04/01/2026
M.Hamza qadri
ہر فردکسی خاص مقصد کے لیے پیدا کیا جاتا ہے اور اس مقصد کےحصول کی خواہش پہلے سے اس کے دل میں رکھ دی جاتی ہے
رومی رحمتہ اللہ علیہ
04/01/2026
25/03/2025
تصوف کیا نہی ہے؟
تصوف کے لئے نہ کشف و کرامات شرط ہے،نہ دنیا کے کاروبار میں ترقی دلانے کا نام تصوف ہے،نہ تعویز گنڈوں کا نام تصوف ہے،نہ جھاڑ پھونک سے بیماری دور کرنے کا نام تصوف ہے،نہ مقدمات جیتنے کا نام تصوف ہے،نہ قبروں پر سجدہ کرنے،ان پر چادر چڑھانے اور چراغ چلانے کا نام تصوف ہے،اور نہ آنے والے واقعات کی خبردینے کانام تصوف ہے،نہ اولیاء اللہ کو غیبی ندا کرنا،مشکل کشا اور حاجت رواں سمجھنا تصوف ہے،نہ اس میں ٹھیکداری ہے کہ پیر کی ایک توجہ سے مرید کی پوری اصلاح ہو جائے گی،اور سلوک کی دولت بغیر مجاہدہ اور بدون اتباع سنت حاصل ہو جائے گی،نہ اس میں کشف و الہام کا صیح اترنا لازمی ہے،اور نہ وجد و تواجد اور رقص سرور کا نام تصوف ہے۔یہ تمام چیزیں تصوف کا لازمہ بلکہ عین تصوف سمجھی جاتی ہیں ۔حا لانکہ ان میں سے کسی ایک چیز پربھی تصوف اسلامی کا اطلاق نہیں ہوتا ،بلکہ یہ ساری خرافات اسلامی تصوف کی عین ضد ہیں۔(دلائل السلوک)۔.
25/03/2025
كيا الله مجھ سے محبت کرتا ہے؟
یہ سوال اکثر میرے ذہن میں گردش کرتا تها پھر ایک دن مجھے خیال آیا کہ میرا الله جن بندوں کو زیادہ چاہتا ہے ان کے بارے میں تو اس نے آیتیں اتاریں ہیں سو میں قرآنِ مجید کھول کر بیٹھ گیا میں نے ڈھونڈا تو پہلی آیت ملی الله متقین سے محبت کرتا ہے مجھے ملال ہوا مجھ میں تو نام کا بھی تقوی نہیں پھر میں نے آگے پڑھا کہ الله صابرین کو محبوب رکھتا ہے مجھے اپنے بے صبرا ہونے پر شدید افسوس ہوا مزید آگےبڑھا تو جانا الله مجاھدین کوشش کرنے والے سے محبت کرتا ہے میں نے جانا کہ میں کم ہمت و حوصل والا ہوں پھر پڑ ھا کہ وہ احسان یعنی نیک اعمال کرنے والوں کو پسند کرتا ہے مگر میں اس سے بھی بہت دور رہا ہوں پھر میں نےاپنی تلاش ترک کرنے کا فیصلہ کیا اس ڈر سے کہ اب شاید میرے پاس ایسا کچھ بھی نہیں جس کے باعث الله مجھ سے محبت کرے میں نے اپنے اعمال کھنگالے تو وہ سب فتور اور گناہوں سے آلودہ تھے پھر میں مصحف قرآنِ مجید بند کرنے لگا کہ اچانک میری نظر اللہ کے قول
ان الله یحب التوابین پر پڑی بيشک الله توبہ کرنے والوں سےمحبت رکھتا ہے سو میں نے اپنا مقام پالیا
شاد باش اے عشق خوش سودائے ما
اے طبیب جملہ علت ہائے ما
جسم خاک از عشق بر افلاک شد
کوه در رقص آمد و چالاک شد
عقل آمد دین و دنیا شد خراب
عشق آمد در دو عالم کامیاب
خوش رہ ہمارے اچھے جنون والے عشق،
اے ہماری تمام بیماریوں کے طبیب۔
عشق کی بدولت خاکی جسم آسمان پر چلا گیا،
کوہِ طور بھی ناچنے لگا اور مستعد ہوگیا۔
عقل آیا اور دین و دنیا تباہ کر دی،
عشق آیا اور دونوں عالم میں کامیابی مل گئی۔
21/09/2024
محبت سے عشق تک کا سفر
وہ پرانا سا گھر بوسیدہ سی دیواریں چھتوں سے لٹکتے جھولتے پنکھے بڑے بڑے روشندان اور اُن میں سر جھکائے کبوتر جگہ جگہ سےسیمنٹ کا لیپ زدہ فرش اینٹ اور گارے کی بنی ہوئی بنیاں پرانے لکڑی کے فریم اور اُن میں آویزاں دو قدیم تصویریں ایک فریم پر لفظ اللّٰه اور دوسرے فریم پر لفظ محمّد صلی الله علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کنندہ تھا میں آتے جاتے اٹھتے بیٹھتے اُن مقدس لفظوں کو پڑھتی رہتی تھی اور اُن مقدس لفظوں کی چاشنی اور تقدس آنکھوں سے دل تک اتر جاتی تھی شاید یہ میری مصوم محبت کی ابتداء تھی عجیب سا سوال آج پوچھا گیا کہ محبت عشق کب بنتی ہے ؟ اور یہ سوال ماضی کے دریچوں سے ہوتا ہوا آج میرے دل کے در بھی کھول گیا تھا مجھے نہیں معلوم کہ میری محبت محمّد صلی الله علیہ وآلہ واصحابہ وسلم سے کب سے ہے شاید تب سے جب گھنٹوں جائے نماز پر بیٹھ کے اُس پر بنے گنبد کو تکتی رہتی تھی یا شاید تب سے جب خاموش لفظوں اور بوجھل اُداس دل کے ساتھ سب ان کہی باتیں سنانے بیٹھ جاتی تھی
اس وقت شدید خواہش تھی جیسے چاند کو دیکھ کر دل کرتا نہ کہ اسے چھو ا جائے ویسے ہی یہ خواہش بار بار اُبھرتی تھی کہ سبز گنبد کو ہاتھ لگانا ہے مصوم محبت کا یہ بڑا فائدہ ہوتا کہ انسان کا خالص پن بس مقبول ہوتا ادب انداز الفاظ اُس بارگاہ میں کچھ معنی نہیں رکھتے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور چرواہے کے قصّے میں بھی تو محبت کا انداز نرالا تھا نہ بس پھر محبت نے اپنا رنگ دکھانا شروع کیا تو سوچا درود شریف کا نذرانہ پیش کروں کم از کم میرا سلام عاجزانہ تو پُہنچے گا رسول الله صلی الله علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کی بارگاہ اقدس میں محبت ادب کس طرح سکھاتی یہ بھی لفظ محمّد صلی الله علیہ وآلہ واصحابہ وسلم نے مجھے سکھایا کتنا اعلیٰ مقامِ دل نوائی ہے یہ کہ خود نام محمّد صلی الله علیہ وآلہ واصحابہ وسلم نے ادب سکھایا یہ کرم ہے حضور نبی کریم صلی الله علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کا نہیں تو بندہ بے حضور ہے میں جب بھی درود شریف پڑھتی ہر بار لفظ محمّد صلی الله علیہ وآلہ واصحابہ وسلم پر رک کے پورا صلی الله علیہ وآلہ واصحابہ وسلم پڑھتی تب ہی آگے بڑھا جاتا نہیں تو اٹکتی رہتی تھی پھر اکثر سوچتی کہ ایسے تو بُہت کم تعداد میں درود شریف پڑھا جائے گا یہ نہیں معلوم تھا اُس وقت کہ محبت کی کوئی گنتی نہیں ہوتی محبوب ایک ہوتا اُس کے آگے اپنی محبت کے جتنے صفر لگاتے جاؤ محبت کی قدر خود با خود بڑھتی جاتی ہے بس محبت سے محبت کرنا مشروط ہے عشق سکھاتا ہے خود آدابِ بندگی سبز گنبد سے محبت عشق میں ڈھلتی گئی اور مدینہ منورہ کا سفر خوابوں کا جہاں آباد کرنے لگا ہر دوسرے دن ایک خواب آتا جس میں کبھی مدینہ منورہ کے پرانے بازار نظر آتے کبھی مٹی والے صحرائے راستے نظر آتے کبھی مسجدِ نبویّ صلی الله علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کا چبوترا اور خصوں کی بنی ہوئی چٹائیاں نظر آتیں کبھی کھجوروں کے باغات نظر آتے مجھے نہیں پتہ تھا کہ مدینہ منورہ کیسا ہے اور میرے پیارے حبیب صلی الله علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کا روضہ مبارک جہاں ہے وہ جگہ کیسی ہے لیکن یہاں بھی بس بات ساری کرم کی ہے غربت کی گود میں آنکھ کھولنے والوں کے پاس خوابوں کے سوا
ہوتا کیا ہے لیکن کہیں اندر سے آواز آتی تھی
میں نہ جا پایا تو آپ مجھے لے جائے گی
عشق کی لو در اقدس کا پتہ جانتی ہے مدینہ منورہ سے جو لوگ واپس آتے میرا ان سے بس یہی سوال ہوتا تھا کہ سبز گنبد کیسا نظر آتا ہے ؟ مسجدِ نبوی صلی الله علیہ وآلہ واصحابہ وسلم میں روضہ مبارک کہاں ہے ؟ مسجدِ نبوی صلی الله علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کے ستون کتنے بڑے ہیں ؟ پتہ نہیں شاید میں اس گمشدہ محبت کا کوئی سرا ڈھونڈتی تھی یا پھر زادِ راہ اکٹھا کرتی تھی تنکا تنکا جوڑ کے محبت کی ڈنڈیوں سے عشق کا گھونسلہ بنتا ہے کہتے ہیں نہ جس سے محبت ہو اُس سے وابستہ ہر چیز اور ہر بات میں وہی نظر آنے لگتا ہے بس پھر ایسا ہی ہوا کسی اخبار کتاب رسالے میں کوئی لفظِ محبت ہو زبان پر لفظ محمّد صلی الله علیہ وآلہ واصحابہ وسلم ہی آتا ہےکوئی واقعہ ہو یا کہانی ہر محبت کے اختتام پر یاد بس اپنی ہی محبت رہتی ہے کیوں کہ محبت زندہ رہتی ہے دلوں میں وجدان کی صورت لفظوں سے اشکوں تک اور سجدوں سے حضوری تک
سب محبت سے عشق تک کا ہی سفر ہے انسان سوچتا ہی رہتا ہے کہ یہ عشق کہاں سے آیا محبوب صلی الله علیہ وآلہ واصحابہ وسلم خود ہی عاشق کو عشق کی سوغات عطا کرتے ہیں اورکوئی چاہ بھی نہیں سکتے اگر وہ نہ چاہیں تو بس عشق سلامت رہے سفر ابھی بھی جاری ہے عشق کرنا آسان ہے لیکن اسے پروان چڑھانا بُہت مشکل کام ہے محبوب کے در تک رسائی پانا اتنا بھی آسان نہیں ہوتا سمجھ سے باہر ہے یہ بات کہ عشق کیا کیا رخ دکھاتا ہےدل ٹرپتا ہی رہتا ہے اور بے چین ہی رہتا ہے اُس جوشِ عشق میں پہلا پڑاؤ تب آیا جب یکدم رسالے کہانیاں پڑھتے پڑھتے محبت کا رخ قصص الانبیاء اور سیرتِ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کی طرف مڑ گیا کہتے ہیں نہ جس سے محبت ہو اُس کا تذکرہ ہی بس سننے پڑھنے کو دل کرتا ہے بس عشق کی داستانیں پڑھتے جانا اور دل میں حسرت اور اُمید کے ساتھ طلب بڑھاتے جانا پھر راتیں عشق کی داستانوں سے زندہ ہونے لگیں پتہ نہیں عشق اندر کہیں ٹھہر گیا تھا یا وقت نے سب کچھ ایک لفظ عشق پر روک دیا تھا محبت مانگتی ہے یوں گواہی اپنے ہونے کی کہ جیسے طفل سادہ شام میں اِک بیج سا بوئے اور شب میں بارہا اٹھے زمیں کو کھود کے دیکھے کہ پودا اب کہاں تک ہے ؟ بس ایسے ہی عشق کی پرورش ہو رہی تھی شاید عشق پلتا جا رہا تھا اور طلب بڑھتی جا رہی تھی یہ بھی بات ساری محبوب صلی الله علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کے کرم کی ہے ہر دل عشق کے نام پر نہیں دھڑکتا اور جو دھڑکتا ہے اُس کی تاریں پہلے سے ہی کہیں جڑی ہوتی ہیں
اس وقت ہر خواہش ہر سوچ ہر دُکھ کا سرا جا کے اُسی در سے جُڑ جاتا تھابس یہ لگتا تھا کہ وہی صلی الله علیہ وآلہ واصحابہ وسلم طبیبِ ہیں وہی صلی الله علیہ وآلہ واصحابہ وسلم رفیق ہیں وہی صلی الله علیہ وآلہ واصحابہ وسلم دم ساز ہیں اتنی
21/09/2024
مرشد سے بھرپور فیض و فائدہ کیسے حاصل کیا جا سکتا ہے
سب سے پہلے تو فیض کو سمجھیں کہ فیض ایک روحانی طاقت اور مدد کی طرح ہے جو ہماری روح کو ملتی ہے اپنے نفس کی اصلاح کے لیے مرشد یا استاد سے فیض یاب ہونے کے لیے پہلے لوگوں نے خدمت کی اور صحبت میں رہے اور نفس کی اصلاح کی اور تزکیۂ نفس کیا اور جس نے جتنا یہ کیا اتنا اس نے فیض وصول کیا مثلاً قطب الاقطاب زہد الانبیاء حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر رحمتہ الله عليہ کے کتنے ہی مرید تھے اور کتنے لوگوں نے خدمت بھی کی لیکن آپ رحمتہ الله عليہ کے بہترین شاگردوں میں مخدوم حضرت علاءالدین علی احمد صابر پیا کلیری رحمتہ الله عليہ اور حضرت شیخ المشائخ خواجہ نظام الدین اولیاء رحمتہ الله عليہ کا نام سر فہرست ہے اب اس میں حسن عقیدہ کی اہمیت عقیدت سے زیادہ ہے آج کے دور میں لوگوں کے پاس وقت نہیں اور اس وقت میں بھی برکت نہیں تو اگر آج کوئی کسی صاحب فیض ہستی سے فیض وصول کرنا چاہتا ہے تو اسے اپنے وقت کو صحیح استعمال کرنا چاہیے تاکہ فیض یاب ہو سکے
اپنے دل کو صاحب فیض کے سامنے کھلی کتاب بنا دے کوئی بھی پہلو پردے میں نہ رکھے اور اس سے اپنے لیے دعا کروائے اپنے لیے راہنمائی لے یہی فیض ہے راہنمائی لینا آپ کا کام ہے راہنمائی اور فیض دینا دینے والے کا بھرپور فیض حاصل کرنے کے لیے انسان کی طلب سچی ہونی چاہیے
میں بھی خاک ہوں آپ کے راہ کی
میری تشنگی آپ کا عشق ہے
مجھے گوندھ کر اِسی عشق میں
آپ سنوار دیجیے میرے مُرشدِ لجپال
21/09/2024
اولیاء کرام کی صحبت
جب یہ واضح ہوا کہ روح کی پاکیزگی و طہارت اور باطن کی ترقی اور خدائے عزوجل کے قرب کو حاصل کرنے کے لیے بیعت شیخ و صحبت شیخ ایک اہم ذریعہ ہے اب ضروری یہ ہے کہ صحبت شیخ کی اہمیت و مقام کو پہچانا جائے تاکہ کامل طریقے سے مطلوبہ فوائد کو حاصل کیا جائے سالک جب پیر کی صحبت میں حاضر ہو تو اپنے روح و قلب کو پیر کی طرف ہی متوجہ رکھے کیونکہ پیر اپنی توجہ سے سالک کو فیض پہنچاتا ہے اگر مرید باطنی طرح پیر کی طرف متوجہ نہ ہوگا تو اس کے حصے کا فیض کسی دوسرے مشتاق و متوجہ مرید کو حاصل ہوجائے گا کیونکہ مریدکی باطنی بے توجہی شیخ کامل کو اس کی طرف سے بے رغبت کردیتی ہے اور شیخ کامل مشتاق و متوجہ شخص کو اپنی توجہات سے نواز دیتا ہے اس لیے صحبت میں بے توجہی سے بیٹھنا اپنے آپ کو محروم کردینا ہے امام ربانی مجدد و منور الف ثانی رحمۃ الله علیہ صحبت مرشد سے استفادہ حاصل کرنے کے بارے میں حکیم عبدالوہاب کو لکھتے ہیں کہ اولیاء کرام کے پاس خالی ہوکر آنا چاہیے تاکہ بھرے ہوئے واپس جائیں اور اپنی مفلسی کو ظاہر کرنا چاہیے تاکہ ان کو شفقت آئے اور مرید کے لیے فائدہ حاصل کرنے کا راستہ کھل جائے سیر آنا اور سیر چلے جانا کچھ مزا نہیں دیتا کیونکہ پرشکمی کا پھل بیماری کے سوا اور کچھ بھی نہیں۔ استغناء و بے پرواہی سے سوائے سرکشی کے اور کچھ بھی حاصل نہیں ہوتاامام ربانی علیہ الرحمۃ کے اس مکتوب مبارک سے یہ واضح ہوتا ہے کہ پیر کی صحبت میں ہمیشہ اپنے باطن و قلب کی طرف مکمل دھیان رکھا جائے اور ان کی صفائی و درستگی کے لیے کوشاں رہا جائے وہاں موجود دیگر سالکین ذاکرین و شاغلین کی نگرانی نہ کرتا پھرے اور اس کے علاوہ پیر کی صحبت میں یا اس کی درگاہ و خانقاہ میں کسی بھی ایسے فعل و قول سے دور رہے جس سے وہاں پر موجود کسی بھی شخص کو تکلیف یا ایذاء پہنچنے کا اندیشہ ہو پیر کے سامنے کبھی بھی فضول اور لایعنی بات نہ کرنی چاہیے کیونکہ اکثر اوقات اس طرح کی باتوں سے شیخ کامل کے قلب میں کلفت یعنی ناراضگی پیدا ہونے کا خدشہ ہوتا ہے جو کہ مرید کی ترقی کے لیے نہایت نقصان دہ چیز ہے۔ اس کے علاوہ مرید کو یہ بات بھی سمجھنی چاہیے کہ صرف دور بیٹھے فون یا خط کے ذریعے پیر کو اپنے واقعات و حالات سے آگاہ رکھنا فائدہ مند نہیں بلکہ صحبت شیخ میں حاضری ضروری و لازمی چیز ہے صحبت شیخ کے بغیر مرید کو نفع بخش چیزیں حاصل نہیں ہوسکیں گی اگر صحبت شیخ کے بغیر کوئی بھی مرید لاکھ اوراد و وظائف میں مصروف رہے تب بھی کچھ نفعہ حاصل نہیں کرسکتا کیونکہ خدائے عزوجل کا طریقہ عطا یہ ہے کہ وہ نفعہ انعام و فیض ہمیشہ وسیلے سے ہی جاری فرماتا ہے اس لیے مرید کے لیے لازم ہے کہ نہ صرف صحبت میں آمدورفت کو ضروری سمجھے بلکہ اس میں کثرت کو لازم رکھےحضرت خواجہ پیر مٹھا رحمت پوری رحمۃ الله علیہ اپنے مکتوبات مبارک میں تحریر فرماتے ہیں کہ صحبت شیخ میں اس قدر آمد و رفت ہوکہ پیر کے وطن کو اپنا وطن اور گھر سمجھنے لگے لیکن یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ اولیائے کاملین نے صحبت شیخ کے لیے محبت شیخ کو شرط اول قرار دیا ہے حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ الله علیہ اپنے مکتوبات میں تحریر فرماتے ہیں کہ اگر الفت و محبت کے بغیر سالہا سال صحبت رہے تو بھی کوئی فائدہ برآمد نہ ہوگا اس لیے مرید پر لازم ہے کہ فائدہ کے حصول کے لیے کامل محبت مکمل توجہ اور یکسوئی کے ساتھ پیر کی صحبت میں حاضری دے اسی طرح ہی مرید اس نظر کیمیا کا مستحق ہوسکے گا جو تمام عمر کے لیے سعادت بن جائے گی اسی لیے ہمیشہ مشتاق بن کر محبت کی حق ادائیگی بجا لانی چاہیے تاکہ اس نظر کیمیا کا مستحق بن پائے
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Contact the school
Telephone
Address
Gujrat