kJ/mol
1st Ionization Energy 597 kJ/mol
2nd Ionization Energy 1160 kJ/mol
3rd Ionization Energy 2285 kJ/mol
4th Ionization Energy 4120 kJ/mol
Specific Heat Capacity 0.16 J g−1 K−1
Thermal Conductivity 16.8 W·m−1·K−1
Oxidation States +3, +2
:
Radioactive thulium is used to power portable x-ray machines, eliminating the need for electrical equipment.
:
Found with other rare earths in the minerals gadolinite, euxenite, xenotime, and monazite. Monazite is often 50% rare earth by weight and 0.007% thulium.
09/05/2020
★Palladium Facts★
Name:
Symbol: Pd
Atomic Number: 46
Atomic Weight: 106.42
Group: 10 (nickel family)
Solid, Paramagnetic, Conductor, Transition Metal, Metal, Stable, Natural
Period 5
Block d
: [Kr] 4d10
Full: 1s2 2s2 2p6 3s2 3p6 3d10 4s2 4p6 4d10
: In 1803 By William Hyde Wollaston At England.
:
Named after the asteroid "Pallas" which was discovered at about the same time and from the Greek name "Pallas", goddess of wisdom.
:
Density: 12.0 g/cm3
Atomic Volume: 8.9 cm3/mole
Atomic Radius: 1.37 angstroms
Covalent Radius: 131 pm
Crust Abundance: 6.3E-7%
Crystal Structure Cubic: Face centered
Color: Silver
States:-
Melting Point: 1554.0 °C
Boiling Point: 3140.0 °C
Heat of Fusion: 16.74 kJ/mol
Heat of Vaporization: 393.3 kJ/mol
fb.com/chemi69lover
Electronegativity: 2.2 (Pauling Scale)
Electron Affinity: 53.7 kJ/mol
1st Ionization Energy: 804 kJ/mol
2nd Ionization Energy: 1870 kJ/mol
3rd Ionization Energy: 3177 kJ/mol
Specific Heat Capacity: 0.244 J g−1 K−1
Thermal Conductivity: 71.8 W·m−1·K−1
Oxidation States: +2,4
:
Used as a substitue for silver in dental items and jewelry. The pure metal is used as the delicate mainsprings in analog wristwatches. Also used in surgical instruments and as catalyst .
:
Obtained with platinum, nickel, copper and mercury ores.
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Telephone
Website
Address
Qasim Abad Hyderabad
Hyderabad