17/08/2026
*غزوہ حنین*👇
*سابقہ پرچہ جات سے لئے گئے اہم پوائنٹس*
👇🏻
✨ غزوہ حنین 6 شوال 8 ہجری کو پیش آیا۔
✨ اس جنگ کو غزوہ اوطاس اور غزوہ ہوازن بھی کہا جاتا ہے۔ اوطاس ایک مقام کا نام ہے۔
✨ مسلمانوں کی تعداد 12,000 تھی، جن میں 10,000 مدینہ سے اور 2,000 مکہ سے تھے۔ مکہ کے اکثر افراد فتح مکہ کے موقع پر مسلمان ہوئے تھے۔
✨ کفار کی تعداد تقریباً 20,000 تھی۔
✨ حنین مکہ سے تقریباً 10 میل دور ایک وادی ہے، جو مکہ اور طائف کے درمیان واقع ہے۔ اسی مقام پر جنگ ہونے کی وجہ سے اسے غزوہ حنین کہا جاتا ہے۔
✨ فتح مکہ کے بعد قریش مکہ نے اسلام قبول کر لیا، لیکن بنو ہوازن اور بنو ثقیف نے اسلام قبول نہیں کیا۔
✨ بنو ہوازن، بنو ثقیف، بنو جشم، بنو سعد بن بکر، بنو ہلال اور دیگر حلیف قبائل نے مسلمانوں پر اچانک حملہ کرنے کا منصوبہ بنایا۔
✨ کفار کے لشکر کا سپہ سالار مالک بن عوف تھا۔
✨ مسلمان 6 یا 8 شوال 8 ہجری کو مکہ سے روانہ ہوئے اور حضرت عتاب بن اسیدؓ کو مکہ کا گورنر مقرر کیا گیا۔
✨ صبح کے وقت جب مسلمان وادی حنین میں داخل ہوئے تو گھات لگائے ہوئے دشمن نے اچانک تیروں کی بارش کر دی۔
✨ رسول اللہ ﷺ نے حضرت عبداللہ بن ابی حدردؓ کو حنین کی جاسوسی کے لیے بھیجا تھا۔
✨ حملے کے وقت رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "میں اللہ کا نبی ہوں، اس میں کوئی جھوٹ نہیں، میں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں۔"
✨ رسول اللہ ﷺ نے حضرت عباسؓ کو حکم دیا کہ مہاجرین اور انصار کو بلند آواز سے پکاریں۔
✨ حضرت عباسؓ نے آواز دی: "اے بیعتِ رضوان کرنے والو! اے انصار! رسول اللہ ﷺ زندہ ہیں، واپس آؤ۔"
✨ اس موقع پر رسول اللہ ﷺ کے ساتھ صرف 8 صحابہ کرامؓ ثابت قدم رہے۔
✨ حضرت ابو سفیان بن حارثؓ رسول اللہ ﷺ کے خچر کی لگام تھامے ہوئے تھے۔
✨ مہاجرین اور انصار رسول اللہ ﷺ کی آواز سن کر دوبارہ میدانِ جنگ میں واپس آئے۔
✨ کچھ ہی دیر بعد بنو ثقیف کے تقریباً 70 افراد مارے گئے۔
✨ دشمن کے کچھ لوگ طائف، کچھ اوطاس اور کچھ دیگر علاقوں کی طرف بھاگ گئے۔
✨ غزوہ حنین میں مسلمانوں کو مالِ غنیمت میں:
✨ 6,000 قیدی
✨ 28,000 اونٹ
✨ 40,000 بکریاں
✨ 4,000 اوقیہ چاندی حاصل ہوئی۔
✨ قیدیوں میں حضرت شیماء بنت حارثؓ بھی تھیں، جو حضرت حلیمہ سعدیہؓ کی بیٹی اور رسول اللہ ﷺ کی رضاعی بہن تھیں۔
✨ غزوہ حنین کے بعد مکہ کے گرد و نواح کے بیشتر عرب قبائل مسلمانوں کے تابع ہو گئے۔
✨ اس جنگ میں اللہ تعالیٰ کی غیبی مدد بھی شامل ہوئی۔ رسول اللہ ﷺ نے ایک مٹھی مٹی دشمن کی طرف پھینکی، جس سے اللہ کے حکم سے دشمن کی آنکھیں متاثر ہوئیں اور ان کی صفیں منتشر ہو گئیں۔
✨ مالِ غنیمت کی نگرانی حضرت مسعود بن عمرو غفاریؓ کر رہے تھے۔
✨ حضرت شیماءؓ کا تعلق بنو ہوازن سے تھا۔
✨ غزوہ حنین کے بعد رسول اللہ ﷺ نے بنو ہوازن اور بنو ثقیف کا تعاقب کرتے ہوئے طائف کا محاصرہ کیا۔
✨ مالِ غنیمت کا زیادہ حصہ مکہ کے نئے مسلمان ہونے والے افراد کو دیا گیا۔
✨ اس پر بعض انصار نے شکوہ کیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "اگر لوگ اونٹ اور بکریاں لے جائیں اور تم اللہ کے رسول کو اپنے ساتھ مدینہ لے جاؤ، تو کیا یہ تمہارے لیے کافی نہیں؟"
✨ بعد میں اطلاع ملی کہ جنوب مشرق میں ایک قبیلہ مسلمانوں کے خلاف لشکر جمع کر رہا ہے۔
✨ اوطاس کی طرف دشمن کا تعاقب کرنے کے لیے رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابو عامر اشعریؓ کو لشکر کا کمانڈر بنا کر بھیجا۔
✨ اوطاس میں مختصر جھڑپ کے بعد مشرکین فرار ہو گئے، جبکہ حضرت ابو عامر اشعریؓ اس معرکے میں شہید ہوئے۔
✨ غزوہ حنین میں 4 یا 6 مسلمان شہید ہوئے جبکہ 71 کفار قتل ہوئے۔