26/09/2026
ان سے ملئے۔۔۔!
انکا نام مزمل ولد یوسف ہے۔
سال 2004 مئی یا اپریل کا مہینہ تھا ۔ گھر بہن بھائی میلے میں جارہے تھے۔ مزل کو پہلے لیجانے کا آسرا دیا گیا تھا لیکن عین جانے وقت میں ماں نے کہا بیٹا تمہیں اگلی بار لے چلیں گے۔ تم چھوٹے ہو کہیں میلے میں گم نا ہوجاو۔ اچانک امید ٹوٹنے پر مزمل نے ضد کی اور بہن بھائی کے جانے کے بعد خود سے میلے کے لئے نکل گیا۔ اپنے گھر سے کہیں دور نکل گیا نہ میلا ملا اور نا گھر۔۔۔ واپسی کا راستہ معلوم نہیں تھا۔ ایک فیملی نے مزمل کو اپنے پاس رکھا۔ آج تک مزمل انکے پاس ہے۔
ان دنوں مزمل نے اپنے متعلق بتایا تھا کہ اسکے والد کا نام یوسف ہے اور والدہ کا نام سرداراں/سردارہ ہے۔
چار بھائی تھے نام عمران ، بوٹا ۔ ایک حمزہ فوت ہوا تھا۔
ایک بہن تھی کرن نام تھا۔ ابو کھیتی باڑی کرتے تھے۔
علاقے کے بارے میں بس اتنا بتایا تھا کہ "مانکا چک" سے آیا ہوں۔
گھر ایک قصبے ٹائپ جگہ میں تھی۔ گھر کے پاس شہر میں مسجد تھی شیشے لگے تھے چمکدار مسجد تھی۔شہر کا نام یاد نہیں ہے۔
دو نہریں بھی گھر سے کچھ فاصلے پر تھیں۔ ایک نہر چھوٹی اور ایک بڑی ۔علاقے میں ایک شخص کو حاجی کہتے تھے والد اسکے پاس کام کرتا تھا۔
مزل ابھی نوجوان ہے ۔ وہ اپنے خاندان کی تلاش میں ہے۔ بچپن میں اٹھانے والے قدم پر پشیماں ہے۔
مزمل کے والدین پر کیا قیامت گزری ہوگی اسکا اندازہ ہر صاحب دل و دماغ کو ہوگیا ہوگا۔
برائے مہربانی اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شئیر کریں۔آپکا ایک شئیر مزمل کو اسکے گھر پہنچانے کا سبب بن سکتا ہے۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں
+923162529829
26 sept 2026
@