وفائے وعدہ نہیں، وعدہ دگر بھی نہیں
وہ مجھ سے روٹھے تو تھے لیکن اس قدر بھی نہیں
برس رہی ہے حریم ہوس میں دولتِ حسن
گدائے عشق کے کاسے میں اک نظر بھی نہیں
نہ جانے کس لیے امیدوار بیٹھا ہوں
اک ایسی راہ پہ جو تیری رہگزر بھی نہیں
نگاہِ شوق سر بزمِ بے حجاب نہ ہو
وہ بے خبر ہی سہی اتنے بے خبر بھی نہیں
یہ عہد ترکِ محبت ہے کس لیے آخر
سکونِ قلب ادھر بھی نہیں، ادھر بھی نہیں
فیض احمد فیض
Urdu Adab
Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Urdu Adab, Education, Dhamthal Gujrat, Gujrat.
24/10/2025
اظہار میرے بس کا نہیں مگر مجھے کبھی اظہار کی سہولت میسر آئی تو میں تمہیں بتاؤں گا کہ تم کس درجے ضروری ہو تمہاری یاد کس قدر آتی ہے تمہارا ہونا کتنا ضروری ہے۔
20/10/2025
"تم صرف ایسے شخص کے مقروض ہو,
جو تمہاری ٹوٹ پھوٹ کو گلے لگا لے جب باقی سب تم پر بے رحمی سے گزر رہے تھے." 🩷✨
25/09/2025
تغافل ٹھیک ہے رنجش بجا لیکن محترم !
دل اتنا نہ دکھائیں کہ بات خدا تک جا پہنچے
21/09/2025
ایک ھی راہ پُہنچتی تھی ، تَجلّی کے حضُور
ھم نے اُس راہ سے مُنہ موڑا ھے ، ھم جانتے ھیں۔
دِل کی دَھڑکن کا ، تیرے قُرب کے لَمحوں پہ مَدار
ھم نے جِس طرح تُجھے چھوڑا ھے ، ھم جانتے ھیں۔
مُصطفیٰ زیدی
23/12/2024
ایک بس تیرے نہ ھونے سے ٫ جہانِ خاک میں
بے پناہ افسُردگی ھے ، بیکنار افسوس ھے
جمال اَحسانی
27/11/2024
محبت گولیوں سے بو رہے ہو
وطن کا چہرہ خون سے دھو رہے ہو
گماں تم کو کہ راستہ کٹ رہا ہے
یقیں مجھ کو کہ منزل کھو رہے ہو
حبیب جالب
25/08/2024
HISTORY CREATED !!!!!!
- BANGLADESH WIN RAWALPINDI TEST BY 10 WICKETS.
- FIRST WIN FOR BANGLADESH AGAINST PAKISTAN IN TEST CRICKET.
- LEAD THE 2 TEST MATCH SERIES BY 1-0. 🇧🇩
14/08/2024
یہ داغ داغ اُجالا یہ شب گزیدہ سحر
وہ انتظار تھا جس کا یہ وہ سحر تو نہیں
یہ وہ سحر تو نہیں جس کی آرزو لے کر
چلے تھے یار کہ مل جائے گی کہیں نہ کہیں
فلک کے دشت میں تاروں کی آخری منزل
کہیں تو ہوگا شبِ سست موج کا ساحل
کہیں تو جاکے رکے گا سفینہِ غمِِ دل
جواں لہو کی پر اسرار شاہراہوں سے
چلے جو یار تو دامن پہ کتنے ہاتھ پڑے
دیارِ حسن کی بے صبر خواب گاہوں سے
پکارتی رہیں بانہیں بدن بلاتے ہیں
بہت عزیز تھی لیکن رخِ سحر کی لگن
بہت قریں تھا حسینانِ نور کا دامن
سبک سبک تھی تمنا دبی دبی تھی تھکن
سنا ہے ہو بھی چکا ہے فراقِ ظلمت و نور
سنا ہے ہو بھی چکا ہے وصالِ منزل و گام
بدل چکا ہے بہت اہلِ درد کا دستور
نشاطِ وصل حلال و عذابِ ہجر حرام
جگر کی آگ نظر کی امنگ دل کی جلن
کسی پہ چارۂ ہجراں کا کچھ اثر ہی نہیں
کہاں سے آئی نگارِ صبا کدھر کو گئی
ابھی چراغِ سرِ رہ کو کچھ خبر ہی نہیں
ابھی گرانیٔ شب میں کمی نہیں آئی
نجاتِ دیدہ و دل کی گھڑی نہیں آئی
چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی
فیض احمد فیض
09/08/2024
اپنا زمانہ آپ بناتے ہیں اہل دل
ہم وہ نہیں کہ جن کو زمانہ بنا گیا
جگر مراد آبادی
01/08/2024
جس نے کیے ہیں پھول نچھاور کبھی کبھی
آئے ہیں اس کی سمت سے پتھر کبھی کبھی
ہم جس کے ہو گئے وہ ہمارا نہ ہو سکا
یوں بھی ہوا حساب برابر کبھی کبھی
یاں تشنہ کامیاں تو مقدر ہیں زیست میں
ملتی ہے حوصلے کے برابر کبھی کبھی
آتی ہے دھار ان کے کرم سے شعور میں
دشمن ملے ہیں دوست سے بہتر کبھی کبھی
منزل کی جستجو میں جسے چھوڑ آئے تھے
آتا ہے یاد کیوں وہی منظر کبھی کبھی
مانا یہ زندگی ہے فریبوں کا سلسلہ
دیکھو کسی فریب کے جوہر کبھی کبھی
یوں تو نشاط کار کی سرشاریاں ملیں
انجام کار کا بھی رہا ڈر کبھی کبھی
دل کی جو بات تھی وہ رہی دل میں اے سرورؔ
کھولے ہیں گرچہ شوق کے دفتر کبھی کبھی
آل احمد سرور
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Website
Address
Dhamthal Gujrat
Gujrat