28/10/2025
اس سکوٹی کی حالت دیکھ کر آپ اس پر سوار دو طالبات بیٹیوں کی حالت کا اندازہ لگا سکتے ھیں
مگر شُکر ھے ....کہ دونوں طالبات کی زندگی اللہ تعالیٰ نے بچا لی
♦️
دیکھیں سکوٹی کیا چیز ھے ......پلاسٹک کا ایک کھلونا جو ھم نے اپنی بہنوں بیٹیوں بچوں اور گھر کی خواتین کو لے دے دیا ھوا ھے
وہ اس سکوٹی کو لے کر بڑی مین شاھراھوں پر آ جاتی ھیں اور ڈرائیونگ کے بنیادی اصولوں کو سمجھے بغیر بڑی ٹریفک میں ڈرائونگ کر رھی ھوتی ھیں
میں خواتین بہنوں بیٹیوں کے سکوٹی یا موٹر سائیکل چلانے کے بالکل خلاف نہیں
میں بس یہ چاھتا ھوں کہ ان خواتین کو مین روڈ پر آنے سے پہلے اپنے کسی بھائی باپ سے یا کسی لیڈی انسٹریکٹر سے کم ز کم 15 دن کی مکمل ٹریننگ لینی چاھیے
صرف موٹر سائیکل یا سکوٹی چلا لینا ھی کافی نہیں ھوتا ....ٹریفک والے روڈ پر موٹر سائیکل چلانے کے لئے آپ اصول و ضوابط اور حرکات و سکنات اور قوانین پر مکمل عبور ھونا چاھیے
ڈرائیونگ ایک مکمل سائنس ھے
کہاں سپیڈ بڑھانی ھے کہاں کم کرنی ھے
فاسٹ لائن کون سی ھے اور سلو لائن کونسی ھے
کہاں کیسے اور کس سپیڈ سے اوور ٹیک کرنا ھے
کہاں جلد بازی نہیں کرنی
سائیڈ ویو مرر اور ھیلمٹ کا استعمال کرنا ھے
وغیرہ وغیرہ
پاکستان ابھی دُنیا کے ٹریفک اور ڈرائیونگ نظام سے کوسوں دُور ھے ...بلکہ یہاں کوئی نظام ھے ھی نہیں
کوئی پتہ نہیں کہاں سے کوئی چنگ چی سامنے آ جانا ھے اور کہاں سے گدھا گاڑی
یہاں تو 100 فیصد محتاط اور تجربہ کار ڈرائیور بھی کسی اور کی غلطی سے حادثات کا شکار ھو جاتے ھیں.....پھر یہ ناتجربہ کار خواتین تو بہت خطرے میں ھوتی ھیں
گورنمنٹ کو چاھیے کہ سکوٹی خریدنے اور چلانے کی خواھشمند خواتین کے لئے ھر شہر میں ٹریینگ سینٹرز ھوں جہاں سے ٹریننگ کے بعد خواتین بااعتماد اور محفوظ ڈرائیونگ کر سکیں
اللہ تعالیٰ ھم سب کی ھماری ماؤں بہنوں بیٹیوں کی جان کی حفاظت فرمائے
آمین
تحریر
محمد عمر نظامی
🚶🚶🚶
fans
31/07/2025
29/07/2025