ماشاءاللہ AL FURQAN PUBLIC HIGH SCHOOL KHOI NARA میٹرک کا رزلٹ 100فیصد آنے پر تمام بچوں اور اسٹاف کو تحصیل خانپور میں شاندار رزلٹ پے مبارک بادپیش کرتے ہ)))))))))
Congratulations to Sir Fayaz and their whole staff mananagment. Keep working hard...
Al Furqan Public Public High school khoi Nara
Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Al Furqan Public Public High school khoi Nara, School, khoi Nara, Haripur.
💥 *اپنے بچوں خصوصا* *نوجوان اولاد کا تعلق قران و* *دین سے کیسے جوڑا جائے؟*
اس کا مختصر جواب تو یہ ہے کہ بچوں کی آخرت سے زیادہ والدین اپنی آخرت کی فکر کریں اور بچوں سے صرف اپنا تعلق خوشگوار کرلیں تو بچے خود بخود قران اود دین سے جڑ جائیں گے
ہم الٹ کر رہے ہوتے ہیں!
خود اپنے الفاظ اور اعمال سے ، بچوں کو قران کے قریب نظر نہیں آتے لیکن بچوں کو وعظ،سختی،دھمکی اور لالچ سے قران سے جوڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔
نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بچپن میں روتے پیٹے،قاری صاحب سے قرآن پڑھنا تو سیکھ لیتے ہیں،مگر جیسے ہی اپنے اختیار کا استعمال کرنا آتا ہے تو قران تو قران نماز سے بھی بھاگتے ہیں۔
ایک حدیث ہےکہ
" *انسان اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے"۔*
تو پھر آپ اپنے بچے خصوصا نوجوان بچے سے تعلق ایک دوست کی طرح گہرا کریں اور دین کی رسی( عبادات و معاملات) کو مضبوطی سے پکڑ لیجئے۔آپ کا بچہ خود بخود دین کی طرف کھینچا چلا آے گا
*اب تعلق کیسے گہرا ہو؟*
🔹 *اول* :
ایک اچھے دوست کی طرح بچے کو غیر مشروط محبت اور عزت دیں اور اس کی نیت ، کردار اور صلاحیتوں پر بھروسہ کریں۔
🔹 *دوم* :
بچے سے باتیں کریں۔اکیلے میں روزانہ کچھ منٹone on) (one اور ہفتے میں کچھ دیر سب کے ساتھ کم ازکم ایک دفعہ( family time)۔
مگر خیال رہے کہ باتوں میں غیبت ،حکم،نصیحت اور بن مانگے مشورے سے گریز کریں۔ *سنیں زیادہ،بولیں کم۔*
🔹 *سوم* :
تین "C" کو اپنی اور بچے کی گفتگو سے خارج کردیا جائے یعنی
Criticize( تنقید)
Compare(تقابل)
Compete ( مقابلہ بازی)
🔹 *چہارم* :
گفتگو میں الفاظ کا استعمال ایسا ہو کہ بچے خصوصا نوجوانوں کی عزت نفس مجروح نہ ہو مثلا
فورا مسجد جاو!( حکم)
تم روزانہ نماز قضا کرتے ہو( الزام)
مجھے تم سے یہی امید تھی(مایوسی)
بے نمازی کا ٹھکانہ جہنم ہے۔( وعظ و وعید)
اس کے بجائے
چلیں ہم سب نماز ادا کر لیں پھر کھانا کھاتے/ کھیلتے ہیں
مجھے بڑی خوشی ہوئی آج آپ مسجد گۓ۔
🔹 *پنجم* :
فیملی ٹائم میں اپنی زندگی،سیرت نبوی صلی اللہ و علیہ وسلم ،صحابہ کرام ، عظیم لوگوں اور عام لوگوں کے سبق آموز واقعات سناے جائیں۔ اشفاق احمد صاحب کی کتاب" زاویہ" عام لوگوں کے واقعات سنانے کے لیے اچھی تحریر ہے۔
🔹 *ششم* "
بچوں اور نوجوانوں کی دلچسپیوں میں شامل ہوا جائے۔board games,sports,video games,گھومنا،پکانا،باغبانی،جانور پالنا۔غرض ہر اس شوق کو اپنانے کی کوشش ہو جو بچے کا شوق ہے۔
🔹 *ہفتم* "
خود بچوں اور نوجوانوں کی تربیت کا علم حاصل کیا جائے
۔اسکالرز، مثلا،سلمان آصف صدیقی،ڈاکٹر جاوید اقبال،قاسم علی شاہ وغیرہ کے لیکچرز ۔
کتابیں اور اصلاح نیٹ ورک کی ورکشاپس اور کورسز سے استفادہ کیا جاسکتا ہے۔
🔹 *ہشتم* :
قران سے جوڑنے کے لیے روایتی طریقوں کے بجائے جدید طریقے اپنائے جائیں مثلا
ایسے اسکالرز کے لیکچرز،animated series سب ساتھ بیٹھ کر سنیں اور دیکھیں جو نوجوانوں کو متاثر کرتے ہیں اور authentic ہوں
ایسے گروپس سے بچوں کو متعارف کرایا جائے جو activity based علم دیتے ہوں جیسے اسلامی جمعیت طلبہ ،youth club، البرھان ،الہدی وغیرہ اور جہاں بھی انہیں بہتر ساتھی مل سکیں۔
🔹 *نہم* :
خود کو خالص اللہ کی رضا کے لیے قران اور دین سے جوڑیں۔بچے والدین کو تلاوت کرتے،تفسیر پڑھتے،تجوید اور عربی سیکھتے،کورسس کرتے،خطاطی کرتے اور سب سے بڑھ کر اپنے روزمرہ کے مسائل کا حل کتاب عظیم سے ڈھونڈتے نظر آئیں۔اب اگر بچے قران پڑھ نہیں بھی رہے،لیکن والدین اور نیک لوگوں کی شکل میں چلتا پھرتا قران دیکھ رہے ہیں اور تعلق اچھا ہے تو یقین مانیں آگے جا کر یہی اولاد باعمل مسلمان، قاری،حافظ،عالم،مفسر اور مفکر اور متقیوں کا امام بھی بنے گی۔ان شاء اللہ۔
🔹 *دہم* :
اور سب سے ضروری کام یعنی دعا۔نفلی سجدوں میں،تہجد میں،فرض نماز کے بعد،اپنی نیکی کے وسیلے سے ہر قبولیت کے اوقات میں اولاد کے لیے دعا کریں۔
بچوں کو چوم کر،ان کا ہاتھ پکڑ کر،ان کو گلے لگا کر با آواز بلند مثبت الفاظ کے ساتھ دعائیں دیں۔
*مگر، سوال یہ ہے کہ کیسے معلوم ہوگا کہ تعلق بہتر ہو ریا ہے؟؟*
اگر بچہ یا نوجوان اولاد اسکول/ کالج سے آتے ہی اپنی باتیں سنانیں کے لیے آپ کو ڈھونڈیں، آپ کےسلام پھیرنے سے پہلے آپ کے پاس آکر بیٹھ جائیں۔آپ کے ساتھ وقت گزارنا چاہئیں ( کبھی،کبھی ہی سہی😊) تو سجدہ شکر ادا کریں۔" تم شکر ادا کرو میں اور دوں گا"
*اب آخری بات*
یہ ساری تبدیلیاں نہ آپ اپنے اندر یک دم پیدا کرسکتی ہیں نہ ہی بچے! ایک وقت میں ایک تبدیلی پر کام کریں۔اونچ نیچ آے گی۔ صبر سے انتظار کریں کیوں کہ" یہ وقت بھی گزر جائے گا" اور نتیجہ اللہ پر چھوڑ دیں۔
*ایک بانس کا درخت چار پانچ سال صرف جڑ پکڑتا ہے اور اوپر کچھ نظر نہیں آتا۔پھر یکایک* *ایک لمبا،تناور درخت بہت تیزی سے بڑھتا ہے۔*
*بہت سے بچے بھی بانس کے درخت کی طرح ہوتے ہیں۔آپ کا اپنے بچوں سے بہترین تعلق اور* *آپ کی دین سے قربت وہ جڑیں ہیں جو اندر ہی اندر* *مضبوط ہو رہی ہیں۔تناور درخت بچوں کا وہ۔کردار اور ان کی* *دین سے وابستگی ہے جس کا آپ کچھ عرصے بعد* *مشاہدہ کرسکیں گی* ۔
ان شاء اللہ!🌹
Be shak quran sharef Sb sy azmaton wali kitabo hy Jo is sy apna rishta bna laita hy Allah pak is ko izzaton sy nawazta hy. MAA SHAA ALLAH pak nazro bd sy bd sy bachay....
Must read.....
ابلیس کی نسل کی ابتدا جس جن سے ہوئی اس کا نام "طارانوس” کہا جاتا ہے۔ طارانوس ابلیس سے ایک لاکھ چوالیس ہزار سال قبل دنیا پہ موجود تھا۔ طارانوس کی نسل تیزی سے بڑھی کیونکہ ان پہ موت طاری نہیں ہوتی تھی اور نہ بیماری لگتی تھی البتہ یہ چونکہ آتشی مخلوق تھی تو سرکشی بدرجہ اتم موجود تھی۔ اس جنوں کی نسل کو پہلی موت فرشتوں کے ہاتھوں پیدائش کے 36000 سال بعد آئی جس کی وجہ سرکشی تھی یہاں پہلی بار موت کی ابتدا ہوئی اس سے پہلے موت نہیں ہوتی تھی۔ بعد میں "چلپانیس” نامی ایک نیک جن کو جنات کی ہدایت کا ذمہ سونپا گیا اور وہ ہی شاہ جنات قرار پائے اس کے بعد "ہاموس” کو یہ ذمہ داری دی گئی۔ ہاموس کے دور میں ہی "چلیپا” اور "تبلیث” کی پیدائش ہوئی۔ یہ دونوں اپنے وقت کے بے حد بہادر جنات تھے اور ان کی قوم نے چلیپا کو شاشین کا لقب اس کے شیر کے جیسے سر کی وجہ سے دیا۔ ان دونوں جنات کی وجہ سے ساری قوم کہنے لگ گئی کہ ہمیں اس وقت تک کوئی نہیں ہرا سکتا جب تک شاشین اور تبلیث ہمارے درمیان موجود ہیں۔ ان دونوں کی وجہ سے قوم کے جنات آسمان تک رسائی کرنے لگے اور تیسرے آسمان پر جا کر شرارت کر آتے تھے۔ ایسے میں حکم الٰہی سے فرشتوں نے ان پر حملہ کیا اور عبرتناک شکست دی۔ اسی دوران جب "عزرائیل علیہ السلام” کو ابلیس نے دیکھا تو سجدہ میں گر گیا۔
ابلیس شروع سے ہی ایک نڈراورذہین بچہ تھا اس میں باپ کی بہادری اور ماں کی مکاری کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ اس نے ملائکہ کے ساتھ جا کر توبہ کا باقاعدہ اعلان کیا اور پھر فرشتوں سے فیض علم حاصل کرنے لگا۔ علم حاصل کرنے اور ریاضت کا یہ عالم تھا کہ پہلے آسمان پہ "عابد”، پھر دوسرے آسمان پر "زاہد”، تیسرے آسمان پر "بلال”، چوتھے آسمان پر "والی”، پانچویں آسمان پر "تقی” اور چھٹے آسمان پر "کبازان” کے نام سے مشہور ہوا۔ یہ وہ وقت تھا جب یہ فرشتوں کو سکھاتا تھا۔ ساتویں آسمان پہ ابلیس بقع نور میں رہا۔ ہفت افلاک کے سب ملائکہ کا معلم قرار دیا گیا یہاں تک پہنچ کر ابلیس نے اپنی عاجزی اور ریاضت کی انتہا کردی۔
کم و بیش ابلیس نے چودہ ہزار سال عرش کا طواف کیا یہاں اس نے فرشتوں میں استاد/سرادر "عزازیل” کے نام سے شہرت پائی کم و بیش تیس ہزار سال مقربین فرشتوں کا استاد رہا۔ ابلیس کے درس و وعظ کی میعاد کم و بیش بیس ہزار سال ہے۔ فرشتوں کے ساتھ قیام کی مدت کم و بیش اسی ہزار سال ہے۔
ابلیس کو حکم ہوا کہ داروغہ جنت "رضوان” کی معاونت کرو اور اہل جنت فرشتوں کو اپنے علم و فضل سے بہرہ ور کرو یوں ابلیس کو جنت میں داخلے کا پروانہ مل گیا اور جنت میں بھی اپنے علم سے داروغہ جنت رضوان کو سیراب کیا اور یوں جنت رضوان کی کنجیاں ابلیس کے پاس رہیں۔ روایات کے مطابق ابلیس 40 ہزار سال تک یہ فرض خزانچی انجام دیتا رہا۔ یہی وہ مقام اعلیٰ ترین جنت رضوان ہی تھا جہاں ابلیس نے پہلی بار بادشاہت کے خواب دیکھنے شروع کیے۔ اس وقت ابلیس کے پاس ہفت اقلیم، افلاک، جنت و دوزخ سب کا اختیار تھا اور اس نے چپے چپے پہ سجدے کیے تھے۔ مگر یہاں پہ ابلیس عاجزی سے پہلی بار بھٹکا اور خود کو بادشاہ بنانے اور رب بن جانے کے خواب دیکھنا شروع کیے۔ کئی ملائکہ کے سامنے ربوبیت کی بابت بات بھی کی مگر ملائکہ کے انکار کے سبب چپ ہو گیا اور یوں نظام چلتا رہا مگر اس سب سے اللہ تعالیٰ کی ذات بے خبر نہ تھی۔
پھر آدم علیہ السلام کی تخلیق کا مرحلہ آیا جیسے قرآن مجید میں واقعات بیان ہوئے ہیں۔ ابلیس آدم علیہ السلام کو جزو جزو مرحلہ وار مختلف اقسام کی مٹی سے تخلیق ہوتا دیکھتا رہا اور چپ رہا مگر جیسے ہی اسے یہ معلوم ہوا کہ یہ آدم علیہ السلام اللہ تعالیٰ کا نائب ہے تو اس نے واویلا کیا عبادات اور اطاعت کا واسطہ دیا پھر طنز کیا کہ مجھ جتنی عبادت کس نے کی ہے اور آدم علیہ السلام کو سجدہ کرنے سے انکاری ہوا۔
تب اللہ تعالیٰ نے کہا نکل جا شیطان مردود۔لعنتی قرار پانے کے بعد ابلیس نے اپنی عبادات اور ریاضت کا رب کریم سے عوض مانگا جس پر اللہ تعالیٰ نے ابلیس کو ایک وقت معلوم تک مہلت فراہم کی۔ جس پر ابلیس نے اولادِ آدم کو صراطِ مستقیم سے بھٹکا کر اپنا پیروکار بنانے کا دعویٰ کیا جس پر رب کریم نے فرمایا کہ جو متقی اور پرہیزگار ہوں گے تو ان کو گمراہ نہیں کر پائے گا۔
ابلیس کے اس لعنتی کام میں اس کے پانچ ساتھی ہیں۔
1۔ ثبر » اس کے اختیار میں مصیبتوں کا کاروبار ہے جس میں لوگ ہائے واویلا کرتے ہیں گریبان پھاڑتے ہیں منہ پہ طمانچے مارتے ہیں اور جاہلیت کے نعرے لگاتے ہیں۔
2۔ اعور » یہ لوگوں کو بدی کا مرتکب کرتا ہے اور بدی کو لوگوں پہ اچھا اور پسندیدہ کر کے دکھاتا ہے۔
3۔ مسوّط » یہ کزب، جھوٹ اور دروغ پہ مامور ہے جسے لوگ کان لگا کر سنیں۔ یہ انسانوں کی شکل اپنا کر ان سے ملتا ہے اور انھیں فساد برپا کرنے کی جھوٹی خبریں سناتا ہے۔
4۔ داسم » یہ آدمی کے ساتھ گھر میں داخل ہوتا ہے اور گھر والوں کے عیب دکھاتا ہے اور آدمی کو گھر والوں پہ غضبناک کرتا ہے۔
5۔ زکنیور » یہ بازاروں کا مختار ہے بازاروں میں آ کر یہ بددیانتی کے جھنڈے گاڑتا ہے۔ بازاروں میں برائیوں اور فحاشی پہ ورغلاتا ہے۔
ابلیس کا آدم علیہ السلام کو سجدے سے انکار کا جزبہ حسد تھا کہ جس نے اسے مجبور کیا کہ میری جگہ آدم (خاک) کو کیوں ملی۔ یہ اس کا جزبہ تکبر اور غرور تھا کہ میں اعلیٰ ہوں اور اس ایک سجدے کے انکار کی بات نہیں تھی بات اطاعت سے سرکشی کی تھی، شرک کی تھی۔ ابلیس نے دل میں خود کو "رب” مان لیا تھا۔ اسی شرک عظیم کی بدولت ابلیس تا قیامت رسوا و لعنتی ٹھہرا اور اولادِ آدم کو بھٹکانے کیلئے آزاد قرار پایا۔
حاصل نتیجہ یہ ٹھہرہ کہ رب کریم کو انسان کی عبادات عاجزی علم و دانش سے کچھ غرص نہ ہے۔ رب کریم صرف دیکھتا ہے کہ دل میں اطاعت و فرمانبرداری کتنی ہے۔ اسی بنیاد پہ تقویٰ اور پرہیزگاری کے درجے قرار پاتے ہیں۔
منابع و ماخذ: صحیح بخاری باب الفتن و اشراط، صحیح مسلم، سنن ابن ماجہ، سنن ابی داؤد،کتاب شرح سیوطی، تفسیر کبیر امام رازی، مستدرک حاکم، کتاب حکم، نہج البلاغہ سید رضی، شرح نہج البلاغہ ابن حدید، کتاب غرر الحکم ابن ہشام، کتاب توحید شیخ صدوق
1:- مُلکِ شام کے حالات
2:- امام مہدی كا ظہور
اور
3:- نبی صَلَّى اللّٰه عَليهِ وَسَلَّم كی پیشن گوئیاں .
اللّٰه کے رَسُول صَلَّى اللّٰه عَليهِ وَ سَلَّم نے قیامت کے نشانات بتلاتے ہوئے فرمایا کہ :
" اُونٹوں اور بَکریوں کے چَروَاہے جو بَرہَنَہ بَدَن اور ننگے پاؤں ہونگے وه ایک دوسرے سے مقابلہ کرتے ہوئے لمبی لمبی عمارتیں بنوائیں گے اور فخر کریں گے ... "
(صحیح مسلم
ریاض شہر میں عمارتوں کا یہ مقابلہ آج اپنے عُروج پر پہنچ گیا،
دبئی میں ’’برج خلیفہ‘‘ کی عمارت دنیا کی سب سے اُونچی عمارت بن گئی تو ساتھ ہی شہزاده ولید بن طلال نے جَدَّه میں اس سے بھی بڑی عمارت بنانے کا اعلان کر دیا ہے
جو دھڑا دھڑ بنتی چلی جا رہی ہے،
عرب کی عمارتیں سارے جہان سے اونچی ہو چکی ہیں
عرض کرنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ
میرے پیارے رسول حضرت مُحمَّد صَلَّى اللّٰه عَليهِ وَ سَلَّم نے جو فرمایا وه پُورا ہو چکا ہے
اور پیشگوئی پُوری ہو کر اپنے نُکتۂ کمال کو تقریبا پہنچ چکی ہے .
عرب کا سب سے زیاده تیل خریداری کرنے والے امریکہ نے
صَدَّام کو ختم کر کے تیل کی دولت سے سَیراب مُلک عِرَاق کے کنوؤں پر قبضہ جما لیا ہے
اور لاکھوں بیرل
مُفت وصول کر رہا ہے
تو پھر تیل کی گِرتی مانگ نے تیل کی قیمتوں کو نچلی سطح پر پہنچا دیا
جس سے عرب ممالک کا سُنہرا دَور خاتمے کے قریب ہے
سوال پیدا ہوتا ہے اس زوال کے بعد کیا ہے ...؟
اللّٰه کے رَسُول صَلَّى اللّٰه عَليهِ وَ سَلَّم کی ایک اور حدیث ہے کہ :
" قیامت سے پہلے سَرزَمینِ عرب دوباره سَرسَبز ہو جائیگی"
(صحیح مسلم)
سعودی عرب اور امارات میں بارشیں شروع ہو چکی ہیں،
مَکَّہ اور جَدَّه میں سَیلاب آ چکے ہیں۔
عرب سرزمین جسے پہلے ہی جدید ٹیکنالوجی کو کام میں لا کر سرسبز بنانے کی کوشش کی گئی ہے
وه قدرتی موسم کی وجہ سے بھی سرسبز بننے جا رہی ہے۔
سعودی عرب گندم میں پہلے ہی خودکفیل ہو چکا ہے،
اب وہاں خشک پہاڑوں پر بارشوں کی وجہ سے سبزه اُگنا شروع ہو چکا ہے،
پہاڑ سرسبز ہونا شروع ہو گئے ہیں۔
بارشوں کی وجہ سے آخرکار حکومت کو ڈیم بنانا ہوں گے
جس سے پانی کی نہریں نکلیں گی،
ہریالی ہو گی،
سبزه مزید ہو گا،
فصلیں لہلہائیں گی،
یُوں یہ پیشگوئی بھی اپنے تکمیلی مَرَاحِل سے گزرنے جا رہی ہے
اور جو میرے حضور صَلَّى اللّٰه عَليهِ وَ سَلَّم نے فرمایا اسے ہم اپنی آنکھوں سے دیکھتے جا رہے ہیں ...!
اگر احادیث پر غور کریں تو مَشرقِ وُسطیٰ کے زوال کا آغاز مُلکِ شام سے شروع ہوا لیکن شاید عرب حُکمران یا تو یہود و نصاریٰ کی چال سمجھ نہ سکے
یا بے رخی اختیار کی لیکن وجہ جو بھی ہو یا نہ ہو،
سرکار صَلَّى اللّٰه عَليهِ وَسَلَّم کی بتائی ہوئی علامات کو تو ظاہر ہونا ہی تھا
حدیث کے مطابق ...!
چُنانچہ
حدیث پاک میں ارشاد ہے
ﺭﺳﻮﻝ اللّٰه صَلَّى اللّٰه عَليهِ وَ سَلَّم ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ :
" ﺟﺐ ﺍﮨﻞِ ﺷﺎﻡ ﺗﺒﺎﮨﯽ ﻭ ﺑﺮﺑﺎﺩﯼ ﮐﺎ ﺷﮑﺎﺭ ﮨﻮﺟﺎﺋﯿﮟ ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﺗﻢ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﺧﯿﺮ ﺑﺎﻗﯽ ﻧﮧ ﺭﮨﮯ ﮔﯽ "
(ﺳﻨﻦ ﺍﻟﺘﺮﻣﺬﯼ 2192: ﺑﺎﺏ ﻣﺎﺟﺎﺀ ﻓﯽ ﺍﻟﺸﺎﻡ، ﺣﺪﯾﺚ ﺻﺤﯿﺢ)
میرے محترم و مکرم قارئین کرام یاد ﺭﮐﮭﯿﮟ ...!
ﺍَﺣﺎﺩﯾﺚِ ﻣُﺒَﺎﺭﮐﮧ ﮐﯽ ﺭُﻭ ﺳﮯ ﺷﺎﻡ ﻭ ﺍﮨﻞِ ﺷﺎﻡ ﺳﮯ ﺍُﻣَّﺖِ ﻣُﺴﻠﻤﮧ ﮐﺎ ﻣُﺴﺘﻘﺒﻞ ﻭَﺍﺑﺴﺘﮧ ﮨﮯ،
ﺍﮔﺮ مُلکِ شام ایسے ہی ﺑﺮﺑﺎﺩ ﮨﻮتے رہا ﺗﻮ
ﭘُﻮﺭﯼ ﺍُﻣَّﺖِ ﻣُﺴﻠﻤﮧ ﮐﯽ ﺑﮭﯽ ﺧﯿﺮ ﻧﮩﯿﮟ،
ویسے تو 90 فیصد برباد ہو چکا .........!
اب جبکہ پانچ سالہ خُونریزی میں 8 لاکھ بےگناه بَچّے، بُوڑھے، عَورتیں شہید اور لاتعداد دُوسرے مُلک کی سرحدوں پر زندگی کی بھیک مانگتے ہوئے شہید ہو رہے ہیں اور اتنے ہی تعداد میں زخمی یا معذور ہو چکے،
لہٰذا شام مُکمَّل تباہی کے بعد اب نزع کی حالت میں ہے ...!
اس حدیث کے حساب سے عرب ممالک کے سُنہرے دَور کے خاتمہ کی اہم وجہ مُلکِ شام کے مَوجُودَہ حالات ہيں،
گویا نبی صَلَّى اللّٰه عَليهِ وَسَلَّم کی ایک اور پیشگوئی کی عَلامَت ظاہر ہو رہی ہے یا ہوچکی ..
یاد رکھیں .
کہ مُلکِ شام کے مُتعلّق اِسرائیل، رُوس و امریکہ جو بھی جھوٹے بہانے بنائے،
لیکن ان سب کا اَصل ہَدَف جَزیرَة ُالعَرَب ہے
کیونکہ
کُفَّار کا عقیدہ ہے کہ
دَجَّال مَسِیحَا ہے
اس وجہ سے یہ لوگ دَجَّال کے اِنتظامات مُکمَّل کر رہے ہیں
جس کے لیے عرب ممالک میں عَدمِ اِستحکام پیدا کرنا ہے
کیونکہ
مُلکِ شام پر یہود و نصاریٰ قبضہ کرنا چاہتے ہیں
اور یہ ہو کر رہیگا
حضرت مہدی عَلیهِ السَّلام کے ظہور سے قبل .....!
چُنانچہ کتابِ فِتَن میں ہے کہ :
" آخری زمانے میں جب مُسلمان ہر طرف سے مَغلوب ہوجائیں گے،
مُسلسل جَنگیں ہوں گی،
شام میں بھی عیسائیوں کی حکومت قائم ہو جائے گی،
عُلماء کرام سے سُنا ہےکہ
سَعُودیہ، مِصر، ترکی بهى باقى نہ رہیگا
ہر جگہ کُفَّار کے مظالم بڑھ جائیں گے،
اُمَّت آپسی خَانہ جَنگی کا شِکار رہےگی.
عرب
(خلیجی ممالک سعودی عرب وغیره)
میں بھی مسلمانوں کی باقاعدہ پُرشوکت حکومت نہیں رہےگی
،
خَیبَر/ الخبر (سعودی عرب کا چھوٹا شہر مَدینةُ المُنَوَّره سے 170 ک م كے فاصلے پر ہے) کے قریب تک یہود و نصاریٰ پہنچ جائیں گے،
اور اس جگہ تک ان کی حکومت قائم ہوجائے گی،
بچے کھچے مسلمان مَدِینة ُالمُنَوَّرَه پہنچ جائیں گے،
اس وقت حضرت امام مہدی عَليهِ السَّلام مدینہ منوره میں ہوں گے "
دُوسری طرف دریائے طبریہ بھی تیزی سے خُشک ہو رہا ہے جو کہ مہدی عَلیہِ السَّلام کے ظہور سے قبل خُشک ہوگا
اسلئے جب مَشرقِ وُسطیٰ کے حالات کو خُصُوصاً مُسَلمانوں اور ساری دُنیا کے حالات کو دیکھتے ہیں
تو صاف نظر آتا ہے کہ دُنیا ہولناکیوں کی جانب بڑھ رہی ہے،
فرانس میں حَملوں کے بعد فرانس اور پوپ بھی عالمی جنگ کی بات کر چکے ہیں۔
سوال پیدا ہوتا ہے كه
اس عالمی جنگ کا مرکز کون سا خطہ ہو گا ...؟
وَاضِح نظر آ رہا ہے، مَشرقِ وُسطیٰ ہی مُتَوَقّع ہے .
یہاں بھی ہند و پاک کی رَنجِشیں اور کشمکش کے بڑھتے حالات سے بھی لگتا ہے
کہ
غَزوه ہند کی طرف رُخ کر رہے ہیں
کیونکہ حضرت ابو ہریره رَضِىَ اللّٰهُ تَعَالىٰ عَنه سے روایت ہے کہ رَسُولُ اللّٰه
صَلَّى اللّٰه عَليهِ وَ سَلَّم نے ارشاد فرمایا :
" میری قوم کا ایک لشکر وَقتِ آخِر کے نزدیک ہند پر چَڑھائی کرے گا
اور اللّٰه اس لشکر کو فتح نصیب کرے گا،
یہاں تک کہ وه ہند کے حُکمرانوں کو بیڑیوں میں جَکڑ کر لائیں گے۔
اللّٰه اس لشکر کے تمام گناہ معاف کر دے گا۔
پھر وه لشکر وَاپس رُخ کرے گا
اور شام میں موجود عیسیٰ ابنِ مَریم عَليهِ السَّلام کے ساتھ جا کر مِل جائے گا "
حضرت ابوہریره رَضِىَ اللّٰه تعالىٰ عَنه نے فرمایا :
" اگر میں اُس وقت تک زندہ رہا تو میں اپنا سب کچھ بیچ کر بھی اُس لشکر کا حِصَّہ بَنُوں گا،
اور پھر جب اللّٰه ہمیں فتح نصیب کرے گا تو میں ابوہریره (جہنم کی آگ سے) آزاد کہلاؤں گا۔ پھر جب میں شام پہنچوں گا
تو عیسیٰ ابنِ مَریم عَليهِ السَّلام کو تلاش کر کے انہیں بتاؤں گا کہ
میں مُحَمَّد صَلَّى اللّٰه عَليهِ وَ سَلَّم كا ساتھی رہا ہوں "
رسول پاک صَلَّى اللّٰه عَليهِ وَ سَلَّم نے تَبَسُّم فرمایا اور کہا :
"بہت مشکل،
بہت مشکل"
(کتاب الفتن۔ صفحہ ۴۰۹)
(واللہ تعالٰی اعلم)
آنے والے اَدوَار بڑے پُرفِتن نظر آتے ہیں اور اس کے مُتعلّق بھی سَرکار صَلَّى اللّٰه عَليهِ وَ سَلَّم نے فرمایا تھا
کہ میری اُمَّت پر ایک دَور ایسے آئیگا
جس میں فِتنے ایسے تیزی سے آئیں گے
جیسے تسبیح ٹوٹ جانے سے تسبیح کے دانے تیزی سے زمین کی طرف آتے ہیں،
لہٰذا اپنی نَسلوں کی ابھی سے تربیت اور ایمان کی فِکر فرمایئے،
موبائل كے بےجا استعمال سے،
دیر رات تک جاگنے، فیشن اور یہودی انداز اپنانے سے،
نمازوں کو تَرک کرنے سے روكئے ...
ورنہ آزمائش کا مقابلہ دُشوار ہو گا .
چلتے، چلتے ایک آخری بات عرض کرتی چلوں کہ
اگر کوئی ایسی نایاب ویڈیو، قول، واقعہ، کہانی یا تحریر وغیره اچھی لگے،
تو مطالعہ کے بعد مزید تھوڑی سے زحمت فرما کر اپنے دوستوں سے بھی شئیر کر لیا کیجئے،
یقین کیجئے کہ اس میں آپ کا بمشکل ایک لمحہ صرف ہو گا
لیکن
ہو سکتا ہے اس ایک لمحہ کی اٹھائی ہوئی تکلیف سے آپ کی شیئر کرده تحریر ہزاروں لوگوں کے لیے سبق آموز ثابت ہوں۔
میرے اور آپکے لیے صدقہ جاریہ بن جائے
#دیدارِ_مصطفیٰﷺ♥️
"سلطان نورالدین زنگی کو خواب میں ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا دیدار ہوا"
سلطان نورالدین زنگی عشاء کی نماز پڑھ کر سوئے کہ اچانک اٹھ بیٹھے اور نم آنکھوں سے فرمایا، میرے ہوتے ہوئے میرے آقاﷺ کو کون ستا رہا ہے ؟
آپ اس خواب کے بارے میں سوچ رہے تھے جو مسلسل تین دن سے انہیں آ رہا تھااور آج پھر چند لمحوں پہلے انھیں آیا جس میں سرکار دو عالم ﷺنے دو افراد کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ یہ مجھے ستا رہے ہیں۔
اب سلطان کو قرار کہاں تھا، انہوں نے چند ساتھی اور سپاہی لے کر دمشق سے مدینہ جانے کا ارادہ فرمایا ۔اس وقت دمشق سے مدینہ کا راستہ 20-25 دن کا تھا مگر آپ نے بغیر آرام کیئے یہ راستہ 16دن میں طے کیا۔
مدینہ پہنچ کر آپ نے مدینہ آنے اور جانے کے تمام راستے بند کروائے اور تمام خاص و عام کو اپنے ساتھ کھانے پر بلایا۔اب لوگ آ رہے تھے iور جا رہے تھے ،آپ ہر چہرہ دیکھتے مگر آپکو وہ چہرے نظر نہ آئے اب سلطان کو فکر لاحق ہوئی اور آپ نے مدینے کے حاکم سے فرمایا کہ کیا کوئی ایسا ہے جو اس دعوت میں شریک نہیں ہو سکا۔
جواب ملا کہ مدینے میں رہنے والوں میں سے تو کوئی نہیں مگر دو مغربی زائر ہیں جو روضہ رسول کے قریب ایک مکان میں رہتے ہیں تمام دن عبادت کرتے ہیں اور شام کو جنت البقی میں لوگوں کو پانی پلاتے ہیں ، جو عرصہ دراز سے مدینہ میں مقیم ہیں۔
سلطان نے ان سے ملنے کی خواہش ظاہر کی، دونوں زائر بظاہر بہت عبادت گزار لگتے تھے انکے گھر میں تھی ہی کیا ایک چٹائی اور دو چار ضرورت کی اشیاء کہ یکدم سلطان کو چٹائی کے نیچے کا فرش لرزتا ہوا محسوس ہوا۔ آپ نے چٹائی ہٹا کے دیکھا تو وہاں ایک سرنگ تھی۔
آپ نے اپنے سپاہی کو سرنگ میں اترنے کا حکم دیا ،وہ سرنگ میں داخل ہوئے اور واپس آکر بتایا کہ یہ سرنگ نبی پاک ﷺکی قبر مبارک کی طرف جاتی ہے،یہ سن کر سلطان کے چہرے پر غیظ و غضب کی کیفیت تاری ہوگئی ۔
آپ نے دونوں زائرین سے پوچھا کے سچ بتاؤ کہ تم کون ہو؟
حیل و حجت کے بعد انہوں نے بتایا کے وہ نصرانی ہیں اور اپنے قوم کی طرف سے تمہارے پیغمبر کے جسم اقدس کو چوری کرنے پر مامور کئے گئے ہیں۔
سلطان یہ سن کر رونے لگے، اور اسی وقت ان دونوں کی گردنیں اڑا دی گئیں۔
سلطان نے روتے ہوئے کہا کہ’’میرا نصیب دیکھو کہ پوری دنیا میں سے اس خدمت کے لئے اس غلام کو چنا گیا‘‘۔
اس ناپاک سازش کے بعد ضروری تھا کہ ایسی تمام سازشوں کا ہمیشہ کہ لیے خاتمہ کیا جائے، سلطان نے معمار بلائے اور قبر اقدس کے چاروں طرف خندق کھودنے کا حکم دیا یہاں تک کے پانی نکل آئے۔سلطان کے حکم سے اس خندق میں پگھلا ہوا سیسہ بھر دیا گیا اور روضہ رسولﷺ کو اللہ کے فضل سے ہمیشہ کیلئے محفوظ کر دیا گیا۔۔۔
18/11/2023
Maa shaa Allah syed Shahzaib Ali Shah our very honourable and most intelligent student of AlFurqan public high school khoi Nara......
Syed Shahzaib Ali Shah hifz class ka student hy aur maa shaa Allah 5 mah mein in ka 9va para jari hy. Allah pak in ko mazeed kamyabian ata kry ameen. Maa shaa Allah aj sir Fayaz Shb ki trf sy in ko inam b diya gya hy. Allah pak in ko mazeed isteqamat dy ameen. Aur apny deen ky Liya qobol farmaey ameen......
Must read.........
💥 *تربیت کے اثرات*💥
یہ بات ہے کوئی 28 سال پہلے کی
میرے ہاں دو جڑواں بیٹے ہوئے تو میرے شوہر نے ایک بیٹا اٹھا کر اپنی امی کی گود میں ڈال دیا
وجہ اس کی یہ تھی کہ اس سے پہلے بھی میرے پاس 4 سالہ ثروت اور 2 سالہ فرحت تھیں
جہاں گھر میں دو بیٹیوں کے بعد دو بیٹوں کو پا کر خوشی کی لہر دوڑ گئی وہاں میری کمزور صحت اور اوپر تلے کے بچوں کی وجہ سے دونوں چھوٹے بچوں کیلئے ہم سب پریشان تھے
میرے شوہر نے اپنی امی کی گود میں نعمان کیا ڈالا جیسے انہیں جینے کا بہانہ مل گیا
میرے سسر کی وفات اور سارے بچوں کی شادیوں سے فارغ ہو کر وہ اپنے آپ کو اب فالتو. سمجھنا شروع ہو گئیں تھیں اور اکثر ڈپریشن کا شکار رہتی تھیں
اب وہ دونوں بچوں کی مالش کرتی دونوں کو نہلاتی اور کپڑے بدلوا کر سلیمان کو میرے سپرد کردیتی تھیں
نعمان کو اپنے ساتھ اپنے کمرے میں لے جاتی تھیں
چھ ماہ کے بعد نعمان نے خود ہی میرے دودھ سے منہ موڑ لیا تو اب وہ سارا ٹائم اپنی دادی کے ساتھ ہی رہتا
میں بہو ہونے کے ساتھ ساتھ ساس امی کی بھانجی بھی تھی
وہ فطرتاً صلح جو اور امن پسند خاتون تھیں
ہمارے آپس کے معاملات بڑے ہموار چل لیکن اوپر تلے کے بچوں نے مجھے چڑچڑا اور غصیلا بنا دیا تھا
میں بمشکل سارے دن میں گھر داری سمیٹتی اور رات کو بڑی بیٹی کو سکول کا پڑھاتی
*نعمان ابھی چھوٹا تھا تو اکثر جب اس کی دادی رات کو سونے سے پہلے زبانی سورتیں تلاوت کرتی تو نعمان کا سر ان کے بازو پر ہوتا*
اور وہ ایک ہاتھ سے دادی کے کان کو ٹٹولتے ٹٹولتے سو جاتا
جبکہ *سلیمان اکثر دیر تک ٹی وی دیکھتے ہوئے سوتا*
وقت جلد ہی گزرتا چلا گیا
دونوں لڑکے بھی سکول جانا شروع ہو چکے تھے
*خالہ ساس اب اکثر رات میں نعمان کو انبیائے کرام کی زندگی* *کے واقعات سنایا کرتی تھیں*
*کبھی اپنی زندگی یا اس کے اپنے بابا کے بچپن کی باتیں سناتی*
نعمان بہت دھیمی طبیعت کا ثابت ہورہا تھا لیکن اس کے ساتھ ساتھ پڑھائی میں بھی بہت زیادہ تیز نہیں تھا
جبکہ سلیمان کو میں خود سکول کا پڑھاتی اور وہ بہت جلدی پڑھنا لکھنا سیکھ رہا تھا
وقت کے ساتھ ساتھ خالہ ساس کی صحت کمزور ہوتی چلی گیی جبکہ گھر کے مالی حالات اچھے ہوتے چلے گئے
میں بچوں کی تعلیم کے معاملے میں حد سے زیادہ حساس تھی
اب میرا زیادہ وقت بچوں کو پڑھانے میں صرف ہوتا
لیکن نعمان میرے بجائے اپنی دادی سے پڑھتا تھا
اس کی دادی سیدھے سادھے زمانے کی انڈر بی اے خاتون تھی جبکہ میں نے فزکس میں بی ایس کیا ہوا تھا
پانچویں جماعت تک دادی نے اسے اردو، انگریزی، معاشرتی علوم اور جنرل سائنس میں طاق کر دیا
لیکن الجبرا، جیومیٹری، حساب وغیرہ میں نعمان کافی کمزور رہ گیا
میرے اپنی ساس کے ساتھ کبھی اختلافات نہیں رہے تھے لیکن اب نعمان کی تعلیم کی وجہ سے مجھے ان سے کچھ چڑ ہوتی جارہی تھی
جتنی میں زیادہ وہمی تھی بچوں کی پڑھائی کو لیکر
*اتنا ہی وہ بچوں کو تعلیم سے زیادہ اچھا انسان بنانے کی بات کرتی رہتی تھیں*
*مجھے سمجھ نہیں آتی تھی کہ آج کے دور میں کوئی بھی بچہ سائنس کی پڑھائی یا کسی پروفیشنل ڈگری کے بغیر کیسے کامیاب انسان بن سکتا ہے*
جن دنوں دونوں بھائیوں کے میٹرک کے پرچے قریب تھے ایک دن دونوں بھائیوں میں کچھ بحث مباحثہ ہوا
اور نعمان دادی کے گلے لگ کر رو پڑا
اس نے دادی سے سلیمان کی یہ شکائت کی تھی کہ وہ اسے حساب کے سوال نہیں سمجھاتا
اور اپنے حل شدہ پرانے پرچے اس کو دیکھنے کیلئے نہیں دیتا تا کہ وہ اپنی غلطیاں ڈھونڈ کر انہیں دور کر سکے
جب میں نے سلیمان کو سمجھایا کہ بھائی کی مدد کیوں نہیں کرتے
تو اس نے جواب دیا کہ میں اپنی کلاس میں کسی کو بھی اپنی کاپیاں یا حل شدہ پرچے نہیں دیکھنے دیتا
میں نے بڑی محنت سے اپنا کام کیا ہوتا ہے یہ بھی اپنا کام محنت سے خود کرے اور مجھ سے کوئی امید نہ رکھے
تب بچے چھوٹے ہی تھے اس لئے میں نے زیادہ نوٹس نہیں لیا
سلیمان انتہائی محنتی اور ایکپ ایک نمبر کیلئے حریص اور کسی حد تک خود غرض ہوتا تھا اور مجھے اس پر فخر ہوتا تھا
ایف ایس سی کے بعد سلیمان انجینئرنگ یونیورسٹی میں چلا گیا جب کہ نعمان کے نمبر کم تھے تو اس نے سادہ پولٹیکل سائنس میں گریجویشن شروع کر دی
میری دونوں بیٹیاں بھی پڑھائی میں اچھی تھی
ان کی شادیاں تعلیم ختم ہوتے ساتھ ہی کر دی تھیں
مالی طور پر اب ہم بہتر پوزیشن میں آ چکے تھے
*سلیمان ہمیشہ ہمارا قابل فخر بیٹا رہا*
*جبکہ نعمان پڑھائی میں نہایت اوسط درجے کا طالب علم تھا*
انہی دنوں خالہ ساس کو فالج کا اٹیک ہو گیا
اب میری صحت بھی اچھی نہیں تھی
*لیکن نعمان نے میرا ساتھ بیٹیوں سے بڑھ کر دیا*
*ہر روز صبح دادی کا منہ ہاتھ دھلوا کر انہیں ناشتہ کروانا اور ایکسر سائز کروانا اس نے اپنے* *زمہ لیا ہوا تھا*
دن کو میں خود انہیں دیکھتی رات کا کھانا نعمان دادی کو خود کھلاتا اور پھر انہیں دن بھر کی روداد سنانا اس کے معمول میں شامل تھا
سیدھی سادھی باتوں کو مزاح کا تڑکا لگا کر جب وہ دادی کو قصے سنا رہا ہوتا تو اسکی دادی کے ساتھ ساتھ ہم بھی اپنے کمرے میں اس کی آوازیں سن کر بے ساختہ ہنس پڑتے
خالہ ساس کی میں نے، میرے شوہر نے اور نعمان نے بہت خدمت کی
لیکن ایک سال کے اندر اندر وہ چل بسیں
وقت کچھ اور آگے سرکا
سلیمان کی انجینئرنگ مکمل ہو گئی تو اس نے مزید پڑھنے کیلئے باہر جانے کی ضد لگا لی
میرے شوہر کے پاس جو جمع جتھا تھا وہ انہوں نے نکال لیا
یہ عقلمندی کی کہ دونوں بیٹوں میں برابر رقم تقسیم کر دی
سلیمان جلد ہی پڑھنے کیلئے امریکہ سدھار گیا
وہیں اس نے کچھ عرصہ پہلے اپنی پسند کی انگریز لڑکی کا ہمیں بتایا
اور اب اس کی شادی کو تین سال ہوچکے ہیں اللہ نے انہیں اپنی رحمت سے نوازا ہے
اب اس کا فیصلہ ہے کہ ہم نے ادھر ہی رہنا ہے اور میں یہ سوچ کر پریشان ہوتی ہوں کہ آنے والی نسل کا کیا بنے گا
نعمان جو زندگی کے کسی دور میں قابل فخر نہیں رہا
نہ ہی لوگوں نے اسے کبھی اپنے بچوں کے سامنے ایک مثال کے طور پر پیش کیا
اس نے اپنے والد صاحب سے ملی ہوئی رقم کے ساتھ چھوٹا سارا سپئر پارٹس کا کام شروع کیا
جو کہ دیکھتے ہی دیکھتے چل نکلا
اللہ نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا ہے اور اس کا کام دن دگنی رات چوگنی ترقی کررہا ہے
اس کے ایک سے زیادہ کام ہیں اور ہر جگہ پر کامیابی اس کے قدم چوم رہی ہے
آج اس کا کام پاکستان سے باہر تک پھیلا ہوا ہے
جب وہ اپنے کاروبار کے سلسلے میں پاکستان سے باہر جاتا ہے تو وہاں بات چیت کیلئے ایک ترجمان اس کے ساتھ ساتھ ہوتا ہے
اس کی شادی میں نے اپنی نند *کی بیٹی سے کی ہے اور وہ بھی اللہ کی نیک بندی ہے جس کے پاس بے تحاشا مال دولت ہے لیکن وہ ایک بڑی متوازن زندگی گزار رہی ہے*
جس میں اچھا لباس، اچھا کھانا پینا اس کا اپنا حلقہ احباب، ملازمین سے محبت، عاجزی اور غریب پروری شامل ہے
*بچوں کو بزرگوں کی دعائیں اور انکی معصوم سماعتوں میں راتوں کی تلاوت کبھی ضائع نہیں جاتی*
آج میں سوچتی ہوں
کہ زیادہ ڈگریوں سے اور زیادہ قابلیت سے
*یا زیادہ اچھی تربیت سے اور زیادہ اچھے انسان سے*
میں نے کس سے کچھ کھویا
میں نے کس سے کچھ پایا
انتخاب،،عابد چوہدری
➖♻️➖
کیا آپ نے وہ دعا سیکھ لی ہے جو چالیس سال کی عمر کو پہنچنے کے بعد پڑھی جاتی ہے؟؟!
کسی مربی کا کہنا ہے کہ میں نے اپنی بیٹی سے ایک بڑا سبق سیکھا۔ ہوا یوں کہ وہ ایک مرتبہ سورہ احقاف حفظ کر رہی تھی۔ اچانک مجھ سے سوال کر بیٹھی:
ابو جان! آپ کی عمر کتنی ہے؟
میں نے اسے مسکراتے ہوئے جواب دیا: 44 سال۔
کہنے لگی گویا آپ چار سال پہلے ہی 40 سال کے ہو چکے ہیں۔ پھر کیا آپ وہ دعا پڑھتے ہیں جو چالیس سال کی عمر کو پہنچنے کے بعد پڑھی جاتی ہے؟
میں نے بڑی حیرت سے پوچھا: کیا ایسی بھی کوئی خاص دعا ہے جو چالیس سال کی عمر کو پہنچنے کے بعد کی جاتی ہے؟
بیٹی نے مسکراتے ہوئے جواب دیا:
ابو جان! ہماری ٹیچر نے سورہ احقاف کی ان آیات کی تفسیر کرتے ہوئے ہمیں یہ دعا سکھائی ہے:
*وَوَصَّيْنَا الْإِنسَانَ بِوَالِدَيْهِ إِحْسَانًا ۖ حَمَلَتْهُ أُمُّهُ كُرْهًا وَوَضَعَتْهُ كُرْهًا ۖ وَحَمْلُهُ وَفِصَالُهُ ثَلَاثُونَ شَهْرًا ۚ حَتَّىٰ إِذَا بَلَغَ أَشُدَّهُ وَبَلَغَ أَرْبَعِينَ سَنَةً قَالَ رَبِّ أَوْزِعْنِي أَنْ أَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِي أَنْعَمْتَ عَلَيَّ وَعَلَىٰ وَالِدَيَّ وَأَنْ أَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضَاهُ وَأَصْلِحْ لِي فِي ذُرِّيَّتِي ۖ إِنِّي تُبْتُ إِلَيْكَ وَإِنِّي مِنَ الْمُسْلِمِينَ (15) أُولَٰئِكَ الَّذِينَ نَتَقَبَّلُ عَنْهُمْ أَحْسَنَ مَا عَمِلُوا وَنَتَجَاوَزُ عَن سَيِّئَاتِهِمْ فِي أَصْحَابِ الْجَنَّةِ ۖ وَعْدَ الصِّدْقِ الَّذِي كَانُوا يُوعَدُونَ (16)..*
ترجمہ: اور ہم نے انسان کو اپنے ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرنے کا حکم دیا ہے اس کی ماں نے اسے تکلیف جھیل کر پیٹ میں رکھا اور تکلیف برداشت کرکے اسے جنا ۔ اس کے حمل کا اور اس کے دودھ چھڑانے کا زمانہ تیس مہینے کا ہے یہاں تک کہ جب وہ اپنی پختگی اور چالیس سال کی عمر کو پہنچا تو کہنے لگا اے میرے پروردگار مجھے توفیق دے کہ میں تیری اس نعمت کا شکر بجا لاؤں جو تو نے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر انعام کی ہے اور یہ کہ میں ایسے نیک عمل کروں جن سے تو خوش ہو جائے اور تو میری اولاد کو بھی صالح بنا ۔ میں تیری طرف رجوع کرتا ہوں اور میں مسلمانوں میں سے ہوں ۔
یہی وہ لوگ ہیں جن کے نیک اعمال تو ہم قبول فرما لیتے ہیں اور جن کے بد اعمال سے درگزر کر لیتے ہیں ( یہ ) جنتی لوگوں میں ہیں ۔ اس سچے وعدے کے مطابق جو ان سے کیا جاتا ہے ۔
ہماری ٹیچر نے ہمیں یہ بھی بتایا کہ ان کے والد صاحب صاحب 30 سال سے پابندی کے ساتھ یہ دعا پڑھ رہے ہیں اور اب 80 سال پہنچنے کے قریب ہیں اس کے باوجود وہ اچھی صحت و تندرستی کے ساتھ جی رہے ہیں۔
اس بہترین نصیحت کے لئے میں نے اپنی بیٹی کا شکریہ ادا کیا اور اس کے سر کو بوسہ دیتے ہوئے ہوئے اللہ کی تعریف کی کہ اس نے مجھے ایسی بیٹی سے نوازا ہے جس کے ذریعے مجھے یہ سبق سیکھنے کا موقع مل رہا ہے۔
بیٹی نے کہا: ابو جان! آپ بھی یہ دعا برابر ہر پڑھے رہا کریں:
*رَبِّ أَوْزِعْنِي أَنْ أَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِي أَنْعَمْتَ عَلَيَّ وَعَلَىٰ وَالِدَيَّ وَأَنْ أَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضَاهُ وَأَصْلِحْ لِي فِي ذُرِّيَّتِي ۖ إِنِّي تُبْتُ إِلَيْكَ وَإِنِّي مِنَ الْمُسْلِمِينَ .*
(اے میرے پروردگار! مجھے توفیق دے کہ میں تیری اس نعمت کا شکر بجا لاؤں جو تو نے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر انعام کی ہے اور یہ کہ میں ایسے نیک عمل کروں جن سے تو خوش ہو جائے اور تو میری اولاد کو بھی صالح بنا ۔ میں تیری طرف رجوع کرتا ہوں اور میں مسلمانوں میں سے ہوں۔)
عربی سے منقول
نشر مکرر
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Telephone
Website
Address
Khoi Nara
Haripur
0000