13/06/2026
✍️مولانا ابوالحسن محمد یحییٰ ؒحافظ آبادی
❁ ══ ❁ وفات:03 فروری1972 ء❁══ ❁
علمائے اہلحدیث نے ہر دور میں قال اللہ وقال الرسول کی صدا بلند کرنے کیلئے جدوجہد کی۔ اپنا مال اور وقت اللہ کے راستے میں قربان کیا۔گھر بار اور علاقہ چھوڑا جہاں ضرورت ہوئی وہاں پہنچ کر دین کی دعوت دی۔کچھ شخصیات اپنی تگ و تاز، اخلاص اور محنت کی وجہ سے اپنے معاصرین میں نمایاں مقام کی حامل ہوئیں۔ ہر گل را رنگ و بوئے دیگر است۔انہی عبقری شخصیات میں ایک نمایاں نام مولانا ابوالحسن محمد یحییٰ حافظ آبادی رحمۃ اللّٰہ علیہ بھی ہے۔
🌿ولادت :
آپ مشرقی پنجاب،تحصیل ترن تارن ضلع امرتسر کے گاؤں باقی پور میں پیدا ہوئے۔ آپ کے سن ولادت اور ابتدائی حالات و تعلیم کا صحیح علم نہیں ہوسکا۔
🌿دینی تعلیم:
آپ نے درس نظامی کی تعلیم جامع المعقول والمنقول مولانا محمد عبداللہ ویرووالوی رحمۃ اللّٰہ علیہ سے ان کے قائم کردہ مدرسہ شمسیہ عربیہ ویرووال افغاناں ضلع امرتسر میں حاصل کی۔ یہ مدرسہ 1941ءسے ملکی تقسیم 1947ء تک جاری رہا۔مولانا عبداللّٰہ کے تلامذہ میں مولانا یحییٰ صاحب کے علاوہ مولانا حکیم محمد ابراہیم حافظ آبادی،مولانا حکیم عبدالرحیم اشرف فیصل آباد، پروفیسر غلام احمد حریری فیصل آباد، مولانا محمد داؤد انور فاروق آباد، مولانا حکیم غلام اللہ فیصل آباد، مولانا عبدالقیوم آف مڑھ بلوچاں، مولانا حکیم محمد حنیف منڈی صفدر آباد اور مولانا حافظ محمد ابراہیم کمیر پوری قابل ذکر ہیں۔شاید ان میں سے بعض مولانا یحییٰ صاحب کے ہم سبق بھی ہوں۔
ںاقی پور اہلحدیث کا ایک تاریخی گاؤں تھا اسی گاؤں سے مولانا حافظ ابراہیم باقی پوری تھے جو شیخ الحدیث مولانا محمد عبداللہ ویرووالوی کے اساتذہ میں سے تھے۔
🌿تحریک پاکستان میں کردار:
برصغیر میں تحریکِ پاکستان کے دوران مولانا محمد یحییٰؒ نے اہلِ حدیث علماء اور کارکنان کے شانہ بشانہ مسلمانانِ ہند کے سیاسی اور ملی حقوق کے لیے سرگرم کردار ادا کیا۔ آپ ان علماء میں شامل تھے جنہوں نے قیامِ پاکستان کے مقصد کو عام مسلمانوں تک پہنچانے اور ان میں سیاسی شعور بیدار کرنے کے لیے قابلِ قدر خدمات انجام دیں۔
مولانا محمد امین محمدی لکھتے ہیں:
"مولانا محمد یحییٰ باقی پوری ثم حافظ آبادی رحمہ اللہ بہت کامیاب مبلغ اور خطیب تھے۔ پنجاب بھر میں ان کی خطابت کا طوطی بولتا تھا۔ قیامِ پاکستان کے سلسلہ میں مولانا محمد یحییٰ اور ان کے چچا مولانا حافظ محمد ابراہیم باقی پوری اور مولانا حکیم محمد ابراہیم ویروالوی کی خدمات کا دائرہ بے حد وسیع ہے۔ ان کے استاذ محترم فضیلۃ الشیخ حضرت مولانا محمد عبداللہ محدث امرتسری مدظلہ بھی قیامِ پاکستان اور تحریکِ پاکستان کے زبردست حامی تھے لیکن ان کی سیاست عملی سے زیادہ نظری تھی"۔
(سیاسیات برصغیر میں اہل حدیث کا حصہ، ص ۷۵-۷۷)
🌿قیامِ پاکستان کے بعد:
ملکی تقسیم پر ہجرت کر کے حافظ آباد میں قیام پذیر ہوئے۔ حافظ آباد میں اس سے پہلے 1922ء میں مولانا علم دین رحمۃ اللہ علیہ فاضل دارالحدیث دہلی (وِنّی والے) اپنے رفقاء کے ساتھ مسجد اہلحدیث تعمیر کر چکے تھے اور 1942ء میں اپنی وفات تک وہاں امام و خطیب رہے۔پاکستان بننے کے بعد مولانا علم دین کے ساتھی میاں احمد دین( حاجی محمد یوسف اور حاجی محمد علی یوسف سوپ فیکٹری والوں کے والد) نے اسی مسجد کے قریب مکان الاٹ کرا دیا اور مولانا محمد یحییٰ کو اس مسجد میں امام و خطیب تعینات کیا گیا۔
ضلع امرتسر کے ہی مختلف دیہاتوں سے کتنے خاندان حافظ آباد آئے،اور جماعتی قوت میں اضافہ ہوا۔ویرووال سے حکیم محمد ابراہیم صاحب، رعیہ سے میاں فضل حق، باقی پورہ سے مولانا یحییٰ صاحب، پٹی سے مولانا حکیم محمد بشیر، چولہا سے مولوی عبدالحق(قاری زبیر قاسمی کے دادا)، اسی طرح دیگر احباب کی آمد سے رونق لگ گئی۔جس حافظ آباد میں مسجد بنانے میں مشکلات کھڑی کی گئی تھیں، اسی شہر میں توحید و سنت کے کئی مراکز بنے۔
سب سے پہلے مین بازار میں دو بڑے مندر تھے جن میں ایک مندر مغل بادشاہ اکبر کا بنا کردہ تھا۔مولانا یحییٰ اور حکیم محمد ابراہیم صاحب نے نوجوانوں کو جمع کرکے ان مندروں کو مسمار کرکے ان کا ملبہ راتوں رات دور پھینک دیا۔پہلی ضرب حکیم صاحب نے خود لگائی اور اس جگہ نمازِ فجر ادا کرکے جامع مسجد قدس اہلحدیث اور مدرسہ کی بنیاد رکھی۔
مسجد قدس اہل حدیث کے تھوڑے ہی عرصہ بعد مدرسہ رحمانیہ دہلی کے فارغ مولانا صوفی خدا بخش انصاری، حاجی اللّٰہ بخش، حاجی غلام محمد بھنڈر اور دیگر رفقائے کرام نے جلال پور روڈ کے جنوب میں برلب سڑک وسیع جگہ پر جامع مسجد مبارک اہلحدیث کی بنیاد رکھی۔ الحاج میاں فضل حق، مولانا حکیم محمد ابراہیم، مولانا محمد یحیٰی اور دیگر احباب جماعت نے باہمی مشاورت سے اسی جامعہ مسجد کے وسیع میدان میں مسجد مدرسہ دارالحدیث محمدیہ کی بنیاد رکھی اس مدرسہ کے پہلے استاد و مدرس فضیلۃ الشیخ مولانا فضل الرحمن کلیم کاشمیری اور پہلے مہتمم مولانا عبدالرحمٰن قصوری (ریٹائرڈ تھانیدار)تھے۔ ان کے بعد تاحیات مولانا ابو الحسن محمد یحیٰی مدیر اور مہتمم رہے۔
🌿 ذاتی خصائل:
مولانا نہایت خوش اخلاق، خوش مزاج، بھاری جسم، دراز قد، خوبصورت چہرہ اور خوش الحان خطیب تھے۔ آپ کے والد مولانا امیر دین نہایت بیباک،صاف گو مقرر اور چلتے پھرتے مبلغ تھے۔ منکرات کا رد بڑے شدید دلائل کے ساتھ کرتے۔
🌿خطابت:
مولانا محمد یحییٰ اسی پرانی مسجد (مولانا علم دین والی) میں خطیب رہے۔اس کے ساتھ آپ کو شہر کی مرکزی عیدگاہ میں عیدین کی امامت وخطابت کا اعزاز بھی حاصل رہا۔
ختم نبوت اور تحریک نظام مصطفیٰ کے دوران اس مسجد کو مرکزی حیثیت حاصل رہی۔مولانا نے 1953ء میں ختم نبوت کی تحریک میں قادیانیوں کے خلاف تقریریں کیں۔ مسجد وزیر خان لاہور میں بیٹھ کر تحریک کی قیادت کرتے رہے جس کے نتیجے میں آپ کو گرفتار کر لیا گیا۔ ملتان جیل میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرتے رہے۔ آپ کے زمانہ جیل کے دوران نماز تراویح کی سعادت قاری محمد اسماعیل اسد کو حاصل ہوئی۔سرکاری پڑاؤ کی یہ مسجد اب جامع مسجد مولانا یحییٰ صاحب والی کے نام سے مشہور ہے۔آپ کی وفات کے بعد مولانا نصراللّٰہ خان بھٹی،اور مولانا زبیر احمد ظہیر خطیب رہے۔
حافظ عبدالاعلی درانی لکھتے ہیں:
"مولانا محترم مرحوم و مغفور بڑے اونچے لمبے وجیہہ خوبصورت موٹی موٹی آنکھوں والے اور میٹھے میٹھے بول اور مترنم قرآن پڑھنے والے تھے ۔ جب نبی پاک کا نام لیتے تھے تو بڑے ٹھہراؤ اور پیار کے ساتھ ۔ پھر بڑے ٹھہراؤ سے صلی اللہ علیہ وسلم کہتے تھے ۔ اس روز جلسے کی تقریر کا ایک جملہ مجھے ا ھی تک یاد ہے کہ ایک دفعہ درود پڑھنے سے شیطان کئی میل بھاگتا ہے اور جھوٹ بولنے سے وہ قریب آجاتا ہے اور ہم تو سارا دن اس کو پریکٹس ہی کراتے رہتے ہیں"۔
بابائے تبلیغ مولانا محمد عبداللہ گورداسپوری (رحمۃ اللّٰہ علیہ) نے آپ کی وفات پر لکھا:
"ملکی تقسیم کے بعد جماعت اہل حدیث پنجاب کے معروف اور بہترین و موثر خطیب حضرت مولانا محمد یحییٰ باقی پوری حافظ آباد ضلع گجرانوالہ آ کر قیام پذیر ہوئے۔ اپنے سلف صالحین کی طرح ایسے قیام پذیر ہوئے کہ حافظ آبادی بن گئے۔ حضرت مولانا محمد یحیی آج سے تقریبا 15 سال بیشتر پورے ملک میں اپنے گونج و گرجدار آواز سے دینِ حقہ کی تبلیغ کرتے ہوئے اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ وعدہ کے پابند، اسٹیجوں کی زینت، محفلوں کی رونق تھے جن لوگوں نے مولانا یحیی رحمۃ اللہ علیہ کو سنا اور دیکھا ہے وہ میری اس بات کی ضرور تصدیق کریں گے۔
مولانا یحییٰ اور حکیم ابراہیم صاحب جماعت کے مرکزی اجتماعات مثلاً جمعیت اہل حدیث پاکستان کی سالانہ کانفرنسیں، جامعہ سلفیہ، ماموں کانجن سیالکوٹ, لاہور, سرگودھا، جامعہ رحمانیہ فاروق آباد باقاعدگی سے تشریف لے جاتے۔ ان دونوں کی طرہ دار پگڑیوں کا ایک امتیازی مقام تھا"
(ہفت روزہ اہل حدیث لاہور دسمبر 1990ء،حافظ عبدالرزاق سعیدی رح حیات، خدمات، آثار مرتبہ مناظر اسلام حافظ فاروق الرحمن یزدانی حفظہ اللّٰہ صفحہ 57-62 ملخصاً)۔
"تاریخ حافظ آباد" کے مصنف عزیز علی شیخ لکھتے ہیں: "مولانا محمد یحییٰ مرحوم کا شمار ان بزرگوں میں ہوتا ہے جو 1947ء میں قیام پاکستان کے وقت مشرقی پنجاب بھارت سے ہجرت کر کے وارد حافظ آباد ہوئے۔نہایت ہردل عزیز،مخلص،ہمدرد انسان تھے، بڑے وضعدار،خوش الحان خطیب اور مقرر تھے۔ عالم جوانی میں ہی تبلیغی اور سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینا شروع کر دیا۔تحریک پاکستان کے دوران انہوں نے مسلم لیگی رہنماؤں کے ساتھ مل کر ضلع امرتسر گورداسپور میں قائد اعظم کا پیغام عامۃ المسلمین میں پہنچایا اور اپنی ولولہ انگیز تقاریر سے باطل کے ایوانوں میں زلزلہ پیدا کیے رکھا"
(تاریخ حافظ آباد از عزیز علی شیخ صفحہ:323)
آپ بڑے بڑے اجتماعات کے مرکزی خطباء میں شامل تھے۔خوش الحانی سے وعظ کرتے۔آپکی خوبی تھی کہ موقع کی مناسبت سے تقریر کرتے،وقت کم ہوتا تو بلا تمہید نفس مضمون سے اڑان بھرتے اور مضمون کا حق ادا کر دیتے۔توحید باری تعالیٰ، شان رسالت،اصلاح معاشرہ، آپکے پسندیدہ موضوعات تھے۔ تقریر پنجابی میں کرتے اور معاشرے میں پائی جانے والی خرابیوں پر خوب روشنی ڈالتے۔دوران خطاب نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا اسم گرامی"محمد" بڑے پیار،وقار،ٹھہراؤ اور بلند آواز سے لیتے اور درود پڑھتے۔
والد محترم رحمۃ اللّٰہ علیہ چونکہ 1960ء تک دارالحدیث محمدیہ حافظ آباد میں پڑھتے رہے، ایک واقعہ سنایا کرتے تھے کہ "محرم کے کسی جمعہ یا خطبہ میں ہمارے استاد مولانا ابو الحسن محمد یحیٰی حافظ آبادی رحمۃ اللّٰہ علیہ یہ قصہ پڑھا کرتے تھے" کہ امام جعفر صادق نے اپنے والد امام باقر سے پوچھا کہ آپ اکثر پریشان اور آزردہ دکھائی دیتے ہیں، تو انہوں نے جواب دیا:
گفت باقر او پسر گم کرده را
گفت من بر تو شناسم درد را
غم ما کمتر از یعقوب نیست
او پسر گم کرده، من پدر گم کردهام
ترجمہ:
کہا باقر نے، اے وہ جس نے بیٹے کو کھو دیا ہے،
کہا میں تمہارے درد کو پہچانتا ہوں۔
ہمارا غم یعقوب علیہ السلام سے کم نہیں،
اس نے بیٹے کو کھویا، اور میں نے باپ کو کھو دیا ہے۔
اس کے ساتھ ایک لطیفہ بھی سناتے کہ مولانا حکیم محمد ابراہیم حافظ آبادی رحمۃ اللہ علیہ بڑے خوش طبع بزرگ تھے۔ انہوں نے کسی بزرگ سے پوچھا کہ آج جمعہ کہاں پڑھا؟. اس نے جواب دیا کہ مولانا یحیٰی صاحب کے پیچھے تو مسکرا کر کہا "پھر اونہے گفت باقر پڑھیا کہ نہیں"۔۔۔۔۔ اب یہ سب بزرگ اللّٰہ کے پاس جا چکے۔۔۔۔مولانا حافظ آباد میونسپل کمیٹی میں ایک عرصہ تک کونسلر میونسپل کمشنر کے فرائض ادا کرنے کے ساتھ ساتھ سماجی،دینی،سیاسی اور تبلیغی سرگرمیوں میں بھرپور حصہ لیتے رہے۔انتظامی اداروں میں آپکو عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا۔جماعتی احباب کے چھوٹے موٹے سرکاری معاملات میں تعاون کرتے۔مناظر اسلام مولانا قاضی عبدالرشید ارشد رحمه اللّٰہ نے بتایا کہ:
"جب مرزائیوں کے خلاف تحریک کے دوران مولانا عبدالعلیم سعیدی گرفتار ہوگئے تو میں اور مولانا عبدالستار صاحب حافظ آباد میں مولانا محمد یحیٰی حافظ آبادی کے پاس گئے کیونکہ وہ بلدیہ کے صدر تھے تھانے کچہری میں ان کا ایک مقام تھا اس وقت ہمارا تھانہ قلعہ دیدار سنگھ میں تھا۔مولانا سے وہاں فون کروایا ہمارے گاؤں پہنچنے سے پہلے مولانا عبدالعلیم گھر پہنچ چکے تھے"۔
وہ جو لوگ اہلِ کمال تھے وہ کہاں گئے
وہ جو آپ اپنی مثال تھے وہ کہاں گئے
🌿وفات:
آپ نے 03 فروری 1972ء کو وفات پائی۔ آپ کی نماز جنازہ مولانا حافظ محمد یوسف گکھڑوی رحمۃ اللّٰہ علیہ نے پڑھائی۔مسجد اہل حدیث کے سامنے سرکاری پڑاؤ میں آپ کی نماز جنازہ پڑھنے کے لیے سارا شہر امڈ آیا۔علماء کرام کی کثیر تعداد نماز جنازہ میں شریف ہوئی ہزاروں سوگواروں کی موجودگی میں آپ کو قبرستان گڑھی اعوان میں سپردِ خاک کیا گیا۔
آپ کے چھوٹے بھائی شیخ امان اللہ صاحب حافظ آباد کی مشہور سیاسی و سماجی شخصیت تھے اور میونسپل کمیٹی حافظ آباد کے چیئرمین بھی رہے۔
اللھم اغفرلہ وارحمہ وارفع درجته فی المھدیین آمین۔
🖋️ عبـــدالرحمٰـــن سعیـــدی 30جنوبی سرگودھا
نائب ناظم طبع و تالیف مرکزیہ شمالی پنجاب۔
(12-06-2026)