Riyaad-Ul-Janah Masjid

Riyaad-Ul-Janah Masjid A way tO preach ISLAM..............

20/08/2026
ب بچوں کی دینی اور دنیاوی کامیابی کا بہترین ضامن!داخلہ جاری ہے!دو سالہ اسلامک اسٹڈیز کورس درسِ نظامی جدید و آسان طرز پرا...
15/08/2026

ب بچوں کی دینی اور دنیاوی کامیابی کا بہترین ضامن!

داخلہ جاری ہے!

دو سالہ اسلامک اسٹڈیز کورس درسِ نظامی جدید و آسان طرز پر

ادارہ اسماعیل ایجوکیشن کمپلیکس، حافظ آباد

الحمدللہ پہلے اور دوسرے دونوں سمسٹرز کے لیے داخلے شروع ہو چکے ہیں۔ اپنے بچوں کو
بہترین ماحول میں قرآن و سنت کی تعلیم سے آراستہ کرنے کے لیے آج ہی رابطہ کریں۔

کورس کی نمایاں خصوصیات: عربی زبان بول چال اور فہمِ قرآن پر خصوصیت توجہ جدید
چیلنجز عصرِ حاضر کے فکری فتنوں کا علمی رد عملی تربیت اسلامی تعلیمات کی عملی و
فکری مشق امتحانات وفاق المدارس السلفیہ کے امتحانات کی مکمل و معیاری تیاری

شرائطِ داخلہ: تعلیمی قابلیت کم از کم مڈل پاس یا اردو/عربی درست پڑھنا لکھنا جانتا
ہو عمر 14 سے 15 سال اوقات صبح 7:30 تا دوپہر 2:30 اتوار تعطیل

محدود نشستیں!

تاریخِ داخلہ 18 اگست تا 10 ستمبر

پتہ سرگودھا روڈ بائی پاس، نزد سنی گارڈن، حافظ آباد۔

رابطہ نمبر 0322-6525354

بچوں کی اخلاقی و تربیتی نشست اور سمر کیمپ 2026ء: ایک انمول اور یادگار فکری سفراز قلم: حافظ محمد یونس سدیسموجودہ پرفتن دو...
23/07/2026

بچوں کی اخلاقی و تربیتی نشست اور سمر کیمپ 2026ء: ایک انمول اور یادگار فکری سفر

از قلم: حافظ محمد یونس سدیس

موجودہ پرفتن دور میں بچوں کی درست دینی اور اخلاقی تربیت سب سے بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ ایسے میں مکہ مکرمہ کی نامور درسگاہ جامعہ ام القریٰ کی سرپرستی اور سابق امامِ حرمِ مکی محترم ڈاکٹر حسن کے مقرر کردہ نمائندوں کے اشتراک سے حافظ آباد میں ایک نہایت پُروقار، اصلاحی اور تربیتی سمر کیمپ کا انعقاد کیا گیا، جس نے اساتذہ، والدین اور بچوں کے دل جیت لیے۔ یہ بابرکت پروگرام 22 جولائی 2026ء کو ظہر سے عصر تک "المصحف اسلامک سینٹر" کے زیراہتمام اسماعیل ایجوکیشن کمپلیکس کے شعبہ حفظ کے بچوں کے لیے منعقد ہوا۔

اس خوبصورت تقریب کا اہتمام عثمان حمید صاحب (ناظمِ مالیات، پاکستان اہل حدیث یوتھ فورس) کی مخلصانہ کاوشوں سے عمل میں آیا۔

پروگرام کا باقاعدہ آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا۔ اس فکری نشست کے مہمانِ گرامی عثمان شبیر علوی صاحب (لیکچرار، پنجاب یونیورسٹی، سیالکوٹ) نے بچوں سے خصوصی خطاب کیا۔ انہوں نے بچوں کو ایمان، عبادات، اخلاقیات، سیرتِ النبی ﷺ اور عظمتِ صحابہ کرامؓ و اہل بیتِ اطہار کے حوالے سے انتہائی مفید اور پُرمغز نصائح سے نوازا۔ خطاب کے دوران عثمان شبیر صاحب کی ایک دلنشین بات دل پر نقش ہو گئی، انہوں نے کہا: "ڈاکٹر حسن صاحب ہمیں ذاتی طور پر نہیں جانتے، اور نہ ہی ہم ان سے براہِ راست واقف ہیں، لیکن انہوں نے ہمیں پاکستان میں یہ ذمہ داری سونپی کہ ہم یہاں کے مدارس اور بچوں میں یہ دینی سرگرمیاں منعقد کریں۔ ایسا کیوں ہے؟ اس کا جواب صرف یہ ہے کہ 'دین کی محبت اور قرآن کا رشتہ' وہ مضبوط کڑی ہے جو ہمیں آپس میں جوڑتی ہے۔"

واقعی! یہ ایک مسلّمہ حقیقت ہے کہ جو رشتہ دین کی بنیاد پر قائم ہو، وہ محض مفادات سے بالاتر ہو کر خالصتاً اخلاص پر مبنی ہوتا ہے۔ جیسے اصحابِ کہف مختلف گھرانوں سے تعلق رکھنے کے باوجود محض دین کی حفاظت کے لیے یکجا ہو گئے تھے، یہی دراصل حقیقی دینی بھائی چارہ ہے۔ فرمانِ نبوی ﷺ ہے: "الدين النصيحة" (دین خیر خواہی کا نام ہے)۔

خطاب کے بعد بچوں کے مابین ایمان، عبادات، سیرت اور شخصیاتِ اسلامیہ کی زندگیوں سے متعلق معلوماتی سیشن اور سوال و جواب کا سلسلہ شروع ہوا۔ اس سیشن کو انتہائی خوشگوار اور محبت بھرے انداز میں آگے بڑھانے والے حافظ قاری محمد احمد واہلہ صاحب تھے، جنہوں نے بڑے شفقت بھرے انداز میں بچوں سے سوالات کیے۔

تقریب میں انتظامی امور اور بچوں کی نگرانی کے لیے دیگر معاون احباب کا کردار بھی انتہائی فعال رہا۔ نشست کے دوران صرف علمی و دینی درس پر ہی اکتفا نہیں کیا گیا، بلکہ بچوں کی ذہنی و جسمانی تازگی کے لیے مختلف تفریحی اور ذہنی کھیلوں کی سرگرمیوں کا بھی اہتمام کیا گیا، جس میں بچوں نے بھرپور جوش و خروش سے حصہ لیا۔ مہمان ٹیم نے بچوں کی شاندار شرکت اور صلاحیتوں کو دیکھ کر ان کی بھرپورحوصلہ افزائی کی۔

اس سمر کیمپ کا بنیادی مقصد دلوں میں محبتِ قرآن راسخ کرنا، نفوس میں ایمان کے مفاہیم کو زندہ کرنا، اور علم، عمل، ادب اور امید کے ذریعے ایک صالح معاشرہ قائم کرنا ہے۔ مہمان ٹیم کا وژن درج ذیل نکات پر مبنی تھا:

1. نورِ قرآن اور عملی زندگی: دینی تعلیمات کو محض کتابی علم تک محدود رکھنے کے بجائے روزمرہ کے معمولات کا حصہ بنانا۔
2. فکری ارتقاء اور سوچ: بچوں کے ذہنی افق کو وسیع کرنا، تعمیری سوچ کی طرف راغب کرنا اور انہیں ذمہ دار انسان بنانا۔
3. اخلاق و کردار: سچی بات کہنے کی عادت اپنانا، وقت کی قدر، نظم و ضبط سیکھنا اور زندگی کا مثبت مقصد تلاش کرنا۔

پروگرام کے تربیتی نصاب میں سیرتِ پاک، امانت و دیانت، شکرِ الٰہی، اخلاقِ نبوی، حسن سلوک، تقویٰ اور ذکر و دعا جیسے موضوعات کو خصوصی جگہ دی گئی، جبکہ شعبجات میں حفظ و فہمِ قرآن، زبانیں سکھانا، آرٹ اینڈ کرافٹ اور ذہانت کے کھیل شامل تھے۔
تقریب کے اختتام پر 6 سے 15 سال تک کے تمام شریک بچوں کو اسناد اور اعزازی میڈلز سے نوازا گیا۔

اختتام پر راقم الحروف (حافظ محمد یونس سدیس) نے بارش کے باوجود پروگرام میں شریک ہونے والے طلباء، اساتذہ کرام، الشیخ یاسر عرفات صاحب ، قاری عزیز الرحمن صاحب ، قاری عبد الرحمن باقی صاحب، بھائی عبد الخالق صاحب اور مہمانانِ گرامی کا تہِ دل سے شکریہ ادا کیا جنہوں نے بچوں کی تربیت کا یہ گراں قدر فریضہ انجام دیا۔ مہمانوں کی تواضع کے لیے پر تعیش دعوتِ طعام کا اہتمام کیا گیا۔

آخر میں دعا کی گئی کہ اللہ تعالیٰ ڈاکٹر حسن صاحب، عثمان شبیر صاحب، عثمان حمید صاحب، حافظ محمد احمد اور دیگر تمام معاونین کو بہترین جزا عطا فرمائے، اور ملک بھر کے مدارس میں اس قسم کی دینی نشستوں اور تربیتی کیمپوں کا سلسلہ جاری رہے تاکہ دینی اقدار پروان چڑھتی رہیں اور دینِ اسلام کی نشر و اشاعت کا کام دن دگنی رات چوگنی ترقی کرتا رہے۔ آمین!

بصد شکریہ محترم عبد الرحمن سعیدی صاحب 📚بسلسلہ تعارف کتب🔍۔📗نام کتاب: "معلومات و مضامین قرآنی" 🎓مؤلف: مولانا قاری محمد یون...
05/07/2026

بصد شکریہ محترم عبد الرحمن سعیدی صاحب
📚بسلسلہ تعارف کتب🔍۔
📗نام کتاب: "معلومات و مضامین قرآنی"
🎓مؤلف: مولانا قاری محمد یونس السدیس پرنسپل و خطیب اسماعیل ایجوکیشن کمپلیکس حافظ آباد۔
📖 تعداد صفحات: 329
📌ناشر: شعبہ نشر و اشاعت اسماعیل ایجوکیشن کمپلیکس حافظ آباد۔
قرآن کریم اللہ تعالی کا کلام ہے جسے بطور آخری آسمانی کتاب آخر الزماں پیغمبر حضرت محمد رسول اللہﷺ پر نازل کیا گیا۔ جامعیت کی حامل یہ کتاب مقدس قیامت تک کے لوگوں کے لیے رشد و ہدایت کا ذریعہ ہے. اس لیے اس میں جا بجا غور و فکر کی دعوت دی گئی ہے۔ قرآن مجید کا صحیح فہم حاصل کرنے اور اس کی تعلیم کو دنیا تک پہنچانے کے لیے ہر دور میں علماء نے مقدور پر کوششیں کی ہیں. ہر دور میں اپنے اپنے انداز فکر میں علمائے کرام نے علم کے اس بحر بے کراں میں غوطہ زن ہو کر موتی تلاش کرنے کی کوشش کی۔
اسی سلسلے کی ایک کڑی زیر نظر کتاب "معلومات و مضامین قرآنی" بھی ہے جس کے مؤلف زینت القراء حافظ محمد یونس السدیس حفظہ اللہ ہیں۔ موصوف "اسماعیل ایجوکیشن کمپلیکس جامع مسجد ریاض الجنہ حافظ آباد" میں شعبہ حفظ کے استاذ اور خطیب ہیں۔ اللہ تعالی نے انہیں بہت سی خوبیوں سے نوازا ہے۔خوبصورت اور خوب سیرت ہونے کے ساتھ ساتھ خوش اخلاق، خوش الحان، خوش لباسِ اورخوش مزاج طبیعت کے حامل ہیں۔ رمضان المبارک میں آپ کی مسحور کن آواز، ترتیل سے قرآت اور بالخصوص طاق راتوں میں رات کے آخری حصے میں قنوت وتر کی رقت آمیز دعا میں شریک ہونے کے لیے لوگ دور دور سے کھنچے چلے آتے ہیں۔ کتاب کیا ہے اور کس قدر مفید ہے۔۔۔مطالعہ کے بعد اس کے مؤلف کی محنت اور جانفشانی کا بخوبی اندازہ ہوگا۔ کتاب میں ہر سورت کے متعلق معلومات کی تفصیل اس طرح سے ہے۔
✴️ہر سورت کا نام اوراس کے نام کا معنی۔
✴️سورت کی ترتیب تلاوت کے لحاظ سے اور نزول کے لحاظ سے۔
✴️ سورت میں آیات کی تعداد۔
✴️اس سورت سے پہلے گزری ہوئی آیات کی تعداد اور بعد میں آنے والی آیات کی تعداد
✴️سورت کے الفاظ کی تعداد۔
✴️ اس سورت سے پہلے گزرے ہوئے الفاظ کی تعداد اور اس کے بعد آنے والے الفاظ کی تعداد
✴️ سورت کے حروف کی تعداد
✴️ ان سے پہلے گزرے ہوئے حروف کی تعداد اور بعد میں آنے والی حروف کی تعداد۔
✴️ سورت کے رکوع کی تعداد۔
✴️سورت کا مقام نزول۔۔۔ مکی/ مدنی۔
✴️ سورت کی فضیلت سے متعلق احادیث۔
✴️سورت کے مضامین۔
✴️سورت کے اہداف و مقاصد۔
کتاب کے آخر میں پانچ نقشے دیے گئے ہیں:
1️⃣قرآن مجید کی مکی اور مدنی سورتیں۔
2️⃣قرآن کریم کی ہرسورت کا نام۔۔۔مصحف کی ترتیب اور نزول کی ترتیب کے حساب سے۔
3️⃣ قرآن کریم کی سورتوں کی ترتیب آیات کے عدد کے اعتبار سے۔ مثلا سب سے چھوٹی تین آیات والی تین سورتیں "العصر الکوثر اور النصر" اور سب سے بڑی سورت سورۃ البقرۃ۔
4️⃣قرآن کریم کی سورتوں کی ترتیب الفاظ کے عدد کے اعتبار سے۔۔ مثلا سورۃ الکوثر میں 10 الفاظ، النصر میں 14 اور سورۃ البقرۃ میں 6144 الفاظ ہیں۔
5:5️⃣قرآن کریم کی سورتوں کی ترتیب۔۔۔۔ حروف کے اعتبار سے۔ مثلا الکوثر میں 42 حروف، الاخلاص میں 47 حروف اور البقرہ میں25613 حروف ہیں۔
سورت میں بیان کردہ مضامین کے بیان کے ساتھ آیات کے نمبر دیے گئے ہیں: مثلا سورۃ اٰل عمران: اللہ تعالی کی توحید الوہیت اور وفد نجران کے نصاری کے لیے تمہید کہ شریعت کا نزول صرف اللہ تعالی کی طرف سے ہے آیت نمبر 1تا 6 ۔
اس طرح قرآن کریم سے متعلق معلومات کا ایک مرقع آپ کے سامنے ہے۔ علماء کے علاوہ کالج، یونیورسٹی کے طلباء اور تحقیقی ذوق رکھنے والوں کے لیے بہترین تحفہ ہے خود پڑھیے دوست و احباب کو تحفہ میں دیں۔اس طرح کی معلومات آپکو کئی کتابوں کی ورق گردانی سے حاصل ہونگی۔۔اللہ تعالی قاری صاحب کی محنت کو شرف قبولیت سے نوازے اور ان کے ذوق و شوق میں اضافہ فرمائے۔
اللهم انفعنا بما علمتنا وعلمنا ما ينفعنا وزدنا علماً...آمین۔
✍️ عبـــدالرحمٰـــن سعیـــدی 30جنوبی سرگودھا
نائب ناظم طبع و تالیف مرکزیہ شمالی پنجاب۔
(03-07-2026)

✍️مولانا ابوالحسن محمد یحییٰ ؒحافظ آبادی       ❁ ══ ❁ وفات:03 فروری1972 ء❁══ ❁علمائے اہلحدیث نے ہر دور میں قال اللہ وقال...
13/06/2026

✍️مولانا ابوالحسن محمد یحییٰ ؒحافظ آبادی
❁ ══ ❁ وفات:03 فروری1972 ء❁══ ❁
علمائے اہلحدیث نے ہر دور میں قال اللہ وقال الرسول کی صدا بلند کرنے کیلئے جدوجہد کی۔ اپنا مال اور وقت اللہ کے راستے میں قربان کیا۔گھر بار اور علاقہ چھوڑا جہاں ضرورت ہوئی وہاں پہنچ کر دین کی دعوت دی۔کچھ شخصیات اپنی تگ و تاز، اخلاص اور محنت کی وجہ سے اپنے معاصرین میں نمایاں مقام کی حامل ہوئیں۔ ہر گل را رنگ و بوئے دیگر است۔انہی عبقری شخصیات میں ایک نمایاں نام مولانا ابوالحسن محمد یحییٰ حافظ آبادی رحمۃ اللّٰہ علیہ بھی ہے۔
🌿ولادت :
آپ مشرقی پنجاب،تحصیل ترن تارن ضلع امرتسر کے گاؤں باقی پور میں پیدا ہوئے۔ آپ کے سن ولادت اور ابتدائی حالات و تعلیم کا صحیح علم نہیں ہوسکا۔
🌿دینی تعلیم:
آپ نے درس نظامی کی تعلیم جامع المعقول والمنقول مولانا محمد عبداللہ ویرووالوی رحمۃ اللّٰہ علیہ سے ان کے قائم کردہ مدرسہ شمسیہ عربیہ ویرووال افغاناں ضلع امرتسر میں حاصل کی۔ یہ مدرسہ 1941ءسے ملکی تقسیم 1947ء تک جاری رہا۔مولانا عبداللّٰہ کے تلامذہ میں مولانا یحییٰ صاحب کے علاوہ مولانا حکیم محمد ابراہیم حافظ آبادی،مولانا حکیم عبدالرحیم اشرف فیصل آباد، پروفیسر غلام احمد حریری فیصل آباد، مولانا محمد داؤد انور فاروق آباد، مولانا حکیم غلام اللہ فیصل آباد، مولانا عبدالقیوم آف مڑھ بلوچاں، مولانا حکیم محمد حنیف منڈی صفدر آباد اور مولانا حافظ محمد ابراہیم کمیر پوری قابل ذکر ہیں۔شاید ان میں سے بعض مولانا یحییٰ صاحب کے ہم سبق بھی ہوں۔
ںاقی پور اہلحدیث کا ایک تاریخی گاؤں تھا اسی گاؤں سے مولانا حافظ ابراہیم باقی پوری تھے جو شیخ الحدیث مولانا محمد عبداللہ ویرووالوی کے اساتذہ میں سے تھے۔
🌿تحریک پاکستان میں کردار:
برصغیر میں تحریکِ پاکستان کے دوران مولانا محمد یحییٰؒ نے اہلِ حدیث علماء اور کارکنان کے شانہ بشانہ مسلمانانِ ہند کے سیاسی اور ملی حقوق کے لیے سرگرم کردار ادا کیا۔ آپ ان علماء میں شامل تھے جنہوں نے قیامِ پاکستان کے مقصد کو عام مسلمانوں تک پہنچانے اور ان میں سیاسی شعور بیدار کرنے کے لیے قابلِ قدر خدمات انجام دیں۔
مولانا محمد امین محمدی لکھتے ہیں:
"مولانا محمد یحییٰ باقی پوری ثم حافظ آبادی رحمہ اللہ بہت کامیاب مبلغ اور خطیب تھے۔ پنجاب بھر میں ان کی خطابت کا طوطی بولتا تھا۔ قیامِ پاکستان کے سلسلہ میں مولانا محمد یحییٰ اور ان کے چچا مولانا حافظ محمد ابراہیم باقی پوری اور مولانا حکیم محمد ابراہیم ویروالوی کی خدمات کا دائرہ بے حد وسیع ہے۔ ان کے استاذ محترم فضیلۃ الشیخ حضرت مولانا محمد عبداللہ محدث امرتسری مدظلہ بھی قیامِ پاکستان اور تحریکِ پاکستان کے زبردست حامی تھے لیکن ان کی سیاست عملی سے زیادہ نظری تھی"۔
(سیاسیات برصغیر میں اہل حدیث کا حصہ، ص ۷۵-۷۷)
🌿قیامِ پاکستان کے بعد:
ملکی تقسیم پر ہجرت کر کے حافظ آباد میں قیام پذیر ہوئے۔ حافظ آباد میں اس سے پہلے 1922ء میں مولانا علم دین رحمۃ اللہ علیہ فاضل دارالحدیث دہلی (وِنّی والے) اپنے رفقاء کے ساتھ مسجد اہلحدیث تعمیر کر چکے تھے اور 1942ء میں اپنی وفات تک وہاں امام و خطیب رہے۔پاکستان بننے کے بعد مولانا علم دین کے ساتھی میاں احمد دین( حاجی محمد یوسف اور حاجی محمد علی یوسف سوپ فیکٹری والوں کے والد) نے اسی مسجد کے قریب مکان الاٹ کرا دیا اور مولانا محمد یحییٰ کو اس مسجد میں امام و خطیب تعینات کیا گیا۔
ضلع امرتسر کے ہی مختلف دیہاتوں سے کتنے خاندان حافظ آباد آئے،اور جماعتی قوت میں اضافہ ہوا۔ویرووال سے حکیم محمد ابراہیم صاحب، رعیہ سے میاں فضل حق، باقی پورہ سے مولانا یحییٰ صاحب، پٹی سے مولانا حکیم محمد بشیر، چولہا سے مولوی عبدالحق(قاری زبیر قاسمی کے دادا)، اسی طرح دیگر احباب کی آمد سے رونق لگ گئی۔جس حافظ آباد میں مسجد بنانے میں مشکلات کھڑی کی گئی تھیں، اسی شہر میں توحید و سنت کے کئی مراکز بنے۔
سب سے پہلے مین بازار میں دو بڑے مندر تھے جن میں ایک مندر مغل بادشاہ اکبر کا بنا کردہ تھا۔مولانا یحییٰ اور حکیم محمد ابراہیم صاحب نے نوجوانوں کو جمع کرکے ان مندروں کو مسمار کرکے ان کا ملبہ راتوں رات دور پھینک دیا۔پہلی ضرب حکیم صاحب نے خود لگائی اور اس جگہ نمازِ فجر ادا کرکے جامع مسجد قدس اہلحدیث اور مدرسہ کی بنیاد رکھی۔
مسجد قدس اہل حدیث کے تھوڑے ہی عرصہ بعد مدرسہ رحمانیہ دہلی کے فارغ مولانا صوفی خدا بخش انصاری، حاجی اللّٰہ بخش، حاجی غلام محمد بھنڈر اور دیگر رفقائے کرام نے جلال پور روڈ کے جنوب میں برلب سڑک وسیع جگہ پر جامع مسجد مبارک اہلحدیث کی بنیاد رکھی۔ الحاج میاں فضل حق، مولانا حکیم محمد ابراہیم، مولانا محمد یحیٰی اور دیگر احباب جماعت نے باہمی مشاورت سے اسی جامعہ مسجد کے وسیع میدان میں مسجد مدرسہ دارالحدیث محمدیہ کی بنیاد رکھی اس مدرسہ کے پہلے استاد و مدرس فضیلۃ الشیخ مولانا فضل الرحمن کلیم کاشمیری اور پہلے مہتمم مولانا عبدالرحمٰن قصوری (ریٹائرڈ تھانیدار)تھے۔ ان کے بعد تاحیات مولانا ابو الحسن محمد یحیٰی مدیر اور مہتمم رہے۔
🌿 ذاتی خصائل:
مولانا نہایت خوش اخلاق، خوش مزاج، بھاری جسم، دراز قد، خوبصورت چہرہ اور خوش الحان خطیب تھے۔ آپ کے والد مولانا امیر دین نہایت بیباک،صاف گو مقرر اور چلتے پھرتے مبلغ تھے۔ منکرات کا رد بڑے شدید دلائل کے ساتھ کرتے۔
🌿خطابت:
مولانا محمد یحییٰ اسی پرانی مسجد (مولانا علم دین والی) میں خطیب رہے۔اس کے ساتھ آپ کو شہر کی مرکزی عیدگاہ میں عیدین کی امامت وخطابت کا اعزاز بھی حاصل رہا۔
ختم نبوت اور تحریک نظام مصطفیٰ کے دوران اس مسجد کو مرکزی حیثیت حاصل رہی۔مولانا نے 1953ء میں ختم نبوت کی تحریک میں قادیانیوں کے خلاف تقریریں کیں۔ مسجد وزیر خان لاہور میں بیٹھ کر تحریک کی قیادت کرتے رہے جس کے نتیجے میں آپ کو گرفتار کر لیا گیا۔ ملتان جیل میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرتے رہے۔ آپ کے زمانہ جیل کے دوران نماز تراویح کی سعادت قاری محمد اسماعیل اسد کو حاصل ہوئی۔سرکاری پڑاؤ کی یہ مسجد اب جامع مسجد مولانا یحییٰ صاحب والی کے نام سے مشہور ہے۔آپ کی وفات کے بعد مولانا نصراللّٰہ خان بھٹی،اور مولانا زبیر احمد ظہیر خطیب رہے۔
حافظ عبدالاعلی درانی لکھتے ہیں:
"مولانا محترم مرحوم و مغفور بڑے اونچے لمبے وجیہہ خوبصورت موٹی موٹی آنکھوں والے اور میٹھے میٹھے بول اور مترنم قرآن پڑھنے والے تھے ۔ جب نبی پاک کا نام لیتے تھے تو بڑے ٹھہراؤ اور پیار کے ساتھ ۔ پھر بڑے ٹھہراؤ سے صلی اللہ علیہ وسلم کہتے تھے ۔ اس روز جلسے کی تقریر کا ایک جملہ مجھے ا ھی تک یاد ہے کہ ایک دفعہ درود پڑھنے سے شیطان کئی میل بھاگتا ہے اور جھوٹ بولنے سے وہ قریب آجاتا ہے اور ہم تو سارا دن اس کو پریکٹس ہی کراتے رہتے ہیں"۔
بابائے تبلیغ مولانا محمد عبداللہ گورداسپوری (رحمۃ اللّٰہ علیہ) نے آپ کی وفات پر لکھا:
"ملکی تقسیم کے بعد جماعت اہل حدیث پنجاب کے معروف اور بہترین و موثر خطیب حضرت مولانا محمد یحییٰ باقی پوری حافظ آباد ضلع گجرانوالہ آ کر قیام پذیر ہوئے۔ اپنے سلف صالحین کی طرح ایسے قیام پذیر ہوئے کہ حافظ آبادی بن گئے۔ حضرت مولانا محمد یحیی آج سے تقریبا 15 سال بیشتر پورے ملک میں اپنے گونج و گرجدار آواز سے دینِ حقہ کی تبلیغ کرتے ہوئے اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ وعدہ کے پابند، اسٹیجوں کی زینت، محفلوں کی رونق تھے جن لوگوں نے مولانا یحیی رحمۃ اللہ علیہ کو سنا اور دیکھا ہے وہ میری اس بات کی ضرور تصدیق کریں گے۔
مولانا یحییٰ اور حکیم ابراہیم صاحب جماعت کے مرکزی اجتماعات مثلاً جمعیت اہل حدیث پاکستان کی سالانہ کانفرنسیں، جامعہ سلفیہ، ماموں کانجن سیالکوٹ, لاہور, سرگودھا، جامعہ رحمانیہ فاروق آباد باقاعدگی سے تشریف لے جاتے۔ ان دونوں کی طرہ دار پگڑیوں کا ایک امتیازی مقام تھا"
(ہفت روزہ اہل حدیث لاہور دسمبر 1990ء،حافظ عبدالرزاق سعیدی رح حیات، خدمات، آثار مرتبہ مناظر اسلام حافظ فاروق الرحمن یزدانی حفظہ اللّٰہ صفحہ 57-62 ملخصاً)۔
"تاریخ حافظ آباد" کے مصنف عزیز علی شیخ لکھتے ہیں: "مولانا محمد یحییٰ مرحوم کا شمار ان بزرگوں میں ہوتا ہے جو 1947ء میں قیام پاکستان کے وقت مشرقی پنجاب بھارت سے ہجرت کر کے وارد حافظ آباد ہوئے۔نہایت ہردل عزیز،مخلص،ہمدرد انسان تھے، بڑے وضعدار،خوش الحان خطیب اور مقرر تھے۔ عالم جوانی میں ہی تبلیغی اور سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینا شروع کر دیا۔تحریک پاکستان کے دوران انہوں نے مسلم لیگی رہنماؤں کے ساتھ مل کر ضلع امرتسر گورداسپور میں قائد اعظم کا پیغام عامۃ المسلمین میں پہنچایا اور اپنی ولولہ انگیز تقاریر سے باطل کے ایوانوں میں زلزلہ پیدا کیے رکھا"
(تاریخ حافظ آباد از عزیز علی شیخ صفحہ:323)
آپ بڑے بڑے اجتماعات کے مرکزی خطباء میں شامل تھے۔خوش الحانی سے وعظ کرتے۔آپکی خوبی تھی کہ موقع کی مناسبت سے تقریر کرتے،وقت کم ہوتا تو بلا تمہید نفس مضمون سے اڑان بھرتے اور مضمون کا حق ادا کر دیتے۔توحید باری تعالیٰ، شان رسالت،اصلاح معاشرہ، آپکے پسندیدہ موضوعات تھے۔ تقریر پنجابی میں کرتے اور معاشرے میں پائی جانے والی خرابیوں پر خوب روشنی ڈالتے۔دوران خطاب نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا اسم گرامی"محمد" بڑے پیار،وقار،ٹھہراؤ اور بلند آواز سے لیتے اور درود پڑھتے۔
والد محترم رحمۃ اللّٰہ علیہ چونکہ 1960ء تک دارالحدیث محمدیہ حافظ آباد میں پڑھتے رہے، ایک واقعہ سنایا کرتے تھے کہ "محرم کے کسی جمعہ یا خطبہ میں ہمارے استاد مولانا ابو الحسن محمد یحیٰی حافظ آبادی رحمۃ اللّٰہ علیہ یہ قصہ پڑھا کرتے تھے" کہ امام جعفر صادق نے اپنے والد امام باقر سے پوچھا کہ آپ اکثر پریشان اور آزردہ دکھائی دیتے ہیں، تو انہوں نے جواب دیا:
گفت باقر او پسر گم کرده را
گفت من بر تو شناسم درد را
غم ما کمتر از یعقوب نیست
او پسر گم کرده، من پدر گم کرده‌ام
ترجمہ:
کہا باقر نے، اے وہ جس نے بیٹے کو کھو دیا ہے،
کہا میں تمہارے درد کو پہچانتا ہوں۔
ہمارا غم یعقوب علیہ السلام سے کم نہیں،
اس نے بیٹے کو کھویا، اور میں نے باپ کو کھو دیا ہے۔
اس کے ساتھ ایک لطیفہ بھی سناتے کہ مولانا حکیم محمد ابراہیم حافظ آبادی رحمۃ اللہ علیہ بڑے خوش طبع بزرگ تھے۔ انہوں نے کسی بزرگ سے پوچھا کہ آج جمعہ کہاں پڑھا؟. اس نے جواب دیا کہ مولانا یحیٰی صاحب کے پیچھے تو مسکرا کر کہا "پھر اونہے گفت باقر پڑھیا کہ نہیں"۔۔۔۔۔ اب یہ سب بزرگ اللّٰہ کے پاس جا چکے۔۔۔۔مولانا حافظ آباد میونسپل کمیٹی میں ایک عرصہ تک کونسلر میونسپل کمشنر کے فرائض ادا کرنے کے ساتھ ساتھ سماجی،دینی،سیاسی اور تبلیغی سرگرمیوں میں بھرپور حصہ لیتے رہے۔انتظامی اداروں میں آپکو عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا۔جماعتی احباب کے چھوٹے موٹے سرکاری معاملات میں تعاون کرتے۔مناظر اسلام مولانا قاضی عبدالرشید ارشد رحمه اللّٰہ نے بتایا کہ:
"جب مرزائیوں کے خلاف تحریک کے دوران مولانا عبدالعلیم سعیدی گرفتار ہوگئے تو میں اور مولانا عبدالستار صاحب حافظ آباد میں مولانا محمد یحیٰی حافظ آبادی کے پاس گئے کیونکہ وہ بلدیہ کے صدر تھے تھانے کچہری میں ان کا ایک مقام تھا اس وقت ہمارا تھانہ قلعہ دیدار سنگھ میں تھا۔مولانا سے وہاں فون کروایا ہمارے گاؤں پہنچنے سے پہلے مولانا عبدالعلیم گھر پہنچ چکے تھے"۔
وہ جو لوگ اہلِ کمال تھے وہ کہاں گئے
وہ جو آپ اپنی مثال تھے وہ کہاں گئے
🌿وفات:
آپ نے 03 فروری 1972ء کو وفات پائی۔ آپ کی نماز جنازہ مولانا حافظ محمد یوسف گکھڑوی رحمۃ اللّٰہ علیہ نے پڑھائی۔مسجد اہل حدیث کے سامنے سرکاری پڑاؤ میں آپ کی نماز جنازہ پڑھنے کے لیے سارا شہر امڈ آیا۔علماء کرام کی کثیر تعداد نماز جنازہ میں شریف ہوئی ہزاروں سوگواروں کی موجودگی میں آپ کو قبرستان گڑھی اعوان میں سپردِ خاک کیا گیا۔
آپ کے چھوٹے بھائی شیخ امان اللہ صاحب حافظ آباد کی مشہور سیاسی و سماجی شخصیت تھے اور میونسپل کمیٹی حافظ آباد کے چیئرمین بھی رہے۔
اللھم اغفرلہ وارحمہ وارفع درجته فی المھدیین آمین۔
🖋️ عبـــدالرحمٰـــن سعیـــدی 30جنوبی سرگودھا
نائب ناظم طبع و تالیف مرکزیہ شمالی پنجاب۔
(12-06-2026)

عشرۂ ذوالحجہ میں تکبیراتِ تشریق کی فضیلت اور مسنونیتعشرۂ ذوالحجہ (ذوالحجہ کے ابتدائی دس دن) اللہ تعالیٰ کے نزدیک سال کے ...
17/05/2026

عشرۂ ذوالحجہ میں تکبیراتِ تشریق کی فضیلت اور مسنونیت

عشرۂ ذوالحجہ (ذوالحجہ کے ابتدائی دس دن) اللہ تعالیٰ کے نزدیک سال کے بہترین ایام
ہیں۔ ان دنوں میں حاجیوں کے علاوہ عام مسلمانوں کے لیے بھی کثرت سے تکبیرات پڑھنا
سنتِ نبوی اور آثارِ صحابہ سے ثابت ہے۔ اس حوالے سے مستند نکات درج ذیل ہیں:

1. نبوی حکم اور فضیلت: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "اللہ تعالیٰ کے نزدیک عشرۂ ذوالحجہ
کے ان دس دنوں میں کیے جانے والے نیک اعمال سے زیادہ پسندیدہ اور کوئی عمل نہیں، پس
تم ان دنوں میں کثرت سے تہلیل (لا الہ الا اللہ)، تکبیر (اللہ اکبر) اور تحمید
(الحمد للہ) کہا کرو" (مسند احمد؛ سلسلہ احادیث صحیحہ، حدیث 2435)۔

2. صحابہ کرامؓ کا منہج (عملی اسوہ): صحیح بخاری میں معلقاً مروی ہے کہ حضرت
عبداللہ بن عمرؓ اور حضرت ابو ہریرہؓ ذوالحجہ کے ان دس دنوں میں بازاروں میں
نکلتے اور بلند آواز سے تکبیریں کہتے تھے۔ ان کے اس عمل سے لوگ متوجہ ہوتے اور خود
بھی تکبیرات پڑھنا شروع کر دیتے تھے۔ یہ "بھولی ہوئی سنت" کو زندہ کرنے کا ایک
عملی طریقہ تھا، جو اس بات کی واضح دلیل ہے کہ یہ عمل صرف حج کرنے والوں کے لیے
مخصوص نہیں بلکہ تمام مسلمانوں کے لیے مسنون ہے۔

3. تکبیرات کی اقسام: علماء نے ان تکبیرات کو دو حصوں میں تقسیم کیا ہے:

- تکبیراتِ مطلقہ: یہ ذوالحجہ کا چاند نظر آنے سے لے کر 13 ذوالحجہ کی شام تک کسی
بھی وقت (گھر، بازار اور چلتے پھرتے) پڑھی جا سکتی ہیں۔
- تکبیراتِ مقیدہ (تکبیراتِ تشریق): یہ 9 ذوالحجہ کی فجر سے 13 ذوالحجہ کی عصر تک
ہر فرض نماز کے بعد پڑھی جاتی ہیں۔ یہ عمل حضرت علیؓ اور حضرت عبداللہ بن
مسعودؓ جیسے جلیل القدر صحابہ سے بھی ثابت ہے۔

4. تکبیرات کا عمومی دائرہ کار:

- خواتین کی شرکت: احادیث میں عید کے موقع پر پردہ نشین اور حیض والی خواتین کو
بھی عید گاہ جانے اور تکبیرات و دعاؤں میں شرکت کرنے کا حکم دیا گیا ہے، جو
اس بات کی دلیل ہے کہ یہ ذکر تمام مسلمانوں کے لیے یکساں مشروع ہے۔
- قرآنی دلیل: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿وَاذْكُرُوا اللَّهَ فِي أَيَّامٍ
مَّعْدُودَاتٍ﴾ (البقرۃ: 203)۔ مفسرین کے نزدیک اس آیت میں "ایامِ
معدودات" سے مراد ایامِ تشریق ہیں، جن میں تکبیراتِ تشریق پڑھنا ایک اہم
عبادت ہے۔

خلاصہ: عشرۂ ذوالحجہ میں تکبیر و تہلیل کا اہتمام کرنا، بالخصوص بازاروں اور عوامی
مقامات پر اسے بلند آواز سے پڑھنا، سنتِ صحابہ اور نبی کریم ﷺ کی تعلیمات کا حصہ
ہے۔ یہ عمل نہ صرف اللہ کے نزدیک محبوب ہے بلکہ ایک مسلمان کے لیے ان مبارک ایام
میں اپنی ایمانی کیفیت کو بلند کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔

حوالہ جات برائے مطالعہ:

1. صحیح بخاری، کتاب العیدین: (صحابہ کرامؓ کے بازاروں میں تکبیرات کہنے کا عمل)۔
2. مسند احمد / سلسلہ احادیث صحیحہ: (حدیث نمبر 2435، عشرۂ ذوالحجہ میں ذکر کی
فضیلت)۔
3. ارواء الغلیل (جلد 3، حدیث نمبر 650): (تکبیرات کی سند اور نوعیت)۔
4. جمع الفوائد: (مختلف روایات برائے تکبیراتِ تشریق)۔

13/04/2026

پاکستان بھر سےماہر ،کہنہ مشق،فنان، اہم ترین موضوعات پر قیمتی ترین محاضرات پیش فرمائیں گے۔
مشائخ کی لسٹ جلد شئیر کردی جائیگی۔
رجسٹریشن کروانے میں تاخیر نا کریں
تعداد پوری ہونے پہ رجسٹریشن بند کر دی جائیگی۔۔

Address

Sargodha Road
Hafizabad
52110

Telephone

03226525354

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Riyaad-Ul-Janah Masjid posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to Riyaad-Ul-Janah Masjid:

Shortcuts

Share

Category