Qaiser Shah-LifeCoach Pakistan

Qaiser Shah-LifeCoach Pakistan

Share

Life coaching is the process of helping people identify and achieve personal goals. Although life coaches may have studied counseling psychology .

09/03/2026

کبھی کبھی ایک استاد ایک پوری تاریخ بدل دیتا ہے۔
فرانسیسی مفکر اور ادیب Albert Camus جب 1957 میں ادب کا نوبل انعام جیت کر دنیا کے سامنے کھڑے تھے تو ان کے ذہن میں سب سے پہلے اپنی ماں کے بعد جس شخصیت کا خیال آیا، وہ ان کے پرائمری اسکول کے استاد Louis Germain تھے۔
کامیو ایک انتہائی غریب گھرانے میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے والد پہلی جنگِ عظیم میں مارے گئے، ماں ان پڑھ اور سماعت سے محروم تھیں، اور گھر میں تعلیم کا کوئی ماحول نہیں تھا۔ عام حالات میں ایسے بچے چودہ سال کی عمر میں اسکول چھوڑ کر مزدوری شروع کر دیتے تھے۔
مگر ان کے استاد لوئی جرمین نے اس خاموش اور غریب لڑکے میں غیر معمولی ذہانت دیکھ لی۔ انہوں نے روز اسکول کے بعد اسے مفت پڑھایا، اسکالرشپ کے امتحان کی تیاری کروائی، اور جب گھر والوں نے پڑھانے سے ہچکچاہٹ دکھائی تو خود ان کے گھر جا کر انہیں قائل کیا۔
اسی ایک استاد کے یقین نے ایک بچے کی تقدیر بدل دی۔
نوبل انعام ملنے کے بعد کامیو نے اپنے استاد کو جو خط لکھا اس میں ایک جملہ تھا:
“Without you, none of this would have happened.”
(آپ نہ ہوتے تو یہ سب کبھی ممکن نہ ہوتا۔)
یہ کہانی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ
علم صرف کتابوں سے نہیں پھیلتا،
بلکہ ایک استاد کے یقین، محبت اور توجہ سے بھی تاریخیں بدل جاتی ہیں۔

06/03/2026

۔ اس 21 سالہ نوجوان نے صاف الفاظ میں اعلان کیا ہے کہ وہ کسی بھی قسم کا کام نہیں کرے گا۔۔

اس کا کہنا ہے:

1. پیدائش اس کی مرضی سے نہیں ہوئی
نوجوان کے مطابق اس نے کبھی دنیا میں آنے کی خواہش ظاہر نہیں کی تھی۔ اس کے وجود کا فیصلہ اس کے والدین نے کیا، اس لیے اس فیصلے کی ذمہ داری بھی انہی پر عائد ہوتی ہے۔

2. زندگی کے اخراجات کی ذمہ داری کس کی؟
وہ کہتا ہے کہ اگر کسی انسان کو اس کی مرضی کے بغیر اس دنیا میں لایا گیا ہے تو پھر اس کی بنیادی ضروریات پوری کرنا بھی انہی لوگوں کی ذمہ داری ہے جنہوں نے اسے پیدا کرنے کا فیصلہ کیا۔

3. جبری محنت کا اعتراض
اس کا مؤقف ہے کہ کسی شخص کو ایسی زندگی گزارنے کے لیے کام پر مجبور کرنا جسے اس نے خود منتخب ہی نہ کیا ہو، ایک قسم کی ناانصافی ہے۔

4. معاشرتی ردعمل
اس بیان کے بعد سوشل میڈیا دو واضح گروہوں میں تقسیم ہوگیا ہے۔

ایک طبقہ اسے محض سستی اور ذمہ داری سے فرار قرار دے رہا ہے۔

دوسرا طبقہ اسے ایک فلسفیانہ سوال سمجھ رہا ہے کہ کیا واقعی انسان پر زندگی کا بوجھ اس کی مرضی کے بغیر ڈال دیا جاتا ہے؟

5. اصل سوال
یہ معاملہ صرف ایک نوجوان کا نہیں رہا۔ بحث اب اس بنیادی سوال تک پہنچ گئی ہے:
کیا والدین کی ذمہ داری صرف بچے کو پیدا کرنے تک محدود ہے، یا پھر اس کی پوری زندگی کا بوجھ بھی انہی پر ہونا چاہیے؟

یہ واقعہ ایک سادہ جملے سے شروع ہوا، مگر اس نے ذمہ داری، آزادی اور انسانی وجود کے بارے میں ایک گہری بحث چھیڑ دی ہے۔

04/02/2026

بس ایک نظر پیچھے ڈال کر دیکھو، تم سمجھ جاؤ گے کہ جسے تم کبھی خیر سمجھتے تھے، دراصل اس سے بچ جانا ہی تمہاری نجات تھی۔

09/01/2026

آج مجھے اپنے اشرف المخلوقات ہونے پر شرمندگی محسوس ہوئی جب میں نے ابنِ خلدون کی یہ بات پڑھی کہ

"پرندے کا دماغ صرف 2 گرام ہے اور وہ آزادی کی تلاش میں ہے۔ کچھ لوگوں کے سر کا وزن 5 کلو ہے اور وہ ذلت اور غلامی کی تلاش میں ہیں..!! "

ابنِ خلدون تاریخ کے بڑے دماغوں میں سے ایک دماغ تھا اس نے ایک اور عجیب بات بھی کہی کہ

"اگر مجھے ظالم حکمرانوں اور غلاموں میں سے کسی ایک کو مٹانے کا اختیار ملے تو میں غلاموں کو مٹا دوں گا کیونکہ یہ غلام ہی ہیں جنہوں نے ظالم حکمران پیدا کیئے ہیں.
سوچ کی غلامی ملک و قوم کو تباہ کر دیتی.!

11/12/2025

وہ حیرت انگیز دریافت جب ایک ماں کے دودھ نے سائنس کو بھی چونکا دیا
روبینہ یاسمین ✍️

دودھ صرف خوراک نہیں تھا۔ یہ ایک پیغام تھا۔

دو ہزار آٹھ کی بات ہے۔ کیٹی ہِنڈےایک نوجوان سائنس دان کیلیفورنیا کی ایک لیبارٹری میں کھڑی تھی۔
اس کے سامنے بندر کی ماؤں
(rhesus macaque)
کے سینکڑوں دودھ کے نمونوں کا ڈیٹا پھیلا تھا۔
اور وہ ڈیٹا کسی بھی طرح سمجھ میں نہیں آ رہا تھا۔

پہلی حیرت

جن ماؤں کے بیٹے تھے، ان کے دودھ میں چکنائی اور پروٹین زیادہ تھا۔

جن ماؤں کی بیٹیاں تھیں، ان کا دودھ زیادہ مقدار میں پیدا ہوتا تھا، لیکن اس کے اجزاء مختلف تھے۔

یعنی دودھ ایک ہی نہیں تھا
وہ بچے کی جنس کے مطابق تیار ہو رہا تھا۔

اس کے مرد کولیگز نے فوراً طنز کر دیا
“یہ غلط پیمائش ہوگی۔”
“شاید اتفاق ہے۔”
“کوئی خاص بات نہیں۔”

لیکن کیٹی نے ڈیٹا کو نظرانداز نہیں کیا۔
اور ڈیٹا چیخ چیخ کر کہہ رہا تھا
دودھ صرف خوراک نہیں ایک پیغام ہے۔

دوسری حیرت

کیٹی نے مزید دو سو پچاس ماؤں اور سات سو سے زیادہ نمونوں کا تجزیہ کیا۔
پھر ایک اور چونکانے والی بات سامنے آئی

نئی، کم عمر مائیں کم کیلوریز کا دودھ بناتی تھیں
مگر اسی دودھ میں کارٹیسول (اسٹریس ہارمون) بہت زیادہ ہوتا تھا۔

اور ایسے دودھ پینے والے بچے

تیزی سے بڑھتے تھے

مگر زیادہ چوکنّے، بےچین اور کم پُراعتماد ہوتے تھے

یعنی دودھ صرف جسم نہیں بنا رہا تھا
بچے کی شخصیت تک پروگرام کر رہا تھا۔

تیسری حیرت
تقریباً ناقابلِ یقین

جب بچہ دودھ پیتا ہے تو اس کے منہ کا تھوڑا سا لعاب (saliva)
ماں کے جسم میں واپس جاتا ہے۔

اور وہ لعاب ماں کو بتاتا ہے کہ
بچہ بیمار ہے یا نہیں۔

اگر بچہ کسی انفیکشن سے لڑ رہا ہو

ماں کے دکھائی نہ دینے والے نظام فوراً متحرک ہو جاتے

دودھ میں مخصوص اینٹی باڈیز چند گھنٹوں میں پیدا ہونا شروع

دودھ میں سفید خون کے خلیے دو ہزار سے بڑھ کر پانچ ہزار سے زیادہ اور

میکروفیج (مدافعتی خلیے) چار گنا تک بڑھ جاتے

اور جیسے ہی بچہ ٹھیک ہوتا
سب کچھ واپس نارمل۔

یہ خوراک نہیں تھی۔
یہ دو جسموں کے درمیان ایک مسلسل مکالمہ تھا
ایک حیاتیاتی گفتگو، جو سائنس صدیوں تک دیکھ نہ سکی۔

سائنس کی
انسان کی پہلی غذا
جس پر ہماری پوری نسلیں پروان چڑھیں
اسے سائنسی دنیا نے تقریباً نظرانداز کر رکھا تھا۔

تو کیٹی نے ایک بلاگ شروع کیا
“Mammals Suck… Milk!”
اور سال کے اندر اندر ایک ملین سے زیادہ لوگ اسے پڑھنے لگے۔

مزید انکشافات

دن کے مختلف وقتوں میں دودھ کی ساخت بدلتی ہے
صبح کا دودھ چکنائی میں سب سے زیادہ ہوتا ہے۔

ابتدا کا دودھ اور آخر کا دودھ مختلف ہوتا ہے

انسانی دودھ میں دو سو سے زیادہ ایسے شوگر مالیکیولز ہوتے ہیں جنہیں بچہ ہضم نہیں کرتا وہ صرف آنتوں کے اچھے بیکٹیریا کو خوراک دیتے ہیں

ہر ماں کا دودھ فنگر پرنٹ کی طرح منفرد ہوتا ہے

دو ہزار سترہ میں کیٹی کا
TED Talk
آیا لاکھوں لوگوں نے دیکھا۔

آج وہ ایریزونا سٹیٹ یونیورسٹی
کی لیبارٹری میں
نوزائیدہ بچوں کی صحت،
NICU کی دیکھ بھال،
اور دنیا بھر کی پبلک ہیلتھ پالیسی میں انقلاب لا رہی ہیں۔

اصل حقیقت

دودھ دو سو ملین سال سے ارتقاء کے سفر میں ہے
ڈائنوسار بھی جب زمین پر تھے، دودھ تب بھی اپنا کام کر رہا تھا۔

سائنس اسے صرف “غذا” سمجھتی رہی۔
مگر یہ دراصل زمین کا سب سے ذہین، زندہ، مواصلاتی نظام تھا
ماں اور بچے کے درمیان ایک مسلسل، حساس گفتگو۔

کیٹی ہِنڈے نے دودھ کا مطالعہ نہیں کیا
انہوں نے وہ سچائی آشکار کی جو صدیوں سے پوشیدہ تھی
کہ یہ صرف غذا نہیں ماں اور بچے کے درمیان ایک ذہین کمیونیکیشن ہے۔

آپ کے خیال میں بچے کو فارمولا ملک دینا کیسا ہے؟ جبکہ قدرت نے اس کے لئے ایک بیش قیمت سسٹم تیار کر رکھا ہے ۔
کیا بچے کے ساتھ نا انصافی نہیں ہوتی جب اسے ڈبے کے دودھ پر لگا دیا جاتا یے؟


03/11/2025

بھاگ، نائیکی، بھاگ!!!

24 سال کی عمر۔ اسٹینفورڈ بزنس اسکول۔

یہ وہ مقام ہے جہاں زیادہ تر لوگ 'محفوظ' راستے کا انتخاب کرتے ہیں۔ ایک شاندار کمپنی میں جاب، طے شدہ تنخواہ، درجہ بدرجہ پروموشنز، اور ایک محفوظ ریٹائرمنٹ۔ فل نائٹ (Phil Knight) کے تمام ہم جماعتوں نے اسی 'نقشے' کا انتخاب کیا۔

لیکن فل نائٹ... وہ نقشوں پر یقین نہیں رکھتا تھا۔

وہ 'علاقے' (Territory) کو فتح کرنا چاہتا تھا۔

کیونکہ وہ ایک رنر (Runner) تھا۔

اور دوڑنا صرف ایک جسمانی عمل نہیں ہے۔ یہ ایک ذہنی کیفیت ہے۔ یہ آپ کو سکھاتا ہے کہ تکلیف کے باوجود آگے کیسے بڑھنا ہے۔ یہ سکھاتا ہے کہ جب آپ کا جسم جواب دے جائے، تب بھی ہمت کیسے نہیں ہارنی۔

اُس نے اس اسپرٹ کو ایک محفوظ نوکری پر قربان کرنے سے انکار کر دیا۔

اُس کا ایک جنون تھا: دوڑنے والوں کو بہتر جوتوں کی ضرورت ہے۔ اُس وقت کے جوتے بھاری، سخت اور بے کار تھے۔

اُس نے اپنے والد سے 50 ڈالر ادھار لیے۔
جاپان کا ٹکٹ خریدا۔
اور اونیتسوکا ٹائیگر (Onitsuka Tiger) نامی کمپنی کو قائل کیا کہ وہ اُسے امریکہ میں اپنے جوتے بیچنے دیں۔

ایک مسئلہ تھا۔
فل کے پاس کوئی کمپنی نہیں تھی۔

جب اُنہوں نے پوچھا کہ وہ کس کی نمائندگی کرتا ہے، اُس نے اُسی لمحے ایک نام تخلیق کیا: "بلیو ربن اسپورٹس۔"

یہ جھوٹ نہیں تھا۔ یہ مستقبل کا اعلان تھا۔

وہ واپس آیا۔ اپنے والدین کے بیسمنٹ میں جوتوں کے ڈبے سجائے۔ اور اپنی گاڑی کی ڈگی سے جوتے بیچنا شروع کر دیا۔

پہلے سال کی کمائی: 8,000 ڈالر۔

یہ زندہ رہنے کے لیے کافی نہیں تھا۔ اس لیے برسوں تک، فل نائٹ دو زندگیاں جیتا رہا۔

دن میں وہ ایک اکاؤنٹنٹ تھا۔
شام اور ہفتے کے آخر میں، وہ ایک خواب فروش تھا۔

اُس کا پرانا کوچ، بل بوورمین (Bill Bowerman)، اُس کا پارٹنر بن گیا۔ بوورمین کارکردگی کا جنونی تھا۔

ایک صبح ناشتہ بناتے ہوئے، اُس نے اپنی بیوی کے وافل آئرن (Waffle Iron) کے ڈیزائن کو دیکھا۔ ایک لمحے میں، اُسے ٹریک پر گرفت کا راز مل گیا۔

اُس نے ربڑ پگھلا کر اُس آئرن میں ڈال دیا۔ آلہ تباہ ہو گیا... لیکن تاریخ کا سب سے مشہور 'وافل سول' (Waffle Sole) ایجاد ہو گیا۔

یہ ایک انقلابی لمحہ تھا۔

لیکن کامیابی کبھی سیدھی لکیر نہیں ہوتی۔ جتنا کاروبار بڑھتا، پیسوں کی تنگی بڑھ جاتی۔ بینک اُس پر بھروسہ نہیں کرتے تھے۔ سپلائرز اعتبار نہیں کرتے تھے۔ وہ ہمیشہ دیوالیہ ہونے سے ایک مہینہ دور ہوتا تھا۔

پھر وہ لمحہ آیا جس نے سب کچھ ختم کر دینا تھا۔

1971 میں، اونیتسوکا ٹائیگر نے اُسے دھوکہ دیا۔ اُنہوں نے فل کو راستے سے ہٹا کر براہِ راست اُس کے کسٹمرز کو بیچنے کا فیصلہ کیا۔

برسوں کی محنت تباہ ہونے کے دہانے پر تھی۔

اُس کے پاس دو راستے تھے: ہار مان لینا، یا اپنا سب کچھ داؤ پر لگا دینا۔

اُس کے پاس کوئی سیفٹی نیٹ نہیں تھا۔ کوئی بچت نہیں تھی۔ گھر پر بیوی اور بچے تھے۔

اُس نے سب کچھ داؤ پر لگانے کا انتخاب کیا۔

اُسے ایک نئے نام کی ضرورت تھی۔ ایک ملازم نے نام تجویز کیا: "نائیکی" (Nike).. فتح کی یونانی دیوی۔

اُسے ایک لوگو کی ضرورت تھی۔ ایک ڈیزائن اسٹوڈنٹ نے ایک سادہ سا خم دار نشان (Swoosh) بنایا۔ وہی نشان جو دنیا میں سب سے زیادہ جانے والے لوگوز میں سے ایک ہے.

فل نے اُسے اس کام کے لیے $35 ادا کیے۔

آج وہ $35 کا نشان، کھیلوں کی تاریخ کا سب سے قیمتی اور پہچانا جانے والا نشان ہے۔ کہا جاتا ہے کہ آج کل نائیکی کے اس لوگو کی قیمت 98 ارب ڈالرز کے آس پاس ہے.

نائیکی لانچ ہو گیا، لیکن جنگ ابھی باقی تھی۔

1975 میں، بینک نے اُس کے تمام لون واپس مانگ لیے۔ فوری ادائیگی نہ کرنے کی صورت میں، نائیکی بند ہو جاتا۔

برسوں کا خطرہ، قربانی، اور یقین... سب ڈوبنے والا تھا۔

لیکن قیادت... آخری لمحے تک لڑنے کا نام ہے۔

فل نے ایک آخری دروازہ کھٹکھٹایا۔ ایک جاپانی ٹریڈنگ کمپنی (Nissho) اُسے مالی مدد دینے پر راضی ہو گئی۔ اُس ایک فیصلے نے نائیکی کو زندہ رکھا۔

1980 میں، نائیکی نے امریکی مارکیٹ کا 50 فیصد حصہ حاصل کر لیا۔ اُسی سال کمپنی پبلک ہوئی، اور فل نائٹ ارب پتی بن گیا۔

وہ سلطنت، جو آج سالانہ 50 بلین ڈالر سے زیادہ کماتی ہے، $50 کے ادھار اور ایک گاڑی کی ڈگی سے شروع ہوئی تھی۔

اکثر لوگ یہ نہیں سمجھتے کہ سفر کا 'درمیانی حصہ' کتنا لمبا اور کتنا تکلیف دہ ہوتا ہے۔

وہ دو نوکریاں کرنے کو کمزوری سمجھتے ہیں۔
یہ کمزوری نہیں، یہ عزم ہے۔

وہ سب کچھ کھو دینے کے خوف کو 'خاتمہ' سمجھتے ہیں۔
یہ خاتمہ نہیں، یہ امتحان ہے۔

فرق ٹیلنٹ، وسائل، یا وقت کا نہیں ہے۔
فرق استقامت کا ہے۔

فل نائٹ نے نائیکی اس لیے نہیں بنایا کہ یہ آسان تھا... اُس نے بنایا کیونکہ اُس نے رکنے سے انکار کر دیا تھا۔

اور کبھی کبھی، خواب دیکھنے والوں اور دنیا بدلنے والوں میں... بس یہی ایک فرق ہوتا ہے کہ دنیا بدلنے والے رک نہیں پاتے، گھسٹتے ہی، سہی، چلتے جاتے ہیں.

10/10/2025

کبھی سوچا ہے ایک آدمی کس طرح بیک وقت دنیا کی تین بڑی صنعتوں خلاء، توانائی اور ٹرانسپورٹ کو بدل سکتا ہے؟
جب میں نے “ایلون مسک” (Elon Musk) کی یہ کتاب پڑھی، تو ایسا لگا جیسے میں ایک انسان نہیں بلکہ ایک طوفان کی کہانی پڑھ رہا ہوں۔

یہ کتاب صرف ایک سوانح عمری نہیں، بلکہ ایک ایسی سوچ کا نقشہ ہے جو دنیا کو “ممکن” کے معنی دوبارہ سکھاتی ہے۔ والٹر آئزکسن (Walter Isaacson) نے ایلون کی زندگی کو جس انداز میں بیان کیا ہے، وہ بتاتا ہے کہ کامیابی صرف ذہانت سے نہیں آتی بلکہ اُس جنون، اُس حد سے بڑھ کر محنت اور اُس بے خوفی سے آتی ہے جو عام انسانوں میں نہیں ہوتی۔

ایلون کی دنیا میں آرام کے لیے وقت نہیں، صرف عمل ہے۔
وہ اپنی زندگی کو مشین کی طرح چلاتا ہے 18 گھنٹے کام، بے شمار ناکامیاں، مگر ایک لمحے کے لیے بھی خواب سے پیچھے نہیں ہٹتا۔
کتاب کے ہر صفحے پر ایک پیغام چھپا ہے: “اگر تم اپنی limits نہیں توڑو گے، تو تم کبھی کچھ نیا نہیں بنا سکو گے۔”

پڑھتے ہوئے ایسا لگتا ہے جیسے یہ صرف ایک انسان کی کہانی نہیں بلکہ ایک آئینہ ہے جو ہمیں دکھاتا ہے کہ انسان چاہے تو دنیا کو reshape کر سکتا ہے۔
یہ کتاب آپ کو inspire نہیں کرتی، بلکہ آپ کو جھنجھوڑ دیتی ہے، مجبور کرتی ہے سوچنے پر:
“کیا میں بھی اپنی comfort zone سے باہر نکلنے کے لیے تیار ہوں؟”

اگر آپ جاننا چاہتے ہیں کہ جذبہ، وژن اور ہمت کیسے خوابوں کو حقیقت بناتے ہیں تو “ایلون مسک” ضرور پڑھیے۔

09/10/2025
09/10/2025

اگر میں آج ایک ٹائم کیپسول بناؤں، یعنی ایک ایسا ڈبہ یا صندوق جسے زمین میں دفن کر دوں اور اسے 100 سال بعد کھولا جائے، تو میں اس میں ایسی چیزیں رکھوں گا جو ہماری آج کی زندگی، سوچ، تہذیب، اور احساسات کو آئندہ نسل تک پہنچا سکیں۔ یہ ایک طرح کا پیغام ہوگا ہماری طرف سے آنے والے لوگوں کے لیے۔

سب سے پہلے، میں ایک خط رکھوں گا، جس میں اپنے جذبات لکھوں گا، کہ ہم آج کس دور میں جی رہے ہیں، ہمیں کن باتوں کی خوشی ہے اور کن چیزوں کا افسوس۔ دنیا کے اور ہمارے ملکی حالات کیا تھے اور میں یہ بھی لکھوں گا کہ ہم آنے والی نسل سے کیا کیا امید رکھتے ہیں۔
پھر میں کچھ تصاویر رکھوں گا۔ جیسے کہ اپنے گھر، سڑکوں، بازاروں، لوگوں کے چہروں، اسکولوں اور پارکوں کی تاکہ وہ لوگ 100 سال بعد دیکھ سکیں کہ ہماری دنیا کیسی تھی۔

پھر ایک موبائل فون رکھوں گا، تاکہ وہ اندازہ لگا سکیں کہ ہم کس طرح کی ٹیکنالوجی استعمال کرتے تھے۔ ساتھ ہی کچھ سکے اور نوٹ بھی رکھوں گا تاکہ ہماری معیشت اور کرنسی کا اندازہ ہو۔ میں ایک اخبار یا رسالہ بھی رکھوں گا جس میں آج کی بڑی خبریں ہوں، جیسے ماحول، سیاست، یا سائنسی ترقی، تاکہ انہیں معلوم ہو ہم کن باتوں میں دلچسپی رکھتے تھے۔

میں کچھ بیج بھی رکھوں گا۔ ٹماٹر، گندم یا دھنیا جیسے تاکہ وہ دیکھ سکیں ہم کیا اگاتے اور کھاتے تھے، اور زمین سے ہمارا کیسا تعلق تھا۔ ایک کتاب بھی ضرور رکھوں گا، جو انسانیت، اخلاقیات یا علم پر مبنی ہو، تاکہ وہ جان سکیں کہ ہم کن باتوں کو اہم سمجھتے تھے۔
آخر میں، میں ایک گانے کی ریکارڈنگ یا کوئی آواز رکھوں گا، تاکہ ہماری زبان، موسیقی، اور جذبات کو وہ سن سکیں اور محسوس کر سکیں۔
یہ سب چیزیں ایک پیغام ہوں گی کہ ہم کون تھے، ہم کیا سوچتے تھے، اور ہم نے اپنی آنے والی نسل کے لیے کیا خواب چھوڑے۔
#قیصرشاہ ,

26/08/2025

عورت گھوڑے کو صرف جانور کے طور پر نہیں دیکھتی بلکہ ایک علامت کے طور پر محسوس کرتی ہے۔ گھوڑے میں تین باتیں ہیں جو عورت کے دل کو چھوتی ہیں:

1. طاقت اور روپ
گھوڑے کا جسمانی حسن، اس کا جثہ، اس کی رفتار اور اس کی مردانہ طاقت عورت کو متاثر کرتی ہے۔ عورت فطری طور پر طاقت کو چاہتی ہے، کیونکہ وہ اپنے تحفظ، اپنی محبت اور اپنی ذات کے لیے طاقت کو سہارا سمجھتی ہے۔

2. قابو اور لگام
گھوڑا وحشی بھی ہے مگر جب عورت اس پر سوار ہو کر لگام تھام لیتی ہے تو وہ طاقت اس کی اطاعت میں آجاتی ہے۔ عورت یہی چاہتی ہے کہ اس کا چاہنے والا مرد گھوڑے کی طرح طاقت ور ہو مگر ساتھ ساتھ ایسا ہو کہ وہ اسے اپنے لمس، اپنی محبت اور اپنی نرمی سے قابو میں کر سکے۔

3. وحشت اور نرمی کا امتزاج
گھوڑا بظاہر وحشی اور آزاد ہے مگر جب قابو میں آتا ہے تو نرم اور وفادار ساتھی بن جاتا ہے۔ عورت مرد میں بھی یہی توازن چاہتی ہے: وہ وحشیانہ طاقت بھی رکھے اور نرمی سے اطاعت بھی کرے۔

“عورت مرد میں گھوڑے کی وحشت، شیر کی حفاظت اور ہرن کی نرمی تلاش کرتی ہے۔ وہ مرد کو چاہنے کے ساتھ اس پر لگام ڈالنا بھی چاہتی ہے، تاکہ محبت طاقت کو قابو میں کر کے اپنے لمس کا اسیر بنا دے۔”

یعنی عورت کا دل چاہتا ہے کہ مرد گھوڑے کی طرح طاقتور اور رعب دار ہو، مگر ایسا کہ اس کی محبت اور لمس اس پر لگام کی طرح قابض ہو سکے۔


Want your school to be the top-listed School/college in Hyderabad?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Address


Hyderabad

Opening Hours

Monday 15:00 - 22:00
Tuesday 15:00 - 22:00
Wednesday 15:00 - 22:00
Thursday 15:00 - 22:00
Friday 15:00 - 22:00
Saturday 00:00 - 22:00
Sunday 10:00 - 22:00