Islamic Education

Islamic Education contact
03448889712
Jazakillah hu Khair...

I'm Online Holy Quran Teacher & giving Online Holy Quran classes,
which includes reading Holy Quran perfectly with tajweed,Norani Qaida,namaz,basic Masnoon,duain and other Islamic teachings.

28/09/2026

جو آپ کے ننانوے اچھے کاموں کو بھول کر آپ کی ایک غلطی کو پکڑ لے، اُسے انسان کہتے ہیں۔ اور جو آپ کی ننانوے غلطیوں کو بھول کر آپ کے ایک اچھے کام کو قبول کرتا ہے، اُسے "*الرحمان*" کہتے ہیں۔ ❤️

28/09/2026

احتسابِ ناصبیت اپنے موضوع پر اچھا ذخیرہ ہے۔ اہلِ علم حضرات بوقتِ ضرورت اس سے فائدہ اٹھائیں گے۔ فی الوقت تو اس ذخیرے کا کاٹن دیکھ کر ہی ایک شور و غوغا بپا ہے۔ یقیناً اس سے اہلسنت کے اندر تفریق و تقسیم کی صورت حال پیدا ہوگئی ہے۔

جس طرح کچھ صفحات کے پیراگراف کو انڈر لائن کرکے، یا ہائی لائٹ کرکے سوشل میڈیا پر شئیر کیا جا رہا ہے، یہ مزید انتشار اور بے چینی کا ذریعہ بن رہا ہے۔ اس انتشار اور تفریق سے یقیناً دو فریق خوشی محسوس کر رہے ہوں گے:

(1) خود کو اہلِ بیت کا حب دار کہنے والے مگر حقیقت میں اسلام دشمن لوگ۔ (تاریخ ان کے کردار کی گواہ ہے)
(2) نبی کریم ﷺ کی ذات و منصب کے دشمن۔ جو مختلف بھیس بدل کر نبی کریم ﷺ کی ذات اور آپ کی تعلیمات پر حملے کرتے رہتے ہیں۔

سوشل میڈیا پر اس ہنگامے سے کیا حاصل ہو رہا ہے؟

کچھ بھی نہیں......

ہاں! جن لوگوں کے دلوں میں ابھی تک کسی ایسی بات کا گمان نہیں تھا، جن کے دلوں میں تمام اصحابِ رسول ﷺ کی محبت بھری ہے، جو مشاجرات سے بے خبر یا بوجوہ لا تعلق ہے، یا وہ نئی نسل جو ہر صحابی رسول ﷺ کا نام سن یا پڑھ کر ادب سے ”رضی اللہ عنہ“ پڑھتی ہے، اس مسلسل ہنگامے سے ان صاف لوگوں کے دلوں میں شکوک و شبہات پیدا ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ وہ بھی اب جلیل القدر اصحابِ رسول کو ”طلقا طلقا“ کہہ کر تفریق کر رہے ہیں اور ان کی شان گھٹا رہے ہیں۔

یاد رہے۔۔۔۔

میں محرم الحرام کے دنوں سے مخلتف اصحابِ رسول ﷺ کے بارے میں روافض کا پروپیگنڈا، ان کے مغلظات، ان کے طعن و تشنیع اپنی وال پر پڑھ رہا ہوں۔

بہت سے سنی بھی ان کے پروپگنڈے میں آکر سیدنا امیر معاویہ ؓ، سیدنا ابوسفیان ؓ کو اصحاب رسول ماننے کو تیار ہی نہیں۔ کئی کومنٹس میں بار ہا یہ طلقا والا لفظ پڑھ چکا ہوں۔ سادہ لوح لوگوں کو پتا ہی نہیں کہ طلقا کا مطلب کیا ہے اور صحابی کی تعریف کیا ہے۔ وہ بس یہی سمجھتے ہیں کہ جو طلقا ہیں وہ نعوذ باللہ منافق اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ وہ تلوار کے ڈر سے مسلمان ہوئے اور پھر آپ ﷺ کی وفات کے بعد مرتد ہوگئے۔

اگر یقین نہیں آتا تو نہ کریں۔ لیکن حقیقت یہی ہے کہ حالات اس قدر بگڑ چکے ہیں کہ اگر یہی صورت حال رہی تو بعید نہیں کہ آپ کے گھروں اور مدرسوں سے روافض نواز سکالر اور گھروں سے خلیفہ ثالث سمیت بنو امیہ کے دیگر اصحاب کے خلاف باتیں سننے کو ملیں۔

یزید کی غلطیاں لوگ ان کے والد محترم کے کھاتے میں ڈال کر زبانِ طعن دراز کرتے ہیں۔ ابوسفیان ؓ کی اسلام سے قبل والی دشمنی کو لوگ اسلام کے بعد والی زندگی سے جوڑتے ہیں۔ یہ باتیں اب سوشل میڈیا سے نکل کر چوکوں چوراہوں تک بھی آنے والی ہیں۔

ضرورت ردِ ناصبیت کی بھی ہے اور اس سے بڑھ کر ضرورت رد را-فضیت کی ہے جو اہلسنت کے ایک بڑے طبقے خصوصاً دیوبند کے مدارس میں بھی سرایت کر چکی ہے۔ کئی طلباء اس کا شکار ہوچکے ہیں۔ یہ نہ ہو آپ لوگوں کو ناصبیت سے بچاتے بچاتے لوگوں کو دوسرے گڑھے میں دھکیلتے رہیں۔

مولانا شاہد عمران عارفی صاحب کے ایک کمنٹ سے اندازہ ہوا کہ حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب دامت برکاتہم نے جیسے رد قا- دیا نیت، حیات انبیاء علیہم الصلاۃ والسلام اور رد ناصبیت جیسے مجموعے شائع کیے ہیں ، ایک مجموعہ جو شاید بہت سی جلدوں میں ہوگا، رد را- فضیت میں بھی طبع ہوکر سامنے آئے گا۔

اگر واقعی ایسا ہے تو بہت خوشی ہوگی۔ معترضین کے زبانیں بھی بند ہو جائیں گے اور امت پر عظیم الشان احسان بھی ہوگا۔

بس ایک اپیل ہے کہ اس ناصبیت ناصبیت اور طلقا طلقا والی بحث کو سوشل میڈیا سے ختم کردیں۔ اس سے بہت سے لوگوں کا ذہن خراب ہو رہا ہے وہ اصحابِ رسول ﷺ کے بارے میں شکوک و شبہات کا شکار ہو رہے ہیں۔

اپنا ایمان بھی بچائیں اور لوگوں کا بھی۔
رسول اللہ ﷺ اور آپ کے اصحاب کا تذکرہ کریں اور لوگوں کے دلوں میں ان کی محبت، عظمت اور بلند شان راسخ کریں۔

محمد عثمان انصاری

27/09/2026

دوسروں کو ناصبی کہنے والا رافضی ہوتا ہے۔
شیخ عبدالقادر جیلانی
غنیۃ الطالبین صفحہ نمبر 80-85

ناصبیت نام کی کوئی مستقل جماعت یا گروہ سرے سے کبھی موجود نہیں تھا۔ یہ محض ایک گھڑی ہوئی اصطلاح ہے، جسے خارجی اور رافضی ح...
27/09/2026

ناصبیت نام کی کوئی مستقل جماعت یا گروہ سرے سے کبھی موجود نہیں تھا۔ یہ محض ایک گھڑی ہوئی اصطلاح ہے، جسے خارجی اور رافضی حلقوں نے اپنے اپنے بیانیے کے لیے استعمال کیا اور یوں اپنے دامن پر لگے داغ دھونے کی کوشش کی۔

زہریلی چھری!"عربوں نے پاکستان اور ترکی کے ساتھ دفاعی معاہدہ کر کے کمینگی دیکھائی۔" جواد نقویسعودی عرب، ترکی اور پاکستان ...
25/09/2026

زہریلی چھری!
"عربوں نے پاکستان اور ترکی کے ساتھ دفاعی معاہدہ کر کے کمینگی دیکھائی۔" جواد نقوی

سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کا مشترکہ دفاعی معاہدہ حرام اور کمینگی ہے۔ البتہ ذیل میں کچھ معاہدوں کی فہرست پیش خدمت ہے جو جواد نقوی کے مطابق عین حلال اور باعث خیروبرکت ہیں۔

1994 میں پاکستان نے او آئی سی کے ذریعے اقوام متحدہ کے کمیشن برائے انسانی حقوق میں جنیوا میں کشمیر پر ایک قرارداد پیش کرنے کی کوشش کی، جس کا مقصد ہندوستان کو تنقید کا نشانہ بنانا اور مسئلے کو بین الاقوامی بنانا تھا۔ جس کے بعد میں ایران نے کھل کر کشمیر پر انڈین موقف کی تائید کی اور اس قرارداد کی حمایت سے انکار کرتے ہوئے ہندوستانی وزیرخارجہ دینش سنگھ کے ساتھ ایک معاہدہ بھی کیا۔ یہ وہ دور تھا جب انڈیا کشمیر میں غزہ سے بڑھ کر مسلمانوں کا قتل عام کر رہا تھا۔

2001 میں پاسداران انقلاب نے افغانستان میں رجیم چینچ اور قبضہ کرنے کیلئے امریکہ کے ساتھ تاجکستان میں خفیہ معاہدہ کیا، جسکے مطابق ایران نے افغانستان میں رجیم چینج اور قبضہ کرنے میں امریکی اور نیٹو افواج کی مکمل عسکری اور انٹیلیجنس مدد کی، ایرانی افسران باقاعدہ افغانستان کے اندر امریکیوں کے ساتھ تھے۔ اسکا اعتراف جنرل قاسم سلیمانی کے نائب سمیت کئی ایرانیوں نے بارہا کیا ہے۔

2003 میں ایرانی پاسداران نے خفیہ معاہدے کے تحت امریکی برطانوی افواج کو بغیر لڑے عراق پر قبضہ کروایا۔ پاسداران کے مجاہد، امریکی افواج کے شانہ بشانہ کھڑے تھے. اسوقت سعودیہ نے امریکی اڈوں کو خالی کروا دیا تھا کہ سعودی سرزمین سے عراق پر قبضہ نہ ہو۔ جس کے بعد امریکی افواج نے قطر میں بیس بنایا اور ایران سے مدد لی۔ جیسے اس وقت سعودی عرب نے اپنی سرزمین سے ایران پر کوئی حملہ نہیں ہونے دیا۔

2003 میں ایران نے اپنے نیوکلیئر پروگرام کو بچانے کیلئے امریکہ اور عالمی ایٹمی ایجنسی کے ساتھ معاہدہ کیا، جسکے مطابق مراعات کے بدلے پاکستانی ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے ایران کے ساتھ تعاؤن کو بے نقاب کردیا اور پاکستانی ایٹمی پروگرام کو داؤ پر لگا دیا یوں پاکستان کی پیٹھ میں خنجر گھونپا۔

2004 میں پاسداران نے بھارت کے ساتھ مشترکہ دفاعی معاہدہ کیا ساتھ ہی فرمایا یہ "کسی ملک کے خلاف نہیں!" کیا کوئی بتا سکتا ہے کہ بھارت کس کے خلاف دفاعی معاہدے کرتا رہتا ہے؟

2011 میں مجاہدین پاسداران نے روس کے ساتھ شام کی عوام کو کچلنے کا معاہدہ کیا ایک ظالم حکمران کو بچانے کیلئے۔ اس معاہدے کے ذریعے ایران نے دس لاکھ سے زیادہ شامی مسلمانوں کو قتل کروا دیا۔

2011/2012 کے لگ بھگ پاسداران نے بھارتی خفیہ ایجنسی کے ساتھ چابہار میں اڈہ قائم کرنے کا خفیہ معاہدہ کیا. پاسداران انقلاب اسلامی فورس کے اڈوں کے درمیان کمانڈر کلبھوشن یادیو کا سیاحتی دفتر کھولا تھا جو "کسی کے خلاف نہیں تھا!" پھر اسکو مبارک حسین پٹیل کا شیعہ نام اور ایرانی کاغذات بھی دیے۔

2015 میں یمن جنگ پر پاکستان میں افراتفری پھیلانے کی کوششیں کی تاکہ پاکستان یمنی اور سعودی حکومتوں کا ساتھ نہ دے۔ پاکستان میں موجود جواد نقوی مارکہ پراکسیز کے ذریعے۔ ایرانی وزیر خارجہ اسلام آباد آ گئے ہمارے حکام کو ریاض جانے سے روکنے اور پیچھے سے بھارتی حکام کو سعودیہ بھیج دیا پاکستان کی پوزیشن خراب کرنے۔

2015 میں ایرانی پاسداران نے امریکہ اور بڑی طاقتوں کے ساتھ معاہدے کئے جن سے بے تحاشا مالی فوائد کے ساتھ ساتھ یہ معاہدہ بھی ہوا کہ مغرب اور ایران ملکر کام کریں گے۔ مشرق وسطی میں اور "عرب سپرنگ" ٹائپ بغاؤتوں کے ذریعے مسلمان بادشاہتوں کو گرائیں گے۔

2016 میں ایرانی پاسداران نے مودی جی اور افغان صدر کو چابہار معاہدے کیلئے مدعو کیا، گوادر کی توڑ میں۔ بلکہ اس پر بیانات بھی دیے۔ ایک ایرانی نے یہ بھی فرمایا کہ پاکستان میں تو دہشتگردی ہوتی ہے اور قطعی غیر محفوظ ملک ہے۔ گوادر کے بجائے ایران میں یہ سرمایہ کاری آنی چاہئے۔

پھر عین مئی 2025 کی پاک بھارت جنگ کے دوران ایران بھارت پہنچا اور ان کے ساتھ تجارتی معاہدہ کیا جس میں انکو تیل کی مسلسل فراہمی کی یقین دہانی کرائی۔ یاد رہے کہ جنگ میں گولہ باردو سے زیادہ تیل کی ضرورت رہتی ہے۔ بھارت کو خدشہ تھا کہ جنگ بڑھی تو پاکستان کی حمایت میں خلیج کے عرب ممالک بھارت کو تیل کی سپلائی روک سکتے ہیں۔ بھارت کا یہ مسئلہ ایران نے حل کروایا۔

پاکستان میں موجود جواد نقوی جیسے ایرانی پراکسیز ان معاہدوں پر کبھی بات نہیں کرتے نہ ان کو کمینگی کہتے ہیں۔ وہ ان کے ہر عمل کو درست، جائز اور حلال مانتے ہیں۔ لیکن پاکستان جس نے ایران کے لیے اپنا ایٹمی پروگرام داؤ پر لگا دیا تھا، یو اے ای سے تعلقات خراب کروا لیے وہ دنیا میں کسی کے ساتھ کوئی معاہدہ کرے یا سعودی عرب ایسا کچھ کرے یا ترکی کرے تو یہ سارے منافق اور کمینے ہیں اور ان کے اس قسم کے تمام معاہدے حرام اور ناجائز ہیں۔
اس نقلی سید اور (اصلی چوہڑے) پر نالت بھیج کر شئر کریں۔
شیطان ضرور روکے گا لا حول ولا پڑھ کر شیطان کو بھگائیں۔

سابق آل راؤنڈر اور باولنگ کوچ اظہر محمود کا کہنا ہے کہ عاقب جاوید نے رضوان کے خلاف سازش اس دن سے شروع کردی تھی جب رضوان ...
23/09/2026

سابق آل راؤنڈر اور باولنگ کوچ اظہر محمود کا کہنا ہے کہ عاقب جاوید نے رضوان کے خلاف سازش اس دن سے شروع کردی تھی جب رضوان کی قیادت میں بیس سال بعد پاکستان نے آسٹریلیا میں آسٹریلیا کے خلاف ون ڈے سیریز جیتی اور تاریخ میں پہلی بار ساؤتھ افریقہ کو ان کے گھر میں کلین سویپ کردیا تھا اس کے بعد چمپئنز ٹرافی میں رضوان کو کمزور ٹیم دے دی تاکہ ٹیم ہارجائے اور رضوان کی کامیابی کے سلسلے کو روکا جاسکے اور اسکے بعد کپتانی سے اسکو ہٹایاگیا اب جو گیم کھیلا جارہا ہے اور جو الزمات رضوان کے اوپر ہے اسکے پیچھے ایک ہی شخص ہے کیونکہ چمپئنز ٹرافی سے پہلے جسطرح پاکستان ٹیم نے پرفارمنس دی تھی آسٹریلیا اور افریقہ میں اسکے بعد یہ بات یقینی تھی کہ رضوان اگلے ون ڈے ورلڈ کپ میں بھی کپتان ہونگے اور یہ بات اس کو ہضم نہیں ہورہی تھی مستقبل میں دوبارہ کہیں رضوان کپتان نہیں بن جائے اب اسکی کیریئر کو ختم کرنے کا پلان بنادیاگیا ہے

21/09/2026

اے عشق تو نے اکثر قوموں کو کھا کے چھوڑا

نادرا کے ریکارڈ کے مطابق حسن خان سدوزئی کی تاریخ پیدائش 25 اکتوبر 2014 ہے یعنی اس وقت وہ 11 سال 11 ماہ کا ہے۔ اور بتایا ...
16/09/2026

نادرا کے ریکارڈ کے مطابق حسن خان سدوزئی کی تاریخ پیدائش 25 اکتوبر 2014 ہے یعنی اس وقت وہ 11 سال 11 ماہ کا ہے۔

اور بتایا جارہا ہے کہ حسن خان نے جرم کا اعتراف کرلیا ہے۔ لیکن جرم کا اعتراف تو عثمان نے بھی کیا تھا ؟ 164 کا بیان تھا؟ لیکن نئی تفتیشی ٹیم اس کو کلین چٹ دے رہی ہے ۔ تو کل کو کرائم برانچ آئی تو پھر کیا حسن کا 164 کا بیان اسٹینڈ کرے گا؟

اس لئے فرانزک اور سائنسی شواہد سامنے لانے پڑیں گے ۔ یہ ثابت کرنا پڑے گا کہ اگر 5 سال کی بچی کو 90 فٹ گہرے کنویں میں پھینکا جائے تو کیا صرف رانوں کی ہڈیاں ہی ٹوٹیں گی؟

یہ بھی ثابت کرنا پڑے گا کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں جو درندگی کی انتہا بتائی گئی ہے کیا وہ ایک 12 سالہ لڑکے کیلئے ممکن ہے؟

سوالات اٹھیں گے اور پولیس کو جواب دینا پڑے گا۔۔۔۔

تاریخ اسلام قسط وار بعوان رہبر کامل قسط نمبر 34https://whatsapp.com/channel/0029Vap1DG6CxoAs4fRUEK1gمسلمانوں اور یہود-یو...
10/09/2026

تاریخ اسلام قسط وار بعوان رہبر کامل قسط نمبر 34
https://whatsapp.com/channel/0029Vap1DG6CxoAs4fRUEK1g
مسلمانوں اور یہود-یوں میں کش مکش کا آغاز ہوتا دیکھ کر قریش یہو-د کو ساتھ ملانے کا سوچنے لگے۔

پہلے انہوں نے مدینہ میں بسنے والے یہود-یوں سے خفیہ طور پر حلیفانہ تعلقات استوار کرنے کا فیصلہ کیا۔ یہ کام بنو امیہ کے رئیس ابوسفیان بن حرب کے سپرد ہوا ۔ ابوجہل ، ابولہب اور عتبہ جیسے رئیسوں کی ہلاکت کے بعد ابو سفیان کو قریش کا قابل ترین فرد مانا جاتا تھا۔ ابو سفیان نے دو سو افراد کے ساتھ مدینہ کا رخ کیا اور یہو-د بنو نضیر کے قلعوں میں قیام کیا، یہاں کے رئیس سلام بن مِشْکَم سے اتحاد و تعاون کے عہد و پیمان ہوئے۔

واپسی میں ابو سفیان نے جاتے جاتے مدینہ کے ایک نخلستان کو نذر آتش اور ایک انصاری کو شـ ـہید کر دیا نبی اکرم ﷺ نے خبر ملتے ہی تعاقب کیا، مگر مکہ والے فرار ہو گئے ۔ بھاگتے ہوئے وہ اپنا ستوؤں کا توشہ پھینکتے گئے۔ ستو کو عربی میں ”سَویق“ کہتے ہیں، لہذا یہ مہم غزوہ سویق کہلاتی ہے۔
۔✯✯✯

قریش کے مسلح افراد کو اپنے ہاں جگہ دینے اور انہیں مدینہ میں کارروائی کا موقع فراہم کر کے بنو نضیر بھی اہل مدینہ سے معاہدے کی پاس داری کو مشکوک کر چکے تھے۔

بنو نضیر کا ایک رئیس کعب بن اشرف اسلام دشمنی میں زیادہ سرگرم تھا، وہ شاعر بھی تھا اور اپنے اشعار سے مجمعے میں آگ لگا دیتا تھا۔ اب وہ اپنے اشعار میں مسلم خواتین کو ہوس ناک تخیل کا نشانہ بنانے لگا، اس کی یاوہ گوئی سے نبی کریم ﷺ بھی محفوظ نہ تھے۔ اس وقت اس نے حد ہی کر دی جب وہ مکہ جا کر قریش کے سرداروں سے ملا اور بدر کے مقتو-ل مشرکین کی یاد میں ایسے دردناک اشعار کہے کہ حاضرین سراپا انتقام بن گئے۔ میثاق مدینہ کے خلاف یہ سرگرمیاں اسلامی حکومت سے کھلی بغاوت اور بہر حال قابل سزا تھیں۔

حضور ﷺ في الحال بنو نضیر سے جنگ چھیڑنا نہیں چاہتے تھے مگر حد سے زیادہ فتنہ پھیلانے والوں کو مزید شر انگیزی کا موقع دینا بھی مناسب نہ تھا۔ اس لیے آپ نے ایک دن فرمایا:
”کون ہے جو کعب بن اشرف کو ٹھکانے لگائے؟“

محمد بن مسلَمہ ؓ نے اس کام کا ذمہ لیا اور ساتھ اشرف سے کچھ باتیں کرنے کی اجازت مانگی جو آپ ﷺ نے عطا فرما دی۔

محمد بن مسلَمہ ؓ قرض لینے کے بہانے کعب بن اشرف کے قلعے میں پہنچے اور ملاقات کے دوران ایسی باتیں کہیں جن سے یہ ظاہر ہوتا تھا کہ اسلام کے لیے صدقہ خیرات دے دے کر وہ مالی بوجھ تلے دب گئے ہیں۔ کعب نے کہا:
”اللہ کی قسم یہ پیغمبر تمہیں مزید تنگ کریں گے۔“

جب قرض کی بات آئی تو کعب نے بدلے میں گروی رکھنے کے لیے عورتوں یا بچوں کا مطالبہ کیا۔ محمد بن مسلَمہ ؓ نے کہا:
” عورتوں کو تم جیسے عرب کے حسین ترین شخص کے پاس کیسے چھوڑا جا سکتا ہے۔ بچوں کو یر غمال رکھوایا تو قرض کے بدلے گروی رکھنے کا طعنہ ساری زندگی ملتا رہے گا۔ ہاں ہم اپنا اسلحہ تمہارے پاس رکھوا سکتے ہیں۔“

کعب بن اشرف اس پر راضی ہو گیا۔ محمد بن مسلَمہ ؓ رات کو دو تین ساتھیوں سمیت اسلحہ اٹھائے اس کے قلعے میں پہنچ گئے۔ محمد بن مسلَمہ ؓ ساتھیوں کو سمجھا چکے تھے کہ جب میں اشارہ کروں تو اس پر ٹوٹ پڑنا۔

آخر کعب بن اشرف سے ملاقات ہوئی ۔ اس وقت اس نے بہترین خوشبو لگائی ہوئی تھی۔ محمد بن مسلَمہ ؓ کہنے لگے:
”ایسی خوشبو میں نے کبھی نہیں سونگھی تھی ۔“

وہ شیخی میں آکر کہنے لگا:
”ہاں میرے پاس عرب کی سب سے زیادہ خوشبودار اور حسین ترین عورت ہے۔“

محمد بن مسلَمہ ؓ نے کہا:
”کیا مجھے اجازت ہے کہ تمہارے سر کی خوشبو سونگھوں ؟“

کعب نے ”ہاں“ کہہ کر جونہی سر آگے کیا محمد بن مسلَمہ ؓ نے اسے دبوچ لیا اور ساتھیوں کو کہا اسے ”نمٹا دو۔“ یوں اسلام کے اس دشمن کا کام تمام ہو گیا۔

حضور ﷺ ایک بیٹی ام کلثوم ؓ اب تک کنواری تھیں ۔ ادھر رسول اللہ ﷺ کی بیٹی رقیہ ؓ کی وفات کے بعد حضرت عثمان غنی ؓ بھی تنہا ہوگئے تھے۔ حضور ﷺ نے سیدہ ام کلثوم کے نکاح کے لیے مناسب رشتے پر غور کیا تو اب بھی عثمان عثمان غنی ؓ سے بہتر کوئی نہ تھا۔ چنانچہ جمادی الآخرۃ 3 ہجری میں بیٹی کی انہی سے شادی کر دی۔
۔✯✯✯

قریش ایک طرف تو بدر کا انتقام لینے کے لیے جنگ کی تیاریاں کر رہے تھے، دوسری طرف اس سال انہوں نے موسم گرما کا تجارتی قافلہ شام کی بجائے عراق بھیجنے کا فیصلہ کیا، کیوں کہ مدینہ کے آس پاس سے گزرنا اب ان کے لیے بہت خطرناک ہو چکا تھا۔ صفوان بن امیہ اور ابوسفیان کی قیادت میں قافلہ مکہ سے عراق کی طرف روانہ ہوا جس کے سامان میں چاندی کا بڑا ذخیرہ شامل تھا مگر راستے میں نجد کی سنگلاخ زمین سے گزرتے ہوئے ”قرْدہ“ کے مقام پر انہیں حضور اکرم ﷺ کے بھیجے ہوئے مسلح مجا-ہدین سے پالا پڑ گیا، جو زید بن حارثہ ؓ کی کمان میں تھے۔ مکہ والوں کو سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر واپس بھاگنا پڑا۔ ان کا مال و اسباب جو مسلمانوں کے ہاتھ آیا، ایک لاکھ درہم کا تھا۔
(جاری ہے)
تاریخ امت مسلمہ جلد اوّل 255

آج کی قسط مختصر ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آگے جنگ احد کا واقعہ شروع ہو رہا ہے، وہ تقریباً دو مکمل قسطوں میں آئے گا اور قسطیں بھی ذرا لمبی ہوں گی۔ اس لیے آج کی قسط مختصر ہے۔

محمد عثمان انصاری

Address

Haripur
Haripur

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Islamic Education posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share