Malik Nawroz khan Tareen

Malik Nawroz khan Tareen

Share

for quatation just for knowledge .

11/06/2022

صحابہ آپس میں بڑے خوبصورت مذاق کیا کرتے تھے یہاں چند ایک واقعات بیان کرتا ہوں ۔ صاحب علم افراد سے تصحیح کی درخواست ہے !
روایت ہے کہ ایک بار حضرت ابوبکر ، حضرت عمر اور حضرت علی ۔۔۔ (ر) ساتھ ساتھ کہیں جارہے تھے ۔ حضرت علی بیچ میں تھے اور دائیں بائیں حضرت عمر اور حضرت ابوبکر تھے ۔ ان دونوں صحابہ کرام کے قد اونچے تھے جبکہ حضرت علی کا قد نسبتاً درمیانہ تھا ۔ غالباً حضرت عمر یہ حالت دیکھ کر مسکرائے اور فرمایا " علی تم ہمارے درمیان ایسے ہو جیسے " لنا " میں "ن" ہوتا ہے "۔
حضرت علی نے مسکرا کر برجستہ جواب دیا کہ " میں ہٹ جاؤں تو " لا" رہ جائے گا ۔ "
" لا " کا مطلب عربی میں "نہیں" یا "کچھ نہیں" ہے !
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
اسی طرح ایک بار حضرت علی (ر) وضو فرما رہے تھے ۔ حضرت عمر نے ان کے سر سے ٹوپی اتار لی اور ایک اونچی سی جگہ لٹکا دی ۔ حضرت علی وضو کرنے کے بعد گئے اور ٹوپی تک پہنچنے کی کوشش کی لیکن ہاتھ نہ پہنچا ۔ مسکرائے اور انتظار کرنے لگے ۔
جب حضرت عمر (ر) وضو فرمانے لگے تو آپ نے انکے سر سے ٹوپی اتار لی ۔ وہیں کسی درخت کا ایک بھاری تنا پڑا تھا ۔ آپ نے وہ تنا اٹھا کر اسکے نیچے ٹوپی رکھ دی ۔ حضرت عمر نے وضو فرمایا اور جاکر اس تنے کے نیچے سے ٹوپی نکالنے کوشش کی ۔ کافی زور لگانے پر بھی بات نہ بنی ۔ تو حضرت علی سے فرمایا ۔ " ٹھیک ہے بھائی میری ٹوپی نکال دو میں تمھاری ٹوپی اتارتا ہوں "
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
اور ایک مشہور واقعہ ہے کہ جب کئی صحابہ حضور (صلى الله عليه وسلم) کے ساتھ دسترخوان پر بیٹھے کھجوریں تناول فرما رہے تھے ۔ حضور (صلى الله عليه وسلم) نے ایک کھجور کھانے کے بعد اسکی گھٹلی حضرت علی کے سامنے پھینک دی ۔
صحابہ (ر) تو ہر معاملے میں حضور (صلى الله عليه وسلم) کی نقل فرمایا کرتے تھے ۔ بس پھر کیا تھا ہر صحابی نے یہی کرنا شروع کیا ۔ تھوڑی ہی دیر بعد حضرت علی کے سامنے گھٹلیوں کا انبار لگ گیا ۔
جب کھجوریں ختم ہوئیں تو کسی صحابی نے مزاحاً حضرت علی سے فرمایا " علی لگتا ہے تم کو زیادہ ہی بھوک لگی تھی "
حضرت علی نے اپنے سامنے گھٹلیوں کا انبار دیکھا تو معاملہ سمجھ گئے ۔ مسکرا کر فرمایا " میری نسبت شائد آپ لوگوں کو زیادہ بھوک لگی تھی کیونکہ میں تو گھٹلیاں چھوڑ گیا آپ تو شائد گھٹلیوں سمیت کھا گئے !!
صحابہ کرام (ر) کا آپس میں محبت و شفقت اور ایک دوسرے کے لیے خیر خواہی کا معاملہ ایسا تھا کہ جسکی مثال شائد انسانی تاریخ میں نہ ملے ! یہاں میں نے چن کر کچھ ایسے واقعات لکھے ہیں جن میں خاص کر حضرت علی (ر) اور دوسرے صحابہ کی آپس میں محبت کا تذکرہ ہے

08/06/2022

👑ایک ریاست کے بادشاہ نے یہ اعلان کروا دیا کہ کل صبح جب میرے محل کا مرکزی دروازہ کھولا جائے گا تب جس شخص نے بھی محل میں جس چیز کو ہاتھ لگا دیا وہ چیز اس کی ہو جائے گی.
اس اعلان کو سن کر سب لوگ آپس میں بات چیت کرنے لگے کہ میں تو سب سے قیمتی چیز کو ہاتھ لگاؤں گا.

کچھ لوگ کہنے لگے میں تو سونے کو ہاتھ لگاؤں گا، کچھ لوگ چاندی کو تو کچھ لوگ قیمتی زیورات کو، کچھ لوگ گھوڑوں کو تو کچھ لوگ ہاتھی، کچھ لوگ دودھ دینے والی گائے کو ہاتھ لگانے کی بات کر رہے تھے.

جب صبح محل کا مرکزی دروازہ کھلا اور سب لوگ اپنی اپنی من پسند چیزوں کے لئے دوڑے.🏃‍♂️🏃‍♀️🏃‍♂️

سب کو اس بات کی جلدی تھی کہ پہلے میں اپنی من پسند چیزوں کو ہاتھ لگا دوں تاکہ وہ چیز ہمیشہ کے لئے میری ہو جائے.
بادشاہ اپنی جگہ پر بیٹھا سب کو دیکھ رہا تھا اور اپنے آس پاس ہو رہی بھاگ دوڑ کو دیکھ کر مسکرا رہا تھا.

اسی وقت اس بھیڑ میں سے ایک شخص بادشاہ کی طرف بڑھنے لگا اور آہستہ آہستہ چلتا ہوا بادشاہ کے پاس پہنچ کر اس نے بادشاہ کو چھو لیا.

بادشاہ کو ہاتھ لگاتے ہی بادشاہ اس کا ہو گیا اور بادشاہ کی ہر چیز بھی اس کی ہو گئی.

جس طرح بادشاہ نے ان لوگوں کو موقع دیا اور ان لوگوں نے غلطیاں کی.

ٹھیک اسی طرح ساری دنیا کا مالک بھی ہم سب کو ہر روز موقع دیتا ہے، لیکن افسوس ہم لوگ بھی ہر روز غلطیاں کرتے ہیں. ہم اللہ کو حاصل کرنے کی بجائے اللہ کی بنائی ہوئی دنیا کی چیزوں کی آرزو کرتے ہیں.

لیکن کبھی بھی ہم لوگ اس بات پر غور نہیں کرتے کہ کیوں نہ دنیا کے بنانے والے مالک کو پا لیا جائے.

اگر مالک ہمارا ہو گیا تو اس کی بنائی ہوئی ہر چیز بھی ہماری ہو جائیں گی۔“

28/05/2022

استاد کی تنخواہ

پکاسو (پکاسو) سپین میں پیدا ہونے والا ایک بہت مشہور مصور تھا۔ اس کی پینٹنگز پوری دنیا میں کروڑوں اور اربوں روپے میں بک رہی تھیں!

ایک دن جب وہ سڑک پر چل رہا تھا تو ایک عورت کی نظر پکاسو پر پڑی اور اتفاق سے اس نے اسے پہچان لیا۔ وہ بھاگ کر اس کے پاس آئی اور کہنے لگی، "جناب، میں آپ کی بہت بڑی مداح ہوں۔ مجھے آپ کی پینٹنگز بہت پسند ہیں۔ کیا آپ میرے لیے بھی پینٹنگ بنا سکتے ہیں؟"

پکاسو مسکرایا اور بولا، "میں یہاں خالی ہاتھ آیا ہوں۔ میرے پاس کوئی اوزار نہیں ہے۔ میں پھر کبھی تمہارے لیے پینٹنگ بناؤں گا۔"
لیکن عورت اب ضد کر رہی تھی۔ اس نے کہا، "مجھے ابھی ایک پینٹنگ بنانے دو۔ میں آپ کو نہیں بتا سکتی کہ ہم دوبارہ کب ملیں گے۔"

پکاسو نے پھر اپنی جیب سے کاغذ کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا نکالا اور اپنے قلم سے کاغذ پر کچھ کھینچنے لگا۔ تقریباً دس منٹ میں پکاسو نے کاغذ پر ایک پینٹنگ بنائی، اسے عورت کے حوالے کیا اور کہا، "یہ پینٹنگ لے لو، تمہیں اس کے لیے ایک ملین ڈالر آسانی سے مل سکتے ہیں۔"

عورت بہت حیران ہوئی۔ اس نے اپنے آپ سے کہا، "اس پکاسو نے جلدی سے یہ قابل عمل پینٹنگ صرف 10 منٹ میں بنائی، اور یہ مجھے بتاتا ہے کہ یہ ایک ملین ڈالر کی پینٹنگ ہے۔" لیکن ایک لفظ کہے بغیر اس نے پینٹنگ اٹھائی اور خاموشی سے گھر آ گئی۔ اس کا خیال تھا کہ پکاسو اسے بے وقوف بنا رہا ہے۔ وہ بازار گئی اور پکاسو کی بنائی ہوئی پینٹنگز کی قیمت دریافت کی۔ جب اسے پتہ چلا کہ پینٹنگ ایک ملین ڈالر تک حاصل کر سکتی ہے، تو اس کی حیرت کی انتہا نہ رہی۔

وہ دوبارہ پکاسو کے پاس بھاگی اور کہنے لگی، "جناب، آپ ٹھیک کہتے ہیں، ان تصویروں کی قیمت تقریباً ایک ملین ڈالر ہے۔"

پکاسو مسکرایا اور بولا، ’’میں پہلے ہی بتا چکا ہوں۔

عورت نے کہا، "جناب، کیا آپ مجھے اپنا شاگرد بنائیں گے؟ مجھے پینٹ کرنا سکھائیں، میرا مطلب ہے کہ جس طرح آپ نے دس منٹ میں ایک ملین ڈالر کی پینٹنگ بنائی ہے، میں 10 گھنٹے میں اچھی پینٹنگ بنا سکتی ہوں، اگر 10 منٹ میں نہیں۔ "اس طرح تم مجھے تیار کرو۔"

پکاسو مسکرایا اور بولا، "یہ پینٹنگ جو میں نے 10 منٹ میں بنائی ہے اسے سیکھنے میں مجھے *تیس سال* لگے، میں نے اپنی زندگی کے تیس قیمتی سال اس کام میں گزارے ہیں۔

عورت چونک کر بولی۔ اس نے بس پکاسو کو دیکھا۔

ایک *استاد* کو 40 منٹ کے لیکچر کے لیے ادا کی گئی تنخواہ، اوپر کی کہانی کے بارے میں بہت کچھ کہتی ہے۔ استاد کے ایک ایک جملے کے پیچھے اس کی کئی سالوں کی محنت ہوتی ہے۔

معاشرہ یہ سمجھتا ہے کہ *استاد* نے ہی بولنا ہے۔ بس اتنا ہی ملتا ہے۔ یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ آج دنیا میں جتنے لوگ باوقار عہدوں پر فائز ہیں، ان میں سے اکثر کسی نہ کسی *استاد* کی وجہ سے اس مقام تک پہنچے ہیں۔

اگر آپ بھی *استاد کی* تنخواہ کو مفت سمجھتے ہیں تو ایک وقت میں 40 منٹ کا موثر اور بامعنی لیکچر دیں۔ آپ کو فوری طور پر احساس ہو جائے گا کہ آپ کتنے قابل ہیں!

*تمام قابل احترام اساتذہ کے لیے.

19/05/2022

اسٹوڈنٹس نے ٹیچر سے کہا سر آپ ہمارے ساتھ کرکٹ کھیلیں 5 گیندوں پر ٹیچر نے 2 رن بنائے چھٹی گیند پر کلین بولڈ ہو گئے...

اسٹوڈنٹس نے شور مچا کر بھرپور خوشی ظاہر کی..

کلاس میں ٹیچر نے پوچھا کون کون چاہتا تھا کہ میں اسکی گیند پر آوٹ ہو جاٶں..؟

سب باٶلرز نے ہاتھ کھڑے کر دیئے..

ٹیچر ہنس دیئے پوچھا میں کرکٹر کیسا ہوں..؟

سب نے کہا بہت برے..

پوچھا میں ٹیچر کیسا ہوں جواب ملا بہت اچھے..

ٹیچر پھر ہنس دیئے..

صرف آپ نہیں دنیا بھر میں پھیلے ہوئے میرے ہزارہا اسٹوڈنٹس جن میں کئی میرے نظریاتی مخالف ہیں گواہی دیتے ہیں کہ میں اچھا ٹیچر ہوں راز کی بات بتاؤں میں جتنا اچھا ٹیچر ہوں اتنا اچھا اسٹوڈنٹ نہیں تھا مجھے ہمیشہ سبق یاد کرنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا اور بات سمجھنے میں وقت لگا لیکن کیا آپ بتا سکتے ہیں اسکے باوجود مجھے اچھا ٹیچر کیوں مانا جاتا ہے..؟

سب نے کہا سر آپ بتائیں کیوں..؟

ٹیچر نے کہا ادب...

مجھے اچھی طرح یاد ہے اپنے ٹیچر کے ہاں دعوت کی تیاری میں انکی مدد کر رہا تھا فریزر سے برف نکالی جسے توڑنے کیلئے کمرے میں کوئی شے نہیں تھی استاد کام کیلئے کمرے سے نکلے تو میں نے مکا مار کر برف توڑ دی اور استاد کے آنے سے پہلے جلدی سے ٹوٹی ہوئی برف دیوار پر بھی دے ماری...

استاد کمرے میں آئے تو دیکھا کہ میں نے برف دیوار پر مار کر توڑی ہے انہوں نے مجھے ڈانٹا کہ تمہیں عقل کب آئیگی یوں برف توڑی جاتی ہے میں نے انکی ڈانٹ خاموشی سے سنی بعد میں انہوں نے اس بیوقوفی کا ذکر کئی جگہ کیا میں ہمیشہ بیوقوفوں کی طرح سر ہلا کر انکی ڈانٹ سنتا..

انہیں آج بھی نہیں معلوم کہ برف میں نے مکا مار کر توڑی تھی...

یہ بات میں نے انہیں اسلئے نہیں بتائی کہ وہ ایک ہاتھ سے معذور تھے انکی غیر موجودگی میں میں نے جوانی کے جوش میں مکا مار کر برف توڑ دی لیکن جب انکی معذوری کا خیال آیا تو سوچا کہ میرے طاقت کے مظاہرے سے انہیں احساس کمتری نہ ہو اس لیئے میں نے برف دیوار پر مارنے کی احمقانہ حرکت کی اور لمبے عرصے تک انکی ڈانٹ سنتا رہا...

اور ایک آپ لوگ ہیں کہ ایک دوسرے کو چیخ چیخ کر ہدایات دے رہے تھے کہ سر کو یارکر مار کر آوٹ کرو..

جیتنا سب کچھ نہیں ہوتا کبھی ہارنے سے زندگی میں جیت کے رستے کھلتے ہیں آپ طاقت میں اپنے ٹیچرز اور والدین سے بے شک بڑھ جاتے ہیں لیکن زندگی میں سب سے جیتنا چاہتے ہیں تو اپنے ٹیچرز اور والدین سے جیتنے کی کوشش نہ کریں آپ کبھی نہیں ہاریں گے...

اللہ پاک آپکو ہر میدان میں سرخرو کرے گا...

Silent message

18/05/2022
16/05/2022

Big shout-out to my newest top fans!

Kamran Shah Syed Bukhari

15/05/2022

کپڑوں، جوتوں اور بناو سنگھار سے زیادہ اپنے مطالعہ، شعور اور گفتگو پر کام کیا کریں۔ کوئی بھی دس سیکنڈ آپ کے بناو سنگھار سے متاثر تو ہو سکتا ہے لیکن اس کے بعد ۔۔۔
آپکو گفتگو ہی کرنی ہوتی ہے ۔

15/05/2022

❤❤
ﻧﮉﺭ ﺗﮭﺎ،
ﺟﺮﻧﯿﻞ ﺗﮭﺎ، ﺗﺎﺟر ﺗﮭﺎ، ﮔﻮﺭﻧﺮ ﺗﮭﺎ،
ﭘﮑﮍ ﮐﺮ ﻻﯾﺎ ﮔﯿﺎ،
ﻣﺴﺠﺪ ﻧﺒﻮﯼ ﷺ ﻣﯿﮟ ﺳﺘﻮﻥ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺑﺎﻧﺪﮪ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ

ﺭﺳﻮﻝ ﭘﺎﮎ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭ ﺳﻠﻢ ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻟﮯ ﮔﺌﮯ، ﺩﯾﮑﮭﺎ، ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﭼﮩﺮﮦ، ﻟﻤﺒﺎ ﻗﺪ، ﺗﻮﺍﻧﺎ ﺟﺴﻢ، ﺑﮭﺮﺍ ﮨﻮﺍ ﺳﯿﻨﮧ، ﺍﮐﮍﯼ ﮨﻮﺋﯽ ﮔﺮﺩﻥ، ﺍﭨﮭﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﻧﮕﺎﮨﯿﮟ، ایک حسین جوان ہے …

ﺣﮑﻤﺮﺍﻧﯽ ﮐﮯ ﺟﺘﻨﮯ ﻋﯿﺐ ﮨﯿﮟ ﺳﺎﺭﮮ ﭘﺎﺋﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ،

ﺳرکار دوعالم ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭ ﺳﻠﻢ ﺁﮔﮯ ﺑﮍﮬﮯ، فرمایا :ﺛﻤﺎﻣﮧ ﮐﯿﺴﮯ ﮨﻮ؟

ﺛﻤﺎﻣﮧ ﺑﻮﻻ :
ﮔﺮﻓﺘﺎﺭ ﮐﺮﮐﮯ ﭘﻮﭼﮭﺘﮯ ﮨﻮ ﮐﯿﺴﺎ ﮨﻮﮞ؟۔

ﺭﺳﻮﻝ ﭘﺎﮎ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭ ﺳﻠﻢ نے ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ
: ﮐﻮﺋﯽ ﺗﮑﻠﯿﻒ ﭘﮩﻨﭽﯽ ﮨﻮ؟

ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ : ﻧﮧ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺗﮑﻠﯿﻒ ﮐﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﭘﺮﻭﺍﮦ، ﻧﮧ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺭﺍﺣﺖ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﺧﺪﺷﮧ، ﺟﻮ ﺟﯽ ﭼﺎﮨﮯ ﮐﺮ ﻟﻮ،

ﺭﺳﻮﻝ ﭘﺎﮎ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭ ﺳﻠﻢ نے ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ :
ﺑﮍﺍ ﺗﯿﺰ ﻣﺰﺍﺝ ﺁﺩﻣﯽ ﮨﮯ،
ﺍﭘﻨﮯ ﺻﺤﺎﺑﮧ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ، ﭘﻮﭼﮭﺎ، ﺍﺱ ﮐﻮ ﺩﮐﮫ ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﮩﻨﭽﺎﯾﺎ؟

ﻋﺮﺽ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ
ﯾﺎ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭ ﺳﻠﻢ
! ﮔﺮﻓﺘﺎﺭ ﮨﯽ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ ﺩﮐﮫ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﮩﻨﭽﺎﯾﺎ،

آپ صلی اللہ علیہ وسلم ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ :
ﺛﻤﺎﻣﮧ ﺫﺭﺍ ﻣﯿﺮﯼ ﻃﺮﻑ ﺁﻧﮑﮫ ﺍﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﺩﯾﮑﮭﻮ ﺗﻮ صحیح،

ﺛﻤﺎﻣﮧ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ :
ﮐﯿﺎ ﻧﻈﺮ ﺍﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮ، ﺟﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ، ﻣﺠﮫ ﮐﻮ ﻣﺎﺭﺍ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ ﺗﻮ ﻣﯿﺮﮮ ﺧﻮﻥ ﮐﺎ ﺑﺪﻟﮧ ﻟﯿﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ،۔

حضرت ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ( رضی اللّٰہ ) ﮐﯽ ﭘﯿﺸﺎﻧﯽ ﺳﻠﻮﭨﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﮭﺮ ﮔﺌﯽ،
ﺗﻠﻮﺍﺭ ﮐﮯ ﻣﯿﺎﻥ ﭘﺮ ﮨﺎﺗﮫ ﺗﮍﭘﻨﮯ ﻟﮕﺎ،
ﺍﺷﺎﺭﮦ ﺍﺑﺮﻭ ﮨﻮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﮔﺮﺩﻥ ﮨﻮ،
حضرت ﻣﺤﻤﺪ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭ ﺳﻠﻢ ﮐﮯ ﻗﺪﻡ ﮨﻮﮞ،
ﯾﮧ ﮐﯿﺎ ﺳﻤﺠﮭﺘﺎ ﮨﮯ؟

ﻟﯿﮑﻦ ﺭﺣﻤۃ ﻟﻠﻌﺎﻟﻤﯿﻦ صلی اللہ علیہ وسلم ﮐﮯ ﮨﻮﻧﭩﻮﮞ ﭘﺮ ﻣﺴﮑﺮﺍﮨﭧ ﮨﮯ، ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ،
ﺟﺘﻨﺎ ﻏﺼﮧ ﮨﮯ ﺟﯽ ﭼﺎﮨﮯ ﻧﮑﺎﻝ ﻟﻮ، ﻟﯿﮑﻦ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﭼﮩﺮﮦ ﺗﻮ ﺩﯾﮑﮫ ﻟﻮ …

ﺍﺱ ﻧﮯ ﻣﺪﯾﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ،

ﻟﻮﮔﻮ !
ﯾﮧ ﮨﮯ ﻭﮦ ﭘﯿﻐﻤﺒﺮ ﺭﺣﻤۃ ﻟﻠﻌﺎﻟﻤﯿﻦ صلی اللہ علیہ وسلم ﺟنﮐﮯ ﻧﻘﺶ ﻗﺪﻡ ﭘﺮ ہم ﻧﮯ ﭼﻠﻨﺎ ﮨﮯ،

ﻟﯿﮑﻦ ﭘﯿﺸﺎﻧﯽ ﭘﺮ ﺷﮑﻦ ﻧﮩﯿﮟ ﮈالتے ہیں …ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ :
ﮐﻮﺋﯽ ﺑﺎﺕ ﻧﮩﯿﮟ، ﻣﯿﺮﯼ ﺑﺴﺘﯽ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺗﻮ ﻧﮕﺎﮦ ﮈﺍﻟﻮ،

ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ :
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺭﻭﻡ ﻭ ﯾﻮﻧﺎﻥ ﺍﯾﺮﺍﻥ ﻭ ﻣﺼﺮ ﮐﯽ ﺑﺴﺘﯿﺎﮞ ﺩﯾﮑﮭﯿﮟ
ﺍﺱ ﺑﺴﺘﯽ ﮐﻮ ﮐﯿﺎ ﺩﯾﮑﮭﻮﮞ؟

ﺭﺣﻤۃ ﻟﻠﻌﺎﻟﻤﯿﻦ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭ ﺳﻠﻢ ﻧﮯ فرمایا :
ﮐﻮﺋﯽ ﺑﺎﺕ ﻧﮩﯿﮟ،
ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺩﻥ ﺁﺋﮯ ﭘﮭﺮ ﻭﮨﯽ ﺟﻮﺍﺏ،

ﺗﯿﺴﺮﮮ ﺩﻥ ﭘﺎﮎ ﭘﯿﻐﻤﺒﺮ ﷺ ﺁﺋﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ :
ﮨﻢ ﺗﺠﮫ ﺳﮯ ﮐﭽﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﺎﻧﮕﺘﮯ، ﺫﺭﺍ ﺩﯾﮑﮫ ﺗﻮ ﻟﻮ،۔
ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ : ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ، ﺍﺏ؟

ﮨﻤﯿﺸﮧ ﻣﺴﮑﺮﺍﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﭘﺎﮎ ﭘﯿﻐﻤﺒﺮ صلی اللہ علیہ وسلم نے ﻣﺴﮑﺮﺍ کر ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ :
ﺟﺎﺅ ! ﮨﻢ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ،
ﭼﻠﮯ ﺟﺎﺅ، ﮨﻢ ﻧﮯ ﺍسے ﺭﮨﺎ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ،
ﮨﻢ ﺗﺠﮭﮯ ﮐﭽﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮩﺘﮯ،

ﺟﺎﺅ …ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﺻﺤﺎﺑﮧ ﮐﺮﺍﻡ ﮐﻮ ﺟﻦ ﮐﯽ ﺗﻠﻮﺍﺭﯾﮟ ﺛﻤﺎﻣﮧ ﮐﯽ ﮔﺮﺩﻥ ﮐﺎﭨﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺑﮯ ﺗﺎﺏ ﺗﮭﯿﮟ،

ﺍن سے فرمایا :
ﺑﮍﺍ ﺁﺩﻣﯽ ہے ﻋﺰﺕ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻟﮯ ﺟﺎ ﮐﺮ ﺍﺱ ﮐﻮ ﻣﺪﯾﻨﮧ ﺳﮯ ﺭﺧﺼﺖ ﮐﺮ ﺩﻭ،
ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﭼﮭﻮﮌﺍ، ﭘﻠﭩﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺧﯿﺎﻝ ﺁﯾﺎ،
ﺑﮍﮮ ﺣﮑﻤﺮﺍﻥ ﺑﮭﯽ ﺩﯾﮑﮭﮯ،
ﻣﺤﮑﻮﻡ ﺑﮭﯽ ﺩﯾﮑﮭﮯ، ﺟﺮﻧﯿﻞ ﺑﮭﯽ ﺩﯾﮑﮭﮯ

مگر
ﺍﺗﻨﺎ ﺣﻮﺻﻠﮧ ﻭﺍﻻ ﺗﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﻧﮧ ﺩﯾﮑﮭﺎ،
ﺍﺱ ﮐﮯ ﭼﮩﺮﮮ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﻮﮞ ﮨﮯ ﮐﯿﺴﺎ …”
ﺑﺲ ﺍﮎ ﻧﮕﺎﮦ ﭘﮧ ﭨﮭﮩﺮﺍ ﮨﮯ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﺩﻝ ﮐﺎ “

ﭘﮭﺮ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ ﮨﮯ،
ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﺳﺮﭘﭧ ﺑﮭﺎﮔﺎ، ﺩﮌﮐﯽ ﻟﮕﺎ ﺩﯼ، ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ….. !

ثمامہ کہتے ہی
کہ :” ﻗﺪﻡ ﺁﮔﮯ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺑﮭﺎﮒ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﺩﻝ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺑﮭﺎﮒ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ “
ﺩﻭ ﻣﯿﻞ ﺑﮭﺎﮔﺘﺎ ﭼﻼ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺟﺘﻨﯽ ﺭﻓﺘﺎﺭ ﺳﮯ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺩﮔﻨﯽ ﺭﻓﺘﺎﺭ ﺳﮯ ﻭﺍﭘﺲ ﭘﻠﭧ ﺁﯾﺎ

،ﻭﮦ ﻣﺎﮦ ﺗﻤﺎﻡ صلی اللہ علیہ وسلم ﻧﻨﮕﯽ ﺯﻣﯿﻦ ﭘﮧ ﺍﭘﻨﮯ ﺻﺤﺎﺑﮧ کرام ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺑﯿﭩھے ہوئے تھے

….ﺻﺤﻦ ﻣﺴﺠﺪ ﭘﺮ ﺁﯾﺎ ….
ﻧﺒﯽ ﮐﺮﯾﻢ صلی اللہ علیہ وسلم ﻧﮯ ﻧﮕﺎﮦ ﮈﺍﻟﯽ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺛﻤﺎﻣﮧ ﮐﮭﮍﺍ ﮨﮯ،

ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ
ﮨﻢ ﻧﮯ ﺗﻮ ﺗﺠﮭﮯ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﯾﺎ ﺗﮭﺎ ﭘﮭﺮ ﺁ ﮔﺌﮯ

؟ﮐﮩﺎ،
ﻣﺠﮫ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﺎ ﺑﻨﺎ ﮐﺮ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﯾﺎ، ”
ﮐﯿﺎ ﺍﺳﯿﺮﯼ ﮨﮯ اور ﮐﯿﺎ ﺭﮨﺎﺋﯽ ﮨﮯ”

ﭼﮭﻮﮌﺍ ﺗﺐ ﺗﮭﺎ
ﺟﺐ ﺁﭖ ﷺ ﮐﺎ ﭼﮩﺮﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﮭﺎ،
ﺍﺏ ﺁﭖﷺ ﮐﺎ ﭼﮩﺮﮦ ﺩﯾﮑﮫ ﻟﯿﺎ،
ﺍﺏ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺑﮭﺮ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺁﭖ ﮐا ﻏﻼﻡ ﺑﻦ ﮔﯿﺎ ﮨﻮﮞ سبحان اللّہ

تیری صورت تیری سیرت زمانے سے نرالی ہے
تیری ہر ہر ادا پیارے دلیلِ بے مثالی ہے

13/05/2022

ہمیشہ اچھے دوست تلاش کریں۔
پھانسی کے وقت مجرم نے رسی کو چوم لیا ۔
جج نے پوچھا:
تم نے ایسا کیوں کیا؟
مجرم نے جواب دیا:
رسی مجھے زمین پر گرنے نہیں دے گی
لیکن بہت سے قریبی دوستوں نے مجھے گرانے کی کوشش کی۔
ہمیشہ اچھے دوست تلاش کریں۔

Want your school to be the top-listed School/college in Harnai?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Telephone

Address


Harnai