Hazaraewal Hind-Ko Dictionary-ہندکو لغت A Language of Sind Sagar Region

  • Home
  • Pakistan
  • Haripur
  • Hazaraewal Hind-Ko Dictionary-ہندکو لغت A Language of Sind Sagar Region

Hazaraewal Hind-Ko Dictionary-ہندکو لغت A Language of Sind Sagar Region سندھ ساگر کی اصطلاح نے جلال الدین اکبر کے دماغ میں جنم لیا۔ پھر سارا پنجاب اس نے دوآبوں میں بانٹ دیا۔

17/08/2026

♓♓ہزارہ میں انارکی کا زمانہ♓♓
‏مہتاب سنگھ یوپی کا رہنے والا ہندو تھا نہ کہ پنجاب کا ایک سکھ، 1825ء میں وہ نوکری کی تلاش میں گھومتا پھرتا یہاں پنجاب چلا آیا جہاں راجہ رنجیت سنگھ کی حکومت میں تھی، اور ہزارہ میں ہری سنگھ نلوہ یہاں کا گورنر تھا۔ مہتاب سنگھ کی قابلیت دیکھ کر سردار ہری سنگھ نے اس نے کلکٹر کے عہدے پر رکھ لیا۔ کم و بیش 25 سال اس نے ہزارہ کے لوگوں سے مالیہ وصول کیا اس کے ساتھ ساتھ اس یہاں کے حالات سے آگاہی حاصل کی۔ سکھوں کی عملداری کے بعد بھی اس کی سروس جاری رہی اور ایک دن انگریز اسسٹنٹ کمشنر چیمبرلین نے اسے بلا کر کہا میں آپ پر ایک بھاری ذمے داری ڈالنا چاہتا ہوں، اور وہ یہ کہ آپ انتہائی ایمانداری سے ہزارہ کے حالات جیسے دیکھے اور سنے وہ قلمبند کر دو تا کہ تاریخ کا حصہ بن جائے۔ مہتاب سنگھ نے انتہائی محنت کے بعد 1854ء میں اسے فارسی تاریخ ہزارہ بعنوان "جنگ و خرد برد سنگھاں و درانیاں و سرکار دولتمدار" پیش کی. مہتاب سنگھ کہتا لوگ لگان کی ادائیگی کو خود پر الٹا بوجھ سمجھتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں قریب دو سو سال تک انارکی رہی ہے۔ وہ آگے چل کر کہتا ہے سکھ عملداری سے قبل کے یہاں کے حالات ایسے تھے کہ ہر طرف فتنہ و فساد برپا تھا، ہر آدمی خود سری کا دعویٰ دار تھا، وہ علاقے جو کشمیر کے گردونواح میں واقع ہیں ان علاقوں کے لوگ اتنے نڈر ہو گئے کہ ملکی سیاست اور سطوت شاہی کو خاطر میں نہ لاتے۔ دوسرے علاقوں کے لوگوں نے بھی اپنے اپنے مقامات پر حکومتیں تبدیل کر دیں۔ بالآخر تیمور شاہ کو اقبال مندی نصیب ہوئی ہے اور کابل سے کشمیر تک میدانی علاقے تیمور شاہ کے قبضے میں آ گئے۔ بادشاہ نے علی مردان نامی شخص کو چھچھ ہزارہ کی تنسیق و تنظیم پہ مامور کیا۔
‏بحوالہ اردو ترجمہ تاریخ ہزارہ مہتاب سنگھ صفحہ 36.
‏ ♓♓♓♓♓ ♓♓♓♓♓

23/07/2026

حقائق حقائق ہیں
‏خان عبدالولی خان نے سندھ حیدر آباد میں اپنی اسیری کے دوران ایک کتاب لکھی اس کتاب کو "حقائق حقائق ہیں" (Facts Are Facts) کا نام دیا گیا۔ یہ ایک تاریخی و سیاسی کتاب ہے۔ اس کتاب کے بارے میں چند اہم تفصیلات یہ کہ اس میں برصغیر کی تقسیم، تحریکِ آزادی اور مسلم لیگ کی سیاست کے حوالے سے تاریخی دستاویزات (خصوصاً وائسرائے ہند کے خطوط) کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے۔ پہلے پہل اس کتاب کو پاکستان میں شائع کرنے کی اجازت نہیں ملی، جس کے باعث یہ پہلی بار کابل سے شائع ہوئی۔ اس وقت ولی خان نے دعویٰ کیا تھا کہ اگر وہ اپنی کتاب میں پیش کیے گئے حقائق کو سرکاری دستاویزات سے ثابت نہ کر سکا، تو مجھے پھانسی پر لٹکا دیا جائے۔اس کتاب کو پاکستان کی سیاست اور تاریخ میں ایک متنازعہ لیکن انتہائی اہم دستاویز مانا جاتا ہے۔
‏Facts Are Facts تین الفاظ کا جملہ ہے جو آج ولی خان کا قول ھے جیسے "کشمیر ہماری شہ رگ ہے" قائد اعظم سے منسوب قول۔ ولی خان کے پوتے سینیٹر ایمل ولی خان نے پشتو زبان میں Facts Are Facts کے تحت پوڈ کاسٹنگ کا سلسلہ شروع کیا ہے جسکو نام دیا ھے IN SEARCH OF THE PAKHTUN۔ وہ اپنے اسٹوڈیوز میں مہمانوں کو مدعو کرتے ہیں۔ شروع کے دو وی لاگز میں انہوں نے بزرگ دانشور جو شاعر، کالم نگار، لکھاری، ڈراما نگار اور مورخ بھی ہیں اور پروفیسر حنیف خلیل جو کہ پشتونوں اور دنیا بھر کی نسلیات کے ماہر ہیں اور آئے دن سوشل میڈیا پر پشتون قبائل کی اوریجن پر Vlog کرتے رہتے ہیں۔ دوسری نشست خان صاحب نے سوات کے نامور ریٹائرڈ ماہر تعلیم پرویش شاہین صاحب (جن سے میں ان کی لائبریری کا 1992 کے زمانے میں وزٹ کر چکا ہوں) کو زرین خیالی کے اظہارِ کیلئے مدعو کیا۔
‏یقین جانئے اس سے قبل میں ایمل ولی خان صاحب کو ایک سیاستدان سمجھتا اور خاص کر ہزارےوال لوگوں کی ڈیمانڈ پر ایک نٹ کھٹ بیان باز خیال کرتا تھا۔ یہ تو علم کی دہلیز ھے جس پر چلو تو یکے بعد دیگرے در کھلتے جائیں گے وہ خود کہتے ہیں آپ اہل علم کی محفل میں بیٹھنا میری خوش بختی ہو گی۔ بہرحال اپنی پوڈ کاسٹنگ میں اب جس گفتگو کو خان صاحب نے موضوع بحث بنایا ہے وہ یہ کہ:
آیا پشتون بنی اسرائیل نسل ہیں یا کوئی اور؟
‏تاریخ کو مطالعہ پاکستان کیوں کہا جاتا ہے؟
‏واقعی پشتونوں کی تاریخ 5000 سال پرانی ہے؟
‏لفظ خان کس زبان سے ہے اور کونسی قوموں نے اسے اپنایا؟
‏برق صاحب:
‏تاریخ میں عام آدمی کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ آج جس کو تاریخ کہا جاتا ہے وہ 85 فیصد خواصو کی تاریخ ہے۔ پشتونوں کی تاریخ کسی نے لکھی ھی نہیں بلکہ ان کو تاریخ بنا کر دے دی گئی ہے۔ پشتون بدبختی سے ایسے خطہ زمین پر پیدا ہوا جہاں کی کوئی قابل ذکر پیداوار نہیں ھے، اسی لیے اسے خانہ بدوش ہونا پڑا اور وہ مویشی (څاروی) پال بن گیا۔ اس خانہ بدری کی وجہ سے وہ بےتعلیم رہا اور شہری تمدن سے دور ہو گیا۔ ہندوستان کو سونے کی چڑیا کہا گیا ہے کیونکہ ہموار ملک ھے اور یہاں ہر قسم کی پیدا ہوتی ھے، دنیا کا کوئی بھی شکاری اس چڑیا کا شکار کرنے نکلتا تو دروازے پر بیٹھا اسے پشتون نظر آتا۔ شکاری اسے بھی ساتھ لے لیتا (مطلب یہ کہ پشتونوں کو سپاہی بھرتی کر کے لے جاتا آگے اس کی قسمت). (جاری ہے)
‏

23/07/2026

🌹جارج ویس اور بندوبست ہزارہ🌹
جارج ویس 31 مارچ، 1841ء کو رچرڈ ہنری ویس کے گھر گورنگ آکسفورڈ شائر میں پیدا ہوا۔ ابتدائی تعلیم ملبرو میں حاصل کی۔ اس کے بعد برطانوی ہند کی ایسٹ انڈیا کمپنی کا ڈائریکٹ کمیشن 1856ء میں لیا، اور مئی 1857ء Addiscombe Military Academy میں ٹریننگ لے کر گریجویشن کا امتحان پاس کیا۔ Connaught Rangers میں ڈیوٹی اور ٹریننگ کے لئے اسے جولائی 1857ء میں انڈیا میں تعینات کیا گیا۔ پھرلفٹیننٹ کے طور پر کمیشن دیکر 66 گورکھا لائٹ انفنٹری میں، بعد ازاں ذمہ داریوں کے ساتھ تیرانوے Highlander میں تعینات کیا گیا۔ دو سال بعد اس کا تبادلہ 33 ویں Native Infantry اور پھر 1861 میں 14ویں فیروز پور سکھ میں ہو گیا۔ 1862ء میں ویس کو پنجاب کے لیفٹیننٹ گورنر سر ڈونلڈ میکلوڈ نے سول سروس کے لئے چنا اور ایجوٹینٹ (عسکری) بنا کر بنگال اسٹاف کور کے حوالے کر کے 1863ء میں ضلع جھنگ میں تعینات کر دیا گیا۔ جس کے بعد اب اسے 1868ء میں شمالی پنجاب کے ضلع ہزارہ میں بندوبست آفیسر تعینات کیا گیا ساتھ ہی 1869ء میں کیپٹن کے عہدے پر ترقی دے دی گئی۔ اس تعیناتی کے دوران اسے ایک ذمہ داری سونپی گئی جو ضلع ہزارہ میں پہلی بار ریگولر بندوبست اراضی کرانے کی تھی جس کے بعد 1874ء میں اس کا تبادلہ جہلم ہو گیا جہاں وہ ڈپٹی کمشنر بنا۔ اور جلد ہی وہ پنجاب صوبے کا فنانشل کمشنر بنا اور لاہور میں تعینات ہوا، بس قدرت کو اتنی ہی اسکی زندگی کی دوڑ منظور تھی اور وہ 1889ء میں حکم ایزدی کے آگے سر نگوں ہو گیا۔ مقامی دوستوں اور یورپین نے مل کر اسے میانی گورا قبرستان میں سپردِ خاک کر دیا۔
حکومت نے اسے 1868ء میں جب ہزارہ کا بندوست سونپا تو اسکی ورکنگ ٹیم میں بڑے قابل اور لائق لوگ اسے دیئے گئے جن میں:
1۔ مرزا اعظم بیگ، ایکسٹرا اسسٹنٹ کمشنر بندوبست ہزارہ
2۔ گنگا رام، ایکسٹرا اسسٹنٹ کمشنر سپرنٹنڈنٹ ہری پور
3۔ عبدالغنی، سپرنٹنڈنٹ بندوبست، تحصیل مانسہرہ
4۔ احمد بخش، سپرنٹنڈنٹ بندوبست، تحصیل ہری پور
5۔ غلام فرید، ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ
6۔ حکم چند، ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ
7۔ بودھ سنگھ، ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ
8۔ منوہر لال، ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ بندوبست
9۔ شیوچرن داس، ہیڈ کلرک
مرزا اعظم بیگ ان میں کرتا دھرتا تھا جس نے کیپٹن ویس کے حکم پر تواریخ ہزارہ، تاریخ جہلم اور تاریخ گجرات بھی لکھی۔ تاریخ ہزارہ کے ابتدائی صفحہ پر اعظم بیگ نے ایک نوٹ لکھا ہے جو انتہائی غور طلب ہے۔ نوٹ یہ ہے:
تنبیہ؛ "واضح رہے کہ یہ کتاب کچھ مستند نہیں ہے یعنی مراتب مندرجہ اسکے مسلمہ سرکار نہیں ہیں کہ خواہ مخواہ پابندی ان کی لازم آوے۔ یہ تنبیہ بموجب حکم گورنمنٹ مندرجہ چھٹی سیکرٹری صاحب گورنمنٹ پنجاب سیکرٹری صاحب فنانشل کمشنر پنجاب نمبری 402 بتاریخ 12/ اپریل 1877ء درج کی گئی ہے"
اس عبارت سے یہ بات بالکل واضح ہے یہ کتاب جسے تواریخ ہزارہ کا نام دیا گیا ہے مفصل اور جامع مندرجات کی حامل ہے مگر سرکاری رپورٹ کی حثیت بہر طور نہیں رکھتی اور نہ ہی اس کے مندرجات کی کسی پر لازم ہے جب کہ کیپٹن ویس نے ہزارہ بندوبست کے جو حاصلات درج کئے ان کی باقاعدہ سرکاری حیثیت تھی اور ہے جو 1872ء کی بندوبست رپورٹ کہلائی۔
اگر آپ ہزارہ کی مستند (authentic) اور غیر جانبدار (impartial) تاریخ پڑھنے کے خواہشمند ہیں تو صرف تین کتابیں ہیں:
1۔ تاریخ ہزارہ مہتاب سنگھ (ہزارہ کی پہلی فارسی تاریخ 1854ء)
2۔ ہزارہ 1872ء بندوست رپورٹ از کیپٹن ای جی ویس (ہزارہ کی پہلی انگریزی تاریخ/رپورٹ 1874)
3۔ تواریخ ہزارہ از مرزا اعظم بیگ (ہزارہ کی پہلی اردو تاریخ 1874)
ان کتابوں میں سب سے قابل اعتماد (reliable) کتاب کیپٹن ویس کی رپورٹ ہے جس میں ہر موضوع کو چھیڑا گیا ہے۔ اس کے بعد مرزا اعظم بیگ کی تواریخ ہزارہ جو دراصل اردو زبان میں انہی مندرجات پر مشتمل ہے جو بندوبست رپورٹ بلکہ یہ کہنا درست ہو گا کہ یہ قابل فہم اور مفصل رپورٹ ہے ھاں البتہ سرکاری رپورٹ ہونے کی وجہ سے رد نہیں کیا جا سکتا۔
لہذا ہم اس رپورٹ کے مندرجات کو قارئین کے ساتھ شیئر کریں گے تا کہ سب پڑھ کر یہ جان سکیں کہ انگریز نے کس قدر جان فشانی اور ایمانداری سے اپنی ذمہ داری کو نبھایا۔

20/07/2026

تاریخ ہزارہ
‏تاریخ ہندوستان میں ملینیم یا ہزارئیے کا ایک ناقابل فراموش موڑ یا واقعہ یہ ہے کہ جب محمود غزنوی نے جنوبی ایشیا کے اس خطے پر حملہ کر کے گویا تاریخ کے دھارے کا رخ موڑ دیا۔
‏ہزارہ میں کوئی قابل ذکر تبدیلی اس وقت نہ ہوئی تھی البتہ یہاں تاریخ کا ایک بہت بڑا اور ناقابل فراموش واقعہ یہ ہوا کہ ارشہ (ہزارہ) کے راجہ ابھے کی حکومت پر کشمیر کی طاقتور حکومت کی طرف سے 1087ء میں غیر ملکی مہمات کے دوران یلغار کی گئی جس کی وجہ سے ارشہ کا نظام درہم برہم ہو گیا تھا۔ راجہ کے ذاتی اور فوجوں سے گھوڑے چھین لئے گئے اور لوٹ مار کا سامان سری نگر پہنچا دیا گیا۔ (براہ کرم واقعات کی سن پر غور کیا جائے) ایک بار پھر کشمیر کے راجہ جے سنگھ (1128 تا 1149ء) کے آخری زمانہ حکومت میں اتیاگرہ پورہ (موجودہ اگرور) کے راجہ دوتیہ کے علاقے پر یلغار کا ذکر ملتا ہے۔
‏ادھر غزنی میں سلطان محمود کی 1030ء میں وفات ہو چکی تھی اور 1048ء میں ابو ریحان البیرونی کی وفات بھی ہو چکی تھی جو اپنی حیات میں کشمیر اور ہزارہ کا سفر کر چکا تھا۔ وہ اپنی کتاب الہند (India) میں کشمیر کے شاردا مندر اور یہاں کے دریائے وتشٹہ کا ذکر تفصیل سے بیان کرتا ہے۔
‏اور تاریخ کا یہ پہلو بھی روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ سلطان محمود کی اپنی زندگی میں ھندوستان میں جو فتوحات ہو تھیں ان کا سلسلہ رک چکا تھا۔
‏پس ہزارہ کی تاریخ کو اس وقت کی کشمیر کی تاریخ سے نتھی سمجھا جائے اس لئے کہ ہزارہ آں وقت طاقتور کشمیر کا princely state تھا۔
‏

19/07/2026

ہندکو کی سیریاں
‏ہزارہ میں بعض گاؤں یا داخلی کا نام عام طور پر سیری ہوتا ہے۔ 1872 سٹبلشمنٹ کے جائزے کے مطابق ایسا گاؤں جس کا اجارہ مسلمانوں کے طبقات مثلآ سیدوں، علماء، پیروں، فقراء اور امام مسجد کے نام کر دیا گیا ہو وہ سیری کہلاتا ہے۔ سیری کی مثال عشر کی یا ہندکو میں دسون پرانے زمانے کا سیر قطعہ زمین کی صورت میں الگ کر دیا جاتا ہے، اب مذہبی پیشوا پر منحصر ہوتا تھا وہ زمین اجارہ پر دے، خود کاشت کرے یا فروخت کر دیے۔
‏ہزارہ کے اس رواج و فکر کی پاسداری مقامی حاکموں نے بھی جاری رکھی حتیٰ کہ سکھوں اور انگریز عیسائیوں نے بھی، ہزارہ کے سکھ گورنر ہری سنگھ نلوہ تو مقامی سرداروں اور مقدمان کو حکمنامے جاری کر رکھے تھے کہ سیدوں، علماء، پیروں، امام مساجد، فقراء اور بیوگان سے کوئی نذرانہ اور نہ ہی کوئی تاوان لیا جائے۔
‏ہم یہاں ذیل میں بندوبستی ہزارہ کے ان مواضعات کا ذکر کر رہے ہیں جو سٹبلشمنٹ رپورٹ میں باقاعدہ موضع کی حیثیت رکھتے ہیں البتہ یوں تو ہر دوسرے گاؤں میں کوئی نا کوئی قطعہ زمین سیری کے نام سے موجود ہے۔
‏1ـ سیریاں بھوگڑمنگ
‏2ـ اہل سیریاں کونش
‏3ـ پت سیریاں بالاکوٹ
‏4ـ اندر سیری بوئی
‏5ـ سیر دناہ
‏6ـ سیر دناہ چک دکھن
‏7ـ سیری شیرشاہ شیروان
‏8ـ بن سیری ببڑہان
‏9ـ سیری نگالہ ببڑہان
‏10ـ سیری دھرم پانی
‏11ـ گڑھی سیریاں بگڑہ
‏12ـ بانڈی سیریاں کوٹ نجیب اللہ
‏13ـ سیری خالصہ
‏
‏

س کو انگریزی میں  Momordica dioica کہتے ہیں۔ یہ ایک انتہائی لذیذ جنگلی سبزی ہے جو کچھ علاقوں میں باقاعدہ کریلے کی طرح کا...
06/06/2026

س کو انگریزی میں Momordica dioica کہتے ہیں۔ یہ ایک انتہائی لذیذ جنگلی سبزی ہے جو کچھ علاقوں میں باقاعدہ کریلے کی طرح کاشت کی جاتی ہے جس کی بیل بھی کریلے کی طرح سہاروں پر چڑھ جاتی ہے۔ یہ مون سون کی بارشوں کے بعد ہر طرف پھل دیتی نظر آتی ہے۔ اس کا پھل مرغی کے انڈے جتنا ہوتا ہے جو نرم نرم بے ضرر کانٹوں والا ہوتا ہے۔ ہم بچپن میں ککوڑے تندور کی گرم راکھ میں بھون لیتے تھے اور نمک مرچ لگا کر مزے سے کھاتے تھے۔
‏انڈیا اور بنگلہ دیش میں لوگ اس کا سالن بناتے ہیں۔ یہاں بھی بناؤ تو بنا لو، مگر ہمارے ہاں سالن بنانے کا طریقہ عام نہیں ہے۔
‏گجراتی میں اسے Kantola کہتے ہیں
‏بنگالی میں اسے Korola کہتے ہیں
‏نیپالی میں اسے Chatela کہتے ہیں
‏مہاراٹھی میں اسے Kartole کہتے ہیں
‏سندھی میں اسے Kankro کہتے ہیں
‏کاٹھیاواڑی میں اسے Kankoda کہتے ہیں
‏پنجابی میں اسے Kakaura کہتے ہیں
‏اور ہندی میں اسے Kakora کہتے ہیں
‏اور اردو میں بھی Kakora یا دیسی کریلا کہتے ہیں.
‏

20/05/2026
ہزارہ وجہ کی تسمیہ ‏‏آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کے ڈائریکٹر جنرل کنگھم کا کہنا ہے کہ زیریں ہزارہ  میں ٹیکسلا کے قریب ہزار...
05/05/2026

ہزارہ وجہ کی تسمیہ
‏
‏آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کے ڈائریکٹر جنرل کنگھم کا کہنا ہے کہ زیریں ہزارہ میں ٹیکسلا کے قریب ہزار سروں والے sahasra sheersha اسٹوپا کے باعث علاقے کا نام چھچھ ہزارہ پڑا ہے۔ تاہم اولین ریگولر ہزارہ بندوبست آفسیر، کیپٹن ویس اپنی پیش کردہ بندوبست رپورٹ میں اس بات کو رد کرتے ہوئے کہتا ہے کہ ٹیکسلا کے بارڈر پر ہزارہ کا جنوبی علاقہ چھچھ ہزارہ نہیں کہلاتا، بلکہ یہ دریائے سندھ کے مغربی کنارے پر گندھگر پہاڑ اور اٹک (نیلاب) کا درمیانی علاقہ ہے جو زیریں ہزارہ کے ساتھ ملا کر چھچھ ہزارہ بولا جاتا رہا ہے وہ مزید لکھتا ہے ہزارہ تو بادی النظر میں ہری پور کے ارد گرد کا میدانی علاقہ جہاں سکھ گورنر کی رہائش گاہ تھی، بلاشبہ جہاں خالصہ راج تھا وہ ہزارہ کہلاتا تھا۔ اس بات کی تصدیق کنہیا لال کی تاریخ پنجاب سے بھی ہوتی ہے۔
‏سکھوں کی آمد قبل اس علاقے کو چھچھ ہزارہ اس لئے کہا جاتا تھا کہ درانی ہزارہ کو اٹک سے کنٹرول کرتے تھے جیسے مغلوں کے زمانے سے چلا آ رہا تھا۔ یہاں یہ وضاحت بھی ضروری ہے مغلوں اور درانیوں کے زمانے میں ہزارہ کی حدود صرف مانگلی تک ہوا کرتی تھیں۔ اس سے آگے پکھلی تھا جو کشمیر سے کنٹرول کیا جاتا تھا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے اورش (ہزارہ) کی حدود بھی ندی مانگل سے زیادہ آگے تک نہ ہوا کرتی تھیں۔ کیپٹن ویس اپنی رپورٹ میں یہاں اس بات کا اظہار کرتا ہے، یوں کنگھم کی ہزار سروں والے اسٹوپا کی بات کوئی وزن نہیں رکھتی۔
‏ اسکندریہ مصر میں پیدا ہونے والے یونانی ماہر فلکیات و جغرافیہ دان بطلیموس کا کہنا ہے کہ اورش/ ارشہ ہی مہا بھارت کا ارگا ہے۔ وہ دریائے سندھ اور جہلم کے مابین اس علاقے کو اپوا یا اواپاؤ کہتا ہے۔
‏محققین کے نزدیک اپوا ہی بعد کا اتیاگرہ پورہ (اگرور) ہے۔ یونانی فاتح سکندر کے ہندوستان پر حملہ کے وقت ابھی سارا یہاں کا حکمران تھا۔ ابھی سارا کی حکومت میں آرسس (ارشہ) کے علاوہ بھمبر، پونچھ اور راجوری کے علاقے بھی شامل تھے۔ ابھی سارا جہلم کے راجہ پورس کا دوست تھا کہ جس نے ٹیکسلا کے راجہ امبھی کے برعکس سکندر کے خلاف جنگ میں حصہ لیا تھا۔ سکندر جب راجہ پورس سے جنگ آزما ہونے کے بعد واپس جانے لگا تو اس نے ہزارہ اور کشمیر کے علاقوں کا حاکم ابھی سارا کو ہی مقرر کیا تھا.
‏ انڈلوجسٹ، جیسے ایچ سی رے چودھری، بی این مکرجی، بی سی لا، جے سی ویدیا لانکر، ایم وٹزل، ایم آر سنگھ اور کے این داھر اسٹائن کے اس نظریہ کہ قدیم ارشہ/ Urasa ہی جدید ہزارہ ہے، متفق ہیں۔ (قدیم جغرافیہ ہند)
‏چینی زائر ہیون سانگ جو 632ء میں ٹیکسلا پھر ہزارہ کے راستے کشمیر میں داخل ہوا وہ اس ملک کو ”وولاشی Woo-la-shi“ کہتا ہے جس کا صدرمقام مانگل تھا۔
‏راج ترنگنی کے مطابق کشمیر کا ایک طاقتور راجہ شنکر ورمن 902ء ارشہ/ہزارہ میں مارا گیا تھا جس کے وزیر اور رانیاں انتہائی خوفزدہ تھے انہوں نے مرے ہوئے راجہ کے گلے میں رسی ڈالی اب راستے میں رہنے والے امراء سلامی کے لیے حاضری دیتے تو اس رسی کو کھینچتے تو راجہ کا سر ہلتا نظر آتا۔ کلہن کے مطابق وہ چھ دن چلتے رہے تو اپنے علاقے میں بلیاسک نامی مقام پر آخری رسومات پوری کیں۔ ایک بات قابل غور ہے کہ چھ دن فوجیں چلتی رہیں پھر ان کا اپنا علاقہ شروع ہوا۔ یہاں آپ ارشہ/ ہزارہ کی وسعت کا اندازہ کر سکتے ہیں۔
‏کلہن کے مطابق اگلی صدی میں کشمیر کے راجہ کلش (1063 تا 1089ء) کے جرنیل مل نے غیرملکی مہمات کے دوران ارشہ کے راجہ ابھے کی سلطنت فتح کر لی اور تمام گھوڑوں پر قبضہ کر لیا تو 1087ء میں ایک ہی وقت آٹھ راجے اس کے دارالسلطنت میں جمع ہوئے جن میں ارشہ کا فرمانروا راجہ سنگت بھی شامل تھا۔ ان راجاؤں کی یہ مجلس تاریخ میں پہاڑی راجاؤں کے منڈل کے نام سے مشہور ہے۔ راج ترنگنی میں ایک بار پھر کشمیر کے راجہ جے سنگھ (1128 تا 1149ء) کے آخری زمانہ حکومت میں اتیاگرہ پورہ (موجودہ اگرور) اور ارشہ کے راجہ دوتیہ کے علاقے پر یلغار کا ذکر ملتا ہے۔ (ہم قارئین کو suggest کریں گے کہ راج ترنگنی کا مطالعہ کریں جو تاریخ ہزارہ کا سب سے بڑا source ہے)
‏ائین اکبری کے مطابق ھندوستان کے 12 صوبے تھے جن میں سے ہزارہ صوبہ لاہور کے سند ساگر دوابہ اٹک گورنر شپ میں شامل تھا۔ ہزارہ 2 تپوں ہزارہ قرلق (ترکاں) اور ہزارہ گوجراں میں شامل تھا۔ پکھلی ہزارہ کا حصہ نہیں تھا۔ پکھلی اور سوات ایک سرکار (ضلع) تھی جو صوبہ کابل کا حصہ تھی۔ (ملاحظہ ہو ائین اکبری صوبوں کا احوال)۔۔
‏سنسکرت زبان میں اورش کے معنی سینہ، دل یا مرکز کے ہیں۔ ایبٹ آباد شہر کے قریب میدان رش کا علاقہ اب بھی اورش کہلاتا ہے اور علاقے کا یہ انتہائی مقبول عام نام ہے۔ بلاشبہ مغلوں کی ہزارہ میں آمد تک ارشہ نام ہی مروج رہا ہے۔
‏علاقے کے دو مشہور اور قدیم گاؤں نواں شہر اور دھمتوڑ اتنے پرانے ہیں جتنا علاقے کی تاریخ۔ ان ہر دو گاؤں کا ذکر اکبر بادشاہ اور پھر شہنشاہ جہانگیر کے کشمیر کے سفر کے حالات کے ضمن میں جہانگیر کی یادداشت میں تفصیل سے ملتا ہے۔ ہزارہ نام قبل اسکے ابوالفضل کی آئین اکبری میں ہزارہ قرلاغ اور ہزارہ گوجراں کے طور پر ملتا ہے۔
‏ اب سوال یہ کہ ارشہ سے ہزارہ کیونکر ہو گیا؟ آیا ہزارہ ارشہ ہی کی کوئی شکل ہے یا ہزارہ مختلف کوئی نام ہے جو اپنے اندر کوئی الگ سے مطلب رکھتا ہے۔ اس تاریخی نکتے کے ضمن میں کوئی قابل قبول توجیح ابھی تک ہمارے سامنے نہیں آئی ہے۔
‏کہتے ہیں ایک مقامی جھاڑی سنتھا یا بن ستھا Dodonaea viscosa جو 2000 سے 4000 فٹ کی اونچائی پر اگتی ہے۔اس کو medicinal زبان میں ہزارہ کہتے ہیں یعنی وہ علاقہ جہاں سنتھے کے جنگل پائے جاتے ہیں۔ہندوستان میں ہزارہ بچوں اور بچیوں کے نام ہوتے ہیں اور اس نام کو والدین بہت پسند کرتے ہیں۔ ہندی میں ہزارہ کا مطلب کوئل سے مشابہ ہونے کے ہیں۔ یہ نام دیگر ممالک میں بھی پسند کیا جاتا ہے۔ یہ نام واقعی پیارا نام جبھی تو ہری پور سے کوہستان پہنچ گیا اور کسی نے بھی آج تک اس نام پر اعتراض نہ کیاہے۔
‏ہندوستانی تاریخ ” مہابھارت “ میں اس علاقہ کا نام”ارگا یا اراگا “ درج ہے جس کے معنی جھیل کے سے لفظ اورش بنا ہے ۔
‏مزید بر آن اورش (ہندکو، اردو). Urasha. उरशा (سنسکرت) پانینی کی گرائمر آشتادیہائی (Ashtadhyayi) میں بیان کیا گیا ہے۔
‏الیگزینڈر کنگھم اورشہ کو مظفر آباد کے مغرب میں Dhantawar ( دھمتوڑ) رش کہتا ہے۔ اور اوریل سٹائن کے مطابق Hazara کا جدید نام علاقے کے سنسکرت نام Urasha سے ماخوذ ہے۔
‏حوالہ جات
‏⚫۔ ہزارہ گزیٹئیر 84-1883
‏⚫۔ لینڈ سیٹلمنٹ رپورٹ 1872 ہزارہ ڈسٹرکٹ مرتبہ ای۔ جی ویس
‏⚫۔ تاریخ ہزارہ از راجہ ارشاد خان
‏⚫۔ تاریخ ہزارہ از ڈاکٹر شیر بہارد پنی
‏⚫۔ آئین اکبری از علامہ ابوالفضل
‏⚫۔ ہزارہ گزیٹئیر 1907
‏⚫. تاریخ ہزارہ از مرزا اعظم بیگ
‏⚫. سندھ ساگر کے شمال میں ہزارہ از محبوب کالس ایڈووکیٹ۔
‏ ⚫۔ ہزارہ کے دیہات از عظیم ناشاد اعوان
‏⚫۔ راج ترنگنی از پنڈت کلہن
‏⚫ پنجاب انڈر دی مغل راج
‏ محمد اکبر
‏

‏گندھگر پہاڑ کی چوٹی پر ایک قلعہ ہے مسلمان اسے کافر کوٹ کہتے ہیں اور ہندو اس کو راجکوٹ کا نام دیتے ہیں۔ اس قلعہ کے در و ...
09/03/2026

‏گندھگر پہاڑ کی چوٹی پر ایک قلعہ ہے مسلمان اسے کافر کوٹ کہتے ہیں اور ہندو اس کو راجکوٹ کا نام دیتے ہیں۔ اس قلعہ کے در و دیوار اور پتھر کے بنے ہوئے طاقوں کے علامتی نشانات آج بھی موجود ہیں۔ اسی طرح بہت گڑھے، کھنڈرات اور خندقیں بدستور آج بھی نمودار ہیں۔ کوکر کلی نامی ایک بڑا شہر اسی وقت قائم تھا۔ اس کی بنیادوں اور دیواروں کے نشانات آج بھی پائے جاتے ہیں۔ نقل ہے کہ وہ قلعہ جو کافر کوٹ کے نام سے موسوم ہے اس سے متصل ایک بہت بڑا غار ہے اور ایک بھاری پتھر اس کے منہ پر نصب ہے۔ کہتے ہیں کہ راجہ رسالو جو اس ملک کا فرمان روا تھا اس نے کسی دیو کو اس غار میں بند کیا تھا۔ کبھی کبھی اس غار سے مہیب اور خوفناک چیخ بلند ہوتی تھی کہ قرب و جوار میں 5-6 فرلانگ تک زلزلہ واقع ہو جاتا لیکن سال 1998 بکرمی بمطابق 1841ء جب دریائے سندھ میں تباہ کن طوفان اور طغیانی برپا ہوئی تھی اس کے بعد کبھی یہ آواز سنائی نہیں دی۔
‏تاریخ ہزارہ 1854ء
‏
‏(نوٹ
‏⚫راجہ رسالو کا زمانہ دوسری صدی عیسوی بتایا جاتا ہے۔
‏⚫ ہزارہ گزٹئیر 1907ء کے باب ' تاریخ ' میں بھی اس واقعہ کی بابت تحریر کیا گیا ہے۔
‏⚫ جہانگیر بادشاہ اپنی توزک میں لکھتا ہے کہ جب ہم ہزارہ کے راستے کشمیر کے سفر میں تھے۔ ہم نے (ہرو) کے قریب سلطان پور میں پڑاؤ ڈالا تو اچانک ایک گرجدار آواز سنائی دی۔ میں نے چاروں طرف آدمی بھیج کر معلوم کرنے کی کوشش کی مگر کوئی پتہ نہ چل سکا۔ اس وقت آسمان پر دور دور تک بادلوں کا نشان بھی نہ تھا۔
‏⚫ قرب و جوار میں آباد لوگ قلعہ اور دیگر کھنڈرات کی موجودگی کی تائید کرتے ہیں۔)
‏

Address

Haripur

Telephone

+923012781311

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Hazaraewal Hind-Ko Dictionary-ہندکو لغت A Language of Sind Sagar Region posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share