Kashmir Studies

Kashmir Studies It provides the history and knowledge of 84471 squre ft mile,, it also identify the samraaj which oc

An Old history which is consistency of approximately 1 lakh squre ft mile. The state of Jamu Kashmir occupied by two Samrajic countries ,Pakistan and India(Hindustan). Before the 1947 this state was under use of different popular families such as Shahi khandan . Anguraize , and after that this state was bought by Gulab Sing DouGra Raja. Hence after the occupation of Pakistan & Hindustan ,this state is under double slavement.

29/11/2024
35 کتابوں کا سیٹ رعایتی قیمت صرف 8000روپے۔کتابیں حاصل کرنے کے لیے کال کریںسعید اسد صاحب  03445663443
20/06/2020

35 کتابوں کا سیٹ رعایتی قیمت صرف 8000روپے۔کتابیں حاصل کرنے کے لیے کال کریں
سعید اسد صاحب 03445663443

18/02/2019
سامراج محروم رکھتا ہے۔سامراج سرمایہ داری کی ایک پختہ شکل کا نام ہے۔جس کے تحت ایک بڑی طاقت باقی ماندہ ریاستون پر اپنا تسل...
11/02/2019

سامراج محروم رکھتا ہے۔
سامراج سرمایہ داری کی ایک پختہ شکل کا نام ہے۔جس کے تحت ایک بڑی طاقت باقی ماندہ ریاستون پر اپنا تسلط بنائے رکھتی ہے۔دوسری جنگ عظیم تک چونکہ آبادیات کا کھیل ختم ہو چکا تھا مگر یہ صرف کہنے کی حد تک تھا،کیونکہ اس سے پہلے تک یہ سلسلہ براہ رست تھا مگر دوسری جنگ کے بعد یہ سلسلہ اپنے نام اور شکلین تبدیل کر کے دنیا مین اب تک موجود ہے۔آج بھی بڑی طاقتوں نے دنیا کے ایک بڑے حصے کو اپنے ذیر اثر رکھا ہوا ہے۔قدیم اشتراکی نظام کے اختتام تک جب سماج محتلف قبائل اور برادریوں میں تقسیم ہو گیا تھا ،وہ غلام داری سے لیکر موجودہ سرمایہ داری نظام میں طبقات کی صورت میں مزید ابھرتا رہا۔یہان تک کہ سرمایہ داری نظام میں نہ صرف سماج طبقاتی ہے بلکہ دنیا میں موجود تمام ممالک بھی اسی طبقاتی ذیر اثر آچکے ہیں جہاں ہم دیکھ رہے ہیں کہ کچھ ممالک تو ترقی کی رفتار میں دن با دن آگے بڑھ رہے ہیں،مگر کچھ آج بھی اتنے پیچھے ہیں کہ انہیں اس رفتار میں شامل ہونے کے لیے ترقی یافتہ ممالک کا سہارہ لینا پڑتا ہے۔یعنی سرمایہ درانہ نظام نے جو اصول اپنا یا تھا کہ وہ دنیا کو ایک ایسا نظام دے گا جو سب کے لیے ترقی کا باعث بنے گا،جہان کسی کا استحصال نہیں ہوگا،وہ اس میں اتنا ناکام ہوا ہے کہ نہ صرف سماج میں طبقاتی اونچ نیچ بڑھی بلکہ ٓاج دنیا مین بہت سے ممالک بھی طبقاتی کشمکش کا شکار ہو چکے ہیں۔جس طرح آج ہم سماج میں غیر منصفانہ سیاسی،سماجی اور معاشی اصول اور رواجوں کے تحت انسانوں میں تقسیم دیکھ رہے ہیں،جہان کچھ لوگ تو عیش اور آرام کی زندگی گزار رہے ہیں ،ایسے سرمائے اور اقتدار کے مالک بنے بیٹھے ہوئے ہیں جوانہوں نے دوسروں کی محنت اور کوشش سے حاصل کیا ہوا ہے۔مگر ایسے لوگ جو صبح شام کام کرتے ہیں ،زندگی بھر محنت کرتے ہیں و ہ اتنا بھی حاصل نہیں کر پاتے کہ پیٹ بھر کے دو وقت کا کھانا بھی کھا سکیں۔جو زندگی کی بنیادی ضروریات تک سے محروم رہتے ہیں۔اسی طرح دنیا میں ترقی یافتہ ممالک اور ترقی پزیر ممالک کی کہانی بھی ایسی ہی ہے جہاں ترقی یافتہ ممالک ترقی پزیر ممالک کو استعمال کرتے ہوئے مزید ترقی حاصل کرتے جا رہے ہیں،یہ ممالک ترقی پزیر ممالک کی انسانی محنت سے لیکر ان کے قدرتی وسائل تک استعمال کر رہے ہیں تاکہ خود کو ترقی کی رفتار میں سب سے آگے رکھ سکیں۔آج بھی افریکہ اور ایشا کے لاکھون لوگ ترقی یافتہ ممالک میں اپنی محنت ان ممالک کو بیچ رہے ہیں اور اسکے بدلے میں تھوڑے پیسے اور بے شمار استحصال پاتے ہیں۔آج بھی ترقی یافتہ ممالک نہ محنت کی قدر کر سکے نہ کی محنت کرنے والے کی،آج بھی انکے نزدیک انکے لیے کام کرنے والا ایک معمولی انسان ہے جسے زندگی کی کوئی بھی خوشی یا سہولت حاصل کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔آج بھی یہ کام کرنے والے انکے لیے انسان کا درجہ نہیں رکھتے۔اسی طرح جن ممالک سے یہ لوگ آئے ہوئے ہوتے ہیں وہ ممالک بھی انکے لیے محض ایک کالونی سے زیادہ کی حثیت نہیں رکھتے ہیں جہاں وہ اپنی بنائی ہوئی اشیا کی منڈی لگاتے ہیں تاکہ انکے ملکوں کے کارحانے چل سکیں اور وہاں کے لوگ انہی کے رحم و کرم پر زندگی گزارتے رہیں۔دوسری جنگ عظیم کے بعد چونکہ استعماریات کے حاتمے کا مائدہ ہوا تھا مگر یہ صرف کہنے کی حد تک تھا،یعنی آج بھی دنیا میں نو ابادیات کا تسلط موجود ہے جہاں طاقت ور ممالک کا کمزور ممالک کے اندر ایک بڑا دخل موجود ہے ،آج بھی کئی ترقی پزیر ممالک ترقی یافتہ ممالک کی کالونی کی حثیت رکھتے ہیں۔ترقی پزیر ممالک اپنے ملک کی سیاسی،سماجی اور معاشی سرگرمیاں مستحکم رکھنے کے لیے طاقت ور ممالک سے قرضے حاصل کر رہے ہیں،جس کے بدلے یہ ممالک سیاسی،سماجی اور معاشی طور پر ان ممالک کے محروم بن جاتے ہیں اوربلاواستہ یہ طاقت ور ممالک کمزور ممالک پر اپنا تسلط بنا لیتے ہیں۔ورلڈ بینک اور ائی ایم ایف نو آبادیات کی وہی کڑیاں ہیں جو آج دنیا مین موجود ہیں۔اسی طرح ہم دیکھتے ہیں کہ آج دنیا میں سامراجی ثقافت اور انکی زبان کا عام رواج ہو چکا ہے ،ترقی پزیر ممالک اپنی ثقافت اور زبان بدل رہے ہیں وہ بھی سامراج کی زبان اور ثقافت سیکھ رہے ہیں اور اسی کو وسعت دے رہے ہیں جبکہ اپنی زبان اور ثقافت مٹانے کو بھی تیار ہوئے بیٹھے ہیں۔یہ سب وہی باتین ہیں اور حربے ہیں جہاں بالا دست طبقون نے اپنے سے کم تر طبقون کو کمزور رکھنے کے لیے ہمیشہ اپنائے ہیں۔اور طبقاتی نظام کی جڑیں کس قدر گہرئی ہوتی جارہی ہیں جو آج دنیا میں عدم استحکام کی صورت میں نظر آ رہا ہے۔موجودہ دور جسے تہذیب یافتہ دور کہا جاتا ہے ،انہی طبقاتی نظاموں نے ہر سماج میں اور ملک میں ایسا ذہر گھول دیا ہے کہ انسان انسان کو اپنے لیے ضروری نہیں سمجھتا بلکہ اسکے لیے ذر اور سرمایہ ہی سب کچھ ہے اور اسکے لیے وہ دنیا کا امن اور سکون بھی داؤ پر لگانے کے لیے تیار بیٹھا ہے۔اسی ذر اور سرمائے کی حاطر دنیا کی بڑی اور طاقت ور طاقتیں اپنے سے کمزور ممالک کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کرنے کے لیے سماجی،سیاسی اور معاشی طور پر پسماندہ رکھا ہو ا ہے ،یہان تک کہ انہیں ذہنی غلام بنایا ہوا ہے ،ایسی سوچ اور روایت کا پابند بنا دیا گیا ہوا ہے کہ لوگوں کو دنیا جس شکل میں دکھائی جا رہی ہے اسی کو صہیح سمجھتے ہیں اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ یہی پسماندگی انکا نصیب ہے اور اس کے بغیر انکے پاس کوئی اور چارہ نہیں ہے۔جبکہ ترقی پزیر ممالک کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ یہ محض سامراجی طاقتون کے ہربے ہیں تاکہ وہ باقی ماندہ ممالک کو ہمیشہ اپنے ماتحت بنائے رکھیں ،کیونکہ انکی یہ طاقت اور رتبہ اس لیے قائم ہے کہ وہ آج کمزور ممالک کو اپنے لیے استعمال کر رہے ہیں،نہ صرف وہاں کہ انسانوں سے کام لے رہے ہیں بلکہ انکے وسائل بھی حاصل کر رہے ہیں۔یہ ایک حقیقت ہے کہ ان سامراجی قوتوں نے دنیا کہ ایک بڑے حصے کو اپنے قابو کیا ہوا ہے جہاں نہ صرف وہ مادی حالات پر ا حتیار رکھتے ہیں بلکہ انسانی ذہن کو بھی وہ اپنی مرضی کے مطابق استعمال کر رہے ہیں۔محنت کش طبقے کو اس قدر پسماندگی کا شکار بنایا ہوا ہے کہ انکے ذہن میں صرف دو وقت کی روٹی حاصل کرنے کے علاوہ کوئی سوچ نہیں پیدا ہوتی ہے۔یہ محنت کش طبقہ دنیا کی آبادی کا ۸۰ فیصد حصہ ہیں،جن پر ۲۰ فیصد لوگ حکمرانی کر رہے ہیں۔آج کے دور میں یہ لوگ ذہنی غلامی کا شکاربنائے گئے ہوئے ہیں تاکہ وہ اس قابل نہ بن سکیں کہ اپنے حالت بدلنے کے بارے میں سوچیں بھی۔ایسی صورت حال میں آج جب حالات بدل بھی رہے ہیں جہاں لوگ آج ساری دنیا کے حالات سے واقف ہوتے جارہے ہیں،انہیں دنیا کو حقیقت اور سچائی کی نظر سے دیکھنے کی ضرورت ہے ،وہ عینک جو سامراج نے عوام کی انکھوں پر چڑھائی ہوئی ہے اسے اتار کر دنیا اورکو اسکی تاریخ کو دیکھنے کی ضرورت ہے تاکہ انکے اصل چہرے دیکھیں جا سکیں۔اس طبقاتی اور استحصالی نظام سے صرف اسی صورت میں جان چھڑائی جا سکتی ہے جب لوگ انکے اصلی چہرے پہچان لیں گے اور انکے خلاف کھڑے ہونگے۔اور ایک ایسے نظام کی بات نہیں کرتے جس میں طبقات کے نام پر انسانو ں میں تقسیم نہیں ہوگی،جہاں کچھ لوگ کسی دوسرے کی محنت پر اپنا کاروبار زندگی نہیں چلایں گے بلکہ سبھی اپنی محنت کی زور پر اپنی زندگی کی گاڑی کو آگے بڑھایءں گے۔

05/11/2018

لداخ جموں و کشمیر کی تاریخی و قومی پہچان۔

28/10/2018

Don't try to be perfect, just be you.

Address

Hajira
MUZZAFRABAD

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Kashmir Studies posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category