17/05/2026
عشرۂ ذوالحجہ میں تکبیراتِ تشریق کی فضیلت اور مسنونیت
عشرۂ ذوالحجہ (ذوالحجہ کے ابتدائی دس دن) اللہ تعالیٰ کے نزدیک سال کے بہترین ایام
ہیں۔ ان دنوں میں حاجیوں کے علاوہ عام مسلمانوں کے لیے بھی کثرت سے تکبیرات پڑھنا
سنتِ نبوی اور آثارِ صحابہ سے ثابت ہے۔ اس حوالے سے مستند نکات درج ذیل ہیں:
1. نبوی حکم اور فضیلت: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "اللہ تعالیٰ کے نزدیک عشرۂ ذوالحجہ
کے ان دس دنوں میں کیے جانے والے نیک اعمال سے زیادہ پسندیدہ اور کوئی عمل نہیں، پس
تم ان دنوں میں کثرت سے تہلیل (لا الہ الا اللہ)، تکبیر (اللہ اکبر) اور تحمید
(الحمد للہ) کہا کرو" (مسند احمد؛ سلسلہ احادیث صحیحہ، حدیث 2435)۔
2. صحابہ کرامؓ کا منہج (عملی اسوہ): صحیح بخاری میں معلقاً مروی ہے کہ حضرت
عبداللہ بن عمرؓ اور حضرت ابو ہریرہؓ ذوالحجہ کے ان دس دنوں میں بازاروں میں
نکلتے اور بلند آواز سے تکبیریں کہتے تھے۔ ان کے اس عمل سے لوگ متوجہ ہوتے اور خود
بھی تکبیرات پڑھنا شروع کر دیتے تھے۔ یہ "بھولی ہوئی سنت" کو زندہ کرنے کا ایک
عملی طریقہ تھا، جو اس بات کی واضح دلیل ہے کہ یہ عمل صرف حج کرنے والوں کے لیے
مخصوص نہیں بلکہ تمام مسلمانوں کے لیے مسنون ہے۔
3. تکبیرات کی اقسام: علماء نے ان تکبیرات کو دو حصوں میں تقسیم کیا ہے:
- تکبیراتِ مطلقہ: یہ ذوالحجہ کا چاند نظر آنے سے لے کر 13 ذوالحجہ کی شام تک کسی
بھی وقت (گھر، بازار اور چلتے پھرتے) پڑھی جا سکتی ہیں۔
- تکبیراتِ مقیدہ (تکبیراتِ تشریق): یہ 9 ذوالحجہ کی فجر سے 13 ذوالحجہ کی عصر تک
ہر فرض نماز کے بعد پڑھی جاتی ہیں۔ یہ عمل حضرت علیؓ اور حضرت عبداللہ بن
مسعودؓ جیسے جلیل القدر صحابہ سے بھی ثابت ہے۔
4. تکبیرات کا عمومی دائرہ کار:
- خواتین کی شرکت: احادیث میں عید کے موقع پر پردہ نشین اور حیض والی خواتین کو
بھی عید گاہ جانے اور تکبیرات و دعاؤں میں شرکت کرنے کا حکم دیا گیا ہے، جو
اس بات کی دلیل ہے کہ یہ ذکر تمام مسلمانوں کے لیے یکساں مشروع ہے۔
- قرآنی دلیل: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿وَاذْكُرُوا اللَّهَ فِي أَيَّامٍ
مَّعْدُودَاتٍ﴾ (البقرۃ: 203)۔ مفسرین کے نزدیک اس آیت میں "ایامِ
معدودات" سے مراد ایامِ تشریق ہیں، جن میں تکبیراتِ تشریق پڑھنا ایک اہم
عبادت ہے۔
خلاصہ: عشرۂ ذوالحجہ میں تکبیر و تہلیل کا اہتمام کرنا، بالخصوص بازاروں اور عوامی
مقامات پر اسے بلند آواز سے پڑھنا، سنتِ صحابہ اور نبی کریم ﷺ کی تعلیمات کا حصہ
ہے۔ یہ عمل نہ صرف اللہ کے نزدیک محبوب ہے بلکہ ایک مسلمان کے لیے ان مبارک ایام
میں اپنی ایمانی کیفیت کو بلند کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔
حوالہ جات برائے مطالعہ:
1. صحیح بخاری، کتاب العیدین: (صحابہ کرامؓ کے بازاروں میں تکبیرات کہنے کا عمل)۔
2. مسند احمد / سلسلہ احادیث صحیحہ: (حدیث نمبر 2435، عشرۂ ذوالحجہ میں ذکر کی
فضیلت)۔
3. ارواء الغلیل (جلد 3، حدیث نمبر 650): (تکبیرات کی سند اور نوعیت)۔
4. جمع الفوائد: (مختلف روایات برائے تکبیراتِ تشریق)۔
27/04/2026
13/04/2026
06/04/2026
06/04/2026
28/03/2026