حرآ طارق

حرآ طارق

Share

From eyes of a sneaked in stranger ; People , Waves , Gossips and Humor of UOG

23/07/2025

یہ عبدالرحمن ہے ۔
عبدالرحمن پچھلے کئی سال سے پاکستان کی جنگلی حیات ، خصوصی طور پہ سانپوں اور reptiles پہ تحقیق کر رہا ہے ۔ ساتھ ساتھ ، عام عوام میں Wild Rush کے ذریعے ، آگاہی بھی پھیلا رہا ہے ۔

عبدالرحمن سے میری ملاقات ایک سفر کے دوران ہوئی ، جب میرا اپنے گروپ کے ساتھ جنوبی پنجاب کے ضلع ، بہاولپور جانا ہوا ۔ انتہائی سادہ مزاج کا شخص ، ہنس مکھ اور بلا کا ذہین ۔
صرف وہی نہیں ، تمام گھر والے، کیمرہ ٹیم اور گاؤں ، بیحد ملنسار اور مہمان نواز تھے ۔
یوں محسوس ہوتا تھا جیسے زمانہ جدید کی ہوا ، اس گاؤں تک پہنچی ہی نہیں ۔۔۔ کھیتوں میں ہل چلاتے کسان ، نلکا چلا کر پانی بھرتی مٹیارنیں ، گندم کی کٹائی کرتی ریاستی بزرگ عورتیں ، کچے گھروں میں ایک پنکھے ، ایک بلب کے سہارے ہنستے مسکراتے لوگ ، سرسبز باغات ۔۔۔ اور گدلی سی نہر ۔۔۔ سب کچھ ایک حسین سادگی سے معمور تھا ۔

عبدالرحمن نے اس دورے کے دوران ، ہمیں دو کوبرا سانپ پکڑ کر دکھائے ۔ خار پشت ، جنگلی الو اور خرگوش دکھائے ، جو اس نے ریسکیو کیے تھے ۔
اُس نے بتایا کہ عام عوام نے جنگلی حیات کے بارے میں طرح طرح کے مفروضے اور توہمات پال رکھے ہیں ۔ جن میں اکثر ، ان کو قتل کر دینے پر متفق ہیں ۔ جیسا کہ جوڑی کے سانپ میں سے ایک کو مارا جائے ، تو دوسرا بدلا لینے آتا ہے ۔ یا سانپ کی آنکھوں میں تصویر نقش ہو جاتی ہے ۔ الو کا خون جادو میں استعمال ہو گا ، اس لیے نشانہ بن جاتا ہے ۔
مسئلہ یہ ہے ، کہ علم نہ ہونے کی وجہ سے عوام ، فوری ہلاک کر دینے پہ یقین رکھتی ہے ۔ حالانکہ ان میں سے بیشتر اقسام زہریلی ہوتی ہی نہیں ۔
میں نے کہا ، کاٹ جائے تو کونسا مہلت ملے گی یہ پتہ کرنے کی کہ سانپ زہریلا تھا یا نہیں ۔
اُس نے ہنستے ہوئے کہا ، یہ بھی الگ مسئلہ ہے ۔ عوام اول تو آگاہی حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرتی ۔ دوسرا ، کاٹ جائے تو دم درود کروانے لگتی ہے اور اتنی دیر میں زہر اپنا کام کر جاتا ہے ۔ یہ انتہائی خطرناک سماجی رویہ ہے کہ وہ ہسپتال جا کر ویکسین لگوانے کی بجائے ، ٹوٹکوں پہ یقین کرتے ہیں ۔
اُس نے بتایا ، پچھلے دنوں ایک لڑکے کو سانپ کاٹنے پر گھر والے کسی دم درود والے کے پاس لے گئے ۔ اور مطمئن ہو گئے ۔
زہر پھیلتا گیا اور جب تک ہسپتال پہنچے ، حالت بگڑ چکی تھی ۔ آخر کار جس ویکسین کی ایک ڈوز جان بچا سکتی تھی ، اُس کی کئی ڈوز لگیں ، بہت گھنٹے تک لڑکا انتہائی نگہداشت میں موت سے لڑتا رہا ۔ پھر کہیں جان بچی ۔
مگر صحرائی علاقوں میں ویکسین ، تپتے دنوں میں ٹھنڈے پانی کی مانند قیمتی ہوتی ہے ۔ اگر آگاہی ہو ، تو لوگ بروقت ہسپتال کا رخ کریں ۔

عبدالرحمن کے بہت دکھ تھے ۔
اُسے دکھ تھا ، کہ ہسپتالوں میں صحت اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے انتظامات ناکافی ہیں ۔ تحصیل کے ہسپتال تک پہنچنے میں اکثر مریض جان کی بازی ہار جاتے ہیں ۔۔۔
اُسے دکھ تھا کہ پاکستان میں جنگلی حیات کس قدر خطرے سے دوچار ہے ۔ کُچھ تو endangered species ہیں ، جن کا شکار کھلے عام ہوتا ہے اور محکمہ جنگلات و تحفظ جنگلی حیات ، خاطر خواہ قدم نہیں اٹھاتا ۔

لیکن اس کے باوجود اس کا عزم سلامت تھا ۔ وہ گھنٹوں گھنٹوں جنگلی حیات پہ تحقیق کرتا ہے ، اپنی کیمرہ ٹیم کے ساتھ پاکستان کے دور دراز علاقوں میں پائی جانے والی نایاب مخلوقات کو ریکارڈ کرتا ہے اور عوام کو آگاہی دیتا ہے ۔
عبدالرحمن ، پورے پاکستان میں ، جنگلی حیات کے تحفظ کے بارے میں سرگرم لوگوں میں سرفہرست ہے ۔ اور اپنے منفرد شوق سے نہ صرف پاکستان ، بلکہ بیرون ملک سے آنے والے سیاحوں کو بھی جنگلی حیات کے بارے تمام جہتوں سے روشناس کروا رہا ہے ۔

میری خواہش ہے ، حکومتِ پاکستان اس کے کام کو ویسی اہمیت دے جس کا وہ مستحق ہے ۔ اور باضابطہ طور پہ ایسے لوگوں کو ہی محمکہ تحفظ جنگلی حیات میں اعلیٰ عہدوں پر تعینات کرے ۔
کیونکہ یہ وہ کردار ہیں ، جو حقیقتاً صحراؤں میں پلے بڑھے ہیں ، اور اپنے ماحول کا اصل علم رکھتے ہیں ۔
نیز ، عوام کو بھی ان معاملات میں خاص جانکاری حاصل کرنی چاہیے تاکہ وہ محض بے علمی یا مفروضے کی بنیاد پر معصوم جانوں کو ناحق ہلاک نہ کریں ۔

حرا طارق

آپ عبدالرحمن کا کام , اس سوشل میڈیا پیج سے دیکھ سکتے ہیں ۔ انہیں ،
تحقیق کی مد میں اسپانسر بھی کر سکتے ہیں ۔

Wild Rush

31/10/2024

محبت کا آخری خط 🌌

ہم دونوں میں سے کوئی بھی نہیں مرا ، حیرت کی بات ہے ۔۔۔
اور تمسخر کی بات یہ ہے کہ ہم دونوں ہی زندہ رہ گئے ۔۔۔
سمندر کی سطح پہ موٹی ، بدبودار کائی کی تہہ جم گئی ۔۔۔
زیرِ آب ، نظامِ حیات تہس نہس ہو گیا ۔۔۔
جل پریوں کی میتوں کنارے بیٹھے ، ملاح ہاتھ ملتے رہ گئے ۔۔۔
واپسی کے راستے پہ تمام بوڑھوں نے مجھے طنزیہ نظروں سے زخمی کیا ۔۔۔
" ہم نے تو پہلے ہی کہا تھا " والے جیت گئے ۔۔۔
بغاوت کرنے والوں میں سے ایک ، راستے میں ہی گم گیا ۔۔۔۔
گم ہو گیا یا گم کر دیا گیا ، آخر ایسے سوالوں کا جواب کب ملتا ہے ۔۔۔
میرے محبوب ۔۔۔ بقا کی جنگ میں ، کوئی ایک آدھ ہی زندہ بچتا ہے ۔۔۔

مجھے یہ سمجھنے میں دیر لگ گئی کہ تمہاری اور میری بقا الگ الگ ہے ۔
مفاد ، تحفظات ۔۔۔ داؤ پہ لگائے ہوئے اسباب الگ الگ ہیں ۔۔۔
میں نے خدا سے " دنیا " کو مانگا ، تمہیں نہیں ۔۔۔
اس نے وہ دنیا میرے حلق تک اُتار دی ۔۔۔
ایک کم ظرف ہاتھ میں قلم دے کر ۔۔۔ آسمان نے ساری حقیقت بگاڑ دی ۔۔۔
جانے کس کے بغض میں شروع ہونے والی جنگ ختم ہوئی ہے ۔۔۔
تم سمیت ، میں نے اپنے ساتھ بھی بہت غلط کر دیا ہے ۔۔۔
بدل جانے والی نیت نے ساتھ نبھانے کے فیصلے بھی بدل دیے ہیں ۔۔۔۔
آخر کار ، تمہارے دل نے میرا انکار ، میرے بغیر کہے سن لیا ہے ۔۔۔
وفا شعاری کی تمام داستان جھوٹی پڑ گئی ہے ۔۔۔
آخری پڑاؤ میں پہنچ کر ، میں نے تمہاری بجائے ، خود کو چن لیا ہے ۔۔

میرے عزیز ، راتوں میں برف گرنے لگی ہے ۔۔۔
یخ بستہ ہوائیں میری کھڑکی پہ دستک دیتی ہیں ۔۔۔
لیکن اب کی بار میں نے کھڑکی کھول دی ہے ۔۔۔
ذرا سی دیر میں کمرہ سرد پڑ جائے گا ۔۔۔
بالکونی میں کھڑے دونوں سائے مدھم پڑ جائیں گے ۔۔۔
پنگھوڑے میں سویا خواب ، ٹھنڈ سے مر جائے گا ۔
میرے حبیب ۔۔۔ تمہارے ہونے کا شکریہ ۔۔۔ کسی اور جنم میں ، میں تم پہ رحم کروں گی ۔۔۔
اگر کبھی ہم ایک ہی وقت میں پیدا ہو بھی گئے تو ، شرارت سے Hello Stranger نہیں کہوں گی ۔۔۔
ہر عمارت کی تیسری منزل پہ میرے قدم لڑکھڑایں گے ۔۔۔
ہر مشرق ایشیائی چہرہ مجھے تمہاری یاد دلائے گا ۔۔۔
میرے بزرگوں کی دائمی شرمندگی ختم ہوئی ۔۔۔ اج کے بعد محبت کا کوئی خط بھی نہیں لکھا جائے گا ۔۔۔!

حرآ طارق 🌻

Photos from ‎حرآ طارق‎'s post 07/09/2024

ایک ماہ پہلے ، فجر کے وقت ، ابا کی طبیعت اچانک خراب ہوئی ۔ پہلے تو ہمارے ہاتھ پاؤں پھول گئے ۔ پھر طے پایا کہ یہاں گاؤں میں رک کر پریشان ہونے سے کیا حاصل ۔ سي ایم ایچ جہلم چلتے ہیں ۔
افراتفری میں فائلیں اٹھائیں ۔
گاڑی کروائی ۔ اور نکل پڑے ۔

پچھلے دو روز بارش برستی رہی تھی ۔ جلال پور سے آگے ، تمام راستے ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھے ۔ کیچڑ کی وجہ سے سفر خطرناک بن چکا تھا ۔ موٹر سائیکلیں اور چھوٹی گاڑیاں نیچے کچے رستے سے گھوم کے کہیں آگے کر کر سڑک پہ نکلتے تھے ۔
گاڑی یوں لڑکھڑاتی تھی ، دل دہلتا تھا ۔ زبان پہ بے اختیار کلمہ جاری ہو جاتا تھا ۔ یوں محسوس ہو رہا تھا یہ آخری سفر ہے ۔۔۔ ہم منزل تک پہنچیں گے ہی نہیں ۔
زیادہ تکلیف مجھے اس بات کی ہوئی ۔۔۔
ابا کو سفر بے پناہ درد میں مبتلا کر رہا تھا ۔ مریض بندے تھے ۔ دروازے سے ہی ٹکرا ٹکرا کر بازو دکھنے لگ گیا ۔
مجھے زندگی میں کسی سفر سے اتنی نفرت نہیں ہوئی جتنی اُس روز ہوئی ۔۔۔
مجھے زندگی میں کبھی حکومت یا منتخب نمائندوں پہ اتنا غصّہ نہیں آیا ، جتنا اُس روز تھا ۔
کبھی میرا دل اتنی شدت سے ہر زمه دار کو گالیاں دینے کا نہیں کیا ، جیسا اُس لمحے تھا ۔

کیونکہ تب ۔۔۔
تب میرا باپ بیمار تھا ۔
تب ہمیں ہسپتال پہنچنے کی جلدی تھی ۔
تب ہمارے دل خوف سے لرز رہے تھے ۔۔۔

اور اس دن سے اج تک ۔۔۔ میں سوچتی ہوں ۔۔۔ جانے اور کتنے لوگوں کے ماں باپ ۔۔۔ حاملھ عورتیں ۔۔۔ بچے ۔۔۔ اُس سڑک پہ ہسپتال جاتے جاتے دم توڑ چکے ہوں گے ۔۔۔
شیر پور ، پنڈی سید پور ، ڈھیری ، ٹھل ، پنڈ دادن خان ۔۔۔۔ان سب علاقوں کے لوگوں کی دوڑ کہاں تک ہے ? جلال پور تک ?
وہاں علاج ممکن نہ ہو تو یا کھاریاں بھیجتے ہیں یا جہلم ۔
اور عوام نہ جہلم جا سکتی ہے سکون سے ۔۔۔ نہ پنڈ دادن خان ۔

Lillah-Jhelum Dual Canal Road ۔۔۔
ایک بھیانک حقیقت بن چکی ہے ۔۔۔

کتنے ٹرک ہیں ، جو اس روڈ پہ الٹے ہیں ۔۔۔
کتنا سامان ہے جو آج تک ضائع ہوا ہے ۔۔۔ کتنے لوگ ہیں جو حادثات میں موت کے گھاٹ اتر چکے ہیں ۔۔۔
یہ سڑک اور کتنا خراج مانگے گی ?
یہ حکمران اور کس قدر اموات کے بعد ٹھنڈے ہوں گے ?

ایک سفر کم کرنے کی خاطر ۔۔۔ کشتی الٹی لوگوں سے بھری ہوئی ۔ چند افسوس کے پیغامات کے بعد معاملہ ٹھپ ۔
کل ٹرک اُلٹ گیا ۔۔۔ اُس سے پہلے گاڑی کا حادثہ ہوا ۔۔۔
اور اس سے پہلے ، مجھ جیسے نجانے کتنے لوگ اپنے مریضوں کو لے کر رل رہے ہیں ۔۔۔
ہماری بس ہے ۔۔۔ ہمیں وہ پرانی سڑک ہی راس تھی ۔۔۔
جہلم تا پنڈ دادن خان ۔۔۔ دو گھنٹے کے سفر کے خواب دکھا کر ۔۔۔ سفر کو آٹھ گھنٹوں سے اوپر ، موت کا کنواں بنا دیا ہے !

حکام ۔۔۔ دھیان دیں ۔ اس سے پہلے کہ کوئی اور المناک حادثہ ہمارا مقدر بنے!

الٰہی ، تھام میرا دل ، کہیں یہ پھٹ ہی نہ جائے !

حرآ طارق

Pictures Courtesy:
Pind dadan khan updates

20/08/2024

مجھے بھی یہی لگتا ہے ۔۔۔

ضرور اپنی طرف راغب کیا ہو گا ۔۔۔
عورت کا کردار اچھا ہو تو مرد کی ہمت نہیں پڑتی ۔۔۔۔
نو سالہ زینب کی غلطی ہے ۔۔۔

عمر میں بڑے باریش انکل غیر مناسب طریقے سے چھوئیں
تو وہ پیار ہے ۔۔۔
ٹوٹی چوڑیوں ، سوجی آنکھوں والی بچی کی غلطی ہے ۔۔۔

ننگے گوشت پہ تو جانور آ جاتے ہیں ۔۔۔
چھوٹے کپڑے پہننے والی کی غلطی ہے۔۔۔
ڈھکے گوشت کی مہک اشتہا انگیز ہوتی ہے ۔۔۔
برقع اوڑھنے والی کی بھی غلطی ہے ۔۔۔

ایسی پاکباز تھی تو گھر سے باہر نہ نکلتی ۔۔۔
باہر پھرتے مردوں کو دعوت نہ دیتی ۔۔۔
موٹر وے پہ بچوں کے ساتھ رات کو سفر کرنے والی کی غلطی تھی ۔۔۔

جو عورت بازار میں نکلے ، وہ حرافہ ہے ۔۔۔
وہ مردوں کو موقع دیتی ہے ریپ کا ۔۔۔
رزق کمانے والی انسٹھ سالہ بوڑھی اماں کی غلطی ہے ۔۔۔۔

مومیتا کے ماں باپ نے اُسے ڈاکٹر کیوں بنایا ۔۔۔ اور وہ بن گئی تو اسے مافیا کے خلاف آواز اٹھانے کی کیا سوجھی ?
آواز اٹھانے والی کی غلطی ہے ۔۔۔

کُچھ عورتوں کو شوق ہوتا ہے ریپ کروانے کا ۔۔۔
وہ حرکتیں کرتی ہیں ایسی ۔۔۔لہٰذا
مر جانے والی ۔۔۔دفن ہونے والی زنانہ لاش کی غلطی ہے ۔۔۔

میرے حبیب ۔۔۔
تمہاری بیٹی کی غلطی ہے ۔۔۔
میری بیٹی کی غلطی ہے ۔۔۔
گھر کی چار دیواری میں ، بندوق کے زور پہ پامال ہو جانے والی کی غلطی ہے ۔۔۔
ماں کے رحم سے باہر کیوں آئی ۔۔۔
پیدا ہو جانے والی کی غلطی ہے ۔۔۔
ہر بار ، ہر واقعے میں ۔۔۔ عورت کی غلطی ہے ۔۔۔!

حرآ طارق

07/08/2024

The Grave of Uncertainty 🌆
07/07/2024

اماں ۔۔۔?
میں گھٹنوں کے بل ، قبر کے پاس بیٹھا تھا ۔ دور تک پھیلے قبرستان میں ، یا درختوں کے پتے سرسرانے کی آواز تھی ، یا لحظہ به لحظہ اُبھرنے والی ، میری دبي دبی سسکیوں کی ۔۔۔
اور دونوں آوازیں ، سناٹا توڑنے سے قاصر تھیں ۔
وہ سناٹا ، جو میرے دل پہ طاری تھا ۔
آسمان پہ سیاہ بادل چھائے ہوئے تھے ۔۔۔ مگر بارش نہیں برس رہی تھی ۔۔۔ عجیب وحشت ناک منظر تھا ۔

اماں ۔۔۔ میں تھک گیا ہوں ۔۔۔
میں قبر پہ ہاتھ رکھے روئے جا رہا تھا ۔
تین سال ۔۔۔تین سال سے میں ڈگری ہاتھ میں پکڑے ٹھوکریں کھا رہا ہوں ۔۔۔ تیرا لائق بچہ ، ہوٹل پہ لوگوں کا بیرا بن کر دن گزار رہا ہے ۔۔۔ برتن دھوتا ہے ۔۔ اور مہنگے کپڑے پہنے ہوئے لوگوں کو مایوسی سے دیکھتا ہے ۔۔۔

قبر نے کیا جواب دینا تھا ۔۔۔ خاموشی جوں کی توں برقرار رہی ۔۔۔ حبس طاری رہی ۔۔۔منظر پہ بھی ۔ میرے دل پہ بھی ۔ گھٹن ۔۔۔اور وحشت ۔

اماں تُو دعائیں دیتی تھی مجھے ۔۔۔ کہ افسر لگوں میں ۔۔۔
اُٹھ نا ۔ پوچھ نا اپنے رب سے ۔ اُس نے تیری کوئی دعا نہیں قبول کی ۔۔۔
تیرے غریب بیٹے کوئی نہیں ملی سفارش ۔۔۔

میرے آنسو بدستور گرتے جاتے تھے ۔۔۔ اماں کا قبر سے نکلنے کا کوئی دل نہیں تھا ۔۔۔
پیدا ہوا تو باپ کا انتقال ہو چکا تھا ۔ میری ماں نے لوگوں کے گھروں میں جھاڑو پوچا کے کر ، برتن مانجھ کے پالا تھا مجھے ۔ ذہین تھا ۔ ہمیشہ کوئی نہ کوئی پوزیشن تو لے ہی لیتا تھا ۔ استاد ہمیشہ تعریف کرتے تھے ۔
شاید تبھی اماں کو بھی خوش فہمی ہو گئی کہ میں افسر بنوں گا ۔ روز میں گھر آ کر سونے سے پہلے اُسکی ٹانگیں دباتا ۔ تو وہ بیچاری ایک ہی دعا دیتی ۔ " پوت ، رب تنوں افسر لاوا"
یہ البتہ اُس نے نہیں بتایا کہ رب ، مجھے کب لگائے گا افسر ۔۔۔ اس ہی زندگی میں ? یا کوئی اور زمانہ ۔
کیونکہ میں تو پچھلے تین سال سے جوتیاں ہی چٹخا رہا تھا ۔ زمانہ بدل گیا تھا ۔ میری ڈگری کی وقعت ہی نہیں تھی ۔ اور شعبہ بدل کر نیا پڑھنے ، پھر میدان میں اترنے کا وقت نہیں بچا تھا ۔۔۔
تکلیف ده تھا ۔۔۔ خود سے کند ذہنوں کو آگے نکلتے دیکھنا ۔۔۔
دوسروں کو ۔۔۔بڑھتا دیکھنا ۔۔۔
حاسد بن چکا تھا میں ۔۔۔۔
زندگی اِس قدر مایوس کن ہو چکی تھی ۔۔۔ کہ شاید میری اپنی خواہش تھی ۔۔۔ کُچھ چمڑ ہی جائے مجھے ۔۔۔ کُچھ ہو جائے ۔۔۔ اور کُچھ نہیں تو اتنے رونے دھونے سن کر اماں ہی مجھے قبر میں گھسیٹ لے ۔۔۔

وہ تو نہیں نکلے گی باہر ۔۔۔ اُسکا تو واسطہ نہیں اس جہاں سے ۔ کسی کی آواز آئی ۔
تُو خود کیوں نہیں نکلتا اپنی قبر سے باہر ?
میں نے مڑ کر نہیں دیکھا ۔

ملگجے کپڑوں میں ملبوس ، کرخت سے تاثرات والا بوڑھا ، کھڑا مجھے گھور رہا تھا ۔۔۔
وہ اپنی لاٹھی گھسیٹتا ہوا آیا ، اور مجھ سے ذرا فاصلے پہ گرنے کے انداز میں بیٹھ گیا ۔

ذرا دیر خاموشی چھائی رہی ۔
پھر اس نے مجھے اپنی لاٹھی نما چھڑی سے ٹہوکا دیا ۔۔۔
اُٹھ ، نامراد ۔ سیدھا ہو کے بیٹھ ۔
نوکری نہیں ملی نا ۔ لولا لنگڑا ہو گیا ہے ? یا کوڑھ میں مبتلا ہے ?

میں نے نفرت سے اُسے دیکھا ۔۔۔ بوڑھے خبطی شخص سے کیا بحث یا بدتمیزی کرتا ۔ پیچھے ہو کر بیٹھ گیا ۔
پتہ نہیں ، یہ بوڑھا اصلی تھا بھی یا قبرستان کا فریب ۔ بزرگ تو کہتے تھے ، شام ڈھلے ایسی جگہوں پر جانا مناسب نہیں ہوتا ۔۔۔
میں تو پھر مغرب کے بعد بیٹھا تھا ۔۔۔

دن تو ، بیبا ۔۔۔ آتے ہیں برے ۔
طریقہ ہی یہی ہے رب کا ۔ بے یقینی کی مار مارتا ہے سب کو ۔۔۔
کہ برے دن آئیں گے ۔۔۔ بُرا ہو گا ۔۔۔ پھر مزید بُرا ہو گا ۔۔۔ مزید بُرا ہو گا ۔۔۔ اور جب تجھے لگے گا ، اس سے زیادہ تو بُرا ہو ہی نہیں سکتا تو ۔۔۔

وہ بات کرتے کرتے رکا ۔ میں مڑ کر دیکھنے لگا ۔

تو مزید بُرا ہو جائے گا !

وہ آنکھ مار کر ہنسا ، اس قدر شدت سے کہ اُسے کھانسی لگ گئی ۔ میرا دل چاہا ، جوتے سے اُسکی اکلوتی آنکھ بھی پھوڑ دوں ۔ لیکن میں نے منہ پھیر لیا ۔ اپنا سر قبر سے ٹکا لیا ۔

"بیبے!
اُس نے سرگوشی کی ۔۔۔
یہ نہ سمجھنا کہ ایک نوکری پہ زندگی ختم ہے ۔۔۔ یا ایک آزمائش پہ امتحان ختم ہے ۔۔۔
زندگی ۔۔۔ تمام عمر تجھے یُونہی پٹخ پٹخ کے مارے گی ۔ اور یہ تیرے ساتھ ہی نہیں ہے ۔۔۔جن لوگوں کی زندگی تجھے پرسکون لگتی ہے ۔۔۔ اُنکی بھی یُونہی چیخیں نکلتی ہے۔ ۔۔۔ سب کا اپنا اپنا وقت ہے ۔۔۔
ہر بندے کی ۔۔۔ تکلیف الگ ہے ۔۔۔
ظرف کے مطابق آزمائش الگ ہے ۔۔۔
تیری لڑائی، دنیا سے نہیں ہے ۔۔۔ تیری لڑائی اُس بے یقینی سے ہے ۔۔۔جو تیرا گلا گھونٹ رہی ہے ۔۔۔ تجھے باور کرا رہی ہے کہ اب بہتر دن نہیں آئیں گے ۔۔۔
یہ بے یقینی ۔۔۔ قبر ہے تیری ۔۔۔ جس میں تُو سر لپیٹ کر پڑا ہے ۔۔۔"

حبس بڑھ رہی تھی ۔ ماحول کا طلسم بھی ۔۔۔ میرے اندر کی وحشت بھی ۔ مگر میں دھیان سے سن رہا تھا ۔

بےچینی کے ۔۔۔مایوسی کے دن آئیں گے ۔۔۔ گھبرا کر رو پڑنے کا وقت آئے گا ۔۔۔ خود اذیتی ، خود نفرتی لمحے بھی ہوں گے ۔۔۔
جس قدر لچک ہے تجھ میں ، ٹوٹنے سے پہلے تک ، تیرا رب ، تجھے موڑے گا ۔۔۔
ممکن ہے توڑ بھی دے ۔۔۔
ممکن ہے بس معمولی سی روشنی باقی رکھے ۔۔۔
کہ نوکری نہ دی ، تو بھی سر پہ چھت سلامت رکھی ۔۔۔
چھت چھین لی تو ہاتھ پاؤں سلامت رکھے ۔۔۔
جسمانی معذوری دی تو کوئی مہربان دل ساتھ چپکا دیا ۔۔۔
بس اتنی روشنی کہ آج کی رات گزر جائے ۔۔۔

مجھے خوف سا آنے لگا ۔۔۔
وہ آسمان کو دیکھتے ہوئے یوں بول رہا تھا ۔۔۔ جیسے میرے ساتھ موجود ہی نہیں ۔۔۔۔
دھیرے دھیرے ، نرم سی ہوا چلنے لگی تھی ۔۔۔

"جھلیا ۔۔۔
یہ تو رب کا کھیل ہے ۔ مزہ آتا ہے اُسے یوں ۔ نوازتا ہے ۔۔۔ بے پرواہ کرتا ہے ۔۔۔ پھر بے یقینی مسلط کر دیتا ہے ۔۔۔
کھیتیاں اگاتا ہے ۔۔۔ مغرور کرتا ہے ۔۔ پھر ایکا ایکی میں بارشیں روک لیتا ہے ۔۔۔"

میں خموش رہا ۔۔۔ قبر کے گرد بازو حائل کیے رکھے ۔۔۔

تُو بھی رب کی لگائی ہوئی کھیتی ہے ۔۔۔"
اُس نے چھڑی کے سہارے اٹھتے ہوئے کہا ۔
"وہ تجھے زرخیز کرے گا ۔۔۔ بڑھوتری دے گا ۔۔۔ پھر ساکن کر دے گا ۔۔۔
جلا کر خاک کر دے گا ۔۔۔امیدیں بھسم کر دے گا ۔۔۔
۔اور کسی روز ۔۔۔ جب تجھے خبر بھی نہیں ہو گی ۔۔۔ بارش برسا کر زندہ بھی کر دے گا ۔۔۔"

مگر تجھے ۔۔۔ باہر رہنا ہے مرقد سے ۔۔۔ گلے نہیں لگنا مرے ہوئے کے ۔۔۔

ہوائیں یوں چلیں ، جیسے کوئی غضب ہو گیا ہو ۔۔۔بادل گرجے ۔۔۔بجلی کڑکنے لگی ۔ میرا دل خوف کے مارے باہر آنے کو تھا ۔

اُٹھ !
اس نے لاٹھی پوری قوت سے میری کمر میں ماری ۔ میں تکلیف سے بلبلا کر سیدھا ہوا ۔

اپنی قبر سے باہر نکل !

روشنی کا کوئی چھپاکا ہوا ۔۔۔ پھر تاریکی چھا گئی ۔۔۔
یکایک بادلوں نے اپنے دہانے کھول دیے ۔ میرے وجود پہ بارش کے قطرے گرے تو میں چونک کر اٹھا ۔۔۔ جیسے صدیوں بعد زندہ ہوا ہوں ۔۔۔
جیسے دل پہ سکینہ نازل ہو رہا ہو ۔۔۔
میں نے دیکھا ۔۔۔دور دور تک کوئی نہیں تھا ۔۔۔ منظر سنسان تھا ۔۔۔ بارش پورے زوروں سے برس رہی تھی ۔
اور میں ۔۔۔
میں اپنی خود ساختہ قبر سے باہر نکل رہا تھا !

حرآ طارق ♥️

02/08/2024

The horrors of Career Dilemma

بچپن سے بارہویں جماعت تک ۔۔۔ یہی سنتے آئے ، کہ دنیا میں دو ہی فیلڈز ہیں ۔ یا ڈاکٹر بنو ، یا ٹیچر ۔
انجینئرنگ کا ذکر ، دیہی علاقوں میں تھا ہی نہیں ۔
بارہ پڑھ کر بھی ، ہمیں کوئی خبر نہیں تھی کہ پری میڈیکل کے بعد کہاں داخلہ ممکن ہے ۔ دوسروں کی دیکھا دیکھی Mcat اور ایٹا کا امتحان تو دے دیا ۔ مگر اتنی عقل نہیں تھی کہ اسے کہاں استعمال کیا جا سکتا ہے MBBS کے سوا ۔
کوئی پتہ نہیں تھا کہ کارڈیالوجی کوئی چیز ہوتی ہے ۔ فزیکل ہیلتھ کوئی فیلڈ ہے ۔

ایک سال انتظار کیا ، زندگی گلزار ہے پڑھ کر جن چڑھا کہ IR کرنا ہے تو گجرات اور اسلام آباد apply کر دیا ۔ تب اتنا بھی علم نہیں تھا کہ اسلام آباد میں ایک یونیورسٹی نہیں ہے ، کئی ہیں ۔ اور ہر یونیورسٹی میں ایک ہی سیاست اور بین الاقوامی امور سے متعلقہ شعبے نہیں ، کئی ہیں ۔
یہ خبر بھی نہیں تھی کہ CSS کرنے کے لیے IR کرنا ہی لازمی نہیں ۔ ڈگری کوئی بھی ہو ، تیاری کر کے امتحان دیا جا سکتا ہے ۔

مزید مایوس کن حالت ۔ IR کرنے کے دوران بھی خبر نہیں رکھی کہ صرف grade لینا اہم نہیں ۔ غیر نصابی سرگرمیوں میں حصہ لینا کتنا اہم ہے ۔ کہیں باہر سکالرشپ apply کرو تو وہ پوچھتے ہیں ، ہاں جی آپ نے ڈگری کے دوران کب کب لیڈرشپ کا ثبوت دیا ہے ۔

اور سکالرشپ کا دکھ بھی الگ ہے ۔ ڈگری کے دوران اکثر عوام کو خبر ہی نہیں ہوتی کہ حکومت اور کئی مفاد عامہ کے ادارے میریٹ سکالرشپ دیتے ہیں ۔ PEEF ہے ۔ ہمدرد سکالرشپ ہے ۔ اورنج فاؤنڈیشن سکالرشپ ہے ۔
پتہ ہی نہیں ۔

یہ صرف میرا قصہ نہیں ہے ۔ اسلام آباد ، لاہور جیسے بڑے شہروں کو چھوڑ کر پاکستان کے سارے پسماندہ علاقوں میں career counseling کا کوئی تصور ہی نہیں ہے ۔
بچہ خود جو کر سکتا ہے ، کر لے ۔ یا اُسکے کوئی احباب میں سے رہنمائی کر دے تو کرے ۔
خود بچے کو خبر بھی نہیں ہو گی کہ اُسکا شوق کیا ہے ، اُسے کس فیلڈ میں جانا ہے ۔
سکول کالج ، بچوں کو اس ہی دوڑ میں لگا کر رکھتے ہیں کہ نمبر زیادہ لینے ہیں ۔ آگے کس طرف پڑھنا ہے ، فائدہ کیا ہے اُسکا ، سکوپ کیا ہے ، اس پہ کوئی بحث ہی نہیں ہے ۔

کیا آپ کو معلوم ہے کہ یونیورسٹیوں میں داخلہ لیتے وقت ایک طریقہ quota system کا ہے ، جس میں نشستیں محفوظ رکھی جاتی ہیں ، حفاظ ، شہداء کے بچوں ،کھیلوں میں حصہ لینے والے بچوں ، مقررین اور ، اُس ہی تعلیمی ادارے میں کام کرنے والے ملازمین کے بچوں کے لیے ?
اُن پہ میریٹ کم ہوتا ہے ۔
پھر اکثر اوقات شهروں کا کوٹہ بھی الگ ہوتا ہے ۔ بعض اوقات کسی خاص کوٹے کے ساتھ فیس میں رعایت بھی ہوتی ہے ۔ لیکن ہمارے بچوں کو open merit کا بھی ڈھنگ سے مطلب نہیں پتہ ۔

پھر ۔۔۔
کیا آپ کو خبر ہے دسویں کے بعد YES scholarship ، بارہ کے بعد Turkiye Burslari اور BS کے دوران Ugrad exchange program آتا ہے ? ان اسکالرشپس میں طلباء کی رہائش ، سفر اور پڑھائی کا خرچہ بیرونی حکومت اٹھاتی ہے ۔
یہ تو بیرون ملک کے لیے ہے ، ملک کے اندر بھی PEEF ، ہمدرد اور کئی طرح کے میریٹ ، need base scholarship ملتے ہیں ۔ فوجیوں کے بچوں کو الگ وظیفہ ملتا ہے لیکن ہمیں خبر ہی نہیں ہوتی کہ apply کرنا ہے ۔

کیا آپ کو پتہ ہے کہ ڈاکٹر ، انجینئر بننے کے سوا ، aeronautics اور سپیس ٹیکنالوجی جیسے شعبے بھی ہیں ? ابھی AI اُبھر رہا ہے تو اس سے متعلق specialization بھی فائدہ مند ہو سکتی ہے ?

امریکہ ، برطانیہ جیسے ملکوں میں خصوصی طور پہ ایک کیریئر کاؤنسلر ، ہر ہائی سکول میں ہوتا ہے جو بچوں کو بتاتا ہے کہ اگر اُنہیں فلاں یونیورسٹی میں داخلہ لینا ہے تو کون کون سے مقابلوں میں حصہ لیں اور کتنے نمبر درکار ہیں ۔
نیز یہ کہ اُن کی دلچسپی کے مطابق ، اُن کے لیے کونسا شعبہ سب سے بہترین رہے گا پڑھائی کے لیے ۔۔۔
پاکستان میں عوام بارہ سال لگا کر fsc کرتی ہے ، دو سال mcat پہ ضائع کرتی ہے ۔ پھر تنگ آ کر کسی non technical degree میں مزید چار سال لگانے لگتی ہے ۔

مجھے لگتا ہے ۔۔۔پاکستانی تعلیمی اداروں میں کیریئر کاؤنسلر کا کردار ہونا اشد لازمی ہے ۔ تاکہ بچے پھرکی کے چوہے کی طرح محض نمبروں کی دوڑ میں نہ رہیں ۔ جو مواقع دنیا فراہم کر رہی ہے ، کم سے کم اپنے حصے کا سکون اور پائیدار راستہ اختیار کر سکیں ۔
یہی نہیں ، والدین کی بھی ptms میں الگ سے کونسلنگ ہونی چاہیے ۔ کہ اگر بچہ میڈیکل نہیں کر پاتا ، تو نفسیات کا مریض نہ بنے ۔ کسی اور اچھے شعبے کا انتخاب کر سکے ۔

حرآ طارق

01/05/2024

Channelizer 🌐
1 May, 2024

اسٹرابیری شیک کے گھونٹ بھرتے ، سارے جہاں کی بیزاری چہرے پہ سجائے ، میں نے گاڑی کی کھڑکی سے باہر جھانکا ۔ دور ایک ریڑھی والے کے پاس ، جوتوں کے ڈھیر کو اُلٹ پلٹ کرتا مرد ، مکمل مگن تھا ۔ مختلف جوتے اٹھاتا ، پہن کر دیکھتا ۔ پھر جھک کر ریڑھی والے سے کوئی بات کرتا ۔ ہنسی میں فوارے بتاتے تھے ، کوئی نہ کوئی لطیفہ پھوڑ رہا ہو گا ۔

میں نے فون پہ پیغام لکھا ۔ تمہیں یاد ہے مجھے کتابیں خریدنی ہیں ? واپس آو ۔ اور بھیج دیا ۔
اس نے فون جیب سے نکال کر دیکھا ، اور مزے سے دوبارہ واپس رکھ کر ، جوتے اٹھا اُٹھا کر دیکھنے لگا ۔
بد تمیز ۔ میں سلگی ۔ اب وہ ریڑھی بان سے گلے مل رہا تھا ۔
چند منٹ بعد وہ ہنستا مسکراتا واپس آیا ۔
یہ دیکھو ! فاتحانہ انداز میں میرے سامنے شاپر کیا ۔ بھورے رنگ کی کھیڑی ۔ اور ایک سلپرز کا جوڑا ۔
بائیس سو میں مارے ہیں میں نے ۔
میں نے افسوس سے دیکھا ۔ بیوقوف بنا گیا ہے وہ تمہیں ۔
تم کتنے کا لاتی? اُس نے پوچھا ۔
اٹھارہ سو سے اوپر ایک روپیہ نہیں دیتی میں ۔ ان کی فکس قیمت نہیں ہوتی ۔ تمہیں تو جو جتنے بولے ، نکال دیتے ہو ۔ بھاؤ تاؤ نہ سیکھنا کبھی زندگی میں ۔

ہے نا? میں کتنا چول ہوں ۔ تم کتنی سمجھدار ہو ۔ آؤ چائے پینے چلیں ۔
اُس نے ایک کان سے سن کر دوسرے سے اڑائی ۔ میں نے بُرا سا منہ بنایا ۔ اور گاڑی چلا دی ۔ ہم نے خیر ، جا کر کتابیں خرید لیں ۔ سامان اٹھا لیا ۔ گروسری کر لی ۔ امن رہا ۔

واپسی پہ مین مارکیٹ ذرا آگے جا کر ایک موڑ مڑتے ہوئے اُسے کوئی دکان نظر آئی تو پھر چِلّا اٹھا ۔ گاڑی روکنا !
میں نے گھبرا کر بریک لگائی ۔ کیا ہوا ?
پر وہ اُتر کر یہ جا وہ جا ۔
میں تپ گئی ۔
سڑک کنارے ، ایک بوڑھا ، بكسہ اور پالش لے کر بیٹھا تھا ۔ وہ اُتر کر اُس کے پاس گیا ۔ میں نے گاڑی ایک طرف پارک کی ۔ اور اس کے یہاں سے وہاں چکر دیکھنے لگی ۔ جوتے پالش کروا کے ، وہ ایک سبزی ، پھل کے ٹھیلے پہ کھڑا ہو گیا ۔ پھلوں کے تین شاپر اٹھا کر ، وہ ایک اور نوجوان کے پاس چلا گیا جو ہاتھ کی بنی ہوئی تفافتی ٹوپیاں بیچ رہا تھا ۔
میں یہ چک پھیریاں خاموشی سے دیکھے گئی ۔
لوگ آ جا رہے تھے ۔ بازار کی رونقیں عروج پہ تھیں ۔ سورج کی روشنی آنکھیں چندھیائے دیتی تھی ۔ خلقت تھی ایک ، جو بازار میں یہاں سے وہاں پھیلی ہوئی تھی ۔
چمچماتے شیشوں والی دکانیں ۔ اُن میں لگے دیدہ زیب کپڑے ۔ جوتے ۔ جگمگاتے سائن بورڈ ۔
لوگ ۔ ہنستے مسکراتے ۔ مگن لوگ ۔ جو خوبصورت کاغذی تھیلے اٹھا کر اُن دکانوں سے نکل رہے تھے ۔ اُن کے سامنے ، ٹھیلے والے ، چٹائی پہ بیٹھ کر کام کرنے والے کس قدر بدنما لگ رہے تھے ۔ جیسے کانچ کے نازک سے گھر کے باہر کوئی گندا ، میلا سا بچہ بیٹھا ہو ۔
پیچھے سے کسی نے ہارن مارا ، تو میں چونکی ۔ میڈم سامنے پارکنگ کی اجازت نہیں ہے ۔ آواز آئی ۔
میں نے گاڑی آگے بڑھا دی ۔

میں روسٹرز سے آگے ، ویلے میں ہوں ۔ آ جانا ۔
پیغام لکھ کر بھیجا ۔
بیس پچیس منٹ بعد وہ گاڑی میں آ کر بیٹھا اور فون چلانے لگا ۔
ہاتھ خالی ۔
سامان کہاں کیا ? میں نے حیرت سے پوچھا ?
کونسا سامان ? وہ بدستور فون چلا رہا تھا ۔
جو تم اتنی بے تابی سے لینے گئے تھے ?

وہ ? اچھا ۔ وہ میرا نہیں تھا ۔
کس کا تھا ? میں نے تحمل سے پوچھا ۔

کُچھ لوگوں کا ۔ میں پہنچانے گیا تھا ۔ اُس نے فون سے نظر اٹھا کر دیکھا ۔ میں کینہ توز نظروں سے فون کو ہی گھور رہی تھی ۔
اچھا رکھ دیتا ہوں ۔ وه کھسیا گیا ۔
دیکھو ، ایسے ہے ۔ ان دنوں میرا کام رکا ہوا ہے ۔ تو مجھے یاد آیا کہ میں نے بھی لوگوں کا سامان روکا ہوا ہے ۔

کیسے ? میں نے گاڑی گھر کی طرف موڑ دی ۔

مثلاً ، میں نے اس جوتے والے کے پیسے روک رکھے تھے ۔ اُس سبزی والے کے بھی ۔ ٹوپی بھی نہیں خریدی تھی میں نے ۔

مطلب ? میرا دھیان سڑک کی طرف ہی تھا ۔

مجھے لگتا ہے کائنات energy سے چلتی ہے ۔ ہر کام میں ، توانائی کا استعمال ہے ۔ جب کبھی ہم energy روک لیتے ہیں ، تو ہمارے کام بھی رک جاتے ہیں ۔
پتہ ہے میں کیا کرتا ہوں ۔ میں پھر اس energy کو channelize کرتا ہوں ۔ کسی ریڑھی بان سے جوتے خریدے ۔ کسی سے ٹوپی ۔ کسی سے پھل ۔ کسی سے جوتے پالش کروا لیے ۔
میں مال کو invest کرتا ہوں مارکیٹ میں یوں ۔ جو پیسے اُن لوگوں کو ملتے ہیں ، وہ اُن سے کوئی اپنی ضرورت پوری کرتے ہیں ۔ اُن کا ضرورت پوری کرنا کسی اور کی مجبوری آسان کرتا ہے ۔ توانائی بحال ہوتی ہے ۔ پیسہ گردش میں آتا ہے ۔ اور گھومتے گھامتے میرے پاس واپس پہنچ جاتا ہے۔

انویسٹمنٹ کی تو سمجھ آئی ۔ پھر سامان کرتے کہاں ہو پھر جو خریدا ہے ? میں نے بیک ویو مرر سے اُسے دیکھا ۔

پھل پالش والے پاس چھوڑ آیا خاموشی سے ۔ برگر دو خریدے ، ٹوپی والے کے ساتھ بیٹھ کر ملک کے حالات پہ تبصرے کرتے ہوئے کھایا ۔ ایک اُسے دیا ۔ جوتے ، شام کو حکمت چاچا کو دوں گا ۔ کہ لنڈے سے لایا تھا ، سیل لگی تھی ، گیارہ سو کے ملے ۔

تمہاری مان کے چلے تو بندہ ایک دن میں سڑک پہ آ جائے ۔ میں نے سر جھٹکا ۔
میں سڑک سے ہی اٹھا ہوں ۔ اُس نے کندھے اُچکائے ۔
یہ چوک ، جہاں سے تم کتابیں خرید کر لائی ہو ۔ میں یہاں عینکیں ، ہیڈ فون اور والٹ بیچتا تھا چل پھر کر ۔ یہ نوکری اور پڑھائی تو اب کی باتیں ہیں ۔
میں نے بے یقینی سے اُسے دیکھا ۔
اور یقین کرو ، میرا بڑا دل کرتا تھا یہاں کا انڈے والا برگر کھانے پہ ۔ پر منافع ہی اتنا کم ہوتا تھا ۔ کہ کھانے والے چونچلے پورے نہیں ہوئے تب ۔
کیونکہ اول تو لوگ پھیری والوں سے ایسی چیزیں خریدنے کی بجائے brands کی طرف ملتفت ہوتے ہیں ۔ اور وہاں وہ قیمت بارے بحث نہیں کرتے ۔ یہاں خریدیں بھی تو ہماری اپنی قیمت خرید پہ ۔ پھر اتنا زیادہ تو نہیں بچتا کہ ضرورت سمیت ہر خواہش بھی پوری ہو ۔

اب بس ڈائریکٹ پیسے دے کر کسی کی مالی مدد نہیں کرتا ۔ لیکن ایک اضافی خریدار بن کر جاتا ہوں مارکیٹ میں ۔
بازار سے عام دکاندار ، ریڑھی بان جتنی بھی قیمت طلب کر لے ، خوش ہو کر خرید لیتا ہوں ۔ قیمت کم بتا کر کسی ملازم کو بیچ دیتا ہوں کہ سیل سے ملی ہے ۔
کام رکا ہوا ہو ، تو آ کر کسی کا کام بڑھا جاتا ہوں ۔۔۔
کسی رکشے میں خوامخواہ ہی سفر لیتا ہوں ۔۔۔۔
جہاں کسی سے خریداری کر کے ، کسی اور کو رازداری میں تھما آتا ہوں ۔
اور کبھی کبھی ۔۔۔ یُونہی بس آ کر ، کسی دیہاڑی دار کے پاس بیٹھ کر وہ برگر کھاتا ہوں ، جو آج سے پندرہ سال پہلے مجھے نصیب نہیں ہوا ۔

میرے پاس بولنے کے لیے کُچھ نہیں تھا ۔ یہ بھی نہیں کہ عجیب آدمی ہو ۔۔۔

میں فون چلا لوں ? مجھے آفس سے e-mails آ رہی تھیں کُچھ ?
اُس نے معصومیت سے پوچھا ۔
میرے گلے میں کوئی گلٹی ابھر کر معدوم ہوئی ۔۔۔ سر ہلاتے ہوئے میں نے دیکھا ، اُس نے سر پہ سندھی ٹوپی پہن رکھی تھی ۔۔۔ اُس کے جوتے ، باہر کے سورج سے زیادہ چمک رہے تھے ۔

حرآ طارق

09/03/2024

ہیملوک 🥀

زہر تھی ۔۔۔
میری موجودگی ۔۔۔
پانیوں میں گھلی تو قضا بن گئی ۔۔۔
جھڑ گئے پھول پودے ۔۔۔
سیاہ ہو گئے پینے والے ۔۔۔
میں آکاس تھی ۔۔۔
پیڑ کو کھا گئی ۔۔۔

قابلِ حیف ہے ۔۔۔
نظر اٹھنا ۔۔۔
اُٹھا کر ، کسی اور کو دیکھنا ۔۔۔
قابلِ خوف ہے ۔۔۔
بے وفائی کا فطرت میں رچنا ۔۔۔
محبت کو اك سیب کے ذائقے کے لیے ، تولنا ۔۔۔
اور سب سے زیادہ تو دکھ کی یہی بات ہے ۔۔۔
حوا کو عیش سے زیادہ ، ممنوعہ پھل راس ہے ۔۔۔
بڑھ گئے ۔۔۔
حد سے آگے ۔۔۔لٹیرے کئی ۔۔۔
اور تیرے مرے بیچ کی ڈوری جھٹ کاٹ دی ۔۔۔
اِک گناہ کی نحوست اٹھی ۔۔۔
عیش پر چھا گئ ۔۔۔
تم نہ آئے پنل ۔۔۔
اور سسی کسی غیر کو ۔۔۔ بھا گئی ۔۔۔۔

حرآ طارق

21/02/2024

The Right equation 🧸
20/02/2024

ساری رات ، طوفانی ہوائیں شور مچاتی رہیں تھیں ۔ اور صبح کے وقت
تیز بارش برس رہی تھی ۔ میں اپنے آپ کو سفید لباس پہننے پہ کوستے ہوئے ، تیز تیز سیڑھیاں پھلانگ کر اسٹیشن پہ پہنچی ۔ سفید جوتوں اور سفید پتلون کا ستیاناس ہو چکا تھا ۔
سیٹ پہ بیٹھ کر میں نے افسوس سے خود کو دیکھا ۔ جب پتہ تھا بارش ہو رہی ہے تو کیا ضرورت تھی حرا یہی کپڑے پہننے کی ? اور میرے نئے قیمتی جوتے ۔ کیچڑ میں لتھڑ چکے تھے ۔

دور ہو کر بیٹھیں ۔ مجھے یہ کپڑے باقی دن بھی چلانے ہیں ۔ حد ہوتی ہے !

کسی خاتون کی کٹیلی آواز میرے کانوں سے ٹکرائی تو میں نے چونک کر دیکھا ۔ سامنے والی سیٹ پہ بیٹھی ، وہ مٹیالے سوٹ والی خاتون اپنے ساتھ آ کر بیٹھنے والی عورت پہ بگڑ رہی تھیں ۔

جب آپ کو پتہ ہے آپ کے کپڑے گیلے ہیں ، دوسرے کے لازمی برباد کرنے ہیں ?

دوسری عورت ، جو بڑی سی چادر کی بکل مارے ہوئی تھی ، شرمندہ ہو کر ادھر اُدھر مدد طلب نگاہوں سے دیکھنے لگی ۔ صاف واضح تھا ، اُسکے لیے یہ صورتحال پریشان کن تھی ۔

باجی ۔ میں ۔ میں تو دور ہو کر بیٹھی ہوں آپ سے ۔
وہ پنجابی لہجے میں صفائی دینے کی کوشش کرنے لگی ۔

آپ نے میرا سوٹ ہی خراب کر دیا ہے ۔ برقع گیلا ہے آپ کا ۔
خاتون بدستور تلملائی ہوئی تھیں ۔ مسافر خاموشی سے جھگڑا دیکھ رہے تھے ۔

عورت نے اپنی نم آنکھیں چادر سے رگڑیں ۔ سیٹ سے اُٹھ کر ذرا آگے آ کر ، ہینڈل کا سہارا لے کر کھڑی ہو گئی ۔
خاتون نے ہنکارا بھرا ۔ اور منہ پھیر لیا ۔
مسافر ، اب بھی خاموشی سے ایک دوسرے کو چور نظروں سے دیکھ رہے تھے ۔

ایک مٹی ۔۔۔ ایک آسمان ۔۔۔ مختلف لوگ ۔۔۔ اجنبی ۔۔۔
اجنبی جو اکٹھے سفر کر رہے تھے ۔۔۔
ایک اجنبی ، دوسرے اجنبی کو شرمندہ کر رہا تھا ۔۔۔ حالانکہ بارش تو سب پہ اُتری تھی ۔۔۔ کپڑے تو سب کے ہی خراب ہوئے تھے ۔۔۔۔
جوتے تو سب کے ہی کیچڑ سے اٹے ہوئے تھے ۔۔۔
مہیب خاموشی تھی ۔۔۔ بے چینی تھی ۔۔۔ جیسے کُچھ ۔۔۔ کُچھ غلط ہو اور ہمیں پتہ ہو ۔۔۔ لیکن ہم ٹھیک نہ کر پا رہے ہوں ۔۔۔
جیسے الجھن ہو ، سلجھ نہ رہی ہو ۔۔۔
جیسے جواب پتہ ہو ، لیکن سوال حل نہ ہو رہا ہو ۔۔۔

آنٹی?
میرے ساتھ بیٹھی ہوئی لڑکی اپنی نشست سے کھڑی ہو گئی ۔ میں نے گردن موڑ کر دیکھا ۔
یہاں بیٹھ جائیں ۔
نہیں ۔ نہیں بیٹا ۔ وہ بوکھلا گئی ۔

بیٹھ جائیں ۔ وہ ملائمت سے مسکرائی ۔ اور اُس عورت کا ہاتھ پکڑ کر اسے میرے برابر بٹھا دیا ۔ ایسے ۔۔ جیسے پزل کے ٹکڑے اپنی اپنی جگہ پہ آ کر گرے ۔

عورت نے فوراً اپنا برقع سمیٹا ۔ جیسے اُسے خوف ہو میں بھی بگڑ پڑوں گی ۔

آنٹی ۔ پرسکون ہو کر بیٹھیں ۔ میں نے کہا ۔

بیٹا میرا ۔۔۔ وہ برقع گیلا ۔

نہیں آنٹی ۔ ٹھیک ہے ۔ بارش ہے باہر ۔ آپ پرسکون ہو کر بیٹھیں ۔ میں نے نرمی سے اُسے تسلی دی ۔

ہینڈل کا سہارا لے کر کھڑی لڑکی نے آنکھوں ہی آنکھوں میں میری طرف مسکراہٹ اچھالی ۔ میں بھی مسکرا دی ۔ایسے ۔۔۔ لمحے کے دسویں حصّے میں ۔۔۔ سوال حل ہو گیا ۔۔۔۔سکون سا اُتر آیا منظر میں ۔
وہ لڑکی سمجھدار تھی ۔۔۔
اُس لڑکی کو سوال حل کرنا آتا تھا ۔۔۔
مسافر ، خاموشی سے ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے ۔۔۔
عورت کے پریشان تاثرات ، اب تشکر کے جذبات میں بدل رہے تھے۔
دن خنک تھا ۔ باہر تیز بارش برس رہی تھی ۔۔۔ چند اجنبی اکٹھے میٹرو میں سفر کر رہے تھے ۔۔۔♥️

حرآ طارق

Photos from ‎حرآ طارق‎'s post 09/02/2024

Facts Check!
Let's be honest.

دوران الیکشن ، عمران خان جیل میں تھا ۔ پارٹی پہ پابندی عائد ، انتخابی نشان بھی نہیں ملا پرانا ۔
اب بلے کا انتخابی نشان نہ دینا ، الگ چال ہے ۔ ہمارے حلقے میں بوڑھیاں پوچھتی پھر رہی تھیں ، پتر ، عمران دا نشان کی اے?

اب آبادی کے ایسے طبقے کو ، جو ضعیف ہے ، یہ پریشانی تو پڑی رہی کہ پہلے بلا یاد رکھ کے جاتے تھے ، مہر لگا دیتے تھے ۔ اب والا نشان کیا ہے ۔
پھر بھی PTI نے خاطر خواہ آگاہی پھیلائی انتخابی نشانات کے بارے ۔

جلسے جلوس بھی نہیں ہوئے ۔ معمول کے مطابق کمپئین بھی نہیں چلی ۔ یہ بھی حقیقت تھی کہ یہاں سے کوئی کارکن نکلے گا ، وہاں سے پولیس نکلے گی ۔۔۔

لیکن عوام کا PTI کے حق میں turnout حیران کن تھا ۔ یہ بات واضح ہے، اُس شخص کو عوام میں مقبولیت حاصل ہے ۔ وہ کسی کو بھی کھڑا کرے گا ، کسی کی بھی حمایت کرے گا ، عوام اُس ہی کے امیدوار کو ووٹ دے گی ۔

ہم اندھے نہیں ہیں ۔ کہ دیکھ نہ پائیں ۔ رنگ کیسے بدل رہے ہیں ۔
ہم بیوقوف نہیں ہیں ، کہ سمجھ نہ پائیں ، اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا ۔
ہمیں خبر تھی ۔۔۔ الیکشن کا نتیجہ کیا نکلنا تھا ۔
پھر بھی ، ہم اُس جمہوریت کو رو رہے ہیں ، جس کے بارے ہمیں سو فیصد یقین ہے ، کہ اس ملک میں اُسکا کوئی وجود نہیں ۔

اِس وقت اگر کوئی موجودہ صورتحال پہ تبصرہ کرتے وقت مایوس نہیں ہے ، دل گرفتہ نہیں ہے ۔۔۔ تو بھئی ، وہ بندہ کسی باہر کے ملک میں بیٹھا ہے ۔

ایسے میں کوئی کیوں روۓ کہ ملک سے ، تاریخ کا سب سے بڑا brain drain چل رہا ہے ۔۔۔ یا اگر نوجوانوں کی اکثریت ، نوکری ، پڑھائی ، رہائش کے لیے مایوسی سے باہر کا رخ کر رہی ہے ، تو کسی کو کیوں تشویش ہو ۔۔۔۔?
یہاں تک کہ ایسے لوگ جو سرکاری ملازمتوں سے وابستہ ہیں ، باہر جانے کا چھکا مارنے کے چکر میں ہیں تو کیا ہی کیا جائے اس بارے ?

یہ ۔۔۔ خوف ہے ۔۔۔
یہ بد دلي ہے ۔۔۔
یہ چڑچڑا پن ہے ۔۔۔ کہ نوجوان اب یہاں نہیں رہنا چاہتے ۔۔۔ وہ کسی دوسرے ملک میں تیسرے درجے کے شہری بن جائیں گے اگر یہ ڈھارس ہو کہ گھر والوں کو پیسے بھیج سکیں گے اچھے ۔

باہر کی دنیا میں جنگ چل رہی ہے پہلے بھی ۔ معیشت ، جاں به لب ہے ۔عمران خان کے آنے سے دودھ اور شہد کی نہریں نہیں بہنی تھیں ۔ عمران خان کیا ، نواز شریف ، بلاول ۔۔۔ کسی کے آنے سے حالات بہتر نہیں ہونے تھے کیونکہ وقت ہی Worldwide Political Chaos کا ہے ۔
پر اگر آنکھوں کے سامنے ، popular support رکھنے والے کسی کردار کے ساتھ یوں ہو رہا ہے ۔۔۔
پھر ، اُمید رکھنا حماقت ہے ، کہ سادے پانی کی کوئی نہر بھی بہے گی ۔۔۔
پھر توقع کرنا فضول ہے ، کہ اگلے پانچ سال تک کوئی بھی صبح روشن طلوع ہو گی ۔۔۔۔
پھر یقین رکھنا مضحکہ خیز ہے ، کہ پاکستان میں جمہوریت کا نظام رائج ہے ۔۔۔

خدا بھلا کرے ، پاپ کارن خرید کر بیٹھنا چاہیے تھا ۔۔۔ کیوں کہ (فلم تو چل ہی رہی ہے)

حرآ طارق

Picture credits : TRT World

Want your school to be the top-listed School/college in Gujrat?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Website

Address


UOG
Gujrat