Ghs chahal kalan

Ghs chahal kalan education

13/01/2024

‏جو قوتیں آپکے مجموعی پیداواری وسائل پر قابض ہیں، وہی قوتیں آپکے دماغ اور زبان پر بھی قابض رہینگی

کارل مارکس

09/01/2024

جو بھی کرنا ہے کر گزر اے دل
سوچنا مرگِ شادمانی ہے

عدم

رقیب سے!فیض احمد فیضسیالکوٹ کے جس مکان میں فیض صاحب رہتے تھے اس کے سامنے ایک لڑکی رہتی تھی ۔ فیض اس کے عشق میں بھی مبتلا...
06/01/2024

رقیب سے!
فیض احمد فیض

سیالکوٹ کے جس مکان میں فیض صاحب رہتے تھے اس کے سامنے ایک لڑکی رہتی تھی ۔ فیض اس کے عشق میں بھی مبتلا تھے ، لیکن ایک دن کالج سے جب واپس گئے تو وہ لڑکی وہاں نہیں تھی۔ آغا ناصر نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ بہت سال بعد جب فیض ، مشہور ہو گئے اور واپس اپنے شہر آئے تو وہ لڑکی بھی کہیں سے آئی ہوئی تھی ،اس کا شوہر بھی فیض سے ملنے کا مشتاق تھا ۔ ،فیض کہتے ہیں کہ میں ان سے ملا، تو لڑکی مجھ سے کہتی ہے 'مرا شوہر کتنا خوبصورت ہے' ۔اس موقع پر یہ نظم لکھی گئی تھی۔

آ کہ وابستہ ہیں اس حسن کی یادیں تجھ سے

جس نے اس دل کو پری خانہ بنا رکھا تھا

جس کی الفت میں بھلا رکھی تھی دنیا ہم نے

دہر کو دہر کا افسانہ بنا رکھا تھا

آشنا ہیں ترے قدموں سے وہ راہیں جن پر

اس کی مدہوش جوانی نے عنایت کی ہے

کارواں گزرے ہیں جن سے اسی رعنائی کے

جس کی ان آنکھوں نے بے سود عبادت کی ہے

تجھ سے کھیلی ہیں وہ محبوب ہوائیں جن میں

اس کے ملبوس کی افسردہ مہک باقی ہے

تجھ پہ برسا ہے اسی بام سے مہتاب کا نور

جس میں بیتی ہوئی راتوں کی کسک باقی ہے

تو نے دیکھی ہے وہ پیشانی وہ رخسار وہ ہونٹ

زندگی جن کے تصور میں لٹا دی ہم نے

تجھ پہ اٹھی ہیں وہ کھوئی ہوئی ساحر آنکھیں

تجھ کو معلوم ہے کیوں عمر گنوا دی ہم نے

ہم پہ مشترکہ ہیں احسان غم الفت کے

اتنے احسان کہ گنواؤں تو گنوا نہ سکوں

ہم نے اس عشق میں کیا کھویا ہے کیا سیکھا ہے

جز ترے اور کو سمجھاؤں تو سمجھا نہ سکوں

عاجزی سیکھی غریبوں کی حمایت سیکھی

یاس و حرمان کے دکھ درد کے معنی سیکھے

زیر دستوں کے مصائب کو سمجھنا سیکھا

سرد آہوں کے رخ زرد کے معنی سیکھے

جب کہیں بیٹھ کے روتے ہیں وہ بیکس جن کے

اشک آنکھوں میں بلکتے ہوئے سو جاتے ہیں

نا توانوں کے نوالوں پہ جھپٹتے ہیں عقاب

بازو تولے ہوئے منڈلاتے ہوئے آتے ہیں

جب کبھی بکتا ہے بازار میں مزدور کا گوشت

شاہراہوں پہ غریبوں کا لہو بہتا ہے

آگ سی سینے میں رہ رہ کے ابلتی ہے نہ پوچھ

اپنے دل پر مجھے قابو ہی نہیں رہتا ہے

31/08/2023
اس سرمایہ دارانہ نظام میں سرمایہ دار طبقہ ایک طفیلیے کی طرح ہے جو غرباء کو اتنا کھانا کھلاتے ہیں جس سے اُس کا وہ خون بن ...
27/08/2023

اس سرمایہ دارانہ نظام میں سرمایہ دار طبقہ ایک طفیلیے کی طرح ہے جو غرباء کو اتنا کھانا کھلاتے ہیں جس سے اُس کا وہ خون بن سکے جو انہوں نے چوسنا ہے ۔نہ تو وہ غریب کو اچھے سے زندہ رہنے دیتے ہیں اور نہ ہی مرنے دیتے ہیں

26/08/2023

ہم کو اُس شہر میں تعمیر کا سودا ہے جہاں
لوگ معمار کو تُن دیتے ہیں پریوار کے ساتھ

----احمد ناراض۔---

14/03/2016
07/09/2015

Address

Ghs Chahal Kalan Qila Didar Singh
Gujranwala

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Ghs chahal kalan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to Ghs chahal kalan:

Shortcuts

Share

Category