Gujrat colleges

Gujrat colleges

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Gujrat colleges, Education, Opposit Model twon bhimer Road Gujrat, Gujrat.

20/06/2019
ASK News|مری ٹریپ کا آنکھوں دیکھا حال 19/01/2019

ASK News|مری ٹریپ کا آنکھوں دیکھا حال گجرات کالج عرصہ دراز سے سردیوں کے موسم میں ٹریپ لے کر جاتا ہے اس سال بھی اس روایت کو قائم رکھا ۲۰۰۸ سے پہلے کالج ٹریپ کے ساتھ جانے والے طلباء اللہ میاں کی گائیں جیسے لگ....

20/09/2018

"گجرات کالج اور طلباء ساتھ ساتھ"
سکول کالج میں اپنی تدریسی سرگرمیوں سے فارغ ہو کر اکثر طلباء کا اپنے اداروں سے رابطہ نہ ہونے کے برابر رہ جاتا ہے
نئے آنے والے طلباء کو ادارے ویلکم کرتے ہیں اور الوداع ہونے والوں کو ساتھ ہی بھلا دیا جاتا ہے
گجرات کالج اور طلباء کے درمیان تعلق دیگر سے مختلف ہے ۔ایک تو یہ جب سے گجرات کالج کا قیام عمل میں آیا ۔اس وقت سے لے کر آج ، تک طلباء کو پرنسپل تک رسائی میں کوئی رکاوٹ پیش نہیں آئی ۔کالج کی تاریخ شاھد ہے کہ پرنسپل آفس کے باہر کسی Peon کی ڈیوٹی نہیں لگائی ،تاکہ طلباء اپنے مسائل بلا جھجک پرنسپل کے سامنے پیش کر سکیں
طلباء اپنی تدریسی سرگرمیاں جب تک اداروں کے پاس جاری رکھتے ہیں تو ،مینجمنٹ ان کے ناز نخرے بھی برداشت کرتی ہے ۔کیونکہ طلباء ہی کالج کو پیسہ فیس کی شکل میں دینے کا سب سے بڑا ذریعہ ہوتے ہیں ۔جب ان کا سیشن مکمل ہوتا ہے ۔تو پھر بعد میں سٹوڈنٹس کو پہلے والا پروٹوکول نہیں ملتا۔
گجرات کالج کا اپنے سٹوڈنٹس کے ساتھ تعلق سیشن کی حد تک نہیں ،اور اس کی سب سے بڑی وجہ ،سٹوڈنٹس کی پڑھائی مکمل کرنے کے بعد بھی اپنے کالج سے نسبت، تعلق، مینجمنٹ اور اپنے اساتذہ اکرام سے محبت والفت ہے
اور اس بارے میں اللہ کے فضل سے سٹوڈنٹس کی رائے بھی مثبت ہے
ہم کسی اور اداروں کی بات نہیں کرتے کہ ادھر کے طلباء کیسے ہوتے ہیں،بات ہم اپنے
سٹوڈنٹس کی کرتے ہیں ۔کہ ہمارے طلباء کہیں جارہے ہوں یا کسی محفل میں بات کررئے ہوں ۔تو ان کو دیکھ کر اندازہ لگانے والے اندازہ لگا لیتے ہیں کہ یہ طلباء کسی اچھے ادارے میں پڑھ رہے ہیں ۔یا پڑھ کر آئے ہیں
گجرات کالج کا اصل سرمایہ ہمارے یہی
سٹوڈنٹس ہیں جو اس وقت مختلف ڈیپارٹمنٹ میں اپنے فرائض سر انجام دے رہے ہیں ۔جب کبھی کسی اولڈ سٹوڈنٹ سے ملاقات ہوتی ہے اور اس سے دریافت کیا جاتا ہے کہ آپ آج کل کیا کرتے ہو۔اور ہمارے استفسار پر بتایا جاتا ہے ، کہ سر میں فلاں ڈیپارٹمنٹ میں جاب کرتا ہوں یا بیرون ملک اس کمپنی میں سیٹلڈ ہوں ،تو سچ پوچھئے "دل کو بہت سکون ملتا ہے " اور حقیقت بھی ہے کہ والدین اور استاد دو ایسے رشتے ہیں ، ان سے کوئی آگے نکل جاہیں تو یہ دو رشتے خوش ہوتے ہیں۔جبکہ باقی رشتوں میں ان کے حوالے سے جلن اور حسد موجود ہوتا ہے
گجرات کالج نے سوشل میڈیا کے ذریعے طلباء کی ساتھ اپنے تعلق کو مستحکم کیا ۔طلباء نے اپنے مسائل و دیگر معلومات کے حوالے سے رابطہ کیا اور ان کی مکمل راہنمائی بھی کی گئی ۔ سوشل میڈیا سے جہاں مینجمنٹ کو سٹوڈنٹس کے ساتھ رابطے میں آسانی ہوئی ، وہاں طلباء کو اپنے سیشن فیلو سے ہیلو بائے کرنے کا موقع ملا ۔اور یوں گجرات کالج سٹوڈنٹس کے درمیان ایک "پل " کا کردار ادا کرنے لگا۔
گجرات کالج کو اپنے سٹوڈنٹس کے ساتھ الفت و پیار کا اظہار دیکھنا ہو ،تو کالج آ کر اس محبت کے رشتے کو دیکھا جا سکتا ہے ۔جہاں محنتی اور لائق سٹوڈنٹس کی بڑی بڑی تصاویر آویزاں کی گئی ہیں۔ تاکہ نئے آنے والے طلباء میں محنت کا جذبہ پیدا ہو۔
اسی پر بس نہیں ، بلکہ سوشل میڈیا پر اپنے طلباء کا تعارف پیش کیا گیا ۔اور اس کی سب سے بڑی وجہ طلباء کی حوصلہ افزائی کرنا مقصود تھا
سولہ سترہ سال پرانے طالب علم کو بھی یاد رکھنے کا اعزاز گجرات کالج کو ہی حاصل ہے ۔اور اس کی گواہی دینے والے اب بھی سینکڑوں سٹوڈنٹس موجود ہیں ۔کہ ان کو آج بھی یاد رکھا گیا اور ان شاءللہ یاد رکھاجائے گا ۔
جس طرح بیٹا کہیں بھی چلا جائے ، والدین کے ساتھ رشتہ ہمیشہ قائم رہتا ہے ۔اسی طرح گجرات کالج سے فارغ التخصیل طلباء کے ساتھ یہ تعلق والدین کی طرح ہمیشہ قائم ودائم رہے گا۔
ندیم گجرات کالج

30/01/2018

“ بیرون ملک پاکستانیوں کی حالت زار “

اس حقیقت کو ہر کوئی تسلیم کرتا ہے کہ ملکی معیشت میں بیرون ملک رہینے والے پاکستانیوں کا بہت بڑا کردار ہے ۔ لیکن ان سے کوئی پوچھے ، کہ اس کے بدلے حکومت وقت نے ان کو کون کون سی سہولیات دے رکھی ہیں ۔ پردیس میں رہتے ہوئے پاکستانیوں کے مسائل کے حل کے لئے ادھر کا پاکستانی سفارت خانہ کیا کردار ادا کر رہا ہے۔
دوسرا سوال یہ کہ ان کے سرمایہ سے فائدہ اٹھانے والی ریاست اس کے بدلے ان پردیسوں کو دے کیا رہی ہے۔
کیا پاکستانی ائرپورٹ پر ان کے ساتھ بہتر سلوک کیا جاتا ہے ؟۔ کسٹم کے عملہ سے لے کر امیگریشن عملہ تک بیرون ملک پاکستانیوں کی جیبوں پر نظر نہیں رکھی جاتی
لیکن جب بیرون ملک آنے اور جانے والے ان ہنرمند پاکستانیوں سے ، جب ان سہولیات کے متعلق پوچھا جاتا ہے تو ان کی زبان سے سوائے گلہ شکووں کے کچھ نہیں نکلتا ۔ ہر کوئی اپنے درد کی کہانی سناتا ہے ، کوئی بیرون ملک پاکستانی سفارت خانہ کی بدسلوکی کا تذکرہ کرتا ہے تو کوئی ائرپورٹ کے عملہ کی پاکستانی مسافروں کو بےجا تنگ کرنے کی داستان الم سناتے ہوئے نظر آتے ہیں
اسی پر بس نہیں ، رہی سہی کسر پاکستان میں بسنے والے “اپنے “ پوری کردیتے ہیں ۔ جن کا اپنا کوئی قریبی بیرون ملک ہوتا ہے تو اس کے حوالے سے یہ تصور کر کیا جاتا ہے کہ یقیناً وہ درختوں سے پیسے اتارتا ہے ‘ اور اس سے فرمائش کرتے ہوئے ہمیں ان بیچاروں مزدوروں ، جاب ہولڈرز کے اوپر ذرا ترس نہیں آتا کہ وہ کیسے اور کس طرح کمائی کرتے ہیں ۔ نید ان کی پوری نہیں ہوتی ، کام سے چھٹی نہ ہونے کے برابر ان کو ملتی ہے ، کوہلو کے بیل کی طرح ان سے بارہ بارہ گھنٹے کام لیا جاتا ہے ، ایک کمرہ میں دس دس افراد چارپائیوں کی منزلیں بنا کر آرام فرماتے ہیں ، مزدور طبقہ افراد کی حالت سب سے زیادہ قابل رحم ہے
عرب ممالک میں کام کرنے والے ہمارا پاکستانی مزدور طبقہ ۵۰ درجے سینٹی گریڈ پر بھی کام کرتا ہے ۔ کہ کیسے اور کسی طرح اپنے بچوں کی خوشیوں کو خریدا جا سکے ۔ اور ادھر اولاد اور رشتہ داروں کی فرمائشیں کم ہونے کا نام نہیں لیتی ۔ کہ ہمارے لئے یہ والا موبائل بھیجیں ، ہینڈ فری ایسا ہونا چاہیے ۔ میک اپ کیٹ فلاں برانڈ کی ہو ، گھر والی خرچے کی ایک لمبی تفصیل بتا دیتی ہے کہ اس دفعہ ائیر کنڈیشنر کا بل کافی زیادہ آگیا ہے ۔ فلاں رشتہ دار کی شادی سر پر ہے ،میں نے اپنے لئے ابھی تک کچھ بھی نہیں لیا اور نہ بچوں کے لئے کچھ خریدا ہے ۔اور بھائی میرے کی شادی ہے ۔ میں نے اسے دس ہزار کی سلامی بھی ضرور دینی ہے ، سب گھر والوں کے کپڑے بھی بنانے ہیں
جب اس کے سامنے یوں فرمائشیوں کی لمبی لائنیں لگتی ہیں ۔ تو اس بیچارے کا سر گھوم جاتا ہے ۔ کہ وہ اپنی تنخواہ میں کیسے ان کی خواہشات کو پورا کرے ، پھر کیا ہوتا ہے وہ بچاتا مزدور اضافی وقت لگاتا ہے کہ کسی طرح اپنے گھر والوں کی خوشیوں کا سامان خرید سکے ،کبھی کسی سے ادھار مانگ لیتا ہے اور کبھی اپنے باس سے ایڈوانس تنخواہ ، پھر کچھ عرصے بعد قرض کا بوجھ اس کو پریشان کرتا ہے ۔ زیادہ سوچنے لگ جاتا ہے کہ کیسے اور کس طرح اپنا اور اپنے گھر والوں کے اخراجات پورے کروں ۔کیسے قرض سے جان چھڑواں۔ پاکستان میں بسنے والی کی زندگی شہزادوں جیسی ہوتی ہے ۔موٹر سائیکل پاس موبائل پاس ، جیب میں پیسے ، پوچھا جائے کہ کیا کرتے ہو ، تو فخر یہ انداز میں بتاتا ہے کہ وڈا بھائی دوبئی ہوتا ہے
کوئی ان پردیسوں کے غم کو دیکھے ، کوئی ان کے دکھوں کی کہانی سنے، اکثر گھر والوں کو ان بے چارے مزدوری کرنے والے پردیسوں پر ترس بھی نہیں آتا ، جن کی عیدیں بھی کام کرتے ہوئے گزر جاتی ہیں ۔ بیمار ہو جائیں تو اپنا مہنگا علاج نہیں کروا سکتے
ان پردیسوں کے بہت دکھ ہیں ، ان کے بہت زیادہ مسئلے ہیں
ہماری حکومت یہ نعرے لگاتی ہے کہ بیرون ملک پاکستانیوں نے اس سال اتنا زرمبادلہ اپنے ملک بھیجا ۔ یہ آپ نہیں سنیں گئے کہ ان کہ بہتری کے لئے حکومت ان کو یہ یہ سہولیات بہم پہنچائی ہے ۔ ائرپورٹ پر ان سے جانوروں جیسا سلوک نہیں ہوگا ۔پردیس میں پاکستانی سفارت خانہ ان کے مسائل کے حل کے لئے ہر وقت مستعد رہےگا ۔ کیا ان اقدامات کی کوئی عملی شکل ہمیں کچھ نظر آتی ہے ؟
اور دوسری طرف گھر والوں کو بھی یہ آحساس ہونا چاہیے کہ مزدوری کرنے والا ہمارا والد ، بھائی ، بیٹا شوہر انسان ہے کوئی پیسہ کمانے والی مشین تو نہیں

ورنہ اللہ نہ کرے نئے مہینے کی آمد پر باہر سے پیسوں کی بجائے پیسہ کمانے والا بےجان جسم آپ خود اپنے ہاتھوں سے وصول کریں
اس سے پہلے
“ بہت زیادہ سوچنے کی ضرورت ہے”
ایڈمن سر ندیم

09/11/2017

فن نائٹ کی تاریخ میں تبدیلی
9 دسمبر (بروز ہفتہ)

Want your school to be the top-listed School/college in Gujrat?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Address


Opposit Model Twon Bhimer Road Gujrat
Gujrat