07/08/2026
اگر میٹرک میں 20 فیصد بچے بمشکل پاس ہوں، تو سوال صرف یہ نہیں ہونا چاہیے کہ قصور کس کا ہے۔۔۔ سوال یہ ہونا چاہیے کہ ہم نے بنیاد کہاں کمزور چھوڑی؟
اس سال سینی گمبت کے میٹرک نتائج نے ایک اہم سوال ہمارے سامنے کھڑا کیا ہے۔
تقریباً 20 فیصد طلبہ بمشکل میٹرک پاس کر سکے۔
عام طور پر ایسے نتائج کے بعد انگلی دسویں جماعت کے طالب علم، اس کے اساتذہ یا امتحانی تیاری کی طرف اٹھتی ہے۔
لیکن ذرا ایک قدم پیچھے ہٹ کر سوچیں۔
کیا ایک بچہ دسویں جماعت میں پہنچ کر اچانک کمزور طالب علم بن جاتا ہے؟
یقیناً نہیں۔
اگر ایک بچہ برسوں سے کتاب پڑھنے میں دلچسپی نہیں رکھتا، پڑھ کر سمجھنے کی صلاحیت کمزور ہے، اپنے خیالات کو تحریر میں بیان نہیں کر سکتا، اس کی لکھائی درست نہیں، اسے وقت کی پابندی کی عادت نہیں، وہ مسلسل موبائل اسکرین کا عادی ہے اور چند منٹ بھی یکسوئی سے نہیں بیٹھ سکتا، تو پھر ہم دسویں جماعت میں پہنچ کر اس سے بہترین نتائج کی توقع کیسے کر سکتے ہیں؟
مسئلہ شاید دسویں جماعت میں نہیں۔
مسئلہ اس سے بہت پہلے شروع ہو چکا ہوتا ہے۔
اصل جنگ میٹرک میں نہیں، پرائمری میں لڑی جاتی ہے۔
بدقسمتی سے ہمارے ہاں پرائمری تعلیم کو اکثر تعلیم کا نسبتاً آسان مرحلہ سمجھا جاتا ہے۔
حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ:
پرائمری جماعتیں بچے کی پوری تعلیمی زندگی کی بنیاد ہوتی ہیں۔
یہی وہ عمر ہے جب بچے میں یہ طے ہونا شروع ہوتا ہے کہ وہ کتاب سے محبت کرے گا یا اس سے بھاگے گا۔
یہی وہ عمر ہے جب وہ سیکھتا ہے کہ پڑھنا صرف الفاظ بولنے کا نام نہیں بلکہ سمجھنے کا نام ہے۔
یہی وہ عمر ہے جب اس کی لکھائی، توجہ، نظم و ضبط، عادات اور سیکھنے کا انداز تشکیل پاتا ہے۔
اسی لیے Leading Public School میں ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم صرف میٹرک کے نتیجے کا انتظار نہیں کریں گے۔
ہم نتیجہ بنانے والی بنیاد پر کام کریں گے۔
---
ہم بچے کو صرف کتاب نہیں دیتے، کتاب سے تعلق بناتے ہیں۔
ہماری پہلی ترجیح ہے کہ بچے میں مطالعے کا شوق پیدا ہو۔
ہم چاہتے ہیں کہ بچہ کتاب اس لیے نہ کھولے کہ کل امتحان ہے، بلکہ اس لیے کھولے کہ وہ کچھ جاننا چاہتا ہے۔
کیونکہ جو بچہ پڑھنے کا عادی ہو جاتا ہے، اس کے لیے آگے چل کر صرف ایک مضمون نہیں، پوری دنیا سیکھنے کے لیے کھل جاتی ہے۔
---
ہم صرف پڑھائی نہیں، سمجھنا چاہتے ہیں۔
ایک بچہ الفاظ پڑھ سکتا ہے، لیکن کیا وہ ان کا مطلب بھی سمجھتا ہے؟
یہ فرق معمولی نہیں۔
آگے چل کر یہی فرق طے کرتا ہے کہ بچہ سوال کو سمجھ کر جواب دے گا یا صرف رٹا ہوا مواد لکھے گا۔
اسی لیے ہم پڑھائی کے ساتھ اس پڑھائی کو سمجھنے پر بھی بھرپور توجہ دے رہے ہیں۔
ہم چاہتے ہیں کہ بچہ پڑھے، سمجھے، سوچے اور پھر اپنے الفاظ میں جواب دے۔
کیونکہ امتحان صرف یہ نہیں دیکھتا کہ آپ نے کیا پڑھا؛ وہ یہ بھی دیکھتا ہے کہ آپ نے کتنا سمجھا۔
---
لکھائی؟ ہم دسویں جماعت تک انتظار نہیں کرتے۔
اچھی لکھائی ایک دن میں نہیں بنتی۔
اسی لیے لکھائی کی تربیت نرسری سے شروع کی جاتی ہے۔
پنسل پکڑنے کا درست طریقہ، حروف کی درست تشکیل، الفاظ کے درمیان مناسب فاصلہ، صفائی، ترتیب اور لکھنے کی روانی—یہ سب بنیادی مہارتیں ابتدائی عمر ہی میں مضبوط کی جاتی ہیں۔
ہم نہیں چاہتے کہ بچے کے پاس علم تو ہو، مگر وہ اسے کاغذ پر مناسب انداز میں پیش نہ کر سکے۔
---
اور پھر آتا ہے نظم و ضبط۔
ہم بچوں کو یہ سمجھانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ کامیابی صرف ذہانت کا نام نہیں۔
کامیابی عادات کا نتیجہ بھی ہے۔
صحت مند خوراک، مناسب نیند، جسمانی سرگرمی، وقت کی پابندی، منظم ٹائم ٹیبل اور پڑھائی کے لیے مخصوص وقت—یہ سب تعلیم کا حصہ ہیں۔
اور ہاں، موبائل فون بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔
ہم بچوں سے یہ توقع نہیں کر سکتے کہ وہ گھنٹوں توجہ سے پڑھیں جبکہ ان کی زندگی کا ہر خالی لمحہ موبائل اسکرین سے بھرا ہوا ہو۔
بچے کو صرف سہولت نہیں، حدود بھی درکار ہوتی ہیں۔
ہر فارغ لمحہ موبائل کے نام کرنا تعلیم نہیں۔
---
اسی سوچ کے تحت ہم نے ایک اور اہم فیصلہ کیا ہے۔
نیا تعلیمی سیشن ستمبر سے شروع کیا جا رہا ہے۔
یہ صرف کیلنڈر تبدیل کرنے کا فیصلہ نہیں۔
ہم چاہتے ہیں کہ بچوں کو پورے تعلیمی سال میں زیادہ مسلسل اور مؤثر وقت پڑھائی کے لیے ملے۔
تعلیم چند ماہ کی ایسی دوڑ نہیں ہونی چاہیے جس کا مقصد صرف امتحان سے پہلے کورس ختم کرنا ہو۔
ہم چاہتے ہیں کہ پورا سال:
پڑھنے کا ہو،
سمجھنے کا ہو،
مشق کا ہو،
غلطیوں کو درست کرنے کا ہو،
اور اپنی صلاحیتیں بہتر بنانے کا ہو۔
کیونکہ بچے کو جلدی جلدی نصاب ختم کروا دینا اور اسے واقعی سکھا دینا، یہ دونوں ایک جیسی چیزیں نہیں ہیں۔
---
ہم میٹرک کے نتائج کا انتظار کیوں کریں؟
اگر ہمیں مستقبل میں بہتر میٹرک نتائج چاہیے تو ہمیں صرف دسویں جماعت پر کام نہیں کرنا ہوگا۔
ہمیں نرسری سے کام شروع کرنا ہوگا۔
ہمیں بچے کو صرف پاس نہیں کروانا۔
ہمیں اسے ایسا طالب علم بنانا ہے جو:
کتاب پڑھ سکے۔
پڑھی ہوئی بات سمجھ سکے۔
اپنے خیالات واضح انداز میں لکھ سکے۔
وقت کی پابندی کر سکے۔
خود مطالعہ کر سکے۔
موبائل کے بغیر بھی توجہ مرکوز کر سکے۔
صحت مند عادات اپنا سکے۔
اور سب سے بڑھ کر، سیکھنے کو اپنی زندگی کا حصہ بنا سکے۔
کیونکہ مضبوط طالب علم امتحان سے چند ماہ پہلے نہیں بنتا۔
وہ برسوں میں بنتا ہے۔
اور وہ برس پرائمری اسکول سے شروع ہوتے ہیں۔
---
اگر آپ اپنے بچے کے لیے صرف ایک اسکول نہیں، ایک مضبوط بنیاد چاہتے ہیں۔۔۔
تو یہ فیصلہ آج کریں۔
لیڈنگ پبلک سکول، سینی گمبٹ میں ستمبر سے نیا تعلیمی سیشن شروع ہو رہا ہے۔
داخلے جاری ہیں۔
بنیاد آج مضبوط کریں۔
طالب علم کل مضبوط ہوگا۔
اور مضبوط طالب علم کے نتائج خود بولیں گے۔