Knowledge Seeker's

Knowledge Seeker's

Share

Stay connected with us for interesting facts, informative articles, and thought-provoking discussion.

13/10/2023

آئین سوئٹزرلینڈ
تعارف
مملکت اور آبادی: سوئٹزرلینڈ ایک چھوٹا سا کوہستانی ملک ہے۔جو یورپ کے وسط میں واقع ہے۔اس کا وفاقی دارالحکومت برن ہے۔ اس کا رقبہ تقریباً 41 ہزار 288مربع میٹر اور آبادی تقریباً 64لاکھ 82 ہزار ہے ۔ یہاں مختلف نسلوں کے لوگ آباد ہیں ۔جو مختلف عقیدوں کے مالک ہیں اور مختلف زبانیں بولتے ہیں ۔ بلحاظ مہذب یہاں 57 فیصد پروٹیسٹنٹ ، 41 فیصد کیتھولک اور باقی یہودی عقیدے کے مالک ہیں ۔ لسانی لحاظ سے تقریباً 72فیصد جرمن زبان ، 21 فیصد فرانسیسی ،6 فیصد اطالوی 1 فیصد رومن بولتے ہیں ۔ملک کی آب و ہوا صحت افزا ہے ۔
وسائل: کوہستانی علاقہ ہونے کی وجہ سے اس کا بڑا رقبہ زرعی کاشت کے لیے ناموزوں ہے ۔اسے اپنی خوراک کی ضروریات کا تقریباً ساٹھ فیصد درآمد کرنا پڑتا ہے ۔کوئلا ، لوہا اور دیگر معدنیات کے فقدان کے باوجود یہ ملک صنعتی لحاظ سے بڑا ترقی یافتہ ہے ۔حانلانکہ صنعتوں میں استعمال ہونے والا کثیر خام مال درآمد کیا جاتاہے ۔ سوئٹزرلینڈ کی نمایاں صنعتیں ، ڈیری پیداوار ٹیکسٹائل اور گھڑیاں اعلیٰ کوالٹی کے آلات کی مصنوعات ہیں ۔ لوگوں کو ان مصنوعات کی تیاری کے سلسلہ میں کمال مہارت حاصل ہے ۔
اکائیاں: سوئٹزرلینڈ کے وفاق میں 26 کینٹنز (صوبے یا اکائیاں) ہیں ۔ درحقیقت یہ بیس مکمل کینٹن اور چھ نصف کینٹن ہیں ۔ 1978ء سے پہلے مکمل کینٹنوں کی تعداد انیس تھی۔ 1978کی آئینی ترمیم کی رو سے ایک نئی کینٹن جیورا قائم کی گئی ۔ سوئس صوبے کو کینٹن کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے ۔نصف کینٹن میں بھی ایک کینٹن کی طرح ہر لحاظ سے پوری ہوتی ہے ۔ اسے صرف آئینی اصتصواب کے لیے اور وفاقی مقننہ کے ایوان بالا میں نمائندگی کے لحاظ سے نصف تسلیم کیا جاتا ہے ۔
نمایاں خصوصیات: سوئٹزرلینڈ پاکستان یا امریکہ کے مقابلے میں ایک بہت چھوٹا ملک ہے ۔ لیکن اس کے آئین میں بعض ایسی نمایاں خصوصیات پائی جاتی ہیں جن کی بدولت اس کا مطالعہ ضروری سمجھا گیا ہے ۔ یہ خصوصیات تین ہیں ۔
# سوئٹزرلینڈ جمہوریت کا مسکن ہے۔ دنیا کے کسی اور ملک میں اتنے جمہوری عوامل موجود نہیں جتنے سوئٹزرلینڈ میں پائے جاتے ہیں۔
# سوئٹزرلینڈ کے باشندوں میں مذہبی اور لاسانی اختلافات کے باوجود اتحاد اور یکجہتی پائی جاتی ہے۔اور وہ سہی معنی میں اور مکل طور پر قوم کی تعریف میں پورے اترتے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مذہبی اور لاسانی تفرقے پرامن زندگی اور یگانگت کی راہ میں رکاوٹ نہیں ہوتے۔
سوئٹزرلینڈ دنیا میں واحد ایسا ملک ہے جہاں تکثیری عاملہ کا نظام قائم ہے۔اس سے مراد یہ ہے کہ انتظامی اختیارات کا کس ایک شخص کے ہاتھ میں نہیں بلکہ ان اختیارات میں سات افراد حصہ دار ہیں۔ تکثیری عاملہ سوئس آئین کی عجیب خصوصیت ہے۔ چناچہ اس نظام کا مطالعہ بڑی دلچسپی کا باعث ہو گا۔
آئینی ارتقاء:
شروع میں سوئٹزرلینڈ کئی چھوٹی ریاستوں پر مشتمل تھا۔ان میں مختلف نسلوں اور لسانی گروہوں سے تعلق رکھنے والے لوگ آباد تھے۔ان اختلافات کے باوجود ان میں یکجہتی پائی جاتی تھی اور ان کا طرزِ معاشرت ایک جیسا تھا۔ انہوں نے اپنے آپ کو تبدیل کرنا شروع کیا۔ چنانچہ ان کی سیاسی تاریخ کو چھ ادوار میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔
( 1291 to اولین کنفیڈریشن ( 1798 #
(1798to1803)فرانس کے زیر تسلط جمہوریہ
نپولین کا دور حکومت
(1803 To (1815 #

( 1815to کنفیڈریشن ( نیم وفاق) (1848 #
وفاق بمطابق 1848 ائیین ( 1874 t #

https://www.parlament.ch/en/%C3%BCber-das-parlament/how-does-the-swiss-parliament-work/Rules-governing-parliamentary-procedures/federal-constitution

27/09/2023

تعلیم کا مقالہ
علم میں سرور ہے لیکن
یہ وہ جنت ہے جس میں حور نہیں
تعارف
تعلیم انسان کے لیے ایک ایسا عطیہ خداوندی ہے جس کے بغیر انسانی بقا نا ممکن ہے۔ انسانی نشوونما اور ترقی کے لیے تعلیم بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ تعلیم یافتہ افراد نہ صرف صحیح اور غلط کی تمیز کرنے کا شعور رکھتے ہیں بلکہ وہ اپنے معاشرتی ماحول رہتے ہوئے مختلف قسم کی مہارتیں اور رویے سیکھ کر اپنے ماحول سے مطابقت بھی اختیار کرتے ہیں۔ اور ترقی کی نئی نئی راہیں متعین کرتے ہیں۔
آج کے اس پر آشوب اور تیز ترین دور میں تعلیم کی ضرورت بہت اہمیت کی حامل ہے چاہے زمانہ کتنا ہی ترقی کر لے۔ حانلانکہ آج کا دور کمپیوٹر کا دور ہے، ایٹمی ترقی کا دور ہے، سائنس اور صنعتی ترقی کا دور ہے مگر سکول میں بنیادی عصری تعلیم، ٹیکنیکل تعلیم،انجینرنگ، وکالت، ڈاکٹری اور مختلف جدید علوم حاصل کرنا آج کے دور کا لازمی تقاضا ہے۔
تعلیم کی اہمیت
تہذیب وتمدن کے چراغ علم سے روشن ہوتے ہیں۔ اور یہی ان کی قوت و شوکت کا راز ہے۔ یورپی تہذیب کا غلبہ و استیلا علم و فن کا مرہونِ منت ہے۔
قوت افرنگ از علم وطن است
از ہمیں آتش چراغش روشن است
تعلیم اور معاشرہ
دنیا کی کامیاب اقوام کی پشت پر تعلیم کا عمل ہی پوشیدہ رہا ہے۔ جو لوگ معاشرے میں تعلیم حاصل کرتے ہیں چاہے وہ دینی ہو یا دنیاوی اس انسان کا اپنے معاشرے کے اندر اور اپنے گھر میں ایک الگ ہی مقام ہوتا ہے۔ تعلیم معاشرے میں سدھار پیدا کرتی ہے۔ اور انسانیت کو شعور سے نوازتی ہے۔ معاشرے میں پلتی برائی جیسے جھوٹ، گالم گلوچ ، چوری،ڈکیتی کو ختم کرنے میں تعلیم اہم کردار ادا کرتی ہے۔ تعلیم نہ صرف انسانیت کا پیٹ پالنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے بلکہ یہ انسانیت اور معاشرے کو تشکیل دینے میں بھی پیش پیش رہتی ہے۔
ہماری بقا تعلیم
تعلیم اسکول، کالج،یونیورسٹی سے ملنے والی ڈگری کا نام ہی نہیں بلکہ یہ تمیز اور تہذیب کا دوسرا نام ہے۔ ہماری بقا اسی میں ہے کہ ہم تہذیب و تمیز یعنی تعلیم کو عام کریں کیونکہ آج کل تعلیم کے نام پر بنائی جانے والی ریاست اور نجی ادارے تعلیم کو فروغ دینے میں بری طرح ناکام ہو چکے ہیں۔ کیونکہ ان کے ستون بس نوکری حاصل کرنے کی شرط پر تعمیر کیے گئے ہیں۔
محنت اور تعلیم
عام طور پر محنت سے مراد جسمانی محنت اور مشقت لی جاتی ہے لیکن معاشیات کی اصطلاح میں محنت سے مراد ہر وہ ذہنی و جسمانی کوشش ہے جو کسی معاوضہ یا بہتری کے لیے کی جاتی ہے۔
میرا خیال ہے کہ تعلیم اور محنت دونوں بہت اہم ہیں۔ تعلیم ہمارے علم و فہم میں اضافہ کرتی ہے۔ دونوں کو ملا کر ہم اپنے خوابوں کو پورا کر کر سکتے ہیں۔ اس لیے ہمیں تعلیم میں اور ہر کام میں محنت کرنی چاہیے۔۔۔۔ 📚❤️

27/09/2023

"Welcome to Knowledge Seeker's! We're here to quench your thirst for knowledge with fascinating facts, insightful articles, and thought-provoking discussions. Join us on this journey of exploration and enlightenment! 🌍📚"

Want your school to be the top-listed School/college in Gujrat?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Website

Address


Gali Chah Gore Wali
Gujrat