26/06/2025
Muhammad asif jarral
Chemistry Department Govt. Post Graduate College Mirpur
26/06/2025
تمام ممبران کو عید الفطر کی بہت بہت مبارک ہو ۔اللہ سبحانہ وتعالیٰ تمام ممبران کی عبادات قبول فرمائے ۔اللہ تعالیٰ ھم سب پر رحم فرمائے ۔آمین۔
سانحہ پنجاب کالج لاہور
چند معروضات ملاحظہ کریں ۔
ڈاکٹر محمد نعیم گھمن
میرا دل دکھی ہے اور طبعیت اداس ہے ۔گزشتہ دنوں پنجاب کالج گلبرگ میں احتجاج ہوا ۔جس کا دائرہ کار پورے پنجاب میں پھیل گیا ۔گرلز کالج سے شروع ہونے والا احتجاج تشدد میں بدلا اور پنجاب کالج کے مختلف کمپیس اس کی زد میں آئے ۔اس بات سے قطع نظر اس واقعہ میں صداقت کتنی ہے مگر مجھے کچھ معروضات پیش کرنی ہیں ۔عزیزان گرامی دل تھام کر پڑھیں کہ ایسا کیوں ہوا طالب علم اپنے کلاس رومز ،اساتذہ ،کالجوں کی عمارتوں اور اداروں پر ہی برس پڑے ۔اس کے نفسیاتی ،سماجی،اخلاقی اور معاشی پہلوؤں پر غور کر نے کی ضرورت ہے ۔وقتی طور پر یہ طوفاں تھم گیا مگر ایسی صورتحال ماضی میں دیکھنے کو نہیں ملی ۔ڈاکو ،چور اور آوارہ گرد طالب علم بھی اپنے ادارے کو دیکھ کر نظریں جھکا لیتے تھے ۔سائنس کے طلبا کو کیا ہوا کہ اتنے بگڑ بیٹھے ۔آئیے ٹھنڈے دل سے ان وجوہات کا جائزہ لیتے ہیں ۔
1 ۔واقعہ ہوا یا نہیں اس کو جس طریقے سے ہینڈل کیا گیا وہ چنداں درست نہیں تھا ۔سوشل میڈیا پہ خبر چلنے کے بعد اس کیمپس کے پرنسپل کو طلبا سے خطاب کر کے صورتحال واضح کرنی چاہیے تھی ۔اگر کوئی مجرم تھا یا نہیں اس معاملہ کی شفاف تحقیقات ہوتیں اور طلبا کو آگاہ کیا جاتا ۔بدقسمتی سے ایسا نہیں ہوا بلکہ پولیس بلا کر طلبا پر تشدد کروا کہ معاملہ الجھا دیا۔ طلبا مجبور ہوئے کہ کالجز کی انتظامیہ کو ٹف ٹائم دیں جو انہوں نے دے کر دکھایا۔ زمانہ بدل چکا آپ اب نوجوان نسل کو جبر کے ذریعے چپ نہیں کروا سکتے ۔حکمت اور تدبر سے بہتری لائی جا سکتی ہے ۔
2 ۔اصل وجہ یہ ہے کہ طالب اور استاد کے رشتے کا جنازہ پرائیوٹ اداروں نے نکال دیا ہے ۔طالب علم کسی استاد کے نام سے واقف نہیں وہ مضمون کے نام سے استاد کو یاد کرتا ہے ۔استاد کو معاشی جبر کی چکی میں پیس کر رکھ دیا ہے ۔اس کی تنخواہ جینے کی نقل اتارنے کے لیے بھی کافی نہیں ہے ۔پرائیوٹ اداروں نے استاد کی عزت اور تکریم کا بیڑا غرق کیا جس کا نتیجہ سب کے سامنے ہے ۔ایک کمپیس میں پڑھانے والے اساتذہ سے طلبا واقف تو کجا اکثر شکل بھی نہیں پہنچانتے ۔استاد کو مائنس کرنے کی وجہ سے یہ ہنگامہ زور پکڑا ورنہ ماضی میں ایسی صورتحال ہوتی تو اک استاد سامنے آجاتا تو طالب علم سر جھکا دیتے تھے ۔اس کی ہزاروں مثالیں موجود ہیں کہ بھپرے ،بگڑے طلبا استاد کے سامنے جھک جاتے تھے ۔پرائیوٹ ادارے اس چلن کو بدلیں ۔استاد کو عزت دیں ۔طلبا اور والدین کے سامنے استاد کی تذلیل نہ کریں ۔اپنے اداروں کی انتظامیہ اساتذہ ہی رکھیں ۔تعلیمی اداروں کا سربراہ استاد ہوتا ہے ۔یہ منیجر ٹائپ مخلوق ہوٹلوں میں اچھی لگتی ہے ۔خدا را استاد کا وقار بڑھاؤ ۔والدین کو شامل کر کے طلبا کی اخلاقی تربیت کا انتظام کرو ۔
2 ۔جب طالب علم آپ کا کسٹمر بن جائے اور آپ ایک فیکٹری کی طرز پر تعلیمی ادارے چلائیں تو پھر یہی نتیجہ نکلے گا ۔کسٹمرز کسی وقت بھی بھڑک سکتے ہیں ۔مقدس پیشے کو کاروبار بنانے والے ٹھنڈے دل سے سوچیں۔ اس عمل میں شام کی اکیڈمیز کے مالکان بھی شامل ہیں ۔
3 ۔جب پراپرٹی ڈیلر پورے پنجاب میں آپ کے کمپیس خریدیں گے اور بنائیں گے تو پھر آپ خیر کی توقع کدھر سے کریں گے ۔کاروباری آدمی کی نظر پیسے پر ہوتی ہے وہ انسانی قدروں کا خون کر کے مال جمع کرتا ہے ۔جب طالب علم کو یہ احساس ہو گا کہ ادارہ اس سے صرف و صرف مال کما رہا ہے تو یہی حالت ہو گی ۔اپ پرائیویٹ کالجز کوئی برانچ لینا چاہیں تو اس کے لیے کروڑوں روپے چاہیں یہ کوئی معزز استاد نہ دے سکے گا ۔جب کاروباری شخص برانچ خریدے گا تو وہ کاروبار ہی کرے گا ۔اس لیے اب رونے دھونے کا فائدہ نہیں ۔گاہکوں سے توقع کیوں کرتے ہو کہ وہ سادھو بن کر رہیں ۔آپ تو فیسوں کے نام پر سفید پوش طبقے کا خون نچوڑ رہے ہیں ۔طلبا کے ذہنوں پر اس کے برے اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔
4 ۔طالب علموں کی زندگی سے سیر و تفریح ،غیر نصابی سرگرمیاں ،کھیلیں ،بزم ادب ،ڈارمہ ،فن آرٹ اور کتاب نکال کر ان کو رٹے کی مشین بناؤ گے تو ایسا ہی ہو گا ۔ مظلوم طالب علموں کا کتھاریسز کیسے ہو گا ۔شخصیت سازی کیسے ہو گی ۔کردار سازی کون کرے گا ۔شخصی اوصاف کو کون نکھارے گا ۔
5 ۔بند اور تاریک کمروں میں جہاں تازہ ہوا نہ ہو ۔سورج کی روشنی نہ ہو ۔جہاں کوئل کی آواز نہ ہو ۔جہاں طوطا ،مینا اور بلبل نہ چہچائے ۔جس جگہ سبزہ نہ ہو ۔وہاں گھٹن اور تنگ نظری جنم لے گی ۔اس جگہ سے طالب علم کیونکہ محبت کرے گا ۔کشادہ ،کھلے ،ہوا دار اور سر سبز کمپیس بناؤ ۔کھیلوں کے میدان آباد کرو ۔
6 ۔تعلیم کو کاروبار نہ بناؤ ۔طالب علم کو کسٹمرنہ سمجھو ۔استاد کو عزت دو ۔اس کی مالی آسودگی کا خیال کرو ۔طالب علموں کو انسان سمجھو ۔ان کی تربیت کرو ۔استاد کو موقعہ دو وہ ان سے مکالمہ کرے ۔ان کے مسائل کا تجزیہ کرے ۔ان کے دکھ درد میں شریک ہو ۔طالب علموں کو اداروں سے جوڑ کر ہی بہتری لائی جا سکتی ہے ۔
7 ۔اساتذہ مشکل حالات میں بھی اپنا رویہ درست کریں ۔طالب علموں پر توجہ دیں ۔ان کی دلجوئی کریں ۔ان کے ساتھ شفقت اور محبت سے پیش آئیں تو نتائج بہتر نکلیں گے
یہ تو پرائیوٹ مالکان کا رویہ ہے جس کا ریکشن سامنے آیا ۔کاش طلبا پر امن احتجاج کرتے ۔گیٹوں کے سامنے تہذیب سے مظاہرے کرتے ۔اس کے نتائج بہتر نکلتے ۔اب ہمیں سوچنا ہو گا اس کا حل کیا ہے ۔پرائیوٹ اداروں کے مالکان ڈرو اس وقت سے کہ کہیں حالات مزید خراب نہ ہو جائیں۔اپنی سوچ بدلو ۔انداز بدلو ،طور بدلو ۔اس ملک کے مستقبل پر رحم کرو ۔استاد کو عزت دو ۔اس مظلوم پر دو چار پرسنٹ خرچ کرنے سے کوئی آفت نہیں ا جائے گی ۔طالب علموں کو اعتماد دو ۔فیسوں کو مناسب کرو ۔ایسی سرگرمیوں کو رواج دو جن سے طالب علم ادارے سے جڑ جائیں ۔کتاب ،فن اور آرٹ کو فروغ دو ۔
اگر گورنمنٹ اداروں کے اساتذہ نے بھی اپنی روش نہ بدلی تو حالات کا دھارا ان کی طرف بھی پلٹ سکتا ہے ۔
امید ہے میرے دوست میری ان معروضات کو مثبت انداز میں لیں گے بقول اقبال
بھری بزم میں راز کی بات کہہ دی
بڑا بے ادب ہوں سزا چاہتا ہوں
خدا متعال ہمارے احوال پر رحم کرے اور ہمارے تعلیمی ادارے آباد ہوں ۔کمرشل ازم سے حتی الوسع بچ رہیں اور طالب علموں سے محبت ،پیار اور الفت سے پیش آئیں۔ ان کو کسمٹر نہیں بلکہ طالب علم سمجھیں ۔ان کے دل جیتیں ۔
دنیا میں سب سے زیادہ بکنے والی چیز کیا ہے ؟
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Telephone
Website
Address
Jallalpur Jattan
Gujrat