17/08/2026
♓♓ہزارہ میں انارکی کا زمانہ♓♓
مہتاب سنگھ یوپی کا رہنے والا ہندو تھا نہ کہ پنجاب کا ایک سکھ، 1825ء میں وہ نوکری کی تلاش میں گھومتا پھرتا یہاں پنجاب چلا آیا جہاں راجہ رنجیت سنگھ کی حکومت میں تھی، اور ہزارہ میں ہری سنگھ نلوہ یہاں کا گورنر تھا۔ مہتاب سنگھ کی قابلیت دیکھ کر سردار ہری سنگھ نے اس نے کلکٹر کے عہدے پر رکھ لیا۔ کم و بیش 25 سال اس نے ہزارہ کے لوگوں سے مالیہ وصول کیا اس کے ساتھ ساتھ اس یہاں کے حالات سے آگاہی حاصل کی۔ سکھوں کی عملداری کے بعد بھی اس کی سروس جاری رہی اور ایک دن انگریز اسسٹنٹ کمشنر چیمبرلین نے اسے بلا کر کہا میں آپ پر ایک بھاری ذمے داری ڈالنا چاہتا ہوں، اور وہ یہ کہ آپ انتہائی ایمانداری سے ہزارہ کے حالات جیسے دیکھے اور سنے وہ قلمبند کر دو تا کہ تاریخ کا حصہ بن جائے۔ مہتاب سنگھ نے انتہائی محنت کے بعد 1854ء میں اسے فارسی تاریخ ہزارہ بعنوان "جنگ و خرد برد سنگھاں و درانیاں و سرکار دولتمدار" پیش کی. مہتاب سنگھ کہتا لوگ لگان کی ادائیگی کو خود پر الٹا بوجھ سمجھتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں قریب دو سو سال تک انارکی رہی ہے۔ وہ آگے چل کر کہتا ہے سکھ عملداری سے قبل کے یہاں کے حالات ایسے تھے کہ ہر طرف فتنہ و فساد برپا تھا، ہر آدمی خود سری کا دعویٰ دار تھا، وہ علاقے جو کشمیر کے گردونواح میں واقع ہیں ان علاقوں کے لوگ اتنے نڈر ہو گئے کہ ملکی سیاست اور سطوت شاہی کو خاطر میں نہ لاتے۔ دوسرے علاقوں کے لوگوں نے بھی اپنے اپنے مقامات پر حکومتیں تبدیل کر دیں۔ بالآخر تیمور شاہ کو اقبال مندی نصیب ہوئی ہے اور کابل سے کشمیر تک میدانی علاقے تیمور شاہ کے قبضے میں آ گئے۔ بادشاہ نے علی مردان نامی شخص کو چھچھ ہزارہ کی تنسیق و تنظیم پہ مامور کیا۔
بحوالہ اردو ترجمہ تاریخ ہزارہ مہتاب سنگھ صفحہ 36.
♓♓♓♓♓ ♓♓♓♓♓