28/03/2026
Statistics Online Tuition
To help people on basic statistics
especially in descriptive statistics.
28/03/2026
اگر آپ خوش رہنا چاہتے ہیں، تو آج ہی ان 7 قسم کے لوگوں کو اپنی زندگی سے نکال باہر کریں!
نمبر 1: نیگیٹو سوچ رکھنے والے لوگ، جو ہر اچھی بات میں برائی ڈھونڈتے ہیں اور آپ کو ہر قدم پر روکتے ہیں۔
نمبر 2: منافق اور دوغلے لوگ، جو سامنے کچھ اور، پیٹھ پیچھے کچھ اور ہوتے ہیں—یہ کبھی قابلِ اعتماد نہیں ہو سکتے۔
نمبر 3: خودغرض لوگ، جو صرف اپنے فائدے کے وقت آپ کے قریب آتے ہیں، اور مشکل میں غائب ہو جاتے ہیں۔
نمبر 4: وہ لوگ جو آپ کو صرف استعمال کرتے ہیں—چاہے وہ آپ کا وقت ہو، پیسہ ہو یا جذبہ، بس اپنا کام نکالنا آتا ہے۔
نمبر 5: وہ جو آپ کے ماضی کی غلطیاں بار بار یاد دلا کر آپ کو آگے بڑھنے نہیں دیتے۔
نمبر 6: بدتمیز اور بے ادب لوگ، جو نہ آپ کی قدر کرتے ہیں، نہ عزت۔
نمبر 7: حسد کرنے والے، جو آپ کی خوشی اور کامیابی سے جلتے ہیں۔
یاد رکھیں! آپ کی خوشی آپ کے اپنے ہاتھ میں ہے۔ ان لوگوں کو فارغ کریں… اور سکون کی سانس لیں۔
Very important message for all
تحریر کو ایک بار لازمی پڑھیں یہ آپ کی زندگی کے لیے بہت اہم ہے شکریہ
*تتلیاں، خبیث اور خبیثنیاں ۔۔۔۔*
سن 1982 میں امریکی ریاضی دان اور ماہر ماحولیات ایڈورڈ لورینٹز نے ایک نظریہ پیش کیا۔ اس نظریے کے مطابق ایک تتلی اگر برازیل میں، اپنے پنکھ پھڑپھڑائے تو اس سے ٹیکساس میں ایک بھیانک طوفان آ سکتا ہے۔ اس نظریے کو انہوں نے بٹر فلائی ایفیکٹ (Butterfly Effect) کا نام دیا تھا۔
ایڈورڈ کا اپنے نظریے میں کہنا ہے، کہ ہر جاندار چیز سے کوئی بھی کام اتفاقاً نہیں ہوتا بلکہ یہ ’’بٹر فلائی ایفیکٹ‘‘ ہوتا ہے جس سے شروع ہونے والا عمل ایک کڑی سے جڑ کر، دوسری کڑی اور اسی طرح جڑتے جڑتے کہیں دور اپنے اختتام کو پنہچتا ہے۔
یہButterfly Effect طبیعیات میں ’’نظریۂ انتشار‘‘ نظریہ شواش (chaos تھیوری) کا ایک اہم حصہ ہے۔ اس کا سادہ سا مطلب ہے کہ ابتدائی کیفیت میں چھوٹی چھوٹی سی تبدیلیاں بعد میں آنے والی بہت بڑی تبدیلیوں کو جنم دی سکتی ہیں۔
یہ نظریہ یعنی Butterfly Effect ہماری توجہ ان عوامل کی جانب مبذول کراتا ہے جو بظاہر ایک معمولی دکھائی دینے والی تبدیلی کے نتیجے میں حیران کن نتائج دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
وقت کرتا ہے پرورش برسوں
حادثہ ایک دم نہیں ہوتا
آئیے اس بات کو دو مثالوں سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کہ بٹر فلائی افیکٹ کیا ہے؟
ہنگری کا ایک شہزادہ 1914 میں اپنی بیگم کے ساتھ بوسنیا کی سڑکوں پر گھومنے نکلا۔ گھومتے گھومتے وہ غلط طرف میں نکل گئے۔اُسی وقت ایک انقلابی شخص جو وہاں پر کھانا خریدنے آیا تھا، دونوں میاں بیوی کو دیکھ کر رکا اور انہیں گولی مار دی۔اِس واقعہ کے بعد ہنگری نے سَربیا پر حملہ کر دیا۔ روس نے ہنگری کا ساتھ دیا جس کے ساتھ دیکھتے ہی دیکھتے دنیا کے 32ممالک اِس جنگ کا حصہ بن گئے۔اِس جنگ کو لوگ پہلی جنگِ عظیم یا ورلڈ وار 1 کے نام سے جانتے ہیں۔اِس جنگ میں تقریبا 2کروڑ لوگ مارے گئے۔
اسی طرح کہا جاتا ہے کہ گاندھی ایک بار ٹرین کے اپر کلاس ڈبےمیں بیٹھا۔ ٹکٹ چیکر نے اسے اس کی ظاہری حالت دیکھتے ہوئےدھکے مار کر ادھر سےنکال باہر کیا۔ اس واقعے کے بعد گاندھی نے ٹھان لی کہ وہ ہندوستان سے انگریزوں کو نکال کر رہے گا۔
بظاہرگاندی کا تحریک آزادی شروع کرنا ہو یا شہزادے کا قتل معمولی واقعات ہیں لیکن ان کا اختتام معمولی نہیں تھا بلکہ دنیا کے جغرافیہ میں تبدیلی ثابت ہوا۔۔
بلا سوچے سمجھے اور بغیر کسی دور اندیشی کے کیے جانے والے فیصلے آغاز میں بظاہر ویسے ہی بے ضرر دکھائی دیتے ہیں، جیسا کسی تتلی کے پروں کی پھر پھراہٹ، مگر وہی فیصلے بعد میں کئی نسلوں کے لیے روگ بن جاتے ہیں اور ایسے طوفان کا پیش خیمہ ثابت ہوتے ہیں، جو اپنے ساتھ خس و خاشاک کی طرح سب کچھ بہا لے جاتا ہے۔
ابتدا میں تو اس تھیوری کو صرف ماحولیات کے لئے پیش کیا گیا لیکن آہستہ آہستہ اس کا اطلاق دیگر علوم پر بھی ہوتا گیا اور اس کے حیرت انگیز نتائج مرتب ہوتے گئے بلکہ ہو رہے ہیں۔۔ اس تھیوری پر اسی نام سے یعنی Butterfly Effect نامی ایک بہت خوبصورت فلم بھی بنائی گئی جس میں اس تھیوری کو بہت عمدہ طریقے سے سمجھایا گیا ہے۔۔
اس فلم میں تو جو ابتدائی غلطی یا بگاڑ پیدا ہوتا ہے جو بعد میں ایک بڑے سانحہ کی شکل اختیار کرتا جاتا ہے کو درست کرنے کے لئے ہیرو کو ماضی میں جا کر شروع ہی سے اس معمولی غلطی کو درست کرنا پڑتا ہے۔۔ جبکہ حقیقی زندگی میں ایسا کوئی آپشن ہمارے پاس موجود نہیں۔۔ سوائے مذہب یا اخلاقیات کے جس میں اپنی غلطی کو سدھارنے کا موقع معافی اور توبہ سے نئے سرے سے شروع کیا جا سکتا ہے۔۔
اسلام کی اصطلاح میں ایسی غلطی یا گناہ کے سدھارنے کو "توبہ النصوح" یعنی ایسی خالص توبہ جس کے بعد دوبارہ گناہ کا خیال بھی نہ آئے کہا جاتا ہے ۔۔ جبکہ انگریزی میں اصل معافی اسے کہا جاتا ہے جس کے بعد رویہ بھی تبدیل ہو۔۔
" A real apology is changed behavior"
کیا ہم یہ بات بخوبی جانتے ہیں کہ اس کائنات میں ہماری قریبی ترین ہستی میں سب سے زیادہ اصلاح اور تربیت کی ضرورت کسے ہے؟
یقینا اسے ہو گی جس کا ہمارے ساتھ سب سے زیادہ اور گہرا تعلق ہو گا۔ جسے ہمارے ساتھ تاقیامت رہنا ہو گا۔۔ آپ اولاد یا والدین یا بیوی کو سوچ رہے ہوں گے جبکہ ایسا بالکل نہیں ہے۔۔
جسے سب سے زیادہ تربیت اور اصلاح کی ضرورت ہے وہ آپ کی اپنی ذات ہے۔جس کے اللہ کریم نے دو حصے بنائے ہیں ایک نفس جو بدن کے افعال کا ذمہدار ہے اور دوسرا روح جو نفس کے محاسبہ اور آخرت میں کامیابی کی ذمہدار ہے۔۔ اسی لئے حدیث پاک ہے کہ " اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے" اعمال جسم سے ہوتے ہیں جبکہ نیت شائد لاشعور میں کہیں سے پیدا ہونے والی ایک تحریک ہے۔۔ جس کی زمہدار ایک طاقتور روح یا ایک طاقتور نفس ہے۔
رسول اللہ ﷺ سے روایت ہے کہ: "انسانی جسم کے اندر گوشت کا ایسا لوتھڑا ہے کہ اگر وہ صحیح ہو تو پورا جسم صحیح رہتا ہے، اور اگر اس میں خرابی پیدا ہوجائے تو پورا جسم خراب ہوجاتا ہے۔ جسم کا یہ حصہ دل ہے۔"
یعنی اگر نفس کوئی شرارت کرے گا اور روح اسے روکنے میں ناکام رہی تو قبر میں آخرت میں جسم کی شرارت کا خمیازہ روح بھی بھگتے گی۔۔ اور اگر روح نے ہمارے جسم کو شرارتوں سے روکے رکھا تو قبر میں آسانیاں روح کے ساتھ جسم کو بھی ملیں گے۔۔ یعنی تاقیامت اگر کسی کا آپ کے ساتھ تعلق ہے تو وہ آپ کی روح اور نفس کا جو ایک دوسرے کے ذمہ دار ہیں اسی لئے جہنم میں جلیں گے بھی تو دونوں کیونکہ ایک دوسرے کے ہاتھوں اس مقام تک پہنچے ہوں گے اور اگر جنت کی نعمتوں کا لطف اٹھائیں گے بھی تو دنوں کیونکہ دنیا میں دونوں نے مشکلات میں ایک دوسرے کی مدد کی ہو گی۔۔ اس بات کو سمجھنے کے لئے میں آپ کی خدمت میں چند مثالیں پیش کرتا ہوں جو دراصل آج کی اس تحریر کا اصل موضوع بھی ہے۔۔۔۔
بخاری شریف کی حدیث پاک میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ مدینہ یا مکے کے ایک باغ میں تشریف لے گئے۔ (وہاں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو شخصوں کی آواز سنی جنھیں ان کی قبروں میں عذاب کیا جا رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان پر عذاب ہو رہا ہے اور کسی بہت بڑے گناہ کی وجہ سے نہیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بات یہ ہے کہ ایک شخص ان میں سے *پیشاب کے چھینٹوں سے بچنے کا اہتمام نہیں کرتا تھا* اور دوسرا شخص چغل خوری کیا کرتا تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (کھجور کی) ایک ڈالی منگوائی اور اس کو توڑ کر دو ٹکڑے کیا اور ان میں سے (ایک ایک ٹکڑا) ہر ایک کی قبر پر رکھ دیا۔ لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ یا رسول اللہ! یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیوں کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس لیے کہ جب تک یہ ڈالیاں خشک ہوں شاید اس وقت تک ان پر عذاب کم ہو جائے۔
یہ Butterfly Effect کی ایک بہترین مثال ہے۔۔ اس حدیث پاک میں لفظ "پیشاب کی چھینٹوں سے بچنے کا اہتمام" جس کا مطلب جو بھی شخص تھا وہ جان بوجھ کر اس عمل کو اختیار کئے ہوئے تھا ۔ ناکہ غلطی سے تو اس کا نتیجہ اس کے بدن کی ساتھ اس کی روح کو بھی بھگتنا پڑھ رہا تھا۔۔ اب پیشاب کی چھینٹوں سے آج کے دور میں یا تو جوتے گندے ہوں گے یا کپڑے جسم تو پھر بھی بچا رہے گا ۔۔ مگر اگر آپ یہ کام deliberately کر رہے ہیں تو آپ اس چھوٹی سی حرکت کا خمیازہ ایک نہ ختم ہونے والی زندگی میں بھگتے رہیں گے۔۔ اسی طرح ایک عام غلطی جسے ہم کبھی سوچتے بھی نہیں اور ہماری خواتین خود بھی اور اپنے بچوں کو بھی اس سے منع نہیں کرتیں وہ ہے۔ نہانے والی جگہ پر پیشاب کرنا۔۔ اس کی دو صورتیں ہیں ایک تو یہ کہ بچوں کو اور خصوصا لڑکیوں کو یہ سمجھایا ہی نہیں جاتا اور وہ نہاتے ہوئے اس عمل کے مرتکب ہوتے ہین۔۔ اور دوسرا خواتین اپنے بچوں کو آج کل کے واش روم میں لے جا کر کموڈ پر بٹھانے کی بجائے کہیں بھی بٹھا کر رفع حاجت کرا دیتی ہیں۔۔ حدیث شریف میں نہانے کے دوران یا نہانے کی جگہ پر رفع حاجت ( پیشاب) کرنے کے کئی نقصانات وارد ہوئے ہیں۔۔ مثلا
عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص ہرگز ایسا نہ کرے کہ اپنے غسل خانے (حمام) میں پیشاب کرے پھر اسی میں نہائے“۔ احمد کی روایت میں ہے: پھر اسی میں وضو کرے، کیونکہ اکثر وسوسے اسی سے پیدا ہوتے ہیں۔
صحابہ کرام، صوفیاء کرام اور علماء دین اس بات پر متفق ہیں کہ حمام یعنی نہانے کی جگہ پر پیساب کرنے سے "وسوسوں" کی بیماری پیدا ہوتی ہے۔۔۔
اِتباعِ شیطان کا سب سےبڑااور بنیادی سبب وسوسوں کی پیروی ہے کیوں کہ گناہ کروانے اور نیکیاں چھڑوانے میں وسوسے پیدا کرنا شیطان کا سب سے بڑا ہتھیار ہے۔۔جیسا کہ قرآن کریم میں ارشاد باری تعالٰی ہے
الَّذِي يُوَسْوِسُ فِي صُدُورِ النَّاسِ
ترجمہ: میں اس سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں جو انسانوں کے سینوں میں وسوسہ ڈالتا رہتا ہے۔
اور ان وسوسوں کا علاج قران نے یوں ارشاد فرمایا کہ
وَإِمَّا يَنْزَغَنَّكَ مِنَ الشَّيْطَانِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللَّهِ
ترجمہ: جب بھی شیطان تمہیں کوئی وسوسہ ڈالے تو اللہ کی پناہ مانگ لیا کرو۔
مندرجہ بالا آیات سے ثابت ہوا کہ صرف واش روم میں نہاتے ہوئے پیشاب کرنا یا نہانے کی جگہ پر پیشاب کرنا سے وسوسوں کی بیماری لگتی ہے اور وسوسہ ڈالنا شیطان کا کام ہے۔ یعنی ایک غیر زمہداری کے کام سے ہم شیطان کے استعمال میں چلے جاتے ہیں ۔۔ یہ وسوسے جو شروع میں تو صرف روح پر وار کرتے ہیں ۔ لیکن آگے چل کر یہ جسمانی امراض جنہیں ڈپریشن، anxiety، اعصابی مسائل اور ان اعصابی مسائل سے ایک قدم آگے بلڈ پریشر اور دل کے امراض جسم کو ناکارہ کر دیتے ہیں اور یوں کہنے کو تو موت ہارٹ اٹیک یا گردوں کے ناکارہ ہونے سے ہوتی ہے جبکہ اس کو شروع ہم ایک معمولی بد احتیاطی سے کرتے ہیں۔۔ آج ہمارے معاشرے کے سب سے بڑے المیہ میں بے توکلی، ذہنی انتشار کے امراض ہیں۔ جن کو اس خبیث نے وسوسوں کی صورت میں ہمارے خواتین اور ہمارے بچوں میں ڈالا تھا۔۔
اگر آپ روز مرہ کی وہ دعائیں دیکھیں جو حضور نبی کریمﷺ مانگا کرتے تھے تو اس میں بیت الخلا، یا واش روم کیونکہ آجکل تو یہ اٹیچ ہے ۔۔ کی دعا میں عجیب الفاظ ہیں۔۔
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ آلہ وسلم جب بیت الخلاء میں داخل ہوتے تو کہتے :
اَللّٰهُمَّ إِنِّيْ أَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْخُبُثِ وَالْخَبَائِثِ.
بخاری، الصحيح، کتاب الوضو، باب ما يقول عند الخلاء، 1 : 66، 142
*’’اے اللہ بے شک میں خبیث جنّوں اور خبیث جنّنیوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔‘‘*
نبی کریمﷺ کے زبان اطہر سے نکلی ہوئی ہر بات حق ہے اور سچ ہے اگر آپ کریمﷺ نے بیت الخلا یا واش روم کی دعا میں خبیث جنوں اور جننیوں سے پناہ طلب کی ہے تو اس میں کوئی شک نہیں کہ ہماری روح اور جسم پر وار کرنے کے لئے جنات کی سب سے پسندیدہ جگہ ہمارے واش روم ہیں اور ہماری ایک چھوٹی سی نادانی ان خبیثوں کو ہم پر ہماری اولاد پر اور ہماری خواتین پر اختیار دے دیتی ہے۔۔ آج جو بچہ یا خاتون نہاتے ہوئے طہارت کا خیال نہی رکھ رہی تو اس کا مطلب ہے وہ مستقبل کے نفسیاتی مریض پیدا کر رہی ہیں۔ جو قاتل بھی ہو سکتے ہیں، چور ڈاکو بھی اور آج ایک خاتون مرد یا بچہ بے احتیاطی برتے گا آنے والے سو سالوں میں پورا ایک قبیلہ نفسیاتی مریضوں کا موجود ہو گا۔۔
جس طرح نبی کریمﷺ نے ایک سبز ٹہنی رکھ کر ان قبروں کا عذاب کم کیا۔۔
ہمیں بھی آج اپنے نبی کریمﷺ کی پناہ میں آنا ہو گا اور ان کی ماننی ہوگی اور صرف اپنے آپ اور اپنی اولاد پر کام کر کے ہم اپنے معاشرے کی بڑی اذیتوں نفسیاتی المیہ کو ختم کرنے کا باعث ہو سکتے ہیں۔۔
نعمتیں بانٹتا جس سمت وہ ذیشان گیا
ساتھ ہی منشیء رحمت کا قلمدان گیا
دل ہے وہ دل جو تِری یاد سے معمور رہا
سر ہے وہ سر جو ترے قدموں پہ قربان گیا
اُنہیں جانا، اُنہیں مانا نہ رکھا غیر سے کام
للہِ الحمد میں دنیا سے مسلمان گیا
منقول
پاکستان میں رہنے کے بیس اصول جن پر عمل کرنا لازمی ہے
میری ناقص رائے کے مطابق پاکستان میں زندگی گزارنے کے لیے کچھ ایسے اصول اور رویے اپنانا بے حد ضروری ہیں جو ہمارے معاشرتی نظام اور عمومی رویوں کے مطابق ہوں۔ یہاں کے معاشرتی، اقتصادی، اور سیاسی حالات ایسے ہیں کہ اگر آپ ان کا ادراک نہ کریں اور حکمت عملی سے زندگی نہ گزاریں تو آپ کو مختلف مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اسی مقصد کے لیے آپکو بیس ایسے اصولوں سے متعارف کرنے کی کوشش کی ہے جن ہر عمل کر کے آپ پاکستان میں اپنے لیے کئی آسانیاں پیدا کرسکتے ہیں اور غیر ضروری مشکلات سے بچ سکتے ہیں.
1. اپنی حیثیت اور طاقت کو پہچانیں:
پاکستان میں رہنے کا ایک اہم اصول یہ ہے کہ آپ اپنی حیثیت اور طاقت کو ہمیشہ ذہن میں رکھیں۔ آپ جتنے بھی مضبوط ہوں، معاشرے میں اپنی حیثیت کو قبول کریں اور یاد رکھیں کہ آپ کے مقام سے بڑے لوگوں سے ٹکرانا آپ کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ چاہے وہ معاشرتی ہو، سیاسی ہو، یا معاشی طاقت کے حامل ہوں، ہمیشہ اپنے آپ کو بچانے کی کوشش کریں۔ طاقتور لوگوں کے ساتھ الجھنے سے گریز کریں کیونکہ اگر وہ کوئی قدم اٹھا لیں تو آپ کو اس کا جواب دینے کی سکت نہیں ہوگی اور آپ مسائل میں الجھ سکتے ہیں۔
2. سڑک پر احتیاط برتیں:
پاکستان میں سڑکوں پر چلتے وقت خاص طور پر محتاط رہنا ضروری ہے۔ اگر آپ بائیک یا گاڑی چلا رہے ہیں تو بڑی گاڑیوں سے فاصلہ برقرار رکھیں، کیونکہ اکثر مہنگی گاڑیوں میں ایسے لوگ بیٹھے ہوتے ہیں جو آپ کی زندگی یا جائیداد کو کوئی اہمیت نہیں دیتے۔ اگر آپ کسی بڑی گاڑی کے ساتھ حادثہ کرتے ہیں، تو یقین کریں کہ اس کا مالک یا ڈرائیور آپ کی زندگی کو تکلیف میں ڈال سکتا ہے، اور آپ کے پاس اس کا جواب دینے کا موقع بھی نہیں ہوگا۔ خاص طور پر پروٹوکول والی گاڑیوں سے دور رہنے کی کوشش کریں، کیونکہ ان کے ڈرائیور قوانین کی پرواہ نہیں کرتے اور ان سے الجھنا آپ کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے۔یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اکثر دو کروڑ کی گاڑی میں بندہ دو ٹکے کا ہوتا ہے اس لیے دو ٹکے کے بندے سے الجھنے سے گریز کریں.
3. سیاسی اور مذہبی بحثوں سے گریز کریں:
ہر ممکن کوشش کریں کہ آپ سیاسی اور مذہبی بحثوں میں نہ الجھیں ۔ چاہے یہ بحث فیس بک کی پوسٹ پر ہو، یا کسی دوست یا عزیز کے ساتھ، ہمیشہ یاد رکھیں کہ پاکستان میں اس وقت برداشت Tolerance کا فقدان ہے اور اکثر لوگ باتوں کو سمجھے بغیر جذباتی ہو جاتے ہیں۔ کسی بھی وقت آپ کی بات پر ردعمل شدید ہو سکتا ہے، اور یہاں تک کہ آپ پر کوئی فتوٰی لگا دیا جا سکتا ہے۔ اس لیے اپنے خیالات کو اعتدال میں رکھیں اور ایسے مباحثوں سے بچیں جو آپ کو مشکلات میں ڈال سکتے ہیں۔
4. بڑا اصلاحی کردار ادا کرنے سے گریز:
یہاں آپ کو یہ سمجھنا ہوگا کہ آپ پورے معاشرے کو ایک بہتر نظام میں نہیں بدل سکتے۔ اس لیے انسانی فلاح و بہبود میں اپنا کردار ضرور ادا کریں لیکن یہ کوشش نہ کریں کہ آپ ہر چیز کو ٹھیک کر سکیں گے۔ یہ یاد رکھیں کہ یہاں آپ کے چھوٹے سے عمل کو بھی غلط انداز میں لیا جا سکتا ہے اور آپ کو اس کے نتیجے میں شدید ردعمل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ چھوٹے، عملی اقدامات کریں اور جہاں آپ کا اختیار ہے وہیں تک کام کریں۔
5. فیس بک اور سوشل میڈیا پر محتاط رہیں:
سوشل میڈیا پر خاص طور پر فیس بک پر سیاسی پارٹیوں یا پھر Establishment یا نظام پر تنقیدی پوسٹس یا تبصروں سے گریز کریں۔ حکومتی ادارے آپ کی سرگرمیوں پر نظر رکھتے ہیں اور آپ کو اندازہ نہیں ہوتا کہ کس بات پر آپ کی پوسٹ ان کی نظر میں آ جائے اور آپ کے خلاف کارروائی ہو جائے۔ یہ بات بھی ذہن میں رکھیں کہ چند جذباتی الفاظ آپ کے لیے مشکل پیدا کر سکتے ہیں۔ اس لیے بہتر ہے کہ آپ سوشل میڈیا پر غیر ضروری مباحثوں میں الجھنے سے گریز کریں اور اپنی بات کو محتاط انداز میں پیش کریں۔جب حکومت یا اداروں کی طرف سے کچھ باتوں کو پسند نہیں کیا جاتا تو خوامخواہ چیمپین نہ بنیں.کوئی ادارہ کیسا ہے اور کیسا نہیں اس پر اپنی رائے ضرور رکھیں لیکن ہر جگہ نہ ڈھنڈورا پیٹیں اور نہ اپنا نظریہ یا رائے پھیلائیں. اگر پھیلانی ہے تو کوئی خیر کی بات پھیلائیں.
6. موبائل اور آن لائن فراڈ سے بچیں:
آج کل ہر کسی کے پاس موبائل فون ہے، اور اس کے ساتھ ساتھ آن لائن فراڈ کا خطرہ بھی بڑھ گیا ہے۔ ہمیشہ یاد رکھیں کہ اگر کوئی آپ کو کم پیسوں میں زیادہ منافع کا وعدہ کرے، تو اس سے دور رہیں۔ 90 فیصد کیسز میں ایسی اسکیمز فراڈ ہوتی ہیں۔ اپنے اکاؤنٹ کی معلومات کسی کے ساتھ شیئر نہ کریں، خاص طور پر اگر کوئی بینک یا حکومتی ادارہ بن کر آپ سے رابطہ کرے۔ ایسے کالز یا میسیجز کو فوراً نظرانداز کریں اور اپنے مالی معاملات کو محفوظ رکھیں۔
7. ملازمت کے ساتھ کچھ سیونگ بھی رکھیں :
پاکستان کی موجودہ معاشی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے آپ کے لیے یہ ضروری ہے کہ آپ اپنی ملازمت میں استحکام پیدا کریں۔ ملازمت کی سیکیورٹی اب بہت مشکل ہے، اور یہ ضروری ہے کہ آپ کے پاس اپنے چار مہینے تک کا خرچہ سیونگ میں ہو کیونکہ خدانخواستہ اگر آپ کو کسی مشکل صورتحال کا سامنا کرنا پڑے، تو آپ اس سے نمٹ سکیں۔
8. اپنے پیسے کو Devalue ہونے سے بچائیں :
آپ کے پاس جو پیسے ہیں، انہیں صرف سیو کرنے کی بجائے بہتر ہے کہ کہیں نہ کہیں سرمایہ کاری کریں۔ بچت کرنے سے پیسے کی قدر وقت کے ساتھ کم ہو جاتی ہے، کیونکہ ہر روز بڑھتی مہنگائی کی وجہ سے پیسہ ڈیپریشیٹ Depreciate ہو رہا ہوتا ہے۔ بہتر ہے کہ آپ سونے یا چاندی میں سرمایہ کاری کریں، کیونکہ یہ وہ چیزیں ہیں جن کی قیمت ہمیشہ بڑھتی رہتی ہے۔
9. ادھار تب دیں جب بھولنے کی ہمت ہو:
پاکستان میں مالی معاملات میں ایک سنہری اصول یہ ہے کہ اگر آپ کسی کو ادھار دیتے ہیں، تو وہ اتنی رقم ہونی چاہیے جسے آپ دے کر بھول سکیں۔ آپ کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ اکثر اوقات ادھار کی رقم واپس نہیں ملتی، اور اس پر دست و گریبان ہونے کی نوبت بھی آ سکتی ہے۔ اس لیے بہتر ہے کہ آپ اپنے مالی معاملات میں محتاط رہیں اور اگر ادھار دیں بھی تو اس قدر رقم دیں جس کی واپسی کی آپ کو فکر نہ ہو۔
10. صحت کا خیال رکھیں:
آپکی صحت ایک قیمتی اثاثہ ہے، اور اس کا خیال رکھنا بے حد ضروری ہے۔ یہاں علاج معالجہ مہنگا ہوتا جا رہا ہے، اور خدانخواستہ اگر آپ کو کوئی بیماری لگ جائے تو آپ کی زندگی اور مالی وسائل شدید متاثر ہو سکتے ہیں۔ اس لیے اپنی صحت کا خاص خیال رکھیں۔ روزانہ کم از کم ایک گھنٹے کی واک کریں یا کوئی سادہ ورزش کریں تاکہ آپ اپنی جسمانی اور ذہنی صحت کو برقرار رکھ سکیں۔ وقت نہ ہونے کا بہانہ مت بنائیں، کیونکہ آپ کے پاس زندگی کا سب سے قیمتی سرمایہ آپ کی صحت ہے، اور اس کے بغیر آپ کچھ نہیں کر سکتے۔
11. دوسروں کے ساتھ حسن سلوک رکھیں:
پاکستانی معاشرہ ایک ایسا معاشرہ ہے جہاں حسن سلوک کی کچھ کمی ہے۔ دوسروں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئیں، چاہے وہ آپ کے ملازمین ہوں، دوست ہوں، یا کوئی اجنبی۔ نرمی اور احترام سے پیش آنا نہ صرف آپ کی عزت میں اضافہ کرے گا، بلکہ آپ کو معاشرتی طور پر بھی کامیاب بنائے گا۔
12. برداشت اور تحمل کا مظاہرہ کریں:
پاکستان میں موجودہ صورتحال میں عدم برداشت بہت زیادہ ہے، اس لیے ضروری ہے کہ آپ اپنے اندر تحمل پیدا کریں اور دوسروں کو بھی یہ سکھائیں۔ اپنے بچوں کو خاص طور پر اس بات کی تربیت دیں کہ وہ دوسروں کی بات سنیں اور برداشت کا مظاہرہ کریں۔ معاشرے میں بڑھتی ہوئی عدم برداشت کی وجہ سے اکثر بچے یا بڑے کوئی ایسا قدم اٹھا لیتے ہیں جس سے ان کی زندگی اور والدین کی عزت داؤ پر لگ جاتی ہے۔ اس لیے اپنے رویوں میں برداشت کو شامل کریں اور اپنے بچوں کو بھی اس کی تربیت دیں۔
13. تعلقات میں توازن رکھیں:
پاکستان میں زندگی گزارنے کا ایک اور اہم اصول یہ ہے کہ آپ اپنے تعلقات میں توازن برقرار رکھیں۔ چاہے وہ رشتہ دار ہوں، دوست ہوں، یا کام کے ساتھی، ہمیشہ اس بات کا خیال رکھیں کہ آپ کسی سے ضرورت سے زیادہ توقعات نہ رکھیں اور اپنی حدوں کو پہچانیں۔ یہاں اکثر لوگوں کے درمیان تعلقات میں دی گئی قربانیوں اور کی گئی مہربانیوں کا بدلہ نہیں ملتا، اس لیے تعلقات میں حقیقت پسندانہ رہیں اور صرف اپنی استطاعت کے مطابق ہی دوسروں کی مدد کریں۔
14. معاشرتی دباؤ سے بچنے کی کوشش کریں:
پاکستان میں اکثر لوگ معاشرتی دباؤ Societal Pressure کا شکار ہوتے ہیں۔ شادی، تعلیم، روزگار، اور مالی حیثیت کے بارے میں معاشرتی دباؤ کا سامنا کرنا ایک عام بات ہے۔ یاد رکھیں کہ آپ کی زندگی کا مقصد دوسروں کی توقعات پر پورا اترنا نہیں، بلکہ اپنی خوشی اور سکون کو برقرار رکھنا ہے۔ اپنے فیصلے معاشرتی دباؤ کی بنیاد پر نہیں، بلکہ اپنے حالات اور وسائل کے مطابق کریں۔ آپ کو ہمیشہ اپنی زندگی کے فیصلے خود کرنے چاہئیں، تاکہ آپ کو بعد میں کسی پچھتاوے کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
15. اپنی حفاظت کا خاص خیال رکھیں:
پاکستان میں سیکیورٹی کے مسائل ایک عام حقیقت ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ آپ اپنی اور اپنے خاندان کی حفاظت کو اولین ترجیح دیں۔ رات کے وقت غیر ضروری طور پر باہر نہ نکلیں، اور اگر نکلنا ہو تو محفوظ راستے اور ذرائع استعمال کریں۔ اپنے گھر اور گاڑی کی حفاظت کے لیے حفاظتی اقدامات کریں، جیسے سی سی ٹی وی کیمرے اور لاک سسٹم وغیرہ۔ اس کے علاوہ، ان جگہوں سے دور رہیں جہاں سیکیورٹی کا خطرہ ہو، تاکہ آپ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے بچ سکیں۔
16. قانون سے آگاہی حاصل کریں:
پاکستان میں عام شہریوں کی اکثریت قانونی معاملات سے لاعلم ہوتی ہے، جس کی وجہ سے انہیں بہت سے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ ضروری ہے کہ آپ اپنے حقوق اور فرائض کو جانیں اور بنیادی قوانین سے آگاہی حاصل کریں۔ اس سے آپ کو ناانصافیوں سے بچنے اور اپنے حقوق کے تحفظ میں مدد ملے گی۔ اگر کسی قانونی مسئلے کا سامنا ہو، تو فوراً کسی وکیل سے مشورہ کریں اور قانونی چارہ جوئی میں کسی قسم کی تاخیر نہ کریں۔
17. اپنی اولاد کو مناسب تربیت دیں:
اپنے بچوں کی زندگی اور دوستوں پر نظر رکھیں۔ اکثر والدین اپنے بچوں کے دوستوں اور سرگرمیوں سے لاعلم ہوتے ہیں، اور جب انہیں علم ہوتا ہے تو بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔ اپنے بچوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھیں کہ وہ کن کے ساتھ اٹھ بیٹھ رہے ہیں، کیا دیکھ رہے ہیں، اور کس طرح کی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ اس سے آپ اپنے بچوں کو برے اثرات سے بچا سکتے ہیں اور ان کی زندگی کو بہتر بنا سکتے ہیں۔اپنے بچوں کی تربیت پر خاص توجہ دیں، انہیں اخلاقیات، ذمہ داری، اور سماجی اقدار سکھائیں۔ یہ بات ذہن میں رکھیں کہ آپ کی اولاد آپ کی آئندہ نسل کا مستقبل ہے، اور ان کی اچھی تربیت ہی آپ کو معاشرتی عزت دلائے گی۔
18. وقت کی قدر کریں:
پاکستان میں جس چیز کی سب سے کم قدر کی جاتی ہے وہ ہے وقت ۔ وقت کی قدر نہ کرنا آپ کی زندگی میں ناکامی کا سبب بن سکتا ہے۔ ہمیشہ وقت کی پابندی کریں اور اپنے کاموں کو وقت پر مکمل کرنے کی عادت ڈالیں۔ یہ نہ صرف آپ کی شخصیت کو بہتر بنائے گا، بلکہ آپ کی ساکھ کو بھی مضبوط کرے گا۔ دوسروں کے ساتھ معاملات میں بھی اپنے وقت کا قیمتی ہونے کا بتا دیں تاکہ وہ آپکا وقت ضائع نہیں کریں.
19. محنت پر یقین رکھیں اور سیکھتے رہیں :
کسی دنیا میں آپ کہیں بھی ہوں آپکے لیے سب سے ضروری چیز ہے محنت کرنا اور سیکھتے رہنا میں. میں نے اکثر دیکھا ہے کہ لوگ شارٹ کٹس اور جلدی کامیابی کے چکر میں اپنے مقصد سے ہٹ جاتے ہیں۔ لیکن آپ کو یاد رکھنا چاہیے کہ مستقل مزاجی اور محنت ہی وہ راستہ ہے جو آپ کو دیرپا کامیابی دلائے گا۔ اپنے کام میں مستقل مزاجی اختیار کریں اور وقت کے ساتھ ساتھ اپنے ہنر کو نکھاریں، تاکہ آپ زندگی کے ہر میدان میں کامیاب ہو سکیں۔
20.گولڈن اصول:اپنا نیٹ ورک بڑھائیں
پاکستان میں حقیقت یہ ہے کہ طاقت اور اثر و رسوخ آپ کی زندگی کو اس انداز میں شکل دیتے ہیں جو صرف قابلیت اور مہارت سے ممکن نہیں۔ چاہے آپ کتنے ہی قابل کیوں نہ ہوں، صحیح لوگوں کے ساتھ تعلقات آپ کے لیے وہ دروازے کھول سکتے ہیں جو عام حالات میں بند رہتے ہیں۔ ایک مضبوط نیٹ ورک بنانا صرف ایک سمجھداری نہیں، بلکہ ضروری ہے، خاص طور پر جب آپ کو کیریئر، کاروبار، یا ذاتی مسائل میں مشکلات کا سامنا ہو۔
یہ تلخ حقیقت ہے کہ اثر و رسوخ آپ کو تیزی سے کامیابی کی طرف لے جا سکتا ہے، ایسے مواقع فراہم کر سکتا ہے جو دوسروں کو کبھی نہیں ملتے، اور مشکل حالات میں آپ کی مدد کر سکتا ہے۔ چاہے نوکری کا حصول ہو، کاروباری معاہدے ہوں، یا قانونی اور انتظامی مسائل کا سامنا، صحیح لوگوں کی پہچان بہت فرق ڈال سکتی ہے۔
اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ محنت اور قابلیت کی اہمیت نہیں ہے. یہ اپنی جگہ بہت اہم ہیں۔ لیکن ایک ایسے معاشرے میں جہاں تعلقات اکثر قابلیت پر سبقت لے جاتے ہیں، ایک طاقتور نیٹ ورک بنانا آپ کی کامیابی کے امکانات کو بڑھا دیتا ہے۔ لہٰذا نیٹ ورکنگ میں وقت لگانے سے نہ گھبرائیں چاہے وہ پروفیشنل ایونٹس، Social Gatherings ہوں یا کسی اور پلیٹ فارم پر لوگوں سے ملنے کا موقع ہو۔ آپ کبھی نہیں جانتے کہ کب یہ تعلقات آپ کے لیے اگلا بڑا موقع فراہم کریں یا کسی مشکل وقت میں آپ کی مدد کریں۔
میری ذاتی رائے میں ملک کے موجودہ حالات اور آئندہ حالات کے لیے بھی یہ اصول آپکے لیے کافی آسانی پیدا کرسکتے ہیں بس ان کو اپنانا شرط ہے.
اگر آپکو یہ پوسٹ پسند آئی یا اس سے کچھ سیکھنے کو ملا تو اسے دوسروں کے ساتھ ضرور شیئر کریں.
پاکستان میں والدین کی اکثریت اب بھی میڈیکل اور انجینئرنگ کو ہی کامیابی سمجھتی ہے۔ لیکن دنیا تیزی سے بدل رہی ہے۔ آنے والے پانچ سالوں میں دنیا کے 10 بہترین شعبے سامنے آئے ہیں جو آپ کے بچوں کا مستقبل روشن کر سکتے ہیں۔
اسکے لیے Hays ہائز سیلری گائیڈز کی مدد لی گئی ہے۔
ڈیٹا سائنس:
آنے والا دور ڈیٹا کا ہے۔ ڈیٹا سائنٹسٹ 2025 میں $90,000 تک کما سکتے ہیں، اور 2030 تک یہ آمدن $165,000 تک پہنچ سکتی ہے۔ امریکا، برطانیہ اور آسٹریلیا میں اس کی ڈیمانڈ عروج پر ہے۔ FSc کے بعد ڈیٹا سائنس میں BS یا MS کریں۔
مشین لرننگ (AI):
مصنوعی ذہانت (AI) اب صرف فلموں تک محدود نہیں۔ مشین لرننگ اسپیشلسٹ کی تنخواہ 2025 میں $95,000 اور 2030 میں $170,000 تک متوقع ہے۔ ریاضی اور کمپیوٹر سائنس میں دلچسپی رکھنے والے بچے یہاں ترقی کر سکتے ہیں۔
بزنس اینالسٹ:
کاروباری تجزیہ کاروں کی تنخواہیں 2025 میں $70,000 تک اور 2030 میں $125,000 تک بڑھ سکتی ہیں۔ امریکا اور برطانیہ میں خاص ڈیمانڈ۔ بزنس ایڈمنسٹریشن یا اکنامکس کی تعلیم حاصل کر کے دنیا بھر میں مواقع حاصل کریں۔
سوفٹ ویئر ڈیویلپر:
ڈیجیٹل دنیا سوفٹ ویئر ڈیویلپرز کے بغیر نامکمل ہے۔ ان کی تنخواہ 2025 میں $75,000 اور 2030 میں $140,000 ہو گی۔ کمپیوٹر سائنس میں BS آپ کے بچے کو عالمی مواقع فراہم کر سکتا ہے۔
پراجیکٹ مینجمنٹ:
پراجیکٹ منیجر 2025 تک $85,000 اور 2030 تک $155,000 کما سکیں گے۔ بزنس مینجمنٹ یا PMP سرٹیفکیشن آپ کے بچے کی صلاحیتوں کو چار چاند لگا سکتا ہے۔ آسٹریلیا اور امریکا میں بےشمار مواقع موجود ہیں پروفشنل ڈگری کے بعد یہ زیادہ کارآمد ہے ۔
ایچ آر مینیجر:
HR
کے شعبے میں پیشہ ور افراد کی اہمیت بڑھتی جا رہی ہے۔ 2025 میں آمدن $70,000 اور 2030 میں $125,000 تک ہو گی۔ HR مینجمنٹ کی تعلیم آپ کے بچے کو دنیا بھر میں باوقار جابز فراہم کرے گی۔
پروکیورمنٹ اسپیشلسٹ (سپلائی چین):
سپلائی چین اور پروکیورمنٹ اسپیشلسٹ 2025 میں $60,000 اور 2030 میں $110,000 کمائیں گے۔ دبئی، سعودی عرب، اور آسٹریلیا میں بہترین مواقع۔ بزنس اور سپلائی چین کی ڈگری آپ کے بچے کی زندگی بدل سکتی ہے۔
مالیاتی تجزیہ کار (فنانشل اینالسٹ):
مالیاتی تجزیہ کاروں کی آمدن 2025 میں $65,000 اور 2030 میں $120,000 ہو گی۔ فنانس اور اکاؤنٹنگ کے شعبوں میں تعلیم حاصل کر کے عالمی منڈی میں آگے بڑھ سکتے ہیں۔
سسٹینیبلٹی اسپیشلسٹ (ماحولیات):
ماحولیات اور پائیداری پر کام کرنے والوں کی مانگ بڑھ رہی ہے۔ 2025 میں آمدن $70,000 اور 2030 میں $130,000 تک جائے گی۔ ماحولیات میں ڈگری حاصل کریں اور ترقی یافتہ ممالک میں اپنا کیریئر بنائیں۔
اپنے بچوں کو میڈیکل اور انجینئرنگ تک محدود نہ رکھیں۔ دنیا بدل رہی ہے۔ نئے کیریئرز کو اپنائیں اور اپنے بچوں کا مستقبل محفوظ بنائیں۔
اس تھریڈ کا مقصد والدین اور بچوں کو ان کی کیریئر گائیڈنس دینا تھا
سیلری اور کیریئر گروتھ کے لیے مڈل ایسٹ یو کے اسٹریلیا نیوزی لینڈ اور امریکہ کی مارکیٹوں کو سٹڈی کیا گیا
ایک اہم بات :
بعض لوگ اس بات پر اعتراض کرتے ہیں کہ پڑھنا وہی چاہیے جس میں انٹرسٹ ہو تو عرض یہ ہے کہ غریب ادمی کی پہلی جنریشن میں یہ چوائس نہیں ہوتی اسکو ہر ممکن طور پر پڑھ لکھ کر اپنے حالات سدھارنے پڑتے ہیں ہاں ان کی دوسری اور تیسری نسل پھر سبجکٹ سلیکشن کا رسک لے سکتی ہے
Copy
*شماریات (Statistics) ڈیٹا سائنس (Data Science ) کا بنیادی ڈھانچہ کیوں ہے؟*
اس کی وجہ یہ ہے کہ ڈیٹا سائنس کا بنیادی مقصد ڈیٹا سے معنی خیز معلومات اخذ کرنا ہے، اور شماریات اس عمل کے لیے ضروری ٹولز اور طریقہ کار فراہم کرتی ہے۔ درج ذیل نکات اس کی وضاحت کرتے ہیں:
*ڈیٹا کی تفہیم:*
شماریات ڈیٹا کے رجحانات، نمونوں اور تعلقات کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔ مثال کے طور پر، اوسط (mean)، میڈین (median)، اور معیاری انحراف (standard deviation) جیسے تصورات ڈیٹا کی تقسیم اور خصوصیات کو واضح کرتے ہیں۔
*ماڈلنگ اور پیش گوئی:*
ڈیٹا سائنس میں مشین لرننگ ماڈلز بنانے کے لیے شماریاتی اصول استعمال ہوتے ہیں۔ ریگریشن تجزیہ، احتمال (probability)، اور ہائپوتھیسس ٹیسٹنگ جیسے طریقے ماڈلز کی درستگی اور پیش گوئی کی صلاحیت کو بہتر بناتے ہیں۔
** غیر یقینی صورتحال کا انتظام:*
ڈیٹا سائنس میں ڈیٹا اکثر نامکمل یا غیر یقینی ہوتا ہے۔ شماریات کے ذریعے ہم غیر یقینی صورتحال کو ماپ سکتے ہیں اور قابل اعتماد فیصلے کر سکتے ہیں، جیسے کہ کنفیڈنس انٹرویلز یا p-ویلیوز کے ذریعے۔
*نتائج کی توثیق:*
شماریاتی ٹیسٹس جیسے t-test یا ANOVA ڈیٹا سائنس ماڈلز کے نتائج کی درستگی اور اہمیت کو جانچنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں، جو فیصلہ سازی کو مضبوط بناتے ہیں۔
* ڈیٹا سے بصیرت(Insight):* شماریات کے بغیر، ڈیٹا صرف اعداد و شمار کا مجموعہ ہوتا ہے۔ شماریاتی تجزیہ ڈیٹا کو بصیرت (insight) میں بدلتا ہے، جو کاروباری فیصلوں، سائنسی تحقیق، اور پالیسی سازی کے لیے اہم ہے۔
مختصراً، شماریات ڈیٹا سائنس کی ریڑھ کی ہڈی ہے کیونکہ یہ ڈیٹا کو سمجھنے، ماڈل بنانے، غیر یقینی صورتحال کو سنبھالنے، اور قابل اعتماد نتائج اخذ کرنے کے لیے بنیادی ٹولز اور اصول فراہم کرتی ہے۔ اس کے بغیر ڈیٹا سائنس کے عمل ادھورے اور غیر موثر ہوں گے۔
20/06/2025
ہر کہانی لفظوں کی محتاج نہیں ہوتی
کچھ باتیں خاموش نظروں میں، کچھ جذبے ہنستے لمحوں میں چھپے ہوتے ہیں۔
سفر صرف منزل تک پہنچنے کا نام نہیں،
یہ ان لمحوں کا مجموعہ ہے جو دل کو چھو جائیں۔
ہم سب اپنی زندگی کی کتاب لکھ رہے ہیں
کوئی مسکراہٹوں سے،
کوئی چائے کی چسکیوں میں،
اور کوئی دوستوں کی بے تکلف باتوں میں۔
یادیں بچھڑتی نہیں،
بس کسی خوبصورت گوشے میں جا چھپتی ہیں،
جہاں دل اکثر بے ساختہ مسکرا دیتا ہے۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Website
Address
Haripur