حضرت ابو بکر صدیقؓ کا ایمان لانا🌹
اپنے زمانے میں خوابوں کی تعمیر میں ماہر ھونا
نسب نامہ بیان کرنے میں ماہر ھونا
آپؓ کا خواب دیکھنا اور اسکی تعبیر
مردوں میں سب سے پہلے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ایمان لائے۔ آپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلے ہی دوست تھے۔حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اکثر ان کے گھر آتے اور ان سے باتیں کیا کرتے تھے۔
ایک دن حضرت حکیم بن حزام رضی الله عنہ کے پاس بیٹھے تھے کہ ان کی ایک باندی وہاں آئی اور کہنے لگی:
"آج آپ کی پھوپھی خدیجہ نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ ان کے شوہر اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجے ہوئے پیغمبر ہیں جیسا کہ موسیٰ علیہ السلام تھے۔"
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے جونہی حضرت حکیم رضی اللہ عنہ کی باندی کی یہ بات سنی،چپکے سے وہاں سے اٹھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آگئے اور آپ سے اس بارے میں پوچھا۔ اس پر آپ نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہٗ کو وحی آنے کا پورا واقعہ سنایا اور بتایا کہ آپ کو تبلیغ کا حکم دیا گیا ہے۔یہ سنتے ہی حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہٗ نے عرض کیا:
"میرے ماں باپ آپ پر قربان آپ بلکل سچ کہتے ہیں واقعی اللہ کے رسول ہیں۔" آپ کے اس طرح فوراً تصدیق کرنے کی بنا پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو صدیق کا لقب عطا فرمایا۔اس بارے میں دوسری روایت یہ ہے کہ صدیق کا لقب آپ نے انہیں اس وقت دیا تھا جب آپ معراج کے سفر سے واپس تشریف لائے تھے مکہ کے مشرکین نے آپ کو جھٹلایا تھا۔ اس وقت حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اس واقعہ کو سنتے ہیں فوری طور پر آپ کی تصدیق کی تھی اور آپ نے انہیں صدیق کا لقب عطا فرمایا تھا۔
غرض ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہٗ نے آپ کی نبوت کی تصدیق فوری طور پر کر دی۔
حضرت ابو بکر صدیق رضي اللہ عنہ کا نام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ رکھا، اس لیے کہ اس سے پہلے اُن کا نام عبدالكعبہ تھا۔ اس لحاظ سے ابوبکر صدیق وہ پہلے آدمی ہے جن کا نام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تبدیل کیا۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ یوں بھی بہت خوبصورت تھے، اس مناسبت سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا لقب عتیق کر رکھا تھا۔ عتیق کا مطلب ہے خوبصورت اس کا ایک مطلب آزاد بھی ہے۔یہ لقب دینے کی ایک وجہ یہ بھی بیان کی جاتی ہے کہ ان کی طرف دیکھ کر فرمایا تھا:
" یہ جہنم کی آگ سے آزاد ہیں۔"
غرض اسلام میں یہ پہلا لقب ہے جو کسی کو ملا۔
🌹قریش میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا مرتبہ اپنے زمانے میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ خواب کی تعبیر بتانے میں بہت ماہر اور مشہور تھے🌹
قریش میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا مرتبہ
بہت بلند تھا آپ بہت خوش اخلاق تھے۔ قریش کے سرداروں میں سے ایک تھے۔ شریف، سخی اور دولت مند تھے۔ روپیہ پیسہ بہت فراخ دلی سے خرچ کرتے تھے۔ ان کی قوم کے لوگ انہیں بہت چاہتے تھے۔ لوگ ان کی مجلس میں بیٹھنا بہت پسند کرتے تھے۔ اپنے زمانے میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ خواب کی تعبیر بتانے میں بہت ماہر اور مشہور تھے۔ چنانچہ علامہ ابن سیرین رحمہ اللہ کہتے ہیں:
" نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اس امت میں سب سے بہترین تعبیر بتانے والے عالم ہیں۔"
علامہ ابن سیرین رحمہ اللہ خوابوں کی تعبیر بتانے میں بہت ماھر تھے اور اس سلسلے میں ان کی کتابیں موجود ہے اس کتاب میں خوابوں کی حیرت انگیز تعبیر ہے درج ہیں۔ ان کی بتائی ہوئی تعبیریں بالکل درست ثابت ہوتی رہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اس میدان کے ماہر اس بارے میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے بہتر تعبیر بتانے والے فرما رہے ہیں۔
🌹حضرت ابو بکر صدیقؓ نسب نامہ معلوم کرنے میں بھی ماہر تھے🌹
ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نسب نامہ بیان کرنے میں بھی بہت ماھر تھے بلکہ کہا جاتا ہے کہ اس علم کے سب سے بڑے عالم تھے۔ حضرت جبیر بن مطعم بھی اس علم کے ماہر تھے، وہ فرماتے ہیں:
"میں نے نسب ناموں کا فن اور علم اور خاص طور پر قریش کے نسب ناموں کا علم حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے ہی حاصل کیا ہے، اس لئے کہ وہ قریش کے نسب ناموں کے سب سے بڑے عالم تھے۔
قریش کے لوگوں کو کوئی مشکل پیش آتی تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے رابطہ کرتے تھے۔
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے: "میں نے جسے بھی اسلام کی دعوت دی اُس نے کچھ نہ کچھ سوچ بچار اور کسی قدر وقفے کے بعد اسلام قبول کیا،سوائے ابوبکر کے، وہ بغیر ہچکچاہٹ کے فوراً مسلمان ہوگئے، ابوبکر سب سے بہتر رائے دینے والے ہیں۔ میرے پاس جبرائیل علیہ السلام آئے اور انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ آپ کو حکم دیتا ہے، اپنے معاملات میں ابوبکر سے مشورہ کیا کریں۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہٗ وزیر کے درجے میں تھے۔ آپ ہر معاملے میں ان سے مشورہ لیا کرتے تھے۔ ایک حدیث میں آتا ہے،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
"اللہ تعالٰی نے میری مدد کے لئے چار وزیر مقرر فرمائے ہیں، ان میں سے دو آسمان والوں میں سے ہیں یعنی جبرائیل اور میکائیل (علیہما السلام) اور دو زمین والوں میں سے ایک ابوبکر اور دوسرے عمر (رضی اللہ عنہما)۔"
اسلام لانے سے پہلے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ایک خواب دیکھا تھا، خواب میں آپ نے دیکھا کہ چاند مکہ میں اُتر آیا ہے اور اس کا ایک ایک حصہ مکہ کے ہر گھرمیں داخل ہو گیا ہے۔ اور پھر سارے کا سارا ابوبکر رضی اللہ والوں کی گود میں آ گئا۔ آپ نے یہ خواب ایک عیسائی عالم کو سنایا۔ اُس نے اس خواب کی یہ تعبیر بیان کی کہ تم اپنے پیغمبر کی پیروی کرو گے جس کا دنیا انتظار کر رہی ہے اور جس کے ظہور کا وقت قریب آگیا ہے اور یہ کہ پیروں کاروں میں سے سب سے زیادہ خوش قسمت انسان ہو گے۔
ایک روایت کے مطابق عالم نے کہا تھا:
"اگر تم اپنا خواب بیان کرنے میں سچے ہو تو بہت جلد تمہارے گاؤں میں سے ایک نبی ظاہر ہوں گے، تم اس نبی کی زندگی میں اس کے وزیر بنو گے اور ان کی وفات کے بعد ان کے خلیفہ ہوؤ گے۔"
کچھ عرصہ بعد ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہٗ کو یمن جانے کا اتفاق ہوا تھا۔ یمن میں یہ ایک بوڑھے عالم کے گھر ٹھرے۔ اس نے آسمانی کتابیں پڑھ رکھی تھیں۔ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہٗ کو دیکھ کر اس نے کہا:
میرا خیال ہے، تم حرم کے رہنے والے ہو اور میرا خیال ہے، تم قریشی ہو اور تیمی خاندان سے ہو۔"
ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے جواب میں فرمایا:
"ہاں! تم نے بالکل ٹھیک کہا۔"
اب اس نے کہا:
"میں تم سے ایک بات اور کہتا ہوں… تم ذرا اپنا پیٹ پر سے کپڑا ہٹا کر دکھاؤ۔" حضرت ابو بکر صد یق اس کی بات سن کر حیران ہوئے اور بولے:
"ایسا میں اس وقت تک نہیں کروں گا، جب تک کہ تم اس کی وجہ نہیں بتا دو گے۔"
اس پر اس نے کہا:
"میں اپنے مضبوط علم کی بنیاد پر کہتا ہوں کہ حرم کے علاقے میں ایک نبی کا ظہور ہونے والا ہے - ان کی مدد کرنے والا ایک نوجوان ہوگا اور ایک پختہ عمر والا ہوگا، جہاں تک نوجوان کا تعلق ہے، وہ مشکلات میں کود جانے والا ہوگا، جہاں تک پختہ عمر کے آدمی کا تعلق ہے، وہ سفید رنگ کا کمزور جسم والا ہوگا - اس کے پیٹ پر ایک بال دار نشان ہوگا - حرم کا رہنے والا، تیمی خاندان کا ہوگا اور اب یہ ضروری نہیں کہ تم مجھے اپنا پیٹ دکھاؤ، کیونکہ باقی سب علامتیں تم میں موجود ہیں -
اس کی اس بات پر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنے پیٹ پر سے کپڑا ہٹادیا - وہاں ان کی ناف کے اوپر سیاہ اور سفید بالوں والا نشان موجود تھا - تب وہ پکار اٹھا:
"پروردگارِ کعبہ کی قسم! تم وہی ہو۔حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:
"جب میں یمن میں اپنی خریداری اور تجارتی کام کر چکا تو رخصت ہونے کے وقت اس کے پاس آیا۔ اس وقت اس نے مجھ سے کہا:
"میری طرف سے چند شعر سن لو جو میں نے اس نبی کی شان میں کہے ہیں۔"
اس پر میں نے کہا:
"اچھی بات ہے سناؤ۔"
تب اس نے مجھے وہ شعر سنائے، اس کے بعد جب میں مکہ معظمہ پہنچا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نبوت کا اعلان کر چکے تھے۔فوراً ہی میرے پاس قریش کے بڑے بڑے سردار آئے۔ ان میں زیادہ اہم عقبہ بن ابی معیط، شیبہ، ابو جہل اور ابوالبختری تھے۔ان لوگوں نے مجھ سے کہا:
"اے ابوبکر! ابو طالب کے یتیم نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ نبی ہیں۔اگر آپ کا انتظار نہ ہوتا تو ہم اس وقت تک صبر نہ کرتے۔ اب جب کہ آپ آگئے ہیں، ان سے نبٹنا آپ ہی کا کام ہے ۔"
اور یہ بات انہوں نے اس لیے کہی تھی کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ،نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریبی دوست تھے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے اچھے انداز سے ان لوگوں کو ٹال دیا اور خود آپ کے گھر پہنچ کر دروازے پر دستک دی۔ آپ باہر تشریف لائے۔ مجھے دیکھ کر آپ نے ارشاد فرمایا:
"اے ابوبکر! میں تمہاری اور تمام انسانوں کی طرف اللہ کا رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں،اس لیے اللہ تعالٰی پر ایمان لے آؤ۔"
آپ کی بات سن کر میں نے کہا:
"آپ کے پاس اس بات کا ثبوت ہے۔"
آپ نے میری بات سن کر ارشاد فرمایا:
اس بوڑھے کے وہ شعر جو اس نے آپ کو سنائے تھے"
یہ سن کر میں حیران رہ گیا اور بولا:"میرے دوست! آپ کو ان کے بارے میں کس نے بتایا؟"
آپ نے ارشاد فرمایا:
"اس عظیم فرشتے نے جو مجھ سے پہلے بھی تمام نبیوں کے پاس آتا رہا ہے۔"
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا:"اپنا ہاتھ لایئے! میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔"
آپ میرے ایمان لانے پر بہت خوش ہوئے، مجھے سینے سے لگایا ۔ پھر کلمہ پڑھ کر میں آپ کے پاس سے واپس آگیا۔
مسلمان ہونے کے بعد حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے جو سب سے پہلا کام کیا،وہ تھا اسلام کی تبلیغ۔ انہوں نے اپنے جاننے والوں کو اسلام کا پیغام دیا۔ انہیں اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلایا،
knowledge of Islam
power of Islam
جب حضورﷺ نے فرمایا کہ آج سے زید میرا بیٹا ھے🌹
حضرت زید بن حارثہ رضی الله عنہا غلاموں میں سب سے پہلے ایمان لائے تھے، یہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام تھے پہلے یہ حضرت خدیجہ رضی الله عنہہ کے غلام تھے۔ شادی کے بعد انہوں نے زید بن حارثہ رضی اللہ عنہہ کو آپ صلی الله علیہ وسلم کی غلامی میں دے دیا تھا۔
یہ غلام کس طرح بنے، یہ بھی سن لیں ۔ جاہلیت کے زمانے میں ان کی والدہ انہیں لیے اپنے ماں باپ کے ہاں جارہی تھیں کہ قافلہ کو لوٹ لیا گیا۔ ڈاکو ان کے بیٹے زید بن حارثہ رضی اللہ عنہہ کو بھی لے گئے۔ پھر انہیں عکاظ کے میلے میں بیچنے کے لیے لایا گیا۔ ادھر سیدہ خدیجہ رضی الله عنہا نے حکیم بن حزام رضی الله عنہا کو میلے میں بھیجا ۔ وہ ایک غلام خریدنا چاہتی تھیں ۔ آپ حکیم بن حزام رضی اللہ عنہا کی پھوپھی تھیں ۔ حکیم بن حزام رضی اللہ عنہا میلے میں آئے تو وہاں انہوں نے زید بن حارثہ رضی اللہ عنہہ کر بکتے دیکھا، اس وقت ان کی عمر آٹھ سال تھی، حکیم بن حزام رضی اللہ عنہا کو یہ اچھے لگے، چنانچہ انہوں نے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے لیے انہیں خرید لیا۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کو بھی یہ پسند آئے اور انہوں نے انہیں اپنی غلامی میں لے لیا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدیہ کردیا۔اس طرح حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہا آپ صلی علیہ وسلم کے غلام بنے۔ پھر جب آپ نے اسلام کی دعوت دی تو فوراً آپ پر ایمان لے آئے۔بعد میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں آزاد کردیا تھا مگر یہ عمر بھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں رہے۔ ان کے والد ایک مدت سے ان کی تلاش میں تھے۔ کسی نے انہیں بتایا کہ زید مکہ میں دیکھے گئے ہیں ۔
ان کے والد اور چچا انہيں لینے فوراً مکہ معظمہ کی طرف چل پڑے۔ مکہ پہنچ کر یہ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کو بتایاکہ زید ان کے بیٹے ہیں۔
ساری بات سن کر آپ نے ارشاد فرمایا:
" تم زید سے پوچھ لو، اگر یہ تمہارے ساتھ جانا چاہیں تو مجھے کوئی اعتراض نہيں اور یہاں میرے پاس رہنا چاہیں تو ان کی مرضی۔"
زید رضی اللہ عنہہ سے پوچھا گیا تو انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہنا پسند کیا۔
اس پر باپ نے کہا:
" تیرا برا ہو زید ... تو آزادی کے مقابلے میں غلامی کو پسند کررہا ہے۔"
جواب میں حضرت زید رضی اللہ عنہا نے کہا ؛
" ہاں ! ان کے مقابلے میں میں کسی اور کو ہرگز نہیں چن سکتا۔"
آپ نے حضرت زید رضی اللّٰہ عنہہ کی یہ بات سنی تو آپ کو فوراً حجر اسود کے پاس گئے اور اعلان فرمایا۔:
" آج سے زید میرا بیٹا ہے۔"
ان کے والد اور چچا مایوس ہوگئے۔ تاہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی کہ وہ جب چاہیں زید سے ملنے آسکتے ہیں ۔ چنانچہ وہ ملنے کے لیے آتے رہے۔
تو یہ تھے حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہا جو غلاموں میں سب سے پہلے ایمان لائے۔ حضرت زید واحد صحابی ہیں جن کا قران کریم میں نام لے کر ذکر کیا گیا ہے۔
عفیف کندی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ کاش میں ان میں اس وقت چوتھا آدمی ھوتا
عفیف کندی رضی اللہ عنہ ایک تاجر تھے، ان کا بیان ہے۔
" اسلام کرنے سے بہت پہلے میں ایک مرتبہ حج کے لئے آیا ۔ تجارت کا کچھ مال خریدنے کے لئے میں عباس ابن عبدالمطلب کے پاس گیا۔ وہ میرے دوست تھےاور یمن سے اکثر عطر خرید کر لاتے تھے۔ پھر حج کے موسم میں مکہ میں فروخت کرتے تھے، میں ان کے ساتھ منیٰ میں بیٹھا تھا کہ ایک نوجوان آیا۔ اس نے غروب ہوتے سورج کی طرف غور سے دیکھا، جب اس نے دیکھ لیا کہ سورج غروب ہوچکا تو اس نے بہت اہتمام سے وضو کیا، پھر نماز پڑھنے لگا۔ یعنی کعبہ کی طرف منہ کرکے.... پھر ایک لڑکا آیا، جو بالغ ہونے کے قریب تھا ۔اس نے وضو کیا اور اس نوجوان کے برابر کھڑے ہوکر نماز پڑھنے لگا۔پھر ایک عورت خیمے سے نکلی اور ان کے پیچھے نماز کی نیت باندھ کر کھڑی ہوگئی۔ اس کے بعد ان نوجوان نے رکوع کیا تو اس لڑکے اور عورت نے بھی رکوع کیا۔نوجوان نے سجدے میں گیا تو وہ دونوں بھی سجدے میں چلے گئے۔ یہ منظر دیکھ کر میں نے عباس بن عبدالمطلب سے پوچھا:
" عباس! یہ کیا ہوررہا ہے۔ "
انہوں نے بتایا :
"یہ میرے بھائی عبدالله کے بیٹے کا دین ہے۔ محمدﷺ کا دعویٰ ہے کہ اللّٰہ تعالٰی نے اسے پیغمبر بنا کر بھیجا ہے۔ یہ لڑکا میرا بھتیجا ہے علی ابن طالب ہے اور یہ عورت محمدﷺ کی بیوی خدیجہ ہے۔ "
یہ عفیف کندی رضی اللہ عنہہ مسلمان ہوئے تو کہا کرتے تھے:
" کاش! اس وقت ان میں چوتھا آدمی میں ہوتا۔"
اس واقعے کے وقت غالباً حضرت زید بن حارثہ اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہا وہاں موجود نہیں تھے، اگرچہ اس وقت تک دونوں مسلمان ہوچکے تھے۔
انہوں نے آتے ہی کہا:
’’اقرأ۔ یعنی پڑھئے۔
آپ نے فرمایا:
’’میں نہیں پڑھ سکتا۔‘‘ (یعنی میں پڑھا لکھا نہیں)۔
اس پر جبرائیل علیہ السلام نے آپ کو سینے سے لگاکر بھینچا۔ آپ فرماتے ہیں، انہوں نے مجھے اس زور سے بھینچا کہ مجھے موت کا گمان ہوا۔ اس کے بعد انہوں نے مجھے چھوڑدیا، پھر کہا:
’’پڑھیے۔ ’’یعنی جو میں کہوں، وہ پڑھیے۔ اس پر آپ نے فرمایا:
میں کیا پڑھوں؟‘‘
تب جبرائیل علیہ السلام نے سورۃ العلق کی یہ آیات پڑھیں:
ترجمہ: اے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم! آپ (پر جو قرآن نازل ہوا کرے گا) اپنے رب کا نام لے کر پڑھا کیجئے (یعنی جب پڑھیں، بسم اللہ الرحمن الرحیم کہہ کر پڑھا کیجئے) جس نے مخلوقات کو پیدا کیا، جس نے انسان کو خون کے لوتھڑے سے پیدا کیا، آپ قران پڑھا کیجئے اور آپ کا رب بڑا کریم ہے (جو چاہتا ہے، عطا کرتا ہے اور ایسا ہے) جس نے لکھے پڑھوں کو قلم سے تعلیم دی۔ (اور عام طور پر) انسانوں کو (دوسرے ذریعوں سے) ان چیزوں کی تعلیم دی جن کو وہ نہیں جانتا تھا۔
آپ فرماتے ہیں:
’’میں نے ان آیتوں کو اسی طرح پڑھ دیا جس کے بعد وہ فرشتہ میرے پاس سے چلا گیا، ایسا لگتا تھا گویا میرے دل میں ایک تحریر لکھ دی گئی ہو، یعنی یہ کلمات مجھے زبانی یاد ہوگئے، اس کے بعد آپ گھر تشریف لائے۔
بعض روایات میں آتا ہے کہ جبرئیل علیہ السلام جب غار میں آئے تو پہلے انہوں نے یہ الفاظ کہے تھے:
’’اے محمد! آپ اللہ کے رسول ہیں اور میں جبرئیل ہوں۔‘‘
نبوت ملنے کے بعد آپﷺ کی گھر تشریف آوری
آپ کی گھر تشریف آوری سے پہلے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے حسب معمول آپ کے لئے کھانا تیار کرکے ایک شخص کے ہاتھ آپ کے پاس بھجوادیا تھا مگر اس شخص کو آپ غٓار میں نظر نہ آئے۔ اس شخص نے واپس آکر یہ بات سیدہ خدیجہ رضٰی اللہ عنہا کو بتائی۔ انہوں نے آپ کی تلاش میں آپ کے عزیزواقارب کے گھر آدمی بھیجے۔ مگر آپ وہاں بھی نہ ملے۔ اس لئے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا پریشان ہوگئیں۔ وہ ابھی اسی پریشانی میں تھیں کہ آٓپ تشریف لے آئے۔ آپ نے جو کچھ دیکھا اور سنا تھا، اس کی تفصیل سیدہ خدیجہ رضٰی اللہ عنہا سے بیان فرمائی۔ حضرت جبرائیل کا یہ جملہ بھی بتایا کہ اے محمد! آپ اللہ کے رسول ہیں۔
یہ سن کر سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے کہا:
’’آپ کو خوش خبری ہو۔۔۔ آپ یقین کیجئے! قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے، آپ اس امت کے نبی ہوں گے۔‘‘
پھر سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا آپ کو اپنے چچا زاد بھائی ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں۔ غار والا سارا واقعہ انہیں سنایا۔ ورقہ بن نوفل پرانی کتابوں کے عالم تھے۔ ساری بات سن کر وہ پکار اٹھے:
’’قدوس۔۔۔ قدوس۔۔۔ قسم ہے، اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے، خدیجہ! اگر تم سچ کہہ رہی ہو تو اس میں شک نہیں، ان کے پاس وہی ناموس اکبر یعنی جبرئیل آئے تھے جو موسی علیہ السلام کے پاس آیا کرتے تھے۔ محمد اس امت کے نبی ہیں۔ یہ اس بات پر یقین کرلیں۔‘‘
قدوس کا مطلب ہے، وہ ذات جو ہر عیب سے پاک ہو۔ یہ لفظ تعجب کے وقت بولا جاتا ہے جیسے ہم کہہ دیتے ہیں، اللہ۔۔۔ اللہ۔
ورقہ بن نوفل کو جبرئیل کا نام سن کر حیرت اس لئے ہوئی تھی کہ عرب کے دوسرے شہروں میں لوگوں نے یہ نام سنا بھی نہیں تھا۔
یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ورقہ بن نوفل نے آپ کے سر کو بوسہ دیا تھا اور پھر کہا تھا:
’’کاش! میں اس وقت تک زندہ رہتا جب آپ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دیں گے۔ میں آپ کی مدد کرتا، اس عظیم کام میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتا۔ کاش میں اس وقت تک زندہ رہوں، جب آپ کی قوم آپ کو جھٹلائے گی، آپ کو تکالیف پہنچائے گی۔ آپ کے ساتھ جنگیں لڑی جائیں گی اور آپ کو یہاں سے نکال دیا جائے گا۔ اگر میں اس وقت تک زندہ رہا تو آپ کا ساتھ دوں گا، اللہ کے دین کی حمایت کروں گا۔‘‘
آپ یہ سن کر حیران ہوئے اور فرمایا:
’’میری قوم مجھے وطن سے نکال دے گی؟‘‘
جواب میں ورقہ نے کہا:
’’ہاں! اس لئے کہ جو چیز آپ لے کر آئے ہیں، اسے لے کر جو بھی آٓیا، اس پر ظلم ڈھائے گئے۔۔۔ اگر میں نے وہ زمانہ پایا تو میں ضرور آپ کی پوری مدد کروں گا۔‘‘
ورقہ نے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے یہ بھی کہا:
’’تمہارے خاوند بے شک سچے ہیں، درحقیقت یہ باتیں نبوت کی ابتدا ہیں۔۔۔ یہ اس امت کے نبی ہیں۔‘‘
لیکن اس کے کچھ ہی مدت بعد ورقہ بن نوفل کا انتقال ہوگیا۔ انہیں حجون کے مقام پر دفن کیا گیا۔ چونکہ انہوں نے آپ کی تصدیق کی تھی۔ اس لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں فرمایا ہے :
" میں نے ورقہ کو جنت میں دیکھا ہے۔ان کے جسم پر سرخ لباس تھا"۔
ورقہ سے ملاقات کے بعد آپ گھر تشریف لے آئے۔ اس کے بعد ایک مدت تک جبرئیل علیہ السلام آپ کے سامنے نہیں آئے۔ درمیان میں جو وقفہ ڈالا گیا، اس میں اللہ تعالیٰ کی یہ حکمت تھی کہ آپ کے مبارک دل پر جبرئیل علیہ السلام کو دیکھ کر جو خوف پیدا ہوگیا تھا، اس کا اثر زائل ہوجائے اور ان کے نہ آنے کی وجہ سے آپ کے دل میں وحی کا شوق پیدا ہوجائے، چنانچہ ایسا ہی ہوا، جبرئیل علیہ السلام کی آمد کے بعد سلسلہ رک جانے کے بعد آپ کوصدمہ ہوا ۔ کئی بار آپ پہاڑوں کی چوٹیوں پر چڑھ گئے، تاکہ خود کو وہاں سے گرا کر ختم کردیں، لیکن جب بھی آپ ایسا کرنے کی کوشش کرتے، جبرائیل علیہ السلام آپ کو پکارتے:
" اے محمد! آپ حقیقت میں اللہ تعالیٰ کے رسول ہے۔"
یہ کلمات سن کر آپ سکون محسوس کرتے، لیکن جب پھر وحی کا وقفہ کچھ اور گزجاتا تو آپ بے قرار ہوجاتے، رنج محسوس کرتے اور اسی طرح پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ جاتے، چنانچہ پھر جبرائیل علیہ السلام آجاتے اور آپ کو تسلی دیتے،
دوسری دفعہ وحی کا نزول
آخر دوبارہ وحی ہوئی ۔
سورہ مدثر کی پہلی تین آیات اتری۔
ترجمہ ۔: اے کپڑے میں لپیٹنے والے اٹھو ! (یعنی اپنی جگہ سے اٹھو اور تیار ہوجاؤ ) پھر کافروں کو ڈراؤ اور پھر اپنے رب کی بڑائیاں بیان کرو اور اپنے کپڑے پاک رکھو۔
اس طرح آپ کو نبوت کے ساتھ تبلیغ کا حکم دیا گیا۔ ابن اسحاق لکھتے ہیں ۔
حضرت خدیجہؓ سب سے پہلے آپﷺ پر ایمان لاٸیں
"سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا پہلی خاتون ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائیں اور اللہ کی طرف سے جو کچھ آنحضرت لے کر آئے، اس کی تصدیق کی۔ مشرکین کی طرف سے آپ کو جب بھی تکلیف پہنچی، صدمہ پہنچا، سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے آپ کو دلاسا دیا۔"
ابو بکرؓ کا ایمان لانا
سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے بعد دوسرے آدمی حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہا ہیں۔جو آپ کے پرانے دوست تھے۔انہوں نے آپ کی زبان سے نبوت ملنے کا ذکر سنتے ہی فوراً آپ کی تصدیق کی اور ایمان لے آئے ۔
حضرت علیؓ کا ایمان لانا
بچوں میں سیدنا علی رضی اللہ عنہا ہیں۔جو آپ پر پہلے ایمان لائے، اور ان کے ایمان لانے کا واقع کچھ اس طرح ہے۔
ایک دن آپ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تشریف لائے۔اس وقت سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا بھی آپ کے ساتھ تھیں اور آپ ان کے ساتھ چھپ کر نماز پڑھ رہے تھے۔ انہوں نے یہ نئی بات دیکھ کر پوچھا:
"یہ آپ کیا کررہے ہیں "
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
"یہ وہ دین ہے جس کو اللہ تعالیٰ اپنے لئے پسند فرمایا ہے اور اس کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے اپنے پیغمبر بھیجے ہیں، میں تمھیں بھی اس اللہ کی طرف بلاتا ہوں، لات اور عزّٰی کی عبادت سے روکتا ہوں ۔
حضرت علی نے یہ سن کر عرض کیا ؛
" یہ ایک نئی بات ہے، اس کے بارے میں میں نے آج سے پہلے کبھی نہیں سنا ۔اس لیے میں اپنے بارے میں ابھی کچھ نہیں کہہ سکتا، میں اپنے والد سے مشورہ کرلوں۔"
ان کا جواب سن کر آپ نے ارشاد فرمایا؛
"علی! اگر تم مسلمان نہیں ہوتے تو بھی اس بات کو چھپائے رکھنا۔"
انہوں نے وعدہ کیا اور اس کا ذکر کسی سے نہ کیا۔ رات بھر سوچتے رہے۔آخر اللہ تعالیٰ نے انہیں ہدایت عطا فرمائی ۔سویرے آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور مسلمان ہوگئے۔
علماء نے لکھا ہے، اس وقت حضرت علی کی عمر ۸ سال کے قریب تھی اس سے پہلے بھی انہوں نے کبھی بتوں کی عبادت نہیں کی تھی۔ وہ بچپن ہی سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہتے تھے
لیکن احتیاط کے باوجود حضرت علی ؓ کے والد کو ان کے قبول اسلام کا علم ہوگیا۔ تو انہوں نے حضرت علیؓ سے اس کے متعلق استفسار کیا۔
اپنے والد کا سوال سن کر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
"ابا جان! میں اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لا چکا ہوں اور جو کچھ اللہ کے رسول لے کر آئے ہیں، اس کی تصدیق کرچکا ہوں، لہذا ان کے دین میں داخل ہوگیا ہوں اور ان کی پیروی اختیار کرچکا ہوں۔ "
یہ سن کر ابوطالب نے کہا:
" جہاں تک ان کی بات ہے( یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ) تو وہ تمہیں بھلائی کے سواکسی دوسرے راستے پر نہیں لگائیں، لہذا ان کا ساتھ نہ چھوڑنا۔"
ابوطالب اکثر یہ کہا کرتے تھے:
" میں جانتا ہوں، میرا بھتیجا جو کہتا ہے، حق ہے، اگر مجھے یہ ڈر نہ ہوتا کہ قریشی کی عورتیں مجھے شرم دلائیں گی، تو میں ضرور ان کی پیروی قبول کرلیتا۔۔"
آخروہ سب بیت اللہ میں جمع ہوئے-ان لوگوں میں ابوامیہ بن مغیرہ تھا-اس کانام حذیفہ تھا-قریش کےپورےقبیلےمیں یہ سب سےزیادہ عمروالاتھا-یہ ام المؤمنین سیدہ ام سلمہؓ کا باپ تھا-قریش کے انتہائی شریف لوگوں میں سےتھا-مسافروں کوسفرسامان اورکھاناوغیرہ دینے کےسلسلےمیں بہت مشہور تھا-جب کبھی سفر کرتاتواپنےساتھیوں کےکھانےپینےکاسامان خودکرتاتھا-
اس وقت اس شدیدجھگڑےکوختم کرنےکےلیےاس نےایک حل پیش کیا-اس نےسب سےکہا:
اےقریش کےلوگواپناجھگڑاختم کرنےکےلیےتم یوں کروکہ حرم کےصفانامی دروازےسےجوشخص سب سےپہلےداخل ہو، اس سےفیصلہ کرالو-وہ تمہارےدرمیان جو فیصلہ کرے، وہ سب اس کومان لیں،،-
یہ تجویزسب نےمان لی-آج اس دروازےکوباب السلام کہاجاتاہے-یہ دروازہ رکن یمانی اور رکن اسودکےدرمیانی حصے کے سامنےہے-
اللہ کی قدرت کہ اس دروازےسے سب سے پہلےحضورنبیﷺتشریف لائے-قریش نے جیسے ہی آپ کودیکھا، پکاراٹھے:
’’یہ تو امین ہیں، یہ تو محمد ہیں، ہم ان پر راضی ہیں۔‘‘
اور ان کے ایسا کہنے کی وجہ یہ تھی کہ قریش اپنے آپس کے جھگڑوں کے فیصلے آپ ہی سے کرایا کرتے تھے۔ آپ کسی کی بے جا حمایت نہیں کرتے تھے، نہ بلا وجہ کسی کی مخالفت کرتے تھے۔
پھر ان لوگوں نے اپنے جھگڑے کی تفصیل آپ کو سنائی۔ ساری تفصیل سن کر آپ نے فرمایا:
’’ایک چادر لے آؤ۔‘‘
وہ لوگ چادر لے آئے۔ آپ نے اس چادر کو بچھایا اور اپنے دست مبارک سے حجر اسود کو اٹھاکر اس چادر پر رکھ دیا۔ اس کے بعد آپ نے ارشاد فرمایا:
’’ہر قبیلے کے لوگ اس چادر کا ایک ایک کنارہ پکڑلیں، پھر سب مل کر اس کو اٹھائیں۔‘‘
انہوں نے ایسا ہی کیا۔ چادر کو اٹھائے ہوئے وہ اس مقام تک آگئے جہاں حجر اسود کو رکھنا تھا۔ اس کے بعد نبی اکرم نے حجر اسود کو اٹھاکر اس کی جگہ رکھنا چاہا، لیکن عین اسی وقت ایک نجدی شخص آگے بڑھا اور تیز آواز میں بولا:
’’بڑے تعجب کی بات ہے کہ آپ لوگوں نے ایک کم عمر نوجوان کو اپنا راہنما بنالیا ہے، اس کی عزت افزائی میں لگ گئے ہو، یاد رکھو، یہ شخص سب کو گروہوں میں تقسیم کردے گا، تم لوگوں کو پارہ پارہ کردے گا۔‘‘
قریب تھا کہ لوگوں میں اس کی باتوں سے ایک بار پھر جھگڑا ہوجائے، لیکن پھر خود ہی انہوں نے محسوس کرلیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جو فیصلہ کیا ہے، وہ لڑانے والا نہیں، لڑائی ختم کرنے والا ہے، چنانچہ حجر اسود کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مبارک ہاتھوں سے اس کی جگہ پر رکھ دیا۔
مورخوں نے لکھا ہے، یہ نجدی شخص دراصل ابلیس تھا جو اس موقع پر انسانی شکل میں آیا تھا۔
جب کعبے کی تعمیر مکمل ہوگئی تو قریش نے اپنے بتوں کو پھر سے اس میں سجادیا - کعبے کی یہ تعمیر جو قریش نے کی، چوتھی تعمیر تھی - سب سے پہلے کعبے کو فرشتوں نے بنایا تھا - بعض صحابہ نے فرمایا ہے کہ زمین و آسمان کو پیدا کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کا عرش پانی کے اوپر تھا، جب عرش کو پانی پر ہونے کی وجہ سے حرکت ہوئی تو اس پر یہ کلمہ لکھا گیا:
لَا إِِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ مُحَمَّدٌ رَسُوْلُ اللّٰه
اللّٰہ تعالٰی کے سوا کوئی معبود نہیں، محمد اللہ تعالٰی کے رسول ہیں -
اس کلمے کے لکھے جانے کے بعد عرش ساکن ہوگیا - پھر جب اللہ تعالٰی نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے کا ارادہ فرمایا تو اس نے پانی پر ہوا کو بھیجا - اس سے پانی میں موجیں اُٹھنے لگیں، اور بخارات اٹھنے لگے - اللہ تعالیٰ نے ان بخارات یعنی بھاپ سے آسمان کو پیدا فرمایا - پھر اللہ تعالیٰ نے کعبہ کی جگہ سے پانی کو ہٹادیا، جگہ خشک ہوگئی، چنانچہ یہی بیت اللہ کی جگہ ساری زمین کی اصل ہے اور اس کا مرکز ہے - یہی خشکی بڑھتے بڑھتے سات براعظم بن گئی - جب زمین ظاہر ہوگئی تو اس پر پہاڑ قائم کیے گئے - زمین پر سب سے پہلا پہاڑ ابو قبیس ہے -
پھر اللہ تعالی نے فرشتوں کو حکم فرمایا:
"زمین پر میرے نام کا ایک گھر بناؤ تاکہ آدم کی اولاد اس گھر کے ذریعے میری پناہ مانگے - انسان اس گھر کا طواف کریں، جس طرح تم نے میرے عرش کے گرد طواف کیا ہے، تاکہ میں ان سے راضی ہوجاؤں -"
فرشتوں نے حکم کی تعمیل کی - پھر آدم علیہ السلام نے خانہ کعبہ کی تعمیر شروع کی - اس کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خانہ کعبہ کی تعمیر کی - اس طرح قریش کے ہاتھوں یہ تعمیر چوتھی بار ہوئی تھی۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر مبارک 40 سال کے قریب ہوئی تو وحی کے آثار شروع ہوگئے، اس سلسلے میں سب سے پہلے آپ کو سچے خواب دکھائی دینے لگے۔ آپ جو خواب دیکھتے وہ حقیقت بن کر سامنے آجاتا۔ اللہ تعالیٰ نے سچے خوابوں کا سلسلہ اس لئے شروع کیا کہ اچانک فرشتے کی آمد سے کہیں آپ خوفزدہ نہ ہوجائیں۔ ان دنوں ایک بار آپ نے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا:
’’جب میں تنہائی مٰیں جاکر بیٹھتا ہوں تو مجھے آواز سنائی دیتی ہے۔۔۔ کوئی کہتا ہے، اے محمد ۔۔۔۔ اے محمد۔۔۔‘‘
ایک بار آپ نے فرمایا:
’’مجھے ایک نور نظر آتا ہے، یہ نور جاگنے کی حالت میں نظر آتا ہے۔ مجھے ڈر ہے، اس کے نتیجے میں کوئی بات نہ پیش آجائے۔‘‘
ایک بار آپ نے یہ بھی فرمایا:
’’اللہ کی قسم! مجھے جتنی نفرت ان بتوں سے ہے، اتنی کسی اور چیز سے نہیں۔‘‘
وحی کے لئے آپ کو ذہنی طور پر تیار کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے فرشتے اسرافیل کو آپ کا ہم دم بنادیا تھا۔ آپ ان کی موجودگی کو محسوس تو کرتے تھے، مگر انہیں دیکھ نہیں سکتے تھے۔ اس طرح آپ کو نبوت کی خوش خبریاں دی جاتی رہیں۔ آپ کو وحی کے لیے تیار کیا جاتا رہا۔
اللہ تعالیٰ نے آپ کے دل میں تنہائی کا شوق پیدا فرمادیا تھا، چنانچہ آپ کو تنہائی عزیز ہوگئی۔ آپ غار حرا میں چلے جاتے اور وہاں وقت گزارتے۔ اس پہاڑ سے آپ کو ایک بار آواز بھی سنائی دی تھی:
’’میری طرف تشریف لائیے۔ اے اللہ کے رسول۔‘‘
اس غار میں آپ مسلسل کئی کئی راتیں گزارتے۔ اللہ کی عبادت کرتے۔ کبھی آپ تین راتوں تک وہاں ٹھہرے رہتے، کبھی سات راتوں تک۔ کبھی پورا مہینہ وہاں گزاردیتے۔ آپ جو کھانا ساتھ لے جاتے تھے، جب ختم ہوجاتا تو گھر تشریف لے جاتے، یہ کھانا عام طور پر زیتون کا تیل اور خشک روٹی ہوتا تھا۔ کبھی کھانے میں گوشت بھی ہوتا تھا۔ غار حرا میں قیام کے دوران کچھ لوگ وہاں سے گزرتے اور ان میں کچھ مسکین لوگ ہوتے تو آپ انہیں کھانا کھلاتے۔
غار حرا میں آپ عبادت کس طرح کرتے تھے۔ روایات میں اس کی وضاحت نہیں ملتی۔ علما کرام نے اپنا اپنا خیال ضرور ظاہر کیا ہے۔ ان میں سے ایک خیال یہ ہے کہ آپ کائنات کی حقیقت پر غور وفکر کرتے تھے اور یہ غور وفکر لوگوں سے الگ رہ کر ہی ہوسکتا تھا۔
پھر آخر کار وہ رات آگئی جب اللہ تعالیٰ نے آپ کو نبوت اور رسالت عطا فرمادی۔ آپ کی نبوت کے ذریعہ اپنے بندوں پر عظیم احسان فرمایا۔ وہ ربیع الاول کا مہینہ تھا اور تاریخ سترہ تھی۔ بعض علما نے یہ لکھا ہے کہ وہ رمضان کا مہینہ تھا، کیوں کہ قرآن رمضان میں نازل ہونا شروع ہوا تھا۔ آتھویں اور تیسری تاریخ بھی روایات میں آئی ہے اور یہ پہلا موقع تھا جب جبرائیل علیہ السلام وحی لے کر آپ کی خدمت مین حاضر ہوئے۔ اس سے پہلے وہ آپ کے پاس نہیں آئے تھے۔ جس صبح جبرائیل علیہ السلام وحی لے کر آئے، وہ پیر کی صبح تھی اور پیر کی صبح ہی آپ اس دنیا میں تشریف لائے تھے۔ آپ فرمایا کرتے تھے:
’’پیر کے دن کا روزہ رکھو، کیوں کہ میں پیر کے دن پیدا ہوا، پیر کے دن ہی مجھے نبوت ملی۔‘‘
بہر حال اس بارے میں روایات مختلف ہیں۔ یہ بات طے ہے کہ اس وقت آپ کی عمر مبارک کا چالیس واں سال تھا۔ آپ اس وقت نیند میں تھے کہ جبرائیل علیہ السلام تشریف لے آئے۔ ان کے ہاتھ میں ایک ریشمی کپڑا تھا اور اس کپڑے میں ایک کتاب تھی۔
جاری ھے...
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر 35سال ہوئی تو مکہ میں زبردست سیلاب آیا۔ قریش نے سیلاب سے محفوظ رہنے کے لئے ایک بند بنا رکھا تھامگر یہ سیلاب اس قدر زبردست تھا کہ بند توڑکر کعبے میں داخل ہو گیا۔پانی کے زبردست ریلے اور پانی کے اندر جمع ہونے کی وجہ سے کعبے کی دیواروں میں شگاف پڑگئے۔اس سے پہلے ایک مرتبہ یہ دیواریں آگ لگ جانے کی وجہ سے کمزور ہو چکی تھیں اور یہ واقعہ اس طرح ہوا تھا کہ ایک مرتبہ کوئی عورت کعبے کو دھونی دے رہی تھی کہ اس آگ میں سے ایک چنگاری اڑکر کعبے کے پردوں تک پہنچ گئی۔اس سے پردوں کو آگ لگ گئی اور دیواریں تک جل گئیں۔اس طرح دیواریں بہت کمزور ہو گئی تھیں،یہی وجہ تھی کہ سیلاب نے ان کو کمزور دیواروں میں شگاف کردیے۔
سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے کعبے کی جو دیواریں اٹھائی تھیں،وہ نو گز اونچی تھیں۔ان پر چھت نہیں تھی۔لوگ کعبے کے لئے نذرانے وغیرہ لاتے تھے۔یہ نذرانے کپڑے اور خوشبو ئیں وغیرہ ہوتی تھیں۔کعبے کے اندر جو کنواں تھا،یہ سب نذرانے اس کنوئیں میں ڈال دیئے جاتے تھے،کنواں اندرونی حصے میں دائیں طرف تھا۔ اس کو کعبے کا خزانہ کہا جاتا تھا۔ کعبے کے خزانے کو ایک مرتبہ ایک چور نے چرانے کی کوشش کی،چور کنوئیں ہی میں مر گیا۔ اس کے بعد اللہ تعالٰی نے اس کی حفاظت کے لیے ایک سانپ کو مقرر کر دیا۔یہ سانپ کنوئیں کی منڈیر پر بیٹھا رہتا تھا۔ کسی کو خزانے کے نزدیک نہیں آنے دیتا تھا۔ قریش بھی اس سے خوف زدہ رہتے تھے۔اب جب کہ کعبے کی دیواروں میں شگاف پڑ گئے اور نئے سرے سے اس کی تعمیر کا مسئلہ پیش آیا تو اللہ تعالیٰ نے ایک پرندے کو بھیجا،وہ اس سانپ کو اٹھا لے گیا۔(البدایہ والنہایہ)
یہ دیکھ کر قریش کے لوگ بہت خوش ہوئے۔اب انہوں نے نئے سرے سے کعبے کی تعمیر کا فیصلہ کر لیا۔اور پروگرام بنایا کہ بنیادیں مضبوط بنا کر دیواروں کو زیادہ اونچا اٹھایا جائے۔اس طرح دروازے کو بھی اونچا کردیا جائے گا تاکہ کعبے میں کوئی داخل نہ ہو۔ صرف وہی شخص داخل ہو جسے وہ اجازت دیں۔
اب انہوں نے پتھر جمع کیے۔ ہر قبیلہ اپنے حصے کے پتھر الگ جمع کررہا تھا۔چندہ بھی جمع کیا گیا۔چندے میں انہوں نے پاک کمائی دی۔ ناپاک کمائی نہیں دی۔مثلاًطوائفوں کی آمدنی،سود کی کمائی،دوسروں کا مال غصب کرکے حاصل کی گئی دولت چندے میں نہیں دی اور پاک کمائی انہوں نے بلاوجہ نہیں دی تھی۔ایک خاص واقعہ پیش آیا تھا۔جس سے وہ اس نتیجے پر پہنچے تھے کہ اس کام میں صرف پاک کمائی لگائی جائے گی۔ وہ واقعہ یوں تھا:
ایک قریشی سردار ابو وہب عمرو بن عابد نے جب یہ کام شروع کرنے کے لیے ایک پتھر اٹھایا تو پتھر اس کے ہاتھ سے نکل کر پھر اسی جگہ پہنچ گیا جہاں سے اسے اٹھایا گیا تھا۔اس پر قریشی حیران وپریشان ہوئے۔آخر خود وہب کھڑا ہوا اور بولا:
"اے گروہ ِقریش ! کعبے کی بنیادوں میں سوائے پاک مال کے کوئی دوسرا مال شامل مت کرنا۔ بیت اللہ کی تعمیر میں کسی بدکار عورت کی کمائی،سود کی کمائی یا زبردستی حاصل کی گئی دولت ہرگز شامل نہ کرنا۔"
یہ وہب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے والد حضرت عبداللہ کا ماموں تھا اور اپنی قوم میں ایک شریف آدمی تھا۔
جب قریش کے لوگ خانہ کعبہ کی تعمیر کے لیے پتھر ڈھورہے تھے تو ان کے ساتھ نبی کریم ﷺ. بھی پتھر ڈھونے میں شریک تھے۔آپ پتھر اپنی گردن پر رکھ کر لا رہے تھے ۔تعمیر شروع کرنے سے پہلے قریش کےلوگوں نے خوف محسوس کیا کہ دیواریں گرانے سے کہیں ان پر کوئ مصیبت نہ نازل ہو جائے ۔آخر ایک سردار ولید بن مغیرہ نے کہا:”کعبہ کی دیواریں گرانے سے تمہارا ارادہ اصلاح اور مرمت کا ہے یا اس کو خراب کرنے کا„
جواب میں لوگوں نے کہا ظاہر ہے ہم تو مرمت اور اصلاح چاہتے ہیں; یہ سن کر ولید نےکہا;
"تب پھر سمجھ لو: اللہ تعالی اصلاح کرنے والوں کو برباد نہیں کرتا۔"
پھرولید ہی نے گرانے کے کام کی ابتدا کی لیکن اس نےبھی صرف ایک حصہ ہی ہی گرایاتاکہ معلوم ہو جائے کہ ان پر کوئ تباہی تو نہیں آتی ۔جب وہ رات خیریت سے گزر گئی. تب دوسرے دن سب لوگ اس کے ساتھ شریک ہو گئے اور پوری عمارت گرادی ۔یہاں تک کہ اسکی بنیاد تک پہنچ گئے۔یہ بنیاد ابراہیم علیہ السلام کےہاتھ کی رکھی ہوئ تھی۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نےبنیادوں میں سبز رنگ کے پتھر رکھے تھے ۔یہ پتھر اونٹ کے کوہان کی طرح کے تھے اور ایک دوسرے سے جڑے ہوئے تھے، ان لوگوں کے لئے انکو توڑ نا بہت مشکل کام. ثابت ہوا۔
دائیں کونے کے نیچے سے قریش کو ایک تحریر ملی، وہ تحریر سریانی زبان میں لکھی ہوئی تھی۔انہیں سریانی زبان نہیں آتی تھی، آخر ایک یہودی کو تلاش کرکے لایا گیا، اس نےوہ تحریر پڑھ کر انہیں سنائی تحریر یہ تھی ۔
"میں اللہ ہوں، مکّہ کا مالک جسکو میں نے اس دن پیدا. کیا جس دن میں نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، جس دن میں نے سورج اور چاند بنائے ۔میں نے اس کو یعنی. مکہ کو سات فرشتوں کے ذریعہ گھیر دیاہے۔اسکی عظمت اس وقت تک ختم نہیں ہو گی"
جب تک کہ اس کے دونوں طرف پہاڑ موجود ہیں، ان پہاڑوں سے مراد ایک تو ابو قیس پہاڑ ہے جو کہ صفا پہاڑی کے سامنے ہے اور دوسرا قعیقعان پہاڑ ہے جو مکہ کے قریب ہے اور جس کا رخ ابو قیس پہاڑ کی طرف ہے۔ اور یہ شہر اپنے باشندوں کے لیے پانی اور دودھ کے لحاظ سے بہت بابرکت اور نفع والا ہے"۔
یہ پہلی تحریر تھی۔ دوسری مقام ابراھیم سے ملی۔ اس میں لکھا تھا:
"مکہ اللہ تعالیٰ کا محترم اور معظم شہر ہے۔ اس کا رزق تین راستوں سے اس میں آتا ہے"۔
یہاں تین راستوں سے مراد قریش کے تین تجارتی راستے ہیں۔ ان راستوں سے قافلے آتے جاتے تھے۔
تیسری تحریر اس سے کچھ فاصلے سے ملی۔ اس میں لکھا تھا:
"جو بھلائی بوئے گا لوگ اس پر رشک کریں گے یعنی اس جیسا بننے کی کوشش کریں گے اور جو شخص رسوائی بوئے گا وہ رسوائی اور ندامت پائے گا۔ تم برائیاں کرکے بھلائی کی آس لگاتے ہو، ہاں! یہ ایسا ہی ہے جیسے کیکر یعنی کانٹے دار درخت میں کوئی انگور تلاش کرے"۔
یہ تحریر کعبے کے اندر پتھر پر کھدی ہوئی ملی۔ کعبے کی تعمیر کے سلسلے میں قریش کو پتھروں کے علاوہ لکڑی کی بھی ضرورت تھی۔ چھت اور دیواروں میں لکڑی کی ضرورت تھی۔ لکڑی کا مسئلہ اس طرح حل ہوا کہ ایک جہاز عرب کے ساحل سے آکر ٹکراگیا، آج اس مقام کو جدہ کا ساحل کہا جاتا ہے، پہ پہلے یہ مکہ کا ساحل کہلاتا تھا اس لیے کہ مکہ کا قریب ترین ساحل یہی تھا۔ ساحل سے ٹکرا کر جہاز ٹوٹ گیا۔ وہ جہاز کسی رومی تاجر کا تھا۔ اس جہاز میں شاہ روم کے لیے سنگ مرمر، لکڑی اور لوہے کا سامان لے جایا جارہا تھا۔ قریش کو اس جہاز کے بارے میں پتا چلا تو یہ لوگ وہاں پہنچے اور ان لوگوں سے لکڑی خرید لی۔ اس طرح چھت کی تعمیر میں اس لکڑی کو استعمال کیا گیا۔ آخر خانہ کعبہ کی تعمیر کا کام حجر اسود تک پہنچ گیا۔ اب یہاں ایک نیا مسئلہ پیدا ہوگیا۔ سوال یہ پیدا ہوا کہ حجر اسود کون اٹھاکر اس کی جگہ پر رکھے گا۔
ہر قبیلہ یہ فضیلت خود حاصل کرنا چاہتا تھا۔
یہ جھگڑا اس حد تک بڑھا کہ مرنے مارنے تک نوبت آگئی۔ لوگ ایک دوسرے کو قتل کرنے پر تل گئے۔
قبیلہ عبد الدار نے تو قبیلہ عدی کے ساتھ مل کر ایک برتن میں خون بھرا اور اس میں اپنے ہاتھ ڈبو کر کہا:
"حجر اسود ہم رکھیں گے"۔
اسی طرح دوسرے قبیلے بھی اڑگئے۔ تلواریں نیاموں سے نکل آئیں۔
جاری ھے...
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Website
Address
Haripur