27/08/2026
حادثے کے بعد نہیں، حادثے سے پہلے اقدامات ضروری ہیں
پاکستان میں جب کوئی حادثہ، سانحہ یا المناک واقعہ پیش آتا ہے تو ہمارے میڈیا کی تمام تر توجہ کا رخ اسی طرف ہو جاتا ہے۔ گھنٹوں ٹاک شوز ہوتے ہیں، خصوصی نشریات چلتی ہیں اور مختلف پہلوؤں پر بحث کی جاتی ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ جن بنیادی وجوہات کے باعث ایسے افسوس ناک واقعات جنم لیتے ہیں، ان سے ہمارا پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پہلے ہی بخوبی آگاہ ہوتا ہے۔
مسئلہ صرف میڈیا تک محدود نہیں۔ ہماری حکومت اور متعلقہ ادارے بھی ان مسائل سے پوری طرح واقف ہیں۔ ان مسائل کے تدارک کے لیے قوانین بھی موجود ہیں، مگر شاید ہمارے قومی مزاج کا حصہ بن چکا ہے کہ حادثہ ہونے دیا جائے، جانی نقصان ہو جائے، پھر بھرپور اقدامات کا اعلان کیا جائے۔
مثال کے طور پر پاکستان میں سڑکوں پر چلنے والی گاڑیوں کی فٹنس، ڈرائیوروں کی باقاعدہ تربیت، لائسنس کے نظام اور ٹریفک قوانین پر عمل درآمد جیسے بنیادی مسائل آج بھی توجہ طلب ہیں۔ کتنے ڈرائیور ایسے ہیں جنہوں نے باقاعدہ کلاسز اور عملی تربیت حاصل کرنے کے بعد ڈرائیونگ لائسنس حاصل کیا ہے؟ اگر ان بنیادی معاملات پر مؤثر نگرانی اور قانون پر سختی سے عمل درآمد ہو تو بہت سے حادثات کو پہلے ہی روکا جا سکتا ہے۔
اس کے علاوہ ہمارے معاشرے میں ایسے بے شمار سلگتے ہوئے مسائل موجود ہیں جو عوام کی جان، مال اور عزت کے لیے مستقل خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ غیر قانونی اسلحہ، قبضہ گروپ، جعلی ادویات کا کاروبار، نابالغ بچوں کا گاڑیاں چلانا، تعلیمی اداروں کی کمزور عمارات، آبادی والے علاقوں میں فیکٹریوں اور کارخانوں کا قیام، ون ویلنگ، روزمرہ استعمال کی اشیا میں زہریلی ملاوٹ اور اس نوعیت کے درجنوں مسائل ہمارے سامنے موجود ہیں۔
ان مسائل کا حل صرف حادثے کے بعد چند دن کی کارروائی نہیں، بلکہ مستقل، مؤثر اور قابلِ عمل پالیسی اور اس پر بلاامتیاز عمل درآمد ہے۔
میڈیا کا کردار یہاں انتہائی اہم ہے۔ میڈیا کو چاہیے کہ وہ صرف کسی سانحے کے بعد متحرک ہونے کے بجائے گاہے بگاہے ان بنیادی مسائل کی نشاندہی کرے، عوام میں شعور بیدار کرے اور مختلف ٹاک شوز میں ان موضوعات پر سنجیدہ اور سیر حاصل بحث کروائے۔
ٹاک شوز میں سیاست دانوں کو بلا کر محض سیاسی بحث، الزام تراشی اور ’’تو تو، میں میں‘‘ کروانے کے بجائے ایسے ماہر، سنجیدہ اور قابلِ افراد کو سامنے لایا جائے جو مسائل کی نشاندہی کے ساتھ ساتھ ان کے قابلِ عمل حل بھی تجویز کر سکیں۔
یاد رکھنا چاہیے کہ ایک حادثے کے بعد شور مچانے سے بہتر ہے کہ حادثے کی وجوہات کو پہلے ہی ختم کر دیا جائے۔
اگر میڈیا، حکومت، متعلقہ ادارے اور عوام اپنی اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے پیشگی اقدامات پر توجہ دیں تو نہ صرف حادثات کی تعداد کم ہو سکتی ہے بلکہ ان کے نتیجے میں ہونے والے جانی و مالی نقصانات کو بھی بڑی حد تک روکا جا سکتا ہے۔
ہمیں حادثے کے بعد جاگنے والی قوم نہیں، حادثے سے پہلے حفاظتی اقدامات کرنے والی قوم بننے کی ضرورت ہے۔
سر ندیم