Zaheer Iqbal Ch

Zaheer Iqbal Ch Be Happy.Be Safe

06/01/2026
📚 ایک چینی کہاوت:کتاب ایک کھڑکی ہے جس سے ہم دنیا کو دیکھتے ہیں۔عباس العقد کہتے ہیں:📚ایک اچھی کتاب تین بار پڑھیں، تین اچھ...
19/01/2025

📚 ایک چینی کہاوت:
کتاب ایک کھڑکی ہے جس سے ہم دنیا کو دیکھتے ہیں۔

عباس العقد کہتے ہیں:📚
ایک اچھی کتاب تین بار پڑھیں، تین اچھی کتابیں پڑھنے سے آپ کو فائدہ ہوتا ہے۔

ارسطو:📚
ارسطو سے کہا گیا: انسان کا فیصلہ کیسے کیا جائے؟
اس نے جواب دیا: میں اس سے پوچھتا ہوں کہ وہ کتنی کتابیں پڑھتا ہے اور کیا پڑھتا ہے؟

مونٹیسکویو:📚
سیکھنے کی محبت غم کے گھنٹوں کو تفریح ​​​​کے ساتھ بدلنا ہے۔

ایمرسن:📚
کتابیں تازہ ترین اوشیش ہیں۔

جرمن کہاوت:📚
جسم صرف کھانے اور ورزش سے بڑھتا ہے اور دماغ صرف مطالعہ اور سوچنے سے بڑھتا ہے۔

ڈو بفر: 📚
تھوڑا سا پڑھیں لیکن ہر ایک لفظ کو لے لو جو میں نے پڑھا ہے۔

اولیور اسمتھ: 📚
جب میں پہلی بار کوئی کتاب پڑھتا ہوں تو مجھے ایسا لگتا ہے جیسے میں نے کوئی نیا دوست بنا لیا ہے، اور جب میں اسے دوسری بار پڑھتا ہوں تو میں کسی پرانے سے ملا ہوں۔

عباس محمود العقاد:📚
گائیڈ آپ کو بتاتے ہیں: وہ پڑھیں جس سے آپ کو فائدہ ہوتا ہے، لیکن میں کہتا ہوں: جو آپ پڑھتے ہیں اس سے فائدہ اٹھائیں۔

Piardo Lagores: 📚
مجھے بتائیں کہ آپ کیا پڑھ رہے ہیں جو آپ سے کم ہیں۔

پیچر: 📚
لائبریری نہ تو زندگی کی تکمیل ہے اور نہ ہی اس کا سامان، اور انسان کو کوئی حق نہیں کہ وہ اپنے بچوں کو کتابوں سے گھیرے بغیر ان کی پرورش کرے۔

ڈیبارو:📚
کتاب وہ دوست ہے جو خیانت نہیں کرتی۔

کتاب بلاشبہ تعلیم کا بہترین ذریعہ ہے، انسان میں معلومات کی دولت سے مالا مال ہے، اور سنجیدہ، منظم اور گہرا مطالعہ ایک باشعور، خصوصی اور نفیس ذاتی ثقافت کی تعمیر کا بہترین ذریعہ ہے۔

بہت دنوں کے بعد حسبِ معمول سردیوں کی آمد کی وجہ سے گھر کی صفائی ستھرائی ہورہی تھی۔۔ میں بھی اپنی کتابوں کی الماری صاف کر...
01/12/2024

بہت دنوں کے بعد حسبِ معمول سردیوں کی آمد کی وجہ سے گھر کی صفائی ستھرائی ہورہی تھی۔۔ میں بھی اپنی کتابوں کی الماری صاف کررہا تھا۔۔۔ اسی دوران ایک بہت پرانا اور بوسیدہ تصویروں کا البم ہاتھ لگا۔۔۔۔ میں نے متجسس ہوکر البم کھولا۔۔ بہت ساری تصویریں تھیں ۔۔۔ کچھ دھندلی کچھ دیمک زدہ بھی۔۔
کئی تصاویر دس بارہ سال پرانی تھیں ۔۔۔ میری اپنی۔۔۔۔
ان تصویروں کو دیکھ کر میں سوچ میں پڑگیا ۔۔۔۔ بہت سارے خیالات اور سوالات ذہن میں گردش کرنے لگے۔۔۔۔۔
ان تصویروں کو دیکھ کر دنیا کے فانی ہونے کا احساس اور بھی مضبوط ہوگیا۔۔۔
ہر پل ہر ہفتے ہر مہینے ہر سال رنگ بدلتے جسم کی بناوٹ پر افسوس ہونے لگا۔۔۔۔۔
کل جس چہرے پر کئی رنگ آتے جاتے تھے اب اس اچہرے کے رنگ اڑنے لگے ہیں بالکل جیسے کوئی نئی عمارت پرانی ہونے کے سفر میں ہو۔۔۔ کہیں پلاسٹر ادھڑ رہے ہوں کہیں سے سے رنگ اڑ رہے ہوں کسی دروازے میں اینٹھن آگئی ہو کسی کھڑکی کے شیشے چٹخ گئے ہوں۔۔۔
ہر نئی چیز کو ایک نہ ایک دن پرانی ہوکر مٹی میں مل جانا ہے۔۔۔
ایک تصویر پر نظر پڑی۔۔۔ میرے اپنے خوبصورت بال ہوا میں لہرا رہے تھے اور آنکھوں میں ایک جوشیلی چمک تھی۔۔۔ ہونٹوں پر سرخی اس دھندلی تصویر میں اب بھی نمایاں تھی۔۔۔۔۔ تصویر لیئے میں آئینے کے سامنے جا کھڑا ہوا۔۔۔ اور تصویر سے اپنا موازنہ کرنے لگا۔۔۔ بال اب پیشانی سے اٹھ کر سر کے پچھلے حصے کی طرف گامزن تھے۔۔۔ اکثر جگہ پر سفیدی بھی آگئی تھی۔۔۔۔ آنکھوں کا رنگ تو پہلے جیسا تھا مگر چمک ماند پڑنے لگے تھی۔۔۔ سیاہ حلقے کی ہلکی ہلکی آمد محسوس ہورہی تھی۔۔ ہونٹ اب سرخ نہیں رہ گئے تھے۔۔۔۔
چہرے کی چمک کھونے لگی تھی۔۔۔ میں صحیح طور سے پہچان نہ سکا کہ آئینے کے سامنے کھڑا شجص میں ہوں یا تصویر میں کھڑا شخص میں ہوں۔۔۔؟
دھیرے دھیرے جسم کا جغرافیہ کیسے تبدیل ہونے لگا کچھ پتہ ھی نہیں چلا۔۔
اسی طرح باہر کا جغرافیہ بھی کافی حد تک تبدیل ہوچکا ہے۔۔۔۔۔
کئی مشہور بوڑھے جو ہمیں کہانیاں سنایا کرتے تھے مٹی کا ڈھیر ہوچکے ہیں ۔۔۔ مٹی کے گھر اب پکے مکانوں میں تبدیل ہوچکے ہیں ۔۔ گاوں کی گلیاں شہروں کی طرح تنگ ہونے لگی ہیں جس دھول میں ہم کھیلا کرتے تھے اب وہ دھول نہیں اڑتی۔۔
گاؤں کے ایک کنارے پر برسوں پرانا پیپل کا درخت تھا جس کے بارے میں نہ جانے کتنی کہانیاں سنی سنائی جاتی تھیں ۔۔ ہم بچپن میں شام ڈھلے چھپا چھپائی کھیلتے کھیلتے اس بڑے درخت کے تنوں کی آڑ میں چھپ جایا کرتے تھے اور کبھی کبھی تیز ہوا چلتی تو پیپل کے پتے آپس میں ٹکراتے تو بھیانک آوازیں پیدا ہوتیں جیسے سینکڑوں بدروحیں چیخ پڑی ھوں۔۔ ہم ڈر کر بھاگتے۔۔۔۔۔ ساری سنی کہانیوں کے بھوت ہمارا پیچھا کرتے اور ہم کسی دادی اماں کی گود میں پناہ گزیں ہوجاتے۔۔۔
اب وہ دادی اماں بھی نہیں رہیں۔۔ کئی سالوں کے بعد پرانے پیپل کے درخت کی طرف سے گزر ہوا تو دیکھا وہ بوڑھا درخت اپنی تمام تر داستانوں اور کہانیوں کے ساتھ زمین پر اوندھے منہ گرا ہے کئی جگہ سے اس کے تنوں کو کاٹ ڈالا گیا تھا۔۔۔۔ جس درخت کو دیکھ کر ہم ڈر جایا کرتے تھے اس بچپن کی نشانی کو زمین دوز دیکھا تو آنکھیں بےاختیار بھر آئیں ۔۔۔۔ اس بوڑھے دخت کے سارے بھوت اور چڑیلیں اب نہ جانے کس دیش کے باشندے ہوگئے۔۔۔۔ اب کوئی ڈرانے نہیں آتا۔۔۔
جس کھیت میں کھڑے ہوکر ہم نے تصویر کھنچوائی تھی اس کھیت پر ایک بڑی سی عمارت بن گئی ہے۔۔۔ کھیتوں کا سلسلہ مختصر سے مختصر ہوتا جارہا ہے اور رشتوں کا فاصلہ طویل سے طویل ۔۔۔۔۔
ایک بڑے میاں سے ملاقات ہوگئی۔۔۔ چند پرانی نشانیوں میں سے ایک نشانی ابھی زندہ تھی۔۔۔ انہیں ہم اکثر چڑھایا کرتے تھے اور وہ ڈنڈا لے کر دوڑا لیا کرتے تھے۔۔ میں نے سلام کیا۔۔ انہوں نے اپنی دھندلی نگاہیں اٹھائیں اور بڑی دیر کے بعد مجھے پہچان سکے۔۔ بڑی اپنائیت سے پوچھا۔۔ کیسے ہو۔۔۔ تم تو اب کافی بڑے ہوگئے ہو۔۔ میں نے کہا۔۔ ہاں۔۔ بڑا ہی نہیں بلکہ بوڑھا بھی ہونے لگا ہوں۔۔۔۔ بڑی دیر تک وہ چپ رہے۔۔ میرے دل میں ایک درد لہر اٹھی۔۔ جی چاہا کہ ایک بار اور میں انہيں چڑھاؤں اور وہ ڈنڈا لے کر مجھے دوڑائیں ۔۔۔ میں جانتا تھا اب وہ چل بھی نہیں پائیں گے اور میں بھی جلد ہی ہانپ جاؤں گا۔۔۔۔ آنکھوں کے کنارے کب بھیگنے لگے پتہ ہی نہیں چلا۔۔۔
جسم بوڑھے ہونے لگے۔۔۔۔ جس پر ہم گھمنڈ کیا کرتے تھے۔۔۔
گاؤں کا ہر منظر بدل گیا تھا ۔۔۔ سادہ لوح گاؤں کی نئی نسل ہل کدال چھوڑ کر شہر آگئی۔۔ بہت سارے شہر کے ہی باشندہ ہوگئے اور چند ایک لوٹ بھی آئے لوٹ کر آنے والے کافی چالاک ہوکر لوٹے تھے۔۔۔
پرانی تصویر دیکھ کر بہت کچھ یاد آگیا۔۔۔
جس میدان میں ہم گلی ڈنڈا اور کرکٹ کھیلا کرتے تھے وہ میدان بہت چھوٹا ہوگیا تھا اور اس چھوٹے سے میدان میں غول در غول نئی نسل سر جھکائے موبائل میں نہ جانے کیا دیکھا کرتی ہے۔۔۔
ان بچوں کے لیئے اب نہ کوئی بوڑھا درخت ہے نہ اس درخت کے بھوت۔۔۔
آپ بھی اپنا کوئی پرانا تصویروں کا البم ضرور ڈھوندیئے گا۔۔ شاید کوئی پرانا درخت نظر آجائے اور اس درخت پر بیٹھے بھوت آپ کو بچپن کی گلیوں میں لے جائیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور بہت دنوں کے بعد شاید آپ کی آنکھ بھی نم ہوجائے۔۔۔

منقول #

بلوچستان_کے_ضلع_قلعہ_عبداللہ  میں موجود دنیا کی سب سے بڑی ریلوے ٹنل کی حیرت انگیز  داستانکوئٹہ سے ایک سو تیرہ کلو میٹر د...
28/10/2024

بلوچستان_کے_ضلع_قلعہ_عبداللہ میں موجود دنیا کی سب سے بڑی ریلوے ٹنل کی حیرت انگیز داستان

کوئٹہ سے ایک سو تیرہ کلو میٹر دور ایک پہاڑی سلسلہ ہے جسے خواجہ عمران کا پہاڑی سلسلہ کہا جاتا ہے اس پہاڑی سلسلے ضلع میں سنزلہ اور شیلا باغ کے درمیان دنیا کی سب سے بڑی ریلوے ٹنل ہے جسے خوجک ٹنل کہتے ہیں، یہ وہی ٹنل ہے جس کی تصویر پانچ روپے کے متروک نوٹ پر ہوا کرتی تھی۔

یہ ٹنل 14 اپریل 1888ء کو تعمیر ہونا شروع ہوئی، یہ 5 کلومیٹر لمبی ہے اور اس کی تعمیر میں لگ بھگ آٹھ سو مزدور ہلاک ہوئے اور ان میں سے اکثر وہیں آس پاس دفن ہو گئے اس ٹنل میں ایک کروڑ ستانوے لاکھ چوبیس ہزار چار سو چھبیس اینٹیں لگی ہیں مزدوروں کی اول صف کھدائی کرتی جاتی جبکہ پچھلی اینٹیں لگاتی اور ان سے پیچھلی صف پٹڑی بچھاتی جاتی، بھاری مشینری کا وجود نہ ہونے کی وجہ سے کھدائی کا سارا کام انسانی ہاتھوں سے ہوتا۔

اس ٹنل کی تعمیر کے لیے 80 ٹن پانی روزانہ کی بنیاد پہ صرف ہوتا، دن رات کام کرنے کے لیے چھ ہزار پانچ سو چورانوے چراغ جلتے جو پوری ٹنل کو اندر سے روشن رکھتے، مزدوروں کی ریفریشمنٹ کے لیے آج کے انڈیا کے علاقے سے مشہور زمانہ رقاصہ شیلا منگوائی گئی جو رات کو رقص کرتی اور دن کے تھکے ماندے مزدوروں کی تفریح کا کچھ سامان پیدا کیا جاتا۔

اب آئیے اس دلچسپ و عجیب ٹنل کے سب سے مزیدار پہلو کی طرف، اس ٹنل کے انجنئیر جس نے اس کا سروے کیا تھا، اس کے مطابق اگر پہاڑ کے دونوں طرف سے اس ٹنل کی کھدائی کی جائے تو 3 سال 4 ماہ اور 21 روز بعد دونوں طرف سے کھدائی کرنے والے مزدور ایک دوسرے سے آن ملیں گے۔

5 ستمبر 1891ء کو انجنیئر کے لگائے اور بتائے گئے تخمینے کے مطابق اس ٹنل نے مکمل ہوناتھا، مقررہ تاریخ نزدیک سے نزدیک آتی جا رہی تھی اور سرا نہیں مل رہا تھا، چند لوگوں نے افواہیں اڑانا شروع کر دیں کہ مزدور راستہ بھول کر راستے سے ہٹ گئے ہیں، انجنئیر نے غلط سروے کیا، ناقص منصوبہ بندی کی وجہ سے کروڑوں ڈوب جائیں گے، مگر انجنئیر پر امید تھا۔

مقررہ تاریخ کو دونوں طرف آنے والی اور بچھائی جانے والی پٹڑی کے آخری بولٹ لگنے تھے، دن بارہ بجے تک ٹنل کے اندر سے کوئی خبر نہ آئی، ساری رات بے چینی سے ٹہلتا انجنیئر اب بھی ٹہل رہا تھا، اسے لگا کہ آج اس کا علم اسے دھوکا دے گیا، آج اس کا سب سے بڑا خواب پورا ہونے کی بجائے ریزہ ریزہ ہو رہا تھا، انجنیئر چپکے سے اٹھا اور پہاڑی کے اوپر اس مقام پر جا پہنچا جہاں پر رات کو شیلا رقص کرتی تھی،وہاں پہنچ کے رکا چند لمحے ٹنل کے دھانے پر نظر ڈالی اور پہاڑی کی چوٹی سے گہری کھائی میں چھلانگ لگا دی، اور تقریبا‘‘ عین اسی وقت دونوں طرف سے کھدائی کرتے ایک دوسرے کی طرف بڑھتے مزوروں کے درمیان ریت کی آخری دیوار بھی گر گئی۔

دنیا کی سب سے بڑی خوجک ٹنل مکمل ہو گئی، دونوں طرف کے مزدوروں نے ایک دوسرے سے گلے ملنے کے بعد اپنی اپنی مخالف سمت میں دوڑ لگا دی اور نعرے لگاتے چیختے چلاتے اڑھائی اڑھائی کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے ٹنل سے باہر نکلے دونوں طرف جشن کا سماں برپا ہو گیا، معاً کسی کو انجنیئر کا خیال آیا اور جب تلاش کی گئی تو انجینئر غائب، کافی دیر بعد کسی نے کھائی میں کسی انسانی نعش کی نشاندہی کی اور جب دیکھا گیا تو وہ وہی انجنیئر تھا جس نے دنیا کی سب سے بڑی ٹنل کا سروے کیا اور اس کی فزیبلٹی تیار کی اور مقررہ مدت تک اپنی کمٹمنٹ پوری نہ ہونے کی صورت میں ندامت سے بچنے کے لیے پہاڑ کی چوٹی پر سے چھلانگ لگا دی۔۔۔۔۔

27/10/2024

حضور ایسا کوئی انتظام ہو جائے
سلام کے لیے حاضر غلام ہو جائے

چھوٹا گلہ المعروف بنجونسہ جھیل کا دلکش نظارہ
12/10/2024

چھوٹا گلہ المعروف بنجونسہ جھیل کا دلکش نظارہ

راولاکوٹ آزاد کشمیر کا خوبصورت منظر
25/09/2024

راولاکوٹ آزاد کشمیر کا خوبصورت منظر

چیلنج
23/09/2024

چیلنج

اللہ پاک عمل کی توفیق عطا فرمائے
21/09/2024

اللہ پاک عمل کی توفیق عطا فرمائے

Address

Hajira

Telephone

+923457254021

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Zaheer Iqbal Ch posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to Zaheer Iqbal Ch:

Shortcuts

Share

Category