14/01/2022
خلیفہ بلافصل سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ
کی سیرت کے درخشاں پہلو
حضرت صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کا تعارف
انبیاء کرام علیہم السلام کے بعد انسانوں میںسب سے افضل شخصیت حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ ہیں، جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا خلیل بنانا چاہتے تھے، جن کو قرآن کریم میں اللہ نے سچائی کی تائید کرنے والا اور حق و سچ کا پیکر و پرتو قرار دیا، جنہوںنے زمانۂ جاہلیت میں بھی شراب و جوا اور ہمہ جہتی منکرات سے اجتناب کیا ، جن کے بارے میں خلیفۂ عادل حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ: میں ان کے مقام و مرتبہ تک کبھی نہیں پہنچ سکتا، وہ جنہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کی امامت تفویض کی، جنہیں جنت کے سبھی دروازے سے داخل ہونے کی دعوت دیںگے، وہ جس نے اسلام اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم پر اس قدر احسان کیے کہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرمانا پڑا کہ: ان کے احسانات کا بدلہ خود اللہ تعالیٰ چکائیں گے، وہ جو صرف عشرہ مبشرہ میں ہی شامل نہیں، بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: تم میرے حوضِ کوثر پر بھی رفیق ہوگے جیسے سفرِ ہجرت میں میرے ساتھ تھے، وحی کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی گھبراہٹ کو زائل کرنے کے لیے اُم المومنین حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات بیان کی تھیں کہ: ’’اللہ تعالیٰ آپ کو کبھی نقصان نہیں پہنچنے دے گا، کیونکہ آپ ناداروں کی مدد کرتے ہیں، مہمان نوازی کرتے ہیں، حق بات پر لوگوں کا ساتھ دیتے ہیں، صلہ رحمی کو اختیار کرتے ہیں، کمزوروں کا بوجھ اُٹھاتے ہیں۔‘‘ بعینہٖ انہی صفات سے ابن دغنہ نے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو متصف کرکے فرمایا کہ: ’’مکہ والوں کی اذیت سے ہجرت نہ کریں، میں آپ کو امان دیتاہوں۔‘‘