13/06/2026
اہرامِ مصر سے بھی پہلے... ایک ایسا اہرام جس نے تاریخ کا رخ بدل دیا!
جب لوگ مصر کے عظیم اہرامِ جیزہ(Giza) کا ذکر کرتے ہیں تو اکثر ایک اور حیرت انگیز شاہکار کو بھول جاتے ہیں جوسر کا اسٹیپ پیرامڈ (Step Pyramid of Djoser)۔
تقریباً 2700 قبل مسیح میں تعمیر ہونے والا یہ دنیا کا پہلا عظیم پتھریلا یادگار ڈھانچہ تھا۔ اس سے پہلے زیادہ تر عمارتیں کچی اینٹوں سے بنتی تھیں، لیکن یہاں پہلی بار بڑے پیمانے پر تراشے ہوئے پتھروں کا استعمال کیا گیا۔
یہ اہرام مصر کے فرعون جوسر (Djoser) کے لیے بنایا گیا تھا، جبکہ اس کا ذہین معمار ایمحوتپ (Imhotep) تھا، جسے تاریخ کے اولین معروف معماروں اور انجینئروں میں شمار کیا جاتا ہے۔
زمین کے اوپر نظر آنے والی عمارت جتنی حیران کن ہے، اس سے کہیں زیادہ راز اس کے نیچے چھپے ہیں۔ اس کے نیچے تقریباً 28 میٹر گہرا تدفینی چیمبر اور کئی کلومیٹر طویل سرنگوں اور گیلریوں کا پیچیدہ جال موجود ہے۔
مزید ایسی دلچسپ معلومات کے لئے ہمیں Follow & Like کریں شکریہ جزکہ اللٰہ
۔۔
13/06/2026
روزانہ کی جنتری کے لیے میرے پیج کو فالو اور شیئر کریں شکریہ
10/06/2026
بحیرہ مردار کہاں ہے، اور اس کی حقیقت کیا ہے ؟ آج بحیرہ مردار کے بارے میں لکھتے ہیں بحیرہ مردار ایک سمندر ہے پہلی نظر میں یہ پانی کے ایک عام جسم کی طرح لگتا ہے، لیکن اس کی پرسکون سطح کے نیچے غیر معمولی رازوں کی دنیا ہے۔۔ بحیرہ مردار سطح سمندر سے 400 میـٹر نیچے زمین کے سب سے نچـلے مقام پر واقع ہے، جہاں صـدیوں سے سائنسدانوں اور تاریخ دانوں کو حیران کیے ہوئے ہے۔۔۔۔۔ بحیرہ مردار کا عجیب و غریب پانی، منفرد ماحول اور قدیم تہذیبوں سے تعلق اسے ہمارے سیارے پر سب سے نمایاں جگہ بناتا ہے جی ہاں آپ نے بالکل ٹھیک سنا اور پڑھا۔
سب سے دلچسپ سوال یہ ہے کہ اسے "مردہ" سمندر کیوں کہا جاتا ہے ؟ تو اسکا جواب یہ ہے کہ اس کا پانی انتہائی نمکین ہے۔ بحیرہ مردار میں پانی میں نمک کی مقدار باقی سـمندروں کے مقابلے میں دس گنا زیادہ ہے،، جس کی وجہ سے یہاں مچھلی اور زیادہ تر آبی حیات زندہ نہیں رہ سکتیں۔یہ سیارہ زمین پر واحد ایسا سمندر ہے جہاں مچھلی، شارک، ڈولفنز اور مگرمچھ وغیرہ نہیں رہتے، بحیرہ مردار دیگر جھیلوں اور سمندروں کے مقابلے میں بالکل بےجان نظر آتا ہے جس سے اسے ایک خوف ناک نام ملتا ہے جس نے نسلوں سے انسانی سوچ کو اپنی گرفت میں لے رکھا ہے۔
بحیرہ مـردار کی سب سے مشہور خصوصیت لوگوں کو آسانی سے تیرنے کی صلاحیت ہے۔۔۔۔۔۔ یہاں تک کہ جو لوگ تیر نہیں سکتے وہ پانی کی سطح پر لیٹ سکتے ہیں،،،،،، اور آسانی سے تیر سکتے ہیں۔بحیرہ مردار سمندر میں آپ ڈوب نہیں سکتے۔۔ دنیا بھر سے زائرین اس قدرتی عجوبے کا مشاہدہ کرنے ہر سال آتے ہیں،،،، اور سمندر پر تیرتے رہتے ہیں۔۔۔ بحیرہ مردار کو زمین پر پانی کے سب سے نمکین جگہوں میں سے ایک ہے۔
اسلامی روایات کے مطابق بحیرہ مردار کے قریب کا علاقہ حضـرت لوط علیہ السلام کی قوم کی تباہی سے منسلک ہے،،،،، جنہیں ان کے مسلسل گناہوں اور نافرمانیوں کی سزا دی گئی۔۔۔۔۔۔ بنجر زمین اور بےجان ساحل ایک خوف پیدا کرتا ہے۔۔۔ اس خوف میں اضافہ کرتے ہوئے آس پاس کے علاقے کے کچھ حصـــوں میں سلفر اور معدنیات کے آثار دریافت ہوئے ہیں،،،،، جو مورخین، آثار قدیمہ کے ماہرین اور مذہبی اسکالرز کے درمیان بحث کو مزید ہوا دیتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔ آپ اس بارے میں کیا کہتے ہیں ؟ اپنی اپنی رائے دیں۔۔۔۔۔۔۔۔!!!
10/06/2026
۔۔سب سے زیادہ بےحیا قوم لوط علیہ سلام کی قوم تھی یہ عورتوں کو چھوڑ کر مردوں میں دلچسپی رکھتے تھے
خاص کر مسافروں میں سے کوئی خوبصورت لڑکا ہوتا تو یہ لوگ اسے اپنا شکار بنا لیتے طلموت میں لکھا ہے
کہ اہل سدوم اپنی روز مرہ کی زندگی میں سخت ظالم دھوکہ باز اور بد معاملہ تھے
کوئی مسافر ان کے علاقے سے بخیریت نہیں گزر سکتا تھا
کوئی غریب ان کی بستیوں سے روٹی کا ایک ٹکڑا نہ پا سکتا تھا۔
کئی مرتبہ ایسا ہوتا تھا کہ باہر کا آدمی ان کے علاقے میں پہنچ کر فاقوں سے مر جاتا تھا اور یہ لوگ اس کے کپڑے اتار کر اس کی لاش کو برہنہ دفن کر دیتے۔ اپنی وادی کو انہوں نے ایک باغ بنا رکھا تھا
۔ جس کا سلسلہ میلوں تک پھیلا ہوا تھا اس باغ میں وہ انتہائی بے حیائی کے ساتھ اعلانیہ بد کاریاں کرتے تھے۔
حضرت لوط علیہ السلام نے انہیں توحید کی دعوت دی اور بدکاری کے اس گھناونے عمل سے توبہ کرنے کا حکم دیا۔
حضرت لوط نے کہا تم یہ کیوں کرتے ہو کیا تم عورتوں کو چھوڑ کر لذت حاصل کرنے کے لیے مرد کی طرف مائل ہوتے ہو۔
حقیقت یہ ہے کہ تم احمق لوگ ہو۔ تو پھر حضرت لوط اہل سدوم کو دن رات وعظ و نصیحت کیا کرتے تھے۔ لیکن اس قوم پر اس کا کوئی اثر نہ ہوا۔
بلکہ وہ بدنصیب بہت فخریہ انداز میں یہ کام کرتے تھے انہیں حضرت لوط کا سمجھانا بھی برا لگتا تھا
لہذا انہوں نے صاف صاف کہہ دیا کہ اگر تم ہمیں اسی طرح بھلا کہتے رہے اور ہمارے کاموں میں مداخلت کرتے رہے
تو ہم تمہیں اپنے شہر سے نکال دیں گے۔ حضرت لوط نے نصیحت و تبلیغ کا سلسلہ جاری رکھا۔
لہذا ایک دن اہل سدوم نے خود ہی عذاب الہی کا مطالبہ کر دیا۔
اللہ تعالی نے اب تک ان کے اس بدترین عمل فحاشی اور بدکاری کے باوجود ڈھیل دے رکھی تھی۔
لیکن جب انہوں نے حضرت لوط علیہ السلام سے ایک دن کہا
کہ اگر تم سچے ہو تو ہم پر عذاب لے آؤ۔
لہذا ان پر عذاب الہی کا فیصلہ ہوگیا۔
اللہ نے اپنے خاص فرشتوں کو دنیا کی طرف روانہ کر دیا۔ یہ فرشتے دراصل حضرت میکائیل، اور جبرائل علیہ السلام تھے
پھر یہ فرشتے حضرت لوط علیہ السلام کے گھر تشریف لے آئے۔
حضرت لوط نے جب ان خوبصورت نوعمر لڑکوں کو دیکھا تو سخت گھبراہٹ اور پریشانی میں مبتلا ہوگئے۔
انہیں یہ خطرہ محسوس ہونے لگا کہ اگر ان کی قوم کے لوگوں نے انہیں دیکھ لیا۔
تو نہ جانے وہ انکے ساتھ کیا سلوک کریں گے۔ حضرت لوط کی بیوی کا نام وائلہ تھا
اس نے آپ پر ایمان نہیں لایا تھا
اور وہ دراصل منافقہ تھی۔ وہ کافروں کے ساتھ تھی لہذا اس نے جاکر اہل سدوم کو یہ خبر دے دی۔
کہ لوط کے گھر دو نوجوان لڑکے مہمان ٹھہرے ہوئے ہیں
یہ سن کر بستی والے دوڑتے ہوئے۔ حضرت لوط کے گھر پہنچے
حضرت لوط نے کہا کہ یہ جو میری قوم کی لڑکیاں ہیں
یہ تمہارے لیے جائز اور پاک ہیں اللہ سے ڈرو مجھے میرے مہمانوں کے سامنے رسوا نہ کرو۔
کیا تم میں سے کوئی بھی شائستہ آدمی نہیں،؟
حضرت لوط علیہ السلام کی بات سن کر وہ لوگ بولے
تم بخوبی واقف ہو کہ ہمیں تمہاری بیٹیوں سے کوئی حاجت نہیں
اور جو ہماری اصل چاہت ہے اس سے تم بخوبی واقف ہو۔
قوم لوط کے اس شرم سار جواب سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے
کہ وہ فعل بد میں کس حد تک مبتلا ہو چکے تھے
جب حضرت لوط علیہ السلام کی قوم ان کے گھر کی طرف دوڑتی ہوئی آئی تو حضرت لوط نے گھر کے دروازے بند کر دیے اور ان نوجوانوں کو ایک کمرے میں چھپا دیا۔
ان بدکار لوگوں نے آپ کے گھر کا گھیراؤ کیا ہوا تھا
اور ان میں سے کچھ گھر کے دیوار پر بھی چڑھنے کی کوشش کر رہے تھے
حضرت لوط علیہ السلام اپنے مہمانوں کی عزت کے خیال سے بہت زیادہ گھبرائے ہوئے تھے فرشتے یہ سب منظر دیکھ رہے تھے جب انہوں نے حضرت لوط علیہ السلام کی بے بسی اور پریشانی کا یہ عالم دیکھا۔ تو حقیقت سے پردہ اٹھاتے ہوئے یوں فرمایا۔
اے لوط ہم تمہارے رب کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں
یہ لوگ ہرگز تم تک نہیں پہنچ سکیں گے
۔ ابھی کچھ رات باقی ہے تو آپ اپنے گھر والوں کو لے کر چل دو
اور تم میں سے کوئی شخص پیچھے مڑ کر نہ دیکھے۔
اہل سدوم حضرت لوط علیہ السلام کے گھر کا دروازہ توڑنے پر بضد تھے کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے گھر سے باہر نکل کر اپنے پر کا ایک کونا انہیں مارا۔
جس سے ان کی آنکھوں کے ڈھیلے باہر نکل آئے
اور بصارت ظاہر ہوگئی
یہ خاص عذاب ان لوگوں کو پہنچا۔ جو حضرت لوط کے پاس بدنیتی سے آئے تھے۔ حضرت لوط علیہ السلام حقیقت حال جان کر مطمئن ہو گئے
اور اپنے گھر والوں کے ساتھ رات کو ہی نکل کھڑے ہوئے۔
لیکن پھر بھی ان کی بیوی ان کے ساتھ تھی لیکن کچھ دور جا کر وہ واپس اپنے قوم کی طرف پلٹ گئی اور قوم کے ساتھ جہنم واصل ہو گئی۔
صبح کا آغاز ہوا تو اللہ کے حکم سے حضرت جبرئیل نے بستی کو اوپر سے اکھاڑ دیا اور پھر اپنے بازو پر رکھ کر آسمان پر چڑھ گئے یہاں تک کہ آسمان والوں نے بستی۔۔۔
کے کتے کے بھونکنے اور مرغوں کے بولنے کی آوازیں سنیں
۔ پھر اس بستی کو زمین پر دے مارا جس کے بعد ان پر پتھروں کی بارش ہوئی۔
ہر پتھر پر مرنے والے کا نام لکھا ہوا تھا۔
جب یہ پتھر ان کو لگتے تو ان کے سر پاش پاش ہوجاتے۔
صبح سویرے شروع ہونے والا
یہ عذاب اشراک تک پوری بستی کو نیست و نابود کر چکا تھا
قوم لوط کی ان خوبصورت بستیوں کو اللہ نے ایک انتہائی بد بو دار
اور سیاہ جیل میں تبدیل کردیا۔ جس کے پانی سے رہتی دنیا تک کوئی فائدہ نہیں اٹھایا جاسکتا۔
سمندر کے اس حصے میں کوئی جاندار مچھلی، مینڈک وغیرہ زندہ نہیں رہ سکتے۔ اس لیے اسے ڈیڈ سی یعنی بحرے مردار کہا جاتا ہے
جو اسرائیل اور اردن کے درمیان واقع ہے۔ ماہرین آثار نے دس سالوں کی تحقیق و جستجو کے بعد اس تباہ شدہ شہر کو دریافت کیا تھا۔
تحقیقات سے پتہ چلا تھا کہ اس شہر میں زندگی بالکل ختم ہو چکی ہے۔
شہر کے راستے اور کھنڈرات کو دیکھ کر ارکلوجسٹ نے یہ اندازہ لگایا
کہ جب یہ شہر تباہ ہوا تو اس وقت لوگ روزمرہ کے معاملات اور کاموں میں مشغول تھے
اور یہاں زندگی اچانک ختم ہو گئی تھی
اہل سدوم جنہیں پتھر بنا دیا گیا تھا۔ ان کے بت ابھی تک بحیرہ مردار کے پاس موجود ہیں جو لوگوں کے لیے ایک عبرت ہے
آج یورپی ممالک میں انسانی آزادی کے نام پر اس بدکاری کی اجازت دی جاتی ہے
اور اس فحش عمل کو باعث فخر سمجھا جاتا ہے
روایتوں کے مطابق ایک مرتبہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے شیطان سے پوچھا کہ اللہ کے نزدیک سب سے بدترین عمل کیا ہے ابلیس بولا جب مرد مرد سے بدفعلی کرے اور عورت عورت سے خواہش پوری کرے!
اور مجھے شرم آتی ھے یہ کہتے ھوئے کہ
آج ھمارے معاشرے میں یہی سب چل رہا ہے بلکہ اس قبیح کام کو قانون کی سر پرستی حاصل ہے ۔۔۔
اللہ ھماری دنیاوی اور اخروی زندگی کو بہتر بنانے کی عقل و عمل عطاء فرمائے ۔۔۔!