Best seen for all
Aslam o alekum
In this page you will find relejious posts & videos
hope you like it
Thanks for you
Sakhawat Ka ek seen
Best seen for all
داعی یا قاضی
ایک مصلح سے کسی نوجوان نے پوچھا کہ صلوٰۃ ترک کردینے والے کے لئے کیا حکم ہے؟ اس نے جواب دیا "اس کا حکم یہ ہے کہ اسے اپنے ساتھ مسجد لے جاؤ"۔ یہ نوجون اس مصلح سے توقع کررہا تھا کہ وہ تارکِ صلوٰۃ کے بارے میں حدیث سنا کر کفر کا فتویٰ دیں گے، مگر اس نے اس کو اپنے جواب سے یہ بات سمجھائی کہ لوگوں کا فیصلہ کرنے والے "قاضی" بننے کے بجائے انھیں بھلائی کی طرف بلانے والے" داعی" بنو۔
حقیقت یہ ہے کہ ہمارا دین ایک دعوت ہے ،جو لوگوں کو دی جانی ہے۔ یہ ایک امانت ہے جو ہمیں لوگوں تک پہنچانی ہے۔ ایک داعی "مَا أَدْرِیْ مَا یُفْعَلُ بِیْ وَلَا بِکُمْ "[1] کی نفسیات میں جیتا ہے۔ وہ جانتاہے کہ قرآن کی تعلیم "عَلَیْکَ الْبَلاَغُ وَعَلَیْنَا الْحِسَابُ " [2] کی ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اللہ کے سوا کسی کو نہیں معلوم کہ کسی فردکا آخری انجام کیا ہوگا۔ چنانچہ وہ لوگوں کی آخرت کے فیصلے کرنے اور ان پر فتویٰ دینے کے بجائے ان تک صحیح بات پہنچانے اور انھیں دعوت دینے میں مصروف رہتا ہے۔
مگر بدقسمتی سے اس کے عین برعکس ہمارے مذہبی طبقے کے اکثر گروہ ایک مختلف نفسیات میں کھڑےہیں۔ ہم لوگ کسی نہ کسی فرقے یا گروہ سے وابستہ ہوتے ہیں۔ ہماری فکری اٹھان ہی یہ ہوتی ہے کہ ہم "فرقہ ناجیہ" ہیں اور باقی سب جہنمی۔ ہم حق پر ہیں اور باقی سب باطل ہیں۔جو ہم نے سمجھ لیا وہی حق اور سچ ہے اور باقی سب گمراہی ہے۔
اس فکرکے ساتھ لوگوں میں کبھی یہ دردمندی اور ذمہ داری پیدا نہیں ہو سکتی کہ انھوں نے اللہ کے بندوں کو اللہ کی جنت کی طرف بلانا ہے اوردینِ خالص کے حوالے سے لوگوں کی غلط فہمیاں دور کرنی ہیں۔ اس نفسیات کا انسان" داعی" نہیں رہتا، وہ "قاضی " بن جاتا ہے۔ وہ لوگوں کے کفر اور ان کی جہنم کے فیصلےان کے منہ پر اور ہر محفل میں ببانگِ دُہل سناتا ہے اور اس عمل کو اپنا اعزاز سمجھتا ہے۔ وہ یہ بھول جاتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ابوجہل جیسے دشمنِ اسلام کو بھی اس کی موت کے بعد اسے برابھلا کہنے سے منع کیا، تاکہ اس کے گھروالوں کی دل آزاری نہ ہو۔[3] حالانکہ یہ وہ شخص تھا جس کے کفر اور جہنم کا فیصلہ اللہ تعالیٰ خود فرماچکا تھا۔
ایسے لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ لوگوں کے کفر اور ان کی جہنم کے فیصلے سنا کر اسلام کی خدمت کررہے ہیں۔ حالانکہ ان کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ یہ صرف اور صرف اللہ کا حق ہے کہ وہ کسی فرد کی آخرت کا فیصلہ کردے۔ نبی ﷺ نے تو عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی وفات پر ایک صحابیہ امِ علاء رضی اللہ عنہاکو ڈانٹ دیا تھا ، جب انہوں نےپورے وثوق کے ساتھ کہہ دیا تھا کہ "میں گواہی دیتی ہوں کہ اللہ نےان کوعزت دی ہے"۔[4] لہذا ہم نہ کسی فرد کی جنت کا فیصلہ سناسکتے ہیں نہ اس کے جہنمی ہونے کا اعلان کرسکتے ہیں۔ ہمارا منفی پہلو سے کوئی کام ہوسکتا ہے تو وہ یہ کہ کسی کا نام لیے بغیر کسی غلط نظریے کی غلطی کو دلائل اور شائستگی کے ساتھ واضح کردیں۔
اس سے کہیں بڑھ کر کوئی کرنے کا کام ہے تو وہ یہ کہ ایمان اور اسلام کی دعوت درست طریقے سے پیش کی جائے۔ لوگوں کے سوالات کے جواب دیے جائیں۔ جولوگ دینِ حق کی تعلیمات کے خلاف زندگی گذار رہے ہیں، ان پر فتوے لگانے اور ان کو برا بھلا کہنے کے بجائے ان کا اصل مدعا اور اعتراض سمجھنے کی کوشش کریں اور مدلل طریقے سے اس کا جواب دیں۔ اگر کسی معاملے میں واضح ہوجائے کہ غلطی ہمارے ہی فہم دین میں ہے تو اپنے تعصب کا اسیر ہونے کے بجائے غلطی کو تسلیم کریں اور اس صاحب کی رائے کو سنیں جس کی بات قرآن و سنت سے زیادہ قریب ہے۔اس دورمیں یہی وہ ناصحانہ مزاج ہے جس کی کسی داعی کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔یہ مزاج جس روز مومنین میں پیدا ہوگیا، اسلام پوری دنیا میں پھیل جائے گا کیونکہ آج کا انسان ہمیشہ سے بڑھ کر سچائی کی تلاش میں بھٹک رہا ہے۔
----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
حوالہ جات و حاشیہ جات:
1۔ میں نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا اور تمہارے ساتھ کیا کیا جائے گا۔(الاحقاف:9)
2۔ تمہارے ذمے پہنچانا ہے اور حساب لینا ہمارا کام ہے۔(الرعد:40)
3۔ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ: «يَأْتِيَكُمْ عِكْرِمَةُ بْنُ أَبِي جَهْلٍ مُؤْمِنًا مُهَاجِرًا، فَلَا تَسُبُّوا أَبَاهُ، فَإِنَّ سَبَّ الْمَيِّتِ يُؤْذِي الْحَيَّ، وَلَا يَبْلُغُ الْمَيِّتَ» (المستدرك على الصحيحين، رقم الحدیث 5055) ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے اپنے صحابہ سے فرمایا: تمہارے پاس عکرمہ بن ابو جہل ہجرت کرکے آرہا ہے، چنانچہ تم اس کے باپ کو گالی نہ دینا ، کیونکہ گالی مرنے والے تک تو پہنچتی نہیں، مگر مردے کو گالی دینے سے زندے کو اذیت ضرور پہنچتی ہے۔
4۔ أَنَّ أُمَّ الْعَلَاءِ امْرَأَةً مِنَ الْأَنْصَارِ بَايَعَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ : أَنَّهُ اقْتُسِمَ الْمُهَاجِرُونَ قُرْعَةً ، فَطَارَ لَنَا عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ ، فَأَنْزَلْنَاهُ فِي أَبْيَاتِنَا ، فَوَجِعَ وَجَعَهُ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ ، فَلَمَّا تُوُفِّيَ وَغُسِّلَ وَكُفِّنَ فِي أَثْوَابِهِ ، دَخَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: رَحْمَةُ اللهِ عَلَيْكَ أَبَا السَّائِبِ ، فَشَهَادَتِي عَلَيْكَ: لَقَدْ أَكْرَمَكَ اللهُ. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَمَا يُدْرِيكِ أَنَّ اللهَ أَكْرَمَهُ؟ . فَقُلْتُ: بِأَبِي أَنْتَ يَا رَسُولَ اللهِ ، فَمَنْ يُكْرِمُهُ اللهُ؟ فَقَالَ: أَمَّا هُوَ فَقَدْ جَاءَهُ الْيَقِينُ ، وَاللهِ إِنِّي لَأَرْجُو لَهُ الْخَيْرَ ، وَاللهِ مَا أَدْرِي ، وَأَنَا رَسُولُ اللهِ ، مَا يُفْعَلُ بِي". قَالَتْ: فَوَاللهِ لَا أُزَكِّي أَحَدًا بَعْدَهُ أَبَدًا (صحيح البخاري ، كتاب الجنائز ، باب الدخول على الميت بعد الموت، رقم الحدیث:1243) ۔ ترجمہ: انصار کی ایک عورت ام علاء رضی اللہ عنہابیان کرتی ہیں ،جنہوں نے نبی ﷺسے بیعت کی تھی۔ وہ کہتی ہیں کہ مہاجرین نے انصار کی تقسیم کا قرعہ ڈالا، ہمارے حصے میں عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ آئے، ہم نے ان کو اپنے گھر میں اتارا ، وہ بیمار ہوگئے جس سے انہوں نےوفات پائی۔ جب وہ نہلا کر کفن پہنائے گئے تو رسول اللہ ﷺتشریف لائے۔میں نے کہا :اے ابوالسائب؛ تم پر اللہ کی رحمت ہو، تمہارے متعلق میری شہادت ہے کہ اللہ نے تم کو عزت دی ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا : تمہیں کیسے معلوم ہوا کہ اللہ نے اس کو عزت دے دی ہے ؟ میں نے کہا: یا رسول اللہ ﷺ میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، پھر کون ہے جس کو اللہ معزز بنائے گا؟ آپ نے فرمایا :ان پر موت آئی ہے، اللہ کی قسم ؛میں بھی اس کے لیے خیر کا امیدوار ہوں مگر اللہ کی قسم؛ میں یقین کے ساتھ نہیں جانتا ہوں کہ میرے ساتھ کیا کِیا جائے گا حالانکہ میں اللہ کا رسول ہوں ۔ ام علاء رضی اللہ عنہانے کہا: اللہ کی قسم؛ میں نے اس کے بعد کسی کے متعلق کبھی بھی پاک ہونے کی شہادت نہیں دی۔
Dil hey chita sa chhoti c asha
Zeaarat masjid e Aqsa jadded and qadeem
Tilawat e Quran Pak
....................جھنم کی آگ استغفرالللہ...................
ایک بار جب جبرائیل علیہ سلام نبی کریم کے پاس آے تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ جبرایل کچھ پریشان ہے آپ نے فرمایا جبرائیل کیا معاملہ ہے کہ آج میں آپکو غمزدہ دیکھ رہا ہو ں جبرائیل نے عرض کی اے محبوب کل جہاں آج میں اللہ پاک کے حکم سے جہنم کا نظارہ کرکہ آیا ہوں اسکو دیکھنے سے مجھ پہ غم کے آثار نمودار ہوے ہیں نبی کریم نے فرمایا جبرائیل مجھے بھی جہنم کے حالات بتاو جبرائیل نے عرض کی جہنم کے کل سات درجے ہیں
ان میں جو سب سے نیچے والا درجہ ہے اللہ اس میں منافقوں کو رکھے گا
اس سے اوپر والے چھٹے درجے میں اللہ تعالی مشرک لوگوں کو ڈلیں گے
اس سے اوپر پانچویں درجے میں اللہ سورج اور چاند کی پرستش کرنے والوں کو ڈالیں گے
چوتھے درجے میں اللہ پاک آتش پرست لوگوں کو ڈالیں گے
تیسرے درجے میں اللہ پاک یہود کو ڈالیں گے
دوسرے درجے میں اللہ تعالی عسائیوں کو ڈالیں گئ
یہ کہہ کر جبرائیل علیہ سلام خاموش ہوگئے تو نبی کریم نے پوچھا
جبرائیل آپ خاموش کیوں ہوگئے مجھے بتاو کہ پہلے درجے میں کون ہوگا
جبرائیل علیہ سلام نے عرض کیا
یا اللہ کے رسول پہلے درجے میں اللہ پاک آپکے امت کے گنہگاروں کو ڈالے گے
جب نبی کریم نے یہ سنا کہ میری امت کو بھی جہنم میں ڈالا جاے گا تو آپ بے حد غمگین ہوے اور آپ نے اللہ کے حضور دعائیں کرنا شروع کی تین دن ایسے گزرے کہ اللہ کے محبوب مسجد میں نماز پڑھنے کے لیے تشریف لاتے نماز پڑھ کر حجرے میں تشریف لے جاتے اور دروازہ بند کرکہ اللہ کے حضور رو رو کر فریاد کرتے صحابہ حیران تھے کہ نبی کریم پہ یہ کیسی کیفیت طاری ہوئی ہے مسجد سے حجرے جاتے ہیں
گھر بھی تشریف لیکر نہیں جا رہے۔ جب تیسرا دن ہوا تو سیدنا ابو بکر سے رہا نہیں گیا وہ دروازے پہ آے دستک دی اور سلام کیا لیکن سلام کا جواب نہیں آیا ۔ آپ روتے ہوے سیدنا عمر کے پاس آے اور فرمایا کہ میں نے سلام کیا لیکن سلام کا جواب نہ پایا لہذا آپ جائیں آپ کو ہوسکتا ہے سلام کا جواب مل جاے آپ گئے تو آپ نے تین بار سلام کیا لیکن جواب نہ آیا حضرت عمر نے سلمان فارسی کو بھیجا لیکن پھر بھی سلام کا جواب نہ آیا حضرت سلمان فارسی نے واقعے کا تذکرہ علی رضی اللہ تعالی سے کیا انہوں نے سوچا کہ جب اتنے اعظیم شحصیات کو سلام کا جواب نہ ملا تو مجھے بھی خود نھی جانا نھی چاھیئے
بلکہ مجھے انکی نور نظر بیٹی فاطمہ اندر بھیجنی چاھیئے۔ لہذا آپ نے فاطمہ رضی اللہ تعالی کو سب احوال بتا دیا آپ حجرے کے دروازے پہ آئی
" ابا جان اسلام وعلیکم"
بیٹی کی آواز سن کر محبوب کائینات اٹھے دروازہ کھولا اور سلام کا جواب دیا
ابا جان آپ پر کیا کیفیت ھے کہ تین دن سے آپ یہاں تشریف فرما ہے
نبی کریم نے فرمایا کہ جبرائیل نے مجھے آگاہ کیا ہے کہ میری امت بھی جہنم میں جاے گی فاطمہ بیٹی مجھے اپنے امت کے
گنہگاروں کا غم کھاے جا رہا ہے اور میں اپنے مالک سے دعائیں کررہا ہوں کہ اللہ انکو معا ف کر اور جہنم سے بری کر یہ کہہ کر آپ پھر سجدے میں چلے گئے اور رونا شروع کیا یا اللہ میری امت یا اللہ میری امت کے گناہگاروں پہ رحم کر انکو جہنم سے آزاد کر
کہ اتنے میں حکم آگیا "وَلَسَوْفَ يُعْطِيكَ رَبُّكَ فَتَرْضَى
اے میرے محبوب غم نہ کر میں تم کو اتنا عطا کردوں گا کہ آپ راضی ہوجاو گے
آپ خوشی سے کھل اٹھے اور فرمایا لوگوں اللہ نے مجھ سے وعدہ کرلیا ہے کہ وہ روز قیامت مجھے میری امت کے معاملے میں خوب راضی کریں گا اور میں نے اس وقت تک راضی نہیں ہونا جب تک میرا آخری امتی بھی جنت میں نہ چلا جاے
لکھتے ہوے آنکھوں سے آنسو آگئے کہ ہمارا نبی اتنا شفیق اور غم محسوس کرنے والا ہے
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Telephone
Website
Address
Haroonabad Municipality
6200