20/06/2026
*شہادتِ امام حسینؓ رضی اللہ عنہ*
*"سید الشہداء، نواسہِ رسول ﷺ"*
10 محرم، 61 ہجری۔ کربلا کا میدان۔
ایک طرف یزید کا لشکر، تلواریں، نیزے، پانی بند۔
دوسری طرف حسین ابن علیؓ۔ تنہا۔ پیاسے۔ مگر سر اٹھا کر کھڑے۔
ام حسینؓ نے بیعت نہیں کی۔ کیوں؟
کیونکہ وہ جانتے تھے:
اگر آج وہ جھک گئے تو کل امت جھک جائے گی
انہوں نے اپنی جان دے دی، پر دین کی جان بچا لی۔
6 ماہ کے علی اصغرؓ کو نیزے پر اٹھایا، بھائی عباسؓ کے بازو کٹ گئے،
خود زخموں سے چور ہو کر بھی فرمایا: "الٰہی! تو گواہ رہنا"
کربلا ہمیں چیخ کر بتا رہی ہے:
حق کے لیے آواز اٹھانا عبادت ہے۔
ظلم پر خاموش رہنا گناہ ہے۔
اور اصولوں پر جان قربان کر دینا... یہی حسینیت ہے۔
ام حسینؓ نے ہمیں مرنا سکھایا، جینے کا سلیقہ سکھایا۔
انہوں نے ہمیں سجدہ کرنا سکھایا، سر جھکانا نہیں۔
السلام علیک یا ابا عبداللہ الحسینؓ
السلام علیک یا شہیدِ کربلا
"ہر زمین کربلا، ہر دن عاشورہ"
یعنی ہر لمحہ ہمارا امتحان ہے کہ ہم کس کے ساتھ کھڑے ہیں... حق کے یا باطل کے۔
یا اللہ! ہمیں حسینؓ والا ایمان، حسینؓ والا صبر، اور حسینؓ والی غیرت عطا فرما۔ آمین۔
* #کربلا *