Naat khan syed Rizwan shah Mohammadi Saifi

Naat khan syed Rizwan shah Mohammadi Saifi

Share

Best Islamic Network Ever

13/06/2025

*شہادتِ حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ*
حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ تعالی عنہ کو 18ذی الحجہ 35ھ کو مدینہ منورہ میں 40 دن محاصرے کے بعد اس حال میں شہید کیا گیا کہ 40 دن تک آپؓ بھوک اور پیاس کی حالت میں رہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب حضرت عثمانؓ پر بلوائیوں نے تلوار چلائی تو اس وقت آپؓ قرآن پاک کی تلاوت کر رہے تھے اور آپؓ کے خون کا پہلا قطرہ قرآن پاک کی آیت فسیکفیکھم اللّٰہ …پر گرا۔ اس طرح قرآن اور حضرت عثمانؓ کا تعلق زندگی کی آخری سانسوں تک قائم رہا۔ حضرت جبیر بن مطعمؓ نے آپؓ کی نماز جنازہ پڑھائی اور جنت البقیع میں آپؓ کی تدفین ہوئی۔ آپؓ کو حضرت حسن بن علیؓ نے قبر مبارک میں اتارا..

12/06/2025

پریس ریلیز

لاہور: ( ) سربراہ کرین پارٹی جانشین امام العاشقین کی جانب سے وفاقی بجٹ برائے مالی سال 26-2025 کی کل پیش کردہ تجاویز کا گہرائی سے جائزہ لینے کے بعد شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ رپورٹس کے مطابق بجٹ میں سود اور قرض کی ادائیگی پر کل اخراجات کا تقریباً %46 حصہ خرچ ہوگا۔ قرض کی سروسنگ پر اس قدر بڑا بوجھ رکھنا دیگر شعبوں کے لیے بجٹ کی گنجائش کم کر دیتا ہے۔ جب آمدنی کا بڑا حصہ قرض کی ادائیگی میں خرچ ہو گا تو عوامی شعبہ جات، انفراسٹرکچر اور انسانی سرمایہ کاری کے لیے مناسب وسائل میسر نہیں رہیں گے۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ مالی ذمہ داریوں کے بوجھ کو کم کرنے اور سود کا مکمل خاتمہ کرنے کے لیئے فوری اور موثر حکمتِ عملی نہ اپنانے سے مستقبل میں معاشی کمزوری بڑھ سکتی ہے، جس کا براہ راست اثر عام آدمی پر پڑے گا۔ حکومتی دعویٰ ہے کہ ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب کو بڑھایا جائے گا اور ٹیکس بیس کو وسیع کیا جائے گا، مگر عملی طور پر نچلے اور درمیانی طبقہ پر مہنگائی اور یوٹیلیٹی بلز میں اضافے کی صورت میں براہِ راست منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ اگرچہ کچھ ٹیکس ریلیف بھی تجویز کیے گئے ہیں، تا ہم IMF پروگرام کی وجہ سے سبسڈی میں ممکنہ کمی اور ٹیکس نیٹ میں شمولیت کے کم امکانات کے پیشِ نظر عام لوگوں کے اخراجات بڑھیں گے۔ وہ ریلیف جو چند ٹیکس سلیب میں دکھایا گیا ہے، عملی نفاذ اور انتظامی پیچیدگیوں کے باعث عام صارف تک پہنچنے میں دشواری کا سامنا کرے گا۔ صنعت اور زراعت کے شعبوں میں سبسڈی نہ دیکر تاجر برادری کے ساتھ نا انصافی کی گئی یے۔ درآمدات اور برآمدات جیسے اہم شعبہ جات کے لیے کوئی بہتر اقدامات نہ کرنا ملکی معیشت کو سخت نقصان پہنچائے گا، سربراہ کرین پارٹی نے حکومت سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ٹیکس نظام میں شمولیت کو آسان بنایا جائے، ٹیکس کلیکشن میں شفافیت لائی جائے، ٹیکس میں چھوٹ دینے کے لئے بروقت عمل اور فوری ریلیف فراہم کیا جائے تاکہ متوسط اور کم آمدنی والے طبقات پر غیرضروری بوجھ نہ بڑھے۔ وفاقی کابینہ نے %10 تنخواہ اور %7 پنشن میں اضافہ منظور کیا ہے۔ تاہم موجودہ مہنگائی کے رجحانات کو دیکھتے ہوئے یہ اضافہ وقتی ریلیف تو دے سکتا ہے مگر طویل مدتی اور حقیقی قوتِ خرید کو بحال کرنے کے لیے ناکافی ہے۔ تنخواہوں و پنشن میں اضافہ افراط زر (جو فی الحال %4.7 پر آ کر مستحکم ہوئی ہے) اور اشیائے خوردونوش و یوٹیلیٹیز کی قیمتوں کے ارتقاء کا عین مطابق ازالہ کرے۔ اگر یہ اضافہ عوامی معیارِ زندگی بہتر نہ کر سکا تو مسائل جڑ سے حل نہیں ہوں گے۔ حکومت نے ارکانِ پارلیمنٹ کی تنخواہیں تقریباً 218,000 سے بڑھا کر 519,000 روپے ماہانہ کرنے کا بل منظور کیا ہے اور سینٹ چیئرمین و اسپیکر کی تنخواہ پانچ گنا بڑھا کر 1.3 ملین روپے ماہانہ کی منظوری دی ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عوام مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی دباؤ کا شکار ہیں۔ اسی دوران جب دفاع اور قرض کی سروسنگ پر بھاری اخراجات ہو رہے ہیں، تو حکمران طبقہ کی سہولیات اور عیاشیوں کے لئے اس طرح کا اضافہ اخلاقی اور معاشی نقطہء نظر سے نا قابلِ قبول ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہماری جماعت اس اقدام کی شدید مذمت کرتی ہے اور مطالبہ کرتی ہے کہ پارلیمانی اور وزارتی مراعات کو عارضی طور پر منجمد یا کم از کم عوامی معیارِ زندگی میں حقیقی بہتری کے ساتھ ہم آہنگ کرتے ہوئے نافذ العمل کیا جائے۔ حکمرانوں کو تو عوام کے دکھ درد کو سمجھتے ہوئے مثال قائم کرنی چاہیے تھی۔ بجٹ میں سماجی تحفظ کے پروگرامز کے لیے مختص فنڈز موجود ہیں، مگر گزشتہ برسوں میں شفافیت اور درست اہلیت کے مسائل رہے ہیں جو حکومتی اہلیت پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ انہیں نے کہا کہ ان پروگرامز کا نفاذ ڈیجیٹل میکانزم کے ذریعے شفاف اور بروقت ہونا چاہیے تا کہ حقیقی مستحقین تک امداد پہنچے۔ مجموعی ترقیاتی اخراجات میں کٹوتی ترقیاتی منصوبوں اور نئے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے عمل کو سست کرے گی۔ نوجوان نسل اور دیہی علاقوں میں بے روزگاری کے بڑھتے رجحان کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری سرمایہ کاری ضروری ہے۔ ہم یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ دیہی ترقی، زرعی اصلاحات، چھوٹے کاروبار کی معاونت اور انفراسٹرکچر کے منصوبے ترجیحی بنیادوں پر بحال کیے جائیں تا کہ مقامی معیشت کو تقویت ملے اور روزگار کے نئے ذرائع پیدا ہوں۔ بجٹ میں کیے گئے فیصلوں میں احتساب اور شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے آزاد اداروں کا کردار مضبوط ہونا چاہیے تا کہ عوام کو یقین ہو کہ قومی وسائل عوامی فلاح کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔ آخر میں سربراہ کرین پارٹی نے کہا کہ ہم یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ اضافی وسائل صحت، تعلیم، دیہی ترقی اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کے لیے مختص کیے جائیں۔ قرضوں کی مینجمنٹ اور سودی نظام کے خاتمے کے لیے ضروری اقدامات کئے جائیں تاکہ ریونیو زیادہ سے زیادہ عوامی شعبوں کی ترقی پر صرف ہو سکے۔
وسیع ٹیکس بیس کے لیے ٹیکس ادائیگی کے عمل کو شفاف، سادہ اور آسان بنایا جائے، ٹیکس چھوٹ اور ریلیف کی فوری فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ خاص طور پر درمیانہ اور نچلا طبقہ محفوظ رہے۔ سرکاری ملازمین و پنشنرز کے اضافے کو افراطِ زر کے عین مطابق رکھتے ہوئے معیارِ زندگی بہتر بنایا جائے، اور اپنی عیاشیوں کے لئے غیر ضروری بڑے اضافہ کو ملتوی کیا جائے تا کہ عوامی دکھ کو منصفانہ طور پر دور کرنے میں مدد ملے۔ BISP اور دیگر پروگرامز میں شفاف ڈیجیٹل میکانزم اور نگرانی کا نظام مضبوط کیا جائے تاکہ مستحق افراد بروقت اور مکمل امداد حاصل کر سکیں۔ دیہی اور زرعی ترقی، چھوٹے و درمیانے کاروبار، نوجوانوں کے لیے اسکل ڈیولپمنٹ پروگرامز اور انفراسٹرکچر کے منصوبوں کو اولین ترجیح دی جائے تا کہ روزگار کے مواقع میں اضافہ ہو۔

11/06/2025

الحمدللہ #دوھداۓ #شرقی۔ کی سرزمین پر خوبصورت حاضری ہوگی ۔محفل میلاد پر
#نعت #خواں #سید #محمد #رضوان #شاہ #محمدی #سیفی #شادیوال

01/06/2025

یہ ویڈیو خود بھی دیکھیں اور اگے بھی شیئر کریں
#۔نعت #خواں سید محمد #رضوان #شاہ #محمدی #سیفی #شادیوال گجرات
#قربانی
#ادارۃ #الحبیب
#مدرسہ #ختم #نبوت

24/10/2024

آج إنشاءاللّٰه

21/10/2024

إنشاءاللّٰه

Want your school to be the top-listed School/college in Gujrat?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Website

Address


Gujrat General Bus Stand
Gujrat
50700