28/07/2026
*مہتممین حضرات اور اساتذہ کی تنخواہ - 7 اہم نصائح*
موضوع: *تنخواہ* 💰
یہ صرف پیسے کا مسئلہ نہیں، یہ امانت، عدل اور برکت کا مسئلہ ہے۔
*1. شرعی حکم سب سے پہلے*
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: *"مزدور کو اس کی مزدوری پسینہ خشک ہونے سے پہلے دے دو"*
استاد سارا مہینہ محنت کرتا ہے۔ تاریخ مقرر کر کے اس دن ضرور دیں۔ 2-3 ماہ لٹکانا گناہ ہے۔
*2. "کتنی" دیں؟ - 2026 کا عملی معیار*
آج کے مہنگائی کے دور میں:
**عہدہ** **کم از کم مناسب تنخواہ**
**ناظرہ / قاعدہ ٹیچر** Rs 25,000 - Rs 30,000
**حفظ ٹیچر** Rs 30,000 - Rs 40,000
**درس نظامی / عالم ٹیچر** Rs 40,000 - Rs 60,000
**مہتمم / شیخ الحدیث** Rs 60,000 +
نوٹ: `Rs 18,000` میں اب گھر کا راشن بھی نہیں آتا۔ اگر رہائش + کھانا فری ہے تو 20% کم کر سکتے ہیں۔
*3. مہتمم کے لیے 5 عملی اصول*
1. *ترجیح نمبر 1*: چندہ آئے تو سب سے پہلا چیک استاد کی تنخواہ کا کاٹیں۔ بلڈنگ بعد میں بنے گی۔
2. *تاریخ فکس*: ہر ماہ 5 تاریخ تنخواہ کی کر دیں۔ استاد کو پتہ ہو کہ 5 کو پیسہ آ جائے گا۔
3. سالانہ اضافہ: ہر سال کم از کم 10% اضافہ لازمی کریں۔ مہنگائی کے ساتھ چلیں۔
4. بونس: رمضان اور عید پر 1 اضافی تنخواہ۔ یہ استاد کے بچوں کی عید کا انتظام کر دے گا۔
5. شفافیت: اساتذہ کو بتائیں "ہمارے پاس اتنا فنڈ ہے"۔ اگر کم ہے تو مل کر پلان بنائیں، جھوٹ نہ بولیں۔
4. اگر واقعی فنڈ کم ہے تو کیا کریں؟
"بہانہ" نہ بنائیں، "حل" نکالیں:
1. اساتذہ سے مشورہ: ان سے کہیں "آپ 25 لیں، باقی 5 ہم بعد میں ایڈجسٹ کر دیں گے"۔ اعتماد میں لیں۔
2. صندوقِ معلم: الگ سے چندہ مہم چلائیں۔ لوگ استاد کے نام پر زیادہ دیتے ہیں۔
3. آن لائن سروس: مدرسے کے نام سے آن لائن قرآن اکیڈمی کھولیں۔ `Rs 30,000 - Rs 48,000` ماہانہ فی استاد کمائی ہو سکتی ہے۔
5. وہ 2 غلطیاں جو مہتمم کو برباد کر دیتی ہیں
1. تاخیر "کل دے دیں گے" کہتے کہتے3 ماہ گزار دینا۔ استاد کا دل ٹوٹ جاتا ہے۔
2. احسان جتلانا: "ہم نے تمہیں رکھا ہوا ہے" کہنا۔ یاد رکھیں، آپ استاد پر نہیں، استاد آپ پر احسان کر رہا ہے۔
6. برکت کا راز
جس مدرسے میں استاد خوشحال ہے:
- طلباء کی تعداد بڑھ جاتی ہے
- چندہ خود آتا ہے
- اللہ تعلیم میں برکت دیتا ہے
جس مدرسے میں استاد پریشان ہے، وہاں 100 مسائل کھڑے ہو جاتے ہیں۔
7. قیامت کا سوال
اللہ پوچھے گا: "میں نے تجھے قرآن کے خادموں کا نگران بنایا تھا۔ تو نے ان کے ساتھ کیا کیا؟"
مہتمم صاحب!
استاد کو وقت پر اور عزت سے تنخواہ دینا صدقہ جاریہ ہے۔ آپ کا 1 روپیہ، 10 روپے بن کر آپ کے نامہ اعمال میں جائے گا۔
اللہ تمام مہتممین کو وسعت اور انصاف کی توفیق دے۔ آمین