Shaheen Public School Pathar Garh

Shaheen Public School Pathar Garh

Share

We are providing the quality education according to the Islamic standards...!

11/08/2024

محترم والدین....السلام علیکم..!
کل 12 اگست 2024 بروز سوموار سے سکول آنا ہے.
اوقات تدریس 07:15 a.m
سےدن01:15 p.m ہیں.
بروز جمعہ چھٹی دن00 :12بجے ہو گی.
پلے گروپ اور نرسری کلاس کی چھٹی دن 12:00 بجے ہو گی... شکریہ

11/08/2024

پنجاب کے شہر گوجرانوالہ میں ایک حکیم صاحب ہوا کرتے تھے، جن کا مطب ایک پرانی سی عمارت میں ہوتا تھا۔ حکیم صاحب روزانہ صبح مطب جانے سے قبل بیوی کو کہتے کہ جو کچھ آج کے دن کے لیے تم کو درکار ہے ایک چٹ پر لکھ کر دے دو۔ بیوی لکھ کر دے دیتی۔ آپ دکان پر آ کر سب سے پہلے وہ چٹ کھولتے۔ بیوی نے جو چیزیں لکھی ہوتیں۔ اُن کے سامنے اُن چیزوں کی قیمت درج کرتے، پھر اُن کا ٹوٹل کرتے۔ پھر اللہ سے دعا کرتے کہ یااللہ! میں صرف تیرے ہی حکم کی تعمیل میں تیری عبادت چھوڑ کر یہاں دنیا داری کے چکروں میں آ بیٹھا ہوں۔ جوں ہی تو میری آج کی مطلوبہ رقم کا بندوبست کر دے گا۔ میں اُسی وقت یہاں سے اُٹھ جائوں گا اور پھر یہی ہوتا۔ کبھی صبح کے ساڑھے نو، کبھی دس بجے حکیم صاحب مریضوں سے فارغ ہو کر واپس اپنے گائوں چلے جاتے۔
ایک دن حکیم صاحب نے دکان کھولی۔ رقم کا حساب لگانے کے لیے چِٹ کھولی تو وہ چِٹ کو دیکھتے کے دیکھتے ہی رہ گئے۔ ایک مرتبہ تو ان کا دماغ گھوم گیا۔ اُن کو اپنی آنکھوں کے سامنے تارے چمکتے ہوئے نظر آ رہے تھے لیکن جلد ہی انھوں نے اپنے اعصاب پر قابو پا لیا۔ آٹے دال وغیرہ کے بعد بیگم نے لکھا تھا، بیٹی کے جہیز کا سامان۔ کچھ دیر سوچتے رہے پھشکر۔‘‘ چیزوں کی قیمت لکھنے کے بعد جہیز کے سامنے لکھا ’’یہ اللہ کا کام ہے اللہ جانے۔‘‘
ایک دو مریض آئے ہوئے تھے۔ اُن کو حکیم صاحب دوائی دے رہے تھے۔ اسی دوران ایک بڑی سی کار اُن کے مطب کے سامنے آ کر رکی۔ حکیم صاحب نے کار یا صاحبِ کار کو کوئی خاص توجہ نہ دی کیونکہ کئی کاروں والے ان کے پاس آتے رہتے تھے۔
دونوں مریض دوائی لے کر چلے گئے۔ وہ سوٹڈبوٹڈ صاحب کار سے باہر نکلے اور سلام کرکے بنچ پر بیٹھ گئے۔ حکیم صاحب نے کہا کہ اگر آپ نے اپنے لیے دوائی لینی ہے تو ادھر سٹول پر آجائیں تاکہ میں آپ کی نبض دیکھ لوں اور اگر کسی مریض کی دوائی لے کر جانی ہے تو بیماری کی کیفیت بیان کریں۔
وہ صاحب کہنے لگے حکیم صاحب میرا خیال ہے آپ نے مجھے پہچانا نہیں۔ لیکن آپ مجھے پہچان بھی کیسے سکتے ہیں؟ کیونکہ میں ۱۵، ۱۶ سال بعد آپ کے مطب میں داخل ہوا ہوں۔ آپ کو گزشتہ ملاقات کا احوال سناتا ہوں پھر آپ کو ساری بات یاد آجائے گی۔ جب میں پہلی مرتبہ یہاں آیا تھا تو وہ میں خود نہیں آیا تھا۔ خدا مجھے آپ کے پاس لے آیا تھا کیونکہ خدا کو مجھ پر رحم آگیا تھا اور وہ میرا گھر آباد کرنا چاہتا تھا۔ ہوا اس طرح تھا کہ میں لاہور سے میرپور اپنی کار میں اپنے آبائی گھر جا رہا تھا۔ عین آپ کی دکان کے سامنے ہماری کار پنکچر ہو گئی۔
ڈرائیور کار کا پہیہ اتار کر پنکچر لگوانے چلا گیا۔ آپ نے دیکھا کہ میں گرمی میں کار کے پاس کھڑا ہوں۔ آپ میرے پاس آئے اور آپ نے مطب کی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ ادھر آ کر کرسی پر بیٹھ جائیں۔ اندھا کیا چاہے دو آنکھیں۔ میں نے آپ کا شکریہ ادا کیا اور کرسی پر آ کر بیٹھ گیا۔
ڈرائیور نے کچھ زیادہ ہی دیر لگا دی تھی۔ ایک چھوٹی سی بچی بھی یہاں آپ کی میز کے پاس کھڑی تھی اور بار بار کہہ رہی تھی ’’چلیں ناں، مجھے بھوک لگی ہے۔ آپ اُسے کہہ رہے تھے بیٹی تھوڑا صبر کرو ابھی چلتے ہیں۔
میں نے یہ سوچ کر کہ اتنی دیر سے آپ کے پاس بیٹھا ہوں۔ مجھے کوئی دوائی آپ سے خریدنی چاہیے تاکہ آپ میرے بیٹھنے کو زیادہ محسوس نہ کریں۔ میں نے کہا حکیم صاحب میں ۵،۶ سال سے انگلینڈ میں ہوتا ہوں۔ انگلینڈ جانے سے قبل میری شادی ہو گئی تھی لیکن ابھی تک اولاد کی نعمت سے محروم ہوں۔ یہاں بھی بہت علاج کیا اور وہاں انگلینڈ میں بھی لیکن ابھی قسمت میں مایوسی کے سوا اور کچھ نہیں دیکھا۔
آپ نے کہا میرے بھائی! توبہ استغفار پڑھو۔ خدارا اپنے خدا سے مایوس نہ ہو۔ یاد رکھو! اُس کے خزانے میں کسی شے کی کمی نہیں۔ اولاد، مال و اسباب اور غمی خوشی، زندگی موت ہر چیز اُسی کے ہاتھ میں ہے۔ کسی حکیم یا ڈاکٹر کے ہاتھ میں شفا نہیں ہوتی اور نہ ہی کسی دوا میں شفا ہوتی ہے۔ شفا اگر ہونی ہے تو اللہ کے حکم سے ہونی ہے۔ اولاد دینی ہے تو اُسی نے دینی ہے۔
مجھے یاد ہے آپ باتیں کرتے جا رہے اور ساتھ ساتھ پڑیاں بنا رہے تھے۔ تمام دوائیاں آپ نے ۲ حصوں میں تقسیم کر کے ۲ لفافوں میں ڈالیں۔ پھر مجھ سے پوچھا کہ آپ کا نام کیا ہے؟ میں نے بتایا کہ میرا نام محمد علی ہے۔ آپ نے ایک لفافہ پر محمدعلی اور دوسرے پر بیگم محمدعلی لکھا۔ پھر دونوں لفافے ایک بڑے لفافہ میں ڈال کر دوائی استعمال کرنے کا طریقہ بتایا۔ میں نے بے دلی سے دوائی لے لی کیونکہ میں تو صرف کچھ رقم آپ کو دینا چاہتا تھا۔ لیکن جب دوائی لینے کے بعد میں نے پوچھا کتنے پیسے؟ آپ نے کہا بس ٹھیک ہے۔ میں نے زیادہ زور ڈالا، تو آپ نے کہا کہ آج کا کھاتہ بند ہو گیا ہے۔
میں نے کہا مجھے آپ کی بات سمجھ نہیں آئی۔ اسی دوران وہاں ایک اور آدمی آچکا تھا۔ اُس نے مجھے بتایا کہ کھاتہ بند ہونے کا مطلب یہ ہے کہ آج کے گھریلو اخراجات کے لیے جتنی رقم حکیم صاحب نے اللہ سے مانگی تھی وہ اللہ نے دے دی ہے۔ مزید رقم وہ نہیں لے سکتے۔ میں کچھ حیران ہوا اور کچھ دل میں شرمندہ ہوا کہ میرے کتنے گھٹیا خیالات تھے اور یہ سادہ سا حکیم کتنا عظیم انسان ہے۔ میں نے جب گھر جا کربیوی کو دوائیاں دکھائیں اور ساری بات بتائی تو بے اختیار اُس کے منہ سے نکلا وہ انسان نہیں کوئی فرشتہ ہے اور اُس کی دی ہوئی ادویات ہمارے من کی مراد پوری کرنے کا باعث بنیں گی۔ حکیم صاحب آج میرے گھر میں تین پھول اپنی بہار دکھا رہے ہیں۔
ہم میاں بیوی ہر وقت آپ کے لیے دعائیں کرتے رہتے ہیں۔ جب بھی پاکستان چھٹی آیا۔ کار اِدھر روکی لیکن دکان کو بند پایا۔ میں کل دوپہر بھی آیا تھا۔ آپ کا مطب بند تھا۔ ایک آدمی پاس ہی کھڑا ہوا تھا۔ اُس نے کہا کہ اگر آپ کو حکیم صاحب سے ملنا ہے تو آپ صبح ۹ بجے لازماً پہنچ جائیں ورنہ اُن کے ملنے کی کوئی گارنٹی نہیں۔ اس لیے آج میں سویرے سویرے آپ کے پاس آگیا ہوں۔
محمدعلی نے کہا کہ جب ۱۵ سال قبل میں نے یہاں آپ کے مطب میں آپ کی چھوٹی سی بیٹی دیکھی تھی تو میں نے بتایا تھا کہ اس کو دیکھ کر مجھے اپنی بھانجی یاد آرہی ہے۔
حکیم صاحب ہمارا سارا خاندان انگلینڈ سیٹل ہو چکا ہے۔ صرف ہماری ایک بیوہ بہن اپنی بیٹی کے ساتھ پاکستان میں رہتی ہے۔ ہماری بھانجی کی شادی اس ماہ کی ۲۱ تاریخ کو ہونا تھی۔ اس بھانجی کی شادی کا سارا خرچ میں نے اپنے ذمہ لیا تھا۔ ۱۰ دن قبل اسی کار میں اسے میں نے لاہور اپنے رشتہ داروں کے پاس بھیجا کہ شادی کے لیے اپنی مرضی کی جو چیز چاہے خرید لے۔ اسے لاہور جاتے ہی بخار ہوگیا لیکن اس نے کسی کو نہ بتایا۔ بخار کی گولیاں ڈسپرین وغیرہ کھاتی اور بازاروں میں پھرتی رہی۔ بازار میں پھرتے پھرتے اچانک بے ہوش ہو کر گری۔ وہاں سے اسے ہسپتال لے گئے۔ وہاں جا کر معلوم ہوا کہ اس کو ۱۰۶ ڈگری بخار ہے اور یہ گردن توڑ بخار ہے۔ وہ بے ہوشی کے عالم ہی میں اس جہانِ فانی سے کوچ کر گئی۔
اُس کے فوت ہوتے ہی نجانے کیوں مجھے اور میری بیوی کو آپ کی بیٹی کا خیال آیا۔ ہم میاں بیوی نے اور ہماری تمام فیملی نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم اپنی بھانجی کا تمام جہیز کا سامان آپ کے ہاں پہنچا دیں گے۔ شادی جلد ہو تو اس کا بندوبست خود کریں گے اور اگر ابھی کچھ دیر ہے تو تمام اخراجات کے لیے رقم آپ کو نقد پہنچا دیں گے۔ آپ نے ناں نہیں کرنی۔ آپ اپنا گھر دکھا دیں تاکہ سامان کا ٹرک وہاں پہنچایا جا سکے۔
حکیم صاحب حیران و پریشان یوں گویا ہوئے ’’محمدعلی صاحب آپ جو کچھ کہہ رہے ہیں مجھے سمجھ نہیں آرہا، میرا اتنا دماغ نہیں ہے۔ میں نے تو آج صبح جب بیوی کے ہاتھ کی لکھی ہوئی چِٹ یہاں آ کر کھول کر دیکھی تو مرچ مسالہ کے بعد جب میں نے یہ الفاظ پڑھے ’’بیٹی کے جہیز کا سامان‘‘ تو آپ کو معلوم ہے میں نے کیا لکھا۔ آپ خود یہ چِٹ ذرا دیکھیں۔ محمدعلی صاحب یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ ’’بیٹی کے جہیز‘‘ کے سامنے لکھا ہوا تھا ’’یہ کام اللہ کا ہے، اللہ جانے۔‘‘
محمد علی صاحب یقین کریں، آج تک کبھی ایسا نہیں ہوا تھا کہ بیوی نے چِٹ پر چیز لکھی ہو اور مولا نے اُس کا اسی دن بندوبست نہ کردیا ہو۔ واہ مولا واہ۔ تو عظیم ہے تو کریم ہے۔ آپ کی بھانجی کی وفات کا صدمہ ہے لیکن اُس کی قدرت پر حیران ہوں کہ وہ کس طرح اپنے معجزے دکھاتا ہے۔
حکیم صاحب نے کہا جب سے ہوش سنبھالا ایک ہی سبق پڑھا کہ صبح ورد کرنا ہے ’’رازق، رازق، تو ہی رازق‘‘ اور شام کو ’’شکر، شکر مولا تیرا شکر...
اگر آپکو یہ تحریر اچهی لگے تو اس کو اپنی خوبصورت وال پہ جگہ ضرور دے.
ایک شیئر پہ آپ کے دو تین سیکنڈ لگیں گے

12/03/2024

*زکوٰۃ کے متعلق انتہائی اہم معلومات آور ہر طبقے مثلا عام لوگ، تاجر، زمیندار اور جانور پالنے والوں کے لئے*
‎*خدارا خود بھی پڑھیں اور دوسروں تک پہنچانے کا فرض ادا کریں۔ جزاک الله۔*
ایک لاکھ پر -/2500
دو لاکھ پر -/5000
تین لاکھ پر -/7500
چار لاکھ پر -/10000
پانچ لاکھ پر-/12500
چھ لاکھ پر -/15000
سات لاکھ پر-/17500
آٹھ لاکھ پر-/20000
نو لاکھ پر-/22500
دس لاکھ پر-/25000
بیس لاکھ پر-/50000
تیس لاکھ پر-/75000
چالیس لاکھ پر-/100000
پچاس لاکھ پر-/125000
ایک کروڑ پر-/250000
دو کروڑ پر-/500000
‎ہم زکوٰۃ کیسےادا کریں؟
‎اکثرمسلمان رمضان المبارک میں زکاة ادا کرتے ہیں اس لیے‎الله کی توفیق سےیہ تحریر پڑھنےکےبعدآپ اس قابل ہوجائیں گےکہ آپ جان سکیں
‎🔹سونا چاندی
‎🔸زمین کی پیداوار
‎🔹مال تجارت
‎🔸جانور
‎🔹پلاٹ
‎🔸کرایہ پر دیےگئے مکان
‎🔹گاڑیوں اوردکان وغیرہ کی زکاۃ کیسے اداکی جاتی ہے۔

1۔زکوٰۃکا انکار کرنے والاکافر ہے۔(حم السجدۃآیت نمبر 6-7)
‎2۔زکوٰۃادا نہ کرنے والے کو قیامت کے دن سخت عذاب دیا جائےگا۔(التوبہ34-35)
3۔زکوٰۃ ادا نہ کرنے والی قوم قحط سالی کاشکار ہوجاتی ہیں۔(طبرانی)
4۔زکوٰة كامنکر‎جوزکوٰةادانہیں کرتااسکی نماز،روزہ،حج سب بیکار ہیں۔
‎5 ۔زکوٰۃاداکرنے والےقیامت کےدن ہر قسم کےغم اورخوف سےمحفوظ ہونگے
(البقرہ 277)
‎6۔زکوٰۃ کی ادائیگی گناہوں کا کفارہ اور درجات کی بلندی کا بہت بڑاذریعہ ہے(التوبہ103)
‎🔴زکوٰۃکا حکم🔴
‎🔹ہر مال دارمسلمان مرد ہو یاعورت پر زکوٰۃ واجب ہے۔خواہ وہ بالغ ہو یا نابالغ ،عاقل ہویا غیر عاقل بشرط یہ کہ وہ صاحب نصاب ہو۔
‎🔘نوٹ۔سود،رشوت،چوری ڈکیتی،اور دیگرحرام ذرائع سےکمایا ہوا مال ان سےزکوٰۃ دینے کابالکل فائدہ نہیں ہوگا۔
‎✔صرف حلال کمائی سے دی گئی زکوٰۃ قابل قبول ہے۔
‎☑زکوٰۃ کتنی چیزوں پر ہے
‎زکوٰۃ چار چیزوں پر فرض ہے ۔
‎🔹1۔سونا چاندی
‎🔸2۔زمین کی پیداوار
‎🔹3۔مال تجارت
‎🔸4۔جانور۔
‎⬅سونے کی زکوٰۃ➡
87گرام یعنی ساڑھےسات تولے سونا پر زکوٰۃ واجب ہے
‎(ابن ماجہ1/1448)
‎🔴نوٹ۔سونا محفوظ جگہ ہو یا استعمال میں ہر ایک پرزکوٰۃ واجب ہے۔(سنن ابودائود کتاب الزکوٰۃ اوردیکھئے حاکم جز اول صفحہ 390 ۔
‎فتح الباری جز چار صفحہ 13
‎⬅چاندی کی زکوٰۃ➡
612گرام یعنی ساڑھےباون تولے چاندی پر زکوٰۃواجب ہے اس سے کم وزن پر نہیں۔(ابن ماجہ)
‎✅زکوٰۃ کی شرح❗
‎زکوٰۃ کی شرح بلحاظ قیمت یا بلحاظ وزن اڑھائی فیصد ہے۔(صحیح بخاری کتاب الزکاۃ)
‎✅زمین کی پیدا وار پر زکوٰۃ
‎مصنوعی ذرائع سے سیراب ہونے والی زمین کی پیدا وارپر عشر بیسواں حصہ دینا ہوگا ورنہ ہے۔قدرتی ذرائع سے سیراب ہونے والی پیداوار پر شرح زکوٰۃ دسواں حصہ ہے دیکھئے(صحیح بخاری کتاب الزکوٰۃ)
‎🔴نوٹ:زرعی زمین والےافراد گندم،مکی،چاول،باجرہ،آلو،
سورجمکھی،کپاس،گنااوردیگر قسم کی پیداوار سے زکوٰۃ یعنی (عشر )بیسواں حصہ ہرپیداوار سےنکالیں۔
‎(صحیح بخاری کتاب الزکاۃ)
‎⬅اونٹوں کی زکوٰۃ➡
‎💠پانچ اونٹوں کی زکوٰۃ ایک بکری اور دس اونٹوں کی زکاۃ دو بکریاں ہیں۔پانچ سے کم اونٹوں پر زکوٰۃ واجب نہیں۔(صحیح بخاری کتاب الزکوٰۃ)
‎⬅بھینسوں اورگائیوں کی زکوٰۃ➡
💠30گائیوں پر ایک بکری زکوٰۃہے۔
40گائیوں پردوسال سے بڑا بچھڑا زکوٰۃ دیں۔(ترمذی1/509)
‎✅بھینسوں کی زکوٰۃکی شرح بھی گائیوں کی طرح ہے۔
‎⬅بھیڑبکریوں کی زکوٰۃ➡
40سے ایک سو بیس بھیڑ بکریوں پر ایک بکری زکوٰۃہے
120سےلےکر200تک دو بکریاں زکوٰۃ۔
‎(صحیح بخاری کتاب الزکاۃ)
‎⛔چالیس بکریوں سے کم پرزکوٰۃ نہیں۔
‎✅کرایہ پر دیئے گئےمکان پر زکوٰۃ❗
‎💠کرایہ پردیئے گئے مکان پر زکوٰۃنہیں لیکن اگراسکاکرایہ سال بھر جمع ہوتا رہے جو نصاب تک پہنچ جائے اور اس پر سال بھی گزر جائے تو پھر اس کرائے پر زکوٰۃ واجب ہے۔اگر کرایہ سال پورا ہونے سے پہلے خرچ ہو جائے توپھر زکوٰۃ نہیں۔شرح زکوٰۃ اڑھائی فیصد ہوگی۔
‎✅گاڑیوں پر زکوٰۃ
‎💠کرایہ پر چلنےوالی گاڑیوں پر زکوٰۃ نہیں بلکہ اسکے کرایہ پر ہےوہ بھی اس شرط کے ساتھ کہ کرایہ سال بھر جمع ہوتا رہے اور نصاب تک پہنچ جائے۔
‎⛔نوٹ:
‎گھریلو استعمال والی گاڑیوں، جانوروں،حفاظتی ہتھیار۔مکان وغیرہ پر زکوٰۃ نہیں (صحیح بخاری)
‎✅سامان تجارت پر زکوٰۃ
‎💠دکان کسی بھی قسم کی ہو اسکےسامان تجارت پر زکوٰۃدینا واجب ہے اس شرط کے ساتھ کہ وہ مال نصاب کو پہنچ جائے اوراس پرایک سال گزر جائے۔
‎⛔نوٹ:
‎دکان کےتمام مال کا حساب کر کے اسکا چالیسواں حصہ زکوٰۃ دیں یعنی ۔دکان کی اس آمدنی پرزکوٰۃنہیں جوساتھ ساتھ خرچ ہوتی رہے صرف اس آمدنی پر زکوٰۃ دینا ہوگی جوبنک وغیرہ میں پورا سال پڑی رہے اور وہ پیسے اتنے ہوکہ ان سے ساڑھےباون تولےچاندی خریدی جاسکے
‎✅پلاٹ یا زمین پر زکوٰۃ
‎💠جو پلاٹ منافع حاصل کرنے کے لیئے خریدا ہو اس پر زکوٰۃ ہوگی ذاتی استعمال کے لیئے خریدا گیا پلاٹ پر زکوٰۃ نہیں۔😊
‎(سنن ابی دائودکتاب الزکوٰۃ حدیث نمبر1562)
‎✅کس کس کو زکوٰۃ دی جا سکتی ہے۔
‎ماں باپ اور اولاد کےسوا سب زکوٰۃکےمستحق مسلمانوں کو زکوٰۃ دی جاسکتی ہے۔والدین اوراولادپراصل مال خرچ کریں زکوٰۃ نہیں۔
‎⛔نوٹ:
‎(ماں باپ میں دادا دادی ، نانا نانی اوراولادمیں پوتے پوتیاں نواسیاں نواسے بھی شامل ہیں۔( ابن باز)
‎✅زکوٰۃکےمستحق لوگ
‎🔸1۔مساکین(حاجت مند)
‎🔹2۔غریب
‎🔸3۔ زکاۃوصول کرنےوالے
‎🔹4۔مقروض
‎🔹5۔قیدی
‎🔸6۔ *مجاھدین*
‎🔹7.مسافر (سورۃالتوبہ60)
Q.1
‎ سوال: زکوة کے لغوی معنی بتائیے؟
‎جواب: پاکی اور بڑھو تری کے ہیں۔
Q2
‎سوال: زکوة کی شرعی تعریف کیجئے؟
‎جواب: مال مخصوص کا مخصوص شرائط کے ساتھ کسی مستحقِ زکوۃ کومالک بنانا۔
Q 3
‎سوال: کتناسونا ہوتو زکوۃ فرض ہوتی ہے؟
‎جواب: ساڑھے سات تولہ یا اس سے زیادہ ہو
Q4
‎سوال: کتنی چاندی ہوتو زکوۃ فرض ہوتی ہے؟
‎جواب: ساڑھے باون تولہ یا اس سے زیادہ ہو۔
Q5
‎سوال: کتنا روپیہ ہوتو زکوۃ فرض ہوتی ہے؟
‎جواب: اس کی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر ہو۔
Q6
‎سوال: کتنا مالِ تجارت ہوتو زکوۃ فرض ہوتی ہے؟
‎جواب: اس کی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر ہو۔
Q7
‎سوال: اگر کچھ سونا ہے، کچھ چاندی ہے، یا کچھ سونا ہے، کچھ نقد روپیہ ہے، یا کچھ چاندی ہے، کچھ مالِ تجارت ہے، ان کو ملاکر دیکھا جائےتو ساڑھے باون تولے چاندی کی
مالیت بنتی ہےاس صورت میں زکوٰۃ فرض ہے یا نہیں
جواب. فرض ہے

‎سوال: چرنے والے مویشیوں پر
بھی زکوٰة فرض ہےیانہیں؟
جواب. فرض ہے

‎سوال: عشری زمین کی پیداوار
پر بھی زکوٰة فرض ہےیانہیں ‎جواب: فرض

11/03/2024
10/09/2023

محترم والدین... السلام علیکم
سکول نئی عمارت میں شفٹ ہو چکاہے، لہذا 11ستمبر 2023 بروز سوموار سے بچوں نے سکول کے سامنے گلی میں نئ عمارت میں آنا ہوگا . شکریہ.
شاہین پبلک سکول

07/06/2023

محترم والدین... السلام علیکم
حکومت پنجاب کی ہدایات کے مطابق،06 جون 2023 بروز منگل سے 10 اگست 2023 تک سکول سے گرمیوں کی چھٹیاں ہیں - شکریہ.
شاہین پبلک سکول

20/04/2023

محترم والدین....السلام علیکم..!
عید کی چھٹیاں 21 اپریل 2023 بروز جمعہ سے 25 اپریل 2023 تک ہیں.
26 اپریل 2023 بروز بدھ کو سکول آنا ہے. شکریہ.

07/06/2022

محترم والدین... السلام علیکم
گرمی کی شدت کی وجہ سے، حکومت پنجاب کی ہدایات کے مطابق، 01 جون 2022 بروز بدھ سے 25 جولائی2022 تک سکول سے چھٹیاں ہیں - شکریہ
شاہین پبلک سکول

02/04/2022

School timing during the month of holy ramzan...
رمضان المبارک کے دوران سکول کے اوقات کار...!!

19/10/2021

19 اکتوبر 2021، 12 ربیع الاول بروز منگل، سکول سے چھٹی ہے. شکریہ

28/09/2021

Deworming week... 27-09-2021 to 02-10-2021

14/09/2021

السلام علیکم
16 ستمبر 2021 بروز جمعرات سے سکول دوبارہ کھل رہے ہیں۔ تمام بچے بروز جمعرات سکول میں اپنی حاضری یقینی بنائیں ۔
جمعرات والے تمام بچے ماسک پہن کر 15 :7 پر سکول پہنج آئیں۔
شاہین پبلک سکول

Want your school to be the top-listed School/college in Hassan Abdal?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address


Pathar Garh
Hassan Abdal

Opening Hours

Monday 08:00 - 14:00
Tuesday 08:00 - 14:00
Wednesday 08:00 - 14:00
Thursday 08:00 - 14:00
Friday 08:00 - 12:00
Saturday 08:00 - 14:00