Baqirul uloom Academy

Baqirul uloom Academy

Share

🌹❤الحمد للّٰہ الّٙذی جعلنا من المتمسکین بولایت امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام❤🌹

15/01/2024

*شیعان امیر المومنین کی شان سیّد الانبیاء و المرسلین صلی الله تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی زبان اقدس سے قرائت فرمائیں ❤*
قال رسول اللّٰہﷺ لعلی علیہ السلام یا علی شیعتُک ھم الفائزون یوم القیامة فمن اھان واحدا منھم فقد اھانک و من اھانک فقد اھاننی و من اھاننی ادخلہ الله نار جھنّٙم خالدا فیھا و بئس المصیر، یا علی انت منی و انا منک روحک من روحی و طینتک من طینتی و شیعتک خلقوا من فضل طینتنا فمن احبھم فقد احبنا و من ابغضھم فقد ابغضنا و من عاداھم فقد عادانا و من ودھم فقد ودنا یا علی ان شیعتک مغفور لھم علی ما کان فیھم من ذنوب و عیوب یا علی انا الشفیع لشیعتک غدا اذ اقمت المقام المحمود فبشرھم بذالک یا علی شیعتک شیعة الله و انصارک انصار الله و اولیائک اولیاء الله و حزبک حزب الله یا علی سعد من تولاک و شقی من عاداک یا علی لک کنز فی الجنة و انت ذو قرنیھا الحمد للّٰہ رٙبِّ العالمین و صلی الله علیٰ خیر خلقہ محمد و اھل بیتہ الطاھرین الاخیار المنتجبین الابرار
ترجمہ
رسول اللّٰہﷺ نے مولا امیر المومنین علی علیہ السلام سے فرمایا اے علی آپ کے شیعہ کامیاب ہیں قیامت والے دن پس کسی نے ایک شیعہ کی اھانت ک (حقارت ) کی اس نے میری اھانت کی اور جس نے میری اھانت کی الله اس کو جھنم لے جائے کا اور وہ ہمیشہ وہاں رہے گا یا علی آپ مجھ سے ہو اور میں آپ سے ہوں آپ کی روح میری روح ہے اور آپ کی مٹی میری مٹی ہے اور تمھارے شیعوں الله تبارک و تعالیٰ نے ھماری مٹی سے بنایا ہے پس جس نے شیعوں سے محبت کی اس نے ھم سے محبت کی اور جس نے شیعوں سے بغض رکہا اس نے ھم سے بغض رکہا جس نے شیعوں سے دشمنی کی اس نے ھم سے دشمنی کی اور جس نے ھمارے شیعوں سے محبت کی اس نے ھم سے محبت کی یا علی آپ کے شیعہ کتنے بھی گنہگار ہوں الله تبارک و تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے گا اس کے جتنے بھی عیوب ہوں ان کے باوجود الله ان سے محبت کرتا ہے یاعلی الله مقام المحمود تک صرف میں تمہارے شیعوں کی شفاعت کرونگا،
یا علی اپنے شیعوں کو یہ خوشخبری دینا
یا علی آپ کے شیعہ الله کے شیعہ ہیں آپ کے مددگار الله کے مددگار ہیں اور تیرے دوست الله کے دوست ہیں آپ کی پارٹی گورہ الله کی پارٹی گروہ ہے
یا علی جو آپ سے محبت کرے سعید وہی ہے جو آپ سے دشمنی کرے بدبخت وہی ہے یا علی جنت میں آپ کے لئے ایک خزانہ ہے اور آپ دونوں طرف سے اس کے مالک ہیں
تحریر 📝
محمد علی الرافضی

15/09/2023

اَلْكَافِي ،۱/۱۵/۷۹/۲ اَلْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَمْزَةَ اَلْعَلَوِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اَللَّهِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ أَبِي اَلْحَسَنِ اَلْأَوَّلِ عَلَيْهِ اَلسَّلاَمُ قَالَ كَثِيراً مَا كُنْتُ أَسْمَعُ أَبِي يَقُولُ: لَيْسَ مِنْ شِيعَتِنَا مَنْ لاَ تَتَحَدَّثُ اَلْمُخَدَّرَاتُ بِوَرَعِهِ فِي خُدُورِهِنَّ وَ لَيْسَ مِنْ أَوْلِيَائِنَا مَنْ هُوَ فِي قَرْيَةٍ فِيهَا عَشَرَةُ آلاَفِ رَجُلٍ فِيهِمْ خَلْقٌ لِلَّهِ أَوْرَعُ مِنْهُ.

*عبید اللہ بن علی سے روایت ہے کہ امام موسیٰ کاظمؑ نے فرمایا: میں بسا اوقات اپنے والد بزرگوار (امام جعفر صادقؑ) کو یہ فرماتے ہوئے سنتا تھا، آپؑ فرماتے تھے: وہ ہمارا شیعہ ہی نہیں ہے جس کے ورع و پرہیزگاری کے قصے پردہ نشین عورتیں اپنے پردہ کے اندر رہ کر بیان نہ کریں اور وہ شخص بھی ہمارا ولی (دوست) نہیں ہے جو کسی ایسی بستی میں رہتا ہو جو دس ہزار نفوس پر مشتمل ہو اور ان میں سے کوئی ایک بھی اس سے زیادہ پرہیزگار ہو*۔

*الوافی فیض کاشانی (مترجم): ح 2036*

22/02/2023
19/02/2023

مقدمة الصرف
ہرعلم کے شروع کرنے سے پہلے چند باتوں کا جانناضروری ہے۔
١)تعریف: تعریف کاجاننااسلۓضروری ہے.کہ کسی مجھول چیزکاطلب کرنے والانہ بنے۔
٢)موضوع کاجاننااسلۓضروری ہے.کہ اپنے مقصدکوغیرمقصدسےجداکرسکے۔
٣)غرض و غایت: غرض وغایت کاجاننااسلۓضروری ہے.تاکہ اسکی کوشش ضاٸع اور بےکارنہ ھوجاۓ۔
علم الصّــرف کےپانچ نام ہیں: (١)۔علم الصّــــــرف(٢)۔علم التصــریف (٣)۔علم المیـــــزان(٤)۔علم الصیغــــہ(٥)۔علم الاشتــــــقاق۔
علم الصّـرف کا لغوی معنٰی: پھیرنا،پھیرانا،ہٹانا،دفع کرنا پریشان ہونا،زیور،سونا چاندی کا خرچ کرنا،حادثہ، گردش زمانہ۔
علم الصّــرف کی اصطلاحی تعــریف: تَحْوِيْلُ الْاَصْلِ الْوَاحِدِ اِلٰى اَمْثِلَةٍ مُّخْتَلِفَةٍ لِمَعَانٍ مَقْصُوْدَة ٍ
تـرجمــہ: اصل واحد(مصدر یافعل)کوامثلہ مختلفہ کی طرف تبدیل کرنا تاکہ معانی مقصودہ حاصل ہوجاۓ۔جیسے:
ضَرْبًا سے ضَرَبَ فعل ماضی ۔ ضَرَبَ سے یَضْرِبُ فعل مضارع اور یَضْرِبُ سے ضَارِبٌ اسم فاعل اور یُضْرَبُ سے مَضُرُوْبٌ اسم مفعول کی طرف پھیرا جاتاہے۔
مـوضــوع: اَلْکَلِمَةُ مِنْ حَیْثُ الصِّیْعَةِ وَالْبِنَآ ِٕ۔
ترجمہ: کلمہ صیغہ اور بنإ کے اعتبارسے۔
غـرض وغــــایت: صِیَانَةُ الذِّھْنِ عَنِ الْخَطَا ِٕ فِی الصِّیْغَةِ۔
تـرجمـــہ: ذھن کو صیغہ کے اندر خطإ سے بچانا۔
عــــلم الصّـــــرف کا مدوّن اور واضع: علم الصّرف کے مساٸل پہلےنحو میں مخلوط تھے۔سب سے پہلے امیرالمومنین امام حضرت علی علیہ السلام نےاس علم کو مدون کیا۔اور آپ علیہ السلام مدون اول ہیں۔

لغـــــت کا لغـــــوی معــــنٰی : النُّطْقُ والتَّعْبِیْرُ .یعنی وہ آواز یں جن سے انسان اپنےاعراض ومقاصد کااظھارکرے۔
لغت کااصطلاحی معنٰی: کسی قوم کی بولی اور زبان کوکہاجاتاہے۔
اصطلاح کالغوی معنٰی: جمع ہونا یا جمع کرنا.جیسے:کہاجاتاہے۔اِصْطَلَحَ الْمَآ ُٕ ایْ جَمَعَ الْمَآ ُٕ.یعنی پانی جمع ہوگیا۔
اصطلاح کا اصطلاحی معنٰی: اِتِّفَاقُ قَوْمٍ مَخْصُوْصٍ عَلٰی اَمْرٍمَخْصُوْصٍ.یعنی کسی خاص قوم کاکسی خاص حکم یا کام پر متفق ہونا.
حـــــرکـت: زبر زیراور پیش کو حرکت کہتے ہیں۔ اور جس حرف پر حرکت ہو اس کو متحرک کہتے ہیں۔ پیش کو ضمہ زبرکو فتحہ اور زیر کو کسرہ بھی کہتے ہیں۔
معرب: وہ اسم ہے جس کا آخر مختلف عوامل کی وجہ سے مختلف رہے۔ یعنی عامل کی وجہ سے اس پر کبھی رفع کبھی نصب اور کبھی جر آتاہے۔جیسے: جَآنِیْ زَیْدُٗ ۔ رَاَیْتُ زَیْدًا۔ مَرَرْتُ بِزَیْدٍ۔
مــبنی: وہ اسم ہے جس کا آخر مختلف عوامل کی وجہ سے مختلف نہ ر ہے. جیسے: جَآنِیْ ھٰٶُلَآ ِٕ ۔ رَأَیْتُ ھٰٶلَآ ٕ ۔ مَرَرْتُ بِھٰٶُلَآ ِٕ ۔
صـــیغہ کا لغـــــــوی مـــــعنٰی: سونے کو قالب میں ڈالنا۔
صیغہ کے اصطلاحی معنٰی: ھَیْٸَةٌ حَاصِلَةٌ مِنْ تَرْکِیْبِ حُرُوْفِ وَحَرَکَاتٍ وَسَکَنَاتٍ . یعنی کلمہ کی وہ شکل و صورت جو اس کو حروف،حرکات اور سکنات کی ترکیب سے حاصل ہو۔
کلمہ کا لغوی معنٰی: زخمی کرنا، اور اصطلاح میں کلمہ وہ اکیلا لفظ ہے جو ایک معنٰی کے لیے وضع کیا گیاہو۔
کلمہ کی تین قسمیں ہیں: (١)اسم (٢)فعل (٣)حرف
علم الصرف کی اصطلاح میں ان کو سہ اقسام کہتے ہیں۔
اسم کالغوی معنٰی: علامت اور بلندی۔اور اصطلاح میں کَلِمَةٌ تَدُلُّ عَلٰی مَعْنًی فِیْ نَفْسِھَا غَیْرُ مُقْتَرِنٍ بِاَحَدِالْاَزْمِنَةِ الثَّلَاثَةِ.

ســـہ اقســــام
اسم: وہ کلمہ ہے۔جواپنے معنی پر خود بخود دلالت کرے بغیر کسی دوسرا کلمہ کےملانےکے۔اور تینوں زمانوں میں سے ایک زمانہ اس میں نہ پایاجاۓ۔جیسے: رَجُلٌ،فَرَسٌ،.اپنے معنی پر خود بخود دلالت کرتے ہیں۔
فعل کا لغوی معنی: کام اور اصطلاح میں کَلِمَةٌ تَدُلُّ عَلٰی مَعْنًی فِیْ نَفْسِھَا وَیَقْتَرِنٍ مَعْنَاھَابِاَحَدِالْاَزْمِنَةِ الثَّلَاثَةِ.
فعل: وہ کلمہ ہے۔جو اپنےمعنی پر خوبحود دلالت کرے بغیر کسی دوسرا کلمہ کے ملانےکے۔اور تینوں زمانوں میں سے ایک زمانہ اس میں پایاجاۓ۔جیسے: ضَرَبَ،یَضْرِبُ۔
حرف کالغوی معنی: طرف اور کنارہ۔اور اصطلاح میں کَلِمَةٌ لَا تَدُلُّ عَلٰی مَعْنًی فِیْ نَفْسِھَا بَلْ تَدُلُّ عَلٰی مَعْنًی فِیْ غَیْرِھَا۔
حرف وہ کلمہ ہے۔جواپنے معنٰی پر خود بخود دلالت نہ کرے بلکہ اپنے معنی پر دلالت کرنےمیں دوسرےکلمہ کی طرف مختاج ہوتاہے۔جیسے: مِنْ،اِلٰی۔

اســم کــــــے علامــات
١).کلمہ کے شروع میں الف لام کا آنا.جیسے: اَلرَّجُلُ،اَلْمَرْأَةُ۔
٢).کلمہ کےشروع میں حرفِ جر کا آنا.جیسے:مَرَرْتُ بِزَیْدٍ۔
شـــــعر
با و تا و کاف و لام و واو و منذ و مذخلا
رب حاشا من عدا فی عــن علی حتٰی الٰی

٣).کلمہ کے شروع میم زاٸد آنا۔جیسے:مَضْرُوْبٌ،مُسْلِمٌ۔
٤).کلمہ کے شروع میں حرفِ ندا کا آنا.جیسے: یَازَیْدُ۔
حـــــروفِ ندا پانــــــچ ہیں: یا ، اَیَا ، ھَیَا ، اَیْ ، اَ یعنی(ھمزہ مفتوحہ)
٥).کلمہ کے شروع میں حرف مشبہ بالفعل کا آنا.جیسے: اِنَّ زَیْدًا قَاٸِمٌ۔
حروف مشبہ بالفعل چھ ہیں۔اِنَّ،اَنَّ،کَاَنَّ،لٰکِنَّ،لَیْتَ،لَعَلَّ
٦).کلمہ کے آخرمیں تنوین کا آنا۔جیسے: رَجُلٌ،فَرَسٌ۔
٧).کلمہ کےآخر میں یاۓ مشددہ کا ھونا۔یعنی منسوب ہونا۔جیسے: مَکَّیٌّ،مَدَنِیٌّ،بَغْدَادِیٌّ۔
٨).کلمہ کے آخرمیں تاۓ مدورہ کاھونا۔جیسے: طَلْحَةٌ،ضَارِبَةٌ۔
٩).الف مقصورہ کاھونا۔اسکی پہچان یہ ہے۔کہ کلمہ کے آخرمیں الف ہو۔اور اسکے بعد ھمزہ نہ ہو۔جیسے حُبْلٰی۔
١٠).الف مدورہ کاھونا۔اسکی پہچان یہ ہے۔ کہ کلمہ کے آخرمیں الف ہو۔اور اسکےبعد ھمزہ ہو۔ جیسے: حَمْرَآ ُٕ۔
١١).مضاف کا ہونا۔یعنی کسی اسم کا تعلق جب کسی چیز کیساتھ بتاٸی جاتی ہے۔تواس اسم کومضاف کہتے ہے۔اور اسکی پہچان یہ ہے۔کہ اُردو ترجمہ کرتے وقت "کا،کے،کی" کامعنی نکلے جیسے:غُلَامُ زَیْدٍ (زیدکاغلام)وغیرہ۔
١٢).موصوف کاہونا۔یعنی کسی چیز کی بری یا اچھی حالت بیان کرنا۔اور اسکی پہچان یہ ہے۔کہ اُردو ترجمہ کرتے وقت "جو یا جیسا" کامعنی نکلےجیسے: رَجُلٌ عَالِمٌ یعنی ایسا مرد جو عالم ہے۔
١٣).مسندالیہ کاہونا۔جس کی طرف کسی اسم یا فعل کی نسبت کی جاۓ تو اسےمسندالیہ کہتےہے۔جیسے:زَیْدٌعَالِمٌ اس میں زَیْدٌعَالِمٌ اس میں زید مسندالیہ ہے اور عَلِمٌ مسند ہے۔
١٤).تثنیہ کاھونا۔اسکی پہچان یہ ہے۔کہ کلمہ کے آخرمیں نونِمکسور اور اس سے پہلے الف یا یاۓ ساکن ہو۔لیکن شرط یہ ہے۔کہ اسکے ابتدا ٕ میں حروفِ اتین میں سےکوٸی حرف نہ ہوں جیسے: رَجُلَانِ،رَجُلَیْنِ۔
١٥).جمع کاھونا۔اسکی پہچان یہ ہے۔کہ کلمہ کےآخرمیں نونِ مفتوح اور اس سے پہلے واو یا یاۓ ساکن ہو۔لیکن شرط یہ ہے۔کہ اسکے ابتدا ٕ میں حروف اتین میں سے کوٸی حرف نہ ہو۔جیسےمُسْلِمُوْنَ،مُسْلِمِیْنَ۔
١٦).تصغیرکاھونا۔تصغیرکہتےہےلفظ میں ایسےتبدیلی کو جوکسی چیز کی قلت، حقارت یا عظمت پر دلالت کرے اور اسکی پہچان یہ ہے۔کہ حرف اول پر ضمہ،حرفِ ثانی پر فتحہ اور حرفِ ثالث یاۓ ساکنہ ہو۔جیسے: رُجَیْلٌ رَجُلٌ کی تصغیرہے۔
١٧).کسی چیز یا جگہ کانام ہونا۔جیسے:مکّة المکرّمہ۔مدینة المنوّرہ۔

فعل کــے علامــات
١).کلمہ کےشروع میں حروف "اتین" میں سےکسی حرف کاآنا۔جیســـے:یَضْرِبُ،تَضْرِبُ،اَضْرِبُ،نَضْرِبُ۔
٢).کلمہ کےشروع میں "قد" کاآنا۔جیســـے: قَدْاَفْلَحَ،قَدْیَضْرِبُ۔
٣).کلمہ کےشروع میں "سین " جیســـے: سَیَعْلَمُوْنَ۔
٤).کلمہ کےشروع میں "سَوْفَ" کاآنا۔جیســـے: سَوْفَ تَعْلَمُوْنَ۔
٥).کلمہ کے شروع میں حروف جازمہ کاداخل ہونا۔جیســـے: لَمْ یَضْرِبْ۔
حـــروف جــازمہ پانچ ہیں: اِنْ ، لَمْ، لَمَّا ، لام امر ، لاۓنہی۔
٦).کلمہ کےشروع میں حروف ناصبہ کاداخل ہونا۔جیســـے: لَنْ یَّضْرِبَ۔
حــــروف ناصبــــہ چار ہیں: اَنْ ، لَنْ ، کَیْ ، اِذَنْ۔
٧).کلمہ کے آخرمیں فتحہ کابغیر عامل کےآنا۔جیســـے: ضَرَبَ۔
٨).کلمہ کے آخرمیں علامت تثنیہ ضمیرفاعل ۔کاآنا۔جیســے: ضَرَبَا۔
٩).کلمہ کے آخرمیں واو ساکن علامت جمع مزکر ضمیرفاعل کا آنا۔جیســے: ضَرَبُوْا۔
١٠).کلمہ کے آخرمیں تاۓساکنہ کاہونا۔جیســـے:ضَرَبَتْ۔
١١).کلمہ کے آخرمیں نون مفتوح علامت جمع مٶنث ضمیرفاعل کا آنا۔جیســـے: ضَرَبْنَ۔
١٢).کلمہ کے آخرمیں "تَ تِ تُ" ضمیرفاعل ۔کا آنا.جیســـے:ضَرَبْتَ ، ضَرَبْتِ ، ضَرَبْتُ۔
١٣).کلمہ کے آخرمیں تُمْ تُمَا تُنَّ اور نَا ٕ ضمیرفاعل کا آنا۔جیســــے: ضَرَبْتُمْ ، ضَرَبْتُمَا ، ضَرَبْتُنَّ ، ضَرَبْنَا۔
١٤).کلمہ کے آخرمیں نون ثقیلہ مشدد اور خفیفہ ساکن کا ہونا۔ جیســــے: اِضْرِبَنَّ ، اِضْرِبَنْ۔
١٥).امر کاہونا۔جیســـے: اِضْرِبْ۔ ١٦).نہی کا ہونا۔جیســـــے: لَاتَضْرِبْ۔
نــــوٹ: جس کلمہ کے علامات اسم یا فعل نہ ہو۔تو وہ حرف ہوگا۔جیسے: مِنْ ، اِلٰی۔
اســــــم کـــــی پہلی تــــقسیم:ظھور و خفا ٕ کے اعتبار سےاسم کی دو قسمیں ہیں۔(١)اســـم ظاھر (٢)اســـم ضمیر ۔
(١)اســـم ظاھر : وہ اسم ہےجس کےذریعےسےغاٸب،متکلم اور مخاطب کے حال کو نہ بیان کیاجاٸجیسے: زَیْدٌ ، رَجُلٌ۔
(٢)اســـم ضمیر :وہ اسم ہےجس کے ذریعےسےغاٸب ، متکلم اور مخاطب کے حال کو بیان کیاجاۓ۔

ضمیرکی پانچ قسمیں ہیں : (١)ضمیرمرفوع متصل (٢)ضمیرمرفوع منفصل (٣)ضمیرمنصوب متصل (٤)ضمیرمنصوب منفصل (٥) ضمیرمجرور متصل۔
(١)ضمــیرمـرفوع متصل: وہ ضمیرہے۔جواپنےفاعل کےساتھ ملی ھوی ہو۔اور ترکیب میں فاعل یا ناٸب فاعل واقع ہو۔
گــردان: ضَرَبَ ضَرَبَا ضَرَبُوْا ضَرَبَتْ ضَرَبَتَا ضَرَبْنَ ضَرَبْتَ ضَرَبْتُمَا ضَرَبْتُمْ ضَرَبْتِ ضَرَبْتُمَا ضَرَبْتُنَّ ضَرَبْتُ ضَرَبْنَا۔
ضمیرمرفوع متصل کی دو قسمیں ہیں: (١)بارز(٢)مستتر
(١) بارز: بارز کا لغوی معنٰی ہے ظاھرہونےوالا۔اور اصطلاح میں بارز وہ ضمیر ہے۔جوفعل کےآخر میں لام کلمہ سے ملی ہوٸی ہو۔اور اس کےبغیر فعل تام نہ ہو۔جیسے: ضَرَبَا اور ضَرَبُوْا میں الف اور واو اور اس کےعلاوہ جو حروف ضَرَبَ کے آخر میں آتے ہیں سواۓ تاۓتانیث ساکنہ کے وہ سب ضمیر مرفوع متصل بارز ہیں۔
(٢) مستتر: لغت میں چھپی ہوٸی کوکہتےہیں۔اور اصطلاح مستتر وہ ضمیرہے۔جوظاھرًا نہ پڑھی جاۓبلکہ اپنی طرف سے اعتبار کیا جاۓ۔
ضمیر مستتر کی دو قسمیں ہیں: (١)واجب الاستتار(٢)جاٸزالاستتار
(١)واجب الاستتار: وہ ضمیر ہے جو ہمیشہ فعل کا فاعل بن رہی ہو اور اس کے ہوتے ہوۓ کوٸی دوسرا اسم ظاھر اس کافاعل نہ بن سکے۔یہ ضمیریں کل چار مقامات پر استعمال ہوتی ہیں۔
١۔ واحد متکلم کاصیغہ فعل مضارع جیسے: اَضْرِبُ میں اَنَا ضمیر۔
٢۔ جمع متکل کاصیغہ فعل مضارع جیسے: نَضْرِبُ میں نَحْنُ ضمیر۔
٣۔واحد مخاطب کاصیغہ فعل مضارعجیسے: تَضْرِبُ میں اَنْتَ۔
٤۔ واحد مخاطب کاصیغہ فعل امر جیسے: اِضْرِبْ میں اَنْتَ۔
(٢) جاٸزالاستتار: وہ ضمیر ہے۔جوکبھی فعل کا فاعل بنےاور کبھی دوسرا اسم ظاھریہ ضمیریں تین مقامات پر استعمال ہوتی ہیں۔
١۔ واحد مزکر غاٸب ٢۔ واحد مٶنث غاٸب۔چاہے ماضی معلوم ہو چاہے ماضی مجھول ہو۔اور چاہے مضارع معلوم اور چاہےمضارع مجھول ہو۔ ٣۔ اسماۓ صفات کے تمام صیغے۔
اسماۓ صفات کل پانچ ہیں: (١)اسم فاعل (٢)اسم مفعول (٣)اسم مبالغہ (٤)صفت مشبہ (٥)اسم تفضیل۔
(٢)ضمیر مرفوع منفصل: وہ ضمیرہے۔جو اپنے عامل کے ساتھ ملی ہوٸی نہ ہو اور ترکیب میں مبتدا ٕ یاخبر واقع ہو۔
گــردان: ھُوَ ھُمَا ھُمْ ھِیَ ھُمَا ھُنَّ ۔ اَنْتَ اَنْتُمَا اَنْتُمْ اْنْتِ اَنْتُمَا اَنْتُنَّ اَنَا نَحْنُ۔
(٣) ضمیر منصوب متصل: وہ ضمیر ہے جو اپنے عامل کے ساتھ ملی ہوٸی ہو اور ترکیب میں مفعول بہ یا حروف مشبہ بالفعل کا اسم واقع ہو۔
گــردان: ضَرَبَہٗ ضَرَبَھُمَا ضَرَبَھُمْ،ضَرَبَھَا ضَرَبَھُمَا ضَرَبَھُنَّ،ضَرَبَکَ ضَرَبَکُمَا ضَرَبَکُمْ ، ضَرَبَکِ ضَرَبَکُمَا ضَرَبَکُنَّ،ضَرَبَنِیْ ضَرَبَنَا۔
حروف مشبہ بالفعل کی مثال: اِنَّہٗ اِنَّھُمَا اِنَّھُمْ،اِنَّھَا اِنَّھُمَا اِنَّھُنَّ،اِنَّکَ اِنَّکَ اِنَّکُمَا اِنَّکُمْ،اِنَّکِ اِنِّکُمَا اِنَّکُنَّ،اِنَّنِیْ اِنَّنَا۔
(٤) ضمیر منصوب منفصل: وہ ضمیرہے۔جواپنے عامل کے داتھ ملی ہوٸی نہ ہو۔اور ترکیب میں مفعول بہ واقع ہو۔
گــردان: اِیَّاہٗ ایَّاھُمَا اِیَّاھُمْ،اِیَّاھَا اِیَّاھُمَا اِیَّاھُنَّ،اِیَّاکَ اِیَّاکُمَا اِیَّاکُمْ،اِیَّاکِ اِیَّاکُمَا اِیَّاکُنَّ،اِیَّایَ اِیَّانَا۔
(٥)وہ ضمیرہے۔ جواپنےعامل کے ساتھ ملی ہوٸی ہو۔اور ترکیب میں مجرور یا مضاف الیہ واقع ہو۔
گـردان ضمیرمجرور باضافت: غُلَامُہٗ غُلَامُھُمَا غُلَامُھُمْ،غُلَامُھَا غُلَامُھُمَا غُلَامُھُنَّ،غُلَامُکَ غُلَامُکُمَا غُلَامُکُمْ،غُلَامُکِ غُلَامُکُمَا غُلَامُکُنَّ،غُلَامِیْ غُلَامُنَا۔
اســـم کی دوســــــری تقسیـــــــم
اعراب کے اعتبارسےاسم ظاھر کی دو قسمیں ہیں:(١)معرب (٢)مبنی۔
(١)معرب کی تعریف: معرب وہ اسم ہے۔جسکا آخر مختلف عوامل کی وجہ سےمختلف رہے۔یعنی عامل کی وجہ سےاس پی کبھی رفع کبھی نصب اور کبھی جر آتاہے۔جیسےجَآ َٕنِیْ زَیْدٌ،رَأَیْتُ زَیْدًا،مَرَرْتُ بِزَیْدٍ۔
(٢)مبنی کی تعریف: مبنی وہ اسم ہے۔جس کا آخر مختلف عوامل کی وجہ سےمختلف نہ رہے۔جَآ َٕنِیْ ھٰٶُلَآ ِٕ ِٕ،رَأَیْتُ ھٰٶُلَآ ِٕ،مَرَرْتُ بِھٰٶُلَآ ِٕ۔
شعـر: مبنی آں باشد کہ ماند برقرار معرب آں باش کہ گردد بار بار
اسم معـرب کی پہلی تقسیم
انصراف اور عدم انصراف کے اعتبار سے اسم معرب کی دو قسمیں ہیں:(١)منصـــــرف(٢)غیرمنصـــــرف.
(١)منصــرف کی تعـریف: منصرف وہ اسم ہے۔کہ جس میں اسباب منع صرف میں سےدو سبب یا ایک سبب جو قاٸم مقام دو سببوں کے ہو نہ پاۓ جاٸیں اور اس کا حکم یہ ہے کہ اد کے آخر میں تینوں حرکتیں بمع تنوین کے پڑھی جاٸیں گے۔ جیسے: جَآ َٕنِیْ زَیْدٌ،رَأَیْتُ زَیْدًا،مَرَرْتُ بِزَیْدٍ۔
(٢)غیرمنصـرف کی تعـریف: غیر منصرف وہ اسم ہے۔کہ جس میں اسباب منع صرف میں سے دو سبب یا ایک سبب جو قاٸم مقام دو سببوں کا ہو پاۓ جاٸیں۔اور اس کا حکم یہ ہے۔ کہ اس کے آخر میں کسرہ اور تنوین نہیں آسکتے۔
البتہ اگر یہ مضاف ہوجاۓ یا اس پر الف لام داخل ہو جاۓ۔تو پھر اس پر کسرہ آسکتا ہے۔جیسے: جَآ َٕنِیْ اَحْمَدُ،رَ أَیْتُ اَحْمَدَ،مَرَرْتُ بِاَحْمَدَ۔
اضـافــت کی مثال: مَــــرَرْتُ بِمَسَاجِـــدِکُمْ۔ الف لام کی مثال: مَرَرْتُ بِالْمَسَــاجِـــدِ۔
فاٸدہ: اسباب منع صرف کل نو ہیں: عدل،وصف،تانیث،معرفہ،عجمہ،جمع،ترکیب،وزن فعل،الف ونون زاٸدتان،جیســــے:عُمَرُ،ثَلَاثُ،طَلْحَةُ،زَیْنَبُ،اِبْرَاھِیْمُ،مَسَاجِدُ،بَعْلَبَکُّ،اَحْمَدُ،سَکْرَانُ۔

اسم معـــــرب کی دوســــری تقسیــــم
اشتقاق وعدم اشتقاق کے اعتبارسے اسم معرب کی تین قسمیں ہیں: (١)جامد (٢)مشتق (٣)مصدر۔
(١)جامد: جامد کالغی معنی ہے۔منجمد جُما ہوا۔اور اصطلاح میں جامد وہ اسم ہے۔جونہ خودکدی صیغہ سے نکلا ہو۔اور نہ اس سے کوٸی صیغہ نکلے۔جیسے: رَجُلٌ،زَیْدٌ۔
(٢)مشتق: مشتق کا لغوی معنی ہے۔چیرنا،پھاڑنا۔اور اصطلاح میں مشتق وہ اسم ہے۔جو مصدر سے نکلا ہوا ہو۔اور اس میں مصدر کا معنی اور مصدر کی اصلیت(یعنی حروف اصلی)برقرار ہو۔جیسے: ضَارِبٌ،مَضْرُوْبٌ۔
(٣)مصدر: مصدر کالغوی معنی ہے۔جاۓصدور (نکلنے کی جگہ)اور اصطلاح میں مصدر وہ اسم ہے۔جس سے افعال اور اسما ٕ نکالےجاٸیں اور اس کی پہچان یہ ہے۔کہ فارسی میں ترجمہ کرتےوقت اس کے آخرمیں دَنْ یا تَنْ آتاہے۔جیسے:الضَّرْبُ زَدَنْ(مارنا) الْقَتْلُ کُشْتَنْ (قتل کرنا)
اسم جامد کی تین قسمیں ہیں: (١)ثلاثی(٢)رباعی(٣)خماسی۔
پھر ان میں سے ہر ایک دو دو قسمیں ہیں۔
ثلاثی مجرد ، ثلاثی مزیرفیہ / رباعی مجرد ، رباعی مزیدفیہ / خماسی مجرد ، خماسی مزیدفیہ
علما ٕ صرف کی اصطلاح میں ان چھ اقسام کو شـش اقسام کہتے ہیں۔

شــش اقســام
ان اقسام سےپہلےایک تمھیدی بات ضروری ہے۔وہ یہ ہے۔کہ جس طرح کسی چیز کی کمی یا زیادتی میزان سے معلوم ہوتی ہے۔
اسی طرح حروف اصلی کو حروف زاٸدہ سےممتاز کرنے کیلۓ بھی ایک میزان ہوتاہے جس کو فا ٕ،عین،لام کہا جاتاہے۔اور اس کا طریقہ یہ ہے۔کہ جو حروف فا ٕ ٕ،عین ،لام کے مقابلے میں آۓ اسکو حروف اصلی کہتے ہیں۔اور جو حروف فا ٕعین،لام کے مقابلے میں نہ آۓ اسکو حروف زاٸدہ کہتےہیں۔حروف زاٸدہ درج ذیل ہیں۔اَلْیَوْمَ تَنْسَاھَا۔
کلمہ کی تین قسمیں ہیں: (١)اسم (٢)فعل (٣)حرف۔
اسم جامـــــد کی تین قسمیں ہیں: (١)ثلاثی (٢)رباعی (٣)خماسی
(١)ثلاثی: تین حرفی اسم کو کہا جاتاہے۔جیسے:رَجُلٌ،زَیْدٌ۔
(٢)رباعی: چار حرفی اسم کو کہا جاتاہے۔جیسے: جَعْفَرٌ (ندی،دودھ دینےوالی اونٹنی)
(١)خماسی مجرد: پانچ حرفی اسم کو کہا جاتاہے۔جیسے: سَفَرْجَلٌ (بہی دانہ)۔
فعل کی دو قسمیں ہیں: (١)ثلاثی(٢)رباعی۔
(١)ثلاثی: جس کے ماضی میں تین حروف اصلی ہو. جیسے:ضَرَبَ۔
(٢)رباعی: جس کے ماضی میں چار حروف اصلی ہو۔جیسے: دَحْرَجَ۔
حرف کی بھی دو قسمیں ہیں: (١)حروف اصلی (٢)حروف زاٸدہ۔
(١)حروف اصلی: وہ حروف ہیں۔جو فا ٕ،عین، لام کلمے کےمقابلےمیں آۓ۔جیسے: ضَرَبَ بروزن فَعَلَ۔
(٢)حروف زاٸدہ: وہ حروف ہے جو فا ٕ، عین، لام کلمے کےمقابلےمیں نہ آۓ۔جیسے: اَکْرَمَ بروزن اَفْعَلَ اسمیں ھمزہ زاٸد ہے۔
پھرثلاثی چاہے اسم ہو یا فعل ہو اسکی دو قسمیں ہیں: (١)ثلاثی مجرد (٢)ثلاثی مزیدفیہ۔
(١)ثلاثی مجـرد: ثلاثی مجرد اس اسم یا فعل کو کہتے ہیں جس میں تین حروف اصلیہ کے علاوہ حروف زاٸدہ نہ ہو۔جیسے: زَیْدٌ بروزن فَعْلٌ،ضَرَبَ بروزن فَعَلَ۔
(٢)ثلاثی مزیدفیہ: ثلامزیدفیہ اس اسم کوکہتےہیں جس میں تین حروف اصلیہ کے علاوہ حرف زاٸد بھی ہو۔جیسے: مُکْرِمٌ بروزن مُفْعِلٌ،اَکْرَمَ بروزن اَفْعَلَ۔
رباعی کی دو قسمیں ہیں: (١)رباعی مجرد (٢)رباعی مزیدفیہ۔
(١)رباعی مجرد: رباعی مجرد اس اسم یا فعل کو کہتے ہیں۔جس میں چار حروف اصلیہ کے علاوہ حرف زاٸد بھی نہ ہو۔جیسے: جَعْفَرٌ بروزن فَعْلَلٌ،دَحْرَجَ بروزن فَعْلَلَ۔
(٢)رباعی مزیدفیہ: رباعی مزیدفیہ اس اسم کوکہتےہیں جس میں چار حروف اصلیہ کے علاوہ حرف زاٸد بھی ہو۔جیسے: قِرْطَاسٌ بروزن فِعْلَالٌ،تَدَحْرَجَ بروزن تَفَعْلَلَ۔
خماسی کی بھی دو قسمیں ہیں: (١)خماسی مجرد (٢)خماسی مزیدفیہ۔
(١)خماسی مجـــــرد: خماسی مجرد اس اسم کہتےہیں جس میں پانچ حروف اصلیہ کے علاوہ حرف زاٸد نہ ہو۔جیسے: سَفَرْجَلٌ بروزن فَعَلْلَلٌ۔
(٢)خماسی مزیدفیہ: خماسی مزید فیہ اس اسم کوکہتے ہیں جس میں پانچ حروف اصلیہ کے علاوہ حرف زاٸد بھی ہو۔جیسے: خَنْدَرِیْسٌ بروزن فَعْلَلِیْلٌ۔

ہفت اقســـام
تمام اسمإ اور افعال ان سات قسموں سے باہر نہیں ہونگے وہ سات قسمیں یہ ہیں۔جو اس شعر میں جمع ہیں:
شعـــــر
صحیح است ومثال است ومضاعف
لــفیف وناقص ومہمـــوز واجــــوف
(١)صحیح کا لغوی معنی ہے(تندرست) اور اصطلاح میں اس اسم یا فعل کو کہتے ہیں۔جس کے فا ٕ،عین اور لام کلمےکے مقابلے میں حرف علت،ھمزہ اور دو حروف ایک جنس کے نہ ہوں۔جیسے: ضَرْبٌ ضَرَبَ بروزن فَعْلٌ فَعَلَ
حرف علت تین ہیں: واو ،الف ، یا ٕ جن کا مجموعہ (واۓ)ہے۔جو تکلیف کے وقت انسان کےمنہ سے نکلتاہے۔
(٢)مثال کالغوی معنی ہے۔مانند(یعنی مثل،نظیر،مشابھ)اور اصطلاح میں اس اسم یا فعل کو کہتے ہیں۔جن کے فا ٕ کلمےکے مقابلےمیں حرف علت ہو۔
مثال کی دو قسمیں ہیں: (١)مثال واوی (٢)مثال یاٸی
(١)مثال واوی: ہر اس اسم یا فعل کو کہتےہیں۔جس کے فا ٕ کلمےکے مقابلے میں حرف علت واو ہو۔جیسے: وَعْدٌ وَعَدَ بروز فَعْلٌ فَعَلَ۔
(٢)مثـال یاٸی: ہراس اسم یافعل کوکہتےہیں۔جس کے فا ٕ کلمےکےمقابلےمیں حرف علت یا ٕ ہو۔جیسے: یَسْرٌیَسَرَ بروزن فَعْلٌ فَعَلَ۔
(3)اجـوف: اجوف کالغوی معنی ہے۔ "خالی پیٹ" اور اصطلاح میں اس اسم کوکہتے ہیں۔جس کےعین کلمےکےمقابلے میں حرف علت ہو۔
اجوف کی دو قسمیں ہیں: (١)اجوف واوی (٢)اجوف یاٸی
(١)اجـوف واوی: ہراس اسم یافعل کو کہتے ہیں۔ جس کے عین کلمےکےمقابلےمیں حرف علت "واو" ہو۔جیسے: قَوْلٌ قَوَلَ بروزن فَعْلٌ فَعَلَ۔
(٢)اجوف یاٸی: ہراس اسم یافعل کو کہتے ہیں۔ جس کے عین کلمےکےمقابلےمیں حرف علت "یا ٕ" ہو۔جیسے: بَیْعٌ بَیَعَ بروزن فَعْلٌ فَعَلَ۔
(4) ناقـص: ناقص کالغوی معنی ہے "دُم کٹے،نقصان والا" اور اصطلاح میں اس اسم یافعل کو کہتےہیں۔جس کے لا کلمےکےمقابلےمیں حرف علت ہو۔
ناقــــص کی دو قسمیں ہیں: (١)ناقص واوی (٢)ناقص یاٸی
(١)ناقـــص واوی: ہر اس اسم یافعل کوکہتےہیں جس کےلام کلمےمقابلےمیں حرف علت "واو" ہو۔جیسے:دَعْوٌ دَعَا اصل میں دَعَوَ تھا۔فَعْلٌ فَعَلَ۔
(٢)ناقــــص یاٸی: ہر اس اسم یافعل کوکہتےہیں جس کےلام کلمےمقابلےمیں حرف علت "یا ٕ" ہو۔جیسے: رَمْیٌ رَمٰی اصل میں رَمَیَ تھا۔بروزن فَعْلٌ فَعَلَ تھا۔
(5) لفیـــــف: لفیف کالغوی معنی ہے۔ "لپیٹنا" اور اصطلاح میں اس اسم یافعل کوکہتےہیں۔جس کےفا ٕ عین اور لام کلمےکےمقابلےمیں دو حرف علت ہو۔
لفیف کی دو قسمیں ہیں: (١)لفیف مفروق (٢)لفیف مقرون
(١)لفیف مقــرون: لفیف مقرون ہر اس اسم یافعل کوکہتے ہیں جس کے عین اور لام کلمےمقابلےمیں حرف علت ہو جیسے: طَیٌّ طَوٰی اصل میں طَوْیٌ طَوَیَ تھا۔ بروز فَعْلٌ فَعَلَ۔
(٢)لفيـف مفـروق: لفیف مفروق ہر اس اسم یافعل کوکہتے ہیں جس کے عین اور لام کلمےمقابلےمیں حرف علت ہو جیسے: وَشْیٌ وَشٰی اصل میں وَشَیَ تھا۔بروز فَعْلٌ فَعَلَ۔
(6) مہـــموز: مہموزکالغوی معنی ہے۔ " ٹیڑی کمر والاہونا" اور اصطلاح میں اس اسم یافعل کوکہتےہیں۔جس کے فا ٕ عین اور لام کلمےکےمقابلےمیں ہمزہ ہو۔
مہمـوز کی تین قسمیں ہیں: (١)مہموزالفا ٕ (٢)مہموزالعین (٣)مہموزاللام
(١)مہمـوزالفا ٕ: ہراس اسم یافعل کو کہتےہیں۔جس کے فا ٕکلمے کے مقابلے میں "ہمزہ" ہو۔جیسے:اَمْرٌ اَمَرَ بروز فَعْلٌ فَعَلَ۔
(٢)مہمـوزالعین: ہراس اسم یافعل کو کہتےہیں۔جس کے "عین" کلمے کے مقابلے میں ہمزہ ہو۔جیسے: سَأْلٌ سَٸَلَ بروز فَعْلٌ فَعَلَ۔
(٣)مہموزاللام: ہراس اسم یافعل کو کہتےہیں۔جس کے "لام" کلمے کے مقابلے میں ہمزہ ہو۔جیسے: قَرْأٌ قَرَأَ بروز فَعْلٌ فَعَلَ۔
(7)مضاعف: مضاعف کالغوی معنی ہے۔ "دوچند" اور اصطلاح میں اس اسم یا فعل کو کہتے ہیں۔جس کے فا ٕ عین اور لام کلمےکےمقابلےمیں دو حروف ایک جنس کےہو۔
مضاعف کی دو قسمیں: (١)مضاعف ثلاثی (٢)مضاعف رباعی (١)مضاعف ثلاثی: ہر اس اسم یافعل کو کہتےہیں۔جس کےعین اور لام کلمےمقابلےمیں دوحروف ایک جنس کےہو۔جیسے: مَدٌّ مَدَّ اصل میں مَدَدٌ مَدَدَ تھا۔ بروزن فَعْلٌ فَعَلَ۔
(٢)مضاعف رباعی: ہراس اسم یا فعل کوکہتےہیں۔جس کے فا ٕ اور لام اول اور عین اور لام ثانی کے مقابلےمیں دو حروف ایک جنس کے ہو۔جیسے: زَلْزَلَ زِلْزَالٌ بروزن فَعْلَلَ فِعْلَالٌ۔
دو ازدہ اقسـام
عرب والےہرمصدرسےبارہ چیزیں مشتق کرتےہیں۔جن میں سے چھ اسما ٕہیں اور چھ افعال ہیں۔
اسما ٕ یہ ہیـں: اسم فاعل ، اسم مفعول ، اسم ظرف مکان ، اسم ظرف زمان ، اسم آلہ ، اسم تفضیل۔
افعـال یہ ہیــں: فعل ماضہ ، فعل مضارع ، فعل امر ، فعل نہی ، فعل نفی ، فعل جحد ۔

اسما ٕ کی تفصیـــــل:
(١)اســـم فاعل: کام کرنےوالےکوکہتےہیں۔جیسے: ضَارِبٌ "مارنےوالاایک مرد"
(٢)اسـم مـفعول: جس پرکام واقع ہوں۔جیسے: مَضْرُوْبٌ "ماراہوا ایک مرد"
(٣)اسم ظرف مکان: اس جگہ کوکہتےہیں۔جہاں کام واقع ہوں۔جیسے: مَضْرِبٌ "ایک جگہ مارنےکا"
(٤)اســم ظـرف زمـان: اس وقت کوکہتےہیں۔جس میں کام واقع ہوں۔جیسے:مَضْرِبٌ "اکی وقت مارنےوالا"
(٥)اسـم آلـہ: اس اسم کاکہتےہیں۔جس میں کام واقع ہو۔جیسے: مِضْرَبٌ "ایک چھوٹاآلـہ مارنےکا"
(٦)اسم تفضیـل: زیادہ کام کرنےوالےکوکہتےہیں۔جیسے: اَضْرَبُ "زیادہ مارنےوالاایک مرد"

افعــال کی تفصیل:
(١) فعــــل ماضـــی: وہ فعل ہوتاہے۔جوگزرےہوےزمانہ پردلالت کرے۔جیسے:ضَرَبَ "مارا اس ایک مرد نےگزرےہوے زمانے میں "
(٢)فعل مضارع: وہ فعل ہوتاہے۔جو حال اور استقبال دونوں پر دلالت کرے۔جیسے:یَضْرِبُ "مارتاہے یا مارے گا وہ ایک مرد زمانہ حال یا استقبال میں"
(٣)فعـل امـر: وہ فعل ہوتاہے۔جس میں متکلم مخاطب سے کسی کام کامطالبہ کرتاہے۔جیسے: اِضْرِبْ "مارتوایک مرد"
(٤)فعل نہی: وہ فعل ہوتاہے۔جس میں متکلم مخاطب سےکسی کام کےنہ کرنےکامطالبہ کرتاہے۔جیسے:لَاتَضْرِبْ "نہ مار تو ایک مرد"
(٥)فعل نفی: انکار حال اور استقبال کوکہتےہیں۔جیسے: لَایَضْرِبُ "نہیں مارتاہے یا ہیں مارےگا وہ ایک مرد زمانہ حال یا استقبال میں"
(٦)فعل جحد: انکارماضی کوکہتےہیں۔جیسے:لَمْ یَضْربْ "نہیں مارا اس ایک مرد نےگزرے ہوۓ زمانےمیں"

فعل کےثلاثی مجـرّد میں تین وزن ہیں:
فَعَلَ ، فَعِلَ ، فَعُلَ۔یہ تینوں ماضی کےصیغےہیں۔ان میں سے ہرایک کامضارع بھی ہے۔
فَعَلَ کےتین مضارع ہیں: ١۔فَعَلَ یَفْعِلُ ٢۔فَعَلَ یَفْعَلُ ٣۔فَعَلَ یَفْعُلُ۔
فَعِلَ کے دو مضارع ہیں: ١۔فَعِلَ یَفْعِلُ ٢۔فَعِلَ یَفْعَلُ۔
فَعُلَ کے ایک مضارع ہے: ١۔فَعُلَ یَفْعُلُ۔
یہ کل چھ باب ہوۓ ان میں سے تین اصول ہیں اور تین فروع۔
اصول یہ ہیں: فَعَلَ یَفْعِلُ ، فَعَلَ یَفْعُلُ ، فَعِلَ یَفْعَلُ۔
فـروع یہ ہیں: فَعَلَ یَفْعَلُ ، فَعِلَ یَفْعِلُ ، فَعُلُ یَفْعُلُ۔
ان کے اصول اور فروع ہونے کی وجہ یہ ہے۔کہ ماضی اور مضارع کا معنی آپس میں مختلف ہے اور معنی کا اختلاف دلالت کرتاہے الفاظ کےاختلاف پر۔تو جن باتوں میں ماضی اور مضارع کے عین کلمہ کی حرکت آپس میں مختلف ہے۔گویا وہ اپنے اصل پرہیں۔اس لیےان کو اصول کہتےہیں۔ اور جن تین بابوں میں ماضی اور مضارع کے عین کلمہ کی حرکت ایک جیسی ہے۔وہ گویا اپنے اصل پر نہیں ہیں۔اس لیےاس کو فروع کہتےہیں۔
فعل کارباعی مجرد میں ایک ہی وزن ہے۔فَعْلَلَ جیسے:دَحْرَجَ اور اس کا مضارع بھی ایک ہے۔یُفَعْلِلُ جیسے:یُدَحْرِجُ۔

بِنـاۓ بنانے کےقـواعـد
١). قاعدہ: ہر واحدمزکر غاٸب فعل ماضی معلوم مثلًا ضَرَبَ کو مصدر سے بناٸیں گے۔
٢). قاعدہ: ہر تثنیہ اور جمع کےصیغےکو اپنے واحد سے بناٸیں گے۔
٣). قاعدہ: ہر مٶنث کو اپنے مزکر سے بناٸیں گے۔
٤). قاعدہ: ہر مجھول کو اپنے معلوم سے بناٸیں گے۔جیسے: یُضْرَبَانِ کو یَضْرِبَانِ سے۔
٥). قاعدہ: اسم فاعل ، اسم مفعول ، امر ، نہی، اسم ظرف ، اسم آلہ اور اسم تفضیل کو فعل مضارع سے بناٸیں گے۔
٦). قاعدہ: ہرماضی معلوم میں واحد مزکرغاٸب مخاطب اور واحد متکلم کو واحد مزکر غاٸب کے صیغے سے بناٸیں گے۔جیسے: ضَرَبَ سے ضَرَبْتَ اور ضَرَبْتُ۔
٧). قاعدہ: فعل مضارع معلوم میں جن صیغوں کا آخری حرف مضموم ہوں تووہ تمام صیغے واحد مزکر غاٸب فعل ماضی سے بناٸیں گے۔

قـــوانـین صحیح
قانون کالغــــــوی معنی ہے۔ "مِسْطَرِکتاب" لکیرکھینچنے کا آلہ (فٹہ) یعنی وہ آلہ جس کےذریعےکاتب لکیریں لگاتاہے۔
قانون کااصــــطلاحی معنی: ھِیَ قَضِیَّةٌ کُلِیَّةٌ یَتَعَرَّفُ مِنْھَا اَحْکَامُ جُزْٸِیَاتِ مَوْضُوْعِھَا۔
قانون وہ قاعدہ ہے جس سے اسکے موضوع کی جزٸیات کےاحکام معلوم کۓ جاتےہیں۔
١) قــانــــــون: ضَرَبْنَ کاپہلاقانون:
فارســـی: اجتماع دوعلامت تانیث درفعل مطلقًا ممنوع است ودراسم وقتیکہ ازیک جنس باشد۔ اس قانون کےسمجھنےسےپہلےایک فاٸدہ سمجھیں۔
فاٸــــــدہ: علامت تانیث آٹھ ہیں جن میں سے چار فعل کےاندر پاٸی جاتی ہیں اور اسم کے اندر ۔
جو چار فعل کے اندر پاٸی جاتی ہیں وہ یہ ہیں: (١)تاۓ ساکنہ جیسے: ضَرَبَتْ (٢)نون مفتوح جیسے: ضَرَبْنَ (٣)تاۓمکسورہ جیسے: ضَرَبْتِ (٤)یاۓساکنہ جیسے: تَضْرِبِیْنَ۔
اور جو چار اسم کے اندر پاٸی جاتی ہیں وہ یہ ہیں: (١)تاۓ متحرکہ جیسے: ضَارِبَةٌ (٢)الف مقصورہ جیسے: حُبْلٰی (٣)الف ممدودہ جیسے: حَمْرَاۤ ُٕ (٤)تاۓمقدرہ جیسے: اَرْضٌ جو اصل میں اَرْضَةٌ تھا۔اس کی دلیل یہ ہے۔کہ اس کی تصغیر اُرَیْضَةٌ آتی ہے۔
خـــــلاصــہ: اس قانون کاخلاصہ یہ ہے۔کہ دوعلامت تانیث کافعل میں جمع ھونا مطلقًا ممنوع ہے مطلقًا کامطلب یہ ہے۔کہ دوعلامت تانیث خواہ ایک جنس کی ہوں یا الگ الگ جنس کی ہوں۔اور اسم کے اندر اگر ایک جنس کی ہوں تو ممنوع ہے۔بصورت دیگر جاٸز ہے۔
فـــاٸـــدہ: یہ قانون فعل میں فعل ماضی کے جمع مٶنث غاٸب کے صیغہ میں جاری ہوتاہے۔جیسے: ضَرَبَتْنَ سے ضَرَبَنَ پھر ضَرَبْنَ اور اسم فاعل اسم مفعول اور صفت مشبہ کے جمع مٶنث کے صیغوں میں جاری ہوتاہے۔
اســــم فاعل کی مثــــال: ضَارِبَتَاتٌ سے ضَارِبَاتٌ۔
اسم مـفعول کی مثـــــال: مَضْرُوْبتَاتٌ سے مَضْرُوْبَاتٌ۔
صفت مشــبہ کی مثــــال: شَرِیْفَتَاتٌ سے شَرِیْفَاتٌ۔
اسم کی احترازی مثـــال: ضُرْبَیَاتٌ۔
٢) قـــانــون: ضَرَبْنَ کادوسرا قانون: فارســـی: اجتماع اربع متوالیات دریک کملہ وحکم وے ممنوع است،
خــــلاصــہ: اس قانون کاخلاصہ یہ ہے۔کہ کلمہ حقیقی اور کلمہ حکمی میں متواتر چار حرکات کا آنا ممنوع ہے۔اور اگر کسے کلمہ کے اندر چار حرکات آجاۓ تو ان میں سے ایک حرکت کو گرایاجاۓگا۔
کلمہ حقیقی کی مثــال: دَحْرَجَ اصل میں دَحَرَجَ تھا۔
کلمہ حکـمی کی مثـــال: ضَرَبْنَ اصل میں ضَرَبَنَ تھا۔
فاٸدہ: کلمہ حقیقی وہ ہے۔ جو حقیقت میں ایک کلمہ ہو۔جیسے: دَحْرَجَ اور کلمہ حکمی وہ ہے۔جو حقیقت میں دو کلمےہوں لیکن شدت اتصال کی وجہ سے دونوں کو ایک کردیا ہو۔یعنی پہلاکلمہ فعل اور دوسرا کلمہ ضمیر مرفوع متصل بارز ہو ۔جیسے: ضَرَبْنَ سے ضَرَبْنَا تک اصل میں ضَرَبَ الگ کلمہ اور نون ضمیر فاعل الگ کلمہ ہے۔
٣) قـــانــون: ضَرَبْتُم اَنْتُمْ کاقانون:
فــــارســـی: ہر واوے کہ واقع شود در آخر اسم غیر متمکن ماقبلش مضموم آں واو را حذف کنند وجوبًا،مگر واو ھو،
خــلاصــہ: اس قانون کاخلاصہ یہ ہے۔کہ ہر وہ واو ماقبل مضموم جو اسم غیر متمکن کےآخرمیں واقع ہوجاۓ تو اس واو کو حذف کرنا واجب ہے۔جیسے: ضَرَبْتُمُوْا سے ضَرَبْتُمْ۔ أَنْتُمُوْا سے أَنْتُمْ۔
البتہ اگر اسم غیرمتمکن کے آخر میں ضمیر منصوب متصل لگ جاۓ۔تو واو دو حال سےخالی نہیں اسم کے آخر میں ہوگی یا فعل کے آخرمیں اگر فعل کے آخر میں ہو تو ثابت رہےگی۔جیسے: یَدْعُوْا۔اور اگر اسم کے آخر میں ہو تو دو حال سے خالی نہیں ماقبل ساکن ہوگا یا متحرک۔ اگرسان ہو تو واو ثابت رہے گی جیسے: دَلْوٌ اگر ماقبل متحرک ہو تو اسم معرب ہوگا یا مبنی ۔اگر معرب ہے تو حذف ہو جاۓ گی جیسے: اَدْلٍ اصل میں اَدلُوٌ تھا۔اور اگر مبنی ہو تو پھر دو حال سے خالی نہیں اسم مبنی ثناٸی ہوگا یا ثلاثی۔اگر ثناٸی ہو تو واو ثابت رہے گی۔جیسے: ذُوْ،ھُوَ۔اگرثلاثی یا زاٸد ہو تو حذف ہوگی۔جیسے: ضَرَبْتُمْ،اَنْتُمْ۔دَحْرَجْتُمْ۔
٤) قـــانـــون: ماضی مجـــھول کاقانون:
فــــــارســـــی:در ہر ماضی مجھول حروف متحرک را حرکت ضمہ وماقبل آخر راکسرہ وباقی را برحال خود می دارند وجوبًا۔
خــــلاصــہ:اس قانون کاخلاصہ یہ ہے۔کہ ہر ماضی مجھول میں ماقبل آخر کو کسرہ حروف متحرک کو ضمہ اور باقی حروف اپنی حالت پر برقرار رکھنا واجب ہے۔جیسے: ضَرَبَ سے ضُرِبَ۔اَکْرَمَ سے اُکْرِمَ اور اِجْتَنَبَ سے اُجْتُنِبَ۔
فـــاٸــدہ: فعل ماضی کےآخری حرف پر جو بھی حرکت ہو۔اس کو ضمہ کے ساتھ تبدیل نہیں کیا جاۓ گا۔کیونکہ فعل ماضی مبنی ہوتاہے۔
٥) قانون: مضارع مجھول کا قانون :
فــــارســـی: در ہر مضارع مجھوم حرف اول راضمہ وماقبل آخر رافتحہ میدِ ھَنْد وجوبًا،بشرطیکہ در مضارع معلوم ضمہ وفتحہ نہ باشد وباقی صیغھا رابر معلوم قیاس باٸد کرد،
خــــلاصــہ:اس قانون کاخلاصہ یہ ہے۔کہ ہر مضارع مجھول میں حرف اول کو ضمہ اور ماقبل آخر کو فتحہ دیاجاٸگا۔بشرطیکہ مضارع معلوم میں ضمہ اور فتحہ نہ ہوں۔اور باقی صیغہ کو اپنی حالت پر برقرار رکھنا واجب ہے۔جیسے: یَضْرِبُ سے یُضْرَبُ،یَفَحُ سے یُفْتَحُ اور یُکْرِمُ سے یُکْرَمُ۔
٦) قانون: اسم فاعل کاقانون
فــارســــــی: ہر اسم فاعل از ثلاثی مجرد غالبًا بروزن فاعلٌ می آید واز غیر ثلاثی مجرد بروزن فعل مضارع معلوم آن باب می آید میم مضموم بجاۓحرف آتین وکسرہ دادن ماقبل آخر را اگرنہ باشد وتنوین تمکن در آخرش در آرند وجوبًا۔
خــــــلاصـہ: اس قانون کاخلاصہ یہ ہے۔کہ ثلاثی مجرد کے ابواب سے اسم فاعل اکثر فَاعِلٌ کےوزن پرآتاہے۔اور ثلاثی مجرد کےعلاوہ جتنے بھی ابواب ہیں۔چاہے وہ ثلاثی مزید کےہوں یا رباعی مجرد کے اور یا رباعی مزید کےہوں ان تمام ابواب سے اسم فاعل فعل مضارع معلوم کے وزن پر آتاہے۔
البتہ حروف اتین کی بجاۓمیم مضموم اور ماقبل آخر پر کسرہ اگر کسرہ نہ ہو۔اور آخر میں تنوین تمکن آۓگا۔
ثلاثـی مجــــرد کی مــثال: یَضْرِبُ سے ضَارِبٌ
غیرثلاثی مجرد کی مثال: یَجْتَنِبُ سے مُجْتَنِبٌ ، یُدَحْرِجُ سے مُدَحْرِجٌ اور یَتَدَحْرَجُ سے مُتَدَحْرِجٌ۔
فــــــــاٸـــــدہ: ثلاثی مجرد کا اسم فاعل کبھی کبھی غیر فاعل کے وزن پر بھی آتاہے۔جیسے عَلِمَ یَعْلَمُ سے عَلِیْمٌ اسم فاعل ہے نہ کہ صفت مشبہ کیونکہ صفت مشبہ لازمی باب سے آتی ہے۔جب کہ یہ باب متعدی ہے اور یہ مبالغہ کے لیے لایاگیاہے۔
٧) قــانــــون: مدہ زاٸدہ کاقانون
فـــــارســـــــی: ہرمدہ زاٸدہ کہ واقع شود،در مفرد مکبر بدوم جاۓ وقت بناکردن جمع اقصٰی وتصغیر آن رابواو مفتوحہ بدل کنندوجوبًا۔
خـــلاصـــــہ:اس قانون کاخلاصہ یہ ہے۔کہ ہر وہ مدہ زاٸدہ جومفرد مکبر میں دوسری جگہ واقع ہو۔تو اس مفرد سے جمع اقصٰی یا تصغیر بناتے وقت اس مدہ زاٸدہ کو واو مفتوحہ کے ساتھ تبدیل کرنا واجب ہے۔
جمع اقصٰـــی کی مثـــال: ضَارِبَةٌ سے ضَوَارِبُ۔
تصغیرکـــی مثــــال: ضَارِبٌ سے ضُوَیْرِبٌ اور ضَارِبَةٌ سے ضُوَیْرِبَةٌ
فـــاٸــــدہ: حروف مدہ ان حروف علت کوکہتے ہیں۔جو خود ساکن ہو اور ماقبل والے حرکات ان کےموافق ہو۔
تینـــوں کــی مثـــال: اُوْتِیْنَا۔
اور مدہ زاٸدہ حروف مدہ ہیں۔جو فا ٕ ، عین اور لام کلمےکےمقابلےمیں نہ ہو۔
فــــاٸـــدہ: جمع اقصٰی کے تین نام ہیں: (١)جمع اقصٰی (٢) جمع منتھی الجموع (٣)جمع مکسر غیرمنصرف اور اس کو جمع الجمع بھی کہتے ہیں۔
٨) قـانـــون: اسم مفعول کا قانون
فــــارسی: ہراسم مفعول از ثلاثی مجرد بروزن مفعول می آید واز غیر ثلاثی مجرد بروزن فعل مضارع مجھول آن باب می آید،میم مضمومہ بجاۓ حروف اتین وتنوین تمکن در آخرش در آرند وجوبًا۔
خـــلاصــــہ: اس قانون کا خلاصہ یہ ہے کہ ثلاثی مجرد کے ابوب سے اسم مفعول مَفْعُوْلٌ کے وزن پر آتاہے اورثلاثی مجرد کےعلاوہ جتنےبھی ابواب ہیں۔ان تمام ابواب سےاسم مفعول فعل مضارع مجھول کےوزن پر آتاہے۔البتہ حروف اتین کی بجاۓ میم مضموم اور آخرمیں تنوین تمکن آۓ گا۔
ثلاثـــی مجــــرد کی مثــــال: یُضْرَبُ سے مَضْرُوْبٌ۔
غیرثلاثی مجرد کی مثال: یُجْتَنَبُ سے مُجْتَنَبٌ ، یُدَحْرَجُ سے مُدَحْرَجٌ اور یُتَدَحْرَجُ سے مُتَدَحْرَجٌ۔
٩) قــانــون: نون تنوین،نون تثنیہ اور جمع کا قانون
فـــارســی: ہر نون تنوین وقت دخول الف و لام و اضافت حذف کردہ شود ونون تنوین تثنیہ وجمع در وقت اضافت حذف کردہ شود وجوبًا۔
خــــلاصـــہ: اس قانون کاخلاصہ یہ ہے۔کہ ہر نون تثنیہ اور نون جمع اضافت کی وجہ سےگرتاہے۔اور نون تثنیہ اور نون جمع اضافت کی وجہ سےگرتاہے۔
اضـافــــت کی مثـــــال: غُلَامُ زَیْدٌ۔اصل میں غُلَامٌ زَیْدٌ تھا۔
الــف لام کـــی مثـــال: اَلْغُلَامُ اصل میں غُلَمٌ۔
نـــون تثنیہ کــــی مثــــال: ضَارِبَازَیْدٍ اصل میں ضَارِبَانِ تھا۔
نــــون جمع کــــی مثــــال: ضَارِبُوْ زَیْدٍ اصل میں ضَارِبُوْنَ تھا۔
١٠) قـــانـــون: نون تنوین کاقانون
فــــارســـــی: ہرنون تنوین کہ ماقبلش مفتوح است ، درحالت وقف آن رابالف بدل کردن کثیر وساقط کردن قلیل است ، واگر ماقبلش مضموم یامکسور است ، درحالت وقف آن رابحرف علت بدل کردن قلیل وساقط کردن کثیراست،
خـــــلاصــــہ: اس قانون کاخلاصہ یہ ہے۔کہ نون تنوین سے پہلے اگر حرف مفتوح ہو۔تو حالت وقف میں نون تنوین کو الف سے تبدیل کرنا کثیر ہے۔اور ساقط کرنا قلیل ہے۔
جیســـــے: عَلِیْمًا سے عَلِیْمَا پڑھنا کثیرہے اورعَلِیْمٌ پڑھنا قلیل ہے۔
اور اگر نون تنوین سےط پہلے حرف مضموم یامکسور ہو تو حالت وقف میں نون تنوین کو واو اور یا ٕ سے تبدیل کرنا قلیل ہے۔اور ساقط کرنا کثیرہے۔
جیســــــــے: غَفُوْرٌ سے غَفُوْرُوْ اور حِیْنٍ سے حِیْنِیْ پڑھنا قلیل ہے اور غَفُوْرْ اور حِیْنْ پڑھنا کثیرہے۔
١١) قــــانــــون: نون خفیفہ کاقانون
فـــــارســـــی:ہرنون خفیفہ راموافق حرکت ماقبل بحرف علت بدل می کنند جوازًا درحالت وقف،
خـــلاصـــہ: اس قانون کاخلاصہ یہ ہے۔کہ ہروہ کلمہ جس کے آخر میں نون خفیفہ ہو۔تو حالت وقف میں نون خفیفہ کو اپنی ماقبل والی حرکت کےموافق حرف علت سے تبدیل کرناجاٸز ہے۔جیسے: اِضْرِبَنْ سے اِضْرِبَا ، اِضْرِبُنْ سے اِضْرِبُوْا اور اِضْرِبِنْ اِضْرِبِیْ۔
١٢) قــانـــــون: نون اعرابی کاقانون
فــــارســـــــی: ہرنون اعرابی وقت دخول جوازم ونواصب ولحوق نون ثقیلہ وخفیفہ وبناکردن امر حاضرمعلوم حذف کردہ شود وجوبًا۔
خلاصہ: اس قانون کاخلاصہ یہ ہے۔کہ ہرنون اعرابی حروف جازمہ اور حروف ناصبہ کے داخل ہوتے وقت،نون ثقیلہ اور نون خفیفہ کے لاحق ہوتے وقت اور حاضر معلوم بناتے وقت حذف کرنا واجب ہے۔
جیســـے: لَمْ یَضْرِبَا اور لَنْ یَّضْرِبَا اصل میں یَضْرِبَانِ تھا۔
لَیَضْرِبُنَّ اور لَیَضْرِبُنْ اصل میں یَضْـــرِبُوْنَ تھا۔
١٣) قانون:حروف یرملون کاقانون
فــــارســــی: ہرنون وتنوین رادر حروف یرملون ادغام می کنند وجوبًا،ومتحرک راجوازًا درحروف یَمُـــــوْنْ بغنہ ودر لَــــرْ بغیر غنہ،
خــــلاصـــہ: اس قانون کاخلاصہ یہ ہے۔کہ نون ساکن اور نون تنوین کےبعد اگر حروف یرملون میں سے کوٸی حرف دوسرےکلمےمیں واقع ہوجاۓ۔تو اس نون ساکن یا تنوین کو حروف یرملون میں مدغم کرنا واجب ہے۔
البتہ یمون میں ادغام بالغنہ ہوگا۔اور لَرْ میں ادغام بلاغنہ ہوگا۔
ادغـــــام مع الغنہ کی مثــــال: لَنْ یَّضْرِبَ ، اِنْ نَّقُوْلُ ، عَذَابٌ مُّقِیْم ، ھُدًی وَّرَحْمَہ ۔
ادغـــــام بــلاغنہ کی مثـــــال: یُبَیِّنْ لَّنَا ، مِنْ رَّبِّھِمْ ، مَتَاعًالَّکُمْ ، غَفُوْرٌرَحِیْم ۔
اور اگر نون ساکن اور حروف یرملون کا حرف دونوں ایک کلمہ میں ہو۔ تو پھر اس میں اظھار کرینگے۔ اور اس کو اظھار مطلق کہتے ہے ۔ جیســـــے: دُنْیَا ، قِنْوَانٌ ، صِنْوَانٌ ، بُنْیَانٌ ۔ نون متحرک کو حروف یرملون میں مدغم کرنا جاٸز ہے۔ جیســـــے: اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ سے اِنَّ الَّذِیْ لَا یَرْجُوْنَ ۔
١٤) قـــانـــــون: اظھار ــــ اخفا ٕ ــــ اقلاب کا قانون
فــــارســـــــــی: ہرنون ساکن وتنوین کہ واقع شود قبل با ٕ مطلقًا آن رابمیم بدل می کنند وجوبًا قبل از حرف حلقی ظاہر خواندہ می شود وجوبًا وقبل از الف نمی آیند ودر باقی حروف اخفا ٕ کردہ آید ۔
خلاصہ: اس قانون کاخلاصہ یہ ہے۔کہ جب نون ساکن اور تنوین "ب" سےپہلے واقع ہوجاۓ تو اس کو میم کے ساتھ تبدیل کرنا واجب ہے۔جیســــے: مِنْ ۘ بَعْدِ ، سَمِیْعٌ ۘ بَصِیْرٌ ۔
اور اگر نون ساکن اور تنوین حروف حلقی سے پہلے واقع ہوجاۓ۔ تو اس نون ساکن اور تنوین میں اظھار واجب ہے۔ حـــــــروف حلقــــــــی چھ ہیں: ( ھمزہ ھ ، ع ح ، غ خ ) ۔ جیســـے: اَنْعَمْتَ ، عَلِیْمٌ ۘحَکِیْمٌ۔
اور اگرنون ساکن اور تنوین حروف یرملون ، حروف حلقی ، "ب" اور الف کےعلاوہ باقی حروف سے پہلے واقع ہوجاۓ۔تو اس نون ساکن اور تنوین میں اخفا ٕ کرینگے۔ جیســــے: اَنْزَلْنَا ، عَلِیْمٌ قَدِیْرٌ ۔
١٥) قـــانـــون: امر حاضر کاقانون
فـــارســـی: ہر امر حضر معلوم را از فعل مضارع مخاطب معلوم بایں طور بنا می کنند کہ اگر بعد ارز حذف کردن حرف مضارعت مابعدش ساکن مند وصلی مضموم در اولش در آوردند وجوبًا، بشرطیکہ مضارعت نیز مضموم العین باشد وگرنہ مکسورہ واگر مابعدش متحرک مان امر ہمون شد بوقف آخر۔
خـــلاصــہ: اس قانون کاخلاصہ یہ ہے۔کہ امر حاضرمعلوم بناتے وقت حرف مضارع کو حذف کریں گے۔اگرمابعدحرف متحرک تو آخرمیں وقف کرینگے۔وقف کرنے سے جہاں جہاں حرکت۔نون اعرابی اور حرف علت ہونگ تو وہ گر جاٸنگے۔ جیســـے: تَعِدُ سے عِدْ ، تَعِدَانِ سے عِدَا اور تَقِیْ سے قِ ۔
اور اگرمابعد حرف ساکن ہو۔تو عین کلمہ مضموم ہونے کی صورت میں ہمزہ وصلی مضموم لاٸنگے۔جیسے: تَنْصُرُ سے اُنْصُرْ۔
اور اگر عین کلمہ مفتوح یامکسور ہو۔تو ہمزہ وصلی مکسور لاٸنگے۔ جیسے: تَفْتَحُ سے اِفْتَحْ ، تَضْرِبُ سے اِضْرِبْ ۔
١٦) قانون: الف فاصل کاقانون
فــــارســــی: چوں نون تاکید ثقیلہ بانون ضمیری متصل شود، الف فاصلہ بیان ایشان در آرند وجوبًا۔
خـــلاصـــہ: اس قانون کا خلاصہ یہ ہے۔جب نون تاکید ثقیلہ نون ضمیری کر ساتھ متصل ہوجاۓ تو ان کے درمیان الف فاصل لانا واجب ہے۔جیسے: اِضْرِبْنَنَّ سے اِضْرِنَانِّ۔
فــاٸــدہ: یہ الف فاصل والا قانون تین نون زاٸد کےبارے میں ہے۔اگران میں ایک نون بھی اصلی ہو۔تو قانون ہرگز جاری نہیں ہوگا۔جیسے: لَیُسْجَنَنَّ ، لَیَکُوْنَنَّ۔
فـــاٸــدہ: یہ قانون صرف افعال کےجمع مٶنث صیغوں میں جاری ہوتاہے۔
١٧) قانون: اسم ظرف کاقانون
فــــارســــی: ظرف صحیح مہموز وجوف کہ مضارع اع بروزن یَفْعِلُ باشد ومثال مطلقًا بروزن مَفْعِلٌ می آید وظرف صحیح مہموز واجوف کہ مضارع او از غیر یَفْعِلُ باشد وناقص ولفیف ومضاعف مطلقًا بروزن مَفْعِلٌ می آید وجوبًا وماسواۓ ایشان ش*ذ است واز غیر ثلاثی مجرد بروزن اسم مفعول آن باب می آید وجوبًا۔
خـــلاصــہ: اس قانون کاخلاصہ یہ ہے۔کہ ظرف صحیح مہموز اور اجوف کا مضارع اگر یَفْعِلُ کے وزن پر ہو۔تو اس کا ظرف مَفْعِلٌ کےوزن پر آۓ گا۔
صحیـــح کی مثــال: یَضْــــرِبُ سـے مَضْــرِبٌ
مہمـــوز کی مثــــال: یَـــــأْذِرُ سـے مــــأْذِرٌ
اجـــوف کی مثـــال: یَبِیْــــــعُ سـے مَبِیْـــــــعٌ
اور اگر صحیح مہموز اور اجوف کا مضارع یَفْعِلُ کے وزن پر نہ ہو۔تو اس کا ظرف مَفْعِلٌ کے وزن پر آۓ گا۔
صحیح کی مثـــال: یَفْتَح سے مَفْتَحٌ ، یَنْصُرُ سے مَنْصَرٌ
مہموز کی مثـــــال: یَأْمَنُ سے مَأْمَنُ ، یَأْمُرُ سے مَأْمَرٌ
اجوف کی مثــــال: یَخَافُ سے مَخَافٌ ، یَقُوْلُ سے مَقَالٌ
مثال سےظرف مطلقًا مَفْعِلٌ کے وزن پر آۓ گا۔
مثال کی مثــــــال: یَعِدُ سے مَوْعِدٌ ، یَوْسُمُ سے مَوْسِمٌ ، یَوْجَلُ سے مَوْجِلٌ ، یَسِیْرُ سے مَسِیْرٌ
ناقص لفیف اور مضاعف سے ظرف مطلقًا مَفْعَلٌ کے وزن پرآۓگا۔
ناقص کی مثــــال: یَدْعُوْا سے مَدْعًا ، یَرْمِیْ سے مَرْمًا
لفیف کی مثــــــال: یَقِیْ سے مَوْقًی ، یَطْوِیْ سے مَطْوًی
مضاعف کی مثال: یَمُدُّ سے مَمَدٌّ ، یَفِرُّ سے مَفَرٌّ
اور غیر ثلاثی مجرد سے ظرف اسم مفعول کے وزن پر آۓ گا۔جیســـے: یُکْرِمُ سے مُکْرِمٌ ، یُجْتَنَبُ سے مُجْتَبٌ اور یُدَحْرَجُ سے مُدَحْرَجٌ۔
١٨) قـــانـــون: اسم آلہ کاقانون:
فــــارســــی: ہر اسم آلہ از ہرباب ثلاثی مجرد مطلقًا بکسر میم وفتحہ عین می آید وجوبًا۔
خـــلاصــہ: اس قانون کاخلاصہ یہ ہے۔کہ ہر اسم آلہ ثلاثی مجرد کے تمام ابواب سےمطلقًا کے وزن پر آتاہے۔مطلقًا مطلب یہ ہے۔کہ چاہے مضارع مفتوح العین ہو یا مکسورالعین ہو یا مضموم العین ہو۔چاہے صحیح ہو یا غیر صحیح۔جیسے: یَفْتَحُ سے مِفْتَحٌ ، یَضْرِبُ سے مِضْرَبٌ ، یَنْصُرُ سے مِنْصَرٌ اور یَقُوْلْ سے مِقْوَلٌ۔
١٩) قانون: مَضَــــــارِیْبُ کاقانون
فـــارســـی: ہر الف کہ حرکت ماقبلش مخالفش شود ، آن رابوقف حرکت مقبل بحرف علت بدل کنند وجوبًا۔
خــلاصـــہ: اس قانون کاخلاصہ یہ ہے۔ کہ ہر وہ الف کو ماقبل حرکت کےموافق حرف علت سے تبدیل کرناواجب ہے۔جیســـے: مِضْرَابٌ سے مَضَارِیْبُ ، ضَارَبَ سے ضُوْرِبَ۔
٢٠) قانون: الف مقصورہ اور اکف ممدودہ کاقانون
اس قانون سےپہلےچند باتوں کا جانناضروری ہے۔
پہلــی بات: الف مقصورہ کی دو قسمیں ہیں:(١)اصلــی (٢)غیـــــراصلــــی
(١)اصلــی: الف مقصورہ وہ ہے۔جو لام کلمےکےمقابلے میں ہوں۔اور واو یا یا ٕ سے مبدل نہ ہو۔جیسے: اِلٰی
(٢)غیـــــراصلــــی: الف مقصورہ غیر اصلی وہ ہے۔جو واو یا یا ٕ سے مبدل ہو۔جیسے: عَصٰی اصل میں عَصَوٌ تھا۔ اور رَحٰی اصل میں رَحَیٌ تھا۔
دوســــــری بات: الف ممدودہ کی چار قسمیں ہیں:(١)اصلـــــی (٢)غیــــــراصلـــی (٣)تانیثــــــی (٤)الــــــــحاقـــی
(١)اصلـــــی: الف ممدودہ اصلی وہ ہے۔جولام کلمےکےمقابلےمیں ہو۔اور واو یا یا ٕ سے مبدل نہ ہو۔جیسے: قُرَّآ ٌٕ (٢)غیــــــراصلـــی: الف ممدودہ غیراصلی وہ ہے۔جو واو یا یا ٕ سے مبدل ہو۔جیسے: رِدَآ ٌٕ اصل میں رِدَایٌ اور کِسَآ ٌٕ اصل میں کِسَاوٌ تھا۔ (٣)تانیثــــــی: الف ممدودہ تانیثی وہ ہے۔جولام کلمےکےمقابلےمیں نہ ہو۔اور تانیث کیلۓ لایاگیاہو۔جیسے: حَمْرَآ ُٕ بروزن فَعْلَآ ُٕ ۔ (٤)الــــــــحاقـــی: الف ممدودہ الحاقی و

Want your school to be the top-listed School/college in Hyderabad?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address


Hyderabad